ﻋﻮﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﻓﺠﺮ ﮐﮯﻭﻗﺖﺍﭨﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ .ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﭼﻮﻟﮩﮯ ﭘﺮ ﭼﺎﺋﮯ ﮐﺎﭘﺎﻧﯽ ﭼﮍﮬﺎﯾﺎ. ﭘﮭﺮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﮕﺎﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﮑﻮﻝﺟﺎﻧﮯﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺳﮑﯿﮟ .ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﭼﺎﺋﮯ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺱ ﺳﺴﺮ ﮐﻮ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺁﺋﯽ.ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﺎﻧﺎﺷﺘﮧﺑﻨﺎﻧﮯﻟﮕﯽ ﺑﭽﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮﺍﯾﺎ .ﺑﭽﻮﮞﮐﺎﻟﻨﭻ ﺑﻨﺎﯾﺎ .ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﯾﻦ ﺁﮔﺌﯽ . ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮐﯿﺎ . ﻣﯿﺰ ﺳﮯ ﺑﺮﺗﻦ ﺳﻤﯿﭩﮯ. ﺍﺗﻨﮯﻣﯿﮟ ﺷﻮﮨﺮ ﺁﻓﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﯽﺗﻤﺎﻡﭼﯿﺰﯾﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺷﻮﮨﺮﮐﺎﻧﺎﺷﺘﮧ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ . ﺍﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮉﺍ ﮨﯽ ﺑﻨﺎ ﺗﮭﺎﮐﮧﭼﮭﻮﭨﯽ ﻧﻨﺪ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ ﮐﮧﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮐﺎﻟﺞ ﺳﮯ ﺩﯾﺮ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﮯ .ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺩﯾﻮﺭﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ . ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻮﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ. ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﻟﮕﺎﯾﺎ.ﺍﺗﻨﮯﻣﯿﮟ ﻧﻮ ﺑﺞ ﮔﺌﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺁﻓﺲﮔﺌﮯ. ﺗﻮ ﺁﮐﺮ ﻣﯿﺰ ﺳﮯ ﺁﮐﺮ ﻣﯿﺰ ﺳﮯ ﺑﺮﺗﻦ ﺳﻤﯿﭩﮯ .ﺳﺎﺱ ﺳﺴﺮ ﮐﮯﻟﯿﮯﻧﺎﺷﺘﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ. ﺟﺐ ﺗﮏ ﺳﺎﺱ ﺳﺴﺮ ﻧﮯ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﺱﻧﮯﮐﭽﻦ ﺳﻤﯿﭩﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺗﻦ ﺩﮬﻮﺋﮯ.ﺳﺎﺱ ﺳﺴﺮ ﮐﮯ ﻧﺎﺷﺘﮧﮐﮯﺑﺮﺗﻦ ﺳﻤﯿﭧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺎﺳﯽﺁﮔﺌﯽ . ﺍﺱ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﻟﮓ ﮐﺮ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮﺍﺋﯽ.

ﺟﺐ ﻣﺎﺳﯽﮐﻮﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺑﺞ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ .ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻨﭩﯽﺑﺠﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﻧﻨﺪ ﺑﻤﻌﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭ ﮭﻮﭨﮯﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﮔﺌﯽ. ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻮﺍﺿﻊ ﮐﮯﻟﯿﮯﭼﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﭽﮫ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﺑﻨﺎﯾﺎ. ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟﺑﺎﺭﮦﺑﺞ ﮔﺌﮯ.ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮔﺌﯽﺗﻮﺳﺎﺱﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺁﺋﯽ ﺁﺝ ﮐﭽﮫ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ.ﺍﺱ ﻧﮯﮐﮭﺎﻧﺎ ﭼﮍﮬﺎﯾﺎ ﭼﻮﻟﮩﮯ ﭘﺮ.ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺑﻨﺎﻧﮯﻟﮕﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺞ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺁﻧﮯﻭﺍﻟﮯﺗﮭﮯ . ﺑﭽﮯ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﺍﻥ ﮐﻮﻣﻨﮧﮨﺎﺗﮫ ﺩﮬﻠﻮﺍﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﮐﭙﮍﮮ ﺑﺪﻟﻮﺍﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﯾﺎ. ﭘﮭﺮﭼﮭﻮﭨﯽ ﻧﻨﺪ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻟﺞ ﺳﮯ ﺁﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﭘﺲﺁﮔﯿﺎ .ﺳﺐ ﮐﮯ ﻟﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞﺑﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﺐ ﺳﺐ ﮐﮭﺎ ﮐﺮﺍﭨﮫ ﭼﮑﮯ ﺗﻮ ﺗﯿﻦ ﺑﺞ ﭼﮑﮯﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ ﺑﮭﻮﮎ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ.

ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺰﭘﺮﮨﺎﭦ ﭘﺎﭦ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﯽ ﺗﮭﯽ .ﻭﮦﻣﯿﺰ ﮐﮯ ﺑﺮﺗﻦ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎﺷﻮﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﮐﮩﺎ ﺑﮍﯼ ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎﻧﮑﺎﻟﻮﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﻠﺪﯼ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﭼﺎﺭ ﺑﺞﺭﮨﮯﺗﮭﮯﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺁﺟﺎﻭ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻟﻮﺍﺱﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ.ﺍﺱ ﮐﻮ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎﮐﮧﺻﺒﺢ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﯾﺎ.ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮﮐﮯﺳﺎﺗﮫﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﺎ ﻧﻮﺍﻟﮧ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟﮈﺍﻻﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ –

ﺍﺱ ﮐﮯﺷﻮﮨﺮﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺭﻭﺭﮨﯽ ﮨﻮﮐﯿﻮﮞﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎﺍﻥﺳﮯﮐﯿﺎ ﮐﮩﻮﮞ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺳﺴﺮﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺤﻨﺖﮐﮯﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﺭﻭﭨﯽ ﮐﺎ ﻧﻮﺍﻟﮧ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯﺟﺲ ﮐﻮ ﻟﻮﮒ ﻣﻔﺖ ﮐﯽﺭﻭﭨﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﮐﭽﮫﻧﮩﯿﮟﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﻋﻮﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﻭﺟﮧ ﮐﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ .

میں ناکامی سے نہیں ڈرتا لیکن

وہ بیروز گار ہوگیا.بیروز کیاہوااس کی تو دنیا ہی اجڑ گئی .وہ تنہائی کا شکار ہوگیا.ایک کمرے میں بیٹھ کر ایک کاغذپر لکیریں بناتااور مٹادیتا.پھر ایسے ہی اپنے آپ سے باتیں کرتاچلاجاتا.اتوار کے دن اس کا دوست اس کے پاس آیا.بات چیت ہوئی اس نے بھی اس کیفیت کو بھانپ لیا.تو پوچھا کیاہوا.یار جاب چھوٹ گئی ہے .کچھ سمجھ نہیں آرہا.پلاننگ بناتاہوں کہ اب جاب نہیں کاروبار کروں گا.لیکن خوف ہے کہ اگر یہ چھوٹاساکاروبار بھی بند ہوگیاتو.اس میں بھی ناکامی ہوگیا تو میں کہیں کا نہیں رہوں گا.نوکری کرتاہوں پھر مہینے کے بعد نکال دیاتو . قارئین :یہ وہ عمومی رویہ ہے جو ہمارے معاشرے میں عام بھی ہے اور ہم اس کے نقصانات بھی اُٹھارہے ہیں .آسان الفاظ میں سمجھیں تو اسے ناکامی کے خوف سے موسوم خوف سے موسوم کرسکتے ہیں یا پھر ہم ناکامی سے ڈرتے ہیں .یہ وہ خوف ہے .جس نے اچھے بھلے قابل لوگوں کو ذہنی مریض بنادیا.ایک بات ذہن نشین کرلیں .دنیا میں جو بھی کام کریں گے اس میں نفع اور نقصان کا امکان باقی رہے گا.کامیابی اور ناکامی

دونوں اندیشہ اپنی جگہ رہے گا.انسان کو حقیقت پسند ہوناچاہیے .ناکامی سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ یہ کامیابی کا زینہ ہے . لیکن یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ زندگی میں کچھ پانے کے لئے ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے. اﷲ عزوجل نے آپ کو کن صلاحیتوں سے نوازا ہے. اگر آپ کے پروفائل میں چند ناکامیوں کا ذکر نہیں تو اس کا مطلب ہے .آپ ضرورت سے زیادہ محتاط ہیں. آپ نے خود کو پوری طرح ایکسپلور (EXPLORE ہی نہیں کیا. ایسی زندگی توانائی جوش اور ولولے سے محروم ہوتی ہے.جولوگ زندگی کو ایک شاہراہ پر رواں رکھتے ہیں .و ہ زندگی کی دیگر رونقوں اور رعنائیوں سے محروم بلکہ وہ اس معاملے میں گویانابینا ہوتے ہیں .کیونکہ وہ لگے بندھے انداز میں زندگی بسر کررہے ہوتے ہیں .جبکہ کچھ کرگزرنے والے لوگ اس فریکیونسی سے نکل کر اس لگے بندھے حصار کو توڑ کر کامیابی کی بلندیوں کو چھوتے ہیں. .

کمفرٹ زون سے باہر نکلنے کے اس سفر میں یقیناً ہم کچھ غلطیاں کریں گے. کچھ ناکامیاں ہمارے حصے میں آئیں گی لیکن زندگی میں کچھ قابل ذکر حاصل کرنے کے لئے ہمیں ان عارضی ناکامیوں کے لئے تیار رہنا چاہیے. ان کریں.ان سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ ان کا سامنے کرنا چاہیے . محترم قارئین : ناکامی کا خوف اس قدر بھیانک ہے کہ کبھی ڈرائیونگ کا ٹیسٹ سٹیج پر تقریر کرنا اور کسی ملازمت کے انٹرویو جیسے چھوٹے چھوٹے ٹاسک ہمارے لئے خوف ناک مرحلے بن جاتے ہیں. بہتر رویہ یہی ہے کہOpportunity (مواقعوں)کے دروازے پر خود دستک دی جائے، کسی سے مدد یا رہنمائی چاہیے ہو تو اپنی خواہش کا اظہار کر دیا جائے، اگر انکار سننے کو ملے تو اسے بھی قابل قبول اور نارمل بات سمجھا جائے.اسے اپنے ذہن پر سوار نہ کیاجائے . تاریخ انسانیت بتاتی ہے کہ بعض اوقات کئی دفعہ انکار سننے کے بعد ایک ہاں ایسی مل جاتی ہے جو آپ کے لیے ترقی کا راستہ آسان بنا دیتی ہے.ایک عجیب سی بات کہ ہم کسی کام کے لئے ایک دو دفعہ کوشش کرتے ہیں اور ناکامی کی صورت میں رستہ بدل لیتے ہیں. کوئی کامیابی آسانی سے نہیں ملتی، آپ کے رستے میں رکاوٹیں بھی آتی ہیں.یہ دراصل ان لوگوں کا راستہ روکنے کے لئے ہوتی ہیں جو اپنے مقصد اور جذبے میں سچے نہیں ہوتے. ہم خود سے زیادہ دوسروں کی رائے کو اپنے ذہن پر سوار کرلیتے ہیں . ایک بات ذہن نشین کرلیں .دوسرے لوگ آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں یہ اتنا اہم نہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ آپ خود اپنے بارے میں کیا کہتے ہیں. خود سے کیا توقعات رکھتے ہیں. اپنی Skills کو بہتر بنانے کے لئے آپ کتنی محنت کر سکتے ہیں. مشاہد ہ سے یہی بات سمجھ آتی ہے کہ کامیاب لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ان کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھوں میں ہے وہ دوسروں کو الزام دینے کے بجائے اپنی کوشش پر بھروسہ کرتے ہیں اور کامیاب ٹھہرتے ہیں. ہم ہر ناکامی سے کچھ نہ کچھ سیکھ سکتے ہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ ہر ناکامی میں ہماری کامیابی کا بیج پوشیدہ ہوتا ہے. ناکامیوں سے گزرنے کے بعد ہی آپ کے ہاتھ میں ایسے ٹولز (Toolsآتے ہیں. جن سے آپ کامیابی حاصل کر پاتے ہیں. جب ہم اپنے اہداف اپنے پوٹینشل سے نیچے رکھتے ہیں تو نہ صرف اپنے ساتھ ظلم کرتے ہیں .بلکہ معاشرے کو بھی اچھے پروفیشنلز موجددوں بزنس مینوں مصنفین اور آرٹسٹوں سے محروم کر دیتے ہیں. آپ کچھ نیا سیکھنا چاہتے ہیں.اپنی صلاحیتوں کا مکمل اظہار چاہتے ہیں. اپنے خوابوں کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں. ایک عام سطح سے بڑھ کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو جرأت مندانہ سوچ اپنائیں. اپنے حصے کی ناکامیوں سے گزریں. کسی بھی ناکامی کو حتمی نہ سمجھیں اور آگے بڑھتے رہیں. آپ شاندار کامیابی کے قریب ہوتے جائیں گے.تو پھر کیا کہتے ہیں .آج سے اپنے اندر کے ناکامی کے خوف کو نکالیں اور چلیں اس شاہراہ پر جو کامیابی کی جانب جاتی ہے .ناکامی کو قبول کرنے اور اس کے اژالہ کے لیے کوشش کو اپنا شعار بنائیں تو کچھ بعید نہیں کہ لوگ آپ کی مثال نہ دیں .اور آپ کا شمار کامیاب لوگوں میں ہوجائے . محترم قارئین:آپ سچے دل سے تسلیم کرلیں کہ کامیابی کی طرح ناکامی بھی زندگی کا ناگزیر حصہ ہے اور جب کبھی آپ کا ناکامی سے سامنا ہو تو آپ اسے اپنی زندگی کا کل سمجھنے کی بجائے ایک جز کے طور پر لیں.

وہ تسبیح جس سے یہ چار بیماریاں ختم ہوجائےگا

جو ایمان والا تین مرتبہ فجر کی نماز کے بعد یہ تسبیح پڑھے گا انہیں ان چار بیماریوں سے نجات مل جائیگی .چا ر بیماریوں میں پہلی بیماری پاگل پن ہے ،یہ تسبیح پڑھنے سے کسی بھی شخص کو ذہنی بیماری نہیں ہوگی. اللہ تعالی تمہیں پاگل نہیں بنائے گا. بزرگوں کے مطابق جن لوگوں کو مرگی یا بھولنے کی بیماری ہے وہ بھی شفایا ب ہوجائیگا.دوسری بیماری کوڑھ پن کی ہے۔

یہ تسبیح پڑھنے سے جلد سے متعلقہ کوئی بیماری نہیں ہوگی .کچھ لوگوں کو چہرے پر دانے ،پھنسی وغیرہ نکل آتے ہیں یا ان کا رنگ کالا ہوجاتا ہے یہ تسبیح ضرور پڑھیں .تیسری بیماری اندھے پن کی بیماری ہے ،اگر آپ کو کم نظر آتا ہے۔ تو یہ تسبیح ضرور پڑھیں . چوتھی بیماری فالج کی بیماری ہےجن افراد کے ہاتھ پاؤں اچانک کام نہیں کرتے وہ بھی یہ تسبیح ضرور پڑھیں۔

آئیے اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ وہ تسبیح کون سی ہے(سبحان اللہ عظیم و بحمدہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ)یہ تسبیح ہر روز3مرتبہ نماز فجر کے بعد پڑھیں انہیں ان چار بیماریوں سے نجات مل جائیگی۔

بسم اللہ کا چھوٹا سا وظیفہ

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کے جو کوئی بسم الله شریف کا ورد ہر روز بکثرت کرے انیس ١٩ فرشتوں کے عذاب سے نجات پاے گا جو کے دوزخ پی مؤکل ہیں ق کے بسم الله شریف کے الفاظ بھی انیس ١٩ ہیں جب کوئی مشکل در پیش ہو تو بسم الله شریف کو با طہارت کامل سات سو چھیاسی ٧٨٦ بار سات ٧ روز تک پڑھے ہر مشکل آسان ہو اگر ہمیشہ ورد میں رکھے تو کسی اور عمل کی ضرورت ہی پیش نا آے اور اگر بعد نماز فجر پندرہ سو ١٥٠٠ مرتبہ جس مطلب کے لئے پڑھا جائے وہ کام ہو

ہم چار دوستوں کا ایک گروپ تھا، نہیں بلکہ پانچ دوستوں کا، پہلے چار اسلئے کہا تھا کہ ہم چار دوست پارٹیاں اور ہلہ گلہ وغیرہ کرتے تھے لیکن پانچواں عظمت خان تھا جو کہ اکثر پارٹیوں میں شریک نہیں ہوتا تھا۔۔ اسے ہلہ گلہ اور خرچہ کرنا اچھا نہیں لگتا تھا شاید اسلئے کہ وہ بہت کنجوس تھا۔ ہم اس کو بہت طعنے بھی دیتے تھے لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا تھا۔ پھر بھی بندہ دل کا اچھا تھا اسلئے ہمارے گروپ میں کسی نا کسی کھاتے میں شامل تھا۔ وہ ایک سردیوں کی یخ بستہ رات تھی میں اور میرا دوست عظمت بائیک پر کسی کام سے صدر کےلئے روانہ ہوئے۔ بائیک میری تھی سو میں ہی چلا رہا تھا۔ابھی ہم آدھے راستے پر ہی تھے کہ ایک دم عظمت چلایا۔۔۔ ارے بائیک روکو بائیک روکو۔۔ میں تھوڑا سا پریشان ہوا کہ اللہ خیر ہی کرے بحر حال میں نے بائیک روک دی۔ عظمت بائیک سے اترا اور جہاں سے ہم آرہے تھے وہاں واپس پیدل تیز تیز چلنے لگا۔ میں نے بھی بائیک ایک سائیڈ پر روک لی اور اس کے پیچھے چلا گیا۔۔۔

تھوڑی دور گیا تو ایک جگہ پر ایک سفید داڑھی والے ایک بوڑھے شخص کے پاس وہ رک گیا۔ اس کے سامنے کچھ کیلے رکھے ہوئے تھے اور تھوڑے سے سیب بھی تھے۔۔۔ جسم پر ایک پرانی سے موٹی چادر تھی اور پائوں میں پرانے اور پھٹے ہوئے جوتے تھے۔ اس ٹھنڈی رات میں شاید وہ کسی گاہک کا انتظار کررہے تھے۔ میں نے سوچا شاید عظمت میری جیب مارے گا۔۔ عظمت بابا جی کے پاس بیٹھ گئے اور ان سے سارے کیلوں اور سیبوں کا ریٹ پوچھا۔۔۔ بابا جی نے اس سب کی قیمت تین سو روپے بتائی۔۔۔ عظمت نے کہا کہ بابا جی میرے ایک مجبوری ہے اور میں یہ سب چیزیں ایک ہزارمیں خریدوں گا۔۔۔ مہربانی کرکے یہ سب ایک ہزار کی دے دیں میری عزت کا سوال ہے۔۔۔ بابا جی یہ سن ہر حیرت زدہ ہوئے اور پریشان بھی ہوئے اور کیلے اور سیب دینے سے انکار کردیا۔۔۔ عظمت اس کے منت سماجت کرنے لگا کہ بابا جی میری عزت کا سوال ہے میں ایک ہزار سے کم میں یہ نہیں خرید سکتا۔۔ کچھ منت سماجت کے بعد وہ بابا جی مان گئے۔۔ تو عظمت نے جھٹ سے جیب سے ایک ہزار کا نوٹ نکالا۔۔ بابا جی نے جیب سے ٹارچ نکال کر ایک ہزار کے نوٹ کو تسلی سے دیکھا اور سارے سیب اور کیلے ایک شاپر میں ڈال دئے۔۔ عظمت نے جیسے ہی وہ کیلے اور سیب لئے تیزی سے مجھے ہاتھ سے پکڑا اور بائیک کی طرف چلنے لگا۔۔

میں بہت حیرانگی سے یہ ساری کاروائی دیکھ رہاتھا۔۔ میں سمجھا کہ شاید عظمت نے اس بابا جی کو جعلی نوٹ دے دیا۔۔۔ بائیک کے قریب آکر میں نے مزاق میں کہا کہ ارے لگتا ہے بابا جی کو تم نے الو بنا لیا ہے جعلی نوٹ دے کر سارا فروٹ لے لیا۔۔۔ عظمت نے ایک مسکراہٹ سے میری طرف دیکھا اور کہا۔۔ نہیں بھائی نوٹ ایک دم اصلی تھا۔۔ میں مزید حیران ہوا اور اس سے پوچھا تو پھر تین سو کا فروٹ ایک ہزار میں کیوں لیا۔۔۔۔۔ اس نے جواب دیا ۔۔۔ ارے پگلے با با کی مدد کی ہے۔۔ دیکھو نا اس ٹھنڈی رات میں وہ بیچارہ بیٹھا کسی گاہک کا انتظار کررہا تھا اور گھر میں اس کے بچے اس کا انتظار کررہے ہوں گے سو میں نے سوچا ان کی مدد کر لوں غریب بندہ لگ رہا تھا۔۔۔ تم لوگ جو پارٹیوں میں ہزاروں لٹا دیتے ہو میں اسی طرح ہزاروں جمع کرتا ہوں آخرت کے لئے۔۔۔۔۔ عظمت کے یہ جملے سن کر میں سکتے میں آگیا۔۔۔۔۔۔ اور اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔۔ کیونکہ اپنی نادانی اور عظمت کی دانائی کی وجہ سے میرے آنکھوں سے دو آنسو نکل کر میرے چہرے کو تر کر رہے تھے۔

وہ گھر آتے اوراللہ اکبرکہتے،جواب میں اہلیہ بھی یہ نعرہ لگاتی لیکن ایک روز وہ گھر میں داخل ہوئے اور جونہی اللہ اکبر پکارا تو ۔۔۔

حضرت عثمان بن عطاؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مسلم خولانیؒ جب بھی گھرمیں داخل ہوتے تو سلام کرتے اور گھر کے اندر پہنچ کر اللہ اکبر کہتے اور ان کی بیوی بھی اللہ اکبر کہتی تھی اس کے بعد وہ بیٹھتے اپنے جوتے اور چادر اتارتے اور پھر ان کی بیوی کھانا لاتی اور وہ کھالیتے.حضرت ابو مسلم خولانیؒ وہ جلیل القدر بزرگ تھے جن کے لئے آگ گلزار بن جاتی تھی.

یمن میں پیدا ہوئے .تقوی اور توکل میں کمال کو پہنچے ہوئے تھے، ایک بار جب حضرت ابو مسلم خولانیؒ اپنے گھر پہنچے، سلام کیا تو کوئی جوا ب نہ ملا.گھرمیں داخل ہوکر اللہ اکبر کہا، بیوی نے اس بار بھی جواب نہ دیا. دیکھا کہ بیوی نے آج گھر میں چراغ تک نہیں جلایا تھا. بس وہ ایک جگہ بیٹھی زمین کرید رہی تھی. حضرت ابو مسلم خولانیؒ نے پوچھا ’’تجھے کیا ہوا‘‘ وہ بول پڑی’’سارے لوگ کیا کیاکرتے ہیں اور کہاں کہاں پہنچ گئے ہیں. وہ حکومت سے اتنا مال و دولت اور اتنی جائیداد اور جاگیر لے چکے ہیں جن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا وہ بھی شاہانہ زندگی گزاررہے ہیں اور آپ تو بڑے مشہور بزرگ ہیں.

آپ تو زیادہ لے سکتے ہیں. آپ بھی امیر المومنین حضرت معاویہؓ کے پاس جاتے تو ہمیں بھی وہ بہت کچھ دیتے.‘‘ حضرت ابو مسلم خولانیؒ سمجھ گئے کہ یہ نیک بیوی ہے، سادہ مزاج ہے، خود نہیں بول رہی بلکہ کسی نے آج اس کو ورغلادیا ہے اور اس کے کان بھر دئیے ہیں اور پھر دعا مانگی. ’’یاالہٰی! جس نے بھی میری بیوی کو ورغلایا ہے اسے تو اندھا کردے‘‘ حضرت ابو مسلم خولانیؒ کے گھر ایک عورت آئی تھی جس نے ان کی بیوی کو حضرت امیر معاویہؓ کی سخاوت کے قصے اور حضرت ابو مسلمؒ کی شان بیان کرتے ہوئے کہا تھا. ’’تم بھی بہت کچھ حاصل کرسکتی ہو، بس تم اپنے خاوند سے مطالبہ کردو کہ وہ بھی حضرت معاویہؓ سے اپنے لئے کچھ لے لیں.‘‘ یہ عورت رات کو اپنے گھر میں کام کررہی تھی کہ اچانک آنکھ میں معمولی سی تکلیف ہوئی. اس نے آنکھیں

مسلیں اور پھر گھر والوں سے کہنے لگی’’ چراغ کیوں بجھادیا؟ اسے روشن کرو‘‘ سارے گھر والے حیران ہوگئے اور کہنے لگے. ’’چراغ تو بدستور چل رہا ہے.‘‘ پھر اسے یقین آگیا کہ اس کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے اور وہ مکمل اندھی ہوچکی ہے. اگلے دن اسے پتہ چل گیا کہ حضرت ابو مسلم خولانیؒ نے ہی اندھا ہونے کی بددعا دی تھی. پھر تو وہ عورت آکر حضرت ابو مسلم خولانیؒ کے پاؤں پڑگئی. بڑی روئی، سٹپٹائی، منت سماجت کرنے لگی اور معافیاں مانگنے لگی. اس پر حضرت ابو مسلم خولانیؒ نے اسے معا ف کردیا اور اس کے لئے دعا بھی فرمادی. وہ پھر اپنی آنکھوں سے دیکھتی واپس اپنے گھر لوٹ آئی.

جن جن عورتوں میں یہ 3 نشانیاں موجود ہوں

حضرت عائشہؓ ارشاد فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ جن عورتوں میں یہ نشانیاں ہوں وہ بہت ہی بابرکت ہوتی ہیں۔ عورت کی بابرکت ہونے کی علامات میں سے ہے کہ ۔نمبر ایک : اس کی طرف رشتہ بھیجنے اوررشتہ منظور ہونے میں آسانی ہو ،۔نمبر دو : اس کا مہر آسان ہو یعنی بہت زیادہ پحیپدہ نہ ہونمبر تین : اس کے ہاں بچوں کی پیدائش میں آسانی ہو ۔جن عورتوں میں یہ نشانیاں پائی جاتی ہیں وہ بہت ہی بابرکت ہوتی ہیں۔ ”محبت” کو دعوت دی تھی ایک عورت کسی کام سے گھر سے باہر نکلی تو گھر کے باہر تین اجنبی بزرگوں کو بیٹھے دیکھا ،

عورت کہنے لگی میں آپ لوگوں کو جانتی نہیں لیکن لگتا ہے کہ آپ لوگ بھوکے ہیں چلیں اندر چلیں میں آپ لوگوں کو کھانا دیتی ہوں ان بزرگوں نے پوچھا : کیا گھر کا مالک موجود ہے؟ عورت کہنے لگی: نہیں ، وہ گھر پر موجود نہیں۔ انہوں نے جواب دیا : پھر تو ہم اندر نہیں جائیں گے۔رات کو جب خاوند گھر آیا تو عورت نے اسے سارے معاملے کی خبر دی۔ وہ کہنے لگا : انہیں اندر لے کر آؤ !عورت اُن کے پاس آئی اور اندر چلنے کو کہا ! انہوں نے جواب دیا : ہم تینوں ایک ساتھ اندر نہیں جاسکتے۔۔عورت نے پوچھا : وہ کیوں ؟ ایک نے یہ کہتے ہوئے وضاحت کی :اس کا نام ”مال” ہے اور اپنے ایک ساتھی کی طرف اشارہ کیا ، اور اس کا نام ” کامیابی ” ہے اور دوسرے ساتھی کی طرف اشارہ کیا، اور میرا نام محبت ہے، اور یہ کہتے ہوئے بات مکمل کی کہ جاؤ اپنے خاوند کے پاس جاؤ اور مشورہ کر لو کہ ہم میں سے کون اندر آئے؟عورت نے آکر خاوند کو سارا ماجرا سنایا ، وہ خوشی سے چلا اٹھا اور کہنے لگا : اگر یہی معاملہ ہے تو ”مال ” کو اندر بلا لیتے ہیں

گھر میں مال و دولت کی ریل پیل ہو جائے گی !عورت نے خاوند سے اختلاف کرتے ہوئے کہا : کیوں نہ ”کامیابی” کو دعوت دیں ؟ میاں بیوی کی یہ باتیں اُن کی بہو گھر کے ایک کونے میں بیٹھی سن رہی تھی،اُس نے جلدی سے اپنی رائے دی :کیوں نہ ہم ”محبت” کو بلا لیں اور ہمارا گھرانہ پیار و محبت سے بھر جائے! خاوند کہنے لگا : بہو کی نصیحت مان لیتے ہیں ،جاؤ اور ”محبت” کو اندر لے آؤ۔ عورت باہر آئی اور بولی :۔۔آپ میں سے ”محبت ”کون ہے وہ ہمیں مہمان نوازی کا شرف بخشے۔ گھر والوں کا مطلوبہ شخص اٹھا اور اندر جانے لگا تو اس کے دونوں ساتھی بھی کھڑے ہو گئے اور اس کے پیچھے چلنے لگے، عورت حیران و پریشان اُن کا منہ دیکھنے لگی۔عورت نے ” مال ” اور ”کامیابی” سے کہا ؛ میں نے تو صرف ”محبت” کو دعوت دی تھی،آپ دونوں کیوں ساتھ جا رہے ہیں؟ دونوں نے جواب دیا :اگر تم نے ” مال ” یا ”۔۔کامیابی ” میں سے کسی کو بلایا ہوتا تو باقی دونوں باہر رہتے لیکن تم نے کیونکہ ” محبت ” کو بلایا ہے یہ جہاں ہو ہم اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جہاں ” محبت ” ہو گی وہاں ” مال ” اور ” کامیابی” بھی ملیں گے۔ اپنے دل میں اور اپنے عزیزوں اور ساتھیوں کے دلوں میں محبت پیدا کیجئے،۔۔آپ ایک کامیاب شخصیت کے مالک بن جائیں گے یاد رکھئے : اگر آپ” محبت ” کے ساتھ دوسروں سے پیش آئیں تو آپ کی مثال اس چراغ کی سی ہے جس کے گرد لوگ اندھیرے میں اکٹھے ہوجاتے ہیں

مدینہ میں ایک حمام (غسل خانہ ) تھا۔جس میں مردہ عورتوں کو نہلایاجاتاتھا

مدینہ میں ایک حمام (غسل خانہ ) تھا۔جس میں مردہ عورتوں کو نہلایاجاتاتھا اوران تجہیزو تکفین کی جاتی تھی۔ایک مرتبہ اس میں ایک خاتون جس کاانتقال ہوچکاتھا۔نہلانے کیلئے لایاگیا۔اس کو غسل دیاجارہاتھاکہ ایک عورت نے اس مردہ خاتون کو برابھلاکہتے ہوئے کہا توبدکار ہے اوراس کی کمر سے نیچے ایک لترمارالیکن اس برابھلاکہنے والی اورپھرمردہ عورت کو مارنے والی عورت کاہاتھ جہاں اس نے ماراتھاچپک گیا۔عورتوں نےبہت کوشش اورتدبیر کی لیکن ہاتھ الگ نہیں ہوا۔ بات پورے شہر میں پھیل گئی کیونکہ معاملہ ہی عجیب تھا۔ ایک زندہ عورت کا ہاتھ ایک مردہ عورت سے چپکاہواہے اب اس کو کس

اس کو کس تدبیر سے الگ کیاجائے۔مردہ کودفن بھی کرناضروری ہے۔اس کے لواحقین الگ پریشان ہوں گے۔معاملہ شہر کے والی اورحاکم تک پہنچ گیا۔ انہوں نے فقہاءسے مشورہ کیا۔بعض نے رائے دی کہ اس زندہ عورت کا ہاتھ کاٹ کر الگ کیاجائے۔کچھ کی رائے یہ بنی کہ مردہ عورت کے جس حصہ سے اس زندہ خاتون کاہاتھ چپکاہے۔اتنے حصہ کو کاٹ لیاجائے۔کچھ کاکہناتھاکہ مردہ کی بے عزتی نہیں کی جاسکتی۔کچھ کاکہناتھاکہ زندہ عورت کاہاتھ کاٹنااس کو پوری زندگی کیلئے معذور بنادے گا۔

شہر کاوالی اورحاکم امام مالکؒ کا قدرشناس اوران کے تفقہ اورفہم وفراست کا قائل تھا۔اس نے کہاکہ میں جب تک اس بارے میں امام مالکؒ سے بات کرکے ان کی رائے نہ لوں میں کوئی فیصلہ نہیں دے سکتا۔امام مالکؒ کے سامنے پورامعاملہ پیش کیاگیا۔توانہوں نے سن کر فرمایانہ زندہ خاتون کاہاتھ کاٹاجائے اورنہ مردہ عورت کے جسم کاکوئی حصہ الگ کیاجائے۔میری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ مردہ عورت پر اس زندہ خاتون نے جو الزام لگایاہے

وہ اس کا بدلہ اورقصاص طلب کررہی ہے لہٰذاس الزام لگانے والی عورت کو شرعی حد سے گزاراجائے چنانچہ شرعی حدجوتمہت لگانے کی ہے یعنی اسی کوڑے۔کوڑے مارنے شروع کئے گئے۔ایک دو،دس بیس،پچاس،ساٹھ ستر بلکہ اناسی79کوڑوں تک اس زندہ خاتون کا ہاتھ مردہ عورت کے جسم کے کمر کے نچلے حصہ سے چپکارہا۔جوں ہی آخری کوڑاماراگیا۔اس کا ہاتھ مردہ عورت کے جسم سے الگ ہوگیا۔

یقینا اس واقعہ میں دوسروں پر بےجا تہمتیں لگانے والوں کے لیے بڑی عبرت موجود ہے،اللہ سبحانہ تعالی ہم سب کو اس گناہ کے شر سے اپنی پناہ رحمت عطا فرمائیں۔ بحوالہ بستان المحدثین للشاہ عبدلعزیز دہلوی،صفحہ25۔انوارالمسالک لمحمد بن علوی المالکی الحسنی 244،شرح التجرید الصحیح للعلامہ الشرقاوی 343

جلیل القدر پیغمبر کی بیوی کو اللہ نے عبرت کا نشان بنا دیا

لوط علیہ السلام قوم سدوم کی طرف اللہ کےبھیجے ہوئے پیغمبر تھے جنہوں نے کئی سال تک اس قوم کو تبلیغ کی تھی ۔ کہاں جاتا ہے کہ سدوم کا علاقہ اس جگہ پر ہے جہاں آج کل بحر مردار پایا جاتا ہے یہ سمندر دوسرے سمندروں سے بے حد مختلف ہے اور اس میں کسی قسم کی سمندری مخلوق نہیں پائی جاتی ۔ کیونکہ اس کا پانی انتہائی کڑوا ہے

لوط علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام کے بھانجے تھے جو سفر میں ان کے ساتھ تھے یہاں پہنچ کر ابراہیم علیہ السلام فلسطین کی طرف چلے گے اور اپنے بھانجے کو یہاں چھوڑ دیا ۔ کہاں جاتا ہے کہ یہ علاقہ انتہائی سرسبز تھا یہاں پانی وافر مقدار میں تھا اور یہاں کا باسی غذائی اجناس میں خود کفیل تھا حد نگاہ تک سبزہ نظر آتا تھا اور انتہائی خوشنما پھل دار درخت یہاں پائے جاتے تھے ۔اللہ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے یہ لوگ اللہ کی ناشکری اور کفر میں مبتلاء ہوئے ان کی بنیادی خرابیوں میں کفر کے ساتھ ہم جنس پرستی بھی تھی ۔ اس کے ساتھ راہ گزرنے والوں کو لوٹ لیتے تھے جو مہمان آتا ان کے ساتھ بھی بد فعلی سے اجتناب نہیں کیا کرتے تھے ۔ جھوٹ فریب ان کا خاص کام تھا ۔

لوط علیہ السلام نے ان کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کو کفر سے اسلام کی طرف دعوت دی اور ان کے اس قبیح فعل سے بہت منع کیا جس کے جواب میں وہ کہا کرتے تھے کہ تم تو صاف لوگ ہو یہاں اس بستی میں تمہارا کیا کام ہے اس لئے یہاں سے نکل جاؤ۔ ایک دن لوط علیہ السلام کے پاس دو فرشتے آئے جو انتہائی خوبصورت جوانوں کے شکل میں تھے ۔ ان کو دیکھ کر لوط علیہ السلام پریشان ہوئے کہ اب میرے مہمانوں کو یہ لوگ تنگ کریں گے ۔ لیکن فرشتوں نے ان سے کہا کہ گھبرائے نہیں ہم اللہ کی طرف سے بھیجے ہوے فرشتے ہیں ہم ان کو عذاب سینے آئے ہیں آپ اپنی قوم کو لے کر صبح سے پہلے نکل جائے اور کوئی بھی مڑ کر نہ دیکھے ۔

لوط علیہ السلام صبح اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل گئے لیکن ان کی بیوی جو کفار کے ساتھ ملی ہوئی تھی وہ بار بار مڑ کر دیکھتی اور کہتی جاتی کہ ہائے میری قوم ۔ اس دوران ایک پتھر آیا اور اس کے منہ پر لگ گیا جس سے وہ فورا ہلاک ہو گئی ۔

کہاں جاتا ہے کہ اس کی لاش اب بھی وہاں موجود ہے جہاں پر عذاب آیا تھا اور دور سے اس کی نشانی بھی نظر آجاتی ہے

طوفان نوح

طوفان نوح گزر جانے کے بعد جب حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر پہنچ کر ٹھہر گئی تو حضرت نوح علیہ السلام نے روئے زمین کی خبر لانے کیلئے کبوتر کو بھیجا تو وہ زمین پر نہیں اترا بلکہ مل سبا سے زیتون کی ایک پتی چونچ میں لے کر آ گیا تو آپؑ نے فرمایا کہ تم زمین پر نہیں اترے اس لئے پھر جاؤ اور روئے زمین کی خبر لاؤ تو کبوتر دوبارہ روانہ ہوا اور مکہ مکرمہ میں حرم کعبہ کی زمین پر اترا اور دیکھ لیا کہ پانی زمین حرم سے ختم ہو

سے ختم ہو چکا ہےاور سرخ رنگ کی مٹی ظاہر ہو گئی ہے‘ کبوتر کے دونوں پاؤں سرخ مٹی سے رنگین ہو گئے اور وہ اسی حالت میں حضرت نوح علیہ السلام کے پاس واپس آ گیا اور عرض کیا کہ اے خدا کے پیغمبر! آپ میرے گلے میں ایک خوبصورت طوق عطاء فرمائیے

اور میرے پاؤں میں سرخ خضاب مرحمت فرمائیے اور مجھے زمین حرم میں سکونت کا شرف عطا فرمائیے چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے کبوتر کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور اس کیلئے یہ دعا فرما دی کہ اس کے گلے میں دھاری کا ایک خوبصورت ہار پڑا رہے اور اس کے پاؤں سرخ ہو جائیں اور اس کی نسل میں خیر وبرکت رہے اور اس کو زمین حرم میں سکونت کا شرف ملے۔

میں نے ایک سفید ریش بزرگ سے ایک سوال پوچھا

میں نے ایک سفید ریش بزرگ سے ایک سوال پوچھا ”اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟“ وہ مسکرائے‘ قبلہ رو ہوئے‘ پاوں لپیٹے‘ رانیں تہہ کیں‘ اپنے جسم کا سارا بوجھ رانوں پر شفٹ کیا اور مجھ سے پوچھا ”تمہیں اللہ سے کیا چاہیے؟“ ہم دونوں اس وقت جنگل میں بیٹھے تھے‘ حبس اور گرمی کا موسم تھا‘ سانس تک لینا مشکل تھا‘ میں نے اوپر دیکھا‘ اوپر درختوں کے پتے تھے اور پتوں سے پرے گرم‘ پگھلتا ہوا سورج تھا‘ میں نے مسکرا کر عرض کیا ” اگر بادل آ جائیں‘ ذرا سی ٹھنڈی ہوائیں

ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں تو موسم اچھا ہو جائے گا“ وہ ہنسے اور آہستہ سے بولے ”لو دیکھو“ وہ اس کے بعد بیٹھے بیٹھے رکوع میں جھکے اور پنجابی زبان میں دعا کرنے لگے

”اللہ جی! کاکے کی دعا قبول کر لے‘ اللہ جی! ہماری سن لے“ وہ دعا کرتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے‘ پہلے ان کی پلکیں گیلی ہوئیں‘ پھر ان کے منہ سے سسکیوں کی آوازیں آئیں اور پھر ان کی آنکھیں چھم چھم برسنے لگیں‘ وہ بری طرح رو رہے تھے۔

میں ان کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا‘ میں نے زندگی میں بے شمار لوگوں کو روتے دیکھا لیکن ان کا رونا عجیب تھا‘ وہ ایک خاص ردھم میں رو رہے تھے‘ منہ سے سسکی نکلتی تھی‘ پھر آنکھیں برستیں تھیں اور پھر ”اللہ جی! ہماری سن لے“ کا راگ الاپ بنتا تھا‘ میں پریشانی‘ استعجاب اور خوف کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ انھیں دیکھ رہا تھا‘ وہ دعا کرتے جاتے تھے‘ روتے جاتے تھے اور سسکیاں بھرتے جاتے تھے‘ میں نے پھر وہاں ایک عجیب منظر دیکھا‘ مجھے ہوا ٹھنڈی ہوتی ہوئی محسوس ہوئی‘ آسمان پر اسی طرح گرم سورج چمک رہا تھا لیکن جنگل کی ہوا میں خنکی بڑھتی جا رہی تھی‘ میری پیشانی‘ سر اور گردن کا پسینہ خشک ہو گیا‘ میرے سینے اور کمر پر رینگتے ہوئے قطرے بھی غائب ہو گئے‘ میں ٹھنڈی ہوا کو محسوس کر رہا تھا اور حیران ہو رہا تھا‘ میرے دیکھتے ہی دیکھتے پتوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں‘ شاخیں ایک دوسرے کے ساتھ الجھنے لگیں‘ پودے ہوا کی موسیقی پر ناچنے لگے اور پھر بادل کا ایک ٹکڑا کہیں سے آیا اور سورج اور ہمارے سر کے درمیان تن کر ٹھہر گیا‘ وہ رکے‘ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور شکر ادا کرنے لگے۔

وہ دیر تک ”اللہ جی! آپ کا بہت شکر ہے‘ اللہ جی! آپ کی بہت مہربانی ہے“ کہتے رہے‘ وہ دعا سے فارغ ہوئے‘ ذرا سا اوپر اٹھے‘ ٹانگیں سیدھی کیں اور منہ میری طرف کر کے بیٹھ گئے‘ ان کی سفید داڑھی آنسووں سے تر تھی‘ انھوں نے کندھے سے رومال اتارا‘ داڑھی خشک کی اور پھر بولے ” دیکھ لو! اللہ نے اپنے دونوں بندوں کی بات مان لی“ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا‘ چوما اور پھر عرض کیا ”باباجی لیکن اللہ سے بات منوانے کا فارمولہ کیا ہے‘ اللہ کب‘ کیسے اور کیا کیا مانتا ہے؟“ وہ مسکرائے‘ شہادت کی دونوں انگلیاں آنکھوں پر رکھیں اور پھر بولے ” یہ دو آنکھیں فارمولہ ہیں“ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ”میں نے یہ فارمولہ اپنی ماں سے سیکھا‘ میں بچپن میں جب بھی اپنی سے کوئی بات منوانا چاہتا تھا تو میں رونے لگتا تھا‘ ماں سے میرا رونا برداشت نہیں ہوتا تھا‘ وہ تڑپ اٹھتی تھی‘ وہ مجھے گود میں بھی اٹھا لیتی تھی‘

مجھے چومتی بھی تھی‘ میری آنکھیں بھی صاف کرتی تھی اور میری خواہش‘ میری ضرورت بھی پوری کرتی تھی۔میں ماں کی اس کمزوری کا جی بھر کر فائدہ اٹھاتا تھا‘ میں رو رو کر اس سے اپنی پسند کے کھانے بھی بنواتا تھا‘ اس سے نئے کپڑے اور نئے جوتے بھی لیتا تھا اور کھیلنے کے لیے گھر سے باہر بھی جاتا تھا“ وہ رکے اور پھر آہستہ سے بولے ”میں نے جب مولوی صاحب سے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا تو مولوی صاحب نے ایک دن فرمایا ” اللہ تعالیٰ انسان سے ستر ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے‘ یہ فقرہ سیدھا میرے دل میں لگا اور میں نے سوچا‘ میں رو کر اپنی ایک ماں سے سب کچھ منوا لیتا ہوں‘ اللہ اگر مجھ سے ستر ماوں جتنی محبت کرتا ہے تو پھر میں رو رو کر اس سے کیا کیا نہیں منوا سکتا“ وہ رکے اور بولے ” بس وہ دن ہے اور آج کا دن ہے‘ میں روتا ہوں‘ اللہ کی ذات میں ستر ماوں کی محبت جگاتا ہوں اور میری ہر خواہش‘ میری ہر دعا قبول ہو جاتی ہے۔