جن جن عورتوں میں یہ 3 نشانیاں موجود ہوں

حضرت عائشہؓ ارشاد فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ جن عورتوں میں یہ نشانیاں ہوں وہ بہت ہی بابرکت ہوتی ہیں۔ عورت کی بابرکت ہونے کی علامات میں سے ہے کہ ۔نمبر ایک : اس کی طرف رشتہ بھیجنے اوررشتہ منظور ہونے میں آسانی ہو ،۔نمبر دو : اس کا مہر آسان ہو یعنی بہت زیادہ پحیپدہ نہ ہونمبر تین : اس کے ہاں بچوں کی پیدائش میں آسانی ہو ۔جن عورتوں میں یہ نشانیاں پائی جاتی ہیں وہ بہت ہی بابرکت ہوتی ہیں۔ ”محبت” کو دعوت دی تھی ایک عورت کسی کام سے گھر سے باہر نکلی تو گھر کے باہر تین اجنبی بزرگوں کو بیٹھے دیکھا ،

عورت کہنے لگی میں آپ لوگوں کو جانتی نہیں لیکن لگتا ہے کہ آپ لوگ بھوکے ہیں چلیں اندر چلیں میں آپ لوگوں کو کھانا دیتی ہوں ان بزرگوں نے پوچھا : کیا گھر کا مالک موجود ہے؟ عورت کہنے لگی: نہیں ، وہ گھر پر موجود نہیں۔ انہوں نے جواب دیا : پھر تو ہم اندر نہیں جائیں گے۔رات کو جب خاوند گھر آیا تو عورت نے اسے سارے معاملے کی خبر دی۔ وہ کہنے لگا : انہیں اندر لے کر آؤ !عورت اُن کے پاس آئی اور اندر چلنے کو کہا ! انہوں نے جواب دیا : ہم تینوں ایک ساتھ اندر نہیں جاسکتے۔۔عورت نے پوچھا : وہ کیوں ؟ ایک نے یہ کہتے ہوئے وضاحت کی :اس کا نام ”مال” ہے اور اپنے ایک ساتھی کی طرف اشارہ کیا ، اور اس کا نام ” کامیابی ” ہے اور دوسرے ساتھی کی طرف اشارہ کیا، اور میرا نام محبت ہے، اور یہ کہتے ہوئے بات مکمل کی کہ جاؤ اپنے خاوند کے پاس جاؤ اور مشورہ کر لو کہ ہم میں سے کون اندر آئے؟عورت نے آکر خاوند کو سارا ماجرا سنایا ، وہ خوشی سے چلا اٹھا اور کہنے لگا : اگر یہی معاملہ ہے تو ”مال ” کو اندر بلا لیتے ہیں

گھر میں مال و دولت کی ریل پیل ہو جائے گی !عورت نے خاوند سے اختلاف کرتے ہوئے کہا : کیوں نہ ”کامیابی” کو دعوت دیں ؟ میاں بیوی کی یہ باتیں اُن کی بہو گھر کے ایک کونے میں بیٹھی سن رہی تھی،اُس نے جلدی سے اپنی رائے دی :کیوں نہ ہم ”محبت” کو بلا لیں اور ہمارا گھرانہ پیار و محبت سے بھر جائے! خاوند کہنے لگا : بہو کی نصیحت مان لیتے ہیں ،جاؤ اور ”محبت” کو اندر لے آؤ۔ عورت باہر آئی اور بولی :۔۔آپ میں سے ”محبت ”کون ہے وہ ہمیں مہمان نوازی کا شرف بخشے۔ گھر والوں کا مطلوبہ شخص اٹھا اور اندر جانے لگا تو اس کے دونوں ساتھی بھی کھڑے ہو گئے اور اس کے پیچھے چلنے لگے، عورت حیران و پریشان اُن کا منہ دیکھنے لگی۔عورت نے ” مال ” اور ”کامیابی” سے کہا ؛ میں نے تو صرف ”محبت” کو دعوت دی تھی،آپ دونوں کیوں ساتھ جا رہے ہیں؟ دونوں نے جواب دیا :اگر تم نے ” مال ” یا ”۔۔کامیابی ” میں سے کسی کو بلایا ہوتا تو باقی دونوں باہر رہتے لیکن تم نے کیونکہ ” محبت ” کو بلایا ہے یہ جہاں ہو ہم اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جہاں ” محبت ” ہو گی وہاں ” مال ” اور ” کامیابی” بھی ملیں گے۔ اپنے دل میں اور اپنے عزیزوں اور ساتھیوں کے دلوں میں محبت پیدا کیجئے،۔۔آپ ایک کامیاب شخصیت کے مالک بن جائیں گے یاد رکھئے : اگر آپ” محبت ” کے ساتھ دوسروں سے پیش آئیں تو آپ کی مثال اس چراغ کی سی ہے جس کے گرد لوگ اندھیرے میں اکٹھے ہوجاتے ہیں

مدینہ میں ایک حمام (غسل خانہ ) تھا۔جس میں مردہ عورتوں کو نہلایاجاتاتھا

مدینہ میں ایک حمام (غسل خانہ ) تھا۔جس میں مردہ عورتوں کو نہلایاجاتاتھا اوران تجہیزو تکفین کی جاتی تھی۔ایک مرتبہ اس میں ایک خاتون جس کاانتقال ہوچکاتھا۔نہلانے کیلئے لایاگیا۔اس کو غسل دیاجارہاتھاکہ ایک عورت نے اس مردہ خاتون کو برابھلاکہتے ہوئے کہا توبدکار ہے اوراس کی کمر سے نیچے ایک لترمارالیکن اس برابھلاکہنے والی اورپھرمردہ عورت کو مارنے والی عورت کاہاتھ جہاں اس نے ماراتھاچپک گیا۔عورتوں نےبہت کوشش اورتدبیر کی لیکن ہاتھ الگ نہیں ہوا۔ بات پورے شہر میں پھیل گئی کیونکہ معاملہ ہی عجیب تھا۔ ایک زندہ عورت کا ہاتھ ایک مردہ عورت سے چپکاہواہے اب اس کو کس

اس کو کس تدبیر سے الگ کیاجائے۔مردہ کودفن بھی کرناضروری ہے۔اس کے لواحقین الگ پریشان ہوں گے۔معاملہ شہر کے والی اورحاکم تک پہنچ گیا۔ انہوں نے فقہاءسے مشورہ کیا۔بعض نے رائے دی کہ اس زندہ عورت کا ہاتھ کاٹ کر الگ کیاجائے۔کچھ کی رائے یہ بنی کہ مردہ عورت کے جس حصہ سے اس زندہ خاتون کاہاتھ چپکاہے۔اتنے حصہ کو کاٹ لیاجائے۔کچھ کاکہناتھاکہ مردہ کی بے عزتی نہیں کی جاسکتی۔کچھ کاکہناتھاکہ زندہ عورت کاہاتھ کاٹنااس کو پوری زندگی کیلئے معذور بنادے گا۔

شہر کاوالی اورحاکم امام مالکؒ کا قدرشناس اوران کے تفقہ اورفہم وفراست کا قائل تھا۔اس نے کہاکہ میں جب تک اس بارے میں امام مالکؒ سے بات کرکے ان کی رائے نہ لوں میں کوئی فیصلہ نہیں دے سکتا۔امام مالکؒ کے سامنے پورامعاملہ پیش کیاگیا۔توانہوں نے سن کر فرمایانہ زندہ خاتون کاہاتھ کاٹاجائے اورنہ مردہ عورت کے جسم کاکوئی حصہ الگ کیاجائے۔میری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ مردہ عورت پر اس زندہ خاتون نے جو الزام لگایاہے

وہ اس کا بدلہ اورقصاص طلب کررہی ہے لہٰذاس الزام لگانے والی عورت کو شرعی حد سے گزاراجائے چنانچہ شرعی حدجوتمہت لگانے کی ہے یعنی اسی کوڑے۔کوڑے مارنے شروع کئے گئے۔ایک دو،دس بیس،پچاس،ساٹھ ستر بلکہ اناسی79کوڑوں تک اس زندہ خاتون کا ہاتھ مردہ عورت کے جسم کے کمر کے نچلے حصہ سے چپکارہا۔جوں ہی آخری کوڑاماراگیا۔اس کا ہاتھ مردہ عورت کے جسم سے الگ ہوگیا۔

یقینا اس واقعہ میں دوسروں پر بےجا تہمتیں لگانے والوں کے لیے بڑی عبرت موجود ہے،اللہ سبحانہ تعالی ہم سب کو اس گناہ کے شر سے اپنی پناہ رحمت عطا فرمائیں۔ بحوالہ بستان المحدثین للشاہ عبدلعزیز دہلوی،صفحہ25۔انوارالمسالک لمحمد بن علوی المالکی الحسنی 244،شرح التجرید الصحیح للعلامہ الشرقاوی 343

جلیل القدر پیغمبر کی بیوی کو اللہ نے عبرت کا نشان بنا دیا

لوط علیہ السلام قوم سدوم کی طرف اللہ کےبھیجے ہوئے پیغمبر تھے جنہوں نے کئی سال تک اس قوم کو تبلیغ کی تھی ۔ کہاں جاتا ہے کہ سدوم کا علاقہ اس جگہ پر ہے جہاں آج کل بحر مردار پایا جاتا ہے یہ سمندر دوسرے سمندروں سے بے حد مختلف ہے اور اس میں کسی قسم کی سمندری مخلوق نہیں پائی جاتی ۔ کیونکہ اس کا پانی انتہائی کڑوا ہے

لوط علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام کے بھانجے تھے جو سفر میں ان کے ساتھ تھے یہاں پہنچ کر ابراہیم علیہ السلام فلسطین کی طرف چلے گے اور اپنے بھانجے کو یہاں چھوڑ دیا ۔ کہاں جاتا ہے کہ یہ علاقہ انتہائی سرسبز تھا یہاں پانی وافر مقدار میں تھا اور یہاں کا باسی غذائی اجناس میں خود کفیل تھا حد نگاہ تک سبزہ نظر آتا تھا اور انتہائی خوشنما پھل دار درخت یہاں پائے جاتے تھے ۔اللہ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے یہ لوگ اللہ کی ناشکری اور کفر میں مبتلاء ہوئے ان کی بنیادی خرابیوں میں کفر کے ساتھ ہم جنس پرستی بھی تھی ۔ اس کے ساتھ راہ گزرنے والوں کو لوٹ لیتے تھے جو مہمان آتا ان کے ساتھ بھی بد فعلی سے اجتناب نہیں کیا کرتے تھے ۔ جھوٹ فریب ان کا خاص کام تھا ۔

لوط علیہ السلام نے ان کو اللہ کی طرف بلایا اور ان کو کفر سے اسلام کی طرف دعوت دی اور ان کے اس قبیح فعل سے بہت منع کیا جس کے جواب میں وہ کہا کرتے تھے کہ تم تو صاف لوگ ہو یہاں اس بستی میں تمہارا کیا کام ہے اس لئے یہاں سے نکل جاؤ۔ ایک دن لوط علیہ السلام کے پاس دو فرشتے آئے جو انتہائی خوبصورت جوانوں کے شکل میں تھے ۔ ان کو دیکھ کر لوط علیہ السلام پریشان ہوئے کہ اب میرے مہمانوں کو یہ لوگ تنگ کریں گے ۔ لیکن فرشتوں نے ان سے کہا کہ گھبرائے نہیں ہم اللہ کی طرف سے بھیجے ہوے فرشتے ہیں ہم ان کو عذاب سینے آئے ہیں آپ اپنی قوم کو لے کر صبح سے پہلے نکل جائے اور کوئی بھی مڑ کر نہ دیکھے ۔

لوط علیہ السلام صبح اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل گئے لیکن ان کی بیوی جو کفار کے ساتھ ملی ہوئی تھی وہ بار بار مڑ کر دیکھتی اور کہتی جاتی کہ ہائے میری قوم ۔ اس دوران ایک پتھر آیا اور اس کے منہ پر لگ گیا جس سے وہ فورا ہلاک ہو گئی ۔

کہاں جاتا ہے کہ اس کی لاش اب بھی وہاں موجود ہے جہاں پر عذاب آیا تھا اور دور سے اس کی نشانی بھی نظر آجاتی ہے

طوفان نوح

طوفان نوح گزر جانے کے بعد جب حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر پہنچ کر ٹھہر گئی تو حضرت نوح علیہ السلام نے روئے زمین کی خبر لانے کیلئے کبوتر کو بھیجا تو وہ زمین پر نہیں اترا بلکہ مل سبا سے زیتون کی ایک پتی چونچ میں لے کر آ گیا تو آپؑ نے فرمایا کہ تم زمین پر نہیں اترے اس لئے پھر جاؤ اور روئے زمین کی خبر لاؤ تو کبوتر دوبارہ روانہ ہوا اور مکہ مکرمہ میں حرم کعبہ کی زمین پر اترا اور دیکھ لیا کہ پانی زمین حرم سے ختم ہو

سے ختم ہو چکا ہےاور سرخ رنگ کی مٹی ظاہر ہو گئی ہے‘ کبوتر کے دونوں پاؤں سرخ مٹی سے رنگین ہو گئے اور وہ اسی حالت میں حضرت نوح علیہ السلام کے پاس واپس آ گیا اور عرض کیا کہ اے خدا کے پیغمبر! آپ میرے گلے میں ایک خوبصورت طوق عطاء فرمائیے

اور میرے پاؤں میں سرخ خضاب مرحمت فرمائیے اور مجھے زمین حرم میں سکونت کا شرف عطا فرمائیے چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے کبوتر کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور اس کیلئے یہ دعا فرما دی کہ اس کے گلے میں دھاری کا ایک خوبصورت ہار پڑا رہے اور اس کے پاؤں سرخ ہو جائیں اور اس کی نسل میں خیر وبرکت رہے اور اس کو زمین حرم میں سکونت کا شرف ملے۔

میں نے ایک سفید ریش بزرگ سے ایک سوال پوچھا

میں نے ایک سفید ریش بزرگ سے ایک سوال پوچھا ”اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟“ وہ مسکرائے‘ قبلہ رو ہوئے‘ پاوں لپیٹے‘ رانیں تہہ کیں‘ اپنے جسم کا سارا بوجھ رانوں پر شفٹ کیا اور مجھ سے پوچھا ”تمہیں اللہ سے کیا چاہیے؟“ ہم دونوں اس وقت جنگل میں بیٹھے تھے‘ حبس اور گرمی کا موسم تھا‘ سانس تک لینا مشکل تھا‘ میں نے اوپر دیکھا‘ اوپر درختوں کے پتے تھے اور پتوں سے پرے گرم‘ پگھلتا ہوا سورج تھا‘ میں نے مسکرا کر عرض کیا ” اگر بادل آ جائیں‘ ذرا سی ٹھنڈی ہوائیں

ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں تو موسم اچھا ہو جائے گا“ وہ ہنسے اور آہستہ سے بولے ”لو دیکھو“ وہ اس کے بعد بیٹھے بیٹھے رکوع میں جھکے اور پنجابی زبان میں دعا کرنے لگے

”اللہ جی! کاکے کی دعا قبول کر لے‘ اللہ جی! ہماری سن لے“ وہ دعا کرتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے‘ پہلے ان کی پلکیں گیلی ہوئیں‘ پھر ان کے منہ سے سسکیوں کی آوازیں آئیں اور پھر ان کی آنکھیں چھم چھم برسنے لگیں‘ وہ بری طرح رو رہے تھے۔

میں ان کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا‘ میں نے زندگی میں بے شمار لوگوں کو روتے دیکھا لیکن ان کا رونا عجیب تھا‘ وہ ایک خاص ردھم میں رو رہے تھے‘ منہ سے سسکی نکلتی تھی‘ پھر آنکھیں برستیں تھیں اور پھر ”اللہ جی! ہماری سن لے“ کا راگ الاپ بنتا تھا‘ میں پریشانی‘ استعجاب اور خوف کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ انھیں دیکھ رہا تھا‘ وہ دعا کرتے جاتے تھے‘ روتے جاتے تھے اور سسکیاں بھرتے جاتے تھے‘ میں نے پھر وہاں ایک عجیب منظر دیکھا‘ مجھے ہوا ٹھنڈی ہوتی ہوئی محسوس ہوئی‘ آسمان پر اسی طرح گرم سورج چمک رہا تھا لیکن جنگل کی ہوا میں خنکی بڑھتی جا رہی تھی‘ میری پیشانی‘ سر اور گردن کا پسینہ خشک ہو گیا‘ میرے سینے اور کمر پر رینگتے ہوئے قطرے بھی غائب ہو گئے‘ میں ٹھنڈی ہوا کو محسوس کر رہا تھا اور حیران ہو رہا تھا‘ میرے دیکھتے ہی دیکھتے پتوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں‘ شاخیں ایک دوسرے کے ساتھ الجھنے لگیں‘ پودے ہوا کی موسیقی پر ناچنے لگے اور پھر بادل کا ایک ٹکڑا کہیں سے آیا اور سورج اور ہمارے سر کے درمیان تن کر ٹھہر گیا‘ وہ رکے‘ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور شکر ادا کرنے لگے۔

وہ دیر تک ”اللہ جی! آپ کا بہت شکر ہے‘ اللہ جی! آپ کی بہت مہربانی ہے“ کہتے رہے‘ وہ دعا سے فارغ ہوئے‘ ذرا سا اوپر اٹھے‘ ٹانگیں سیدھی کیں اور منہ میری طرف کر کے بیٹھ گئے‘ ان کی سفید داڑھی آنسووں سے تر تھی‘ انھوں نے کندھے سے رومال اتارا‘ داڑھی خشک کی اور پھر بولے ” دیکھ لو! اللہ نے اپنے دونوں بندوں کی بات مان لی“ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا‘ چوما اور پھر عرض کیا ”باباجی لیکن اللہ سے بات منوانے کا فارمولہ کیا ہے‘ اللہ کب‘ کیسے اور کیا کیا مانتا ہے؟“ وہ مسکرائے‘ شہادت کی دونوں انگلیاں آنکھوں پر رکھیں اور پھر بولے ” یہ دو آنکھیں فارمولہ ہیں“ میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولے ”میں نے یہ فارمولہ اپنی ماں سے سیکھا‘ میں بچپن میں جب بھی اپنی سے کوئی بات منوانا چاہتا تھا تو میں رونے لگتا تھا‘ ماں سے میرا رونا برداشت نہیں ہوتا تھا‘ وہ تڑپ اٹھتی تھی‘ وہ مجھے گود میں بھی اٹھا لیتی تھی‘

مجھے چومتی بھی تھی‘ میری آنکھیں بھی صاف کرتی تھی اور میری خواہش‘ میری ضرورت بھی پوری کرتی تھی۔میں ماں کی اس کمزوری کا جی بھر کر فائدہ اٹھاتا تھا‘ میں رو رو کر اس سے اپنی پسند کے کھانے بھی بنواتا تھا‘ اس سے نئے کپڑے اور نئے جوتے بھی لیتا تھا اور کھیلنے کے لیے گھر سے باہر بھی جاتا تھا“ وہ رکے اور پھر آہستہ سے بولے ”میں نے جب مولوی صاحب سے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا تو مولوی صاحب نے ایک دن فرمایا ” اللہ تعالیٰ انسان سے ستر ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے‘ یہ فقرہ سیدھا میرے دل میں لگا اور میں نے سوچا‘ میں رو کر اپنی ایک ماں سے سب کچھ منوا لیتا ہوں‘ اللہ اگر مجھ سے ستر ماوں جتنی محبت کرتا ہے تو پھر میں رو رو کر اس سے کیا کیا نہیں منوا سکتا“ وہ رکے اور بولے ” بس وہ دن ہے اور آج کا دن ہے‘ میں روتا ہوں‘ اللہ کی ذات میں ستر ماوں کی محبت جگاتا ہوں اور میری ہر خواہش‘ میری ہر دعا قبول ہو جاتی ہے۔

بادشاہ کا اعلان ہوا

بادشاہ کا اعلان ہوا “جس نے آج کے بعد قران کو الله کا کلام کہا یا لکھا گردن اڑا دی جائے گی”بڑے بڑے محدثین علماء شہید کر دیئے گئے ساٹھ سال کے بوڑھے امام احمد بن حنبل امت کی رہنمائی کوبڑھے, فرمایا “جاؤ جا کر بتاؤ حاکم کو احمد کہتا ہے قرآن الله کی مخلوق نہیں الله کا کلام ہے”دربار میں پیشی ہوئی بہت ڈرایا گیا امام کا استقلال نہ ٹوٹا..مامون الرشید مر گیا اسکا بھائی معتصم حاکم بنا، امام کو ساٹھ کوڑوں کی سزا سنا دی گئی دن مقرر ہوا امام کو زنجیروں میں جکڑ کر لایا ﮔﯿﺎ, بغداد

کر لایا ﮔﯿﺎ, بغداد میں سر ہی سر تھے ایک شخص شور مچاتا صفیں چیرتا پاس آﺍﯾﺎ : ” احمد احمد !مجھے جانتے ہو ؟.. فرمایا نہیں.

میں ابو الحیثم ہوں بغداد کا سب سے بڑا چور احمد میں نے آج تک انکے بارہ سو کوڑے کھائے ہیں لیکن یہ مجھ سے چوریاں نہیں چھڑا سکے کہیں تم ان کے کوڑوں کے ڈر سے حق مت چھوڑ دینا.. امام میں نے اگر چوریاں چھوڑیں تو صرف میرے بچے بھوک سے تڑپیں گے لیکن اگر تم نے حق چھپایا تو امت برباد ہو جائے گی ..امام غش کھا کہ گر پڑے ہوش آیا تو دربار میں تھے.. حبشی کوڑے برسا رہا تھا تیس کوڑے ہوئے معتصم نے کہا امام کہیئے ..؟آپ نے فرمایا میں مر سکتا ہوں لیکن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین میں رتی برابر تبدیلی برداشت نہیں کر سکتا……پھر سے کوڑے برسنے لگے ….. ایک وزیر کوترس آیا :

” امام ایک مرتبہ میرے کان میں چپکے سے کہہ دیجئے قرآن کلام نہیں مخلوق ہے میں بادشاہ سے سفارش کرونگا “امام نے فرمایا .. ” تو میرے کان میں کہہ دے قرآن مخلوق نہیں الله کا کلام ہے قیامت میں رب سے میں تیری سفارش کرونگا “۲۸ ماہ کے قریب قید و بند اور کوڑوں کی سختیاں جھیلیں۔ آخر تنگ آکر حکومت نے آپ کو رہا کردیا۔اس آزمائش کے بعد اکیس سال تک زندہ رہے ، خلق خداکو فیض پہونچاتے رہے ، کوڑوں کی تکلیف آخر عمر تک محسوس کرتے تھے ، لیکن عبادت وریاضت میں مستقیم اور درس وتدریس میں ہمہ تن مصروف رہے ۔۱۲ ربیع الاول ۲۴۱ھ بروز جمعہ آپ نے وصال فرمایا …..

آئمہ اربعہ کی عظمت و استقامت کو سلاماے اللہ ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے, ﺍﮮ الله ﮨﻤﯿﮟﺑﻬﯽ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﮯ ﺟﻨﻬﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ, اللہ عزوجل ہمیں رسول اللہ ﷺ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرما, یا ذوالجلال والاکرام یاالله ! ہماری دعائیں اپنی شان کے مطابق قبول فرما۔ بِرَحْمَتِكَ يَآ أَرْحَمَ الرَّحِمِينَ آمِينْ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن

دردوں اور بیماریوں کے لیے

ایک دفعہ رسول اللهﷺ تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضوان علیہم اجمعین بھی آپﷺ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللّه تعالیٰ نے مجھ پر بڑے بڑے احسانات کئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی پر نہیں کئے ۔پھر فرمایا میں بیٹھا ہوا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا اے محمدﷺ!الله تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کے پاس اپنی کتاب بھیجی اور اس کتاب میں ایک سورت ایسی بھیجی ہےکہ اگر وہ سورۃ تورات میں ہوتی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت
میں سے کوئی شخص یہود نہ

ہوتا ۔ اور اگر یہ سورہ انجیل میں ہوتی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت میں سے کوئی شخص نصرانی نہ ہوتا ۔اور اگر یہ سورۃ زبور میں ہوتی تو حضرت داؤد علیہ السلام کی امت میں کوئیامت میں کوئی شخص مغ ( بت خانہ کا خادم ) نہ ہوتا۔ یہ سورۃ میں نے قرآن میں اس لیے اتاری ہے کہ آپ کے امتی اس سورہ کی تلاوت کی برکت سے قیامت کے روز دوزخ کے عذاب سے اور قیامت کی ہولناکیوں سے بچ جائیں ۔جبرائیل علیہ السلام نے مزید فرمایا اے محمد ﷺ!اس خدا کی قسم جس نے آپؐ کو تمام کائنات کے لئے برحق نبی بنا کر بھیجا ہے اگر روئے زمین کے تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور تمام عالم کے درخت قلم بن جائیں اور سات آسمان اور سات زمینیں کاغذ بن جائیں پھر بھی ابتدائے عالم سے قیامت تک لکھتے رہنے کے باوجود اس سورۃ کی فضیلتیں نہیں لکھی جا سکیں گی۔ یہ سورہ فاتحہ ہے۔ سورۃ فاتحہ تمام دردوں اور بیماریوں کے لیے شفا ہے ۔جو بیماری کسی علاج سے ٹھیک نہ ہوتی ہو تو سورہ فاتحہ کو صبح کے فرضوں اور سنتوں کے درمیان بسم اللہ شریف کے ساتھ اکتالیس بار پڑھے اور پھونک مارے اللّه تعالیٰ اسے اس سورۃ کی برکت سے شفا بخشیں گے نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں۔

ہمیشہ محسن کو بھلائی کے ساتھ یاد رکھنا چاہیے۔۔!

ایک بادشاہ اپنے مُنہ زور گھوڑے پر سوار تھا. گھوڑا کسی وجہ سے بدکا تو بادشاہ سر کے بل زمین پر گر گیا اور اس کی گردن کی ھڈی کے مُہرے ہل گئے اب وہ گردن کو حرکت دینے پر بھی قادر نہ رہا. شاہی طبیبوں نے اپنی طرف سے سر توڑ کوششیں کیں مگر وہ بادشاہ کا علاج نہ کر سکے. ایک دن یونان کا ایک حکیم بادشاہ کے پاس آیا اور اس قدر جانفشانی سے علاج کیا کہ بادشاہ ٹھیک ھو گیا۔۔!! علاج کے بعد وہ حکیم اپنے وطن لوٹ گیا۔۔!! کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ بادشاہ کے

میں آیا تو سلام کے ارادے سے شاھی دربار میں حاضر ھوا اب لازم تھا کہ بادشاہ از روئے قدر دانی اس حکیم سے مروت اور مہربانی کا برتاؤ کرتا لیکن بادشاہ ایسے بن گیا جیسے اس حکیم کو جانتا ہی نہ ہو بادشاہ کے اس رویے سے حکیم بہت سخت رنجیدہ ہوا۔۔!! یونانی حکیم بادشاہ کے دربار سے باہر آیا تو اس نے ایک غلام کو پاس بلا کر کہا! میں تمہیں کچھ بیچ دیتا ہوںانہیں بادشاہ کی خدمت میں پیش کرنا اور کہنا کہ یونانی حکیم نے دئیے ہیں۔۔! انہیں دہکتے انگاروں پر ڈال کر ان کی دھونی لی جائے تو بہت فائدہ ہوتا ہے۔۔! غلام نے وہ بیچ بادشاہ کو پیش کر دئیے اور ساتھ میں ان کے فوائد سے بھی آگاہ کیا بادشاہ کے حکم سے فورا دہکتے انگارے پیش کیے گئے مگر جب بیچ انگاروں پر ڈال کر بادشاہ نے دھونی لی تو اسے ایک زور دار چھینک آئی جس سے اس کی گردن کے مہرے پھر سے پرانی حالت میں چلے گئے۔۔!! بادشاہ بہت چیخا چلایا سپاہی دوڑائے کہ حکیم کو گرفتار کر کے لاؤباوجود بہت تلاش و بسیار کے اس حکیم کا کچھ پتا نہ چلا ساری عمر بادشاہ نے ایسی ہی گزار دی۔۔!!شیخ سعدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ہمیشہ محسن کو بھلائی کے ساتھ یاد رکھنا چاہیے۔۔!! احسان فراموش شخص کمینہ ہوتا ہے اور فرمان خداوندی ہے کہ کمینہ شخص بھلائی نہیں پا سکتا۔۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

حضرت سلیمان علیہ سلام اور ملک الموت

ایک دن حضرت سلیمان ع س دربار میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں اچانک ملک الموت حضرت عزراٸیل ع س اگۓ سلام کیا تو سلیمان ع س نے پوچھا کہ کیسے انا ھوا تو عزراٸیل ع س نے فرمایا کچھ نہیں بس ویسے ایا تھا اور اٹھ کر چلے گۓ۔دربار میں موجود ایک وزیر کافی گھبرایا ھوا دکھاٸ دے رہا تھا ۔کہا سلیمان ع س یہ کون تھا فرمایا کہ یہ ملک الموت حضرت عزراٸیل ع س تھے۔وزیر نے کہا کہ جب وہ اۓ تو مجھے غصے سے دیکھا اور جب جارھے تھے تو مزید غصے سے دیکھا مجھے ڈر

رہا ھے میں اپنی بہن کے پاس جانا چاھتا ھوں ۔فرمایا کہاں ھے اپکی بہن وزیر بولے فلاں جزیرے میں سلیمان ع س نے فرمایا وہاں تو گھوڑا تیز رفتار سے جاۓ تو چھ رات اور چھ دن کا سفر ھے اپ میرا اڑن تحت لے جاٶ جلدی پہنچ جاٶگے۔وزیر چلا گیا لیکن واپس نہیں ایا کچھ دن بعد عزراٸیل ع س پھر تشریف لے اۓ تو سلیمان ع س نے اس دن والی بات کا ذکر کیا تو عزراٸیل ع س نے فرمایا کہاس وزیر کا انتظار میں فلاں جزیرے پر کر رہا تھا کیونکہ اسکی روح قبض کرنے کا حکم اس جزیرے پر تھا لیکن جب میں نے دنیا پر نظر ڈالی تو وہ یہاں اپ کے پاس بیٹھا تھا تو مجھے یہاں انا اسلیۓ پڑا کیونکہ راستہ چھ دن اور رات کے سفر کا تھا اور اس کے پاس تو چند ہی وقت تھا لیکن جب یہاں سے جاکر میں جزیرے پر پہنچا تو اپکے اڑن تحت پر وہ وزیر پہنچ گیا اور میں نے اسکی روح قبض کرلی

ایک عرب دانا نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی

ایک عرب دانا نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ 7 قسم کی عورتوں سے کبھی شادی نہ کرنا، خواہ وہ حسن و جمال اور مال و دولت میں بے مثال ہی کیوں نہ ہوں! وہ سات عورتیں یہ ہیں ۔۔انانہ ، منانہ، كنانہ، حنانہ، حداقہ، براقہ اور شداقہ!انانہ – وہ عورت جو ہر وقت سر پر پٹی باندھے رکھے، کیوں کہ شکوہ و شکایت ہی ہمیشہ اس کا معمول ہو گاـ 2) منانہ – وہ عورت جو ہر وقت مرد پر احسان ہی جتاتی

رہے کہ میں نے تیرے ساتھ یہ یہ احسان کیا اور تجھ سے تو مجھے کچھ حاصل نہیں ہوا 3) کنانہ – وہ عورت جو ہمیشہ ماضی کو یاد کرے فلاں وقت میں میرے پاس یہ تھا وہ تھا 4) حنانہ – وہ عورت جو ہر وقت اپنے سابقہ خاوند کو ہی یاد کرتی رہے

ہی یاد کرتی رہے اور کہے کہ وہ تو بڑا اچھا تھا مگر تم ویسے نہیں ہو 5) حداقہ – وہ عورت جو خاوند سے ہر وقت فرمائش ہی کرتی رہے، جو چیز بھی دیکھے اس کی طلبگار ہو جائے 6) براقہ – وہ عورت جو ہر وقت اپنی چمک دمک میں ہی لگی رہے 7) شداقہ – وہ عورت جو تیز زبان ہو اور ہر وقت باتیں بنانا ہی اس کا کام ہو