ایک ملاقات

شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ نے اپنے خطبات میں ایک واقعہ نقل فرمایا ہے کہ ایک لڑکے کو ایک لڑکی سے محبت ہوگئی مگر اس لڑکی کی کسی اور جگہ شادی ہوگئی ،لڑکا بڑا پریشان ہوا لڑکی کو خط لکھا کہ بی بی !میں تمہارے ساتھ شادی کی کوشش میں تھا مگر قسمت میں نہیں تھا ۔ اب آپ میرے ساتھ ایک مرتبہ ملاقات کر لیں اس کے لئے جو بھی فرمائش ہوگی میں پوری کروں گا ۔لڑکی نیک تھی اس نے کہا حضرت فاروق اعظمؓ کے پیچھے چالیس دن تک نماز با جماعت پڑھ لو

جہاں بلا ئیں گےحاضر ہوجاؤں گی ۔۔۔لڑکا پہلے لڑکی کے مکان کی طرف چکر لگاتا تھا مگر چالیس دن بعد اس نے جانا ختم کردیا ۔۔۔لڑکی نے پیغام بھجوایا کہ اگر میری فرمائش پوری کی ہے تو میں حاضر ہوں۔۔۔لڑکے نے کہا پہلے میرے دل میں آپ کی محبت تھی مگر اب اللہ تعالیٰ کی محبت بیٹھ گئی ہے اب آپ کا اور میرا راستہ جدا ہے ۔۔لڑکی نے خاوند کو یہ بات بتلادی اس کے خاوند نے فاروق اعظمؓ کو یہ بات بتلائی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ نے سچ فرمایا :’’بے شک نماز لوگوں کو بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے ۔‘‘ (خطبات مدنی)

بیوی کی بے صبری

بیوی کی بے صبری حضرت حبیب عجمی کی بی بی بدخلق تھیں،ایک دن شوہر سے کہنے لگیں اگر اللہ تعالیٰ تمہارے پاس کوئی فتوحات (مال وغیرہ) نہیں بھیجتا تو پھر مزدوری کر لوتاکہ گھر میں اخراجات پورے ہوں، حضرت اہلیہ کی بات سن کر جنگل میں تشریف لے گئے اور دن بھر عبادت الٰہی میں مصروف رہ کر شام کو گھر تشریف لے گئے مگر گھر داخل ہوتے ہی اہلیہ نے ایک ہی سوال کیا کہ مزدوری کہاں ہے؟ فرمایا کہ میں جس آقا کا مزدور ہوں وہ بے حد سخی ہے، اس سے مزدوری کا سوال کرتے ہوئے مجھے حیا

ہے، چنانچہ کئی دن تک یونہی سلسلہ سوال و جواب کا چلتا رہا، یہاں تک کہ اہلیہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور وہ اپنے شوہر کی بات کو نہ سمجھ سکی۔ بالآخر ایک دن مطالبہ کیا کہ یا تو اپنے آقا سے مزدوری کا مطالبہ کرو یا پھر کسی اور کی ملازمت و مزدوری کرو،کہا کہ اچھا آج مزدوری لاؤں گا حسب سابق دن بھر جنگل میں عبادت میں مصروف رہ کر جب شام کو لوٹے تو انتہائی پریشان اور رنجیدہ خاطر تھے کہ بیوی کو کیاجواب دوں گا؟ اسی پریشانی کے عالم میں جب گھر داخل ہوئے تو حیران انگشت بدندان رہ گئے کہ گھر کا نقشہ بدلا ہواہےتنور میں روٹیاں پک رہی ہیں اور اہلیہ محترمہ خوش و خرم، ہشاش بشاش شوہر کو دیکھتے

ہی کہنے لگی واقعی آپ جس کی مزدوری کرتے ہیں وہ آقا بے انتہا سخی ہے اور اس نے ہم سے اپنی سخاوت کے مطابق معاملہ کیا ہے،اور تمہارے مستاجر نے کریموں کی سی اجرت روانہ کی ہے اور اس کے قاصد نے پیغام دیا کہ حبیب سے کہو کہ عمل میں زیادہ کوشش کرو اور یہ نہ سمجھو کہ ہم نے اجرت میں جو تاخیر کی ہے وہ اس لیے کہ ہمارے پاس کچھ ہے نہیں اور نہ یہ بات ہے۔کہ ہم بخیل ہیں، تم اپنی آنکھیں ٹھنڈی اور دل خوش رکھو، پھر بیوی نے چند توڑے دیناروں کے بھرے ہوئے دکھائے جنہیں دیکھ کر حضرت بہت روئے،اور پھر بیوی کو حقیقت سے آگاہ کیا کہ یہ اجرت اللہ تعالیٰ نے بھجوائی ہے اور بیوی کو آگاہ کیا کہ یہ اس کی بے صبری کا نتیجہ ہے یہ سن کر بیوی نے اپنی بے صبری سے توبہ کی آئندہ شوہر کو ایسی تکلیف نہیں دے گی۔ (قصص الاولیاء) بہرحال بے صبری اللہ کو ناپسند ہے اگر گھر میں کھانے پینے، رہنے سہنے کی تکلیف ہو تو بجائے شوہر کو ستانے یا پریشان کرنے کے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے جائیں تو اس سے انشاء اللہ اطمینان و سکون حاصل ہو جائے گا

کبھی قرآن مجید کا کوئی معجزہ دیکھاہے؟

ایک مرتبہ کسی نے قاری عبدالباسط سے پوچھا، قاری صاحب! آپ اتنا مزے کا قرآن مجید پڑھتے ہیں، آپ نے بھی کبھی قرآن مجید کا کوئی معجزہ دیکھاہے ؟ وہ کہنے لگے، میں نے قرآن کے سینکڑوں معجزے آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ انہوں نے کہا ، کوئی ایک تو سنا دیجئے۔ تو یہ واقعہ انہوں نے خود سنایا۔قاری صاحب فرمانے لگے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب جمال عبدالناصر مصر کا صدر تھا۔

اس نے رشیا (روس) کا سرکاری دورہ کیا۔وہاں پر کمیونسٹ حکومت تھی۔ اس وقت کمیونزم کا طوطی بولتا تھا۔ دنیا اس سرخ انقلاب سے تھی۔جمال عبدالناصر ماسکو پہنچا۔ اس نے وہاں جاکر اپنے ملکی امور کے بارے میں کچھ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کےبعد انہوں نے تھوڑا سا وقت تبادلہ خیالات کے لئے رکھا ہوا تھا۔ اس وقت وہ آپس میں گپیں مارنے کے لئے بیٹھ گئے۔ جب آپس میں گپیں مارنے لگے تو ان کیمونسٹوں نے کہا ،جمال عبدالناصر! تم کیا مسلمان بنے پھرتے ہو، تم ہماری سرخ کتاب کو سنبھالو،

جو کیمونزم کا بنیادی ماخذ تھا، تم بھی کمیونسٹ بن جاؤ، ہم تمہارے ملک میں ٹیکنالوجی کو روشناس کرادیں گے، تمہارے ملک میں سائنسی ترقی بہت زیادہ ہو جائے گی اور تم دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہو جاؤ گے، اسلام کو چھوڑو اور کیمونزم اپنالو، جمال عبدالناصر نے انہیں اس کا جواب دیا تو سہی مگر دل کو تسلی نہ ہوئی۔ اتنے میں وقت ختم ہوگیا اور واپس آگیا۔ مگردل میں کسک باقی رہ گئی کہ نہیں مجھے اسلام کی حقانیت کو اور بھی زیادہ واضح کرنا چاہئے تھا، جتنا مجھ پر حق بنتا تھا میں اتنا نہیں کرسکا۔

دو سال کے بعد جمال عبدالناصر کو ایک مرتبہ پھر رشیا جانے کا موقع ملا۔ قاری صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے صدر کی طرف سے لیٹر ملا کہ آپ کو تیاری کرنی ہے اور میرے ساتھ ماسکوجانا ہے۔ کہنے لگے کہ میں بڑا حیران ہوا کہ قاری عبدالباسط کی تو ضرورت پڑےسعودی عرب میں، عرب امارات میں، پاکستان میں جہاں مسلمان بستے ہیں۔ ماسکو اور رشیا جہاں خدا بے زار لوگ موجود ہیں، دین بے زار لوگ موجود ہیں وہاں قاری عبدالباسط کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ خیر تیاری کی اور میں صدر صاحب کے ہمراہ وہاں پہنچا۔وہاں انہوں نے اپنی میٹنگ مکمل کی۔ اس کے بعد تھوڑا سا وقت تبادلہ خیالات کے لئے رکھا ہوا تھا۔

فرمانے لگے کہ اس مرتبہ جمال عبدالناصر نے ہمت سے کام لیا اور ان سے کہا کہ یہ میرے ساتھی ہیں جو آپ کے سامنے کچھ پڑھیں گے، آپ سنئے گا۔ وہ سمجھ نہ پائے کہ یہ کیا پڑھے گا۔ وہ پوچھنے لگے کہ یہ کیا پڑھے گا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ قرآن پڑھے گا۔ انہوں نے کہا ، اچھا پڑھے۔ فرمانے لگے کہ مجھے اشارہ ملا اور میں نے پڑھنا شروع کیا۔

سورہ طہٰ کا وہ رکوع پڑھنا شروع کردیا جسے سن کر کسی دور میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی ایمان لے آئے تھے۔فرماتے ہیں کہ میں نے جب دو رکوع تلاوت کرکے آنکھ کھولی تو میں نے قرآن کا معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ سامنے بیٹھے ہوئے کمیونسٹوں میں سے چار یا پانچ آدمی آنسوؤں سے رو رہے تھے۔ جمال عبدالناصر نے پوچھا ، جناب !آپ رو کیوں رہے ہیں؟ وہ کہنے لگے ہم تو کچھ نہیں سمجھے کہ آپ کے ساتھی نہ کیا پڑھا ہے مگر پتہ نہیں کہ اس کلام میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ ہمارے دل موم ہوگئے ، آنکھو ں سے آنسوؤں کی جھڑیاں لگ گئیں، اور ہم کچھ بتا نہیں سکتے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا۔۔۔؟ سبحان اللہ جو قرآن کو مانتے نہیں ، قرآن کو جانتے نہیں اگر وہ بھی قرآن سنتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں بھی تاثیر پیدا کردیا کرتے ہیں۔

ایک عورت پیر صاحب کے پاس گئی

ایک عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ہو جائے۔پیر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو شیر کی گردن کے بال پرہوگا۔ اور وہ بال بھی آپ خود شیر کی گردن سے اکھاڑ کر لائیں گی۔ تب اثر ہوگا ورنہ کوئی فائدہ نہ ہوگا۔وہ عورت بہت پریشان ہوگئی۔جاری ہے۔ اور مایوس ہو کر واپس آگئی اور اپنی سہیلیوں کو بتایا۔ایک سہیلی نے دیا کہ کام تو مشکل ہے مگر ناممکن نہیں، تم ایسا کرو کہ روزانہ پانچ کلو گوشت لیکر جنگل جایا کرو اور جہاں شیر آتا ہے وہاں ڈال کر چھپ جاؤ۔کچھ عرصہ بعد شیر کے سامنے جا کر ڈالو وہ گوشت کا عادی ہو جائیگا۔

تم اس کے قریب جاکر گوشت ڈالنا شروع کر دینا اور اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دینا اور جب شیر تم سے مانوس ہو جائے تو گردن سے بال اکھیڑ لینا۔اس عورت کو بات پسند آئی، دوسرے دن ہی اس نے گوشت لیا اور جنگل گئی اور گوشت ڈال کے چھپ گئی، شیر آیا گوشت کھایا اور چلا گیا۔اس عورت نے ایک ماہ تک ایسا کیا، ایک ماہ بعد اس نے شیر کے سامنے جا کر گوشت ڈالنا شروع کر دیا۔ تاکہ شیر کو پتہ چل سکے کہ اس کی خدمت کون کرتا ہے۔کچھ عرصہ بعد شیر بھی عورت سے مانوس ہو گیا تھا، عورت نے شیر کی گردن پر آہستہ آہستہ پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا.ایک دن عورت نے موقع دیکھ شیر کی گردن سے بال اکھیڑا اور خوشی خوشی پیر صاحب کے پاس پہنچ گئی اور بال پیر صاحب کو دیا اور کہا کہ میں شیر کی گردن سے بال اکھیڑ کر لے آئی ہوں اب آپ عمل شروع کریں۔پیر صاحب نے پوچھا: کیسے لائی ہو؟

تو عورت نے پوری تفصیل بتا دی۔پیر صاحب مسکرایا اور کہا کہ کیا تمہارا شوہر اس جنگلی درندے سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟جوکہ خونخوار ہوتاہے، جس کی تم نے چند دن خدمت کی اور وہ تم سے اتنا مانوس ہو گیا۔ کہ تم نے اس کی گردن سے بال اکھیڑ لیا اور اس نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا تمہارے شوہر کے ساتھ بھی پیٹ لگا ہوا ہے تم اس کی خدمت کرو جب جنگلی درندہ خدمت سے اتنا مانوس ہو سکتا ہے تو ایک باشعور انسان بھی آپ کے تابع ہو سکتا ہے

بے نمازی مسافر اور بھاگتا ہوا شیطان

ایک آدمی جنگل میں سفر کر رہا تھا۔ ایک دن شیطان بھی اس کے ساتھ ہوگیا اور سفر کرنے لگا۔ وہ آدمی سفر کرتا رہا اور نمازیں چھوڑتا رہا یہاں تک کہ اس نے فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء میں سے ایک بھی نماز ادا نہ کی۔ جب سونے کا وقت ہوا تو سونے کی تیاری کرنے لگا تو شیطان اس کے پاس سے بھاگنے لگا۔ اس مسافر نے بھاگتے ہوئے شخص سے پوچھا:بھائی خیریت تو ہے۔۔!دن بھر تم نے میرے ساتھ سفر کیا اور اس وقت جب کہ تمہیں آرام کرنا چاہئے تم مجھے چھوڑ کر کیوں بھاگ

ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں شیطان ہوں۔۔۔۔ میں نے زندگی میں ایک بار اللہ ﷻ کی نافرمانی کی تو راندۂ درگاہ اور ملعون ہوگیا۔ اے ابنِ آدم!تم نے تو ایک دن میں پانچ بار اللہ ﷻ کی نافرمانی کی۔ نمازوں کو ترک کردیا اور اسے کوئی اہمیت نہ دی۔مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ تیری نافرمانیوں کہ سبب تجھ پر کہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب نہ آجائے اور تیرے ساتھ رہنے کے سبب کہیں میں بھی عذاب میں مبتلا نہ کردیا جاؤں ۔۔۔! اسی لئے میں تمہارے پاس سے بھاگ رہا ہوں۔ (ملخص از درۃ الناصحین)قارئین کرام ! اس واقعہ میں ہمارے لئے سبق ہے ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کہیں ہم بھی تارکِ نماز تو نہیں اور نمازوں کو ترک کرکے کہیں ہم اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب تو نہیں بن رہے۔ ہمیں نمازوں کی فکر کرنی چاہئے۔اللہ ﷻہم تمام مسلمانوں کو نمازوں کی پابندی کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں نمازوں کی فکر عطا فرمائے۔ (اٰمین)

مجھے شیطان نے ورغلا کر براکام کروا دیا

ایک جیولر کی مشہور دکان تھی اس کی بیوی خوبصورت اور نیک سیرت تھی ایک سقا ( پانی لانے والا)اس کے گھر تیس سال تک پانی لاتا رہا بہت بااعتماد شخص تھا ایک دن اسی سقا نے پانی ڈالنے کے بعد اس جیولر کی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر شہوت سے دبایا اور چلاگیا عورت بہت غمزدہ ہوئی کہ اتنی مدت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اسی دوران جیولر کھانا کھانے کے لئے گھر آیا تو اس نے بیوی کو روتے ہوئے دیکھا پوچھنے پر صورتحال کی خبر ہوئی تو جیولر کی آنکھوںآنسو

آگئے بیوی نے پوچھا کیا ہوا ؟جیولر نے بتایا کہ آج ایک عورت زیور خریدنے آئی جب میں اسے زیور دینے لگا تو اس کا خوبصورت ہاتھ مجھے پسند آیا میں نے اس اجنبیہ کے ہاتھ کو شہوت کے ساتھشہوت کے ساتھ دبایا یہ میرے اوپر قرض ہو گیاتھا لہٰذا سقا نے تمہارے ہاتھ کو دباکر چکادیا میں تمہارے سامنے سچی توبہ کر تا ہوں کہ آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا ۔البتہ مجھے ضرور بتانا کہ سقا تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے دوسرے دن سقا پانی ڈالنے کے لئے آیا تو اس نے جیولر کی بیوی سے کہا کہ میں بہت شرمندہ ہوں کل مجھے شیطان نے ورغلا کر براکام کروا دیا میں نے سچی توبہ کرلی ہے آپ کو میں یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگاعجیب بات ہے کہ جیولر نے غیر عورت کو ہاتھ لگانے سے توبہ کر لی تو غیر مردوں نے اس کی عورت کو ہاتھ لگا نے سے توبہ کر لی.

موت کی بو

مجھے کسی صاحب نے ایک دلچسپواقعہ سنایا‘ وہ ترکی کے راستے یونان جانا چاہتے تھے‘ ایجنٹ انہیں ترکی لے گیا‘ یہ ازمیر شہر میں دوسرے لوگوں کے ساتھ برفباری کا انتظار کرنے لگے‘ سردیاں یورپ میںداخلے کا بہترین وقت ہوتا تھا‘ برف کی وجہ سے سیکورٹی اہلکار مورچوں میں دبک جاتے تھے‘ بارڈر پرگشت رک جاتا تھا‘ ایجنٹ لوگوں کو کشتیوں میں سوار کرتے تھے اور انہیں یونان کے کسی ساحل پر اتار دیتے تھے‘ یہ ایجنٹوں کی عام پریکٹس تھی‘ اس صاحب نے بتایا ”ہم ترکی میں ایجنٹ کے ڈیرے پر پڑے تھے‘ ہمارے ساتھ گوجرانوالہ کا ایک گندہ

لڑکا تھا‘ وہ نہاتا بھی نہیں تھا اور دانت بھی صاف نہیں کرتا تھا ‘ اس سےخوفناک بو آتی تھی‘ تمام لوگ اس سے پرہیز کرتے تھے‘ ہم لوگ دسمبر میں کشتی میں سوار ہوئے‘ ہم میں سے کوئی شخص اس لڑکے کو ساتھ نہیں لے جانا چاہتا تھا‘ ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ رونا شروع ہو گیا‘ ایجنٹ کے پاس وقت کم تھا چنانچہ اس نے اسے ٹھڈا مار کر کشتی میں پھینک دیا‘ کشتی جبیونان کی حدود میں داخل ہوئی تو کوسٹ گارڈ ایکٹو تھے‘یونان کو شاید ہماری کشتی کی مخبری ہو گئی تھی‘ ایجنٹ نے مختلف راستوں سے یونان میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ہر راستے پر کوسٹ گارڈ تھے‘ اس دوران اس لڑکے کی طبیعت خراب ہو گئی‘ وہ الٹیاں کرنے لگا‘ہم نے ایجنٹ سے احتجاج شروع کر دیا‘ ایجنٹ ٹینشن میں تھا‘ اسے غصہ آ گیا

اس نے دو لڑکوں کی مدد لی اور اسے اٹھا کر یخ پانی میں پھینک دیا‘ وہ بے۔جاری ہے ۔چارہ ڈبکیاں کھانے لگا‘ ہم آگے نکل گئے‘ ہم ابھی آدھ کلو میٹر آگے گئے تھے کہ ہم پر فائرنگ شروع ہو گئی‘ ایجنٹ نے کشتیموڑنے کی کوشش کی‘ کشتی اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور وہ پانی میں الٹ گئی‘ ہم سب پانی میں ڈبکیاں کھانے لگے‘ میں نے خود کو سردی‘ پانی اور خوف کے حوالے کر دیا‘ میری آنکھ کھلی تو میں ہسپتال میں تھا‘ مجھے عملے نے بتایا کشتی میں سوار تمام لوگ مر چکے ہیں‘ صرف دو لوگ بچے ہیں‘میں نے دوسرے شخص کے بارے میں پوچھا‘ ڈاکٹر نے میرے بیڈ کا پردہ ہٹا دیا‘ دوسرے بیڈ پر وہی لڑکا لیٹا تھا جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے سمندر میں پھینکا تھا‘ سمندر کی لہریں اسے دھکیل کر ساحل تک لے آئی تھیں‘ مجھے کوسٹ گارڈز نے بچا لیا تھا جبکہ باقی لوگ گولیوں کا نشانہ بن گئے یا پھر سردی سے ٹھٹھر کر مر چکے تھے‘ میں پندرہ دن ہسپتال رہا‘ میں اس دوران یہ سوچتا رہا ”میں کیوں بچ گیا“

مجھے کوئی جوابنہیں سوجھتا تھا‘ میں جب ہسپتال سے ڈسچارج ہو رہا تھا‘مجھے اس وقت یاد آیا میں نے اس لڑکے کو لائف جیکٹ پہنائی تھی‘ ایجنٹ جب اسے پانی میں پھینکنے کےلئے آ رہا تھا تو میںنے فوراً باکس سے جیکٹ نکال کر اسے پہنا دی تھی‘ یہ وہ نیکی تھی جس نے مجھے بچا لیا‘ مجھے جوں ہی یہ نیکی یاد آئی‘ مجھے چھ ماہ کا وہ سارا زمانہ یاد آ گیا‘ جو ہم نے اس لڑکے کے ساتھ گزارہ تھا‘ ہم نہ صرف ترکی میں اس کی وجہ سے بچتے رہے تھے بلکہ وہ جب تک ہماری کشتی میں موجود رہا ہم کوسٹ گارڈز سے بھی محفوظ رہے‘۔جاری ہے ۔ یخ پانیسے بھی اور موت سے بھی‘ ہم نے جوں ہی اسے کشتی سے دھکا دیا موت نے ہم پر اٹیک کر دیا‘ میں نے پولیس سے درخواست کی ”میں اپنے ساتھی سے ملنا چاہتا ہوں“ پولیس اہلکاروں نے بتایا ”وہ پولیس وین میں تمہارا انتظار کر رہا ہے“ میں گاڑی میں سوار ہوا اور جاتے ہی اسے گلے سے لگا لیا‘ مجھے اس وقت اس کے جسم سے کسی قسم کی کوئی بو نہیں آ رہی تھی‘ مجھے معلوم ہوا میرے ساتھیوں کو اس کے جسم سے اپنی موت کی بو آتی تھی‘ یہ ان لوگوں کی موت تھی جو انہیں اس سے الگ کرنا چاہتی تھی اور وہ جوں ہی الگ ہوئے سب موت کی آغوش میں چلے گئے۔

میرے ایک بزرگ دوست جوانی میں ارب پتی تھے لیکن ان کی زندگی کا آخری حصہ عسرت میں گزرا‘ مجھے انہوں نے ایک دن اپنی کہانی سنائی‘ انہوں نے بتایا ”میرے والد مل میں کامکرتے تھے‘ گزارہ مشکل سے ہوتا تھا‘ ان کا ایک کزن معذور تھا‘ کزن کے والدین فوت ہو گئے ‘ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیںرہا‘ میرے والد کو ترس آگیا‘ وہ اسے اپنے گھر لے آئے‘ ہم پانچ بہن بھائی تھے‘ گھر میں غربت تھی اور اوپر سے ایک معذور چچا سر پر آ گرا‘ والدہ کو وہ اچھے نہیں لگتے تھے‘ وہ سارا دن انہیں کوستی رہتی تھیں‘ ہم بھی والدہ کی وجہ سے ان سے نفرت کرتے تھے لیکن میرے والد کو ان سے محبت تھی‘ وہ انہیں ہاتھ سے کھانا بھیکھلاتے تھے‘۔جاری ہے ۔ان کا پاخانه بھی صاف کرتے تھے اور انہیں کپڑے بھی پہناتے تھے‘ اللہ کا کرنا یہ ہوا‘ ہمارے حالات بدل گئے‘ ہمارے والد نے چھوٹی سی بھٹی لگائی‘ یہ بھٹی کارخانہ بنی اور وہ کارخانہ کارخانوں میں تبدیل ہو گیا‘ ہم ارب پتی ہو گئے‘ 1980ءکی دہائی میں ہمارے والد فوت ہو گئے‘

وہ چچا ترکے میں مجھے مل گئے‘ میں نے انہیں چند ماہ اپنے گھر رکھا لیکن میں جلدہی تنگ آ گیا ‘ میں نے انہیں پاگل خانے میں داخل کرا دیا‘وہ پاگل خانے میں رہ کر انتقال کر گئے بس ان کے انتقال کی دیر تھی ہمارا پورا خاندان عرشسے فرش پر آ گیا‘ ہماری فیکٹریاں‘ ہمارے گھراور ہماری گاڑیاں ہر چیز نیلام ہو گئی‘ ہم روٹی کے نوالوں کو ترسنے لگے‘ ہمیں اس وقت معلوم ہوا ہمارے معذور چچا ہمارے رزق کی ضمانت تھے‘ ہم ان کی وجہ سے محلوں میں زندگی گزار رہے تھے‘ وہ گئے تو ہماری ضمانت بھی ختم ہو گئی‘ ہمارے محل ہم سے رخصت ہو گئے‘ ہم سڑک پر آ گئے۔۔جاری ہے ۔یہ واقعات آپ کےلئے ہیں‘ہم نہیں جانتے ہم کن لوگوں کی وجہ سے زندہ ہیں‘ ہم کن کیرہے ہیں‘ ہم یہ بھی نہیں جانتے ہم کس کو بس سے اتاریں گے‘ ہم کس کو کشتی سے باہر پھینکیں گے اور ہم کس کے کھانے کی پلیٹ اٹھائیں گے اور وہ شخص ہمارا رزق‘ ہماری کامیابی اور ہماری زندگی ساتھ لے جائے گا‘ ہم ہرگزہرگز نہیں جانتے لہٰذا ہم جب تک اس شخص کو نہیں پہچان لیتے ہمیں اس وقت تک کسی کو بس‘ کشتی اور گھر سے نکالنے کا رسک نہیں لینا چاہیے‘ کیوں؟ کیونکہ ہو سکتا ہے ہمارے پاس جو کچھ ہو وہ سب اس شخص کا ہو اور اگروہ چلا گیا تو سب کچھ چلاجائے‘ ہم ہم نہ رہیں‘ مٹی کا ڈھیر بن جائیں۔

شادی اور محبت میں کیا فرق ہے؟

ایک بار ایک لڑکا اپنی ایک ٹیچر کے پاس گیا اور ان سے پوچھا کہ مس شادی اور پیار میں کیا فرق ہوتا ہے؟ وہ بولی کہ اس کا جواب میں تمہیں ایک تجربے کی روشنی میں سکھاؤں گی۔ ایک گندم کے کھیت میں جاؤ اور وہاں سے گندم کا ایک ایسا خوشہ توڑ کر لاؤ جو تمہیں سب سے بڑا اور شاندار لگے پر ایک شرط ہے کہ ایک بار آگے چلے گئے تو کھیت میں واپس جا کر کوئی پرانا گندم کا خوشہ نہیں توڑ سکتے، مثال کے طور پر تم نے ایک بہت بڑا خوشہ دیکھا لیکن تمہیں لگے کہ ابھی اتنا کھیت باقی پڑا ہے اور تم اس کو چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہو اور آگے کوئی خوشہ اس جتنا بڑا نہیں ملتا تو اب تم واپس لوٹ کر اس والے کو نہیں لے سکتے۔وہ

لے سکتے۔وہ گیا اور بغل والے کھیت میں چھانٹی کرنے لگا، ابھی دیکھ ہی رہا تھا کہ چوتھائی کھیت میں چھانٹی کر کے اس کو بہت سے بڑ ے بڑے گندم کے خوشے نظر آئے لیکن اس نے ان میں سے کسی کو چننے کے بچائی سوچا کہ ابھی اتنا کھیت باقی پڑا ہے اس میں اس سے بھی بڑے مل جائیں گے، جب اس نے سارا کھیت دیکھ لیا تو آخر میں اس کو سمجھ آئی کہ بالکل شروع میں جو خوشے اس نے دیکھے تھے وہی سب سے بڑے بڑے تھے اور اب وہ واپس تو جا نہیں سکتا تھا، سو وہ اپنی میڈم کے پاس خالی ہاتھ واپس لوٹ آیا۔اس کی میڈم نے پوچھا کہ کدھر ہے سب سے بڑا گندم کا خوشہ، وہ بولا کہ میں آگے نکل گیا تھا اس امید میں کہ شاید کوئی اور بہتر والا مل جائے گا مگر جب تک سمجھ آیا ، میں آگے آگیا تھا اور واپس تو نہیں لوٹ سکتا تھا نا۔ اس کی میڈم نے بولا کہ بیٹے سمجھ جاؤ کہ یہ معاملہ ہی محبت میں ہوتا ہے، آپ جوان ہوتے ہو، کم سن اور پر جوش بہتر سے بہتر کی تلاش میں ایک عمر گزار دیتے ہو تو پتہ چلتا ہے کہ جو بیچ میں چھوڑ دیے تھے وہی لوگ اصل میں بہت انمول تھے لیکن اب آپ ان کو واپس حاصل نہیں کر سکتے تو پچھتاتے ہو۔ اب ایک کام کرو ساتھ والے چھلی کے کھیت میں جاؤ اور ادھر سے سب سے بڑی چھلی لے کر آؤ جو تمہیں مطمئن کر سکتی ہو۔

وہ گیا اور لگا مکئی کے کھیت کی چھانٹی کرنے۔ ابھی تھوڑا ہی کھیت دیکھا تھا کہ ایک درمیانی چھلی اس کو ٹھیک لگی اور اس نے سوچا کہ پھر پہلے والی غلطی نہ کر بیٹھوں، تو وہ اسی کو لے آیا۔ میڈم نے بولا اب کی بار آپ خالی ہاتھ نہیں لوٹے؟ اس نے بولا، مجھے لگا کہ اس سے بڑی بھی ہوں گی مگر میرے لیے یہی بہتر تھی اور اگر آگے اس سے بھی چھوٹی ہوتیں تو میں واپس بھی تو نہیں لوٹ سکتا تھا نا۔ میڈم بولی: یہ ہے شادی کا معاملہ، جو آپ کو ایسی لگے کہ یہ مجھے مطمئن کر رہی ہے، اس کا سب سے شاندار ہونا ضروری نہیں، اور یہ بات ہمیشہ آپکو آپ کی ماضی کی محبتوں کے تجربے سکھاتے ہیں۔ اب آپ سمجھے کہ محبت اور شادی میں کیا فرق ہوتا ہے۔تیسرا پارٹنرعبدالحامد خان کراچی پرل کانٹیننٹل میں ملازم تھے‘ تنخواہ اچھی تھی لیکن وہ مالدار نہیں تھے‘ تین بچے تھے‘ ایک بیٹا اور دوبیٹیاں۔ صاحبزادے کا نام سہیل خان تھا‘ سہیل خان نے 1984ءمیں بی کام کیا اور یہ کراچی کی ایک گارمنٹس فیکٹری میں ملازم ہو گئے‘ یہ وہاں تین سال کام کرتے رہے‘ سہیل خان نے نوکری کے دوران اپنا بزنس شروع کرنے کا فیصلہ کیا‘ نوکری کو خیرباد کہا‘ پچاس ہزار روپے اکٹھے کئے‘نو سلائی مشینیں خریدیں اور یو اینڈ آئی کے نام سے گارمنٹس کا چھوٹا سا یونٹ لگا لیا‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا ہاتھ پکڑ لیااور یہ کامیاب ہونے لگے‘ یورپ اور امریکا کی گارمنٹس کمپنیاں اس وقت پاکستان سے ڈینم پینٹس بنواتی تھیں‘ سہیل خان نے ڈینم پینٹس بنانی شروع کر دیں اور یہ آہستہ آہستہ ملک کے بڑے ایکسپورٹرز میں بھی شمار ہونے لگے‘ سہیل خان نے 1990ءمیں والد عبدالحامد خان اور خاندان کے دوسرے لوگوں کو بھی کاروبار میں شامل کر لیا‘

یہ ترقی کے زینے چڑھتے چلے گئے‘ یہ 2000ءمیں تبلیغی جماعت میں شامل ہو گئے اور یہ مولانا طارق جمیل کے ساتھ چلے بھی لگانے لگے‘ جنید جمشید بھی اس وقت تازہ تازہ مولانا کے حلقے میں شامل ہوئے تھے‘ وہ بھی چلے پر جاتے رہتے تھے‘ یہ دونوں تبلیغ کرنے کے اس دور میں ایک دوسرے کے دوست بن گئے‘ جنید جمشید نے اس زمانے میں اپنے نام سے گارمنٹس کا ایک برانڈ بنایا اور وہ برانڈ کُرتا کارنر کے حوالے کر دیا‘ جنید جمشید ملک کا بڑا نام تھے لیکن ان کا برانڈ مار کھا گیا‘ وہ مارکیٹ میں جگہ نہ بنا سکا‘ جنید جمشید مذہب کی طرف راغب ہو رہے تھے‘ وہ موسیقی چھوڑ کر اپنی باقی زندگی اللہ کے نام وقف کرنا چاہتے تھے مگر وہ روزگار کے خدشات کا شکار تھے‘ وہ گانا گانے کے علاوہ کچھ نہیں جانتے تھے‘ وہ سمجھتے تھے” میں نے جس دن گانا چھوڑ دیا میں اس دن سڑک پر آ جاﺅں گا“ اور ان کا یہ خدشہ غلط بھی نہیں تھا‘

جنید جمشید نے 2002ءمیں شعیب منصور کے ساتھ مل کر پیپسی کےلئے نیا البم بنانا تھا‘ پیپسی کے ساتھ کروڑوں روپے کا کانٹریکٹ ہو چکا تھا‘ وہ مختلف فورمز پر گانا گانے کے پیسے بھی وصول کر چکے تھے مگر انہوں نے جوں ہی داڑھی بڑھائی اور گانا گانے سے انکار کیا‘ ان کے سارے کانٹریکٹ منسوخ ہو گئے اور وہ ایک ہی رات میں عرش سے فرش پر آ گئے‘ بچے مہنگے سکولوں میں پڑھتے تھے‘وہ بچوں کو سکول سے اٹھانے پر مجبور ہو گئے اور گھر کے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا‘ جنید جمشید کے بقول ”میرے پاس اس زمانے میں والدہ کی دواءکےلئے سو روپے بھی نہیں تھے“۔ان برے حالات میںسہیل خان ان کےلئے غیبی مدد ثابت ہوئے‘ جنید جمشید نے ایک دن مشورے کےلئے ان سے رابطہ کیا‘ لنچ پر ملاقات طے ہو گئی‘ جنید جمشید چھوٹی سی لیبل مشین لگانا چاہتے تھے‘ ان کی خواہش تھی وہ لیبل مشین لگائیں اور سہیل خان اپنے لیبلز کا ٹھیکہ انہیں دے دیں‘ سہیل خان نے بات سننے کے بعد جواب دیا ”جنید بھائی ہم تیس پیسے کے حساب سے لیبل خریدتے ہیں‘ یہ کام آپ کے شایان شان نہیں ہو گا‘ آپ کو دو تین ہزا روپے کے آرڈرز کےلئے لوگوں کے دفتروں کے چکر لگانا پڑیں گے‘ آپ اس کے بجائے کوئی بڑا کام کریں“ یہ بات جنید جمشید کے دل کو لگی‘ انہوں نے اپنے برانڈ پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا مگر ان کے پاس سرمایہ نہیں تھا چنانچہ انہوں نے سہیل خان کو پارٹنر شپ کی پیش کش کر دی‘ سہیل خان مان گیا اور یوں جنید جمشید نے گارمنٹس کا کام شروع کر دیا‘ سہیل خان نے طارق روڈ‘ گلشن اقبال اور حیدری میں تین دکانیں خریدیں ‘

اپنی فیکٹری کے اندر جنید جمشید کے نام کا ایک کارنر بنا یااور کام شروع کر دیا مگر برانڈ اس کے باوجود کامیاب نہ ہو سکا‘ جنید جمشید مایوس ہو کر گانے کی طرف واپس چلے گئے‘ داڑھی بھی صاف کرا دی اور اپنے پرانے معاہدے بھی تازہ کر لئے‘ یہ تبدیلی سہیل خان اور جنید جمشید کے معاہدے میں رکاوٹ بن گئی‘ کام تقریباً بند ہو گیا لیکن جنید جمشید جلد ہی واپس آ گئے‘کام دوبارہ شروع ہو گیا‘ سہیل خان نے یہ برانڈ اپنے بہنوئی محمود خان کی نگرانی میں دے دیا لیکن وہ بھی یہ کام نہ چلا سکے‘ برانڈ بری طرح پٹ گیا‘ جنید جمشید کا مالی بحران بڑھ گیا لیکن پھر ایک عجیب واقعہ پیش آیا اور جنید جمشید کا برانڈ تیزی سے ترقی کرنے لگا‘ کیسے؟ ہم اب اس طرف آتے ہیں۔

سہیل خان اور جنید جمشید مشکل دور میں مشورے کےلئے مولانا تقی عثمانی کے پاس چلے گئے‘ مولانا نے دونوں کی بات سنی اور فرمایا ”میں تم دونوں کو کامیابی کا گُر بتا دیتا ہوں‘ آپ اس گُر کو پلے باندھ لو تمہارا مسئلہ حل ہو جائے گا“ یہ دونوں مولانا صاحب کی بات غور سے سننے لگے‘ مولانا نے فرمایا ”تم دو پارٹنر ہو‘ تم آج سے اللہ تعالیٰ کو اپنا تیسرا پارٹنر بنا لو‘ تم کامیاب ہو جاﺅ گے“ یہ بات دونوں کے دل کو لگی‘ یہ دونوں باہر نکلے اور ایک نیا کانٹریکٹ ڈیزائن کیا‘ جے ڈاٹ میں سہیل خان‘ جنید جمشید اور اللہ تعالیٰ تین پارٹنر ہو گئے اور یہ دونوں نہایت ایمانداری سے اپنے منافع کا تیسرا حصہ اللہ تعالیٰ کے اکاﺅنٹ میں جمع کرانے لگے‘ بس یہ اکاﺅنٹ کھلنے اور تیسرے پارٹنر کی شمولیت کی دیر تھی ملبوسات کے ناکام برانڈ کو پہیے لگ گئے‘ یہ دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے کامیاب ترین برانڈز میں شامل ہو گیا‘ یہ لوگ شروع میں اپنے منافع کا تیسرا حصہ اللہ تعالیٰ کو دیتے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی پارٹنر شپ کا نتیجہ سامنے آنے لگا تو یہ لوگ اپنی سیل کا تیسرا حصہ اللہ تعالیٰ کے اکاﺅنٹ میں جمع کرانے لگے‘ یہ لوگ اپنے آﺅٹ لیٹس سے جو کماتے تھے یہ اس کا تیسرا حصہ چپ چاپ اللہ تعالیٰ کے نام وقف کر دیتے تھے‘ اس نئے ارینجمنٹ نے ان پر برکتوں کے مزید دروازے کھول دیئے‘ ان کی ترقی اور منافع دونوں کے پہیے تیز ہو گئے اور یہ تمام ملکی برانڈز کو پیچھے چھوڑتے چلے گئے‘ جے ڈاٹ ملک کا سب سے بڑا برانڈ بن گیا‘ پاکستان میں اس وقت اس کے 65 آﺅٹ لیٹس ہیں‘ ملک سے باہر 8 بڑے شو روم ہیں جبکہ جے ڈاٹ نے عالمی سطح پر دس فرنچائز بھی دے رکھی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے ساتھ پارٹنر شپ نے جنید جمشید اور سہیل خان دونوں کی زندگی بدل دی‘ جنید جمشید اس کاروبار میں 25 فیصد کے شیئر ہولڈر تھے‘ یہ 25فیصد بھی بہت بڑی تھی‘ یہ رقم جنید جمشید کی ضرورت سے زیادہ تھی چنانچہ انہوں نے اس رقم کا بھی بڑا حصہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا شروع کر دیا‘ مساجد بنائیں‘ مدارس کو فنڈ کیا‘ بیواﺅں اور یتیموں کو سپورٹ کیا اور وہ طالب علموں کو وظیفے بھی دینے لگے‘ وہ جوں جوں اللہ تعالیٰ کی پارٹنر شپ میں اضافہ کرتے چلے گئے اللہ تعالیٰ ان پر اپنے کرم کے دروازے کھولتا چلا گیا یہاں تک کہ مولوی جنید جمشید راک سٹار جنید جمشید سے زیادہ مقبول ہو گیا‘ وہ گانا گاتے تھے تو وہ مشہور تھے‘ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے پر چل پڑے تو وہ باعزت شخصیت بن گئے‘ وہ گلوکار تھے تو لوگ ان سے آٹو گراف لیتے تھے‘ وہ مولوی بنے تو لوگ ان کے ہاتھ چومنے لگے اور وہ سٹار تھے تو وہ پیسے کے پیچھے بھاگتے تھے‘ وہ اللہ والے ہوئے تو پیسہ ان کے تعاقب میں دوڑ پڑا‘ سہیل خان کی دنیا بھی بدل گئی‘ یہ اللہ تعالیٰ کو پارٹنر بنا کر مٹی کے جس ڈھیر کو ہاتھ لگاتے ہیں وہ سونا بن جاتا ہے اور یہ جس پراجیکٹ میں اللہ تعالیٰ کو شامل نہیں کرتے وہ منصوبہ کثیر سرمایہ کاری اور ماہر ترین ٹیم کے باوجود بیٹھ جاتا ہے‘ یہ تجربہ حیران کن تھا چنانچہ سہیل خان نے اپنے ہر کاروبار میں اللہ تعالیٰ کو پارٹنر بنا لیا‘ اللہ تعالیٰ ان کے بعض بزنس میں دوسرا پارٹنر ہے اور بعض میں تیسرا چنانچہ ان کے تمام کاروبار دن رات دوڑ رہے ہیں‘ پارٹنر شپ کا یہ فارمولہ سہیل خان کی زندگی کا اتنا بڑا حصہ ہے کہ انہوں نے گھر میں چندے کا ایک باکس رکھا ہوا ہے‘ خاندان کا جو بھی فرد گھر سے باہر جاتا ہے وہ اس باکس میں کچھ نہ کچھ ڈال دیتا ہے اور یہ باکس بعد ازاں ضرورت مندوں کی جھولی میں خالی کر دیا جاتا ہے‘ یہ باکس اب سہیل خان کے خاندان کا حصہ بن چکا ہے۔

مجھے جنید جمشید کی مقبولیت کے پیچھے ان کی قربانی دکھائی دی اور خوشحالی کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی پارٹنر شپ‘ جنید جمشید نے اللہ تعالیٰ کےلئے شہرت کو ٹھوکر ماری تھی‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں عزت سے نواز دیا اور جنید جمشید نے اپنے کاروبار میں اللہ تعالیٰ کو پارٹنر بنا لیا تھا اللہ تعالیٰ نے انہیں مال و دولت سے رنگ دیا‘ یہ ملک کے خوشحال ترین لوگوں میں شمار ہونے لگے‘ کاش جنید جمشید کی زندگی اور موت ہماری آنکھیں کھول دے‘ کاش ہم جنید جمشید کی طرح اللہ تعالیٰ کےلئے شہرت بھی قربان کر دیں اور اللہ تعالیٰ کو اپنا پارٹنر بھی بنا لیں اور اللہ تعالیٰ جواب میں ہماری زندگیاں بھی بدل دے‘ مجھے یقین ہے ہم نے جس دن یہ کیا‘ ہم اس دن خوشحال بھی ہو جائیں گے اور باعزت بھی‘ کیوں؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی غیرت کبھی یہ گوارہ نہیں کرتی دنیا کا کوئی شخص اس کے نام پر شہرت قربان کرے اور یہ اسے بدلے میں عزت نہ دے اور کوئی شخص اسے اپنا بزنس پارٹنر بنائے اور اسے اس کے بعد کاروبار میں نقصان ہو جائے‘ بے شک اللہ تعالیٰ کائنات کا سب سے بڑا غیرت مند پارٹنر ہے‘ یہ اپنے پارٹنر کو کبھی نقصان نہیں ہونے دیتا۔

غریبی

ایک شخص واقعہ سناتا ہے کہ میں جب چھوٹا تھا تو میرے ماموں اپنے بچوں کے لیے روز کئی فروٹس لاتے میں ان کو کھاتے ہوئے تو نہیں دیکھتا تھا لیکن جانتا تھا کہ وہ فروٹس لذیذ ہونگے اگر کبھی مہینے میں ایک آدھ بار ہمارے گھر میں آم آ جاتے تو وہ دن خوشی کا دن ہوتا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ فروٹس کا شوق مرتا گیا ، زیادہ کھانے سے نہیں نا کھانے کی وجہ سے، انسان جب کسی چیز کے لیے ترستا ہے تو یا تو وہ اس کو پا لینے کی اتنی کوشش کرتا ہے کہ

زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے یا پھر وہ خواہش اس کے دل کے اندر ہی دم توڑ دیتی ہے، میں سکول کا ایک ہونہار طالب علم تھا، سالانہ امتحان کے بعد جب مجھے انعام سے نوازا جاتا تو میں کبھی خوش نہیں ہو پاتا تھا، پتہ ہے کیوں؟ کیوں کہ میرے جوتے ٹوٹے ہوتے تھے، میرے کپڑے پیوند زدہ ہوتے یا پھر اتنے پرانے کہ دیکھ کر ہی محسوس ہوتا کہ بہت پرانے ہیں، ایسے میں آٹھ نو سو طلباء کے مجمعے میں انعام لینا وہ بھی ٹوٹی ہوئی جوتی کے ساتھ بڑا عجیب لگتا تھا ، وقت ایسے ہی گزرتا رہا ، ہر سال اپنی جماعت میں پہلی پوزیشن لیتا لیکن فنکشن میں جانے سے کتراتا، ایک بڑیمحرومی ہمیشہ یہ بھی رہی کہ میرے ابو کبھی اس فنکشن میں نہیں ہوتے تھے، دوسری پوزیشن لینے والا لڑکا جب اپنا انعام لے کر اپنے باپ کے پاس جاتا تھا

تو میری نظریں ہمیشہ اس پر ہوتی تھیں ، ایک عجیب احساس تھا جس سے میں ساری زندگی محروم رہا، زندگی کی اور کئی محرومیاں رہیں، جن سے دل سے خواہشات آہستہ آہستہ رخصت ہو گئیں، اب دل میں اپنی ذات کے لیے کوئی خواہش نہیں رہی، اور میں جانتا ہوں میرے جیسے ہزاروں ہونگے جن کی زندگی میری زندگی جیسی رہی اور شائد ہمیشہ محرومیاں ان کا مقدر رہیں۔ کہتے ہیں کہ کوئی کسی کا دکھ نہیں سمجھ سکتا جب تک کہ وہ خود اس دکھ کی کیفیت کو نہ پہنچا ہو اور جس دکھ کے ساتھ جس محرومی کے ساتھ میں نے زندگی گزاری اس کا احساس مجھے ہمیشہ ہوتا ہے،جب کسی غریب کے بچے کو ٹوٹی ہوئی جوتی کے ساتھ دیکھتا ہوں تو مجھے اپنا آپ نظر آتا ہے لیکن میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو بے حس ہو جائیں، میں بے

حس نہیں ہوا، سارے احساس سارے جذبات ہمیشہ میرے ساتھ رہے، اور ان احساسات کا تقاضہ یہ تھا کہ میں کسی ایک چہرے پر بھی مسکراہٹ لا سکوں تو وہ میری محرومیوں کی تکمیل ہو گی، میں نے اپنے تئیں جو بھی کیا وہ میرا اپنا معاملہ رہا ہے ہمیشہ سے، لیکن پچھلے سال رمضان میں کچھ غریب خاندان کے بچوں کو عید کی شاپنگ کروائی، اور یہ کرنِ سحر کا پہلا آفیشل پراجیکٹ تھا، اب اس سال پھر کوشش ہے کہ کم از کم ایک ہزار بچوں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر سکوں۔

بیوی کو کیسے خوش رکھا جائے؟

ایک عورت سو رہی تھی جب اس کی آنکھ کھلی تو رات کے تین بج رہے تھے اور اس کے سرہانے ایک پری بیٹھی تھی۔ پری نے اس سے پوچھا کہ اپنی دلی تین خواہشیں بتاؤ۔میں ایک دن میں ایک خواہش پوچھوں گی اور اس دن وہی پوری ہو گی۔لیکن ایک شرط ہے کہ جو کچھ تم اپنے لیے مانگو گی وہ تمہیں ضرور ملے گا مگر اس سے دس گناہ زیادہ مقدار میں وہ تمہارے شوہر کو ملے گا۔اس عورت نے بہت سوچا اور بولا کہ میری پہلی خواہش یہ ہے کہ میں صرف اور صرف اپنے شوہر سے پیار کروں اور بے انتہا کروں۔پری نے اسے بتایا کہ کل تمہاری یہ

خواہش تمہارے لیے پوری ہو جائے گی اور دس گناہ تمہارے خاوند کے لیے پوری ہو گی۔ اگلی رات جب تین بجے تو پری نے اس کے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔وہ عورت نکل کر باہر گئی تو پری نے دیکھا کہ وہ بہت خوش تھی اور اس کا چہرہ طمانیت سے چمک رہا تھا۔پری نے اس سے پوچھا کہ تم خوش ہو؟ تمہاری پہلی خواہش پوری ہو گئی؟ وہ عورت ہنسنے لگی اور بولی کہ ہاں پوری ہو گئی اور میں بہت خوش ہوں۔ پری نے پوچھا کہ اب دوسری خواہش بتاؤ۔ کل وہ بھی پوری ہو جائے گی اور تمہارے شوہر کے لیے دس گنا پوری ہو گی۔ وہ عورت بولی کہ مجھے اور کچھ بھی نہیں چاہیے۔آپ باقی دونوں خواہشیں کسی اور عورت کو دے دو۔ حاصل سبق عورت کی زندگی کی سب سے بڑی حسرت صرف یہی ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اس سے پیار کرتا ہو۔ زیادہ تر عورتیں چاہے جتنی بھی امیر ہوں یا جتنی بھی کامیاب، وہ صرف اپنی پوری زندگی شوہر کی قبولیت اور اس کے پیار کے حصول میں بسر کر دیتی ہیں۔اگر آپ ان عورتوں کو دیکھیں جو بوڑھی اپنے شوہر کی اولاد اکیلے پال رہی ہوتی ہیںتو آپ بخوبی اس بات کو سمجھ جائیں گے کہ عورت کی فطرت میں بھی صرف ایک آدمی کی پوجا اور اس کی وفاداری ہوتی ہے۔

ہمارے مشرقی معاشرے میں تو خیر سب عورتیں اپنی پوری زندگی برے سے برے سسرال کو اور اپنے بچوں کی تمام بے سروپا خواہشات کو صرف ایک مرد کے لیے ہی زندگی بھر برداشت کرتی رہتی ہیں۔جو مرد یہ سوچتے ہیں کہ بیوی کو کیسے خوش رکھا جا سکتا ہے ان کے لیے بہت آسان ہے کہ تہہ دل سے اس کی عزت کریں اور اس سے پیار کریں۔ باقی سب کچھ معمولی چیزیں ہوتی ہیں۔