یا غنی جمعہ مبارک وظیفہ

ایسے لوگ جن کےپیسوں میں یا رزق میں برکت نہیں تو پریشان نہ ہوں بلکہ اس مسئلے میں مبتلا افراد روزانہ نماز فجر اور عشا کی نماز کے بعد گیارہ ،گیارہ سو مرتبہ ’’یا غنی ‘‘ کا ورد کریں اللہ تعالی کے فضل کرم سے ان کے رزق میں بے پناہ اضافہ اور برکت آجائے گی یہ مجرب وظیفہ رزق اور بندش کے خاتمہ کیلئے نہایت بہترین ہے کوئی بھی دکاندار اور تاجر دفتر کھولنے سے پہلے ستر مرتبہ ’’یا غنی‘‘ پڑھے گا تو انشااللہ اللہ پاک کاروبار میں برکت اور رزق میں اضافہ ہو گا اور کبھی بھی کسی نقصان کا خوف نہیں رہے گا ۔ جمعرات اور جمعہ کی شب

اس اسم شب اس اسم مبارک ’’یا غنی ‘‘ کو انیس ہزار مرتبہ پڑھنے اور عمل کو جاری رکھنے سے انسان کو غیب سے دولت ملتی ہے ۔اوربہت جلد کاروبار میں ترقی ہوگی اور رزق حلال کہاں کہاں سے آئے گا کہ عقل دنگ رہ جائے جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کے بارے میں تفصیلی گفتگو، اور دعا کیلئے آخری سجدہ کو لمبا کرنے کا حکم میں ہر جمعہ کو غروبِ آفتاب سے قبل -جس کے بارے میں قبولیت کی گھڑی ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے- مسجد میں جان بوجھ کر داخل ہوتا ہوں، اور اللہ کیلئے دو رکعت نماز تحیۃ المسجد ادا کرتا ہوں؛ پھر دوسری رکعت کے آخری سجدہ کو غروب آفتاب تک لمبا کرتا ہوں، اور اس دوران سجدے کی حالت میں دعا ہی کرتا رہتا ہوں، یہاں تک کہ مغرب کی آذان ہوجاتی ہے؛ کیونکہ جمعہ کے دن آخری لمحات میں قبولیت کی گھڑی پانے کا اچھا موقع ہوتا ہے، اور قبولیت کے امکانات مزید روشن کرنے کیلئے میں سجدے میں دعا مانگتا ہوں، اور بسا اوقات اگر کسی سببی نماز کا وقت نہ ہو ، یا نفل نماز کیلئے ممنوعہ وقت ہو تو میں جان بوجھ کر ایسی سورت کی تلاوت کرتا ہوں جس میں سجدہ تلاوت ہو، تو تب بھی میں اتنا لمبا سجدہ کرتا ہوں کہ جمعہ کے دن مغرب کی آذان ہو جائے، ایک دن میں ایسے ہی کر رہا تھا کہ ایک آدمی نے آکر میرے ذہن میں اس عمل کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کردئیے، اور اس عمل کے بارے میں “بدعت” ہونے کا بھی عندیہ دے دیا۔ تو کیا میرا یہ عمل بدعت ہے؟ حالانکہ میری نیت یہی ہے کہ جمعہ کے دن آخری لمحات میں قبولیت کی گھڑی تلاش کی جائے، اور میں سجدے کی حالت میں اللہ سے دعا مانگوں، تو اس طرح قبولیت کیلئے دو امکانات ہونگے، اس عمل کیلئے میری نیت یہ ہی ہے کہ قبولیت کی گھڑی تلاش کروں۔

علمائے کرام نے جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کو متعین کرنے کیلئے متعدد اور مختلف آراء دی ہیں، ان تمام آراء میں دلائل کے اعتبار سے ٹھوس دو اقوال ہیں: 1- یہ گھڑی جمعہ کی آذان سے لیکر نماز مکمل ہونے تک ہے۔ 2- عصر کے بعد سے لیکر سورج غروب ہونے تک ہے۔ ان دونوں اقوال کے بارے میں احادیث میں دلائل موجود ہیں، اور متعدد اہل علم بھی ان کے قائل ہیں۔ *الف- پہلے قول کی دلیل : ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کے بارے میں کہتے ہوئے سنا: (یہ گھڑی امام کے بیٹھنے سے لیکر نماز مکمل ہونے تک ہے) مسلم: (853) اس موقف کے قائلین کی تعداد بھی کافی ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: “سلف صالحین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ان دونوں میں سے کونسا قول راجح ہے، چنانچہ بیہقی نے ابو الفضل احمد بن سلمہ نیشاپوری کے واسطے سے ذکر کیا کہ امام مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: “ابو موسی رضی اللہ عنہ کی حدیث اس مسئلہ کے بارے میں صحیح ترین اور بہترین ہے” اسی موقف کے امام بیہقی، ابن العربی، اور علمائے کرام کی جماعت قائل ہے۔اور امام قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث اختلاف حل کرنے کیلئےواضح ترین نص ہے، چنانچہ کسی اور کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہئے۔اور امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: یہی موقف صحیح ہے، بلکہ درست بھی یہی ہے، امام نووی نے اپنی کتاب: “الروضہ” میں ٹھوس لفظوں میں اسی کو درست قرار دیا ہے، اور انہوں نے اس حدیث کو مرفوع اور صریح قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ یہ روایت صحیح مسلم کی ہے” انتہی

” فتح الباری ” ( 2 / 421 ) *ب- دوسرے موقف کی دلیل جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جمعہ کا دن بارہ پہر[گھڑیوں ]پر مشتمل ہے، ان میں سے ایک لمحہ ایسا ہے جس میں کوئی مسلمان اللہ تعالی سے کچھ بھی مانگے تو اللہ تعالی اُسے وہی عطا فرما دیتا ہے، تم اسے جمعہ کے دن عصر کے بعد آخری لمحہ میں تلاش کرو)اس روایت کو ابو داود: (1048) اور نسائی : (1389) نے روایت کیا ہے، اور البانی نے “صحیح ابو داود” میں اسے صحیح قرار دیا ہے، اسی طرح نووی نے “المجموع” (4 / 471) میں صحیح کہا ہے۔جبکہ اس موقف کے قائلین کی تعداد بھی کافی ہے، جن میں سب سے پہلے دو صحابی ابو ہریرہ، اور عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہما ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:”دیگر علمائے کرام عبد اللہ بن سلام کے قول کو راجح قرار دیتے ہیں، چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے امام احمد رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ : “اکثر احادیث اسی موقف کی تائید کرتی ہیں” ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں: “اس مسئلہ میں مضبوط ترین یہی موقف ہے” اور اسی طرح سعید بن منصور نے اپنی سنن میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے صحیح سند کیساتھ نقل کیا ہے کہ : ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ایک جگہ جمع ہوئے، اور جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کے بارے میں گفتگو شروع ہوگئی، تو مجلس ختم ہونے سے پہلے سب اس بات پر متفق ہوچکے تھے کہ یہ جمعہ کے دن کے آخری وقت میں ہے”

متعدد ائمہ کرام بھی اسی موقف کو راجح قرار دیتے ہیں، مثلا: امام احمد، اسحاق، اور مالکی فقہائے کرام میں سے طرطوشی، اور علائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انکے استاد ابن زملکانی –جو اپنے وقت میں فقہ شافعی کے بڑے تھے- بھی اسی کے قائل تھے، اور وہ امام شافعی سے صراحت کیساتھ نقل بھی کرتے تھے” انتہی “فتح الباری” (2/421) ان دونوں گھڑیوں میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاسکتی ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: “اکثر احادیث اسی بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قبولیت کی گھڑی عصر کی نماز کے بعد ہے، اور زوال کے بعد بھی قبولیت کی گھڑی کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے” اس قول کو امام ترمذی نے اُن سے نقل کیا ہے۔ ” سنن ترمذی” ( 2 / 360 ) ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: “میرے نزدیک یہ ہے کہ: نماز کا وقت ایسی گھڑی ہے جس میں قبولیت کی امید کی جاسکتی ہے، چنانچہ یہ دونوں [عصر کے بعد، اور جمعہ کی نماز کا وقت] قبولیت کے اوقات ہیں، اگر چہ عصر کے بعد کے وقت کو اس اعتبار سے خصوصیت حاصل ہے کہ یہ گھڑی آگے پیچھے نہیں ہوگی، جبکہ نماز کی گھڑی نماز کیساتھ منسلک ہے، تو نماز کے آگے پیچھے ادا کرنے سے اس گھڑی کا وقت بھی تبدیل ہوگا؛ کیونکہ مسلمانوں کے ایک جگہ جمع ہوکر ، اور اکٹھے خشوع و خضوع کیساتھ اللہ کی جانب رجوع کرتے ہوئے نماز ادا کرنے کی بھی ایک تاثیر ہے، چنانچہ مسلمانوں کا یک جا جمع ہونا بھی ایک ایسی گھڑی ہے جس میں قبولیت کی امید کی جاسکتی ہے” چنانچہ اس تفصیل کیساتھ تمام احادیث کا مطلب ایک ہوسکتا ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ان دونوں اوقات میں دعا کرنے کی ترغیب دلائی ہے” انتہی”زاد المعاد” (1/394)

کیا آپ کےپاس بھی میرے مسئلہ کا حل نہیں؟

سوال: میں نے علماء کرام سے یہ سنا ہے کہ دین کے کسی بھی مسئلہ کو سمجھنے کے لئے انسان کو شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے، میں آپ کی خدمت میں کچھ ایسا ہی مسئلہ پیش کر رہا ہوں۔ مسئلہ کچھ یوں ہے کہ میں شادی شدہ ہوں بال بچے دار ہوں مگر میری اہلیہ چند سال پہلے فوت ہو چکی ہے، میں عقد ثانی کرنا چاہتا ہوں مگر میری اس جائز خواہش میں کچھ معاشرتی مسائل حائل ہیں۔ ہماری برادری میں

دوسری شادی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اسی لئے ہمارے خاندان میں بہت سی جوان لڑکیاں اور عورتیں جو بیوہ ہو چکی ہیں اور مرد جو رنڈوے ہو چکے ہیں وہ دوسری شادی کرنے کی ہمت نہیں کرتےاور اپنی بقیہ زندگی اسی طرح گزار دیتے ہیں، اس کے علاوہ میرے بچے بھی یہ بات برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ کوئی دوسری عورت ان کی ماں کی جگہ لے، اس صورت حال میں ،میں کشمکش میں مبتلا ہوں اور میں نے اپنی فطری خواہش کو دبا رکھا ہے، لیکن کب تک؟!مجھے اندیشہ ہے کہ مجھ سے کہیں کوئی گناہ نہ سرزد ہو جائے۔ میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ! کیا میں اپنی اس فطری خواہش کو مصنوعی طریقہ سے پورا کرسکتا ہوں؟کیا یہ عمل کرنے سے کوئی گناہ تو نہیں ہوگا؟ اگر ہو گا تو کیا یہ گناہ صغیرہ ہوگا یا گناہ کبیرہ؟ اور اگر یہ کسی بھی طرح کا گناہ ہے تو کیوں؟ جبکہ اس میں کسی کی عزت کو پامال نہیں کیا جاتا۔

جواب: اگر زنا میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو نکاح کرنا فرض ہے، لہٰذا آپ فوراً نکاح کر لیں لوگوں کو نہ دیکھیں ، کیونکہ اگر آپ سے گناہ ہو گیا تو اس کی جواب طلبی آپ سے ہونی ہے نہ کہ لوگون سے یا آپ کے خاندان والوں سےاور اس کی سزا بھی آپ ہی کو بھگتنا ہوگی نہ کہ آپ کے بچوں اور معاشرہ کے افراد کو۔

جہاں تک سوال رہا خودلذتی کا تو یہ ایک گناہ کبیرہ ہے، تاہم اگر کسی کو زنا کا اندیشہ ہو تو بعض آئمہ کے ہاں اس کی بقدر ضرورت گنجائش ہے مگر اس کو مستقل ذریعہ تسکین نہ بنایا جائے، کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ جو لوگ کرتے ہیں کل قیامت کے دن ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے۔

(بحوالہ: ختم نبوتﷺ)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے بچنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے اور انجانے میں یا جان بوجھ کر جو گناہ اور غلطیاں ہم سے سرزد ہو گئی ہیں اللہ پاک اپنی رحمت سے ان کو معاف فرمائے۔(آمین۔ یا رب العالٰمین)

درد کا نام و نشان مت جائے گا

آ ج حضور اکرم ۖ کی ایک دعا میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں۔جب بھی آپ کا جسم درد کرنےلگے چاہے وہ سرکا درد ہو قمر کا درد ہو آپ کے پائوں پے چوٹ لگی ہو آپ کے دانت کا درد ہو چاہے کسی بھی قسم کا وہ درد کیوں نہ ہو حضور اکرم ۖ کی بتائی ہوئی یہ دعاایسی طریقے سے کریں گے توانشا ء اللہ آپ کو شفاء ظرور مل جائے گی درد سے ایک صحابی رسول اکرم ۖ کی خدمت میں حاظر ہوے اس وقت حاظر ہوے جب ان کے جسم میں بہت زیادہ درد ہو رہا تھا حاضر ہو کر انہوں نے اللہ کے نبی ۖ سے اپنے درد کے بارے میں مکمل جاننےکےلیےنیچےویڈیوپرکلک کرکے ویڈیودیکھیں

بتایا ہمارے پیارے آقا حضرت محمد ۖ نے اس صحابی کو یہ دعا بتائی آپ ۖ نے ارشاد فرمایا تم اپنے جسم پر درد والی جگہ ہاتھ رکھ کر تین مرتبہ بسم اللہ پرھنے کے بعد آپ نے یہ سات مرتبہ دعا پڑھنی ہے ۔ صحیح المسلم کی یہ حدیث ہے دعا کو اوپر ویڈیو میں دیکھیں اور اچھی طرح یاد بھی کر لیں جزاک اللہ وہ دعا جو رسول کریم ﷺ پڑھ کر مریضوں پر دم فرماتے تھے،ایسی دعا جو ہر مرض کا علاج ہےنبی اکرمؐ کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنے سے انسان کی زندگی اچھی گزرتی ہے، نبی اکرمؐ نے مختلف بیماریوں کے لیے بھی بہت سی دعائیں بتائی ہیں، ہمارے ہاں لوگ نبی اکرمؐ کی بتائی ہوئی دعاؤں کو چھوڑ کر دیگر ٹوٹکوں میں لگ جاتے ہیں لیکن روحانی علاج کی طرف نہیں آتے۔ ہم لوگوں کو بیماری کی حالت میں نبی کریمؐ کی بتائی ہوئی دعاؤں پر عمل کرنا چاہیے، یہ طب نبویؐ ہے۔

ابن ماجہ میں اس بارے میں بہت سی دعائیں اور رسول کریمؐ کے دم فرمانے کا مفصل بیان موجود ہے، بخاری شریف اور مسلم شریف کی ایک متفق علیہ حدیث ہے کہ حضرت سیدہ عائشہؓ نے فرمایا کہ رسول اللہؐ اپنے بعض گھر والوں کی بیمار پرسی کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ مریض کے درد والے حصے پر پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے، اللھم رب الناس، اذھب الباس، واشف انت الشافی، لا شفای الا شفاؤک،شفای لا یغادر سقما۔ترجمہ: اے اللہ لوگوں کے ربّ! تکلیف کو دور فرما دے توشفا دے دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری ہی شفاء شفاء ہے، تو ایسی شفا عطا فرما جو کسی قسم کی بیماری نہ چھوڑے۔نبی کریمؐ کی اتنی پیاری اور عجز کرنے والی دعا اس جیسی اور کوئی دعا ہو ہی نہیں سکتی

شوہر کو انکار کرنے والی بیویاں سن لیں

اسلام علیکم امید کرتے ہیں کہ آپ سب ہی خیروعافیت سے ہوں گے دوستوں کیا آپ جانتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پبلاتا ہےاوراس کی عورت اس کے پاس نہیں جاتی اورشوہر اس پرغضب ناک ہوکر رات گزارتا ہے تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں آپ کو اس حساس موضوع کے بارے میں مکمل طورپر آگاہی دی جائے کیونکہ اس موضوع پرنہ ٹی وی پر پروگرام کئے جاتے ہیں اور نہ ہی اخبارات میں تحریرکی جاتی ہیں کیونکہ آج کے دور میں بہت سے گھر ایسے بے وقوفی اورغلط فہمی کی وجہ سے اجرے جا رہے ہیں مکمل جاننے کےلیے نیچے ویڈیو دیکھیں

عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ اگر وہ اپنے مردوں کے پاس نہیں جائیں گی تو ان کے مردوں کے دل اور دماغ میں ان کی قدر میں اضافہ ہوگا جبکہ مرد کو یہ چیزیں قطعی طور پر پسند نہیں ہوتی اور مرد کا دل کو اس سے ٹوٹ جاتا ہے اور اس کے ذہن میں ایسی ایسی غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں کہ جس سے اس کا رشتہ مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہےمیں آپ کے ساتھ آج چند اہم معلومات شیئر کرتا ہوں بیوی کا اپنے شوہر کو ہمبستری سے انکار کرنا اپنے شوہر کو اپنے نزدیک آنے سے انکار کرنا.نبی اکرم ﷺ جامع صغیر میں یہ روایت ہے،آپﷺ نے فرمایا!”جب شوہر اپنی بیوی کو بلائے (ہمبستری کے لئے)تو عورت پر واجب ہے کہ وہ فوراً اپنے شوہر کی بات مان لے”ما سوائے شرعی عذر کے ،شرعی عذر کی وجہ سے بیوی انکار کر سکتی ہے. یعنی ایسی کوئی شرعی مجبوری (مثلاً حیض،ماہواری وغیرہ)ہو تو وہ الگ بات ہے.لیکن اگر شرعی عذر نہیں ہے تو آپ ﷺ فرماتے ہیں

کہ!”وہ (عورت)فوراً اپنے شوہر کی بات مان لے خواہ وہ انٹ کے کجاوے(اونٹ کی وہ سیٹ جس پر بیٹھ کر سواری کی جاتی ہے) پر ہی بیٹھا کیوں نہ بلا رہا ہو.” اس معاملے کو خواتین جو بیویاں ہیں جو اپنے شوہر کو حق دینا چاہتی ہیں وہ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ جب اس معاملے میں کوتاہی ہوتی ہے تو انسان دوسری جگہ اپنی خواہشات تو پوری کرنے جاتا ہے اور یہ بات پھر بیوی برداشت نہیں کرسکتی اس لئے شریعت نے اس معاملے کی اہمیت بیان کی ہے. دوسر ی روایت صحیح بخاری کی ہے،آپﷺ نے فرمایا!”جب شوہر اپنی بیوی کو ہمبستری کے لئے بلائےاور بیوی انکار کر دےاور شوہر اپنی بیوی سے ناراضگی کی حالت میں سو جائے تو جب تک وہ ناراضگی کی حالت میں سوتا رہے گا فرشتے بیوی پر لعنت بھیجتے رہیں گے.

محبت حاصل کرنے لے لیے

اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک یہ عمل کرلے تو دونوں میں اتنی محبت پیدا ہو جائے گی کے اس کی مثال کہیں بھی نہیں ملے گی ۔۔۔۔۔۔۔دوستوں یہ عمل میاں بیوی کے درمیاں محبت کے لیے اٹیم بم ہے۔ جو دونوں میں بے مثال محبت پیدا کر دے گیا ۔۔اگر بیوی شوہر سے ناراض ہے تو شوہر یہ عمل کرے اور شوہر بیوی سے ناراض ہے تو بیوی ہے عمل کرے گھویولوں معلومات میں ناراضی ہوتی رہتی ہیں ۔۔۔اگر اس طرح کا کوئی مسئلہ ہو تو دو یہ تین دن کے اندر اندر سے کو حل کر لینا چاہیے۔

کوئی کے شرعات میں دو سے تین دن تک ناراض رہ سکتے ہیں دوستوں ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے میں آپ لوگوں کے لیے یہ عمل لے کر آیا ہوں ۔۔۔۔جو عمل آج ہم آپ کو بتانے جارہے ہیں یہ میاں بیوی میں بہت محبت پیدا کرتی ہے

روزانہ سورہ النساء کی تلاوت کرے اس سے شوہر کو بیوی سے اور بیوی کو شوہر سے بے حد محبت ہو جائے گی

اوّل و آخر درود شریف پڑھنے

اہل مغرب نے اسلام میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بہت پروپیگنڈا کر رکھا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ جس طرح کے حقوق اسلام نے خواتین کو دیئے ہیں اس کا تصور دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں پایا جاتا۔

قرآن و حدیث کی تعلیمات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہترین خاوند اسی شخص کو قرار دیا گیا ہے جو اپنی اہلیہ کی تمام ضروریات اپنی حیثیت کے مطابق پوری کرتا ہے۔

اسلام میں عورت کے حقوق کا اس قدر خیال رکھا گیا ہے کہ مرد کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ چاہے تو اپنی اہلیہ کے اخراجات اٹھائے اور چاہے تو اس پر ہی اِن کا بوجھ ڈال دے، بلکہ اس پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے اخراجات کا مناسب طور پر اہتمام کرے،

البتہ اسے یہ گنجائش بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق جتنا ممکن ہو خرچ کرے۔ خصوصاً جب کوئی خاتون بچے کی پرورش کر رہی ہو تو اس کی تمام ضروریات کا بہترین ممکن طور پرخیال رکھنے کا حکم دیا گیاہے۔

اسلام نے گھریلو مسائل کے بطریق احسن حل کے لئے یہ اصول بیان کر دیا ہے کہ محدود ذرائع والا خاوند اپنی اہلیہ پر اپنے محدود ذرائع کے مطابق اخراجات کرے اور جو صاحب حیثیت ہے اس پر لازم قرار دیا گیا ہے

کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق کھل کر خرچ کرے۔ یعنی مرد بخل سے کام نہ لے بلکہ جہاں تک اس کی گنجائش ہو اہلیہ کی جائز ضروریات کے لئے بخوشی خرچ کرے

قرآن پاک کی یہ سورۃ ایک مرتبہ پڑھ لیں

اگر آپ سورہ قریش ایک دفعہ پڑھیں گے تو اگرکھانے کے اندرزہربھی ملا ہوگا تو وہ اثر نہیں کرے گا۔ کھانا فوڈ پوائزن نہیں بنے گااوروہ کھانا بیماری نہیں بنے گا، صحت بنے گا۔وہ کھانا اسے گناہوں کی طرف مائل نہیں کرے گا۔نیکی کاذریعہ بنے گااورجو دوسری دفعہ سورہ قریش پڑھے گا اللہ پاک جل شانہ اس کو ایسا دسترخوان سدا دیتا رہے گا بہترین، اچھے سے اچھا عطا فرماتے رہیں گے ظاہر ہے روزی سکھی ہوگی تو دسترخوان اچھا ہوگا اور جو تیسری مرتبہ سورہ قریش پڑھے گا اللہ اس کی سات نسلوں کو بھی لاجواب کھانے دسترخوان رزق دیتے رہیں گے۔

آپ بھی آج سے ہی یہ پڑھیں زندگی میں تبدیلی آپ خود محسوس کریں گے۔ آنحضرت ﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سخت بیمار ہوگئے۔ شدتِ ضعف کی وجہ سے اٹھنے بیٹھنے سے بھی معذور ہوگئے ۔ حضور پاک ﷺ عیادت کے لئے ان کے گھر تشریف لے گئے۔ بیمار صحابی نے جب آپ ﷺ کو دیکھا تو خوشی سے نئی زندگی محسوس کی اور ایسا معلوم ہوا کہ جیسے کوئی مردہ اچانک زندہ ہوگیا ہو۔ ” زہے نصیب اس بیماری نے تو مجھے خوش نصیب کردیا۔ جس کی بدولت میرے غریب خانے کو شاہِ دوعالم ﷺ کے پائے اقدس چومنے کی سعادت حاصل ہوئی“۔ اس صحابی نے کہا” اے میری بیماری اور بخار اور رنج وغم اور اے درد اور بیداری شب تجھے مبارک ہو بسبب تمہارے اس وقت نبی پاک ﷺ میری عیادت کو میرے پاس تشریف لائے ۔“ جب آپ ﷺ ان کی عیادت سے فارغ ہوئے۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا” تمہیں کچھ یاد ہے کہ تم نے حالتِ صحت میں کوئی نامناسب دعا مانگی ہو۔“ انہوں نے کہا ”مجھے کوئی یاد نہیں آتا ، کہ کی دعا کی تھی۔“ تھوڑے ہی وقفے کے بعد حضور ﷺ کی برکت سے انکو وہ دعا یاد آگئی ۔‎

قیامت کے قریب یہ کام عام ہو جائے گا

معروف مذہبی سکالرحضر ت ذوالفقاراحمدنقشبندی نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ حضوراکرم ؐ نے فرمایاکہ قرب قیامت میں لوگ ا پنی بیویوں کیساتھ زناکریں گے ہم نے حدیث پاک پڑھی توہمیں سمجھ نہیں آئی ہم نے اپنے استادسے پوچھاکہ استادجی اس کاکیامطلب ہے ؟.کہ لوگ اپنی ہی بیوی سے زناکریں گے توانہوں نے فرمایہ کہ ہاں اس کی کئی صورتیں ہیں ایک صورت تواس کی یہ ہے کہ مردیاعورت کوئی کفریہ بول بو ل دےاورنکاح ٹوٹ جائے اوران کواس کاپتاہی نہیں کہ نکاح ٹوٹ گیاہےیانہیں اورآج کل تویہ بات عام ہے لوگوں کواس بات کاعلم ہی نہیں . مولانافرماتے ہیں کہ فارسی کی فقہی کتاب

مالابدامنہ ہم مفتی صاحب سے پڑھ رہے تھےتوجب انہوں نے کلمات کفرپڑھائے توہماری آنکھیں کھل گئیں.اس میںقاری ثنااللہ پانی پتیؒ حضرت نے لکھاہےکہ اگردوبندے گفتگوکررہے تھےایک نے کہاکہ یہ توشریعت کی بات ہےاوراگلے نے جواب نے جواب ہےاوراگلے نے جواب دیاکہ رکھ پرے شریعت کو…فقدکفر..تووہ آدمی کافرہوگیا.ہمیں چاہیے کہ ہم علماسے پوچھیں کہ کلمات کفرکون کون سے ہیںیہ نہ ہوکہ ہم ایسے جملے بولیں اورکفرکاارتکاب کررہے ہوں ،کئیجملے توبہت عام ہے مثلاً علما نے لکھاہےکہ کسی نے کہاکہ کہاں رہتے ہودوسرے نے کہاکہ فلاں جگہ رہتاہوں. اوخدادے پچھاوڑے..خداکے پچھاوڑے یعنی خداکے پیچھے رہتے ہو…فقدکفر..تووہ بندہ کافرہوگیا.توان کاعلم حاصل کرناضروری ہےکہ کہیں ہم تواپنی گفتگومیں کوئی ایسی با ت نہیں کہہ جاتےاگرنکا ح ٹوٹ گیاتوپھراپنے زعم میں میاں بیوی رہ رہے ہیں اورزناکاگناہ لکھاجارہاہےتوفرمایاکہ مردقریب قیامت میں اپنی بیویوں سے زناکریں گےایک صورت تویہ ہے یہ کفریہ کلمات بیوی بولے توبھی نکاح ٹوٹااوراگرخاوندبولے توبھی نکاح ٹوٹا اوردوسری صورت ایک دوسرے کیساتھبحث اوریہ توہرگھرکی بات نظرآتی ہے جب شادی ہوئی تومیں بولتاتھااوربیوی سنتی تھی اس نے کہاپھر..پھربچے ہوگئے توبیوی بولتی تھی. اورمیں سنتاتھااس

نے کہاپھر..پھرہم دنوں بوڑھے ہوگئے ہم دونوں بولتے تھے اورمحلے والے سنتے تھےبڑھاپے میں بحث اورزیادہ ہوجاتی ہے اوراس میں ہوتاکیاہے مردکی زبان میں کنائے میں طلاق نکل جاتی ہے.کنایہ کہتے ہیں کہ لفظ توطلاق والانہیں بولالیکن بات ایسی کردی کہ مفہوم طلاق والانکلتاہےاس کوکنائے میںطلاق کہتے ہیںاب یہ گناہ بہت زیادہے’’غصے میں کہہ دیتے ہیں کہ چلی جامجھے تیری کوئی ضرورت نہیںآج کے بعد اس قسم کے الفاظ جس کانتیجہ یہ نکلے کہ تومیر ی بیوی نہیں ہےاب اس قسم کے مسائل کی بھی معلومات حاصل کرنی چاہیے،شریعت کہتی ہے کہ علم حاصل کرو.ایسانہ ہوکہ کنایہ میں طلاق ہوجائے انہیں پتابھی نہ ہواوروہ ساتھ رہ رہے ہوںاورآج تویہ حالات ہیں کہ زبان سے طلاق کہہ دیتے ہیں طلاق ہوبھی جاتی ہے پتابھی ہے دونوں کو..مگربدنامی ہوجائے گی. پھرایک دوسرے کیساتھ رہ رہے ہوتے ہیں.مولاناصاحب فرماتے ہیں کہ ہمیں ایسے لوگ ملے پانچ وقت کے نمازی،تہجدپڑھنے والا سب نیکی کرنے والا خودا س نے مجھے کہاکہ آج سے 8سال پہلے میں نے اپنی بیوی کوطلاق دیدی تھی غصے میں آکراوربعدمیں ہم نے سوچاکہ وہ بھی نیک ہے اورمیں بھی نیک ہوں بدنامی ہوجائے گی بچے خراب ہوجائیں گےتوبس پھرہم نے دوبارہ اکٹھارہناشروع کردیانہ رشتہ

داروں کوپتانہ علماسے پوچھاپھرمیاں بیوی اکٹھارہ رہے ہیں ایک گھرایک کمرے میںتویہ زناکررہے ہیں.قربان جائیں اس سچے نبیؐ کی مبارک زبا ن پرچودہ سوسال پہلے وارن کردیاتھاکہ قرب قیامت میں لوگ اپنی بیویوں سے زناکریں گے.

جھاڑو لگانا کیسا ہے؟

میں نے ایک قصائی سے پوچھا کہ آخر پاکستان میں منگل اور بدھ کے دن گوشت کا ناغہ کیوں کیا جاتا ہے اور اس نے اپنی منطق کے مطابق جواب دیا کہ جی قصائی جانور زبح کر کر کے تھک جاتے ہیں۔جسکی وجہ سے منگل اور بدھ کو وہ چھٹی کرتے ہیں میں نے کہا کہ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ قصائی جانور زبح کر کر کے تھک جانے کی وجہ سے منگل اور بدھکے روز ناغہ کرتے ہیں اور پھر چلو آپکی منطق مان لی تو پھر منگل اور بدھ کے روز ہی قصائی چھٹی کیوں کرتے ہیں اور ہفتہ میں منگل اور بدھ کے علاوہ کسی اور دو دن ناغہ کیوں نہیں کرتے آخر منگل اور بدھ کو ہی ناغہ کیوں کیا جاتا ہے۔

تو وہ خاموش ہو گیا,اب اگر مجھے بھی علم نا ہوتا تو میں اس قصائی کی بے منطقی بات کو اپنی بے علمی کی بنا پے فوراً مان لیتا کیونکہ وہ اور میں دونوں بے علم ہوتے تو جیسے ایک علم والے کو کسی علم والے کی بات عقل کو لگتی ہے تو وہ اپنے جیسے علم والے انسان کی بات کو مان لیتا ہے ایسے ہی جب ایک بےعلم انسان کی بات ایک بے علم انسان کی عقل کو لگتی ہے اور وہ اپنے جیسے بے علم انسان کی بات کو فوراً مان لیتا ہے۔ میرے منطقی سوال پے قصائی کے چپ ہو جانے پے میں نے کہا کہ میں نے پڑھا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے ہابیل اور قابیل, اور جب قابیل نے ہابیل کے سر میں پتھر مار کے ہابیل کو قتل کر دیا تھا تو وہ دن منگل کا تھا اور قابیل تقریباً دو دن تک یعنی منگل سے بدھ تک بھائی کی لاش کو کندھے پے اٹھائے پھرتا رہا کہ اس لاش کا کیا کروں کیسے ٹھکانے لگاؤں کیونکہ تب یہ دنیا کا پہلا قتل تھا تو قابیل کو معلوم نہیں تھا کہ کسی انسان کے مرنے کے بعد اس کے ساتھ کیا,کیا جاتا ہےتو میں نے کہا کہ جو مجھے سمجھ آتا ہے وہ مختصراً یہ کہ ہابیل علیہ السلام کے منگل کے دن قتل ہونے کی وجہ سے اور اسی مناسبت سے پاکستان میں کسی بھی جانور کو زبح کرنے سے پرہیز کرتے ہوئے دو دن کا ناغہ کیا جاتا ہے۔

پھر مزید سمجھانے کے لیے میں نے ایک اور مثال دی کہ ایسے ہی جیسے پاکستان میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عصر سے مغرب کے درمیان گھر کی صفائی نا کی جائے کیونکہ یہ بات بھی ثابت ہے کہ عرب کی ایک بڑھیا گھر کی صفائی کرتی اور پھر عصر اور مغرب کے درمیان کے کسی وقت جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بڑھیا کی گلی سے گزرتے تو وہ بڑھیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پے روزانہ کوڑا کرکٹ پھینکا کرتی تھی جس کی وجہ سے مسلم گھرانوں میں عصر سے مغرب کے درمیان صفائی کرنا اور کوڑا کرکٹ پھینکنا غیر مناسب اور برا سمجھا جاتا ہے, پر قصائی ساری بات سن کے خاموش رہا جیسے ساری بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔حضور پاک کا نام مبارک سننے یا پڑھنے کے ایک بعد ایک بار درود پاک پڑھنا لازم ہے اس لیے درود پاک پڑھ لیں۔

اس سورۃ کا ورد کریں

کیا راتوں رات امیر بننا ممکن ہے؟ کیا چند دنوں میں بہت زیادہ دولت کمائی جاسکتی ہے؟ ایسے ہی سوالات کاجوب جاننے کے لیے آپ اس مضمون کی جانب متوجہ ہوئے ہونگے، لیکن اس کا جواب تو کوئی ایسا فرد دےسکتا ہے جو خود امیر ہو ، وہی بتاسکتا ہے کہ اسے امیر ہونے میں کتنا عرصہ لگا، جبکہ ایسا فرد جو خودامیر ہونے کی کوششیں کررہا ہے اس سے دولتمند ہونے کا کوئی مشورہ لینا فضول ہے۔ ایسا کونسا وظیفہ ہے جس کر کرنے سے دولت ملے گی؟ دیکھنے کے لیے اس اردو کے نیچے ویڈیو ہوگی وہ دیکھیں اور شیئر کریں دوسروں کے ساتھ شیئر کریں شکریہ جناب…

شکر ایک شخص حضرت غوث علی شاہ قلندرؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے کشائش رزق کیلئے وظیفہ پوچھا آپ نے فرمایا میاں اگر درود و وظائف پر روزی کا انحصار ہوتا تو دنیا میں مولویوں سے بڑھ کر کوئی دولت مند نہیں ہوتا. سچ پوچھو تو وظیفہ اس معاملہ میں الٹا اثر کرتا ہے.کیونکہ دنیا ایک میل کچیل ہے اور اللہ کا نام صابن. بھلا صابن سے میل میں اضافہ کیونکر ہو سکتا ہے. خدا کا نام تو صرف اس لئے ہے کہ اس کی برکت سے دنیا کی محبت دل سے دور ہو جائے نہ اس لئے کہ آدمی دنیا میں زیادہ آلودہ ہو. یہ باتیں سن کر اس شخص نے پھر اصرار کیا تو فرمایا ’’خیریاباسطاً بسط فی رزقی‘‘ پڑھا کرو لیکن مسجد سے باہر. خدا کے گھر میں دنیا طلبی کا کیا کام؟حضرت خواجہ محمد عبدالرحمن چوہردیؒ کے پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ سے محبانہ تعلقات تھے. ایک دفعہ حضرت گولڑوی نے خواجہ صاحب کے فقر اور افلاس کو دیکھ کر فرمایا کہ آپ فلاں وظیفہ پڑھا کریں تو آپ کا لنگر خوب چل جائے گاور آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو گی.خواجہ صاحبؒ خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا. جب حضرت گولڑویؒ نے دو تین مرتبہ اصرار کیا تو انہوں نے فرمایا.

’’حضرت مجھے خدا سے شرم آتی ہے کہ باہر سے لوگ مجھے پیر سمجھ کر آئیں اور اندر پیر پیسوں کا وظیفہ پڑھتا ہو‘‘. حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف نے فرمایا ’’مرحبا جیسا آپ کو سنا تھا ویسا ہی پایا‘‘.ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت مخدوم جہانیاںؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میں حج پر جانا چاہتا ہوں لیکن استطاعت نہیں ہے آپ بادشاہ کو لکھیں کہ وہ سرکاری خزانہ سے مجھے زادِ راہ عنایت فرمائے. آپ نے یہ سن کر محرروں سے فرمایا کہ بادشاہ کو لکھ دو کہ اس شخص کو زادِ راہ عنایت کیا جائے لیکن میں نے فقہ میں دیکھا ہے کہ جو شخص بادشاہوں سے خرچ لے کر حج کو جاتا ہے اس کا حج قبول نہیں ہوتا.

نظر بد سے اللہ کی پناہ مانگو

مفسرین کہتے ہیں کہ جس شخص کی عادت کسی چیز کو بہت زیادہ دیکھتے رہنے کی ہو اس کی آنکھوں میں ایک طرح کا کرنٹ پیدا ہوجاتا ہے جو سامنے والے شخص کو جلا ڈالتا ہے ۔ بری نظرلگنے کے اثرات یوں تو کہیں بھی ہو سکتے ہیں لیکن سب سے زیادہ یہ اثرات نعمت پر ہوتے ہیں یعنی جو کمال ،خوبی یا علم اللہ تعالی نے اسے دیا ہو ۔ نظر لگانے والے کی نگاہ اس کو جلادیتی ہے۔

نظر بد سے متعلق حضورﷺ کے ارشادات:۔ اللہ تعالی نے سزا اور تقدیر میں جس چیز کا فیصلہ کرلیا ہے اس کے بعد میری امت میں سب سے زیادہ اموات نظر بد کی وجہ سے ہونگی۔ ۔نظر بد انسان کو قبر تک اور اونٹ کو ہانڈی تک پہنچادیتی ہے نظر بد حق ہے شیاطین اسے حاضر کرتے ہیں اور بنی آدم کی حسد کی وجہ سے ہوتی ہے۔

نظر بد سے اللہ کی پناہ مانگو ـــــکیونکہ نظر بد حق ہے۔

جب تمہیں کوئی چیز پسند آئے اور اچھی لگے تو اس پر سے نگاہ ہٹا لو اور ماشاء اللہ لا حول ولا قوتہ الاباللہ پڑھ لو۔

یعنی سب کچھ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ انسان نہ اپنے آپ کو بڑھا سکتا ہے نہ کسی اور کو خوبصورت بنا سکتا ہے ۔ بعض مفسرین سورہ القلم کی آخری تین آیات کی تفسیر میں لکھا ہے کہ آپ ﷺ کا حسن حضرت یوسف ؑ سے کئی گنا زیادہ تھا۔ شمائل میں ہے کہ ہر روز آپ ﷺ کے حسن کا ایک جلوہ بڑھتا تھا جیسے جنت الفردوس کی نعمت کا بڑھتا ہے۔
چنانچہ نبی کریم ﷺ کو نظر لگانے کے لیے یہود نے نظر باز وں کو اکٹھا کیا ۔ آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے وہ سب لائن سے آپ ﷺ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور آپ کو دیکھنے لگے۔ آپ ﷺ نظریں نیچے کیے منبر سے اترے اور صحابہ کرام کو اشارہ کیا مجھے لے کر چلو ۔ اس وقت آپ ﷺ خود نہیں چل سکتے تھے کیونکہ نظر کا اثر ہوگیا تھا۔
اس وقت سورہ القلم کی آخری تین آیات نازل ہوئیں۔

علاج:

سورہ فلق اور سورہ الناس قران مجیدکی دو ایسی آیات ہیں جنھیں پڑھ کر دم کرنے سے انسان بری نظراور وسوسے سے بچا رہتا ہے ۔

اس کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ نظر بد کے اثر کو دور کرنے کے لیے صبح شام یہ آیات تلاو ت کی جائیں۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ :

۔ پہلے تین مرتبہ سورہ الفاتحہ
۔ پھر تین مرتبہ آیت لکرسی
۔ پھر تین مرتبہ سورہ القلم کی آخری آیات
۔ اور آخر میں تین مرتبہ درود ابراہیمی
پڑھ کر جس کو نظر لگی ہو اسے دم کرے اور دعا کر ے کہ اسے جس کی بھی نظر لگی ہے وہ مومن ہو یا کافر مرد ہو یا عورت ،اپنا ہو یا پرایا،نیلی آنکھوں والا ہو یا کالی آنکھوں والا ، خیرخواہ ہو یا بدخواہ ، ارادتاً کیا ہو یا بغیر ارادے کے ۔ اے اللہ آپ ان آیات کی برکت سے ہمارے مریض کو صحت عطا فرمائیں