یہ محبت فساد کروائے گی

ہم نوجوان جب کسی موضوع پر سوچتے ہوئے کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم نے سوچ کے ساگر میں کود کر بالآخر کوئی ایسی بات نکال لی ہے جو آج تک کسی مفکر، دانشور نے بھی نہ سوچی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی بذاتِ خود ایک عظیم مفکر ہے۔ اور ہمیں اگر کسی بات کا گلہ ہے تو فقط ناشناسی کا۔ خیالوں میں کتنے ہی عظیم کارنامے انجام دینے والے ہم نوجوان خود کو تو سب سے الگ اور بہترین سمجھتے ہیں مگر ہمارے اردگرد کے لوگ اس بات کو رد کرتے ہوئے ہماری ساری مفکری اور دانشوری کا ستیاناس کر دیتے ہیں۔

مگر یہ بات چونکہ انسانی خمیر میں شامل ہے کہ نوجوان کبھی ہار نہیں مانتا، لہٰذا ہم بھی ہار نہیں مانیں گے۔ اس لیے یہی لوگ کبھی نہ کبھی ہماری سوچ کو سمجھ جائیں گے۔ یا پھر ہم بھی نوجوانی کی حد پار کر کے آخر ان لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔
خیالوں کے حسین آسمان پر اُڑان بھرتے ہوئے یہ ناچیز بھی ایک موضوع میں کھویا ہوا تھا۔

میری پرواز میں کوتاہی کا سبب بنتے ہوئے اچانک ایک بات نے مجھے چونکا دیا۔
جب سے ہوش سنبھالا ہے میں نے ہر گانے، ہر فلم، ہر سیریل میں صرف ایک چیز مشترک دیکھی۔ شاعر کی شاعری ہو، گانے میں موسیقی کا تال میل ہو، کسی ہدایتکار کی کسی فلم میں محنت ہو یا کسی ڈرامے میں بے تابی بڑھاتا ہوا کوئی سین ہو،
وہ ایک احساس، وہ موضوع ہر جگہ ملے گا۔

دلیپ کمار و راج کپور کے فلمی دور پر نظر ڈورا لیں یا آج کل کے دور میں شاہ رخ یا فواد خان کی اداکاری کی جھلک دیکھ لیں۔ لتا، نور جہاں، رفیع، کشور، مہدی حسن کے سروں سے بنائی ہوئی دنیا میں جھانک کے دیکھ لیں یا آج کل کے ممی ڈیڈی گلوگاروں کی بے وجہ کامیابی کی اصل وجہ پر غور کر لیں۔ ایک احساس کا ایسا استعمال جس کے ذریعے یہ سب اپنے مداحوں کو گرویدہ کرنے میں ہر بار کامیاب ہوجاتے ہیں، اس جادو کی چَھڑی کا نام ‘محبت’ ہے۔

حد تو یہ ہے کہ اس جادو کی چھڑی کے استعمال کی کوئی حد مقرر نہیں۔ جس کا جیسے جی چاہتا ہے اسے بروئے کار لاتا ہے۔ بڑے بڑے لیجنڈز بھی اسی کے مقروض ہیں اور بہت سے نام لیوا شوبز کے ستارے اس کے شکرگزار ہیں۔ خیر گوروں کی انڈسٹری میں یہ مسئلہ اتنی سرایت نہیں کرپایا، ایکشن ہی ایکشن اور بس ایکشن! لیکن کسی حد تک ان کی فلموں میں بھی یہ روش اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔ اور جب احساس دلاتی ہے تو وہ بھی ہر حد پار کرجاتی ہے۔

مگر برصغیر کی فلم انڈسٹری ہو اور بالی وڈ، لالی وڈ کی کہکشاں کا ذکر ہو تو یہ بات ناممکن کی حدوں کو چھوتی نظر آتی ہے کہ ‘محبت’ کا سیاپا ڈالے بغیر کوئی فلم، کوئی ڈرامہ سیریل یہاں تک کہ کوئی گانا بھی مقبول ہوجائے، یہ ممکن ہی نہیں۔
ہمارے بزرگ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ان کے دور میں نور جہاں، لتا، رفیع جیسے گلوکار تھے، مغل اعظم، ہیر رانجھا جیسی لازوال فلمیں بنیں؛ سنتوش کمار، دلیپ کمار، اعجاز، یوسف خان، ندیم، وحید مراد جیسے بے مثال اداکاروں نے انڈسٹری پر راج کیا؛ مگر جب ان بے مثال اداکاروں کی لا زوال فلمیں دیکھیں، سروں کے شہنشاہوں کے گانے سنے، تو صرف ‘محبت’ ہی ‘محبت’ پائی۔

صرف یہی نہیں۔ اس ‘محبت’ کے بے دریغ استعمال کی ایک اور صورت کسی جواز کی شکل میں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے۔ اور وہ ہے صوفیائے کرام کا کلام۔ گٹار پر آواز سیدھی کرنے والے آج کل کے گلوکار سب سے پہلے بابا بلھے شاہ اور وارث شاہ کے کلام پر گانا بناتے ہیں اور کئی مرتبہ یہی ان کے کرئیر کی کامیابی کا راز بن جاتا ہے۔

وجود کی اصلیت سے واقف، دنیا کی اصلیت سے آشنا ان صوفیائے کرام نے حق کے رازوں سے متاثر ہو کر نہ جانے کن حالات میں یہ شاعری لکھی تھی مگر آج اگر وہ زندہ ہوتے تو یقیناً برہم ہوتے کہ کیسے ہر نوجوان عاشق بنتے ہوئے ان کی شاعری کو کس مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ ان فلمسازوں، گلوکاروں، شاعروں سے یہ سوال تو پوچھا جانا چاہیئے کہ کیا دنیا میں کوئی موضوع باقی نہیں بچا؟ کیا دنیا میں صرف محبوب اور محبوبہ کی جدائی ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے؟ کیا خدا نے خوشی کے لئے دنیا میں صرف محبوب کی خوبصورتی ہی بنائی ہے؟

گلی کی نکڑ پر کھڑے نوجوان سے لے کر کسی آفس کے ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھے اپنے کام میں مصروف نوجوان تک، بچپن کے بے فکر زمانے سے لے کر بڑھاپے کی پرخوف چار دیواری میں محصور ہر انسان پر اس محبت کا جادو چھایا ہوا ہے۔

مستقبل کے معماروں میں جب کچھ کر گزرنے کا جذبہ جوش مارنے لگتا ہے تب اچانک محبوب کی جدائی کا رونا روتا ہوا اریجیت سنگھ کا گانا منظرِ عام پر آجاتا ہے اور پھر ہر معمار کے دل کے قبرستان میں دفن عاشق کفن پھاڑ کر چیخ چیخ کر دہائی دیتا ہے جیسے اس گانے کی شاعری کا ایک ایک لفظ اس کی زندگی کی داستان ہے۔
اور یوں پھر سے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ماند پڑجاتا ہے۔

یہ خاکسار کوئی عالم تو نہیں ہے جو کسی عمل کو غلط یا درست کے درجے پر فائز کرسکے اور نہ ہی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ یہ محبت کا سیاپا آخر کب تک جاری رہے گا، مگر میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر یہ نظام اسی روانی سے چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہر گلی ہر چوراہے پر یہی سیاپا کسی فساد کی طرح پھیل جائے گا اور اس فساد کو ختم کرنے کے واسطے پھر سے کوئی ردالفساد شروع کرنا پڑے گا، یہ بات لکھنے میں بھی عجیب لگتی ہے مگر ایسا ممکن ہے کیونکہ ان فلموں، گانوں، ڈراموں کی وجہ سے جس قدر تیز رفتاری سے عاشقوں کی تعداد اضافہ ہورہا ہے یہ نوبت بھی کچھ بعید نہیں، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں۔ اور اس حقیقیت سے بھی آشنا ہوں کہ ناموجود احساس یعنی ‘محبت’ کے حامی لوگ میری ان باتوں سے کبھی اتفاق نہیں کریں گے۔ اچھی بات ہے کیونکہ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﻏﯿﻆ ﻭ ﻏﻀﺐ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ

ﻧﮉﺭ ﺗﮭﺎ، ﺟﺮﻧﯿﻞ ﺗﮭﺎ، ﺗﺎﺟﺭ ﺗﮭﺎ، ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺗﮭﺎ، ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺳﺘﻮﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ، ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭼﮩﺮﮦ، ﻟﻤﺒﺎ ﻗﺪ، ﺗﻮﺍﻧﺎ ﺟﺴﻢ، ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺳﯿﻨﮧ، ﺍﮐﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮔﺮﺩﻥ، ﺍﭨﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ، ﺗﻤﮑﻨﺖ، ﺷﺎﻥ ﻭ ﺷﻠﻮﮦ، ﺳﻄﻮﺕ، ﺷﮩﺮﺕ ﮨﮯ، ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﻋﯿﺐ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺭﺳﻮل ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﮯ، ﮐﮩﺎ ﺛﻤﺎﻣﮧ ! ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮ؟ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﺑﻮﻻ : ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﻮﮞ، ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﮨﻮ؟ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ

ﻧﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻭﺍﮦ، ﻧﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺪﺷﮧ، ﺟﻮ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺮ ﻟﻮ، ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺑﮍﺍ ﺗﯿﺰ ﻣﺰﺍﺝ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﮯ، ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩکھ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ؟ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ! ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺩکھ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ، ﭘﯿﮑﺮ ﺣﺴﻦ ﻭ ﺟﻤﺎﻝ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺛﻤﺎﻣﮧ ﺫﺭﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺁنکھ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻮ ﺳﮩﯽ، ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﮐﯿﺎ ﻧﻈﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ، ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ،مجھ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﺍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﻏﯿﻆ ﻭ ﻏﻀﺐ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ، ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕؓ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﺳﻠﻮﭨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮔﺌﯽ، ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﻣﯿﺎﻥ ﭘﺮ ﮨﺎتھ ﺗﮍﭘﻨﮯ ﻟﮕﺎ، ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺍﺑﺮﻭ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮨﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮨﻮﮞ، ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، ﺟﺘﻨﺎ ﻏﺼﮧ ﮨﮯ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﻮ، ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺗﻮ ﺩیکھ ﻟﻮ، ﺛﻤﺎﻣﮧ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﻣﯿﮟ تجھ ﺳﮯ ﺑﺪ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ‏(ﻧﻌﻮﺫﺑﺎﻟﻠﮧ) ﺍن ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟن ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ : ” ﺣﺴﻦ ﯾﻮﺳﻒ ﺩﻡ ﻋﯿﺴﯽ ﯾﺪ ﺑﯿﻀﺎﻭﺭﯼﺁﻧﭽﮧ ﺧﻮﺑﺎﮞ ﮨﻤﮧ ﺩﺍﺭﻧﺪ ﺗﻮ ﺗﻨﮩﺎﺩﺍﺭﯼ ” ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﺷﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍلی۔ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ،ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﻮ ﻧﮕﺎﮦ ﮈﺍﻟﻮ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﻭﻡ ﻭ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻭ ﻣﺼﺮ ﮐﯽ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﺪﺻﻮﺭﺕ ﺑﺴﺘﯽ ﮨﮯ ‏( ﻧﻌﻮﺫﺑﺎﻟﻠﮧ) ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ؟ ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ، ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺁﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﻮﺍﺏ، ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﭘﺎﮎ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮﷺ ﺁﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮨﻢ تجھ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ، ﺫﺭﺍ ﺩیکھ ﺗﻮ ﻟﻮ، ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ، ﺍﺏ؟ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮔﻮﺵ ﺑﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﺗﮭﮯ، ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮩﻤﯽ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯽ، ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﺎﮐﻦ ﺗﮭﺎ ﺑﯿﭽﺎﺭﮦ۔ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ! ﺁﺝ ﻧﺒﯽ ﺭﺣﻤﺖﷺ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻢ ﺻﺎﺩﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮔﺴﺘﺎﺥ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺳﺰﺍ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ، ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻃﯿﺒﮧ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺍﺱ ﺳﺘﻮﻥ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﺑﻨﺪﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ،

ﺍﺏ ﺣﮑﻢ ﺻﺎﺩﺭ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺍﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ، ﻣﮕﺮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻭﺍلے ﭘﺎﮎ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮﷺ نے ﻣﺴﮑﺮﺍ کر ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺟﺎﺅ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺅ، ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺴﮯ ﺭﮨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺗﺠﮭﮯ کچھ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﻮ ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﮯ، ﺑﮍﮮ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻢ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ، ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﻮ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭﯾﮟ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﺗﺎﺏ ﺗﮭﯿﮟ، ﺍﻧﮑﻮ ﮐﮩﺎ، ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﮯ ﻋﺰﺕ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﻟﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﺮ ﺩﻭ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﭘﻠﭩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ،ﺑﮍﮮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﻣﺤﮑﻮﻡ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺟﺮﻧﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ، ﺻﺪﺭ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺍﺗﻨﺎ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﻭﺍﻻ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ،ﺍن ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﯿﺴﺎ” ﺑﺲ ﺍﮎ ﻧﮕﺎﮦ ﭘﮧ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﮨﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺩﻝ ﮐﺎ “ﭘﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ، ﺩﯾکھ ﮐﺮ ﺳﺮﭘﭧ ﺑﮭﺎﮔﺎ، ﺩﮌﮐﯽ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ، ﻗﺪﻡ ﺁﮔﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﺎﮒ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﻝ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﺎﮒ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﻭ ﻣﯿﻞ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﮔﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺁﯾﺎ، ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﻨﮕﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧؓ ﮐﮯ ﺳﺎتھ بیٹھے ﮨﻮئے تھے، ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢﷺ ﻧﮯ ﻧﮕﺎﮦ ﮈﺍﻟﯽ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺁ ﮔﺌﮯ؟ ﮐﮩﺎ، مجھ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ، ﮐﯿﺎ ﺍﺳﯿﺮﯼ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﮨﮯ، ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺗﺐ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺁﭖﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺏ ﺁﭖﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺩیکھ ﻟﯿﺎ، ﺍﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻏﻼﻡ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ۔

میاں بیوی کے تعلقات کے دوران وہ سگین غلطی جسے ؟

میاں بیوی کے تعلقات میں کچھ ایسے اعمال ہیں جن کو ہم معمولی سمجھتے ہیں۔جو شریعت میں سنگین جرم ہیں۔کبھی کبھار لگتا ہے کہ یہ بے حیائی کی باتیں ہیں یہ بے حیائی نہیں ہے یہ شریعت کا علم ہے ہاں اگر ہم اس طرح کی باتیں اپنی خواہش کے مطابق کریں تو یہ بے حیائی ہے۔خیر ہم واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ پہلا گناہ جس کو میاں بیوی کے تعلقات میں معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ بیوی کا اپنے شوہر کو ہمبستری سے انکار کرنا اپنے شوہر کو اپنے نزدیک آنے سے انکار کرنا۔نبی اکرم ﷺ جامع صغیر میں یہ روایت ہے،آپﷺ نے فرمایا!”جب شوہر اپنی بیوی کو بلائے (ہمبستری کے لئے)تو عورت پر واجب ہے کہ وہ فوراً اپنے شوہر کی بات مان لے”ما سوائے شرعی عذر کے ،شرعی عذر کی وجہ سے بیوی انکار کر سکتی ہے۔

یعنی ایسی کوئی شرعی مجبوری (مثلاً حیض،ماہواری وغیرہ)ہو تو وہ الگ بات ہے۔لیکن اگر شرعی عذر نہیں ہے تو آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ!”وہ (عورت)فوراً اپنے شوہر کی بات مان لے خواہ وہ انٹ کے کجاوے(اونٹ کی وہ سیٹ جس پر بیٹھ کر سواری کی جاتی ہے) پر ہی بیٹھا کیوں نہ بلا رہا ہو۔” اس معاملے کو خواتین جو بیویاں ہیں جو اپنے شوہر کو حق دینا چاہتی ہیں وہ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ جب اس معاملے میں کوتاہی ہوتی ہے تو انسان دوسری جگہ اپنی خواہشات تو پوری کرنے جاتا ہے اور یہ بات بھر بیوی برداشت نہیں کرسکتی اس لئے شریعت نے اس معاملے کی اہمیت بیان کی ہے۔ دوسر ی روایت صحیح بخاری کی ہے،آپﷺ نے فرمایا!”جب شوہر اپنی بیوی کو ہمبستری کے لئے بلائےاور بیوی انکار کر دےاور شوہر اپنی بیوی سے ناراضگی کی حالت میں سو جائے تو جب تک وہ ناراضگی کی حالت میں سوتا رہے گا فرشتے بیوی پر لعنت بھیجتے “رہیں گے۔دوسراگناہ میاں بیوی کے تعلقات میں جس کو معمولی سمجھا جاتا ہے جب کہ شریعت میں اس کا اتنا سخت گناہ ہے وہ یہ ہے کہ عورت کا بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا۔

صحیح جامع صغیر کی روایت ہے،آپﷺ نے فرمایا!”بغیر عذر کے خلع لینے والیاں اور اپنے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے والیاں، گھر اجاڑنے والیاں یہ اس امت کی منافق ہیں ۔دوسری روایت میں فرمایا! جس عورت نے بغیر کسی سبب کے اپنے خاوند سے طلاق طلب کی اس پر جہنم واجب اور یہ جنت کی خوشبو نہیں “سونگھیں گی۔ اس لئے میری پیاری بہنو !یہ کہنا یا یہ عذر پیش کرنا کہ میرا خاوند مجھے پسند نہیں ہے یا اس کی انکم بہت کم ہے میرا گزارہ نہیں ہوتا اس لئے مجھے طلاق چاہیے تو یہ کو ئی شرعی عذر نہیں ہےمزید پڑھیں:میاں بیوی کا اکٹھے غسل کرنااس لئے اس سنگین جرم اور گناہ سے بچنا چاہیے اور والدین کو چاہیے کہ وہ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی بیٹیوں کو گھر نہ بٹھا لیں ۔طلاق شوہر کا حق ہے اور یہ کتنی بری بات ہے کہ طلاق بیٹی ڈیمانڈ کر رہی ہے۔ تیسرا گناہ جو میاں بیوی کے تعلقات میں عام طور ہر ہوتا ہے اور اس کو معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ کہ ، حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرنا یا ایسی جگہ سے(پچھلے حصے سے) ہمبستری کرنا جو کہ غیر فطری ہے ،آپ ﷺ نے فرمایا! جامع ترمذی کی یہ روایت ہے،”جس شخص نے حیض والی عورت سے ہمبستری کی یا عورت کے پیچھے جماع کیا یا نجومی کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی (سچ مانا) تو اس نے اس چیز کا انکار کیا۔

جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔” یعنی وہ شریعت کا منکر ہے اس نے شریعت کا انکار کیا جس نے یہ عمل کیا۔اس کے لئے شریعت نے کفارا کا حکم دیا ہے اور یہ بہت سنگین جرم ہے لیکن اس کو لوگ سمجھ ہی نہیں پا رہے اور اس بات کو کوئی سیریس لینے کو ہی تیار نہیں ہے کہ نکاح سے پہلے اس کے آداب اور ازدواجی زندگی کے متعلق سیکھا جائے۔دنیا جہان میں ہر چیز کی ٹرینینگ ہوتی ہے وہ ہم لوگ بڑے فخر سے کرتے ہیں مزید پڑھیں: جنابت(ہم بستری) کے بعد سونے سے قبل وضو یا غسل لیکن جب بات شریعت سیکھنے کی آتی ہے تو وہاں کیا ہے جی کہ ہمیں شرم آرہی ہے۔دنیا کی بے حیائی میں شرم نہیں آتی لیکن شریعت سیکھتے ہوئے یا شریعت کی بات کرتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے۔ چوتھا گناہ میاں بیوی کے تعلقات میں جس کو معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہےکہ کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت(اکیلے)میں ملاقات کرنااور کسی غیر محرم عورت سے ہاتھ ملانا یہ بہت سخت گناہ ہے ،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا!جامع ترمذی کی روایت ہے ،”جب بھی کوئی آدمی کسی غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں ملتا ہےتو وہ دو نہیں ہوتے تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے” اور آپ ﷺ نے فرمایا! “تم میں سے کسی شخص کے لئے کیل لے کر اپنے سر میں ٹھونک لینا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ وہ کسی غیر محرم کو چھوئے” (جامع صغیر)۔۔۔۔اور ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ چھونا تو ایک معمولی بات ہے یہاں تو پورا ہاتھ ملا لیا جاتا ہے۔

ایک بار ایک خاتو ن جس کو شریعت کا علم نہیں تھا وہ مدینہ آپ ﷺ سے بیعت لینے آئی اور آپﷺ کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا آپ ﷺ نے فوراً اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے اور فرمایا!”محمد ﷺ کسی عورت کے ہاتھ کو چھونا تو دورکسی عورت کے ننگے ہاتھ کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔اور آپﷺ نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا۔”اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آللہ ہمیں دین اور شریعت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

پیٹ کم کرنے کا بہترین نسخہ خود بھی آزمائیں اور دوسروں کو بھی بتائیں

دور جدید میں بڑھا ہوا پیٹ ایک المیہ ہے۔ جس نے ہر مرد و عورت کو پریشان کر رکھا ہے۔ اگرچہ بڑھے ہوئے پیٹ کے حامل افراد بہت سے ٹوٹکے تو آزمائے ہیں لیکن وہ بہت کم ہی کامیاب ہو پاتے ہیں- ہم آپ کو آج چند ایسے مشروبات کے بارے میں بتائیں گے جن کا استعمال کر کے آپ اس مصیبت سے جان چھڑا سکتے ہیں- یہ مشروبات کم کیلوریز پر مشتمل ہوتے ہیں لیکن پیٹ کو تیزی کے ساتھ یا مختصر وقت میں کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں- کیسے کم کیا جائے لٹکے ہوئے پیٹ کو دیکھیں اس اردو کے نیچے ایک ویڈیو میں اور شیئر بھی کریں اور خد بھی رIce cold water برف والے ٹھنڈے پانی کے استعمال سے آپ کے جسم میں موجود زیادہ سے زیادہ کیلوریز کا خاتمہ ممکن ہے- یہ پانی آپ کے میٹابولک نظام کو تیز کردیتا ہے- لیکن اپنے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے آپ کو روزانہ کم سے کم 16 اونس ٹھنڈا پانی پینا ہوگا-

01 Black and Green Tea سبز چائے کا استعمال ایسے افراد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے جو اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں- یہ چائے جسم میں موجود کیلوریز کو جلاتی ہے اور میٹابولک ںظام کو تیز کرتی ہے- سبز چائے دوسرے مشروبات کی نسبت 43 فیصد زیادہ کیلوریز جلانے کی صلاحیت رکھتی ہے- اور یہی خصوصیات کالی چائے میں بھی موجود ہوتی ہیں- اگر آپ پیٹ کم کرنا چاہتے ہیں تو یہ چائے آپ کے لیے بہترین ہے-

02 Vegetable Juice سبزیوں کا استعمال صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے اس لیے انہیں اپنی خوراک کا حصہ ضرور بنائیں- لیکن اگر سبزیوں کا رس پیا جائے تو یہ نہ صرف دل و دماغ کو فرحت و تازگی بخشتا ہے بلکہ کیلوریز جلاںے میں مؤثر بھی ثابت ہوتا ہے- جس کے بعد آپ کا پیٹ کم ہوسکتا ہے-

03 termelon Smoothie تربوز کا جوس جسم میں نمی کو قائم رکھنے کے حوالے سے ایک بہترین مشروب ہے- یہ مشروب انتہائی کم کیلوریز اور بہت زیادہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے- اس کے علاوہ یہ پٹھوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پیٹ کی چربی کو کم بھی کرتا ہے- اس لیے پیٹ کم کرنے کے حوالے سے یہ مشروب ایک بہترین انتخاب ثابت ہوسکتا ہے-

04 Coconut water ناریل کا پانی الیکٹرو لائٹس (electrolytes) سے بھرپور ہوتا ہے اور یہاں فہرست میں موجود تمام مشروبات سے زیادہ الیکٹرو لائٹس ناریل پانی میں پائے جاتے ہیں- اور یہ مادہ جسم میں نمی کو برقرار رکھتا ہے- ناریل پانی کو بغیر مصنوعی فلیور اور چینی کے پینا چاہیے- یہ توانائی میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ میٹابولزم کے عمل کو تیز کرتا ہے-

05 Nutritional Drinks عذائی مشروبات انسان پر مثبت اثر ڈالتے ہیں اور صحت بخش ہوتے ہیں- غذائی مشروبات کے استعمال سے آپ وزن کم کرسکتے ہیں اور اس کے لیے ایک گلاس پینا ہی کافی ہوتا ہے کیونکہ یہ طویل وقت تک توانائی فراہم کرسکتے ہیں- لیکن یہ خصوصیات تمام غذائی مشروبات میں موجود نہیں ہوتی اس لیے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں- اور اس بات کی تصدیق کرلیں کہ کونسا غذائی مشروب آپ کے لیے بہتر ہے-

06 Skim Milk یہ ایک ایسا دودھ جس میں کریم موجود نہیں ہوتی- اس دودھ کا استعمال جسم میں موجود چربی کو کم کرتا ہے- ماہرینِ غذائیات کے مطابق ایسے افراد جو ڈیری مصنوعات استعمال نہیں کرتے ان کی اضافی چربی ایسے لوگوں کے مقابلے 70 فیصد کم ہوتی ہے جو ان مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں-اگر آپ اس دودھ سے مطلوبہ نتائچ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو روزانہ ایک گلاس ضرور پئیں

چاول کے 4دانے اور مالا مال ہوجائیں

آج کے دور میں ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس پیسہ آجائے وہ بھی امیر ہو جائے. پیسہ کیلئے انسان کچھ بھی کرسکتا ہے.
مزید پڑھیں: رات کے وقت چاول کھانے چاہئیں یا نہیں ؟ ماہرین نے ایسا انکشاف کر ڈالا کہ آپ کچھ بھی کھانے سے پہلے آئندہ ہزار بار سوچا کریں گے چاہے وہ غلط طریقے سے کرے یا اچھے طریقے سے.
لیکن غلط طریقے سے پیسے کمائے گا تو وہ پیسہ حرام قرار دیا جائے گا.لیکن اگر وہی پیسہ جائز طریقے سے کمایا جائے تو اس سے آدمی کا اپنے اوپر سے بھروسہ بھی بڑھتا ہے اور وہ اپنی زندگی سے بھی مطمئن رہتا ہے اور اس کا پیسہ بھی حلال ہوتا ہے اور سب سے اچھی بات اللہ بھی اس سے خوش ہوتا ہے اور اسے اور زیادہ رزق دیتا ہے تو دوستوں جو لوگ یہ خواہش کرتے ہیں کہ وہ بھی پیسہ کمائیں لیکن ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہ ہو تو میرے دوست اور بھائی پریشان نہ ہوں میں آپ کے لئے ایک بہت ہی اچھا وظیفہ لے کر آیا ہوں.

یہ وظیفہ کرنے سے انشاء اللہ اللہ آپ کیلئے رزق کے دروازے کھول دے گا. یہ وظیفہ کرنے سے پہلے آپ کو کچھ ضروری باتیں بتاتا ہوں. ویہ وظیفہ کرنے کیلئے آپ کو پانچ وقت کی نماز ادا کرنی ہوگی. اور اللہ پر پورا بھروسہ رکھنا ہوگا.کیونکہ رزق اللہ ہی دیتا ہے. تو چلو دوستوں اب میں آپ کو وظیفہ بتاتا ہوں.آپ وظیفہ اس طرح کریں.یہ وظیفہ آپ نے چاول کے دانوں سے کرنا ہےاس کیلئے آپ کو چاول کے سات دانے چاہئیں. جب آپ چاول کے سات دانے لے لیں گے تب آپ کو چاول کے ہر دانے پر گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھنا ہوگا جب آپ یہ کام کرلیں تو پھر آپ کو..یا رزاق.. ستر بار پڑھنا ہوگا.یاد رکھیںیہ عمل آپ کو وضو کرکے پاک صاف جگہ پر کرنا ہوگا.جب آپ ستر مرتبہ وہ اسم پڑھ لیں پھر اس کے بعد آپ کو چاول کے ہر دانے پر پھر گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھنا ہوگا.

جب آپ یہ عمل کرلیں تو ان سات چاول کے دانوں کو اپنے پرس وغیرہ میں سنبھال کے رکھ لیں. انشاء اللہ آپ کے پیسے ی کبھی کمی نہیں آئے گی. اور دل سے دعا بھی کرنی ہے. بس ہر حال میں اللہ پاک کا شخر ادا کرنا ہے. کیونکہ رزق دینے والا اللہ ہے. اگر یہ عمل رمضان میں کریں گے.تو بہت افضل ہے

سردیوں میں شادی کرنے والے یہ ویڈیو دیکھ لو

آج اس ویڈیو میں ہم جانے کے مختلف مہینوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس مہینے میں شادی نہیں کرنی چاہیے اس مہینے میں آسمان سے بلائیں اترتی ہیں جنات مضبوط ہوجاتے ہیں انسان پر سختی ہوجاتی ہے اور اگر ان مہنوں میں شادی کی جائے تو وہ کامیاب نہیں رہتی یہ وہ تمام باتیں ہیں جو دنیا میں رہنے والے لوگوں نے بنائی ہے یعنی کہ ہمارے معاشرے میں تشکیل دی گئی ہیں آج اس ویڈیو میں ہم آپ کو اللہ تعالی اور اس کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے بارے میں بتائیں گے کہ ان کا اس بارے میں کیا تعلیمات انہوں نے دلیل ہے اور اس معاشرے میں جو باتیں پھیل رہی ہیں ان کی حقیقت کیا ہے دوستو ماہ صفر کہ بارے میں بات کی جائے تو ماہ صفر اللہ تعالی کے بنائے ہوئے مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے اللہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس مہینے کی نہ کوئی فضیلت بیان کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بات جس کی وجہ سے اس مہینے میں کسی بھی حلال اور جائز کام کر نے سے روکا جائے جو مہینے فضیلت اور حرمت والے ہیں ان کے بارے میں اللہ کے رسول نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے

سال اپنی اسی حالت میں پلٹ گیا جس میں ایک دن تھا جب اللہ تعالی نے زمین اور آسمان بنائے تھے سال بارہ مہینے کا ہے جن میں چار حرمت والے ہیں ان میں ذوالقعدہ ذوالحجہ اور محرم اور مضر ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سال کے بارہ مہینوں میں سے چار کے بارے میں یہ بتایا کہ وہ چار مہینے حرمت والے ہیں یعنی ان چار مہینوں میں لڑائی اور قتال وغیرہ نہیں کرنا چاہیئے اس کے علاوہ کسی بھی اور ماہ کے بارے میں کوئی خصوصیات بیان نہیں ہوئی اور نہ ہی اللہ تعالی کی طرف سے اور نہ ہی اللہ کے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور نہ ہی کوئی ایسے مہینے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان مہینوں میں یہ حلال اور جائز کام کیے جائیں حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی خبر نہ ہونے کے باوجود کچھ مہینوں کو بابرکت مانا جاتا ہے اور من گھڑت رسموں اور عبادات کے لئے خاص اہتمام کیا جاتا ہے اور کچھ کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں کوئی خوشی والا کام کاروبار کا آغاز رشتے شادی بیاہ یہ سفر وغیرہ کرنا انسان کو نہیں چاہیے لیکن جو بات اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بتائی جاتی ہے اور پوری تحقیق کے ساتھ سچ اور ثابت شدہ حوالاجات کے ساتھ بتائی جاتی ہے اس سے مانگتے ہوئے طرح طرح کے بہانے بنائے جاتے ہیں فلسفے دیئے جاتے ہیں افسوس یہ ہے کہ امت مسلمہ روایات کو کھو بیٹھی ہے اور ان باتوں پر عمل کرنے لگتی ہو نے ان باتوں پر یقین رکھتی ہے

تفصیلات کےلیے مکمل وڈیو دیکھیں اور اپنی رائے ضرور دیں۔ اگر ہو سکے تو شیئر کر دیں ہو سکتا ہے آپ کے ایک شیئر سے یہ بات کسی کے دل میں اتر جائے

جمعہ مبارک کے دن اللہ کا ایک نام پڑھ لیں۔ انشاءاللہ رزق میں اتنی برکت وسعت ہوگی کہ رکھنے کےلیے جگہ کم پڑ جائے گی۔

ے شک اﷲ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ، اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود وسلام بھیجو“۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے ، اسی دن حضرت آدم عليه السلام پیدا کئے گئے ، اسی دن جنت میں داخل کئے گئے ، اسی دن جنت سے نکالے گئے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی“۔(مسلم )نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمای“تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، اس دن کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھے پہنچایا جاتا ہے”مزید جاننے کے لیے نیچے ویڈیو پر کلک کریں

قیامت کے دن سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجتے ہیں “۔( ترمذی)ایک سائل حضرت علیؓ کے پاس آ یا اور عرض کی کہ مجھے کچھ دیجئے ،میں تنگدست ہوں، حضرت علی ؓ کے پاس اس وقت دینے کے لئیے کوئی چیز نہ تھی، آپ نے دس بار درود پڑھ کر سائل کی ہتھیلی پر پھونک مار کر فرمایا ہتھیلی بند کر دو، سائل نے باہر جا کر جب ہتھیلی کھولی تو سونے کے دنیاروں سے بھری پڑی تھی۔سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری قبر کو عبادت گاہ نہ بناؤ ، اور مجھ پر درود بھیجو ، بلا شبہ تمہارا درود مجھ تک پہنچتا ہے ، چاہے تم جہاں رہو“۔ (ابوداؤد)سیدنا علی بن ابی طالبؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “حقیقی معنوں میں بخیل وہ شخص ہے ، جس کے پاس میرے نام کا تذکرہ ہوا ، لیکن اس نے مجھ پر درود نہیں بھیجا “۔

(ترمذی)حضرت عبد ا ﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر بکثرت درود شریف پڑھتا ہے ، قیامت کے روز وہ سب سے زیادہ میرے قریب ہوگا ۔ (ترمذی)اس لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک سن کر کم از کم صلی اللہ علیہ وسلم کہے ۔ُُمشکل جو سر پر آپڑی تیرے ہی نام سے ٹلیمشکل کشا ہے تیر انام تج پر لاکھوں درودوسلامدرودشریف ایک دعا بھی ہے جس سے اﷲ کے پیارے رسول ﷺ پر رحمت طلب کی جاتی ہے اور سلامتی بھی طلب کی جاتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ، اطاعت اور محبت کے علاوہ،

رات سوتے وقت نافرمان بچے پر یہ پڑھیں

نافرمان اولاد ساری زندگی کا روگ ہوتی ہے۔والدین کے حکم کی تعمیل نہ کرنے والی اولاد کے رنج سے اچھا بھلا انسان پریشان ہوکر بہت سے غلط اقدامات اٹھاتا ہے۔ جس سے بعد ازاں اولاد بھی تکلیف اٹھاسکتی ہے۔نافرمان اولاد گمراہ ہوجاتی ہے،بہت سے والدین ایسی اولاد کے ہاتھوں مارے بھی جاتے ہیں،وہ جرائم میں ملوث ہوجاتی اور نشے بھی کرتی ہے تو ان کی وجہ سے انہیں عدالتوں میں خوار ہونا پڑتا ہے۔ جاری ہے

ایسی اولادتعلیم سے بھی محروم ہوجاتی ہے۔لیکن کئی صورتوں میں پڑھی لکھی اولاد کے ہاتھوں بھی والدین کو تکالیف اٹھانی پڑی ہیں۔ یہ کتنی ظلم اور شرم کی بات ہے۔ کہ وہ والدین جنہوں نے پال پوس کر اپنے منہ کا لقمہ اولاد کے منہ میں ڈال کر اسے پالا ہوتا ہے وہی ان کے بڑھاپے کا سہارا نہیں بن پاتی۔ والدین کو چاہئے کہ وہ خود ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیں،اگر اولاد میں گستاخی اور نافرمانی کا رویہ دیکھیں تو فوری اللہ سے رجوع کریں اور یہ عمل شروع کردیں۔ ۔بعد از نماز عشا اول آخر اسم ربی یا نافع اکیالیس سو بار اکیس دن تک پڑھیں اور اللہ کے حضور اسکے راہ راست پر آنے کی دعا کریں ،انشا ء اللہ بگڑے ہوئے بچوں کی اصلاح ہوگی۔

تمہارے اندر اتنی طاقت ہے؟

منقول ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک نرچڑیا کو دیکھا، جو اپنی مادہ سے کہہ رہا تھا۔تم مجھ سے کیوں بھاگتی ہو؟ اگر میں چاہوں تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے گنبد کو اپنی چونچ میں پکڑ کر دریا میں پھینک دوں۔جناب سلیمان علیہ السلام اس کی گفتگو سن کر مسکرانے لگے اور دونوں کو بلا کر نر سے پوچھا کہ جو کچھ تم کہہ رہے تھے کیا اسے کرنے کے لئے تمہارے اندر طاقت ہے؟ تو اس نرچڑیا نے عرض کیا۔اے اللہ کے نبی علیہ السلام! میرے اندر اتنی طاقت تو نہیں ہے لیکن (پھر بھی میں نے اپنی سے وہ جملہ اس لئے کہا کہ) بعض اوقات اپنی بیوی کے سامنے اپنی بڑائی کرنی پڑتی

ہے. اور خود کو (کمالات) سے آراستہ کر کے پیش کرنا پڑتا ہے اور چاہنے والا عاشق (اپنی محبت کے اظہار میں) جو میں) جو کچھ کہتا ہے، اس پر اسے ملامت نہیں کی جاتی۔ یہ سن کرجناب سلیمان علیہ السلام نے اسکی مادہ سے کہا کہ جب یہ تجھ سے محبت کرتا ہے تو تم اسکی بات کیوں نہیں مانتی؟مادہ چڑیا کہنے لگی۔اے خدا کے نبی ؑ ! یہ مجھ سے محبت نہیں کرتا، صرف باتیں بناتا ہے، اسے میرے ساتھ ساتھ ایک اور چڑیا سے بھی محبت ہے ۔مادہ چڑیا کی یہ بات سن کر جناب سلیمان علیہ السلام کے دل پر بہت اثر ہوا، وہ بہت شدت سے روئے، پھر چالیس دن تک لوگوں سے ملاقات نہیں کی۔ (مسلسل عبادت کرتے رہے) اور خدا سے دعا کرتے رہے کہ ان کے دل کو اپنی محبت سے اسی طرح بھر دے کہ اس کی محبت کے ساتھ کسی اور کی محبت کی آمیزش نہ ہو۔

نیم گرم پانی پینے سے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے؟

اگر آپ روزانہ صبح خالی پیٹ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے آپ کو کیا فائدے ملتے ہیں۔زیادہ تر لوگ ایک کپ چائے یا کافی سے کرتے ہیں ۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دن کا آغاز ایک گلاس نیم گرم پانی سے کرتے ہوں گے۔ اس بات سے تو کافی واقف ہیں کے صبح نرما پیٹ پانی پینے کے بہت سارے فوائد ہیں۔ پانی کا استعمال صحت مند زندگی کے لیے بہت ظروری ہوتا ہے۔ہماری ساری باڈی کو پروپر پانی کی مقدار کی ظرورت ہوتی ہےروزانہ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال خالی پیٹ آپ کےڈائیزیشن کومزیدویڈیودیکھنےکےلیےنیچےویڈیوپرکلک کریں

کو بھوسٹ کرتا ہے ۔ اور آپ کے میٹابولیزم کوسپیڈ اپ کرتا ہے ۔ اور جسم میں ٹوکسن کو نکالنے میں بھی بہت زیادہ ظروری ہوتا ہے ۔آج میں آپ کو نیم گرم پانی پینے کے فوائد کے بارے میں بتا رہا ہوں۔ جب ہم بے توکی چیزیں کھا لیتے ہیں تو ہمارے باڈی کے اندر بہت زیریلے معدے پیدا ہوا جاتے ہیں ۔ صبح ایک گلاس نیم گر م پانی کا استعمال آپ کے اس مسئلے سے چھٹکارا دلا سکتا ہے ۔ایک گلاس پانی ٹھنڈا استعمال کرنے کی بجائے آپ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال کریں تو اس سے آپ کانظام حاضمہ بہتر ہوتا ہے ۔اور آپ کے جسم سے فاضل معدوں کو با ہر نکالنے میں مدد ملتی ہے۔صبح اٹھتے وقت جسم میں کمزوری کی وجہ سے محسوس ہونے والے درد کو ختم کرنے کے لیے ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے ۔وزن کو کم کرنے کے لیے اور جسم سے چربی کوپگلانے لیے نیم گرم پانی بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے ۔نیم گرم پانی آپ کی بوڈی میں ٹمپریچر کو بیلینس رکھتا ہے ۔اس سے آپ کا جسم ایکٹیو رہتا ہے ۔نیم گرم پانی خون میںپیدا ہونے والے زریلے معدوں کو بھی باہر نکالتا ہے ۔اور جسم میں نئے ریڈ سیلز مدد گا ہوتا ہے ۔اور جسم میں آکسیجن بلڈ کو بڑھاتا ہے جس سے آپ کی باڈی اینر جائز رہتی ہے ۔پانی آپ کے سکن کو فریش رکھنے کے ساتھ ساتھ سکن سیلز کو بھی پروموٹ کرتا ہے ۔اور آپ کی سکن کو سخت مند رکھنے میں بھی بہت مدد گار ہوتا ہے ۔نیم گرم پانی کا استعمال صبح خالی پیٹ کرنے سے آپ کے ریڈبلڈ سیلز کی تعداد برھتی ہے ۔اور جسم میں آکسیجن بلڈ کو اگر آپ روزانہ صبح خالی پیٹ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال کرتے ہیں

تو اس سے آپ کو کیا فائدے ملتے ہیں۔زیادہ تر لوگ ایک کپ چائے یا کافی سے کرتے ہیں ۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دن کا آغاز ایک گلاس نیم گرم پانی سے کرتے ہوں گے۔ اس بات سے تو کافی واقف ہیں کے صبح نرما پیٹ پانی پینے کے بہت سارے فوائد ہیں۔ پانی کا استعمال صحت مند زندگی کے لیے بہت ظروری ہوتا ہے ۔ہماری ساری باڈی کو پروپر پانی کی مقدار کی ظرورت ہوتی ہے ۔روزانہ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال خالی پیٹ آپ کے ڈائیزیشن کو بھوسٹ کرتا ہے ۔ اور آپ کے میٹابولیزم کوسپیڈ اپ کرتا ہے ۔ اور جسم میں ٹوکسن کو نکالنے میں بھی بہت زیادہ ظروری ہوتا ہے ۔آج میں آپ کو نیم گرم پانی پینے کے فوائد کے بارے میں بتا رہا ہوں۔ جب ہم بے توکی چیزیں کھا لیتے ہیں تو ہمارے باڈی کے اندر بہت زیریلے معدے پیدا ہوا جاتے ہیں ۔ صبح ایک گلاس نیم گر م پانی کا استعمال آپ کے اس مسئلے سے چھٹکارا دلا سکتا ہے ۔ایک گلاس پانی ٹھنڈا استعمال کرنے کی بجائے آپ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال کریں تو اس سے آپ کانظام حاضمہ بہتر ہوتا ہے ۔اور آپ کے جسم سے فاضل معدوں کو با ہر نکالنے میں مدد ملتی ہے۔صبح اٹھتے وقت جسم میں کمزوری کی وجہ سے محسوس ہونے والے درد کو ختم کرنے کے لیے ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے ۔وزن کو کم کرنے کے لیے اور جسم سے چربی کوپگلانے لیے نیم گرم پانی بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے ۔نیم گرم پانی آپ کی بوڈی میں ٹمپریچر کو بیلینس رکھتا ہے ۔اس سے آپ کا جسم ایکٹیو رہتا ہے ۔نیم گرم پانی خون میںپیدا ہونے والے زریلے معدوں کو بھی باہر نکالتا ہے ۔اور جسم میں نئے ریڈ سیلز مدد گا ہوتا ہے ۔اور جسم میں آکسیجن بلڈ کو بڑھاتا ہے جس سے آپ کی باڈی اینر جائز رہتی ہے ۔


پانی آپ کے سکن کو فریش رکھنے کے ساتھ ساتھ سکن سیلز کو بھی پروموٹ کرتا ہے ۔اور آپ کی سکن کو سخت مند رکھنے میں بھی بہت مدد گار ہوتا ہے ۔نیم گرم پانی کا استعمال صبح خالی پیٹ کرنے سے آپ کے ریڈبلڈ سیلز کی تعداد برھتی ہے ۔اور جسم میں آکسیجن بلڈ کو بڑھاتا ہے جس سے آپ کی باڈی اینر جائز رہتی ہے۔ جس سے آپ کو بیماریوں سے لرنے میں مدد ملتی ہے ۔پانی سخت مند زندگی کے لیے بہت ظرور ہے ۔ ایک گلاس نیم گرم پانی کا استعمال اپنی ڈیلی روٹین میں شروع کر لیجئے۔