بیویوں سے پیار بڑھانے کے خصوصی نسخے

بیویوں سے پیار بڑھانے کے خصوصی نسخے ، اور وہ بھی مفتو مفت پهر دیر کس بات کی 1۔شریکِ حیات کے لیے زیبائش اِختیار کیجیے: اپنی شریکِ حیات کے لیے خُوبصورت لباس زیبِ تن کیجیے،خُوشبو لگائیے۔ آپ آخری بار اپنی بیوی کے لیے کب بنے سنورے تھے؟؟ جیسے مرد چاہتے ہیں کہ اُن کی بیویاں اُن کے لیے زیبائش اِختیار کریں،اسی طرح خواتین بھی یہ خواہش رکھتی ہیں کہ اُن کے شوہر بھی اُن کے لیے زیبائش اختیار کریں۔

یاد رکھیے کہ اللہ کے رسول ﷺ گھر لوٹتے وقت مسواک استعمال کرتے اور ہمیشہ اچھی خُوشبو پسند فرماتے۔ 2۔شریکِ حیات خوبصورت نام کا چناؤ: اپنی شریکِ حیات کے لیے خوبصورت نام کا اِستعمال کیجیے۔ اللہ کے رسُول ﷺ اپنی ازواج کو ایسے ناموں سے پُکارتے جو اُنہیں بے حد پسند تھے۔ اپنی شریکِ حیات کو محبوب ترین نام سے پُکارئیے، اور ایسے ناموں سے اجتناب کیجیے جن سے اُن کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔3۔ خوبیوں کی قدر کیجیے : اپنی شریکِ حیات سے مکھی جیسا برتاؤ مت کیجیے۔اپنی روزمرہ زندگی میں ھم مکھی کے بارے میں سوچتے بھی نہیں،یہاں تک کہ وہ ہمیں تنگ کرے۔ اسی طرح بعض اوقات عورت تمام دن اچھا کام کر کے بھی شوہر کی توجہ حاصل نہیں کر پاتی،یہاں تک کہ اُس کی کوئی غلطی شوہر کا دھیان کھینچ لیتی ہے۔ ایسا برتاؤ مت کیجیے،یہ غلط ہے۔

اُس کی خوبیوں کی قدر کیجیے اور انھی خوبیوں پر توجہ مرکوز کیجیے۔4۔ غلطیوں سے صرفِ نظر کیجیے: اگر آپ اپنی شریکِ حیات سے کوئی غلطی سرزد ہوتے دیکھیں تو درگزر کیجیے۔ یہی طریقہ نبی اکرم ﷺ نے اپنایا کہ جب آپ ﷺ نے ازواجِ مطہرات سے کچھ غیر موزوں ہوتے دیکھا تو آپ ﷺ نےخاموشی اختیار کی۔ اس اسلوب میں بہت کم مسلمان مرد ہی مہارت رکھتے ہیں۔5۔شریکِ حیات کو دیکھ کر مسکرائیے: ۔جب بھی اپنی شریکِ حیات کو دیکھیں تو دیکھ کر مسکرا دیجیے اور اکثر گلے لگائیے۔ مُسکرانا صدقہ ہے اور آپ کی شریکِ حیات اُمّتِ مسلمہ سے الگ نہیں ہے۔ تصور کیجیے کہ آپ کی شریکِ حیات آپ کو ہمیشہ مسکراتے ہوۓ دیکھے تو آپ کی زندگی کیسی گزرے گی۔

اُن احادیث کو یاد کیجیے کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے جانے سے پہلے اپنی زوجہ کو بوسہ دیتے جبکہ آپ ﷺ روزہ کی حالت میں ہوتے۔6۔ شکریہ ادا کیجیے: وہ تمام کام جو آپ کی شریکِ حیات آپ کے لیے کرتی ہیں،اُن سب کے لیے اُن کا شکریہ ادا کیجیے۔ بار بار شکریہ ادا کیجیے،مثال کے طور پر گھر پر رات کا کھانا۔ وہ آپ کے لیے کھانا بناتی ہے،گھر صاف کرتی ہےاور درجنوں دوسرے کام۔ اور بعض اوقات واحد ‘تعریف’ جس کی وہ مستحق قرار پاتی ہے وہ یہ کہ ‘آج سالن میں نمک کم تھا’۔ خدارا! ایسا مت کیجیے۔ اُس کے احسان مند رہیے۔7۔شریکِ حیات کو خوش رکھیے: اپنی شریکِ حیات سے کہیے کہ وہ آپ کو ایسی 10 باتوں سے متعلق آگاہ کرے جو آپ نے اُس کے لیے کیں اور وہ چیزیں اُس کی خوشی کا باعث بنیں۔ پھر آپ ان چیزوں کو اپنی شریکِ حیات کے لیے دہرائیے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ جاننا مشکل ہو کہ کیا چیز اسے خُوشی دے سکتی ہے۔

آپ اس بارے میں خود سے قیاس مت کیجیے، براہِ راست اپنی شریکِ حیات سے معلوم کیجیے اور ایسے لمحوں کو اپنی زندگی میں بار بار دھراتے رہیے۔8۔آرام کا خیال رکھیے: اپنی شریکِ حیات کی خواہشات کو کم مت جانیے۔ اسے آرام پہنچائیے۔ بعض اوقات شوہر اپنی بیویوں کی خواہشات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ھیں۔ ایسا مت کیجیے۔ نبیِ اکرم ﷺ نے اس واقعے میں ہمارے لیے مثال قائم کر دی کہ ‘حضرت صفیہ(رضی اللہُ عنھا)رو رھی تھیں،انھوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ آپ ﷺ نے انھیں ایک سست رفتار اونت پر سوار کروا دیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کے آنسو پونچھے، ان کو تسلی دی اور انہیں(نیا) اونٹ لا کر دیا’۔9۔مزاح کیجیے: اپنی شریکِ حیات سے مزاح کیجیے اور اس کا دل بہلائیے۔

دیکھیے کہ کیسے اللہ کے رسول ﷺ حضرت عائشہ(رضی اللہُ عنھا) کے ساتھ صحرا میں دوڑ لگاتے تھے۔ آپ نے اس طرح کی کوئی بات اپنی بیوی کے ساتھ آخری مرتبہ کب کی؟؟10- بہتر بننے کی کوشش کیجیے: ہمیشہ نبی اکرم ﷺ کے یہ الفاظ یاد رکھیے: ”تُم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنے والا ہے۔اور میں تم سب میں اپنے گھر والوں سے بہترین پیش آنے والا ہوں”۔ آپ بھی بھتر بننے کی کوشش کیجیے آخر میں بالخصوص اپنی ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے اللہ کے حضور دعا کرنا مت بھولیے۔ اللہ بہتر جاننے والا ہے۔

حضوراکرم ؐ نے پیٹ کے بل سونے سے کیوں منع فرمایا ؟

آج کل کی مصروف زندگی انسان کو بہت تھکا دیتی ہے اور دن بھر کے مصروف دن کے بعد جب رات میں بستر نظر آتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ بس اس پر فوراً لیٹ کے سوجائیں۔لہذا کچھ لوگوں کوتھکے ہوئے دن کے بعد جیسے ہی بسترنظر آتا ہے، وہ فوراً الٹے ہوکے اس پر سوجاتے ہیں۔ہر کوئی شخص مختلف طریقے سے سوتا ہے، کچھ افراد زیادہ جگہ لے کے سوتے ہیں، کچھ لوگ بالکل سمٹ کے سوتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پیٹ کے بل اوندھے ہوکے سوتے ہیں۔لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ

کے بل سونا کتنا خطرناک ہے؟پیٹ کے بل سونا آپ کی گردن اور پیٹھ کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔پیٹ کے بل سونے سے آپ کی نیند میں بھی خلل پیدا ہوتا ہے ، جس کے باعث اگلے دن آپ کا دن بالکل اچھا نہیں گزرتا اور تھکا تھکا محسوس کرتے ہیں۔پیٹ کے بل سونے سے آپ کی ریڑھ کی ہڈی میں کھیچاؤ پیدا ہوجاتا ہے، جس کے باعث آپ کو سونے میں دقت محسوس ہوتی ہےاور آپ اپنے روٹین کے کام بھی صحیح طور پر سرانجام نہیں دے سکتے ۔پیٹ کے بل سونے سےآپ کے جسم کے کون کون سے حصے متاثر ہوتے ہیں، وہ درج ذیل ہے۔ ریڑھ کی ہڈی آپ کے جسم میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، اگر یہ صحیح طور پر کام نہیں کرے گی توآپ کا پورا جسم متاثر ہوگا اور آپ کوئی بھی کام صحیح طرح سرانجام نہیں دے سکتے۔

اس کےعلاوہ پیٹ کے بل سونے سے آپ کے جسم کے کئی سارے حصے سن ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔٭پیٹ کے بل سونے سے گردن بھی متاثر ہوتی ہے، مسلسل الٹے یا پیٹ کے بل سونے سے آپ کی گردن میں درد بیٹھ جاتا ہے اور آپ آسانی کے ساتھ گردن کو حرکت نہیں دے سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پیٹ کے بل سونے کی بہت زیادہ عادت ہے تو آپ اس طرح سوتے ہوئے تکیے کا استعمال بالکل نہیں کریں، یا اگر کریں بھی تو بالکل پتلے تکیے کا استعمال کریں تاکہاس سےآپ کی گردن میں درد نہیں بیٹھے۔٭ جب آپ صبح سو کے اٹھیں تو اپنی جسم کو اسٹرچ کریں، اس عمل سے آپ کا جسم نارمل ہوجائے گا۔

حضرت حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھ لیتے پھر فرماتے :اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ “.اے اللہ مجھے اس دن اپنے عذاب سے بچائیے جس روز آپ اپنے بندوں کو اٹھائنگے۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب سوتے تو فرماتے :اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوت “اے اللہ میں آپ کے نام کے ساتھ زندہ ہوتا ہوں اور آپ کے نام کے ساتھ مرتا ہوں۔اور جب آپ ﷺ بیدار ہوتے تو فرماتے :الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ”تمام تعریف اللہ کی ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

شرابی کا جنازہ

ايک بزرگ علیہ الرحمۃفرماتے ہیں کہ ايک بار نصف رات گزر جانے کے بعد میں جنگل کی طرف نکل کھڑا ہوا۔راستے میں میں نے دیکھا کہ چار آدمی ایک جنازہ اٹھائے جا رہے ہیں۔میں سمجھا کہ شاید انہوں نے اسے قتل کیا ہے اور لاش ٹھکانے لگانے کیلئے کہیں لے جارہے ہیں۔جب وہ میرے نزدیک آئے تو میں نے ہمت کر کے ان سے پوچھا:اللہ عزوجل کاجو حق تم پر ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے میرے سوال کا جواب دو،کیا تم نے خود اسے قتل کیا ہے یا کسی اور نے اور اب تم اسے ٹھکانے لگانے کے لیے

لے جا رہے ہو؟۔انہوں نے جواب دیا:ہم نے نہ تو اسے قتل کیا ہے اور نہ ہی یہ مقتول ہے بلکہ ہم مزدور ہیں اوراس کی ماں نے ہمیں مزدوری دینی ہے،وہ اس کی قبر کے پاس ہمارا انتظار کر رہی ہے آؤ تم بھی ہمارے ساتھ آ جاؤ میں تجسس کی وجہ سے ان کے ساتھ ہولیا۔ہم قبرستا ن میں پہنچے تو دیکھا کہ واقعی ایک تازہ کھدی ہوئی قبر کے پاس ایک بوڑھی خاتون کھڑی تھیں۔میں ان کے قریب گیا اور پوچھا:اماں جان! آپ اپنے بیٹے کے جنازے کو دن کے وقت یہاں کیوں نہیں لائیں تاکہ اور لوگ بھی اس کے کفن دفن میں شریک ہو جاتے؟انہوں نے کہا:یہ جنازہ میرے لخت جگر کا ہے،میرا یہ بیٹا بڑا شرابی اور گناہ گار تھا،ہر وقت شراب کے نشے اور گناہ کی دلدل میں غرق رہتا تھا۔

جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے مجھے بلا کر تین چیزوں کی وصیت کی۔۔۔ (1)جب میں مر جاؤں تو میری گردن میں رسی ڈال کر گھر کے ارد گرد گھسیٹنا اور لوگوں کو کہنا کہ گنہگاروں اور نافرمانوں کی یہی سزا ہوتی ہے۔ (2)مجھے رات کے وقت دفن کرنا کیونکہ دن کے وقت جو بھی میرے جنازے کو دیکھے گا مجھے لعن طعن کریگا۔ (3)جب مجھے قبر میں رکھنے لگو تو میرے ساتھ اپنا ایک سفید بال بھی رکھ دیناکیونکہ اللہ عزوجل سفید بالوں سے حیا فرماتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ مجھے اس کی وجہ سے عذاب سے بچا لے۔جب یہ فوت ہوگیاتو میں نے اس کی پہلی وصیت کے مطابق جب میں نے اس کے گلے میں رسی ڈالی اوراسے گھسیٹنے لگی تو ہاتف غیبی سے آواز آئی اے بڑھیا! اسے یوں مت

گھسیٹو،اللہ عزوجل نے اسے اپنے گناہوں پر شرمندگی (یعنی توبہ)کی وجہ سے معاف فرمادیا ہے۔ جب میں نے اس بوڑھی عورت کی یہ بات سنی تو میں اس جنازے کے پاس گیا،اس پر نماز جنازہ پڑھی پھر اسے قبر میں دفن کر دیا۔میں نے اس کی بوڑھی ماں کے سر کا ایک سفید بال بھی اس کے ساتھ قبر میں رکھ دیا۔اس کام سے فارغ ہو کر جب ہم اس کی قبر کو بند کرنے لگے تو اس کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور اس نے اپنا ہاتھ کفن سے باہر نکال کر بلند کیا اور آنکھیں کھول دیں۔میں یہ دیکھ کر گھبرا گیا لیکن اس نے ہمیں مخاطب کر کے مسکراتے ہوئے کہا:اے شیخ!ہمارا رب عزوجل بڑا غفور الرحیم ہے،وہ احسان کرنے والوں کو بھی بخش دیتا ہے اور گنہگاروں کو بھی معاف فرمادیتا ہے۔

یہ کہہ کر اس نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔ہم سب نے مل کر اس کی قبر کو بند کر دیا اور اس پر مٹی درست کر کے واپس آ گئے۔(حکايات الصالحين ص78

عرب باشندے بھنڈی زیادہ استعمال کیوں کرتے ہیں؟ یہ سبزی انہیں کیوں پسند ہے ؟

سبزیاں اپنے اندر بے پناہ فوائد کی حامل ہیں اور انسانی صحت پر نہایت مفید اثرات مرتب کرتی ہیں۔ کھانے کے ساتھ ساتھ سبزیوں کا جسم پر بیرونی استعمال بھی نہایت فائدہ مند ہے۔ آج ہم یہاں آپ کو بھنڈی کا پیسٹ بنا کر اپنی جلد کو جوان اور چہرے کی جھریوں کو ختم کرنے کا طریقہ بتانے جا رہے ہیں۔ اس نسخے کو بنانے کیلئے آپ کو درج ذیل اجزا درکار ہونگے۔ بھنڈیاں چار عدد،لیموںنصف عدد، پانی ایک کپ۔ نسخہ بنانے کیلئے ایک برتن میں پانی ڈال کر بھنڈیاں اس میں ڈال دیں اور ابال آنے تک بھنڈیوں کو

پانی میں پکتا رہنے دیں۔ ابال آنے کے بعد بھنڈیاں پانی سےنکال کر ان کا پسٹ بنا لیں اور اس پیسٹ میں چند قطرے لیموں کے شامل کر کے اسے اچھی طرح مکس کر لیں۔ اس پیسٹ کو چہرے پر جھریوں کی جگہ یعنی چہرے پر جہاں جھریاں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں وہ چہرہ اور آنکھوں کے گرد جگہ ہے اس پر روزانہ مساج کریں اور 20منٹ سے لے کر آدھا گھنٹے تک لگا رہنے دیں اور بعد میں سادہ پانی سے دھو لیں۔ بھنڈیوں کا موسم رہنے تک آپ اس کو روزانہ استعمال کر سکتے ہیں۔ اس پیسٹ کے پہلے ہی استعمال سے آپ کو فرق نمایاں پتہ چل جائے گا جبکہ روزانہ کا استعمال آپ کو آپکی عمر سے 10سال چھوٹا بنا دے گا یعنی آپ کم عمر نظر آئینگے۔ یہاں یہ معلومات جان کر بھی آپ حیران رہ جائیں گے کہ عرب شہری بھنڈیوں کو بہت پسند کرتے ہیں اور سعودی عرب میں بھنڈیوں کا سوپ بنا کر گرمیوں میں پیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے بھنڈی کی تاثیر ٹھنڈی ہونا بھی ہے تاہم بھنڈی انسانی جلد پر نہایت مفید اثرات مرتب کرتی ہے اور آپ کی جلد کو بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات سے بچانے میں نہایت کارآمد ہے۔آپ ہر عمر میں ذہنی اور جسمانی طور پر اسمارٹ رہنا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو یہ خواہش تو ہر شخص کی ہوتی ہے مگر ایسا ممکن چند لوگ ہی کرپاتے ہیں۔روزمرہ کی مصروفیات اکثر افراد کو ذہنی صلاحیتوں اور جسمانی مضبوطی سے آہستہ آہستہ محروم کرسکتی ہیں جبکہ اس سے بچنے کے لیے کچھ کوششوں کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ درحقیقت یہ کوئی ایسا مشکل کام بھی نہیں،

آپ چند عام سی عادتیں اپنا کر خود کو ہر عمر میں اسمارٹ رکھ سکتے ہیں۔ درج ذیل میں ایسی ہی چند عام سی عادتیں بیان کی گئی ہیںجو آپ کو ایک اسمارٹ فرد بنانے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ تیز روشنی کا استعمال جی ہاں یہ درست ہے، اسمارٹ شخصیت بننے میں ایک آسان طریقہ لائٹس کو روشن کردینا ہے۔ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق میں چوہوں کو تیز روشنی میں رکھا گیا تو ان کی ٹاسک کی اہلیت نمایاں حد تک بہتر ہوگئی، جبکہ مدھم روشنی سے وہ دماغ کے یاداشت اور سیکھنے کے حصے ہیپوکیمپسکی 30 فیصد گنجائش سے محروم ہوگئے۔

محققین کا کہنا تھا کہ بیشتر افراد اس بات کا احساس نہیں کرپاتے کہ روشنی ان کے جسم پر کیا حقیقی اثر مرتب کرتی ہے۔ مخصوص روشنیاں ذہن کو چوکنا، توجہ اور دماغی کارکردگی کو بڑھانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ قدرتی مناظر دیکھیں کیا قدرت دماغ کے لیے کرشماتی دوا ہے؟ لگتا تو ایسا ہی ہے۔ یوٹاہ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہقدرتی مناظر میں گھومنا مسائل حل کرنے والی صلاحیت کو 50 فیصد تک بہتر کرسکتا ہے۔ محققین کے مطابق قدرتی مناظر میں گھومنا توجہ کے سرکٹس میں تنزلی ختم کردیتا ہے

جس سے تخلیقی اور مسائل حل کرنے کی اہلیت بہتر ہوتی ہے۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ قدرتی مناظر کی تصاویر کو دیکھنا ہی توجہ کی صلاحیت بڑھاتا ہے۔ جسمانی سرگرمیاں جسمانی طور پر متحرک رکھناجسم کے ساتھ دماغ کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق ورزش کا صرف ایک سیشن نیوروکیمیکلز تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے جس سے دماغی افعال میں بہتری آتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ کچھ دیر کی ورزش بھی یاداشت اور سیکھنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے،

جس کی ممکنہ وجہ دماغ میں آکسیجن کے بہاؤ میں اضافہ ہے۔ اسی طرح ورزش جسم کی دماغ میں پیداہونے والے فضلے کو خارج کرنے کی اہلیت بھی بڑھتی ہے۔ سورج کی روشنی بھی مددگار گھر سے باہر نکلنا بھی دماغی صلاحیت کے لیے کنجی ثابت ہوسکتا ہے اور اس کی وجہ ہے وٹامن ڈی۔ اس وٹامن کی زیادہ مقدار جسم میں بننے والے دماغی افعال کے ساتھ ساتھ توجہ اور معلومات کے تجزیے کی رفتار بھی بہتر کرتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی کا استعمال یاداشت اور سیکھنے کےٹاسک میں کارکردگی کو بڑھاتا ہے۔

نیند یہ تو سب کو معلوم ہے کہ اگر نیند پوری نہ ہو تو دماغ پر دھند سی چھا جاتی ہے، مگر کیا یہ جانتے ہیں کہ نیند کس طرح دماغ کو کام کرنے میں مدد دیتی ہے؟ روچسٹر یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کے دوران دماغی خلیات کے ارگرد موجود سیال زہریلے پروٹین کو خارج کرتا ہے جو بیداری کے دوران اکھٹے ہوتے ہیں۔ اچھی نیند ذہنی طور پر زیادہ چوکنا بناتی ہے،توجہ، مسائل حل کرنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو بہتر کرتی ہے، سوچنے کی رفتار تیز، منطقی سوچ اور یاداشت میں مدد دیتی ہے۔

حضرت عیسیٰ بن موسیٰ نے بیوی سے کہا کہ اگر چاند تجھ سے زیادہ خوبصورت ہے تو تمہیں تین طلاقیں ہوں

حضرت عیسیٰ بن موسیٰ ہاشمی اپنی بیوی سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے. ایک دن چودھویں رات کا چاند چڑھا ہوا تھا کہنے لگے اگر چاند تجھ سے زیادہ حسین ہے تو تجھ کو تین طلاقیں‌ ہوں.بیوی نے فوراً پردہ کر لیا اور کہا کہ چاند تو پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے اور میری رنگت میں تو وہ چمک نہیں ہے لہذا تو نے مجھے تین طلاقیں دیں اورطلاقیں جمع ہوگئیں. بڑے پریشان ہو گئے. رات بہت مشکل سے گزاری. صبح خلیفہ منصور کے پاس آ گئے .

اور کہا کہ رات اپنی بیوی کو یہ کہہ بیٹھا ہوں تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ تو خلیفہ نے علما کو بلایا اور سب کے سامنے یہ مسئلہ رکھا رو سب نے کہا کہ طلاق ہو گئی. ایک آدمی خاموش بیٹھا تھا اور وہ اما ابو حنیفہ کا شاگرد تھا۔سب نے کہا کہ طلاق ہوگئی. منصور پوچھنے لگا کہ تم نہیں بول رہے ہو. تو اس عالم نے سورہ طین کی آیات تلاوت کیں اور کہا کہ میرے رب نے کہا کہ میں نے انسان کو سب سے زیادہ خوبصورت بنایا ہے. فرمایہ کہ چاند جتنا بھی زیادہ خوبصورت کیوں نہ ہو اور یہ کتنی ہی کالی کیوں نہ ہو انسان ہونے کے ناطے یہ چاند سے زیادہ حسین ہے تو خلیفہ منصور نے کہا کہ جاؤ اپنی بیوی سے کہو کوئی طلاق نہیں‌ہوئی تم پریشانی چھوڑ دو.سورتہ یٰسین کی ایک آیت کا کمال شوہر بیوی کی محبت میں دیوانہ بیوی کو جی جی کرکے بلائے گا۔

شوہر کی محبت حاصل کرنے لے لیے سورت یٰسین کی ایک آیت کا بہت کمال کا عمل بتانے جارہے ہیں اگر شوہر عمل کرلے تو بیوی اس کی تابع ہوگی۔ اور اگر بیوی یہ عمل کرلے تو شوہر اس کا تابع ہوگا بہت ہی آسان ساوظیفہ ہے اگر آپ ایک دوسرے کی محبت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔تو آج ہی یہ عمل کریں نتیجہ دیکھ کر آپ ہمیں دعائوں میں یادر رکھیں گے۔ وظیفہ کرنے کا طریقہ سورتہ یٰسین کے ہر مبین: حَسبُنَا اللہ وَنعم الوَکِیل نعم المَولیٰ وَنعم النَصَیرُ450 بار پڑھنا ہے سات دن یہ وظیفہ کرنا ہے اور عمل کے اول و آخر تین بار درور شریف لازمی پڑھنا ہے۔

اگر آپ سورہ قریش ایک دفعہ پڑھیں گے تو اگرکھانے کے اندرزہربھی ملا ہوگا تو وہاثر نہیں کرے گا۔ کھانا فوڈ پوائزن نہیں بنے گااوروہ کھانا بیماری نہیں بنے گا، صحت بنے گا۔وہ کھانا اسے گناہوں کی طرف مائل نہیں کرے گا۔ نیکی کاذریعہ بنے گااورجو دوسری دفعہ سورہ قریش پڑھے گا اللہ پاک جل شانہ اس کو ایسا دسترخوان سدا دیتا رہے گا ، بہترین، اچھے سے اچھا عطا فرماتے رہیں گے ظاہر ہے روزی سکھی ہوگی تو دسترخوان اچھا ہوگا اور جو تیسری مرتبہ سورہ قریش پڑھے گا اللہ اس کی سات نسلوں کو بھی لاجواب لاجواب کھانے دسترخوان رزق دیتے رہیں گے۔آپ بھی آج سے ہی یہ پڑھیں زندگی میں تبدیلی آپ خود محسوس کریں گے

جب یہودیوں کو رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ بیٹی اور بیٹے کے پیدا ہونے کا سبب کونسی چیز ہوتی ہے

میں بیان کردہ ہر حکمت کا اپنا سائسنی وجود بھی ایک حقیقت رکھتا ہے لیکن انسان اپنے محدود علم سے اس کو پہچان نہیں پاتا ۔اسلام اور سائنس کو متصادم قراردینے والوں نے تو یہ یقین کررکھا ہے کہ اسلام جن حقیقتوں کی جانب اشارہ کرتا اور انہیں کھول کر بیان بھی کرتا ہے یہ نعوذ باللہ فرضی ہیں حالانکہ یہ لوگ فرض المرض میں گرفتار ہیں ،ان کی کوتاہ بینی اور تنگ دلی انہیں اسلام کو سمجھنے نہیں دیتی ۔

جیسا کہ قرآن میں بیٹوں اور بیٹیوں کی پیدائش بارے اللہ کا فرمان ہے کہ وہ جسے چاہے بیٹا دے جسے چاہے بیٹیاں ،اس پر میڈیکل سائنس پر ایمان رکھنے والے کہتے ہیں کہ میڈیکل سائنس نے تو اس پر زیادہ تفصیل بیان کررکھی ہے کہ بچوں کی جنس پر ایکس اور وائے کروموسوم کیا اہمیت رکھتے ہیں اور اس پر کسی کو قدرت نہیں ہے حالانکہ یہی نظریہ چودہ سو سال پہلے رسول کریم ﷺ نے کھول کر بیان کردیا تھا ۔یہ واقعہ سائنسی تحقیق سے بہت پہلے کا ہے جب بچوں کی پیدائش کو جانچنے کے لئے کوئی لیبارٹری ٹیسٹ وغیرہ موجود نہیں تھے ۔یہ علم اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو عطا کیا تھا کہ آپﷺ یہودیوں کے اس گروہ کے سوال پر یہ حقیقت بیان فرمائیں کہ لڑکی اور لڑکے کی پیدائش میں عورت کے بیضے اور مرد کے جرثومے کیا کردار ادا کرتے ہیں ۔

صحیح بخاری میں اس سے متعلقہ حدیث کے مطابق یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام قبول کرنے کے لئے ایسے سوالات پوچھے تھے کہ جن میں ایک سوال یہ بھی تھا ”اب ہم پوچھتے ہیں کہ عورت مرد کے پانی کی کیا کیفیت ہے؟ اور کیوں کبھی لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ اور کبھی لڑکی؟ “آپﷺ نے فرمایا ”سنو مرد کا پانی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زردی مائل ہوتا ہے جو بھی غالب آ جائے اسی کے مطابق پیدائش ہوتی ہے اور شبیہ بھی۔ جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو حکم الٰہی سے اولاد نرینہ ہوتی ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو حکم الٰہی سے اولاد لڑکی ہوتی ہے۔

“ دوسری حدیث کے الفاظ یوں ہیں” جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر سبقت کر جاتا ہے تو لڑکا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی سے سبق لے جاتا ہے تو لڑکی ہوتی ہے“ یہ جواب سنتے ہی یہودیوں کے سردار نے اسلام قبول کرلیا تھا ۔یہ حضرت عبداللہ بن سلام تھے جو اللہ کے رسول ﷺ کی حکیمانہ تاویل سن کر کلمہ شہادت پکار اٹھے تھے ۔انہوں نے عرض کیا ”حضورﷺ یہودی بڑے بیوقوف لوگ ہیں۔ اگر انہیں میرا اسلام لانا پہلے معلوم ہو جائے گا تو وہ مجھے ملامت کریں گے۔ آپﷺ پہلے انہیں ذرا قائل کر لیجئے“ اس کے بعد آپﷺ کے پاس جب یہودی آئے تو آپﷺ نے ان سے پوچھا” عبداللہ بن سلام تم میں کیسے شخص ہیں؟ “انہوں نے کہا ”بڑے بزرگ اور دانشور آدمی ہیں۔

بزرگوں کی اولاد میں سے ہیں وہ تو ہمارے سردار ہیں اور سرداروں کی اولاد میں سے ہیں “آپﷺ نے فرمایا” اچھا اگر وہ مسلمان ہو جائیں پھر تو تمہیں اسلام قبول کرنے میں کوئی تامل تو نہیں ہو گا؟“ کہنے لگے ”اعوذ باللہ اعوذ باللہ وہ مسلمان ہی کیوں ہونے لگے؟ “حضرت عبداللہ بن سلام ؓجو اب تک چھپے ہوئے تھے ،باہر آ گئے اور زور سے کلمہ پڑھا تو تمام کے تمام یہودی شور مچانے لگے۔ کہ یہ خود بھی برا ہے اس کے باپ دادا بھی برے تھے ۔یہ بڑا نیچلے درجہ کا آدمی ہے۔ خاندانی کمینہ ہے۔ حضرت عبداللہؓ نے فرمایا” حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی چیز کا مجھے ڈر تھا۔یہ لوگ جھٹلانے والے ہیں “

بیوی بار بار ماں پر الزام لگائے جا رہی تھی

بیوی بار بار ماں پر الزام لگائے جا رہی تھی اورشوہر بار بار اسکو اپنی حد میںرہنے کی کہہ رہا تھا،لیکن بیوی چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی،بار بار زور زور سے چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ،”اس نے انگوٹھی ٹیبل پر ہی رکھی تھی،اور تمهارےاور میرے علاوہ اس کمرے میں کوئی نہیں آیا،انگوٹھی ہو نا ہو ماں جی نے ہی اٹھائی ہے،بات جب شوہر کی برداشت سے باہر ہو گئی تواس نے بیوی کے گال پر ایک زور

دار طمانچہ دےمارا ابتین ماہ پہلے ہی تو شادی ہوئی تھی،بیوی سے طمانچہ برداشت نہیں ہوا وہ گھر چھوڑ کر جانے لگی،اور جاتے جاتے شوہر سے ایک سوال پوچھاکہ تمہیں اپنی ماں پر اتنا یقین کیوں ہے ؟؟تب شوہر نے جو جواب دیا،اس جواب کو سن کردروازے کے پیچھے کھڑی ماں نے سناتو اس کا دل بھر آیا شوہر نے بیوی کو بتایا کہ “جب وہ چھوٹا تھا تب اس کے والد گزر گئے ماں محلے کے گھروں میں جھاڑو پوچھا لگا کر جو کما پاتی تھی

اس سے ایک وقت کا کھانا آتا تھا ماں ایک پلیٹ میں مجھے روٹی دیتی تھی اور خالی ٹوکری ڈھک كر رکھ دیتی تھی اور کہتی تھی میری روٹیاں اس ٹوکری میں ہے بیٹا تو کھا لے میں نے بھی ہمیشہ آدھی روٹی کھا کر کہہ دیتا تھا کہ ماں میرا پیٹ بھر گیا ہے مجھے اور نہیں کھانا ہےماں نے مجھے میری جھوٹی آدھی روٹی کھا کر مجھے پالا پوسا اور بڑا کیا ہے آج میں نے دو روٹی کمانے کے قابل ہوا ہوں لیکن یہ کیسے بھول سکتا ہوں کہ ماں نے عمر کے اس حصے پر اپنی خواہشات کو مارا ہے، وہ ماں آج عمر کے اس حصے پر کیسے انگوٹھی کی بھوکی ہو گی … یہ میں سوچ بھی نہیں سکتا آپ تو تین ماہ سے میرے ساتھ ہو میں نے تو ماں کی تپسیا کو گزشتہ پچیس سالوں سے دیکھا ہے .. یہ سن کر ماں کی آنکھوں سے آنسو چھلک اٹھے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ بیٹا اس کی آدھی روٹی کا قرض چکا رہا ہے یا وہ بیٹے کی آدھی روٹی کا قرض۔

عورت کی مکاری

مسافر نے کنویں سے پانی بھرتی عورت سے مانگ کر پانی پیا۔ عورت مہذب، خوبصورت اور اپنے اطوار سے نہایت ہی بھلی اور معصوم سی لگتی تھی۔ آدمی نے پوچھا؛ تم نے کبھی عورتوں کی مکاری کے بارے میں تو نہیں سُنا ہوگا؟ عورت نے پانی بھرنا چھوڑا اور ایک اونچی دھاڑ مار کر اتنے زور سے چیخ و پُکار کرتےہوئے رونا شروع کیا کہ گاؤں کے لوگ بھی اس کی آہ و پکار سُن لیں۔

آدمی عورت کی اس حرکت سے خوفزدہ ہو کر بولا، تم ایسا کیوں اور کس لئے کر رہی ہو؟ عورت نے کہا تاکہ گاؤں والے آ کر تجھے قتل کر ڈالیں کیونکہ تو نے مجھے تکلیف دی ہے اور میرا دل دُکھایا ہے۔ آدمی گھگھیاتے ہوئے بولا؛ میری بات سُنو، میں ایک مسکین اور اپنے کام سے کام رکھنے والا مسافر ہوں، میں بھلا کیونکر تمہیں تکلیف پہنچاؤں گا؟ میں تو بس تمہاری معصومیت سے متاثر ہوا تھا تو پوچھ بیٹھا کہ تم نے تو یقیناً عورتوں کی مکاری کے بارے میں کبھی نہیں سُن رکھا ہوگا؟ تم ایک مہذب اور حسین و جمیل عورت ہو، مگر میں خدا خوفی رکھنے والا انسان ہوں، مجھے تم سے کیا لینا دینا کہ موقع پا کر تم سے بات کرنے کی خواہش کرونگا؟ اس بار عورت نے اپنا مشکیزہ اُٹھا کر اپنے اوپر اُنڈیل کر اپنے آپ کو پانی سے تربتر کر لیا۔ آدمی کی حیرت اس بار اور بھی دو چند ہو گئی۔ پوچھا اب کیا ہوا کہ تُم نے اتنی محنت سے کنویں سے نکالا پانی اپنے اوپر ڈال کر اپنے آپ کو بھگو لیا۔ ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ گاؤں والے لوگ کنویں تک پہنچ گئے۔ عورت نے اُن لوگوں کو بتایا کہ میں کنویں میں گر گئی تھی۔ اور آج اگر یہ مُسافر یہاں نا ہوتا اور مجھے باہر نا کھینچتا تو میں

مر ہی گئی تھی۔ لوگوں نے اس آدمی کے اس احسان کے بدلے اُسے گلے لگا کر شکریہ ادا کیا اور اُس کی ہمت و جوانمردی کا تذکرہ کرنے لگے۔ گاؤں کے لوگوں کے ساتھ عورت واپس جانے لگی تو اس آدمی نے پوچھا، اپنی ان دونوں حرکتوں کے پیچھے تمہاری کیا حکمت و دانائی تھی یہ تو بتاتی جاؤ! عورت کہنے لگی کہ بس اسی طرح ہی ہر عورت ہوا کرتی ہے؛ اگر اُسے اذیت دو گے تو تمہیں قتل کرا دینے سے کم پر راضی نہیں ہوگی اور اگر آُسے راضی اور خوش رکھو گے تو تمہیں بھی خوش و خرم رکھے گی۔

مومن کی شان

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ سید الانبیاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف فرما رہے تھے. ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر “یاکریم یاکریم” کی صدا تھی۔ حضور اکرم نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا۔ وہ اعرابی رُکن یمانی کیطرف جاتا تو پڑھتا یاکریم، سرکار دوعالم بھی پیچھے سے پڑھتے یاکریم۔ وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور پڑھتا یاکریم،، سرکار بھی اس کی آواز سے آواز ملاتےہوئے یاکریم پڑھتے۔

اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف دیکھا اور کہا کہ اے روشن چہرے والے !اے حسین قد والے ! اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم کی بارگاہ میں ضرور کرتا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں. سید دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تو اپنے نبی کو پہچانتا ہے ؟ عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے؟ عرض کیا: بِن دیکھے ان کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، مانا اور بغیر ملاقات کے میں نے انکی رسالت کی تصدیق کی۔ آپ نے فرمایا: مبارک ہو، میں دنیا میں تیرا نبی ہوں اور آخرت میں تیری شفاعت کرونگا۔ وہ حضور علیہ السلام کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ وہ معاملہ نہ کر جو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبریل علیہ السلام آئےاور عرض کیا کہ اللہ جل جلالہ نے آپ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے

کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اسکا حساب لیں گے۔ اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اللہ میرا حساب لے گا؟ فرمایا: ہاں، اگر وہ چاہے تو حساب لے گا۔ عرض کیا کہ اگر وہ میرا حساب لے گا تو میں اسکا حساب لونگا۔ آپ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لیگا؟ اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لیگا تو میں اسکی بخشش کا حساب لونگا۔ میرے گناہ زیادہ ہیں کہ اسکی بخشش؟ اگر اس نےمیری نافرنیوں کا حساب لیا تو میں اسکی معافی کا حساب لونگا۔ اگر اس نے میرے بخل کا امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لونگا۔ حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ پھر جبریل علیہ السلام آئے۔عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں۔ آپ کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تحلیل بھلا دی ہے۔ اپنے امتی کو کہیں نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اسکا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگا۔

قرآن پاک کی وہ ایک صورت جس کی تلاوت سے ہر مشکل سے مشکل کام آسان ہوجائے

دنیا میں عمومی طورپر انسان مالی پریشانیوں میں جکڑا رہتاہے لیکن کا حل بھی قرآن مجید میں موجود ہے ، سورۃ رحمان کی تلاوت کرنے سے نہ صرف آپ کے رزق میں کشادگی ہوتی ہے بلکہ قرضوں سے بھی نجات مل سکتی ہے ، وہ کچھ یوں ہیں۔فراخئی رزق کیلئے:ثواب کے علاوہ رزق کی فراخی کے لئے ہر روز نماز عشاء کے بعد تین بار سورۃ رحمان پڑھے۔ اول و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھے۔

ہر روز عشاء کی نماز کے بعد یہ وظیفہ بلا ناغہ پڑھنے کا معمول بنالیا جائے تو رب تعالیٰ کے فضل و کرم سے کبھی رزق میں کمی واقع نہ ہوگی۔غربت و افلاس سے چھٹکارا:عربت، تنگدستی اور افلاس دور کرنے کے لئے ہر جمعہ کو نماز عشاء پڑھ کر مصلحے پر بیٹھے اور اول و آخر گیارہ بار درود پاک پڑھے۔ درمیان میں دس مرتبہ سورہ رحمن پڑھے۔پھر رب تعالیٰ سے دعا مانگے اور کسی سے بات چیت نہ کرے۔ حق تعالیٰ نے چاہا تو چند ہی دنوں میں اس پر خدا کا بے انتہا انعام و اکرام ہوجائے گا۔دکان میں ترقی کے لئے:باوضو حالت میں سات مرتبہ سورہ رحمن شریف پڑھ کر اپنی دکان کے مال پر دم کریں۔

اللہ تعالیٰ نے چاہا تو دکان خوب چلے گی اور گاہک وافر مقدارمیں دکان میں آئیں گے۔قرض سے نجات:جس کسی پر بہت زیادہ قرض واجب الادا ہو اور وہ قرض ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ہر نماز کے بعد اول گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھے، پھر 11 بار سورہ رحمان پڑھے۔پڑھنے کے بعد پھر گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھے۔ حق تعالیٰ نے چاہا تو غیب سے قرض کی ادائیگی کا سامان پیدا ہوجائے گا اور پریشانی جاتی رہے گی۔