زنا قرض ہے

چند دن جاتے ہیں کہ ایک تصویر دیکھی تھی جس میں کسی نومولود بچے کو شاپر میں ڈال کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینکا گیا تھا۔ قسمے دیکھ کر دل لرز گیا تھا۔ آئے دن ہمارے اس اسلامی ملک کی سڑکوں چوراہوں پر کتے بلیاں نومولود بچوں کی نعشوں کو اٹھائے نظر آتے ہیں۔ اور دل خون کے آنسو روتا ہے مگر ہم کچھ کر نہیں سکتے سوائے کڑھنے کے اور جلنے کے۔ کیونکہ بات یوں ہے کہ جب معاشرہ بد چلن ہو جائے تو اس طرح کے واقعات معمول بن جایا کرتے ہیں۔ کہنے والے تو اس بچے کو حرامی کہیں گے نا مگر میں کہتا ہوں کہ حرامی تو وہ ہیں جو اس کو اس دنیا میں لانے کا سبب بنے۔

میں کہتا ہوں حرامی تو وہ ہیں جنہوں نے اپنے وقتی ابال اور لذت کی خاطر النکاح من سنتی کو پس پشت ڈال کر عارضی تعلق کو ترجیح دی۔ جب کوئی بےشرم ماں اس معصوم کلی کو یوں کوڑے کے ڈھیڑ میں پھینکتی ہوگی تب ایک بار بھی ممتا نہ تڑپی ہوگی۔ تب ایک بار بھی انسانیت نہ لرزتی ہو گی۔ میں کہتا ہوں زمین کا کلیجہ پھٹ کیوں نہیں جاتا۔ یہ ٹھیک ہے لوگ اس طرح کے کام کرتے ہیں اور پھر اپنے گناہوں پہ پردہ ڈالنے کے لیے ان معصوموں کو قتل کر ڈالتے ہیں۔ مگر تب کیا کریں گے جب ان کی زبانوں پہ مہر لگ جائے گی اور ان کے اعضا چیخ چیخ کر ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ تب کہاں چھپیں گے۔ تب تو یہ بچہ بھی ان کو گریبان سے پکڑے گا۔ بتاؤ کیا جواب دو گے؟ ان بد بختوں کو شاید دوہرا عذاب ہوگا ایک زنا کا اور ایک قتل کا۔ مگر اللہ بڑا غفور رحیم ہے شاید بخش دے۔ مگر اس معاشرے کو شاید نہیں بخشے گا جس نے نکاح کو اس قدر مشکل اور زنا کو اس قدر آسان بنا دیا کہ ایسے روح فرسا واقعات ہماری اس سوسائٹی میں ہونے لگے۔ یاد رکھیے اقبال نے کہا تھا کہ فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف یاد رکھیے زنا ایک قرض ہے اور قرض ہر حال میں لوٹانا ہی ہوتا۔۔۔اور ایسا کبیرہ گناہ ہے کہ اللہ پاک نے اس کی مذمت میں فرمایا۔

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا ۖ إنَّہ كَانَ فَاحِشَۃ وَسَاءَ سَبِيلا

خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے۔

(سورۃ اسراء آیت نمبر 32)

اگر کوئی شخص اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے اپنی بیوی کو بلائے

اگر کوئی شخص اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے اپنی بیوی کو بلائے اور اس کی بیوی انکار کردے تو وہ گناہگار ہوتی ہے، اس کے برعکس اگر اس شخص کی بیوی اس سے اپنی خواہش پوری کرنے کا کہتی ہے اور وہ شخص بغیر کسی عذر کے انکار کردے تو کیا وو شخص بھی گناہگار ہوگا
۳. اگر وہ شخص کسی عذر مثلاً نیند یا تھکن کی وجہ سے انکار کرتا ہے تو بھی گناہگار ہوگا؟

جی نہیں! اگر شوہر بیوی کے تقاضہ پر بلا عذر اس کی خواہش پوری نہ کرے اور بیوی سے صحبت کئے ہوئے کافی دن گذرچکے ہوں تو ایسی صورت میں شوہر گنہگار ہوسکتا ہے؛ کیوں کہ گاہے گاہے عورت کی جنسی خواہش پوری کرنا دیانتاً شوہر پر واجب ہے، اور اگر آئے دن عورت کا تقاضہ ہوتا ہو تو شوہر بلا عذر انکار کرنے کی صورت میں بھی گنہگار نہ ہوگا۔
لا فی المجامعة کالمحبة بل یستحب، ویسقط حقھا بمرة ویجب دیانة أحیاناً ولا یبلغ مدة الإیلاء إلا برضاھا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح، باب القسم، ۴: ۴: ۳۷۹، ۳۸۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وانظر الرد أیضاً۔
(۳): اگر شوہر بیوی کے تقاضے پر نیند یا تھکن کی وجہ سے انکار کرتا ہے تو وہ گنہگار نہ ہوگا اگرچہ بیوی سے صحبت کیے ہوئے کئی دن ہوچکے ہوں؛ البتہ اگر صحبت کیے ہوئے کافی دن گذرچکے ہوں تو نیند پوری ہونے یا تھکن دور ہونے کے بعد شوہر کو بیوی کی جنسی ضرورت پوری کرنے میں ٹال مٹول نہیں کرنا چاہیے ۔
قال بعض أھل العلم: إن ترکہ لعدم الداعیة والانتشار عذر (رد المحتار، کتاب النکاح، باب القسم، ۴: ۴: ۳۷۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند، نقلاً عن الفتح)۔

آپؐ نے فرمایا یہ چھوٹا سا کام کیا کرو

حضورکریم ؐ کا ارشاد گرامی ہے جو آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت تین باتوں کا اہتمام کرے گا ،رزق اس کے دروازے توڑ کر آئے گا .

پہلا وہ گھر میں داخل ہوتے وقت السلام و علیکم و رحمتہ اللہ کہے خواہ سامنے کوئی موجود ہو یا نہ ہو ، اس کے بعد ایک مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھے اور پھر مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے

اس حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کر سکتا دنیا میں ہر امیر غریب ، نیک و بد کو قانون قدرت کے تحت دکھوں ، غموں اور پریشانیوں ، بیماریوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے۔ لیکن وہ انسان خوش قسمت ہے جو اس غم ، دکھ اور پریشانی کو صبر اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔اگرچہ غم اور پریشانیوں کا علاج تو آج سے چودہ سو ۴۳ سال پہلے قرآن و حدیت میں بڑے احسن انداز کے ساتھ بیان کر دیا گیا۔

ہماری موجودہ پریشانیوں کی بنیادی وجہ قرآنی کمالات سے لا علمی اور دوری ہے۔ آئیے ہم آپ کو قرآنی شفا سے روشناس کرائیں تاکہ آپ کی مایوس کر دینے والی ۔ مشکلات فوری دور ہوں۔ یقین جانیے ان آزمودہ قرآنی شفاﺅں کو آزما کر خود کشتی تک پہنچنے والے خوشحالی کی زندگی ہنسی خوشی بسر کر رہے ہیں۔ قارئین! سورہ البقرہ سے لے کر سورہ الناس تک کے روحانی و ظائف و عملیات ملاحظہ فرمائیں۔

روحانی بیماری کی مثال:نیک کاموں میں دل کا نہ لگنا، برے کاموں میں مزہ آنا جسمانی بیماری کی مثال: ہر طرح کے جسمانی اعذار جس میں کھانسی نزلے سے لیکر فالج کینسر تک کی بیماریاں شامل ہیں۔سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں اور بندش سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں امن الرسول سے آخر تک رات میں سوتے وقت پڑھا کریں اس لیے کہ : سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں امن الرسول سے ختم تک ایسی ہیں۔

کہ جس گھر میں تین رات تک پڑھی جائیں شیطان اس کے قریب نہیں جاتا ۔ (ترمذی ‘نسائی‘ ان حبان‘ حاکم ‘حصن حصین) حدیث شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورئہ بقرہ کو ایسی دو آیتوں پر مکمل فرمایا جنہیں اپنے اس خزانے سے مجھے دی ہیں، جو اس کے عرش کے نیچے ہے۔ انہیں خود ہی سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی سکھاﺅ کیونکہ یہ آیتیں رحمت ہیں، قرآن اور دعا ہیں۔

(حاکم ‘حصن حصین) حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں کسی رات پڑھ لے تو یہ دونوں آیتیں اس کے لیے ہو جائیں گی۔ (ترمذی ، حدیث نمبر:۱۸۸۲)

عورت کا عورت کے ساتھ زنا کرنا

کیا اسلام میں کچھ ایسی حالتیں ہیں کہ کسی عورت سے ایک حالت میں تو شادی کرنا جائز ہو لیکن اسی عورت سے دوسری حالت میں شادی کرنا منع ہو ؟ جی ہاں ایسی حالتیں موجود ہیں جن کی چند ایک مثالیں ذیل میں پیش کی جاتی ہیں :1 – کسی دوسرے کی عدت بسرکرنے والی عورت سے دوران عدت شادی کرنا حرام ہے ، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :{ اورجب تک عدت ختم نہ ہوجائے عقد نکاح پختہ نہ کرو } البقرۃ ( 235 ) اس میں حکمت یہ ہے کہ ہوسکتا ہے وہ عورت اپنے پہلے خاوند سے حاملہ ہو جس کی بنا پر نطفے کے اختلاط اورنسب میں شبہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوجائے ۔2 – جب کسی

عورت کے زنا کا علم ہوجائے تو اس زانیہ سے نکاح کرنا حرام ہے لیکن جب وہ توبہ کرلے اوراس کی عدت ختم ہوجائے تو پھر نکاح ہوسکتا ہے اس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے { اورزانیہ عورت سے زانی اورمشرک کے علاوہ کوئي اورنکاح نہيں کرتا اورمومنوں پر یہ حرام کردیا گيا ہے } ۔3 – مرد پر اپنی اس بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد اس سے دوبارہ شادی کرنا حرام ہے لیکن یہ نکاح اس وقت ہوسکتا ہے جب وہ کسی دوسرے مرد سے صحیح نکاح کرے اوروہ مرد اسے اپنی مرضی سے جب چاہے طلاق دے تو پھر یہ عورت اپنے پہلے خاوند کے لیے حلال ہوگی ۔ اس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے :{ طلاقیں دومرتبہ ہیں ، پھر یا تو اچھائي سے روکنا ہے یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے } البقرۃ ( 229 ) ۔ اس کے بعد اگلی آیت میں فرمایا : { پھر اگر اس کو ( تیسری ) طلاق دے دے تو اب اس کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ عورت اس کے علاوہ کسی اورمرد سے نکاح نہ کرلے ، پھر اگر وہ بھی اسے طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کرنے میں کوئي حرج نہیں بشرطیکہ انہیں یہ علم ہوجائے کہ وہ اللہ تعالی کی حدود کی پاسداری کرسکیں گے } البقرۃ ( 230 ) 4 – احرام والی عورت سے نکاح کرنا بھی حرام ہے ، لیکن جب وہ احرام کھول دے تو نکاح ہوسکتا ہے 5 – دو بہنوں کے مابین ایک ہی نکاح میں جمع کرنا بھی حرام ہے اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے { اوریہ کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو } النساء ( 23 ) ۔ اوراسی طرح بیوی اوراس کی پھوپھو یا پھر بیوی اوراس کی خالہ کو

ایک ہی نکاح میں جمع کرنا بھی حرام ہے ۔ اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( تم عورت اوراس کی پھوپھو کے مابین جمع نہ کرو اور نہ ہی عورت اوراس کی خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرو ) متفق علیہ ۔ اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اس طرح فرمایا ( اگر تم نے ایسا کیا تو تم قطع رحمی کروگے ) کیونکہ سوکنوں کے مابین غیرت اوررقابت پائي جاتی ہے ، توجب ایک دوسری کی قریبی رشتہ دار ہوگي تو ان دونوں کے مابین قطع رحمی پیدا ہوجائے گی ، لیکن جب خاونداپنی بیوی کو طلاق دے دے اوراس کی طلاق ختم ہوجائے تو پھر اس کے لیے سالی اوربیوی کی پھوپھی اور خالہ سے نکاح کرنا حلال ہوگا کیونکہ اس وقت کوئي ممانعت نہيں رہی 6 – چار بیویوں سے زيادہ بھی ایک ہی نکاح میں جمع نہیں کی جاسکتیں کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ( اگرتمہیں خدشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو تمہیں اچھی لگيں تم ان سے نکاح کرلو ، دو دو ، تین تین ، چار چار سے ، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے ) النساء ( 3 ) ۔

رات سوتے وقت نافرمان بچے پردم کریں

نافرمان اولاد ساری زندگی کا روگ ہوتی ہے۔والدین کے حکم کی تعمیل نہ کرنے والی اولاد کے رنج سے اچھا بھلا انسان پریشان ہوکر بہت سے غلط اقدامات اٹھاتا ہے۔۔۔۔جاری ہے

جس سے بعد ازاں اولاد بھی تکلیف اٹھاسکتی ہے۔نافرمان اولاد گمراہ ہوجاتی ہے،بہت سے والدین ایسی اولاد کے ہاتھوں مارے بھی جاتے ہیں،وہ جرائم میں ملوث ہوجاتی اور نشے بھی کرتی ہے تو ان کی وجہ سے انہیں عدالتوں میں خوار ہونا پڑتا ہے۔ایسی اولادتعلیم سے بھی محروم ہوجاتی ہے۔لیکن کئی صورتوں میں پڑھی لکھی اولاد کے ہاتھوں بھی والدین کو تکالیف اٹھانی پڑی ہیں۔یہ کتنی ظلم اور شرم کی بات ہے۔۔۔۔جاری ہے

کہ وہ والدین جنہوں نے پال پوس کر اپنے منہ کا لقمہ اولاد کے منہ میں ڈال کر اسے پالا ہوتا ہے وہی ان کے بڑھاپے کا سہارا نہیں بن پاتی۔ والدین کو چاہئے کہ وہ خود ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیں،اگر اولاد میں گستاخی اور نافرمانی کا رویہ دیکھیں تو فوری اللہ سے رجوع کریں اور یہ عمل شروع کردیں۔۔۔۔جاری ہے

۔بعد از نماز عشا اول آخر اسم ربی یا نافع اکیالیس سو بار اکیس دن تک پڑھیں اور اللہ کے حضور اسکے راہ راست پر آنے کی دعا کریں ،انشا ء اللہ بگڑے ہوئے بچوں کی اصلاح ہوگی۔

تیسوے پارے کی ایک سورۃ کا کرشمہ

ایک روایت کے مطابق جب بندہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس کے جتنے گناہ ہیں سب بدن سے اتار کر ایک ڈھیر میں ڈال دو تاکہ جب تک یہ میرے حضور کھڑا رہے پاک اور ستھرا ہوکر کھڑا رہے۔بندہ نماز پڑھتا رہتا ہے اور گناہ ایک سمت ڈھیر میں جمع کردیئے جاتے ہیں۔

سورت الکوثر کا ایک ایسا مختصر عمل جس سے کاروباری روکاوٹ، بندش نکاح، محبت، خاتمہ بے روزگاری، نافرمان اولاد کو راہ راست کرنکے لئے لاجواب عمل ہے، کرکے آزمائیں اور فائدہ اٹھائیں
طریقہ عمل۔۔۔
نوچندی بدھ، یاجمعرات، جمعہ کی رات کو بعد نماز عشاء قبلہ رخ بیٹھ کر اول روز سورت الکوثر 921مرتبہ دوسرے روز 921مرتبہ اور آخری تیسرے دن 922مرتبہ پڑھ کر نمک اور کیسی میٹی چیز پر دم کر کے عمل ختم کرلیں، اب آپ سورت الکوثر کے عامل ہیں

عمل قابو میں رکھنے کے لئے روزانہ 121مرتبہ پڑھا کریں، بوقت ضرورت 121مرتبہ سورت الکوثر پڑھ کر کسی چیزپر دم کر کے مطلوب کو کھلادیں، انشاءاللہ رزلٹ 100%ہوگا، نیز یہ عمل زبان دراز ساس، نند،ظالم شوہر کو راہ راست پر لانے کے لئے کیا ہی عجیب عمل ہیں،

پھر جب وہ بندہ نماز پڑھ کر واپس جانے لگتا ہے تو فرشتے وہ گناہ پکڑ کر عرض کرتے ہیں، مالک یہ گناہ دوبارہ اس کے ساتھ ہی لگادیں؟ تو رب تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے: اب اترے تو اترے ہی رہنے دو، میرا بندہ ستھرا ہو کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔ اس روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ شخص واقعی کتنا بدنصیب ہے

جس کو اپنے رب عزوجل کے حضور ایک سجدہ بھی نصیب نہ ہو۔آج اگر ہر مسلمان اپنی ذات کا موازنہ خود کرے تو ہم میں زیادہ تر افراد کا معمول یہ ہوتا ہے:٭ فجر کا وقت سوتے ہوئے گزار دیتے ہیں٭ ظہر اپنے کام کاج کی جگہ پر گزار دیتے ہیں٭ عصر سستی میں گزار دیتے ہیں٭ مغرب ہلے گلے میں اور٭ عشاء تھکن کی وجہ سے گزار دیتے ہیںیہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے

کہ بعض لوگ نماز نہ پڑھنے کے باوجود بھی ندامت کا اظہار نہیں کرتے اور اپنے ذہن میں یہ خیال رکھتے ہیںکہ ہم نماز نہیں پڑھتے، لیکن اگر وہ حقیقت سے آشنا ہو تو انہیں پتا چلے گا کہ وہ کیا نماز نہیں پڑھتے بلکہ رب انہیں سجدے کی توفیق ہی عطا نہیں کرتا۔

رات جب بھی آنکھ کھلے

آج میں آپ کو ایسا وظیفہ دینے جا راہا ہوں جو آپ کو زندگی میں بہت کام آئے گا ۔اور ایک چھوٹا سا عمل ہے جس سے ہزاروں حاجات انشاء اللہ پوری ہو جائیں گی ۔اللہ کے ناموں کے اندر بہت بڑی طاقت ہے۔اور بہت بڑی برقت ہے۔اللہ کا ایک نام ہے جس کی برقت سے پوری کائنات کا وجود قائم ہے ۔ جب اللہ کا نام نہ رہے گا تو سب کچھ ختم ہو جائے گا دنیا میں کچھ بھی باقی نہیں رہے گا ۔

آپ ۖ نے فرمایا جب تک لآ اِلہ اِلا اللہ محمد رسول اللہِ کہنے والا دنیا میں ایک آدمی بھی موجود ہو گا تو یہ نظام کائنات موجود رہے گا ۔اللہ پاک بہت برقت والے اور طاقت والے ہیں ۔ دوسرا رحمان کا نام یہ اللہ کا صفاتی نام ہے اور اللہ کے صفاتی نام بہت ہیں ۔یا اللہ یا رحمن یہ دو نام اتنی عظمت والے ہیں اتنی برقت والے ہیںاگر رات کو سونے سے پہلے ان ناموں کو پڑھ لیںپڑھنے کی تعداد کوئی بھی نہیں ہے جتنا آپ پڑھ سکو ۔وضو کر کے اپنے بستر پے پڑھنا ہے اور یاد رکھیں آپ کا بستر بھی پاک ہونا چاہیے جسم کا پاک ہونا ظروری ہے اور بستر بھی پاک ہو آپ اپنے بستر پر لیٹ کر یا اللہ یا رحمن اللہ کے یہ نام پڑھنے ہیں اس کی کوئی تعداد نہیں جتنا آپ سے پڑھ سکیںآپ نے پڑھنا ہے ۔

لیکن کم از کم ایک ہزار مرتبہ آپ لازم پڑھیں۔اول آخر درود شریف لازم پڑھیں۔اللہ کے یہ صفاتی نام پڑھتے ہوئے اللہ کے ان ناموں کا زکر کرتے ہوئے آپ کی کوئی بھی حاجت ہو گی اس کا تصور آپ اپنے زہن میں رکھنا ہے ۔انشا ء اللہ آپ کی جائز ظروریات آپ کی حاجت لازم پوری ہو گی ۔ اگر آپ کسی پریشانی میں پر گئے ہیں تو انشا ء اللہ آپ یہ وظیفہ کریں گے تواللہ تعالی آپ کی پریشانی کو دور کر دے گا ۔ویسے بھی دوستو اللہ کا زکر کرنے سے دل کو سکون ملتا ہے آپ اللہ کے یہ نام لازم پڑھ کر سویا کریں۔

چچا جان مجهے آپکی بیٹی پسند ہے

ایک کافر جوان اپنے چچا کی بیٹی پر عاشق ہو گیا اس کا چچا حبشہ کا بادشاہ تها جوان اپنے چچا کے پاس گیا اور کہا: چچا جان مجهے آپکی بیٹی پسند ہے میں اسکی خواستگاری کے لئے آیا ہوں. بادشاہ نے کہا:کوئی بات نہیں لیکن اس کا مهر بہت بهاری ہے. جوان نے کہا جو کچھ بھی ہو مجهے قبول ہے. بادشاہ نے کہا:مدینہ شهر میں میرا ایک دشمن رہتا ہے اس کا سر میرے پاس لائو اس وقت میری بیٹی تمہاری ہو گی.جوان نے کہا : چچا جان آپکے دشمن کا نام کیا ہے ؟ کہا: لوگ اسے کہا:

لوگ اسے علی ابن ابی طالب کے نام سے جانتے ہیں جوان نے فورا گهوڑے کے اوپر زین رکهی اور تیر، تلوا،ر نیزہ اور کمان کے ساتھ راہی مدینہ ہوا. جب شهر کے نزدیک ایک تپہ کے اوپر پہنچا تو دیکها کہ ایک عربی جوان نخلستان میں باغبانی و بیلچہ چلا رہا ہے. جوان کے نزدیک گیا اور کہا: اے مرد عرب کیا تم علی کو جانتے ہو؟ جوان عرب نے کہا:علی سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا: اپنے چچا جو کہ حبشہ کا بادشاہ ہے اس کے لئے علی کا سر لینے آیا ہوں کیونکہ اس نے اپنی بیٹی کا حق مهر علی کا سر قرار دیا ہے. جوان عرب نے کہا: تم علی کا مقابلہ نہیں کرسکتے. اس نے کہا:کیا علی کو جانتے ہو؟ جوان عرب:جی ہر روز اس کے ساتھ ہوتا ہوں اور ہر روز اس کو دیکهتا ہوں. اس نے کہا:علی کیسی هیبت رکهتا ہے کہ میں اس کا سر تن سے جدا نہیں کر سکتا؟ جوان عرب:میرے قد جتنا اس کا قد ہے اور هیکل (جسامت) بهی میرے اندازہ کے مطابق ہے. اس نے کہا :اگر تہماری طرح ہے تو پهر مسئلہ کوئی نئیں. مرد عرب نے کہا: پہلے تم مجهے شکست دو پهر میں تم کو علی کا پتہ بتاؤں گا. کہا:شمشیر و تیر و کمان و سنان. کہا: آمادہ ہو جاو. جوان اونچی آواز میں ہنسا اور کہا کیا تم اس بیلچے سے مجهے شکست دو گے؟ پس تیار ہو جاو شمشیر کو نیام سے نکالا .پهر پوچها کہ تمہارا نام کیا ہے؟ مرد عرب نے جواب دیا عبد اللہ. تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا فتاح اور اسی لمحے تلوار کے ساتھ عبد اللہ پر حملہ کر دیا.عبد اللہ نے چشم زدن میں اس کو کندهے اور بازو سے پکڑا اور آسمان کی طرف بلند کیا اور زمین پر دے مارا

اور اس کا خنجر اپنے ہاتھ میں لیا اور بلند کیا. اچانک دیکها کہ جوان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو رہے ہیں. مرد عرب نے کہا:کیوں رو رہے ہو؟ جوان نے کہا:میں اپنے چچا کی بیٹی کا عاشق تها آیا تها تاکہ علی کا سر اپنے چچا کے لئے لے جاو تاکہ وہ اپنی دختر مجهے دے لیکن لگتا ہے ابهی آپکے ہاتھوں سے مارا جاؤں گا. مرد عرب نے جوان کو بلند کیا اور کہا:آجاو اس تلوار سے میرا سر اپنے چچا کے لئے لے جائو.

اس نے پوچھا تم کون ہو؟ کہا : میں اسد اللہ الغالب ، على ابن ابی طالب ہوں. اگر میرے سر کی وجہ سے خدا کے بندوں میں سے کسی کا دل شاد ہوتا ہے تو میں حاضر ہوں کہ میرا سر تمہارے چچا کی بیٹی کا حق مهر ہو جائے.جوان زور زور سے رونے لگا اور اْپؓ کے قدموں میں گر پڑا اور کہا: میں چاہتا ہوں کہ آج سے آپ کا غلام بن جائوں. اسی طرح فتاح بنام قنبر علی ابن ابی طالب کا غلام ہو گیا.

نماز فجر کے بعد صرف 7 مرتبہ پڑھیں رزق میں اضافہ ہو گا

روزانہ فجر کی نماز کے بعد یہ وظیفہ کریں اور انشاللہ رزق میں اضافہ ہوگا ، برکت وہ چیز ہے جس کی ضرورت ہوا اور پانی کی طرح ہر آدمی کو ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں موجود ہر چیز اسباب راحت تو مہیا کر سکتی ہے، مگر راحت نہیں۔

دنیوی ترقی سے خوشی کے اسباب تو جمع کیے جا سکتے ہیں، مگر وہ اسباب، خوشی عطا کرنے سے قاصر ہیں۔ ان اسباب کی کثرت تو ہمارے اختیار میں ہے، مگر ایسی برکت جس سے ہر حاجت پوری ہوجائے، یا کم اسباب میں زیادہ کام ہو جائے ، یہ صرف اللہ تعالی کے عطا کرنے سے ہی حاصل ہو گی۔

قرآن و حدیث سے دس ایسے اعمال پیش کیے جاتے ہیں، جن کو اختیار کرنے سے ان شاء اللہ ضرور برکت عطا ہو گی۔

قرآن پاک میں کئی مقامات پر توبہ واستغفار کے ذریعے رزق میں برکت اور دولت میں فراوانی کا ذکر ہے، حضرت نوح علیہ السلام کا قول نقل کیا گیا ہے:’’میں نے ان (قوم)سے کہا: اپنے رب سے معافی مانگو، بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا ہے، وہ تم پر خوب بارش برسائے گا، تمہیں مال واولاد کی فراوانی بخشے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا۔‘‘

( النوح، آیت:10،11) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص بکثرت استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے چھٹکارا اور ہر تنگی سے کشادگی عنایت فرماتے ہیں اور اسے ایسی راہوں سے رزق عطا فرماتے ہیں،

جس کا اس کے وہم وگمان میں گزر تک نہیں ہوتا۔‘‘ (ابوداؤد: 1518) توبہ واستغفار کی حقیقت یہ ہے کہ انسان گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے، اپنے کیے پر شرمندہ ہو، آئندہ ترکِ معصیت کا پختہ عزم کرے اور جہاں تک ممکن ہواعمالِ خیر سے اس کا تدارک کرے۔

اگر اس گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہوتو اس کی توبہ کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ صاحب حق سے معاملہ صاف کرے۔ ان شرائط کے بغیرتوبہ بے حقیقت ہے۔ ’’تقویٰ‘‘ اللہ کے احکام پر عمل او رشرعا ممنوع چیزوں سے اجتناب کا نام ہے۔ تقوی ان امور میں سے ایک ہے، جن سے رزق میں برکت ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لیے راہ نکال دے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا، جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو گا۔‘‘ (سورہ طلاق،آیت: 3،2)دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے، تو ہم آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے ان پر کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا اس لیے ہم نے ان کی کمائی کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا۔‘‘ (سورۃ الاعراف: 96)