بادشاہ کا علان

بادشاہ کا اعلان ہوا “جس نے آج کے بعد قران کو الله کا کلام کہا یا لکھا گردن اڑا دی جائے گی”بڑے بڑے محدثین علماء شہید کر دیئے گئے ساٹھ سال کے بوڑھے امام احمد بن حنبل امت کی رہنمائی کوبڑھے, فرمایا “جاؤ جا کر بتاؤ حاکم کو احمد کہتا ہے قرآن الله کی مخلوق نہیں الله کا کلام ہے”دربار میں پیشی ہوئی بہت ڈرایا گیا امام کا استقلال نہ ٹوٹا..مامون الرشید مر گیا اسکا بھائی معتصم حاکم بنا، امام کو ساٹھ کوڑوں کی سزا سنا دی گئی دن مقرر ہوا امام کو زنجیروں میں جکڑ کر لایا ﮔﯿﺎ, بغداد کر لایا ﮔﯿﺎ, بغداد میں سر ہی سر تھے ایک شخص شور مچاتا صفیں چیرتا پاس آﺍﯾﺎ : ” احمد احمد !مجھے جانتے ہو ؟.. فرمایا نہیں۔

میں ابو الحیثم ہوں بغداد کا سب سے بڑا چور احمد میں نے آج تک انکے بارہ سو کوڑے کھائے ہیں لیکن یہ مجھ سے چوریاں نہیں چھڑا سکے کہیں تم ان کے کوڑوں کے ڈر سے حق مت چھوڑ دینا.. امام میں نے اگر چوریاں چھوڑیں تو صرف میرے بچے بھوک سے تڑپیں گے لیکن اگر تم نے حق چھپایا تو امت برباد ہو جائے گی ..امام غش کھا کہ گر پڑے ہوش آیا تو دربار میں تھے.. حبشی کوڑے برسا رہا تھا تیس کوڑے ہوئے معتصم نے کہا امام کہیئے ..؟آپ نے فرمایا میں مر سکتا ہوں لیکن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین میں رتی برابر تبدیلی برداشت نہیں کر سکتا……پھر سے کوڑے برسنے لگے ….. ایک وزیر کوترس آیا : ” امام ایک مرتبہ میرے کان میں چپکے سے کہہ دیجئے قرآن کلام نہیں مخلوق ہے میں بادشاہ سے سفارش کرونگا “امام نے فرمایا .. ” تو میرے کان میں کہہ دے قرآن مخلوق نہیں الله کا کلام ہے قیامت میں رب سے میں تیری سفارش کرونگا “۲۸ ماہ کے قریب قید و بند اور کوڑوں کی سختیاں جھیلیں۔ آخر تنگ آکر حکومت نے آپ کو رہا کردیا۔اس آزمائش کے بعد اکیس سال تک زندہ رہے ،

خلق خداکو فیض پہونچاتے رہے ، کوڑوں کی تکلیف آخر عمر تک محسوس کرتے تھے ، لیکن عبادت وریاضت میں مستقیم اور درس وتدریس میں ہمہ تن مصروف رہے ۔۱۲ ربیع الاول ۲۴۱ھ بروز جمعہ آپ نے وصال فرمایا ….. آئمہ اربعہ کی عظمت و استقامت کو سلاماے اللہ ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے, ﺍﮮ الله ﮨﻤﯿﮟﺑﻬﯽ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﮯ ﺟﻨﻬﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ, اللہ عزوجل ہمیں رسول اللہ ﷺ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرما, یا ذوالجلال والاکرام یاالله ! ہماری دعائیں اپنی شان کے مطابق قبول فرما۔ بِرَحْمَتِكَ يَآ أَرْحَمَ الرَّحِمِينَ آمِينْ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن

رانگ نمبر

ابو! آج آخری بار آپ سے گزارش کررہی ہوں اگر مجھے کل موبائل نہ ملا تو میں ہرگز کالج نہیں جاؤں گی۔میری سہیلیاں روز اپنے مہنگے موبائلوں کو اچھال اچھال کر میرا منہ چڑاتی ہیں۔ مجھ میں اب مزید ہمت نہیں کہ ان کے طنزکا نشانہ بنتی رہوں۔واجد غوری صاحب دن بھر دفتر کے گھن چکروں میں الجھنے کے بعد اب گھر کے دروازے کے اندر قدم رکھ چکے تھے۔ ان کی بیٹی ماہم ایک سانس میں یہ ساری باتیں ان کے گوش و گزار کرکے اپنے کمرے میں گھس گئی۔ غوری صاحب کی اہلیہ شبانہ غوری کچن کے دروازے پہ کھڑی یہ تماشا دیکھ رہی تھی۔ اس نے آکر غوری صاحب کو سہارا دے کر لاؤنج کے صوفے پہ بٹھا دیا اور کچن سے پانی لے کر آگئی۔ پانی تھماکر وہ ان کے ساتھ صوفے پہ بیٹھ گئی۔ اور میاں بیوی آپس میں اپنی بیٹی کے رویے اور اس کے مطالبے پہ غور کرنے لگے۔غوری صاحب کا ایک ہی موقف تھا کہ اس وقت ماہم کو موبائل فون رکھنے کی قطعی ضرورت نہیں۔

اسے اپنی پڑھائی پر بھر پور توجہ دینی چاہیے۔ موبائل اور دیگر فضولیات کے ساتھ کھیلنے کے لیے ابھی ایک لمبی زندگی پڑی ہے۔ ایک ماں کی حیثیت سے شبانہ غوری اپنے شوہر اور اپنی بیٹی، دونوں کی نفسیات سے بخوبی واقف تھی۔اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اپنے میاں کو کیا مشورہ دے۔آدھے گھنٹے کی چخ پخ کے بعد وہی ہوا جو آج کل ہر جگہ ہوتا ہے۔.میاں بیوی نے باہمی مشورے سے بیٹی کی ضد کے آگے سر تسلیم خم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے بعد غوری صاحب اپنے کمرے کی جانب چل پڑے جب کہ شبانہ غوری دل میں گھٹن اور چہرے پہ مصنوعی مسکراہٹ سجائے بیٹی کو خوشخبری سنانے چل پڑی۔وہ رات ماہم کی زندگی کی سب حسین اور طویل رات تھی اس پہ شادء مرگ کی کیفیت طاری تھی۔اگلے دن کے انتظار میں وہ ساری رات جاگتی رہی۔ال لہ اللہ کرکے رات گزر گئی۔اس دن صبح اپنی کرنیں بکھیرنے والا سورج غوری صاحب کے خاندان کے لیے ایک خطرناک پیغام لیکر آیا تھامگر اولاد کی ضد کا پردہ بصیرت پہ حائل ہو نے کی وجہ سے یہ پیغام کوئی سمجھ نہ سکا۔کالج سے واپسی پر ماہم کو اپنا موبائل فون مل چکا تھاوہ موبائل ہاتھ میں لیے خوشی کے عالم میں قلابازیاں کھا تے ہوئے اپنے کمرے میں گھس گئی۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ حقیقت میں اس کے پاس موبائل ہے۔ساری رات وہ موبائل کے ساتھ کھیلتی رہی۔ صبح آدھا گھنٹہ پہلے ہی وہ کالج جانے کی تیاری مکمل کر کے انتظار میں بیٹھی تھی۔پھروہ کالج گئی اور پورا دن اپنا مہنگا موبائل دکھا دکھا کر سہیلیوں کا منہ چڑاتی رہی۔دن گزرتے گئے اور

بات پرانی ہوتی گئی۔ایک دن وہ کالج سے واپسی پر کالج سے متصل موبائل کی دوکان سے اپنے نمبر پہ بیلنس لوڈ کروارہی تھی اسے معلوم نہ ہوسکا کہ اس کے عقب میں کھڑا ایک شخص اپنے موبائل پہ اس کا نمبر نوٹ کرکے وہاں سے جاچکا تھا۔اس رات وہ معمول سے پہلے کمرے میں جا چکی تھی۔ماں باپ نے سمجھا کہ شاید امتحان کی تیاری چل رہی ہے مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ زندگی کا ایک ایسا امتحان سر پہ آنے والا ہے جس کا نتیجہ ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ماہم نے کمرے میں گھستے ہی کنڈی چڑادی۔ حفظ ما تقدم کے طور پہ اس نے کتابوں کا ایک پلندہ میز پہ بکھیر دیا اور کرسی سے سر ٹکائے اپنی کسی سہیلی کے ساتھ گفتگو میں مگن ہوئی۔ ایک کے بعد ایک سہیلی سے باتیں کر کرکے وہ تھک گئی اور سونے کا ارداہ کرکے کرسی سے اٹھنے ہی والی تھی کہ اچانک موبائل کی گھنٹی بجنے لگی۔وبائل کی سکرین پہ ایک اجنبی نمبر بلنک کررہا تھاوہ کچھ دیر تک سوچتی رہی کہ یہ کس کا نمبر ہوسکتا ہے۔کافی سوچ و بچار کے بعد اس کے ذہن نے یہ فیصلہ کیا کہ شاید کسی سہیلی کا نمبر ہوگا۔ وہ کافی عرصہ اس کے متعلق سوچتی رہی۔اسی دوران موبائل کی سکرین پہ موجود مس کالوں کی تعداد چار تک پہنچ چکی تھی۔انچویں مرتبہ جب موبائل بجنے لگا تو

اس نے کال رسیو کرکے موبائل کان سے لگالیا۔ہیلو،کون؟مم۔۔میں۔۔کاشف۔کون کاشف؟کس کو فون کیا ہے آپ نے؟تھوڑی دیر توقف کے بعد،میں کاشف بات کررہا ہوں۔کیوں فون کیا ہے اور کس سے بات کرنی ہے؟وہ۔۔وہ دراصل! آپ سے بات کرنی تھی۔بکواس بند کرو۔آئندہ اس نمبر پہ کال کرنے کی کوشش کی تومجھ سے برا کوئی نہیں ہوگایہ کہتے ہوئے ماہم نے کال کاٹ دی اور زیر لب بڑبڑاتے ہوئے جاکر بستر پر لیٹ گئی۔ ابھی وہ اس فون کے بارے میں شش و پنج میں مبتلا تھی کہ اچانک موبائل پھر بجنے لگا۔ پھر وہی نمبر اس نے موبائل کان سے لگایا اور گالیوں کی ایک گردان سنانے کے بعد موبائل آف کرکے سوگئی۔کئی دن تک یہ سلسلہ جاری رہا۔کاشف فون کرتا رہا اور ماہم اسے سنے بغیر گالیاں دیتی رہی۔.جب کاشف اپنی شرارت سے باز نہ آیا توماہم نے اپنی ماں کے واسطے سے والد کے سامنے اپنی پریشانی بیان کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی ماں کو بلاکم وکاست پوری کہانی سناڈالی۔ ماں نے اس کو سختی سے منع کیا کہ وہ اس کا ذکر اپنے ابو سے ہرگز نہ کرے۔ورنہ اودھم مچ جائے گااور ساتھ یہ بھی نصیحت کی کہ نامعلوم نمبروں سے وہ بالکل کال رسیو نہ کرے۔

ماں کی نصیحت نے کسی قدر اس کا بوجھ ہلکا تو کردیا تھامگر ایک کاشف نامی اجنبی شخص اس کے اعصاب پہ سوار ہوچکا تھا۔کچھ دنوں تک وہ اس کی کال نظر انداز کر تی رہی مگر کاشف کی استقامت میں کوئی کمی نہیں آئی۔اس نے ایک دن کاشف سے فیصلہ کن بات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔آج وہ اپنا تمام تر غصہ کاشف پہ انڈیلنے کا فیصلہ کر چکی تھی اسے پورا یقین تھا کہ رات 11 بجے کاشف کا فون آئے گا۔ اس نے تمام کام ملتوی کر دیے اور اپنی یادداشت کی ڈکشنری میں غصے کے الفاظ اور گالیوں کی اقسام میں اضافہ کرنے لگی۔رات کے 11 بج کر 7منٹ پر اچانک موبائل تھر تھر کانپنے لگا۔سکرین پہ کاشف کا نمبر نمودار ہوچکا تھا۔ماہم کی پیشانی پر کئی شکنیں نمودار ہوگئیں۔غصے کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔دماغ ہانڈی کے گرم پانی کی طرح ابلنے لگا،ہاتھ لرزنے لگے،اس نے موبائل کان سے لگا یا اور پورے جسم میں دوڑنے والے تمام غصے کو زبان پر مجتمع کرتے ہوئے گرجنے لگی،کمینے انسان آخر تم چاہتے کیا ہو؟تھوڑی دیر خاموشی کے بعد آگے سے جواب آیا۔ ایک مرتبہ میری بات تو سنو۔اس کے بعد آپ کی مرضی۔اگر آپ نے کہا تو اس کے بعد میں کبھی فون نہیں کروں گا۔شیطان کی محنت رنگ لانے لگی تھی۔کئی دن کے بعد کاشف کی نخلِ تمنا ہری ہونے کو تھی۔پھر ماہم سنتی گئی اور

کاشف بولتا گیا۔ ایک گھنٹے کے اندر کاشف نے ماہم کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاکر اس کو شیشے میں اتار دیا تھا۔وہی ماہم جو ایک گھنٹہ پہلے گالیاں دے رہی تھی اب جب کاشف کال کاٹنے لگا تو اس نے پوچھا! پھر کب کال کروگے؟اس کے بعد ملاقاتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔وہ گھر سے کالج کے نام پہ نکل جاتی مگر دن بھر کاشف کے ساتھ کبھی مزار قائد تو کبھی کلفٹن کی سیر پہ چلی جاتی،وقت گزرتا گیا،دل بہلتا رہا۔واجد غوری صاحب دفتر اور سماجی کاموں میں مصروف رہے، شبانہ غوری صاحبہ گھریلو کام کاج میں مگن رہی۔اسی اثناء میں کالج کے سالانہ امتحانات قریب آگئے۔ماہم رات بھر جاگتی رہتی ۔ماں باپ کا خیال تھا کہ وہ رات بھر امتحان کی تیاری میں مصروف رہتی ہے مگر وہ رات بھر جاگ کر سکون سے سوئے ہوئے ماں باپ کے لیے ذلت کا ایک گہرا گڑھا کودنے میں مصروف تھی۔رات بھر وہ کاشف سے فون پہ باتیں کرتی اور صبح غنودگی کے عالم میں کالج چل دیتی۔پھر ایک رات فون پہ بات کرتے کرتے اچانک کاشف نے کہا کہ آج رات کہیں آئس کریم کھانے کیوں نہ چلے۔ماہم نے نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ یہ ناممکن ہے۔کاشف زد کرتا رہا وہ انکار کر تی رہی، بات تلخی تک پہنچ گئی،کاشف نے دھمکی دی کہ اگر وہ آج نہ آئی تو وہ اس کے ساتھ تعلق ہمیشہ کے لیے ختم کردے گا۔کئی مہینوں کی ملاقاتوں کی وجہ سے وہ اس کے محبت میں پاگل ہو چکی تھی۔بالآخر اس نے ہار مانتے ہوئے جانے کی حامی بھر لی۔آپس میں ایک منصوبہ طے ہو۔منصوبے کے مطابق اس نے گھر بھر کا ایک جائزہ لیا اور ماں باپ کو خواب میں غفلت میں پاکر گھر کے دروازے کی طرف چل پڑی۔۔۔ گھر کے دروازے سے پرے کاشف ایک خوبصورت کار میں اس کا انتظار کررہا تھا۔اس کے چہرے پر حیرت اور خوشی کے ملے جلے اثرات نمودار ہوئے۔کیوں کہ

اس سے پہلے کاشف اسے ایک خستہ حال بائک پہ گھمانے لے جاتا تھا۔تھوڑی دیر بعد کار شہر کی ایک مرکزی سڑک پر فراٹے بھر رہی تھی۔ ابھی وہ پوچھنے ہی والی تھی کہ ہم کہاں جارہے ہیں ؟کہ اچانک کار ایک حویلی نما مکان میں داخل ہو ئی، ماہم کو خوف کا ایک شدید جھٹکا لگا ،مگر بہت دیر ہوچکی تھی،کاشف کے منصوبے کے مطابق اس کے 5 دوست پہلے سے مکان میں موجود تھے۔یہ کار بھی ان ہی میں سے کسی کی تھی۔دو دن بعد شہر کے مختلف اخباروں میں یہ خبر غوری صاحب کی عزت سر بازار نیلام کرنے کے لیے کافی تھی۔معروف سماجی کارکن واجد غوری کی اکلوتی بیٹی گزشتہ رات اجتماعی زیادتی کے بعد قتل۔ مسخ شدہ لاش سپر ہائی کے قریب جھاڑیوں سے بر آمد۔

روزانہ اس سورۃ کا ورد کریں

کیا راتوں رات امیر بننا ممکن ہے؟ کیا چند دنوں میں بہت زیادہ دولت کمائی جاسکتی ہے؟ ایسے ہی سوالات کاجوب جاننے کے لیے آپ اس مضمون کی جانب متوجہ ہوئے ہونگے، لیکن اس کا جواب تو کوئی ایسا فرد دےسکتا ہے جو خود امیر ہو ، وہی بتاسکتا ہے کہ اسے امیر ہونے میں کتنا عرصہ لگا، جبکہ ایسا فرد جو خودامیر ہونے کی کوششیں کررہا ہے اس سے دولتمند ہونے کا کوئی مشورہ لینا فضول ہے۔ ایسا کونسا وظیفہ ہے جس کر کرنے سے دولت ملے گی؟ دیکھنے کے لیے اس اردو کے نیچے ویڈیو ہوگی وہ دیکھیں اور شیئر کریں دوسروں کے ساتھ شیئر کریں شکریہ جناب…

شکر ایک شخص حضرت غوث علی شاہ قلندرؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے کشائش رزق کیلئے وظیفہ پوچھا آپ نے فرمایا میاں اگر درود و وظائف پر روزی کا انحصار ہوتا تو دنیا میں مولویوں سے بڑھ کر کوئی دولت مند نہیں ہوتا. سچ پوچھو تو وظیفہ اس معاملہ میں الٹا اثر کرتا ہے.کیونکہ دنیا ایک میل کچیل ہے اور اللہ کا نام صابن. بھلا صابن سے میل میں اضافہ کیونکر ہو سکتا ہے. خدا کا نام تو صرف اس لئے ہے کہ اس کی برکت سے دنیا کی محبت دل سے دور ہو جائے نہ اس لئے کہ آدمی دنیا میں زیادہ آلودہ ہو. یہ باتیں سن کر اس شخص نے پھر اصرار کیا تو فرمایا ’’خیریاباسطاً بسط فی رزقی‘‘ پڑھا کرو لیکن مسجد سے باہر. خدا کے گھر میں دنیا طلبی کا کیا کام؟حضرت خواجہ محمد عبدالرحمن چوہردیؒ کے پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ سے محبانہ تعلقات تھے. ایک دفعہ حضرت گولڑوی نے خواجہ صاحب کے فقر اور افلاس کو دیکھ کر فرمایا کہ آپ فلاں وظیفہ پڑھا کریں تو آپ کا لنگر خوب چل جائے گاور آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو گی.خواجہ صاحبؒ خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا. جب حضرت گولڑویؒ نے دو تین مرتبہ اصرار کیا تو انہوں نے فرمایا. ’’حضرت مجھے خدا سے شرم آتی ہے کہ باہر سے لوگ مجھے پیر سمجھ کر آئیں اور اندر پیر پیسوں کا وظیفہ پڑھتا ہو‘‘. حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف نے فرمایا ’’مرحبا جیسا آپ کو سنا تھا ویسا ہی پایا‘‘.ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت مخدوم جہانیاںؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میں حج پر جانا چاہتا ہوں لیکن استطاعت نہیں ہے آپ بادشاہ کو لکھیں کہ وہ سرکاری خزانہ سے مجھے زادِ راہ عنایت فرمائے. آپ نے یہ سن کر محرروں سے فرمایا کہ بادشاہ کو لکھ دو کہ اس شخص کو زادِ راہ عنایت کیا جائے لیکن میں نے فقہ میں دیکھا ہے کہ جو شخص بادشاہوں سے خرچ لے کر حج کو جاتا ہے اس کا حج قبول نہیں ہوتا.

بد زبانی سے چھٹکارا

سورة الشمس:اگر کوئی شخص بہت بدزبان ہوتو 41 مرتبہ اس سورة کو پڑھ کر پانی پر دم کرکے پلائیں انشاءاللہ اس کی بدزبانی ختم ہوجائے گی۔ یونانی کہتے ہیں کہ عورت سانپ سے زیادہ خطرناک ہے۔ سقراط کا کہنا تھا کہ عورت سے زیادہ اور کوئی چیز دنیا میں فتنہ و فساد کی نہیں۔ بونا وٹیوکر کا قول ہے کہ عورت اس بچھو کی مانند ہے جو ڈنگ مارنے پر تلا رہتا ہے۔ یوحنا کا قول ہے کہ عورت شر کی بیٹی ہے اور امن و سلامتی کی دشمن ہے۔ رومن کیتھولک فرقہ کی تعلیمات کی رو سے عورت کلامِ مقدس کو چھو نہیں سکتی اور عورت کو گرجا گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ عیسائیوں کی سب سے بڑی حکومت رومتہ الکبریٰ میں عورتوں حالت لونڈیوں سے بدتر تھی، ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔

یورپ کی بہادر ترین عورت جون آف آرک کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔دورِ جاہلیت کے عربوں میں عورت کو اشعار میں خوب رسوا کیا جاتا تھا اور لڑکیوں کے پیدا ہونے پر ان کو زندہ دفن کر دیا کرتے تھے۔لیکن محسنِ انسانیت، رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے عورت کے بارے میں ارشادات ملاحظہ فرمایئے:٭قیامت کے دن سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھولوں گا تو دیکھوں گا کہ ایک عورت مجھ سے پہلے اندر جانا چاہتی ہے تو میں اس پوچھوں گا کہ تو کون ہے؟وہ کہے گی میں ایک بیوہ عورت ہوں، میرے چند یتیم بچے ہیں۔جس عورت نے اپنے رب کی اطاعت کی اور شوہر کا حق ادا کیا اور شوہر کی خوبیاں بیان کرتی ہے اور اس کے جان و مال میں خیانت نہیں کرتی تو جنت میں ایسی عورت اور شہید کا ایک درجہ ہوگا۔٭جو عورت ذی مرتبہ اور خوبصورت ہونے کے باوجود اپنے یتیم بچوں کی تربیت و پرورش کی خاطر نکاح نہ کرے وہ عورت قیامت کے دن میرے قریب مثل ان دو انگلیوں کے برابر ہے۔ جس عورت نے نکاح کیا، فرائض ادا کیے اور گناہوں سے پرہیز کیا اس کو نفلی عبادات کا ثواب خدمتِ شوہر، پرورشِ اولاد، اور امورِ خانہ داری سے ملے گا۔٭جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں روزہ رکھ کر جہاد کرنے اور رات کو عبادت کرنے والی (عورت) کے برابر ثواب ملتا ہے۔

(بحوالہ: عورت اسلام کی نظر میں/صفحہ نمبر ۔91)

مبارکباد دینے کیلئے آئی ہوں

نبیؐ نے جنگ احد میں جب اپنے چچا حضرت امیر حمزہؓ کو دیکھا ان کی لاش کا مسئلہ بنا پڑا تھا، ان کا دل نکال لیاگیا تھا اور ان کی آنکھیں نکال لی گئیں تھیں، کان کاٹ دیے گئے تھے، ہند نے ان کا ہار بنا کر اپنے گلے میں پہنا تھا اب سوچئے پیچھے لاش کاکیاحال ہو گا،نبی کریمؐ نے دیکھا تو آپؐ بہت آزردہ ہوئے آنکھوں میں سے آنسو آ گئے اور آپؐ نے اس وقت پابندی لگا دی کہ میری پھوپھی حضرت حمزہؓ کی بہن آپؓ کو دیکھنے کے لیے آئے گی دوسری عورتوں کی طرح تو ایسا نہ ایسا نہ ہو کہ وہ دیکھے اور اسے صدمہ پہنچے،

گھر کی عورتیں اپنے اپنے مردوں کو دیکھنے کے لیے آ گئیں کہ نہلائیں دفنائیں تو اس وقت میں آپ کی پھوپھی جو تھی وہ بھی آ گئیں مگر صحابہؓ نے روک دیا کہ نبی کریمؐ نے منع فرما دیاہے کہ آپؓ اپنے بھائی کی لاش نہیں دیکھ سکتیں۔ انہوں نے پوچھا: نبی کریمؐ آپ نے کیوں منع فرما دیا؟ آپؐ نے فرمایا کہ تم اس کی لاش کو دیکھنے کاحوصلہ نہ رکھو گی،

پوچھنے لگی اے اللہ کے نبیؐ! میں اپنے بھائی کی لاش پر رونے کے لیے نہیں آئی، میں تو اپنے بھائی کو مبارکباد دینے کے لیے آئی ہوں، جب نبی کریمؐ نے یہ الفاظ سنے تو فرمایا: اچھا پھر تمہیں دیکھنے کی اجازت ہے۔سوچئے کتنا بڑا دل کر لیا کہ میں تو اپنے بھائی کو مبارکبادی دینے کے لیے آئی ہوں

گھوڑ تھک چکا ہے

فتوح الشام میں ایک صحابی حضرت ضرار بن ارزدا کے بڑے عجیب و غریب واقعات ہیں ان کے بارے میں کتاب میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ انہیں مسلسل آٹھ گھنٹے جہاد کرنا پڑا بالآخر کفار کے گھیرے میں آگئے‘ مسلسل آٹھ گھنٹے جہاد کرنے کی وجہ سے ان کا گھوڑا بھی تھک چکا تھا‘ وہ گھوڑے کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے تھے مگر وہ آگے نہیں جاتا تھا‘ جب انہوں نے محسوس کیا کہ میرا گھوڑ تھک چکا ہے تو انہوں نے سوچا کہ اب تو میں گرفتار ہو جاؤں گا۔ کتاب میں لکھا ہے کہ وہ اس وقت اپنے گھوڑے پر جھکے اور اس کی پیشانی پر محبت کا ہاتھ پھیر کر گھوڑے سے کہا اے گھوڑے تو تھوڑی دیر کیلئے میرا ساتھ دے دے ورنہ میں نبیﷺ کے روضے پر جا کر تیری شکایت کروں گا جب انہوں نے یہ الفاظ کہے تو وہ گھوڑا ہنہنایا اور ایسے دوڑا جیسے کوئی تازہ دم گھوڑا دوفتا ہے اس طرح وہ گھوڑا ان کو کفار کے نرغے سے نکال کر باہر لے گیا۔

سبحان اللہ کچھ وقت کے بعد وہ گرفتار ہو گئے جب حضرت خالد بن ولید نے دیکھا کہ حضرت ضرارؓ گرفتار ہو چکے ہیں تو وہ بڑے حیران ہوئے اتنے میں کچھ سوار ان کے پاس آ کر کہنے لگے کہ ہمیں ضرار کے پیچھے جانا چاہئے تاکہ ہم ان کو آزاد کرواکر لائیں۔ بزرگوں سے محبت باعث مغفرت کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک آدمی فوت ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی بخشش فرما دی اس نے پوچھا‘ اے پروردگار عالم! آپ نے مجھے کس عمل کی وجہ سے بخشا؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میرے بندے تیرا ایک عمل تیرے نامہ اعمال میں ایسا ہے کہ جس کی وجہ سے میں نے بخش دیا ہے اس لئے کہااے اللہ! میرے تو سارے اعمال ہی خراب ہیں میں غافل اور بدکار تھا آپ کو میرا کون سا عمل پسند آیا؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا‘ تیرے نامہ اعمال میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ایک ولی بایزید بسطامی راستے میں جا رہا تھا‘ تمہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ کون ہے؟ تم نے کسی سے پوچھا اس نے کہا یہ بایزید بسطامی ہیں تم نے پہلے سن رکھا تو تھا کہ وہ اللہ کے دوستوں میں شمار ہوتے ہیں لہٰذا تم نے محبت سے میرے ولی پر نظر ڈالی تھی میں نے اسی ایک نظر کے ڈالنے کی برکت سے تمہارے گناہوں کی بخشش فرما دی۔

مال و دولت میں برکت پیدا کرنے کا وظیفہ

ایسے لوگ جن کےپیسوں میں یا رزق میں برکت نہیں تو پریشان نہ ہوں بلکہ اس مسئلے میں مبتلا افراد روزانہ نماز فجر اور عشا کی نماز کے بعد گیارہ ،گیارہ سو مرتبہ ’’یا غنی ‘‘ کا ورد کریں اللہ تعالی کے فضل کرم سے ان کے رزق میں بے پناہ اضافہ اور برکت آجائے گی یہ مجرب وظیفہ رزق اور بندش کے خاتمہ کیلئے نہایت بہترین ہے کوئی بھی دکاندار اور تاجر دفتر کھولنے سے پہلے ستر مرتبہ ’’یا غنی‘‘ پڑھے گا تو انشااللہ اللہ پاک کاروبار میں برکت اور رزق میں اضافہ ہو گا اور کبھی بھی کسی نقصان کا خوف نہیں رہے گا ۔ جمعرات اور جمعہ کی شب اس اسم شب اس اسم مبارک ’’یا غنی ‘‘ کو انیس ہزار مرتبہ پڑھنے اور عمل کو جاری رکھنے سے انسان کو غیب سے دولت ملتی ہے ۔

اوربہت جلد کاروبار میں ترقی ہوگی اور رزق حلال کہاں کہاں سے آئے گا کہ عقل دنگ رہ جائے جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کے بارے میں تفصیلی گفتگو، اور دعا کیلئے آخری سجدہ کو لمبا کرنے کا حکم میں ہر جمعہ کو غروبِ آفتاب سے قبل -جس کے بارے میں قبولیت کی گھڑی ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے- مسجد میں جان بوجھ کر داخل ہوتا ہوں، اور اللہ کیلئے دو رکعت نماز تحیۃ المسجد ادا کرتا ہوں؛ پھر دوسری رکعت کے آخری سجدہ کو غروب آفتاب تک لمبا کرتا ہوں، اور اس دوران سجدے کی حالت میں دعا ہی کرتا رہتا ہوں، یہاں تک کہ مغرب کی آذان ہوجاتی ہے؛ کیونکہ جمعہ کے دن آخری لمحات میں قبولیت کی گھڑی پانے کا اچھا موقع ہوتا ہے، اور قبولیت کے امکانات مزید روشن کرنے کیلئے میں سجدے میں دعا مانگتا ہوں، اور بسا اوقات اگر کسی سببی نماز کا وقت نہ ہو ، یا نفل نماز کیلئے ممنوعہ وقت ہو تو میں جان بوجھ کر ایسی سورت کی تلاوت کرتا ہوں جس میں سجدہ تلاوت ہو، تو تب بھی میں اتنا لمبا سجدہ کرتا ہوں کہ جمعہ کے دن مغرب کی آذان ہو جائے، ایک دن میں ایسے ہی کر رہا تھا کہ ایک آدمی نے آکر میرے ذہن میں اس عمل کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کردئیے، اور اس عمل کے بارے میں “بدعت” ہونے کا بھی عندیہ دے دیا۔ تو کیا میرا یہ عمل بدعت ہے؟ حالانکہ میری نیت یہی ہے کہ جمعہ کے دن آخری لمحات میں قبولیت کی گھڑی تلاش کی جائے، اور میں سجدے کی حالت میں اللہ سے دعا مانگوں، تو اس طرح قبولیت کیلئے دو امکانات ہونگے، اس عمل کیلئے میری نیت یہ ہی ہے کہ قبولیت کی گھڑی تلاش کروں۔

علمائے کرام نے جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کو متعین کرنے کیلئے متعدد اور مختلف آراء دی ہیں، ان تمام آراء میں دلائل کے اعتبار سے ٹھوس دو اقوال ہیں: 1- یہ گھڑی جمعہ کی آذان سے لیکر نماز مکمل ہونے تک ہے۔ 2- عصر کے بعد سے لیکر سورج غروب ہونے تک ہے۔ ان دونوں اقوال کے بارے میں احادیث میں دلائل موجود ہیں، اور متعدد اہل علم بھی ان کے قائل ہیں۔ *الف- پہلے قول کی دلیل : ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کے بارے میں کہتے ہوئے سنا: (یہ گھڑی امام کے بیٹھنے سے لیکر نماز مکمل ہونے تک ہے) مسلم: (853) اس موقف کے قائلین کی تعداد بھی کافی ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: “سلف صالحین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ان دونوں میں سے کونسا قول راجح ہے، چنانچہ بیہقی نے ابو الفضل احمد بن سلمہ نیشاپوری کے واسطے سے ذکر کیا کہ امام مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: “ابو موسی رضی اللہ عنہ کی حدیث اس مسئلہ کے بارے میں صحیح ترین اور بہترین ہے” اسی موقف کے امام بیہقی، ابن العربی، اور علمائے کرام کی جماعت قائل ہے۔اور امام قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث اختلاف حل کرنے کیلئےواضح ترین نص ہے، چنانچہ کسی اور کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہئے۔اور امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: یہی موقف صحیح ہے، بلکہ درست بھی یہی ہے، امام نووی نے اپنی کتاب: “الروضہ” میں ٹھوس لفظوں میں اسی کو درست قرار دیا ہے، اور انہوں نے اس حدیث کو مرفوع اور صریح قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ یہ روایت صحیح مسلم کی ہے” انتہی

” فتح الباری ” ( 2 / 421 ) *ب- دوسرے موقف کی دلیل جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جمعہ کا دن بارہ پہر[گھڑیوں ]پر مشتمل ہے، ان میں سے ایک لمحہ ایسا ہے جس میں کوئی مسلمان اللہ تعالی سے کچھ بھی مانگے تو اللہ تعالی اُسے وہی عطا فرما دیتا ہے، تم اسے جمعہ کے دن عصر کے بعد آخری لمحہ میں تلاش کرو)اس روایت کو ابو داود: (1048) اور نسائی : (1389) نے روایت کیا ہے، اور البانی نے “صحیح ابو داود” میں اسے صحیح قرار دیا ہے، اسی طرح نووی نے “المجموع” (4 / 471) میں صحیح کہا ہے۔جبکہ اس موقف کے قائلین کی تعداد بھی کافی ہے، جن میں سب سے پہلے دو صحابی ابو ہریرہ، اور عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہما ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:”دیگر علمائے کرام عبد اللہ بن سلام کے قول کو راجح قرار دیتے ہیں، چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے امام احمد رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ : “اکثر احادیث اسی موقف کی تائید کرتی ہیں” ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں: “اس مسئلہ میں مضبوط ترین یہی موقف ہے” اور اسی طرح سعید بن منصور نے اپنی سنن میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے صحیح سند کیساتھ نقل کیا ہے کہ : ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ایک جگہ جمع ہوئے، اور جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کے بارے میں گفتگو شروع ہوگئی، تو مجلس ختم ہونے سے پہلے سب اس بات پر متفق ہوچکے تھے کہ یہ جمعہ کے دن کے آخری وقت میں ہے”

متعدد ائمہ کرام بھی اسی موقف کو راجح قرار دیتے ہیں، مثلا: امام احمد، اسحاق، اور مالکی فقہائے کرام میں سے طرطوشی، اور علائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انکے استاد ابن زملکانی –جو اپنے وقت میں فقہ شافعی کے بڑے تھے- بھی اسی کے قائل تھے، اور وہ امام شافعی سے صراحت کیساتھ نقل بھی کرتے تھے” انتہی “فتح الباری” (2/421) ان دونوں گھڑیوں میں دعا کی قبولیت کی امید کی جاسکتی ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: “اکثر احادیث اسی بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قبولیت کی گھڑی عصر کی نماز کے بعد ہے، اور زوال کے بعد بھی قبولیت کی گھڑی کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے” اس قول کو امام ترمذی نے اُن سے نقل کیا ہے۔ ” سنن ترمذی” ( 2 / 360 ) ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: “میرے نزدیک یہ ہے کہ: نماز کا وقت ایسی گھڑی ہے جس میں قبولیت کی امید کی جاسکتی ہے، چنانچہ یہ دونوں [عصر کے بعد، اور جمعہ کی نماز کا وقت] قبولیت کے اوقات ہیں، اگر چہ عصر کے بعد کے وقت کو اس اعتبار سے خصوصیت حاصل ہے کہ یہ گھڑی آگے پیچھے نہیں ہوگی، جبکہ نماز کی گھڑی نماز کیساتھ منسلک ہے، تو نماز کے آگے پیچھے ادا کرنے سے اس گھڑی کا وقت بھی تبدیل ہوگا؛ کیونکہ مسلمانوں کے ایک جگہ جمع ہوکر ، اور اکٹھے خشوع و خضوع کیساتھ اللہ کی جانب رجوع کرتے ہوئے نماز ادا کرنے کی بھی ایک تاثیر ہے، چنانچہ مسلمانوں کا یک جا جمع ہونا بھی ایک ایسی گھڑی ہے جس میں قبولیت کی امید کی جاسکتی ہے” چنانچہ اس تفصیل کیساتھ تمام احادیث کا مطلب ایک ہوسکتا ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ان دونوں اوقات میں دعا کرنے کی ترغیب دلائی ہے” انتہی”زاد المعاد” (1/394)

تیسرا کملہ

میں سفرکےلئےٹرین میں چڑھا اورایک جگہ بیٹھ گیا وہاں پرکافی لوگ بیٹھےتھے۔ میں تسبیح نکال کر پڑھنے بیٹھ گیا۔ ایک صاحب جو رحیم یارخان کے وکیل تھے انہوں نے کہا صوفی صاحب کیا تسبیح پڑھ رہے ہو،میں خاموش رہا۔ ان کا چہرہ ان کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ فارغ بیٹھے ہیں اورمزاق کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے پھرکہنے لگے کہ لگتا ہےعرش پر پہنچے ہوئے ہیں۔ میں پھر خاموش رہا کچھ نہ بولا میں جان بوجھ کر نہیں بول رہا تھا کہ زیادہ چھیڑے توکام چھیڑے۔ ساتھ ان کا کوئی شاگرد تھا اس نے بھی فقرہ کسا اس نے کہا لگتا ہے پہنچی ہوئی سرکار ہے دوسرے نے کہا نہیں اتنی بھی پہنچی ہوئی نہیں ہے ہم بھی آخروکیل ہے ہم سارا کچھ جانتے ہیں اچھا ٹھیک ہے کب تک خاموش رہتے ہیں۔ میں چپ کرکے تسبیح کرتا رہا پھروہ خاموش ہوگئے اورپھرآپس میں باتیں کرنے لگیں۔ انہوں نے مجھے وقفہ دیاجان بوجھ کر۔ میں خاموش بیٹھا پڑھتا رہا۔

پھر بولے کہ آپ بولے نہیں ہم نے اتنی دیر آپ کا انتظار کیا۔ میں نے کہا اب بولوں میں۔ میں نے کہا میں اصل میں ایک ایسا زکر کر رہا ہوں جس کے یہ فائدے ہیں،زکر نہیں بتایا۔ میں اصل میں تین تسبیحات مکمل کر رہا تھا اورتیسراکلمہ پڑھ رہا تھا۔ میں نے کہا ایک ایسا زکر کر رہاہوں جس کے یہ فائدے ہیں۔ جو اس کو سبحان اللہ 100 دفعہ پڑھ لے اور پڑھنے میں تین سے چار منٹ لگتے ہیں جنت میں اللہ 100 ایسے درخت لگادےجس کے نیچے عربی نسل کا سفید تیز رفتارگھوڑاایک مہینہ بھی درخت کے سائے کے نیچے دوڑتا رہے تو درخت کا سایہ ختم نہیں ہوگا ایسے اللہ 100 درخت لگائےگا۔ یہ بھی انداز نبوت ہے دعوت دینے کا۔ نفع پہلے بتایانفع کا سامان بعد میں بتایا۔ میں نے کہا اس کا اگلہ فائدہ یہ ہے کہ جو الحمدللہ اس کو پڑھےگا اللہ تعالی ساری کائنات کو ساتوں آسمان،ساتوں زمینیں ان ساری چیزوں کوجمع کرے تو یہ رائی کے زرے کے برابرقیامت کے دن جوترازو پڑا ہوگا

جس میں نیکیاں اور بدیاں تولی جائیں گی اس ترازومیں اگر یہ زکر رکھ دیا جائے تو وہ ترازواتنابڑا ہوگاکہ یہ کائنات رائی کے دانےبرابر ہوگی میں وہ پڑھ رہا ہوں جس کو ایک دفع پڑھیں تو آدھا ترازو بھی جائے ایسے میں 100 دفعہ پڑھ رہا ہوں اور 100 دفعہ پڑھنے سے کیسے ترازوہوں گے۔ سبحان اللہ پڑھنے کا دوسرافائدہ یہ ہے کہ 100 دفعہ پڑھنے سے زمین وآسمان کا جتناخالی ہے سارانیکیوں سے پھرجاتاہے۔ پھر میں نے اللہ اکبر نہیں بتایا میں نے کہا میں ایسا وظیفہ پڑھ رہا ہوں جس کو چندلمحےچندمنٹ لگتے ہیں لیکن پڑھنےوالے کو وہ نورملتاہےکہ قیامت کے دن ساراجہاں اندھیرا میں ہوگااس کے پاس نورہوگا اوریہ تقسیم کرے گا

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا

حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں گناہوں کی تین تاثیر پکی ہیں اللہ پاک رزق کو تنگ کر دیتے ہیں آپ نےدیکھا ہو گا برے برے مالدار لوگ بھی فیکڑیوں کے مالک بھی اگر گناہوں کی لائن میں لگ جائیں اگر اللہ کو ناراض کرنے میں لگ جائیں ان پر بھی اللہ پاک رزق کی تنگی کر دیتے ہیں اللہ پاک بندے کومال دولت دے کر بھی ٹائٹ کر دیتے ہیں اورکبھی کبھی رزق کے حصول میں اللہ پاک مشکل پیدا کردیتے ہیں ایک شخص عشاء کی نماز کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آ کر کہنے لگا اے حضرت علی رضی اللہ عنہ میں بہت مالدار تھا پھر اچانک پیسہ گھر سے جانے لگ پرا میرا کاروبار بند ہونے کے قریب آ گیا ہے مجھے سمجھ نہیں ہے آرہی میں کیا کروں اب جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتا ہوں وہ ختم ہو جاتاہے یہ شخص اپنے شکوے سنا رہا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی کمزوری سمجھ گئے اور فرمایا اے شخص تم اپنے گناہوں کو چھوڑدے تم گناہوں کو چھوڑ دے گا تو تیرے گھر میں رزق آنا شروع ہوجائے گا تیرے روکے ہوئے کام پورے ہونا شروع ہو جائیں گے۔

وہ شخص کہنے لگا آپ مجھے عشارہ تو دیں میں کیسے گناہوں کو چھوڑ دوں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اے شخص تو اپنی زندگی میں جو گناہ روزانہ کرتا ہے اور جان بوجھ کر کرتا ہے تو نماز نہیں پڑھتا اور جب آزان ہوتی ہے تو تم مسجد کی جانب نہیں جاتے تو نماز پڑھنا شروع کر دے اگر شراب پیتا ہے تو شراب کو چھوڑ دے جو برائی توں جان بوجھ کر کرتا ہے وہ برائی چھوڑ دے وہ گناہ چھوڑ دے اگر کوئی جانے انجانے میں تجھ سے کوئی گناہ ہوجائے تورات کو سونے سے پہلے اپنے اللہ سے گناہوں کی معافی مانگ لے کہ یا اللہ جو گناہ مجھ سے جانے انجانے میں ہوئے تجھے معلوم ہے تو دلوں کے رازوں کو جانتا ہے یااللہ میرے وہ گناہوں کو معاف فرما انشاء اللہ تو یہ کام کرے گا تو تیرے اٹکے ہوئے کام بھی ہونا شروع ہو جائیں گے اکثر لوگ کہتے ہیں میری ڈیل ہوتے ہوتے رہ گئی ہے یہ جو ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے یہ کسی وجہ سے ہے مگر جب عاملین کے پاس جاتے ہیں تو وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ کسی نے کچھ کر دیا ہے اللہ پاک ان سے بچائے کسی نے بھی کچھ نہیں ہے کیا اللہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمارا رزق تنگ کر دیتے ہیں لگتا ہے کسی نے کاروبار بند کر دیا ہے۔

کیوں کسی کو چھوٹا خدا کیوں مانتے ہیں کاروبار اللہ نے چلانا ہے اور اللہ نے ہی روکنا ہے اللہ پاک دینا چاہیں تو ساری مخلوق اکھٹی ہو جائے تو روک نہیں ہے سکتی اللہ نہ دینا چاہیں تو ساری مخلوق اکھٹی ہوجائے تو کچھ دے نہیں سکتی ہم سچی توبہ کر کہ دیکھیں راستے کھلتے ہیں کہ نہیں چھوٹے عاملین کی یہ نشانی ہے یہ بتا تودیتے ہیں کسی نے کچھ کیا ہے لیکن حل نہیں کر سکتے لیکن اس کا حل ایک ہی ہے حل یہ ہے کہ تنہائی میں وضو کر کے دونوافل رکعت پڑھ لیں اپنے اللہ سے صلح کر لیں کہ میرے اللہ آج تک جتنے بھی گناہ کئے میں سب سے توبہ کرتا ہوں۔

میں آج کے بعد نا فرمانی نہیں کروں گا آپ اللہ سے صلح کر لیں گے تو اللہ آپ کے لئے بند دروازوں کو کھولنے لگ پریں گے۔ تو دوستو اچھی بات کو شئیر کرنا صدقہ جاریا ہے اپنے دوستوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ شئیرکریں تاکہ ہر کوئی عمل کر سکے جزاک اللہ خیر۔

رزق کی کمی کے اسباب

رزق ایک ایسی نعمت ہے جس کی تقسیم کا اختیار و ذمہ مالکِ کائنات نے اپنے پاس رکھا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ وہ ہر انسان کو طیؔب و طاہر اور پاک رزق عطا فرماتا ہے اور اس رزق میں اضافہ و فراخی کے مواقع بھی بخشتا ہے۔ مگر اکثر انسانوں کی فطرت ہے کہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ رزق کا وعدہ رب تعالٰی کی ذات نے کر رکھا ہے، لہٰذا وہ ہماری قسمت میں لکھا گیا دانہ پانی تقدیر کے مطابق ضرور عطا فرماتا ہے۔

تاہم کچھ لوگ توکؔل اوریقین کی کمی کا شکار ہو کر قبل از وقت، ضرورت سے زیادہ طلب کرتے یا لالچ کا شکار ہو کر بعض اوقات ناجائز و حرام ذرائع کے استعمال سے اپنا حلال کا رزق بھی کھو دیتے ہیں۔ مزید جاننے کے لیے نیچے کلک کریں اللہ تعالٰی اور اس کے حبیب ﷺ نے ہمیں رزقِ حلال کی طلب، کمانے کا طریقہ، تجارت اور کاروبار کے مکمل اصول سکھائے اور بتائے ہیں۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ جب تک ہم اسلامی حدود اورشرعی تعلیمات کے مطابق ملازمت، کاروبار اور تجارت کرتے ہیں تب تک سب کچھ ٹھیک رہتا ہے۔ جب ہم شرعی حدود سے تجاوز اور احکام الٰہی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں تو رزق میں سے برکت اٹھنا شروع ہو جاتی ہے اور یوں بڑی بڑی فیکٹریوں اور کارخانوں کے مالک بھی بھکاری بن جایا کرتے ہیں۔ ناظرین رزق حلال کمانے والوں کے لیے اللہ پاک اپنی رحمت کے خزانے کھول دیتا ہے

دنیا میں باعزت رکھتا ہے آخرت میں بلند درجات سے نوازتا ہے مگر اللہ کو چھوڑ کر مال و دولت کے حصول کا غلام بن جانا سب سے بڑی بدقسمتی ہے اور یہی سب سے بڑی ذلت ہے ناظرین اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم رازق کو بھول جاتے ہیں اور روزے کے پیچھے لگ جاتے ہیں اگر ہم روزی کو چھوڑ کر رازق کے پیچھے لگ جائیں تو روزی خود بخود آپ کے پیچھے ہوگئی رات دیر تک جاگتے رہنے اور صبح کو دیر سے بیدار ہونے کی خراب عادت اب ہماری طرز زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے ہم کبھی یہ جاننے کی زحمت بھی نہیں کرتے کہ یہ بری عادت ہمیں کیا نقصانات پہنچا رہی ہے یا پھر اس عادت سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے تو آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ صبح جلدی کیسے اٹھا جاسکتا ہے ناظرین اگر آپ صبح جلدی اٹھنا چاہتے ہیں تو آپ کو رات کو جلدی سونا ہوگا تاکہ آپ کی نیند پوری ہواور آپ صبح جلدی اٹھ سکیں ظاہر سی بات ہے اگر آپ رات کو دیر سے سوئے گے تو صبح دیر سے ہی اٹھیں گے اور اگر رات کو جلد سوئیں گے تو جلد ہی اٹھیں گے

اور اگر جلدی سے جائیں گے تو صبح جلدی اٹھ جائیں گے پہلے چار سے پانچ دن آپ کو مشکل ہو سکتی ہے لیکن جیسے ہی آپ کو عادت ہو جائے گی تو آپ رات کو جلدی سو جایا کریں گے اور صبح جلدی اٹھ کر نماز ادا کیا کریں گے ناظرین آپ کو پیارے نبی ﷺ کے بارے میں دو ایسی چیزیں بتانے جا رہے ہیں جن کے بارے میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس گھر کے دروازے رشتے داروں کے لیے بند ہو جائیں اور جس گھر میں رات دیر تک جاگنے اور صبح دیر سے اٹھنے کا رواج پیدا ہوجائے تو وہاں رزق کی تنگی اور بے برکتی کو کوئی نہیں روک سکتا اللہ پاک ہم سب کو صبح جلدی اٹھنے اور نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پیارے آقا کے فرمان پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہماری روزی میں برکت پیدا ہوسکے ناظرین یہ بہت اہم چیزیں ہیں جو آج ہم نے آپ کو بتائی جس گھر کے دروازے رشتہ داروں کے لئے بند ہوجائے اور جس گھر میں رات دیر تک جاگنے اور صبح دیر سے اٹھنے کا رواج پیدا ہوجائے تو وہاں رزق کی تنگی اور بےبرکتی کو کوئی نہیں روک سکتا ناظرین یہ بہت ہی اہم معلومات ہے جو ہمارے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا ہے

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں صبح جلدی اٹھنے اور پانچ وقت کی نماز پڑھنے کی تو فیق عطا فرمائے جو لوگ رزق کی خاطر راتوں کی جاگتے ہیں اور دن کو لیٹ اٹھتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ اگر روزی میں برکت چاہتے ہیں تو رات کو جلدی سو جایا کریں اور صبح جلد اٹھ کر نماز ادا کیا کریں اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ہیں لبتہ اب تک باوثوق طریقے سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مذاکرات کا یہ عمل رنگ لائے گا۔