اللہ الصمد کا وظیفہ کرنا

اللہ الصمد اورانمول خزانہ کی کرامات میں کھاریاں شہرمیں لیڈی ہیلتھ ورکرہوں۔ ایک دفعہ میں کھاریاں کے ساتھ واقع ایک گائوں ایک گائوں میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے گئی۔ ایک خاتون نے مجھے باتوں باتوں میں اپنی زندگی کا ایک سچا واقع بتایا جس کی میں نے گائوں میں موجود کئی خواتین سے تصدیق بھی کی ہے۔ اس عورت نے کہا باجی میرا میاں باہر کے ملک میں تھا۔ کمپنی نے میرے میاں کے 12 لاکھ روپے دینے تھے کہ جھگڑا ہوگیا۔ انہوں نے میرے میاں کو واپس پاکستان بھیج دیا۔ اس وقت ان کے پاس تقریبا تیس ہزار روپے تھے جبکہ پچھلے چھ ماہ سے انہیں تنخواہ بھی نہیں ملی تھی۔ گھر آئے تو میں نے پچھلے چھ ماہ سے قرضہ لے لے کر کاغذ کالے کیے ہوئے تھے۔ جب میں نے پیسے مانگے تو نارا ض ہونے لگے کہ میرے پاس صرف تیس ہزار روپے ہیں۔ اور قرضہ تم نے 60 ہزار روپے لیا ہے۔

میں کہاں سے دوں۔ جگھڑا اتنا بڑھا کہ بات علیحدگی تک جا پہنچی۔ کسی بزرگ نے مجھے یہ وظیفہ دیا کہ سوا کلو گندم کے ہر دانے پر اَللّٰہُ الصَّمَد پڑھیں اور پھر نہر میں گرادیں۔ آپ یقین جانیے صرف ایک دن دانے پھینکے دوسرے دن کمپنی والوں نے 12 لاکھ کا چیک انہیں بھیج دیا۔ امید تو دور کی بات کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ پیسے مل جائینگے۔ چونکہ میں لیڈی ہیلتھ ورکر ہوں لہذا گھر کا ہر فرد مجھ پر اعتماد کرتا ہے۔ ایک دفعہ ویکسینیٹر ٹیکے لگانےآیاتھا۔ میں گھر میں بچے کو بلانے گئی کہ اس کی ماں بچے کو حفاظتی ٹیکہ لگوالے۔ معلوم ہو کہ ماں تو گھر میں نہیں ہے۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ گھر والوں سے روٹھ کر ہمسائے کے گھر گئی ہے۔ پانچ دن کی بیٹی تھی اور دوسری ڈیڑھ سال کی گھر میں ساس اور اس کا بیٹا بیٹھےتھے۔ میں ہمسائے کے گھر گئی۔ سردی کا موسم تھا۔ وہ عورت اپنی بچیوں کو لے کر لیٹی تھی۔ جہاں وہ عورت گئی تھی بتاتی چلوں کہ ان کا ایک ہی کمرہ تھا نہ کچن نہ باتھ نہ برآمدہ جب میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگی بچی بیمار تھی میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ میں کسی سے پیسے ادھار لے کر دوائی لائی تو خاوند آکر ناراض ہوا اور بات بڑھتے بڑھتے لڑائی جگھڑے تک پہنچ گئی۔ اب میں نے ادھر نہیں رہنا اپنے میکے جائوں گی۔ گھر والے کہنے لگے کہ ہم نے اس کو کہا تھا کہ ہم تمہیں تمہارے والدین کے گھر چھوڑ آتے ہیں مگر اس نے انکار کر دیا۔ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا پڑھوں اور یہ مان جائے۔ میں نے دل میں ہی دل درود شریف پڑھ کر خزانہ نمبر 2 پڑھا پڑھ کر اس عورت پر پھونکنا شروع کردیا۔

تقریبا 21 بار پڑھا ہوگا اور غیر محسوس طریقے سے تین پھونکیں ماریں۔ آپ یقین جانیے پتا نہیں مجھے کیوں اتنا یقین تھا کہ یہ مان جائے گی۔ میں نے اسے چلنے کو کہا ایک بچی میں نے اٹھائی ایک اس نے اور اسے اس کے گھر چھوڑ آئی۔ اس کے خاوند اور ساس کو سمجھایا کہ ابھی کچھ نہیں کہنا۔ کم ازکم میری لاج رکھنا بعد میں پتہ چلا کہ اس کے ہمسائے ناراض ہو گئے تھے کہ ہماری بات نہ مانی اور پرائی باجی کی مان لی۔ یہ خود میرا اپنا واقعہ ہے جو میاں بیوی میں انمول خزانہ کی وجہ سے صلح ہوئی۔ اس طرح ایک واقعہ میری ایک ساتھی کاہے۔ اس نے میرے زریعے ایجنٹ کے پاس اپنے میاں کا کیس جمع کروایاتھا تاکہ وہ بیرون ملک جاسکے۔ مجھ سے تقریبا بیس ہزار روپے بھی دلوئے تھے۔ چھ ماہ گزر جانے کے بعد بھی اس کا کام نہیں بنا۔ میں خود پریشان ہو گئی تھی کہ نہ کام بنے نہ پیسے واپس ملیں میں نے اپنے ساتھی کو درود شریف پڑحنے کا کہا مگر بات بنتی نظر نہ آئی۔ کافی دن سوچ بچار کے بعد میں نے اسے اَللّٰہُ الصَّمَد روزانہ ایک ہزار بار پڑھنے کو کہا۔ میں خود بھی روزانہ ایک ہزار بار اَللّٰہُ الصَّمَد کا زکر کر رہی تھی۔ یقین جانیے ایکس دن نہیں گزرے تھے کہ ایجنٹ میرے گھر آکر پیسے واپس کر گیا اور اللہ پاک نے اپنے نام کی برکت مجھے رسوائی سے بچا لیا

بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے فوائد

اللّہ تعالیٰ کی پاک اور لاریب کتاب قرآن مجید میں آیا ہے اِنَّہ‘ مِنْ سُلَیْمَانَ وَاَنَّہ’ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ ( سورۂ النمل: ۳۰ ) ترجمہ : یہ ( خط) سلیمان علیہ السّلام کی طرف سے ہے اور اللّہ پاک کے اسم مبارک سے آغاز کرتا ہوں جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے ۔ حضرت سلیمان علیہ السّلام نے اپنے خط کا آغاز اللّہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے ہی کیا ۔ اسی طرح حضرت نوح علیہ السّلام کی کشتی کے چلنے کا تذکرہ قرآن مجید میں کیا گیا ، تو اللّہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ۔ قَالَ ارْکَبُوْ فِیھَا بِسْمِ اللّہ مَجرِھَا وَمُزسٰھَا ۔( سورۂ ہود : ۴۱ ) ترجمہ : اللّٰہ نے فرمایا ، اس میں سوار ہوجاؤ اللّہ کے نام سے ، اس کا چلنا بھی ہے اور اس کا رُکنا بھی گویا کسی بھی ایسے کام کا آغاز جو جائز ہو ، تو اللّٰہ کا نام لینا اور اس سے شروع کرنا انبیاعلیہم السّلام کی سنت مبارک ہے ۔

یوں اس کام میں برکت پیدا ہوجاتی ہے ۔ جب نبی پاک حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وسلم بھی کوئی کام کرتے ، تو اس کی ابتدا اللّہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے فرماتے ، آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے مختلف فرمانرواؤں کے نام خطوط لکھے ، تو ان کا آغاز بھی اللّہ تعالیٰ کے نام سے ہی کیا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کس قدر اہمیت کی حامل ہے ۔ رسول پاک صلی اللّہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دروازہ بند کرتے ہوئے بسم اللّہ پڑھو۔ چراغ گل کرتے ہوئے بسم اللّہ پڑھو، برتن ڈھانپتے ہوئے بسم اللّہ پڑھو اور مشک کا منہ بند کرتے ہوئے بسم اللّہ پڑھو ( الجامع الا حکام القرآن ۹۸) علامہ قرطبیؒ نے لکھا ہے کہ کھانے پینے ، ذبح کرنا ، وضوکرنے ، کشتی میں سوار ہونے غرض ہر ( صحیح ) کام کرنے سے پہلے بسم اللّہ پڑھنا مستحب ہے ۔ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کے فضائل و فوائد ۔ ہر مشکل اور ہر حاجت کے لیے :۔ * جو شخص بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بارہ ہزار مرتبہ اس طرح پڑھے کہ ہر ایک ہزار پورا کرنے کے بعد درود شریف کم از کم ایک مرتبہ پڑھے اور اپنے مقصد کے لیے دُعا مانگے ۔ پھر ایک ہزار اسی طرح پڑھ کر اپنے مقصد کے لیے دُعا کرے ۔ اسی طرح بارہ ہزار پورے پڑھے ، تو انشاءاللّہ ہر مشکل سے نجات اور ہر حاجت پوری ہوگی ۔ * بسم اللّہ کے حروف کے عدد 786 ہیں ۔ جو شخص اس عدد کے موافق سات روز تک متواتر بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھا کرے اور اپنے مقصد کے لیے دُعا کیا کرے ۔ تو انشاءاللّہ مقصد پورا ہوگا ۔

تسخیر قلوب :۔ * جو شخص بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ چھ سو مرتبہ لکھ کر اپنے پاس رکھے ، تو لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت و عزت ہوگی ، کوئی اس سے بدسلوکی نہ کر سکے گا ۔ حفاظت از آفات :۔ * جو شخص محرم کی پہلی تاریخ کو 100 مرتبہ پوری بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کاغذ پر لکھ کر اپنے پاس رکھے ، ہر طرح کی آفات و مصائب سے محفوظ رہے گا ۔ چوری اور شیطانی اثرات سے حفاظت :۔ * سونے سے پہلے 21 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھیں ، تو چوری اور شیطانی اثرات سے اور اچانک موت سے محفوظ رہے گا ظالم پر غلبہ :۔ * کسی ظالم کے سامنے 50 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر جانے سے اللّہ تعالیٰ اس کو مغلوب کرکے اس کو غالب کر دیں گے ۔ ذہن اور حافظہ تیز کرنے کے لیے :۔ * 786 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پانی پر دم کرکے طلوع آفتاب کے وقت پینے سے ذہن کھل گائے گا اور حافظہ قوی ہوجائے گا۔ کھیتی کی حفاظت اور برکت کے لیے :۔ * 101 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کاغذ پر لکھ کر کھیت میں مخصوص جگہ دفن کر دے ، تو کھیتی تمام آفات سے محفوظ رہے گی اور اس میں برکت ہوگی حفاظت اولاد : ۔ * جس عورت کے بچے زندہ نہ رہتے ہوں ، وہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 61 مرتبہ لکھ کر تعویز بنا کر اپنے پاس رکھے ، تو بچے محفوظ رہیں گے ۔ حکام کے لیے :۔ * بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کسی کاغذ پر 500 مرتبہ لکھے اور اس پر 150 مرتبہ بسم اللّہ پڑھے ۔ پھر اس تعویز کو اپنے پاس رکھے ، تو حکام مہربان ہوجائیں گے اور ظالم کے شر سے محفوظ رہے گا ۔

درد سر کے لیے :۔ * 21 مرتبہ لکھ کر درد والے کے گلے میں یا سر پر باندھ دیں ، تو دردِ سر جاتا رہے گا ۔ * اگر کوئی شخص دنیا و آخرت کے مصائب سے بچنا چاہے ، تو بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کا کثرت سے ورد کرے ۔ * ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ایک مرتبہ پڑھے ، اللّہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں دس ہزار نیکیوں کا ثواب درج کرتے ہیں ، دس ہزار گناہ محو ہوجاتے ہیں اور دس ہزار درجات بلند ہوتے ہیں ۔* اگر بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 70 مرتبہ کفن پر لکھ دیا جائے ، تو میت قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گی اور منکر و نکیر سوال کرنے میں سختی نہ کریں گے ۔ * 21 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھنے کے سبب چوری ، آگ ، ناگہانی موت اور ہر قسم کی آفت و بلا سے حفاظت نصیب ہوگی ۔ * 35 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ لکھ کر گھر میں لٹکا دی جائے تو شیطان و جن اس گھر میں داخل نہ ہوسکیں گے ۔ ہر ضرورت اور مشکل کے لیے :۔ * بعد نماز سنت فجر اگر کوئی شخص بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 90 مرتبہ اول و آخر گیارہ مرتبہ درود شریف ہمیشہ ورد میں رکھے ، انشاءاللّہ کوئی مشکل پیش نہ آئے گی ۔ جب بھی ضرورت کے وقت پڑھے گا ، ہر مقصد میں کامیابی اور مشکل آسان ہوگی ۔ مالی پریشانی سے بچنے کے لیے : ۔ * اگر ہر نماز کےبعد سورۃ فاتحہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سمیت 21 مرتبہ پابندی سے پڑھ لیا کریں ، تو آپ کبھی بھی مالی پریشانی سے دو چار نہیں ہوں گے ۔

عورت اور شیطان

ایک عابد شخص اپنی جھونپڑی میں لوگوں سے الگ تھلگ عبادت کیا کرتا تھا۔ وہ ستر سال تک اسی جھونپڑی میں رہا، اس عرصہ میں کبھی بھی اس نے عبادت کو ترک نہ کیا اور نہ ہی کبھی اپنی جھونپڑی سے باہر آیا …پھر ایک دن وہ جھونپڑی سے باہر آیا تو اسے شیطان نے ایک عورت کے فتنہ میں مبتلا کر دیا، اور وہ سات دن اور سات راتیں اسی عورت کے ساتھ رہا، سات دن کے بعد جب اس کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ ہٹا تو وہ اپنی اس حرکت پر بہت نادم ہوا، اور اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں توبہ کی، اور وہاں سے رخصت ہو گیا۔

وہ اپنے اس فعل پر بہت نادم تھا، اب اس کی یہ حالت تھی کہ ہر ہر قدم پر نماز پڑھتا اور توبہ کرتا، پھر ایک رات وہ ایسی جگہ پہنچا جہاں بارہ مسکین رہتے تھے، وہ بہت تھکا ہوا تھا، تھکاوٹ کی وجہ سے وہ ان مسکینوں کے قریب گر پڑا …ایک راہب روزانہ ان بارہ مسکینوں کو ایک ایک روٹی دیتا تھا، جب وہ راہب آیا تو اس نے روٹی دینا شروع کی اور اس عابد کو بھی مسکین سمجھ کر ایک روٹی دے دی اور ان بارہ مسکینوں میں سے ایک کو روٹی نہ ملی تو اس نے راہب سے کہا :”آج آپ نے مجھے روٹی کیوں نہ دی ……؟”راہب نے جب یہ سنا تو کہا کہ :”میں تو بارہ کی بارہ روٹیاں تقسیم کر چکا ہوں، پھر اس نے مسکینوں سے مخاطب ہو کر کہا :”کیا تم میں سے کسی کو دو روٹیاں ملی ہیں …..؟”سب نے کہا :”نہیں ہمیں تو صرف ایک، ایک ہی ملی ہے …..!”یہ سن کر راہب نے کہا :”شاید تم دوبارہ روٹی لینا چاہتے ہو، جاؤ آج کے بعد تمھیں روٹی نہیں ملے گی، جب اس عابد نے یہ سنا تو اسے اس مسکین پر بڑا ترس آیا چنانچہ اس نے وہ روٹی مسکین کو دے دی اور خود بھوکا رہا اور اسی بھوک کی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا۔

جب اس کی ستر سالہ عبادت اور غفلت میں گزری ہوئی سات راتوں کا وزن کیا گیا، تو اللہ تعالٰی کی نافرمانی میں گزاری ہوئی راتیں اس کی ستر سالہ عبادت پر غالب آ گئیں۔ پھر جب ان سات راتوں کا موازنہ اس روٹی سے کیا گیا جو اس نے مسکین کو دی تھی تو وہ روٹی ان راتوں پر غالب آ گئی اور اس کی مغفرت کر دی گئی ….!

ان بیماریوں کا علاج

یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ طب نبویؐ کا تعلق وحی سے ہے اور عام دنیاوی طریقہ علاج صرف تجربہ ہے بعض اطباء نے تجربے کو یقین کے قریب تر بتایا ہے لیکن تجربہ ہرگز وحی کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔ اس لئے جو شخص طبِ نبویؐ کے ذریعے اپنے جسم کا علاج کرنا چاہتا ہے تو اس شخص کو چاہئے کہ پہلے وہ اپنے دل میں طب نبویؐ کے متعلق اعتقاد و یقین کو مستحکم کر لے کیونکہ اس کے بغیر طبِ نبویؐ سے فائد حاصل نہ ہو گا۔ اعتقاد جس قدر مضبوط ہوگا اس قدر فوائد حاصل ہوں گے۔ اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ بیماریوں کا علاج دوا سے بھی کریں اور دعا سے بھی تاکہ صرف دوا ہی پر بھروسہ نہ ہو جائے۔ صحیح بات یہ ہے کہ دوا کرنا بھی سنت نبویؐ ہے۔

حضرت اسامہ بن شریکؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں حضور اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ لوگ آپؐ سے دریافت کر رہے تھے کہ اگر ہم بیماریوں میں دوا کر لیا کریں تو کچھ گناہ تو نہیں؟ یہ سن کر آنحضوؐر نے فرمایا کہ دوا کر لیا کرو اے اللہ کے بندو! اس لئے کہ اللہ نے جتنی بیماریاں پیدا کی ہیں ساتھ ہی ان کی دوا بھی پیدا کی ہے لیکن مرض موت اس سے مستثنیٰ ہے۔ذیل میں چند امراض اور ان کا علاج اور ادویہ کا مختصراً ذکر کیا جائے گا۔ یہ علاج اور ادویہ طبِ نبویؐ سے ماخوذ ہیں۔ تکبیر کے فوائد: جب بچہ پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان اوربائیں کان میں تکبیر کہنی چاہئے۔ اس کی برکت یہ ہے کہ بچہ امّ البصیان (بولنے )کے مرض سے محفوظ رہتا ہے۔ ولادت کے ساتویں دن بچے کا اچھا سا نام رکھو، بچے کے بال اتروا کر اس کے برابر چاندی تول کر صدقہ کر دینا چاہئے یا ایک دو بکرے ذبح کر کے صدقہ کر دیں، اس عمل کا اثر بچے کی صحت پر پڑے گا۔ دودھ کا اثر: اپنے بچے کو احمق اور فاحشہ عورتوں سے دودھ نہ پلواؤ کیونکہ دودھ کا اثر بچے کے جسم اور اخلاق پر اثرانداز ہوتا ہے۔ نمک کے فوائد: رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ کھانا نمک کے ساتھ شروع کرنا چاہئے۔ اس لئے ستر امراض اور بیماریوں سے نمک میں شفاء رکھی گئی ہے اور ان میں سے چند یہ ہیں۔ جنون، جذام، کوڑھ، پیٹ کا درد اور دانت کا درد وغیرہ۔ بدہضمی کا علاج: آنحضوؐر کا ارشاد ہے کہ ’’میں تکیہ لگا کر نہیں کھاتا، کیونکہ تکیہ لگا کر اور کھڑے ہو کر اور سواری میں بیٹھ کر کھانے سے بدہضمی ہو جاتی ہے اور اس کے خلاف عمل سے کھانا ہضم ہو جاتا ہے اور تکبر بھی دور ہو جاتا ہے۔ ہاضمہ: رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ’’سرکہ بہترین سالن ہے۔ اے خدا سرکے میں برکت عطا فرما‘‘۔ نیز آپؐ نے فرمایا ’’جس دسترخوان پر سبزترکاری ہوتی ہے اس جگہ فرشتے آتے ہیں‘‘۔ قلب کی قوت: مسروقؓ کہتے ہیں کہ

میں ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کے ان کے قریب ایک نابینا شخص بیٹھا ہوا ہے اور حضرت عائشہؓ ترنج (بڑا لیموں یا چکوترہ) ٹکڑا شہد میں لگا کر اسے کھلا رہی ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ ام المومنین! یہ کون ہے؟ فرمایا کہ یہ وہ شخص ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر غصہ کیا تھا۔ اس واقعے کے متعلق شارحین نے لکھا ہے کہ ترنج شہد کے ساتھ نہار منہ کھانا دل اور دماغ کے لئے بہت مفید ہے۔ ہاضمہ کا علاج : آنحضوؐر نے فرمایا’’گوشت کو چھری یا چاقو سے کاٹ کر نہ کھایا کرو بلکہ گوشت کو دانتوں سے کاٹ کر کھانا چاہئے۔ اس لئے کہ بدہضمی سے بچاؤ کرتا ہے اور دانتوں سے کھانے میں ہاضمہ جلد ہو جاتا ہے۔ دانت کی تکلیف: آنحضوؐر کا ارشاد ہے کہ حب الاس کی اور خوشبو والی لکڑی سے خلال نہ کیا کرو، کیونکہ میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ جذام لاحق ہو جائے۔ خلال کے لئے سب سے بہتر وہ لکڑیاں ہیں جو تلخ ہوتی ہیں۔ کم خوراکی: رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ پیٹ سے زیادہ بڑا برتن اور کوئی نہیں ہے۔ انسان کو چاہئے کہ جب کھائے تو اس کے تین حصے اس طرح کرے کہ ایک حصہ کھائے، ایک حصہ پانی کیلئے رکھے اور ایک حصہ سانس کی آمدورفت کیلئے خالی چھوڑ دے۔ بسیار خوری: زیادہ کھانے سے بہت سے امراض پیدا ہوتے ہیں مثلاً بدہضمی اور ہیضے وغیرہ کی شکایت ہو جاتی ہے اس لئے آنحضوؐر کو ڈکار سے سخت نفرت تھی۔ فرماتے تھے کہ اتنا زیادہ کیوں کھا جاتے ہو۔ بدن کی کمزوری: ارشاد نبویؐ ہے کہ بدن کی کمزوری دور کرنے کیلئے دودھ میں گوشت پکا کر کھایا کرو نیز فرمایا ’’گوشت تمام سالنوں کا سردار ہے‘‘۔ انجیر کے فوائد : آنحضوؐر نے فرمایا ’’انجیر کھانے سے آدمی مرض قولنج سے محفوظ رہتا ہے، انجیر کھایا کرو‘‘۔ انجیر بواسیر کیلئے مفید ہے۔ منہ کی بدبو جاتی رہتی ہے۔ سر کے بال دراز کرتی ہے۔ طبیعت میں نرمی پیدا کرتی ہے۔

لطیف اور زود ہضم ہے۔ زیتون کے فوائد : رسولﷺ نے فرمایا’’زیتون کھایا کرو اور اس کے تیل کی مالش کیا کرو اس لئے کو جو شخص روغنِ زیتون کی مالش کرتا ہے اس کے پاس چالیس روز تک شیطان نہیں آتا‘‘۔ کھجور کے فوائد : حدیث نبویؐ ہے کہ ’’کھجور کھایا کرو، کھجوروں میں سب سے بہتر برنی کھجور ہے کیونکہ یہ پیٹ سے بیماری کو نکالتی ہے اور کھجور میں کوئی بیماری نہیں ہے۔ کدو کے فوائد: آنحضوؐر نے فرمایا ’’اے لوگو:کدو زیادہ کھایا کرو کیونکہ یہ دماغ کی قوت بڑھاتا ہے‘‘۔ ثرید کے فوائد: آنحضوؐر کو سب سے پسندیدہ اور مرغوب کھانا ثرید تھا۔ شوربے میں روٹی بھگونے کو ثرید کہا جاتا ہے۔ یہ کھانا قلب و دماغ کو تقویت دیتا ہے اور زود ہضم ہوتا ہے۔ انار کے فوائد: ایک حدیث نبویؐ ہے کہ ہر انار میں ایک قطرہ جنت کے پانی کا ضرور ہوتا ہے۔ انار خون صاف کرتا ہے۔ معدے کی اصلاح کرتا ہے۔ طبیعت نرم کرتا ہے۔ جگر میں قوت پیدا کرتا ہے۔ رنگ نکھارتا ہے۔ دماغ کی طرف بخارات کو چڑھنے سے روکتا ہے۔ انگور کے فوائد: رسول اللہﷺ پھلوں میں انگور کو بہت پسند فرماتے تھے۔ حکمت یہ ہے کہ انگور خون صاف کرتا ہے۔ بدن کو فربہ کرتا ہے۔ گردے پر چربی چڑھاتا ہے۔ چقندر کے فوائد: ایک بار رسول اکرمؐ ام متذر کے ہاں گئے۔ حضرت علیؓ ان کے ہمراہ تھے۔ اس وقت گھر میں کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے۔ آنحضوؐر نے ان کھجوروں میں سے تناول فرمائیں تو حضرت علیؓ بھی کھانے لگے اس پر آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اے علی! تم کمزور ہو اس لئے تم نہ کھاؤ‘‘۔ اُم متذر چقندر کھانے لگیں تو آنحضوؐر نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ اس میں سے کھاؤ کیونکہ

یہ تمہارے لئے مفید ہیں۔ ان دنوں حضرت علیؓ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اور دکھتی آنکھوں پر کھجور کھانا مضر ہے۔ اس لئے آپؐ نے حضرت علیؓ کو منع فرمایا اور جب آپؓ کے سامنے چقندر پیش کئے گئے تو آپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ یہ کھاؤ یہ تمہارے لئے مفید ہیں اور تمہاری ناطاقتی کو یہ دور کر دے گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پرہیز کرنا سنت ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ چقندر کھانے سے کمزوری دور ہوتی ہے۔ چقندر معدے کی جِلا کرتا ہے۔ کھانا تحلیل کرتا ہے اور گرمی کو مارتا ہے۔ رعشہ کیلئے مفید ہے۔ بلغم اکھاڑتا ہے۔ دودھ کے فوائد: حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ پینے کی چیزوں میں رسول اللہﷺ کے نزدیک دودھ بہت عزیز تھا۔ حکمت یہ ہے کہ دودھ بدن کی خشکی دور کرتا ہے چہرے کا رنگ سرخ کرتا ہے اور خراب فضلات نکالتا ہے اور دماغ کو قوی کرتا ہے۔ طبیعت میں نرمی اور دماغ میں تیزی پیدا کرتا ہے۔ شہد کے فوائد: حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسولﷺ کو شہد بہت مرغوب تھا۔ حضوؐر کو شہد اس لئے پسند تھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس میں شفاء ہے اور حکماء نے شفاء کے بے شمار فوائد لکھے ہیں مثلاً نہار منہ چاٹنے سے بلغم دور ہوتا ہے، معدہ صاف کرتا ہے اور فضلات دفع کرتا ہے۔ معدے کو اعتدال پر لاتا ہے۔ دماغ کو قوت دیتا ہے۔ مثانہ کیلئے مفید ہے اور گردے کی پتھری دور کرتا ہے۔ فالج اور لقوہ کیلئے مفید ہے۔ ہاضمہ: حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ میں پیٹ کے درد کی وجہ سے مسجد میں لیٹا ہوا تھا کہ رسولؐ تشریف لائے اور پوچھا، کیا تم بیمار ہو؟ میں نے کہا، ہاں۔ فرمایا اٹھ کر کھڑا ہو اور نماز پڑھو، کیونکہ نماز میں شفا ہے۔

حضرت عائشہؓ سے منقول ہے۔ نماز سے کھانا ہضم کیا کرو اور کھانا کھاتے ہی نہ سو جایا کرو۔ اس سے تمہارے دل زنگ آلود ہو جائیں گے۔ تِل کے خواص: حضرت سعد بن معاذؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ تِل اور کھجور ملا کر تناول فرماتے تھے۔ پانی سے بخار کا علاج: ایک حدیث میں ہے کہ جب کسی کو بخار ہو تو اس پر تین روز تک صبح کے وقت پانی ڈالا جائے۔ جب آنحضوؐر کو بخار آتا تھا تو پانی کی مشک منگوا کر اپنے جسم مبارک پر چھڑکوا لیا کرتے تھے۔ دست بند کرنے کا علاج: ایک شخص رسولؐ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا او رعرض کیا کہ میرے بھائی کے پیٹ میں گڑ بڑ کی وجہ سے دست آ رہے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ جا کر اس کو شہد پلاؤ۔ وہ شخص دوبارہ آیا اور عرض کیا یا حضرت! اس علاج سے دست زیادہ ہو گئے ہیں۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ جاؤ اور شہد پلاؤ۔ غرض اسی طرح وہ شخص دو تین بار آیا گیا۔ آخر کار آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ خدا سچا اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ اس شخص نے جا کر پھر شہد پلایا تو اس کا بھائی تندرست ہو گیا۔ اخروٹ اور پنیر کے خواص: آنحضوؐر نے فرمایا کہ پنیر بھی بیماری ہے اور اخروٹ بھی، لیکن جب یہ دونوں پیٹ میں اتر جاتے ہیں تو شفا ہو جاتی ہے۔ حکمت یہ ہے کہ پنیر دوسرے درجے میں سرد تر ہے۔ اخروٹ دوسرے درجے میں گرم خشک ہے۔ دونوں کو ملا کر کھانے سے دونوں کا اعتدال ہو جاتا ہے اور دونوں چیزیں ایک دوسرے کی مصلحت ہو جاتی ہیں۔ سونٹھ کے خواص: رُوم کے بادشاہ نے آنحضرتؐ کی خدمت اقدس میں سونٹھ کا مُربہ تحفے میں بھیجا۔ آپؐ نے اس میں سے تھوڑا تھوڑا کھایا۔ حکمت یہ ہے کہ سونٹھ بھوک لگاتا ہے۔ کھانا ہضم کرتا ہے قے کو روکتا ہے۔ ریاح کو تحلیل کرتا ہے اور غلیظ مادہ نکال دیتا ہے۔ خون کی بندش: جنگِ اُحد میں آنحضوؐر گھوڑے پر سے گِر گئے تھے اور جو خود آپؐ کے سر پر تھا، اس کی کڑیاں آپؐ کے رخسار میں پیوست ہو گئی تھی، جن کو ایک صحابی نے اپنے دانتوں سے پکڑ کر نکالا تھا جس سے ان کے بھی کئی دانت شہید ہو گئے تھے اس واقعہ کی وجہ سے آنحضرتؐ کا خون بند نہ ہوتا تھا۔ حضرت فاطمہؓ دھوتی جاتی تھیں اور حضرت علیؓ پانی ڈال رہے تھے۔ آخرکار حضوؐر کے فرمان کے مطابق ایک بوری کا ٹکڑا جلا کر اس کی راکھ زخم میں بھر دی جس سے اس وقت خون بند ہو گیا۔ عرق النساء کا درد: حضوؐر کا ارشاد ہے کہ عرق النساء کا علاج عربی بکری سے کرنا چاہئے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ عربی بکری کو پکایا جائے اور اس کے کئی حصے کئے جائیں پھر ایک حصہ ہر روز نہار منہ پیا جائے۔ سناء کے فوائد: حدیث نبویؐ ہے کہ اگر موت کی کوئی دوا ہوتی تو وہ سناء ہوتی۔ سناء سب سے عمدہ مکہ معظمہ میں پیدا ہوتی ہے۔ یہ دست آور ہے۔

بلغمی امراض کیلئے بہت مفید ہے اور جلے ہوئے اخلاط کیلئے مفید ہے۔ دماغ اور جلد کی صفائی کرتی ہے۔ جنون، مرگی، آدھے سر کا درد، پورے سر کے درد کو دور کرتی ہے اور قلب کیلئے تقویت کا باعث ہے۔ کلونجی کے فوائد: رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ کلونجی سوائے موت کے ہر مرض کی دوا ہے۔ جالینوس کا قوس ہے کہ کلونجی نفخ اور ریاح کو تحلیل کرتی ہے اور اس کے کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔ جوش دے کر سر پر لگانے سے زکام کو فائدہ دیتی ہے۔ پھوڑے پھنسی کو فائدہ کرتی ہے۔ سرکہ میں ملا کر کھانے سے بلغمی ورم دور ہو جاتا ہے۔ گھر میں دھونی دینے سے مچھر کھٹمل غائب ہو جاتے ہیں۔ لہسن کے فوائد: حدیث نبویؐ ہے ’’اے لوگو! لہسن کھایا کرو اور اس سے علاج کیا کرو کیونکہ اس میں بیماریوں سے شفاء ہے‘‘۔ طبی حکمت یہ ہے کہ لہسن میں بہت فوائد ہیں یہ ورم کو تحلیل کرتا ہے۔ حیض کھولتا ہے۔ پیشاب جاری کرتا ہے۔ معدے کا تعفن دور کرتا ہے۔ معدے کی رطوبت خشک کرتا ہے اور خون کو رقیق کرتا ہے۔ ریاح نکالتا ہے۔ آواز صاف کرتا ہے۔ نسیان کو ختم کرتا ہے۔ تاہم ارشاد نبویؐ ہے کہ ’’اس کو کچہ کھا کر مسجد میں نہ جایا کرو‘‘۔ مہندی کے خواص: آنحضرتؐ کے سر میں جب درد ہوتا تھا تو آپؐ سر پر مہندی کا لیپ کیا کرتے تھے اور

فرماتے تھے کہ بے شک اللہ کے حکم سے فائدہ کرے گی۔ اطباء نے لکھا ہے کہ مہندی سدوں کو اور رگوں کے منہ کھول دیتی ہے اسی لئے آنحضرتؐ نے پیٹ کے درد میں اس کا لیپ کیا ہے۔ مہندی سنگِ مثانہ و گردہ کے لئے بھی مفید ہے اور اگر آبلے پر لگایا جائے تو آبلہ پھوٹ جاتا ہے۔ اور اگر منہ میں زخم ہو جائیں تو اس کی کلیاں کرنا بہت مفید ہے۔ دل کا درد : ابوداؤد نے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہوا تو حضوؐر عیادت کیلئے تشریف لائے اور اپنا دستِ مبارک میرے سینے پر رکھا جس کی ٹھنڈک اور فرحت میں نے اپنے دل میں محسوس کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ تمہارے دل میں درد ہے تم کو چاہئے کہ حارث بن کلاہ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ لوگوں کا علاج کرتاہے اور حارث کو چاہئے کہ وہ مدینے کی سات کھجوریں لے اور ان کو گٹھلی سمیت کُوٹ لے اور پھر تجھ کو کھلائے۔ علمائے طب نے لکھا ہے کہ مدینہ شریف کی کھجوروں میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ دل کے درد کیلئے مفید ہوتی ہیں اور سات کا وعدہ جو آپؐ نے فرمایا، اس کی خاصیت کے بارے میں سوائے خدا اور اس کے رسولؐ کے کوئی نہیں جانتا۔ اس مقام پر تمام حکماء عاجز ہیں کیونکہ اس کا تعلق وحی سے ہے اور بعض احادیث میں ہے کہ جو شخص مدینہ کی سات کھجوریں نہار منہ کھایا کرے تو اس کو زہر اور جادو کبھی اثر نہیں کرے گا۔

سجدے میں 10 بار پڑھیں

بعض اوقات انسان پربری سخت مصیبت بری سخت پریشانی آجاتی ہے۔ اورجب بری سے بری پریشانی آجائےتوشریعت میں ہمیں اس کاحل ملتا ہے ہمیں یہ چاہیئے کہ شریعت کو اپنی زندگی میں فالوکریں جب کبھی بھی کوئی بھی پریشانی آئے تواللہ کی جانب رجوع ہوجائیں۔ آپ نے اکثردیکھا ہو گا لوگوں کے کام روکے ہوئے ہیں رشتہ آتا ہے دوباراہ رابطہ نہیں ہے کرتےڈیل ہوتی ہے ہوتے ہوئے رک جاتی ہے دوست احباب کا شکوہ ہوتا ہے ہمارے کام پورے نہی ہیں ہوتےاٹک جاتے ہیں۔ اورپھروہ جاتی ہیں عملیات کے پاس چونکہ ان کا کاروبار ہے۔ انہوں نے پیسے کمانے ہوتے ہیں وہ سمپل جواب دیتے ہیں کیسی نے لگتا ہے تمہارا رزق باندھ دیا ہے۔ اور ہم اس پے یقین کر لیتے ہیں دوستو اللہ اگر کیسی کو دینا چاہے تو کون ہے جوروک سکتا ہے رزق باندھ سکتا ہے کوئی کسی کا رزق نہی باندھ سکتا اللہ کے کام کو کوئی بھی نہی روک سکتا اس لئے دوستوآپ اپنا عقیدہ خراب نہ کریں۔

نبی پاک ﷺ نے جو باتیں سیکھائی ان کو کریں خود بخود عملیات سے جان چھوٹ جائے گی ۔ چناچہ عورتیں اکثر یہ پوچھتی ہیں میرا رشتہ اچھا ہو جائے بیٹے کو کام مل جائے فلاں حاجت ہے۔ روکے ہوئے کاموں اور خواہشات کےلئے نبی پاکﷺ کی مبارک زبان سے ابو داؤد کی روایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو مومن صبح شام سات سات مرتبہ اس دعا کو پڑھے گا

اللہ تعالی اس کے ہرادھورے کام کو پورا فرما دے گا۔ اور وہ دعا یہ ہے حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ اس دعا کے بارے میں علماء کرام بتاتے ہیں کہ رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا ہے۔ اور اس مہینے کا آخری عشرہ ہے اور بہت ہی بابرقت عشرہ ہے۔ اور اس عشرے کے اندر ایک رات ایسی ہے جو بہت زیادہ فضیلت والی ہے۔ آپ بعد نماز مغرب جب آپ افطاری کر کے نماز پڑھ لیتے ہیں سجدے میں جا کر دس مرتبہ آپ اس دعا کو پڑھیں اور آپ کی جو بھی حاجت ہو گی سر اٹھا کہ آپ اللہ سے مانگیں گےانشاء عید آنے والی ہے عید سے پہلے پہلے اللہ آپ کی جو بھی حاجت ہو گی اللہ کے ہاں ظرور قبول ہو جائے گی۔ میرے اللہ بہت غَفُورٌ رَّحِيمٌ ہیں وہ آپ کی ہرطرح کی جائز حاجات کو پوری فرما دیں گے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا

حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں گناہوں کی تین تاثیر پکی ہیں اللہ پاک رزق کو تنگ کر دیتے ہیں آپ نےدیکھا ہو گا برے برے مالدار لوگ بھی فیکڑیوں کے مالک بھی اگر گناہوں کی لائن میں لگ جائیں اگر اللہ کو ناراض کرنے میں لگ جائیں ان پر بھی اللہ پاک رزق کی تنگی کر دیتے ہیں اللہ پاک بندے کومال دولت دے کر بھی ٹائٹ کر دیتے ہیں اورکبھی کبھی رزق کے حصول میں اللہ پاک مشکل پیدا کردیتے ہیں ایک شخص عشاء کی نماز کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آ کر کہنے لگا اے حضرت علی رضی اللہ عنہ میں بہت مالدار تھا پھر اچانک پیسہ گھر سے جانے لگ پرا میرا کاروبار بند ہونے کے قریب آ گیا ہے مجھے سمجھ نہیں ہے آرہی میں کیا کروں اب جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتا ہوں وہ ختم ہو جاتاہے یہ شخص اپنے شکوے سنا رہا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی کمزوری سمجھ گئے اور فرمایا اے شخص تم اپنے گناہوں کو چھوڑدے تم گناہوں کو چھوڑ دے گا تو تیرے گھر میں رزق آنا شروع ہوجائے گا تیرے روکے ہوئے کام پورے ہونا شروع ہو جائیں گے۔

وہ شخص کہنے لگا آپ مجھے عشارہ تو دیں میں کیسے گناہوں کو چھوڑ دوں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے اے شخص تو اپنی زندگی میں جو گناہ روزانہ کرتا ہے اور جان بوجھ کر کرتا ہے تو نماز نہیں پڑھتا اور جب آزان ہوتی ہے تو تم مسجد کی جانب نہیں جاتے تو نماز پڑھنا شروع کر دے اگر شراب پیتا ہے تو شراب کو چھوڑ دے جو برائی توں جان بوجھ کر کرتا ہے وہ برائی چھوڑ دے وہ گناہ چھوڑ دے اگر کوئی جانے انجانے میں تجھ سے کوئی گناہ ہوجائے تورات کو سونے سے پہلے اپنے اللہ سے گناہوں کی معافی مانگ لے کہ یا اللہ جو گناہ مجھ سے جانے انجانے میں ہوئے تجھے معلوم ہے تو دلوں کے رازوں کو جانتا ہے یااللہ میرے وہ گناہوں کو معاف فرما انشاء اللہ تو یہ کام کرے گا تو تیرے اٹکے ہوئے کام بھی ہونا شروع ہو جائیں گے اکثر لوگ کہتے ہیں میری ڈیل ہوتے ہوتے رہ گئی ہے یہ جو ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے یہ کسی وجہ سے ہے مگر جب عاملین کے پاس جاتے ہیں تو وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ کسی نے کچھ کر دیا ہے اللہ پاک ان سے بچائے کسی نے بھی کچھ نہیں ہے کیا اللہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمارا رزق تنگ کر دیتے ہیں لگتا ہے کسی نے کاروبار بند کر دیا ہے۔

کیوں کسی کو چھوٹا خدا کیوں مانتے ہیں کاروبار اللہ نے چلانا ہے اور اللہ نے ہی روکنا ہے اللہ پاک دینا چاہیں تو ساری مخلوق اکھٹی ہو جائے تو روک نہیں ہے سکتی اللہ نہ دینا چاہیں تو ساری مخلوق اکھٹی ہوجائے تو کچھ دے نہیں سکتی ہم سچی توبہ کر کہ دیکھیں راستے کھلتے ہیں کہ نہیں چھوٹے عاملین کی یہ نشانی ہے یہ بتا تودیتے ہیں کسی نے کچھ کیا ہے لیکن حل نہیں کر سکتے لیکن اس کا حل ایک ہی ہے حل یہ ہے کہ تنہائی میں وضو کر کے دونوافل رکعت پڑھ لیں اپنے اللہ سے صلح کر لیں کہ میرے اللہ آج تک جتنے بھی گناہ کئے میں سب سے توبہ کرتا ہوں۔

میں آج کے بعد نا فرمانی نہیں کروں گا آپ اللہ سے صلح کر لیں گے تو اللہ آپ کے لئے بند دروازوں کو کھولنے لگ پریں گے۔ تو دوستو اچھی بات کو شئیر کرنا صدقہ جاریا ہے اپنے دوستوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ شئیرکریں تاکہ ہر کوئی عمل کر سکے جزاک اللہ خیر۔

مجھے کسی اور وظیفے کی ضرورت نہیں

سورة فاتحہ کا پاور فل وظیفہ یہ وظیفہ کرنے سے انشاء اللہ اگر آپ کے گھر میں رزق کی تنگدستی ہے اگر آپ مالی طور پر بہت ہی پریشانی کا سامنا کر رہے ہیںیا آپ بے روزگا ہیں آپ کو جلدی روزگار نہیں ہے مل رہاآپ کی کافی ایجوکیشن ہے یا آپ کے گھر میں تنگدستی نے گیرا ڈال رکھا ہے یا آپ قرضے کے نیچے دبے ہوے ہیںقرضہ آپ کی جان نہیں ہے چھوڑ رہاہے آئے دن کو ئی نہ کوئی مالی پریشانی کا سامنا آپ کو کرنا پرتا ہے آپ نے سات راتوں کا یہ سورة فاتحہ کا آپ نے یہ عمل کرنا ہےگھر میں رزق کاجو بھی تنگدستی ہے جو بھی پریشانی ہے جو بھی رزق کا مسلہ ہے انشا ء اللہ حل ہو جا ئے گا۔

یہ بہت ہی پارفل عمل ہے اس عمل کو جس بھی بھائی نے بہن نے پڑھا ہے انہوں نے کامیابی حاصل کی ہےیہ وظیفہ ان کے لیے بہت ہی زبردست ہے جو مالی پریشانی کا بہت سامنا کر رہے ہے جو قرضے کے نیچے دبے ہوے ہیںیہ عمل کرنے سے آپ کا لینا والا ہاتھ دینے والا ہاتھ بن جائے گا انشا اللہ۔ آپ نے یہ سورة فاتحہ کا عمل خالی کمرے میں کرنا ہے جہاں کوئی اور موجود نہ ہو آپ اکیلے اس کمرے میں ہوں یہ عمل کرتے وقت سات راتوں کوآپ نے یہ عمل کرنا ہے ان سات راتوں میں کوئی ایک رات بھی مس ہو جائے تو کسی اور رات کو یہ عمل کر کے آپ سات راتیں پوری کر سکتیں ہیں آپ نے یہ عمل جمعرات سے شروع کرنا ہے اور بدھ تک آپ نے یہ عمل کرنا ہے اور خالی کمرے میں آپ نے یہ عمل کرنا ہے کوئی بھی نماز کے بعد آپ نے یہ عمل کرنا ہے اور یہ عمل کرنے کا ٹائم بھی ڈیلی ایک ہی ہو جس ٹائم پہلے

دن یہ عمل کرے اسی ٹائم ہی اور باقی دن یہ عمل کرنا ہے آپ کو کوئی بھی پریشانی ہے آپ کا کوئی بھی مسلہ ہے اس تصور کو آپ نے اپنے زہن میںرکھ کر یہ عمل کرنا ہے رات کو یہ عمل کریں رات کو یہ عمل کرنے کی زیادہ فضیلت ہےاگر آپ رات کو نہیں کر سکتے تو دن کے کیسی حصے میں یہ عمل کر سکتے ہیں جب بھی آپ یہ عمل کریں عمل کرنے سے اول اور آخر گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھنا ہے درود شریف پڑہنے کے بعد آپ نے نوے مرتبہ سوة فاتحہ پڑھنا ہے آپ نے سورةفاتحہ ہر دفعہ بسم اللہ کے ساتھ نوے مرتبہ سورة فاتحہ پڑھنا ہے آخر میں پھر درود شریف گیارہ مرتبہ پڑھنے کہ بعد اللہ سے دعا کریں انشا اللہ جو بھی آ کی پرشانی ہو گی مشکالات ہو گی اللہ غائب سے آپ کی مد د فرمائے گا

مبارکباد دینے کیلئے آئی ہوں

نبیؐ نے جنگ احد میں جب اپنے چچا حضرت امیر حمزہؓ کو دیکھا ان کی لاش کا مسئلہ بنا پڑا تھا، ان کا دل نکال لیاگیا تھا اور ان کی آنکھیں نکال لی گئیں تھیں، کان کاٹ دیے گئے تھے، ہند نے ان کا ہار بنا کر اپنے گلے میں پہنا تھا اب سوچئے پیچھے لاش کاکیاحال ہو گا،نبی کریمؐ نے دیکھا تو آپؐ بہت آزردہ ہوئے آنکھوں میں سے آنسو آ گئے اور آپؐ نے اس وقت پابندی لگا دی کہ میری پھوپھی حضرت حمزہؓ کی بہن آپؓ کو دیکھنے کے لیے آئے گی دوسری عورتوں کی طرح تو ایسا نہ ایسا نہ ہو کہ وہ دیکھے اور اسے صدمہ پہنچے،

گھر کی عورتیں اپنے اپنے مردوں کو دیکھنے کے لیے آ گئیں کہ نہلائیں دفنائیں تو اس وقت میں آپ کی پھوپھی جو تھی وہ بھی آ گئیں مگر صحابہؓ نے روک دیا کہ نبی کریمؐ نے منع فرما دیاہے کہ آپؓ اپنے بھائی کی لاش نہیں دیکھ سکتیں۔ انہوں نے پوچھا: نبی کریمؐ آپ نے کیوں منع فرما دیا؟ آپؐ نے فرمایا کہ تم اس کی لاش کو دیکھنے کاحوصلہ نہ رکھو گی،

پوچھنے لگی اے اللہ کے نبیؐ! میں اپنے بھائی کی لاش پر رونے کے لیے نہیں آئی، میں تو اپنے بھائی کو مبارکباد دینے کے لیے آئی ہوں، جب نبی کریمؐ نے یہ الفاظ سنے تو فرمایا: اچھا پھر تمہیں دیکھنے کی اجازت ہے۔سوچئے کتنا بڑا دل کر لیا کہ میں تو اپنے بھائی کو مبارکبادی دینے کے لیے آئی ہوں

روزانہ اس سورۃ کا ورد کریں

کیا راتوں رات امیر بننا ممکن ہے؟ کیا چند دنوں میں بہت زیادہ دولت کمائی جاسکتی ہے؟ ایسے ہی سوالات کاجوب جاننے کے لیے آپ اس مضمون کی جانب متوجہ ہوئے ہونگے، لیکن اس کا جواب تو کوئی ایسا فرد دےسکتا ہے جو خود امیر ہو ، وہی بتاسکتا ہے کہ اسے امیر ہونے میں کتنا عرصہ لگا، جبکہ ایسا فرد جو خودامیر ہونے کی کوششیں کررہا ہے اس سے دولتمند ہونے کا کوئی مشورہ لینا فضول ہے۔ ایسا کونسا وظیفہ ہے جس کر کرنے سے دولت ملے گی؟ دیکھنے کے لیے اس اردو کے نیچے ویڈیو ہوگی وہ دیکھیں اور شیئر کریں دوسروں کے ساتھ شیئر کریں شکریہ جناب…

شکر ایک شخص حضرت غوث علی شاہ قلندرؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے کشائش رزق کیلئے وظیفہ پوچھا آپ نے فرمایا میاں اگر درود و وظائف پر روزی کا انحصار ہوتا تو دنیا میں مولویوں سے بڑھ کر کوئی دولت مند نہیں ہوتا. سچ پوچھو تو وظیفہ اس معاملہ میں الٹا اثر کرتا ہے.کیونکہ دنیا ایک میل کچیل ہے اور اللہ کا نام صابن. بھلا صابن سے میل میں اضافہ کیونکر ہو سکتا ہے. خدا کا نام تو صرف اس لئے ہے کہ اس کی برکت سے دنیا کی محبت دل سے دور ہو جائے نہ اس لئے کہ آدمی دنیا میں زیادہ آلودہ ہو. یہ باتیں سن کر اس شخص نے پھر اصرار کیا تو فرمایا ’’خیریاباسطاً بسط فی رزقی‘‘ پڑھا کرو لیکن مسجد سے باہر. خدا کے گھر میں دنیا طلبی کا کیا کام؟حضرت خواجہ محمد عبدالرحمن چوہردیؒ کے پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ سے محبانہ تعلقات تھے. ایک دفعہ حضرت گولڑوی نے خواجہ صاحب کے فقر اور افلاس کو دیکھ کر فرمایا کہ آپ فلاں وظیفہ پڑھا کریں تو آپ کا لنگر خوب چل جائے گاور آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو گی.خواجہ صاحبؒ خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا.

جب حضرت گولڑویؒ نے دو تین مرتبہ اصرار کیا تو انہوں نے فرمایا. ’’حضرت مجھے خدا سے شرم آتی ہے کہ باہر سے لوگ مجھے پیر سمجھ کر آئیں اور اندر پیر پیسوں کا وظیفہ پڑھتا ہو‘‘. حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف نے فرمایا ’’مرحبا جیسا آپ کو سنا تھا ویسا ہی پایا‘‘.ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت مخدوم جہانیاںؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میں حج پر جانا چاہتا ہوں لیکن استطاعت نہیں ہے آپ بادشاہ کو لکھیں کہ وہ سرکاری خزانہ سے مجھے زادِ راہ عنایت فرمائے. آپ نے یہ سن کر محرروں سے فرمایا کہ بادشاہ کو لکھ دو کہ اس شخص کو زادِ راہ عنایت کیا جائے لیکن میں نے فقہ میں دیکھا ہے کہ جو شخص بادشاہوں سے خرچ لے کر حج کو جاتا ہے اس کا حج قبول نہیں ہوتا.

بادشاہ کا علان

بادشاہ کا اعلان ہوا “جس نے آج کے بعد قران کو الله کا کلام کہا یا لکھا گردن اڑا دی جائے گی”بڑے بڑے محدثین علماء شہید کر دیئے گئے ساٹھ سال کے بوڑھے امام احمد بن حنبل امت کی رہنمائی کوبڑھے, فرمایا “جاؤ جا کر بتاؤ حاکم کو احمد کہتا ہے قرآن الله کی مخلوق نہیں الله کا کلام ہے”دربار میں پیشی ہوئی بہت ڈرایا گیا امام کا استقلال نہ ٹوٹا..مامون الرشید مر گیا اسکا بھائی معتصم حاکم بنا، امام کو ساٹھ کوڑوں کی سزا سنا دی گئی دن مقرر ہوا امام کو زنجیروں میں جکڑ کر لایا ﮔﯿﺎ, بغداد کر لایا ﮔﯿﺎ, بغداد میں سر ہی سر تھے ایک شخص شور مچاتا صفیں چیرتا پاس آﺍﯾﺎ : ” احمد احمد !مجھے جانتے ہو ؟.. فرمایا نہیں۔

میں ابو الحیثم ہوں بغداد کا سب سے بڑا چور احمد میں نے آج تک انکے بارہ سو کوڑے کھائے ہیں لیکن یہ مجھ سے چوریاں نہیں چھڑا سکے کہیں تم ان کے کوڑوں کے ڈر سے حق مت چھوڑ دینا.. امام میں نے اگر چوریاں چھوڑیں تو صرف میرے بچے بھوک سے تڑپیں گے لیکن اگر تم نے حق چھپایا تو امت برباد ہو جائے گی ..امام غش کھا کہ گر پڑے ہوش آیا تو دربار میں تھے.. حبشی کوڑے برسا رہا تھا تیس کوڑے ہوئے معتصم نے کہا امام کہیئے ..؟آپ نے فرمایا میں مر سکتا ہوں لیکن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین میں رتی برابر تبدیلی برداشت نہیں کر سکتا……پھر سے کوڑے برسنے لگے ….. ایک وزیر کوترس آیا : ” امام ایک مرتبہ میرے کان میں چپکے سے کہہ دیجئے قرآن کلام نہیں مخلوق ہے میں بادشاہ سے سفارش کرونگا “امام نے فرمایا ..

” تو میرے کان میں کہہ دے قرآن مخلوق نہیں الله کا کلام ہے قیامت میں رب سے میں تیری سفارش کرونگا “۲۸ ماہ کے قریب قید و بند اور کوڑوں کی سختیاں جھیلیں۔ آخر تنگ آکر حکومت نے آپ کو رہا کردیا۔اس آزمائش کے بعد اکیس سال تک زندہ رہے ، خلق خداکو فیض پہونچاتے رہے ، کوڑوں کی تکلیف آخر عمر تک محسوس کرتے تھے ، لیکن عبادت وریاضت میں مستقیم اور درس وتدریس میں ہمہ تن مصروف رہے ۔۱۲ ربیع الاول ۲۴۱ھ بروز جمعہ آپ نے وصال فرمایا ….. آئمہ اربعہ کی عظمت و استقامت کو سلاماے اللہ ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے, ﺍﮮ الله ﮨﻤﯿﮟﺑﻬﯽ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﮯ ﺟﻨﻬﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ, اللہ عزوجل ہمیں رسول اللہ ﷺ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرما, یا ذوالجلال والاکرام یاالله ! ہماری دعائیں اپنی شان کے مطابق قبول فرما۔ بِرَحْمَتِكَ يَآ أَرْحَمَ الرَّحِمِينَ آمِينْ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن