بادشاہ جو ہر رات ایک کنواری لڑکی کا سر قلم کرتا تھا

ناس سے پہلے کہ شہرزاد کی کہانی شروع کی جائے، ان دو طاقتور باشاہوں کی داستان جاننا ضروری ہے جن میں سے ایک ہر رات کسی عورت سے شادی کرتا، صبح ہونے پر اسکا سر قلم کروا دیتا- کیوں؟اگر آپ بادشاہ کے درباریوں سے پوچھیں گے تو وہ یہی جواب دیں گے کہ انکی بیویوں نے انسے بیوفائی کی تھی اس لئے-کہانی شروع ہوتی ہے چھوٹے بھائی، سمرقند کے بادشاہ شاہ زمان سے- اس نے اپنی بیوی کو اپنے غلام کےساتھ دیکھا اور اسی لمحے تلوار کے ایک ہی وار سے دونوں کے ٹکڑے کردیے-اسکا بھائی شہریار جس کی حکومت ہندوستان سے چین تک پھیلی ہوئی تھی، اس سے عظیم بادشاہ تھا چناچہ اس سے بھی بڑا المیہ اسکا منتظر تھا- اس نے باغ میں اپنی ملکہ اور دس داشتاؤں کو غلاموں کے ساتھ ‘مشغول دیکھا-

صدمے سے بےحال ہوکر اس نے اپنا تخت و تاج چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا اور اپنے بھائی کو بھی ایسا کرنے کے لئے آمادہ کیا- انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس وقت تک اس پوری دنیا میں گھومتے رہیں گے جبتک انہیں اپنے ہی جیسا کوئی بدنصیب نہیں مل جاتا-آخر کافی آوارہ گردی کے بعد انہیں اپنے جیسا ایک بدنصیب مل ہی گیا، لیکن وہ کوئی کمزور انسان نہ تھا بلکہ ایک طاقتور اور زبردست جن تھا-وہ جن اپنی عورت کو سات تالوں میں مقفل رکھتا تھا پھر بھی عورت نے اسے پانچ سو ستر بار دھوکہ دیا، اور ہر دھوکے کی نشانی اس نے ان مردوں کی انگوٹھیوں کی شکل میں محفوظ کر رکھی تھی-اس فہرست میں دونوں بھائیوں کا بھی اضافہ ہوگیا اور ان دونوں کی انگوٹھیاں بھی عورت نے ایک دھاگے میں باندھ کر رکھ لیں-وہاں سے نکلنے کے بعد دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہمیں عورتوں کے بغض سے پناہ ڈھونڈنی چاہیے، اور پھر دونوں شہریار کی سلطنت واپس آگئے-

شہریار اپنے تخت پر بیٹھا اور وزیر اعظم کو ملکہ کو قتل کردینے کا حکم دیا- اس کے بعد اس نے انتمام داشتاؤں اور غلاموں کے بھی سر قلم کروا دیے جنہیں اس نے باغ میں عریاں رقص کرتے دیکھا تھا-لیکن ان سب کے بعد بھی اسکے دل کو تسلی نہ ہوئی، اس نے اپنے وزیر کو ایک دلہن لانے کے لئے کہا اور صبح جلاد کے ہاتھوں اس غریب کا سر قلم کروا دیا- یہ سلسلہ تین سال تک چلتا رہا، اسکی عوام نے اس ظلم کے خلاف احتجاج کیا، بادشاہ پر لعنت بھیجی، اور خدا سے اسکی تباہی کی دعائیں مانگیں-عورتیں مشتعل ہوگئیں-مائیں فریاد کرنے لگیں- والدین اپنی بیٹیوں کو لے کر وہاں سے کوچ کرنے لگے حتیٰ کے وہ دن آگیا جب وہاں ایک بھی جوان لڑکی نہ بچی سوا دو کے، وہ دونوں وزیر اعظم کی بیٹیاں : شہرزاد اور دنیازاد تھیں-

کہانی کا یہ رخ آپ بادشاہوں خوشامدیوں کے مونہہ سے سنیں گے جن کا غلبہ تمام درباروں پر ہوتا ہے- لیکن اگر آپ کو کہانی کا دوسرا رخ سننا ہے تو ان خاندانوں سے سنیں جن کی بیٹیاں بادشاہ کی خونی پیاس کی بھینٹ چڑھ گئیں-وہ آپ کو بتائیں گے کہ دونوں بادشاہ دراصل نامرد تھے-انہیں کسی عورت سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی ، لیکن تخت و تاج کے ایک وارث کے لئے عوام کے بےپناہ دباؤ میں آکر انہوں نے شادی کی حامی بھر لی، یہ سوچ کر کہ انہیں ایک ایسی عورت گی جو افشا نہیں کرے گی-انہیں ایسی عورت مل بھی جاتی، کیوں کہ اکثر عورتوں کی شادی نامردوں سے ہو جاتی ہے اور تمام عمر اپنے خاوندوں کی جوانمردی کی تعریفیں کرتے گزار دیتی ہیں-لیکن وہ صرف نامرد نہیں تھے، ساتھ ہی بزدل بھی تھے-

اور چونکہ وہ خود کبھی کسی کے ساتھوفادار نہیں رہے تھے چناچہ وہ اپنی بیویوں پر بھی بھروسہ نہ کر سکے، اور بلآخر انہوں نے بھی وہی راستہ اپنایا جو ان جیسے بزدل مرد اپناتے ہیں: تشدد کا راستہ-وہ اپنی آرامگاہ

سے باہر تو بادشاہ تھے، مگر اندر چوہوں سے بھی بدتر تھے- چونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ راز کسی پر کھلے چناچہ انہوں نے اپنی ہر دلہن کو جلاد کی تلوار کے وار سے خاموش کردیا-تین سال تک یہی سب چلتا رہا اور پھر ایک دن انہیں شہرزاد کی شکل میں اپنا مقابل مل ہی گیا- وہ خوبصورت تھی ، ہوشیار تھی، اس نے کتابیں پڑھی تھیں، اس کے پاس ایکایسا ہنر تھا جو کسی مرد کے پاس نہیں ہوسکتا، اور وہ تھی طاقت، ایک عورت کی نرم و نازک طاقت-اس کی بہن دنیازاد بھی اسی کی طرح ہوشیار اور خوبصورت تھی، اور اپنی بہن کی طرح عورت کی طاقت سے واقف تھی اور اسکا استعمال بھی خوب جانتی تھی-ان دونوں نے مل کر بادشاہ شہریار کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا-لیکن انکا باپ وزیر اعظم بھی ایک مرد ہی تھا، وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ نرم و نازک طاقت آخر چیز کیا ہے اوراس سے ایک زبردست بادشاہ کو کیسے شکست دی جاسکتی ہے-

جب شہریار نے اسے اپنی بیٹیاں شادی کے لئے پیش کرنے کا اشارہ دیا تو وزیر کے پاس آسان ترین راستہ یہی تھا کہ سلطنت سے فرار ہوجا-شہرزادے اس آزمائش کے لئے تیار، سچ تو یہ ہے کہ وہ اسی دن سے اس موقع کا انتظار کر رہی تھی جب سے بادشاہ نے اپنی خامی چھپانے کے لئے معصوم عورتوں کا خون بہانہ شروع کیا تھا-اس نے اپنے والد سے کہا، “میرامشورہ ہے کہ آپ میری شادی بادشاہ سے کردیں، یا تو میں فتحیاب ہو کر زندہ رہوں گی یا پھر مرنے سے پہلے اسے تباہ کر جاؤں گی”-

“تم نہیں جانتیں کہ کیا مانگ رہی ہو”، وزیر نے کہا، “میں تمہارا باپ ہوں، میں اپنی بیٹی کو موت کی جانب جاتے ہو نہیں دیکھ سکتا، اپنی ماں سے کہو سامان باندھے، ہم بھی دوسروں کی طرح یہ ملک چھوڑ دیں گے”-“نہیں، میرا خون ان سینکڑوں مظلوم عورتوں سے قیمتی نہیں جو اس پاگل بادشاہ کی کیانا پر قربان کر دی گئیں”، شہرزادے نے جواب دیا،”میں بھی شاید انہی کی طرح ماری جاؤں لیکن اس سے پہلے میں اس مکروہ کھیل کو ختم کر کے جاؤں گی”-“تم بادشاہ کے غضب سے واقف نہیں ہو، لیکن میں جانتا ہوں کیونکہ میں اسکا وزیر ہوں”، وزیر اعظم نے کہا-

“میں بادشاہ کے غضب سے تو آشنا نہیں لیکن ایک عورت کی ذہانت سے واقف ہوں”، شہرزادے نے جواب دیا-“مجھے اس نیک کام کے لئے تیار کریں، وہمجھے مار سکتا ہے تو مار دے، میں ایک شہید کی موت مروں گی”اس سے پہلے کے ہم کہانی آگے بڑھائیں میں آپ کو ایک راز بتانا چاہتا ہوں، ایک عورت کی نرم و نازک طاقت کے آگے ہر مرد، نامرد بن جاتا ہے- یہ ذہنی کمزوری ہے، جسمانی نہیں- اور تمام مردوں میں یہ کمزوری موجود ہوتی ہے-شادی کے لئے شاندار تیاریاں کی گئیں- شہرزاد کا لباس سنہرے دھاگوں سے تیار کیا گیا- اس کے لئے سمندروں سے موتی کھوج کرلا گ – اس کے گلوبند میں انڈے کے برابر ہیرا سجایا گیا- پوری سلطنت اور دنیا بھر سے چن کر عطر اسکی خدمت میں پیش کیے گئے-اسے مزید خوبصورت بنانے کے لئے کئی دنوں تک طرح طرح کی جڑی بوٹیاں، تیل اور محلول اسکے جسم پر ملے گ – مہندی کے خوبصورت و نازک نقش سے اس کے ہاتھ اور پیر سجائے گئے -شادی کی رات، دلہن کی سیج دور دراز کے باغوں سے لا ئے گئے پھولوں سے سجائی گئی-

کمرے کےچاروں کونوں اور بستر کے نیچے خوشبودار گاؤ لوبان جلائے گئے -لیکن آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ سب بادشاہ کے حکم پر ہو رہا تھا- وہ شادی کی رات سے زیادہ، اس کے بعد آنے والی صبح کی تیاریوں میں دلچسپی رکھتا تھا- دلہن کا سر قلم کرنے کے لئے سب سے وزنی اور تیز تلوار کا انتخاب کیا گیا اور اسکا خون جمع کرنے کے لئے بڑے بڑے برتن فرش پر رکھے گئے-بادشاہ بذات خود ہر دلہن کے لئے جلاد کا انتخاب کرتا، جتنیزیادہ خوبصورت دلہن ہوتی، جلاد اتنا ہی زیادہ خونخوار ہوتا- سر قلم ہونے کے بعد خصوصی ملازم فرش کی صفائی پر مامور تھے- بادشاہ چاہتا تھا کہ اس ظلم کے تمام نشانات منٹوں میں صاف کر دیے جائیں- اگر بدقسمتی سے خون کا ایک قطرہ بھی نظر آجاتا تو صفائی کرنے والوں کی پوری ٹیم کا سر قلم کر دیا جاتا-بادشاہ یہ چاہتا تھا کہ اس کی عوام صرف یہ یاد رکھے کہ کس طرح پہلی ملکہ نے بادشاہ کو دھوکہ دیا، کس طرح وہبادشاہ کی غیر موجودگی میں ایک غلام کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھتی تھی ۔اس نے اپنے پاگل پن کو ایک احسان کا تاثر دینے کی کوشش کی-

وہ چاہتا تھا لوگ یہ سمجھیں کہ روزانہ ایک کنواری لڑکی سے شادی کر کے اور دوسری صبح اسے قتل کروا کر وہ ان سب کو ایک بہت بڑی برائی سے بچا رہا ہے-وہ ناصرف یہ چاہتا تھا کہ اس ظلم کے تمام نشانات مٹ جائیں بلکہ اس نے یہ بھی یقینی بنا دیا کہ باہر کی دنیا کو محل کر اندر ہونے والےکارروائیوں کی بھنک بھی نہ پڑے، کس طرح دلہنوں کو آرام گاہ سے باہر گھسیٹ کر نکالا جاتا ہے، کس طرح وہ اپنی زندگی بخشنے کے لئے گڑگڑاتی ہیں، کس طرح ذبح ہو جانے کے بعد بھی انکے جسم زندگی کی طرف لوٹنے کے لئے دیر تک پھڑ پھڑاتے رہتے ہیں، کس طرح اس پاس کی زمین اور بعض اوقات بادشاہ کا لباس بھی خون سے سرخ ہو جاتے ہیں-

نہیں، وہ نہیں چاہتا تھا کہ یہ سب باہر کے لوگوں کو پتہ چلے-چناچہ اس بھیانککھیل میں ملوث پورے عملے کے کانوں میں اس نے پگھلا ہوا سیسہ ڈلوا دیا- تاکہ وہ ان مظلوم دلہنوں کی فریاد اور رونا پیٹنا نہ سن سکیں- اور اگر ایسا ہو بھی جاتا تو وہ یہ سب کسی کو نہیں بتا سکتے تھے کیونکہ انکی زبانیں کاٹ دی گئی تھیں-یہ سب سننے کے بعد آپ یقیناً یہ سوچ ہوں گے کہ دلہن کے لئے یہ ساری تیاریاں شہرزاد کے باپ نے کی ہونگی آخر کو وہ وزیر اعظم تھا- جی نہیں، ان سب سے اس کا کچھ لینا دینا نہ تھا-وہ ان سب میں ملوث نہیں ہونا چاہتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جو راستہ اسکی بیٹی نے چنا ہے وہ صرف اور صرف موت کی طرف لے جاتا ہے-

“وہ شادی کی سیج پر نہیں، قتل گاہ کی طرف جا رہی تھی”لیکن وہ اس معاملے میں مجبور تھا- وہ بادشاہ کے حکم پر سینکڑوں معصوم لڑکیاں اس قتل گاہ میں لایا تھا، اور اب سوا اسکی دو بیٹیوں، شہرزاد اور دنیا زاد، کے سلطنت میں کوئی اور کنواری لڑکی نہیں بچی تھی- سینکڑوں ماری گئی تھیں اور ہزاروں اس ملک سے کوچ کر گئی تھیں، جب ایک ملک پر ایسے ظالم حکمران کی حکومت ہو تولوگ یہی کرتے ہیں-جب بادشاہ نے شہرزاد کو لانے کا حکم دیا تب وزیر اعظم نے بھی وہاں سے بھاگنے کا سوچا لیکن اسکی بیٹی نے انکار کر دیا-

وہ یہیں رک کر اس شیطانی کھیل سے لڑنے اور اس کا خاتمے کا ارادہ رکھتی تھی-وہ جانتا تھا کہ وہ جوان اور کمزور ہے اور اسکا کوئی حمایتی بھی نہیں ہے- وہ یہ بھی جانتا تھا کہ بحیثیت ایک عورت کے اس کا، اس طاقتور جابر بادشاہ سے کوئی مقابلہ نہ تھا-لیکن شہرزاد یہ جانتیتھی کہ بحیثیت ایک عورت کے وہی تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہے- وہ اپنی کمزوریوں سے واقف تھی لیکن یہاں لائی اور قتل کی جانے والی دوسری لڑکیوں کے برعکس وہ یہ بھی جانتی تھی کہ انہیں کسطرح طاقت میں بدلہ جاسکتا ہے-بادشاہ بھی جانتا تھا کہ شہرزاد ضدی اور جراتمند ہے- اس کے جاسوسوں نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم اپنی بیٹیوں کو بچانے کے لئے ملک سے بھاگ رہا تھا مگر شہرزاد نے اسے روک دیا- چناچہ بادشاہ نےبھی شہرزاد کو زیر کرنے کے لئے ایک دو چالیں تیار کر لیں-

حجرہ عروسی میں داخل ہوتے ہی بادشاہ نے جلتے ہوے لوبان کی طرف اشارہ کر کے پوچھا ، “یہ سب کیا ہے ؟”“جذبات کی خوشبو، عالی جاہ “، شہرزاد نے جواب دیا-“مجھے خون کی بو زیادہ پسند ہے “، بادشاہ نے کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا- “یہاں اتنے پھول کیوں سجائے گئے ہیں ؟”“یہ چاہت کے پھول ہیں، عالی جاہ “، شہرزاد بولی-یہ سن کر بادشاہ باغیچےکی کھڑکی کی طرف گیا اور اسے کھول کر کھڑا ہو گیا-وہاں ایک خونخوار شخص، تیز روشنی میں کھڑا تلوار تیز کر رہا تھا-“یہ دیکھ رہی ہوں تم؟”، بادشاہ نے پوچھا-“آج کی رات محبّت نے مجھے اندھا کر دیا ہے، عالی جاہ”، شہرزاد نے کہا- “کل صبح میں دوسری باتوں پر توجہ دوں گی-““اب کوئی کل نہیں آئے گا”، بادشاہ نے کہا-

“سورج بادلوں کے پیچھے بھی چمکتا ہے، کل صبح ضرور آئے گی “، شہرزاد بہت پرامیدتھی-“دیکھتے ہیں”، یہ کہتے ہوئے بادشاہ نے دروازہ کھولا- ایک غلام نے چھوٹی سی بوری کمرے میں پھینکی، بوری کے اندر کوئی چیز تکلیف اور غصّے سے چلّانے لگی-جیسے ہی بوری کا مونہہ کھلا، اس میں سے ایک بلی نکل کر کھڑکی کی طرف بھاگی، لیکن اس سے پہلے کے وہ کھڑکی تک پنہچتی، بادشاہ نے تلوار کے ایک ہی وار سے اس کے دو ٹکڑے کر دیے-پھر شہرزاد کے چہرے کے سامنے تلوار لہراتے ہوئے بولا،”مجھے پریشان کیے جانا پسند نہیں “-’’یہ تو ایک بلا تھا، اگر کوئی بلی ہوتی تو کبھی یوں بھاگنے کی کوشش نہ کرتی”، شہرزاد نے مسکرا کر کہا-مسکراہٹ دیکھ کر بادشاہ گھبرا گیا- اس نے تلوار میان میں ڈالی اور کمرے کے بیچ میں کھڑا ہوگیا، کافی دیر یوں ہی گزر گئی-

پھر ایک کرسی پر بیٹھ کر اس نے شہرزاد سے پانی لانے کو کہا-“جی، حضور والا” ، یہ کہتے ہوئے اس نے بادشاہ کی طرف پانی کا گلاس بڑھایا پھر بولی،” پانی بلکل ایک مرہم کی طرح ہے کیوں کہ اس میں تبدیل ہوجانے کی صلاحیت ہے بالکل ایک عورت کی طرح”-“تبدیل ہونے کی صلاحیت عورت میں نہیں مرد میں ہوتی ہے، عورت کے پاس کوئی طاقت نہیں ہوتی”، بادشاہ بگڑ گیا-“اگر آپ کے خیال میں پانی بے بس ہے تو پھر عورت بھی بے بس ہوتی ہو گی”، شہرزاد پھر مسکرائی-“اس کا سر قلم کرنے سے پہلے میں دو کام ضرور کروں گا، ایک تو اس سے قبولکرواؤں گا کہ عورت کمزور ہوتی ہے دوسرے اس کی یہ مسکراہٹ اس کے چہرے سے مٹا دوں گا”، بادشاہ نے دل میں تہیہ کر لیا-وہ بہار کی ایک شام تھی، پارک مختلف آوازوں سے گونج رہا تھا، انسانوں اور جانوروں دونوں کی-

بچے ہنس رہے تھے، کتے بھونک رہے تھے- جوان ماؤں نے اپنے بچوں کو پکارا اور انہیں تمیز سے رہنے کو کہا- بچے کہاں سنتے ہیں وہ اپنی پکڑم پکڑائ میں مگن رہے-‘پکڑ لیا! ‘، بچے نے دوسرےبچے کو چھوتے ہوے کہا، ‘اب تم چور بنو گی’-‘نہیں بالکل نہیں، میں تمھارے پکڑنے سے پہلے گھر پہنچ گئی تھی’، دوسرے بچے نے کہا-‘سمندر گہرا ہے، میری بہنا، سمندر گہرا ہے’، دنیازاد بولی-‘کتنا گہرا، میری بہنا ، کتنا گہرا ؟’، شہرزاد نے پوچھا-‘میرے پیروں تک، پیاری بہن، میرے پیروں تک’، دنیازاد نے جواب دیا-‘کتنا گہرا بہن اور کتنا گہرا ؟ ‘”میری گھٹنوں تک، میری کمر تک، میرے سینے

تک، میری آنکھوں تک!’-وہ دونوں اپنے گھر تک پہنچنے سے پہلے ہی پکڑی گئیں اور محل پہنچا دی گئی تھیں- اب دونوں اس فکر میں تھیں کہ اپنی جان کیسے بچائیں-لیکن کیا واقعی میں کبھی کوئی گھر تھا؟ شاید نہیں، وہ تبھی تک محفوظ تھیں جب تک عزت و ناموس کے جنون میں مبتلا عمر رسیدہ مردوں کے بنا ئے ہوئے اصولوں کے مطابق چلتی رہتیں-‘ آخر انکی عزت کا معاملہ ہمیشہ عورت کے جسم سے ہی کیوں جڑا ہوتا ہے’، دنیازاد نےپوچھا-

‘کیونکہ اس طرح وہ آزادی سے اپنی مردانگی کی نمائش کر سکتے ہیں’، شہرزاد نے کہا-دنیا کے ایک دوسرے کونے پر، جہاں بہار بہت مختصر ہوتی ہے اور گردآلود سردیوں کے فوراً بعد وہاں گھٹن زدہ گرمیاں شروع ہوجاتی ہیں، ایک ‘کاری’ اپنے بھائی سے کہہ رہی ہے، ‘ میں نے اپنی عزت کا سودا نہیں کیا، میری آبرو لوٹی گئی ہے’-‘اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا زنا، زنا ہے زبردستی ہو یا مرضی سے- تم نے خاندان کیعزت خاک میں ملائی ہے’، بھائی نے اپنی بندوق سے بہن کا نشانہ لیتے ہو ئے کہا-‘پکڑ لیا’، لڑکے نے لڑکی کو چھوتے ہوئے کہا-‘ نہیں، نہیں ! میں تو اپنے گھر پر ہوں’، لڑکی نے جواب دیا-‘لیکن گھر ہے کہاں؟’، لڑکے نے سوال کیا-

لڑکی نے سسکتے ہوئے اپنے اردگرد دیکھا-‘بادشاہ ایک برا انسان تھا، لیکن اس سے بھی برے وہ لوگ تھے جنہوں نے بادشاہ کی طرفداری میں کہانی لکھی’، شہرزاد بولی- ‘ وہ کہتے تھے کہ بادشاہنے روزانہ ایک عورت کا قتل کر کے بالکل ٹھیک کیا کیونکہ اسکی پہلی بیوی نے اس سے بیوفائی کی تھی’-‘ہاں، لیکن ساتھ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ تم اس سے محبت کرتی تھیں’، دنیازاد نے کہا-

‘وہ جو چاہیں کہہ سکتے ہیں مگر وہ محبت کو کبھی سمجھ نہیں پائیں گے’، شہرزاد نے جواب دیا-‘لیکن وہ اپنی ماؤں کی محبت کو تو سمجھتے ہیں’، دنیازاد بولی-‘وہ نہیں سمجھتے وہ اسکا مطالبہ کرتے ہیں ٹھیک اسی طرح جیسےاپنی بہنوں اور بیویوں سے محبت کا مطالبہ کرتے ہیں’، شہرزاد نے کہا، ‘ پاکیزہ اور بے غرض محبت سے مرد گھبراتے ہیں ‘-‘کیوں؟ ‘، دنیازاد نے پوچھا-‘مرد جس چیز پر اپنا ہاتھ رکھ لیں اسے اپنی ملکیت بنانا چاہتے ہیں- لیکن محبت کو محسوس کیا جاتا ہے بانٹا جاتا ہے- یہ کسی کی ملکیت نہیں بن سکتا-‘‘اور جس پر یہ قبضہ نہیں کر سکتے اسے تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں’، دنیازاد نے اس میں اضافہ کرتے ہوے پوچھا،’تم نے اسے رام کرلیا، کیسے؟’‘ہم عورتوں کو اکثر جنگلی جانوروں کو سدھانا پڑتا ہے’، یہ شہرزاد کا جواب تھا-الف لیلیٰ میں شہرزاد نے بادشاہ کو بتایا کہ عورتیں مردوں سے زیادہ سمجھدار ہوتی ہیں-بادشاہ جو شادی کی رات سے زیادہ اگلی صبح قتل کے پروگرام میں دلچسپی رکھتا تھا، شہرزاد سے بولا، ‘جو تم نے کہا ہے وہ ثابت کرو ..ورنہ’-‘عالی جاہ، مجھے تو ویسے بھی مر جانا ہے، میرے ساتھ اس سے برا اور کیا ہو سکتا

ہے’،شہرزاد نے مسکراتے ہو ئے جواب دیا-بادشاہ کو بھی احساس ہوگیا کہ اس کے پاس لڑکی کو ڈرانے کے لئے کوئی اور حربہ نہیں، چناچہ وہ کمرے سے باہر چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد شب خوابی کے لباس میں واپس آیا- لیکن وہ اپنی تلوار ساتھ لانا نہیں بھولا تھا-‘ثابت کرو کہ عورت، مرد سے زیادہ سمجھدار ہوتی ہے ورنہ’، اس نے تلوار کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے کہا-‘عالی جاہ مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ موت سے زیادہ بریچیز اور کچھ نہیں- میرے پاس اپنا نکتہ ثابت کرنے کے لئے ایک ہزار ایک کہانیاں ہیں، وہ میں آپ کو سنا سکتی ہوں لیکن خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ مجھے کہانیاں سنانا پسند ہیں’، شہرزاد بولی-‘ جو بھی ہے، شروع کرو’، بادشاہ نے اشارہ کیا-‘لیکن ایک مسئلہ ہے عالی جاہ’، شہرزاد نے کہا-‘اور وہ مسئلہ کیا ہے؟’، بادشاہ نے پوچھا-‘میں کہانی اس وقت تک نہیں سنا سکتی جبتک میری چھوٹی بہن ساتھ نہ ہو’، شہرزاد نےبتایا-

چناچہ فوراً دنیازاد کو بلوایا گیا-دنیازاد آئی اور اس نے ادب کے ساتھ فرشی سلام کیا جیسے تمام مرد اور عورتوں کو کرنا ہوتا ہے، اور پھر بادشاہ کے قدموں میں بیٹھ گئی- بعض مردوں کو اچھا لگتا ہے جب عورتیں انکے قدموں کے پاس بیٹھتی ہیں-دنیازاد کے پاس بیٹھنے کے ساتھ ہی شہرزاد نے اپنی کہانی شروع کردی-‘بغداد کے قریب ایک شہر کا سردار تاجر اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر لوگوں سے وصولی کرنے نکلا-

دوپہر کے وقت وہ ایک نہر کے کنارے رک گیا، گھوڑے کو درخت سے باندھ کر کھانا کھانے لگا-‘کھانا ختمکر کے اس نے کچھ کھجوریں نکالیں اور انہیں بھی کھانے لگا- کھانے کے بعد اس نے بیج زور سے پھینکے کہ اچانک ایک بڑا سا خوفناک عفریت ہاتھ میں تلوار لئے نمودار ہوا-‘تم نے میرے بیٹے کی آنکھ پھوڑ دی، مرنے کے لئے تیار ہوجاؤ’، عفریت نے للکارا-چونکہ شہرزاد داستان گوئی میں ماہر تھی چناچہ تاجر اور عفریت کی کہانی آگے تین شیخوں تک چلی گئی—جن میں سے ایک کے پاس غزال تھا، دوسرے کے پاس دوشکاری کتے اور تیسرے کے پاس ایک خچر تھا—- اور ان سے آگے مچھیرے اور جننی کی کہانی تک-

پارک میں شہرزاد اگلی سردیوں کے لئے گرم شال بنتے بنتے روک گئی، اور دنیازاد سے بولی،’اندھیرا بڑھ رہا ہے، چلو گھر چلیں، الف لیلیٰ ہو یا اسکندریہ عورت آج بھی کہیں محفوظ نہیں ہے’-وہ چھوٹی سی بچی جو سمجھ رہی تھی اس کے پاس گھر ہے، روتی ہوئی کار تک گئی جہاں اسکی ماں اسکا انتظار کر رہی تھی-کاری نےآخری بار اپنے بھائی کی طرف دیکھتے ہوے خود سے سوال کیا، ‘ آخر اسکی عزت کی حفاظت کے لئے میرا مارنا کیوں ضروری ہے؟’بادشاہ نے شہرزاد کو ایک دن مزید زندہ رہنے دیا-شہرزاد جانتی تھی کہ اسے ایک وقت میں ایک ہی قدم اٹھانا ہے اس لئے اسے فکر نہیں تھی- پارک میں اندھیرا آہستہ آھستہ روشنی کو نگل گیا لیکن شہرزاد نے کار میں بھی اپنی بنائی جاری رکھی-اور اسکی ادھوری شال نے دنیا کو نرمی کے ساتھ اپنی گرم آغوش میں لے لیا- )

اُلٹی شلوار

صاب اب میرا کام ہو جائے گا نااس نے دیوار کی طرف رُخ موڑا اور تیزی سے کپڑے پہننے لگی.ہاں ہاں بھئی میری سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں.پھر میں پیسے لینے کب آؤں ؟دوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اور پھر جھٹک کر لپیٹ لیا.پیسے ملنے تک تمھیں ایک دو چکر تو اور لگانے ہی پڑیں گے. کل ہی میں مالکان سے تمھارے شوہر کا ذکر کرتا ہوںمیں نے شرٹ کے بٹن لگائے، ہاتھوں سے بال سنوارے اور دفتر کے پیچھے ریٹائرنگ روم کے دروازے سے باہر جھانک کر آس پاس احتیاطاً ایک طائرانہ نظر دوڑانے لگاویسے تو نیا چوکیدار وقتا فوقتا چائے پانی کے نام پر میری طرف سے ملنے والی چھوٹی موٹی رقم کے بدلے میں میرا خیر خواہ تھا مگر پھر بھی میں کسی مشکل میں گرفتار نہیں ہونا چاہتا تھا.پھر میں کل ہی آجاؤں” وہ میرے پختہ جواب کی منتظر تھی۔

کل نہیں میں روز اس طرح یہاں آنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا، اس لیے بس آہ بھر کر رہ گیاہائے غریبوں کو بھی کیسے کیسے لعل مل جاتے ہیں. میں نے نظروں سے اس کے جسم کے پیچ و خم کو تولتے ہوئے سوچا ارے سنو ! ! تم نے شلوار اُلٹی پہنی ہےوہ چونک کر اپنی ٹانگوں کی طرف جھکی اور خجل ہوگئی. اسے اتار کر سیدھی کرلو میں چلتا ہوں. پانچ منٹ بعد تم بھی پچھلے دروازے سے نکل جانا. اور ہاں احتیاط سے، کوئی دیکھ نہ لے تمھیں.زیمل خان چار سال سے ہماری فیکٹری میں رات کا چوکیدار تھا. تین ہفتے پہلے فیکٹری میں داخل ہونے والے ڈاکوؤں کے ساتھ مزاحمت میں ٹانگ پر گولی کھا کر گھر میں لاچار پڑا ہوا تھا. مالکان اس کے علاج کے لیے پچاس ہزار دینے کا اعلان کر کے بھول گئے تھے. سو اس کی بیوی اسی سلسلے میں بار بار چکر لگا رہی تھی. میں نے اس کی مدد کا فیصلہ کیا اور چھٹی کے بعد شام میں اسے فیکٹری آنے کا اشارہ دے دیا.عمر! عمر!اپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مجھے عقب سے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی. اس کے اور میرے گھر لوٹنے کا وقت تقریبا ایک ہی تھا اور کبھی کبھار تو ہم اسی طرح اکھٹے گھر میں داخل ہوتے تھے. وہ ایک چھوٹے بینک میں کلرک تھی.ایک خوشخبری ہے ” قدرے فربہی مائل وجود کو سنبھالے وہ تیزی سے اوپر آرہی تھیخوشی سیے اس کی باچھیں کھلی جا رہی تھیں مینیجر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں اور آج ہی انھوں میرے

پروموشن کی بات ہے.دروازے کے سامنے رک کر اس نے ہینڈ بیگ ٹٹولا اور چابی نکالیانہوں نے کہا ہے تھوڑا وقت لگے گا مگر کام ہوجائے گا’ارے واہ ! مبارک ہو ” میں نے خوش دلی سے اسے مبارکباد دی تمھیں پتا ہے مجھ سمیت پانچ امیدوار ہیں، اور وہ آصفہ ہے نا، وہ بھی میرے حق میں نہیں مگر مینیجر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں. کیوں نہ ہوں؟ میں اتنی محنت جو کرتی ہوں اور ویسے بھیوہ گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے بھی مسلسل بولے چلی گئیمیں اس کی پیروی کرتے ہوئے اس کی فتح کی داستان سے محظوظ ہورہا تھا کہ اچانک میری نظر اس کی الٹی شلوار کے ریشمی دھاگوں میں الجھ گئی.

آیت الکرسی کا کمال

ایک شخص نے عرض کیا یا رسولﷺ مجھے ایسی چیز بتائیں کہ مجھے اس سے نفع ہو۔ فرمایا آیت الکرسی پڑھا کر۔ اللہ تیری اور تیری اولاد کی اور نگاہ رکھے گا تیرے گھر پریہاں تک کہ تیرے ہمسائے اوران کے گھر بھی اللہ کی حفاظت میں ہوں گے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد ایک بار آیت الکرسی ہمیشہ پڑھتا رہا جنت اس پر واجب کر دی جائے گی ۔ جنت اوراس کے درمیان سوائے موت کے کوئی چیز حائل نہ ہوگی ایک شخص نے نبی کریم سے عرض کیا کہ یارسولﷺ میرے گھرمیں خیروبرکت نہیں۔ آپﷺنےارشاد فرمایا کہ تم آیت الکرسی کیوں نہیں پڑھتے آج ہم آپ کو ایک بہت زبردست وظیفہ بتائیں گے کوئی ایسا شخص جس کو لگتا ہے کہ میرے کام میں رکاوٹ یا بندش ہے تو یہ وظیفہ ان شخص کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔

دوستو اس وظیفے میں آیت الکرسی کو ایک خاص طریقے سے پڑھنا ہے آیت الکرسی کی فضیلت کے بارے میں علماء کرام کا واضع بیان ہے کہ اس کا پڑھنے والا ہر قسم کی بندش جادو یا رکاوٹ کا شکار نہیں ہوگا آیت الکرسی قرآن پاک کی سورۃ سورۃ بقرہ میں ہے جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ اگراس کو تین دن اورتین راتوں تک جس گھر مکمل ویڈیودیکھنے کےلئے نیچےویڈیوپرکلک کریں میں پڑھاجائے گا تو وہ گھر جادو ٹونے اور ہر قسم کے جنات سے پاک سمجھا جاتا ہے دوستو آیت الکرسی کے بہت معجزات ہیں جس کی مثالیں ہمیں اپنے بزرگوں سے سننے میں ملتی ہیں آیت الکرسی کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ اگرکوئی جن سانپ یا کسی چھپکلی کے روپ میں آپ کے گھر میں آجاتا ہے اورآپ اس کو پہنچا لیتے ہیں تواس کے لئے طریقہ یہ ہے کہ آپ دونوں آنکھیں بند کرکے تین بارآیت الکرسی پڑھ کر ہلکے ہاتھ سے تالی بجائیں اورپھرآنکھیں کھول دیں اگر جنات ہوں گے توغائب ہوجائیں گے اگرعام چھپکلی یاسانپ ہوگا توغائب نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ دوستو گھروں میں عجیب وغریب آوازیں سنائی دیتی ہیں تواس کے لئے بھی آیت الکرسی کا ایک چھوٹا سا عمل ہے

کہ آپ سات مرتبہ آیت الکرسی اول آخر درودشریف پڑھ کرایک گلاس پانی میں دم کر کے اپنے گھرکی دیواروں پر چھڑکیں انشاءاللہ تعالی آوازیں آنا بند ہو جائیں گی آیت الکرسی کا ایک اورعمل یہ ہے گھر میں اگر چیزیں غائب ہو جاتی ہیں ان چیزوں کواگر آپ خود رکھ کر بول جاتے ہیں یا پھرکوئی غائبی طاقت ان کوغائب کردیتی ہے تو انشاءاللہ تعالی آیت الکرسی کے چھوٹے سے عمل سے مل جائے گی عمل یہ ہے کہ ایک کاغذ پرگم ہونے والی چیز کا نام لکھ کراس پرایکس مرتبہ آیت الکرسی پڑھ کردم کریں اوراس کاغذ کو سوتے وقت روزانہ اپنے سرانے کے نیچے رکھ کرسوجائیں انشاءاللہ اس چیز کا بہت جلد خواب کے زریعے پتہ چل جائے گا۔ دوستو اس وظیفے کی اجازت ہرخاص اورعام کو ہے دوستو اب چلتے ہیں

پیٹ کی چربی اور دردوں سے چھٹکارہ ادرک کو اس طریقے سے استعمال کریں

دوائی چھوڑئے ادرک کا استعمال کریں اور بیماریاں بھگائےدوائی چھوڑئے ادرک کا استعمال کریں اور بیماریاں بھگائےدوائی چھوڑئے ادرک کا استعمال کریں اور بیماریاں بھگائے ادرک ایک خوشبودار جڑ کہلاتی ہے اس کا استعمال کھانوںمیں کثرت سے ہوتا ہے اس سے کھانوں میں ذائقہ اور خوشبو آتی ہے لیکن اس کے ساتھ اس میں ایسی جادوائی اوصاف ہیں جس کا جان کوئی بھی اس کا استعمال ترک نہیں کرے گا ۔ اگر آپ موٹاپے اور جوڑوں کے درد سے پریشان ہیں تو ’ادرک کا پانی‘ وہ مفید نسخہ ہے جو آپ کو ہر صورت آزمانا چاہئیے،

کیونکہ ان مسائل کے حل کے لئے شاید ہی اس سے بہتر کوئی اور چیز ہو۔ ویب سائٹ ’کنسیڈر ہیلتھ‘ کے مطابق ادرک کا پانی خون میں لوتھڑے نہیں بننے دیتا اور یوں خون کے بہاﺅ کو متوازن کرتا ہے۔ یہ کولیسٹرول کے لیول میں کمی کرتا ہے اور جوڑوں کے درد، سوزش اور سوجن سے نجات دلتا ہے۔ یہ نسخہ ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ بھی ہے جو آپ کے جسم کی صفائی کرتا ہے اور کئی طرح کی بیماریوں، حتیٰ کہ کینسر جیسی بیماری کے خلاف بھی مدافعت پیدا کرتا ہے۔اسے تیار کرنے کیلئے پہلے ڈیڑھ لٹر پانی کو ابال لیں اور جب یہ ابلنا شروع ہوجائے تو اس میںادرک کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر ڈالیں۔

اسے کچھ دیر کیلئے ابلنے دیں اور پھر چولہے سے اتار کر اسے تقریباً 15 منٹ کیلئے پڑا رہنے دیں۔ جب یہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس میں لیموں کا رس ملا لیں۔

بہترین نتائج کے لئے دن میں دو بار یہ مشروب پئیں۔ اس کا استعمال صبح کے وقت ناشتے سے پہلے اور رات کے کھانے سے پہلے کریں۔ یہ جہاں موٹاپے اور جوڑوں کے درد کا خاتمہ کرتا ہے وہیں ہمارے مدافعتی نظام کو طاقتور بناتا ہے، نزلہ و زکام سے بچاتا ہے، دوران خون کو متوازن کرتا ہے۔ اسی طرح یہ ہاضمے کو درست کرتا ہے اور خوراک کے اجزاءکو ہمارے جسم میں جذب ہونے میں بھی مدد دیتا ہے

اس کا کچھ ہفتوں تک مسلسل استعمال رکھیں یہ جسم سے زائد چربی کو نکالتا ہے اس کے ساتھ زائد مادوں کو بھی خارج کرتا ہے جسم کو زہرلے مادوں سے محفوظ رکھتا ہے اور انسان کو صحت مند بناتا ہے ۔ اس لئے اپنی اچھی صحت کے لئے اس کا استعمال اپنے روز مرہ خوراک میں رکھیں

خالی پیٹ لہسن کے ساتھ یہ قدرتی اجزاء 7 روز تک مسلسل استعمال کرکے دیکھیں

لہسن کے فوائد سے کبھی بھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے اور صدیوں سے لوگ اس کا استعمال کرتے آئے ہیں۔اسی طرح شہد کی افادیت بھی مسملہ ہے اور اگر ان دنوں کو اجزاءکو ملاکر خالی پیٹ استعمال کیا جائے تو کئی فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ لہسن کے فوائد سے بھرپور استفادہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اسے ثابت استعمال کریں کیونکہ اس طریقے سے لہسن میں موجود ایلی سین کا زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔لہسن مسل کر کھانے سے پہلے 15منٹ تک پڑا رہنے دیں ۔

شہد اور لہسنلہسن کو پیس کر اس میں شہد ملاکر خالی پیٹ 7دن تک کھائیں ،اس طریقے سے آپ کے جسم میں توانائی آئے گی اور تمام کمزوری دور ہوجائے گی۔لہسن سے بناٹانکیہ ٹانک زکام اور نزلے کے لئے بہت مفید ہے لیکن اس کو بنانے کے دوران اپنے ہاتھوں کو آنکھوں سے ر رکھیں۔

جزائ آدھا پیلا پیاز کٹا ہوا پانچ لہسن کی توڑیاں پسی ہوئیںسرخ مرچیں دو عدد پیس لیںایک بڑا چمچ ادرک پسی ہوئیایک بڑا چمچ لیموں کارس سیب کا سرکہ۔

بنانے کا طریقہ ایک 500ملی لیٹر مٹی کے جار میں کٹی ہوئی پیاز ڈالیںاور پھر لہسن ڈال دیں۔اس کے بعد سرخ مرچیں ،ادرک اور لیموں کا رس ڈالیں۔اس کے بعد سیب کاسرکہ اتنا ڈالیں کہ جار میں دو سینٹی میٹر جگہ رہ جائے۔اس مشروب کو گلے کی خرابی،زکام اور فلو کے دوران پینے سے بیماری دور ہوجائے گی۔

بادشاہ اور اس کا بیٹا

شیر شاہ سوری ہندوستا ن کا حکمران تھا۔ایک دن اس کا بیٹا ہاتھی پر سوار بازار میں سے گزرہا تھا کہ اس کی نظرایک کوٹھے پر پر پڑی جہاں ایک عورت غسل کر رہی تھی ۔شہزادے نے ہاتھی کو روکا ،شرارت سے اس عورت پر پھول پھینکا اور چل دیا۔شام کو جب اس عورت کا خاوند جو کہ ایک غریب لکڑہارا تھا گھر آیا تو بیوی کو مغموم اورمضطرب پایا۔دریافت کرنے پر اس نے شہزادے کا سارا ماجرا اپنے خاوند کو کہہ سنایا ۔لکڑہارے کا خون کھول اٹھا اگلی صبح بیوی کو ساتھ لیا اور شیر شاہ سوری کے دربار میں جا پہنچا ،شکایت کی اور انصا ف چاہا۔بادشاہ نے فریاد سنی ،شہزادے کو طلب کیا ،استعفار پر شہزادے نے ندامت سے سر جھکالیا ،گویا یہ جرم کا اعتراف تھا ۔شیر شاہ سوری نے حکم دیاکہ’’شہزادے کو دو سو کوڑے سو کوڑے دربار میں ہی اُس عورت کے سامنے مارے جائیں۔

‘‘یہ تھا عدل ،یہ تھا انصافلوگ غریب لیکنتین بادشاہ آپس میں بہت گہرے دوست تھے‘ ایک دفعہ تینوں اکٹھے ہوئے اور فیصلہ ہوا کہ دیکھتے ہیں کس کا ملک سب سے زیادہ خوبصورت ہے‘ ایک سال کا ٹائم مقرر ہو گیا کہ ایک سال خوب محنت کر لیں‘ ملک کو سنوار لیں‘ ایک سال کے بعد تینوں ممالک سے سمجھ دار اور لائق آدمی جج مقرر کئے جائیں گے وہ جو مل کر فیصلہ کریں اس کو تسلیم کیا جائے گا اور جیتنے والے بادشاہ کو انعام دیئے جائیں گے‘ ایک سال گزر گیا جج مقرر ہو گئے‘ انہوں نے مل کر ایک ریاست کا چکر لگایا‘ حیران رہ گئے ہر طرف خوبصورت عمارتیں تھیں‘ بڑے بڑے مکان تھے‘ عالی شان محلات تھے‘ یہ لوگ بہت حیران ہوئے کہ اس بادشاہ نے ایک سال میں پورے ملک کو اس طرح کیسے بنا دیا بہرحال دوسرے ملک گئے تو وہاں اس سے بھی زیادہ حیران ہوئے کہ پورا ملک ایک باغ کی طرح تھا‘ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی تھی‘ پھولوں سے بھرے ہوئے پودے اور پھلوں سے بھرے ہوئے درخت تھے‘ یہ لوگ خوش بھی ہوئے ‘ متاثر بھی ہوئےلیکن ابھی فیصلہ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ تیسرے ملک کو دیکھنا ابھی باقی تھا‘ جب تیسرے ملک میں پہنچے تو وہاں کا بادشاہ انتہائی خوش اخلاق تھا‘ ان سے بڑے اچھے طریقے سے ملا‘ ان کی بہت خاطر مدارت کی اور پھر ان کو اپنے ملک کی سیر کی اجازت دے دی‘ یہ لوگ پورے ملک میں پھرے ‘ ان کو بڑے بڑے محلات اور بڑے مکان نظر نہیں آئے سوائے چند ایک کے جو پہلے ہی بنے ہوئے تھے‘ نہ ان کو کوئی خاص باغ نظر آئے اور نہ ہی ہریالی دکھائی دی‘ بس وہی کچھ تھا جو پہلے سے ہی چلا آ رہا تھا‘اب فیصلے کی گھڑی آ گئی تو تمام ججوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ یہ تیسرے نمبر والا بادشاہ جیت گیا‘ سب حیران ہوئے ‘ وجہ پوچھی گئی تو بتایا گیا کہ ہم پہلے ملک میں پہنچے تو ہر طرف خوبصورت عمارتیں‘ پکے مکان اور بڑے بڑے محلا تھے‘ یہ سب مچھا ہے لیکن ہم نے جب عوام کے چہروں پر نظر ڈالی۔

تو ہمیں بہت سے اداس چہرے نظر آئے جو خاموشی سے اپنی پریشانی اور مختلف مسائل بتا رہے تھے‘ ہم دوسرے ملک میں پہنچے تو یہ پورا ملک باغ بن چکا تھالیکن جب ہم نے لوگوں کے چہرے پڑھے تو پہلے سے بھی زیادہ لوگوں کو پریشان پایا‘ لوگ خاموش نظروں سے اپنے مسائل بتا رہے تھے جبکہ بادشاہ ملک کوباغ بنانے پر لگا ہوا تھا۔جب ہم تیسرے ملک میں پہنچے تو وہاں بڑے بڑے محلات‘ باغات اور پکے مکان تو نظرنہ آئے لیکن جب ہم نے لوگوں کے چہرے دیکھے تو وہ ہشاش بشاش تھے‘ ہر آدمی کا چہرہ کھلا ہوا تھا‘ ہر آدمی خوش تھا کسی کو کوئی پریشانی نہیں تھی‘ ہم نے جان بوجھ کر لوگوں سے پوچھا کہ آپ کو بادشاہ سے کوئی شکوہ شکایت ہےتو کسی ایک نے بھی کوئی شکایت نہیں کی‘ اس لئے یہ بادشاہ جیت گیا ہے ۔اگر ہم اس کہانی کو آج کے حالات کے تناظر میں دیکھیں تو آپ کو ہر جگہ ترقی کی باتیں سنائی دیں گی‘ بڑی عمارتیں اور سڑکیں بنانے کی باتیں کی جاتی ہیں‘ میٹروز بنائی جا رہی ہیں یہ اچھی بات ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری عوام کی بنیادی ضرورتیں‘ صحت‘ تعلیم اور انصاف ہیں‘ عوام تعلیم‘ صحت اور انصاف کےلئے رل رہے ہیں‘ غریبوں کے بچے جانوروں کے باڑوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں ‘ غربت کے ڈر سے لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں‘ جب تک عوام خوشحال نہیں ہوں گے اس وقت تک ایسی ترق کا کوئی فائدہ نہیں۔۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا جن عورتوں میں یہ نشانیاں ہوں وہ بہت بابرکت عورتیں ہوتی ہیں ،آپ بھی پڑھئے وہ کونسی نشانیاں ہیں؟‎

حضرت عائشہؓ ارشاد فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ جن عورتوں میں یہ نشانیاں ہوں وہ بہت ہی بابرکت ہوتی ہیں. عورت کی بابرکت ہونے کی علامات میں سے ہے کہ ۔نمبر ایک : اس کی طرف رشتہ بھیجنے اوررشتہ منظور ہونے میں آسانی ہو ،.نمبر دو : اس کا مہر آسان ہو یعنی بہت زیادہ پحیپدہ نہ ہو . نمبر تین : اس کے ہاں بچوں کی پیدائش میں آسانی ہو .جن عورتوں میں یہ نشانیاں پائی جاتی ہیں وہ بہت ہی بابرکت ہوتی ہیں. یہ بھی پڑھیے حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ

’’آپ ﷺ کی زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا؟‘‘حضورﷺ نے فرمایا
والدہ نے سات دن دودھ پلایا‘ آٹھویں دن دشمن اسلام ابو لہب کی کنیز ثوبیہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا‘ ثوبیہ نے دودھ بھی پلایا اور دیکھ بھال بھی کی‘ یہ چند دن کی دیکھ بھال تھی‘ یہ چند دن کا دودھ تھا لیکن ہمارے رسولؐ نے اس احسان کو پوری زندگی یاد رکھا‘ مکہ کا دور تھا تو ثوبیہ کو میری ماں میری ماں کہہ کر پکارتے تھے‘ ان سے حسن سلوک بھی فرماتے تھےان کی مالی معاونت بھی کرتے تھے‘ مدنی دور آیا تو مدینہ سے ابولہب کی کنیز ثوبیہ کیلئے کپڑے اور رقم بھجواتے تھے‘ یہ ہے شریعت۔

حضرت حلیمہ سعدیہ رضاعی ماں تھیں‘ یہ ملاقات کیلئے آئیں‘ دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور میری ماں‘ میری ماں پکارتے ہوئے ان کی طرف دوڑ پڑے‘ وہ قریب آئیں تو اپنے سر سے وہ چادر اتار کر زمین پر بچھا دی جسے ہم کائنات کی قیمتی ترین متاع سمجھتے ہیں‘ اپنی رضاعی ماں کو اس پر بٹھایا‘ غور سے ان کی بات سنی اور ان کی تمام حاجتیں پوری فرما دیں‘ یہ بھی ذہن میں رہے‘ حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں‘ فتح مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئی‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سو درہم عنایت کئے‘ رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی‘ پتہ چلا تو انہیں بلایا‘ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا‘ اپنے ہاں قیام کی دعوت دی‘حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی‘ رضاعی بہن کو غلام‘ لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا ‘

یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں‘ یہ ہے شریعت۔13 جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے‘ ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے‘ لکھانے اور سکھانے کے عوض رہا کیا گیا‘ حضرت زید بن ثابتؓ کو عبرانی سیکھنے کا حکم دیا‘ آپؓ نے عبرانی زبان سیکھی اور یہ اس زبان میں یہودیوں سے خط و کتابت کرتے رہے‘ کافروں کا ایک شاعر تھا‘سہیل بن عمرو۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں بھی کرتا تھا اور توہین آمیز شعر بھی کہتا تھا‘ یہ جنگ بدر میں گرفتار ہوا‘ سہیل بن عمرو کو بارگاہ رسالت میں پیش کیا گیا‘ حضرت عمرؓ نے تجویز دی‘ میں اس کے دو نچلے دانت نکال دیتا ہوں‘ یہ اس کے بعد شعر نہیں پڑھ سکے گا‘ تڑپ کر فرمایا ’’ میں اگر اس کے اعضاء بگاڑوں گا تو اللہ میرے اعضاء بگاڑ دے گا‘‘ سہیل بن عمرو نے نرمی کا دریا بہتے دیکھا تو عرض کیا ’’ مجھے فدیہ کے بغیر رہا کر دیا جائے گا‘‘ اس سے پوچھا گیا’’کیوں؟‘‘ سہیل بن عمرو نے جواب دیا ’’ میری پانچ بیٹیاں ہیں‘

میرے علاوہ ان کا کوئی سہارا نہیں‘‘ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن عمرو کو اسی وقت رہا کر دیا‘ یہاں آپ یہ بھی ذہن میں رکھئے‘ سہیل بن عمرو شاعر بھی تھا اور گستاخ رسول بھی لیکن رحمت اللعالمینؐ کی غیرت نے گوارہ نہ کیا‘ یہ پانچ بچیوں کے کفیل کو قید میں رکھیں یا پھر اس کے دو دانت توڑ دیں‘ یہ ہے شریعت ۔غزوہ خندق کا واقعہ ملاحظہ کیجئے‘عمرو بن عبدود مشرک بھی تھا‘ ظالم بھی اور کفار کی طرف سے مدینہ پر حملہ آور بھی ۔ جنگ کے دوران عمرو بن عبدود مارا گیا‘ اس کی لاش تڑپ کر خندق میں گر گئی‘ کفار اس کی لاش نکالنا چاہتے تھے لیکن انہیں خطرہ تھا‘ مسلمان ان پر تیر برسادیں گے‘ کفار نے اپنا سفیر بھجوایا‘ سفیر نے لاش نکالنے کے عوض دس ہزار دینار دینے کی پیش کش کی‘ رحمت اللعالمینؐ نے فرمایا ’’میں مردہ فروش نہیں ہوں‘ ہم لاشوں کا سودا نہیں کرتے‘ یہ ہمارے لئے جائز نہیں‘‘ کفار کو عمرو بن عبدود کی لاش اٹھانے کی اجازت دے دی ‘خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تورات کے نسخے پڑے تھے‘ تورات کے سارے نسخے اکٹھے کروائے اور نہایت ادب کے ساتھ یہ نسخے یہودیوں کو پہنچا دیئے اور خیبر سے واپسی پر فجر کی نماز کیلئے جگانے کی ذمہ داری حضرت بلالؓ کو سونپی گئی‘حضرت بلالؓ کی آنکھ لگ گئی‘

سورج نکل آیا تو قافلے کی آنکھ کھلی‘ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا ’’بلال آپ نے یہ کیا کیا‘‘ حضرت بلالؓ نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ ﷺ جس ذات نے آپؐ کو سلایا‘ اس نے مجھے بھی سلا دیا‘‘تبسم فرمایا اور حکم دیا ’’تم اذان دو‘‘ اذان دی گئی‘ آپؐ نے نماز ادا کروائی اور پھر فرمایا ’’تم جب نماز بھول جاؤ تو پھر جس وقت یاد آئے اسی وقت پڑھ لو‘‘ یہ ہے شریعت۔حضرت حذیفہ بن یمانؓ سفر کر رہے تھے‘ کفار جنگ بدر کیلئے مکہ سے نکلے‘ کفار نے راستے میں حضرت حذیفہؓ کو گرفتار کر لیا‘ آپ سے پوچھا گیا‘ آپ کہاں جا رہے ہیں‘ حضرت حذیفہؓ نے عرض کیا ’’مدینہ‘‘ کفار نے ان سے کہا ’’ آپ اگر وعدہ کرو‘ آپ جنگ میں شریک نہیں ہو گے تو ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘ حضرت حذیفہؓ نے وعدہ کر لیا‘یہ اس کے بعد سیدھے مسلمانوں کے لشکر میں پہنچ گئے‘ مسلمانوں کو اس وقت مجاہدین کی ضرورت بھی تھی‘ جانوروں کی بھی اور ہتھیاروں کی بھی لیکن جب حضرت حذیفہؓ کے وعدے کے بارے میں علم ہوا تومدینہ بھجوا دیا گیا اور فرمایا ’’ہم کافروں سے معاہدے پورے کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں صرف اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہیں‘‘

نجران کے عیسائیوں کا چودہ رکنی وفد مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے عیسائی پادریوں کو نہ صرف ان کے روایتی لباس میں قبول فرمایا بلکہ انہیں مسجد نبویؐ میں بھی ٹھہرایا اور انہیں ان کے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت بھی تھی‘یہ عیسائی وفد جتنا عرصہ مدینہ میں رہا‘ یہ مسجد نبویؐ میں مقیم رہا اور مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کرتا رہا‘ ایک مسلمان نے کسی اہل کتاب کو قتل کر دیا‘ آپؐ نے مسلمان کے خلاف فیصلہ دیا اور یہ مسلمان قتل کے جرم میں قتل کر دیا گیا‘ حضرت سعد بن عبادہؓ نے فتح مکہ کے وقت مدنی ریاست کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا‘ یہ مکہ میں داخل ہوتے وقت جذباتی ہو گئے اور انہوں نے حضرت ابو سفیانؓ سے فرمایا ’’ آج لڑائی کا دن ہے‘ آج کفار سے جی بھر کر انتقام لیا جائے گا‘‘ رحمت اللعالمینؐ نے سنا تو ناراض ہو گئے‘ ان کے ہاتھ سے جھنڈا لیا‘ ان کے بیٹے قیسؓ کے سپرد کیا اور فرمایا ’’نہیں آج لڑائی نہیں‘ رحمت اور معاف کرنا کا دن ہے‘‘۔ مدینہ میں تھے تو مکہ میں قحط پڑ گیا‘مدینہ سے رقم جمع کی‘ خوراک اور کپڑے اکٹھے کئے اور یہ سامان مکہ بھجوادیا اور ساتھ ہی اپنے اتحادی قبائل کو ہدایت کی ’’مکہ کے لوگوں پر برا وقت ہے‘ آپ لوگ ان سے تجارت ختم نہ کریں‘‘۔

مدینہ کے یہودی اکثر مسلمانوں سے یہ بحث چھیڑ دیتے تھے ’’نبی اکرم ﷺ فضیلت میں بلند ہیں یا حضرت موسیٰ ؑ ‘‘ یہ معاملہ جب بھی دربار رسالت میں پیش ہوتا‘ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں سے فرماتے ’’آپ لوگ اس بحث سے پرہیز کیا کریں‘‘۔ ثماثہ بن اثال نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا اعلان کر رکھا تھا‘ یہ گرفتار ہو گیا‘ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی‘ اس نے انکار کر دیا‘یہ تین دن قید میں رہا‘ اسے تین دن دعوت دی جاتی رہی‘ یہ مذہب بدلنے پر تیار نہ ہوا تو اسے چھوڑ دیا گیا‘ اس نے راستے میں غسل کیا‘ نیا لباس پہنا‘ واپس آیا اور دست مبارک پر بیعت کر لی۔ ابو العاص بن ربیع رحمت اللعالمین ؐکے داماد تھے‘ رسول اللہ ﷺکی صاحبزادی حضرت زینبؓ ان کے عقد میں تھیں‘ یہ کافر تھے‘ یہ تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے واپس مکہ جا رہے تھے‘ مسلمانوں نے قافلے کا مال چھین لیا‘ یہ فرار ہو کر مدینہ آگئے اور حضرت زینبؓ کے گھر پناہ لے لی‘

صاحبزادی مشورے کیلئے بارگاہ رسالت میں پیش ہو گئیں‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ابوالعاص کی رہائش کا اچھا بندوبست کرومگر وہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ تم اس کیلئے حلال نہیں ہو‘‘ حضرت زینبؓ نے عرض کیا ’’ابوالعاص اپنا مال واپس لینے آیا ہے‘‘مال چھیننے والوں کو بلایا اور فرمایا گیا’’یہ مال غنیمت ہے اور تم اس کے حق دار ہو لیکن اگر تم مہربانی کر کے ابوالعاص کا مال واپس کردو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا‘‘ صحابہؓ نے مال فوراً واپس کر دیا‘ آپ ملاحظہ کیجئے‘ حضرت زینبؓ قبول اسلام کی وجہ سے مشرک خاوند کیلئے حلال نہیں تھیں لیکن رسول اللہ ﷺنے داماد کو صاحبزادی کے گھر سے نہیں نکالا‘ یہ ہے شریعت۔حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ’’ زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا‘‘ فرمایا‘ وہ دن جب میں طائف گیا اورعبدیالیل نے شہر کے بچے جمع کر کے مجھ پر پتھر برسائے‘ میں اس دن کی سختی نہیں بھول سکتا‘عبدیالیل طائف کا سردار تھا‘

اس نے رسول اللہ ﷺ پر اتنا ظلم کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جلال میں آ گئی‘ حضرت جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کیا‘ اگر اجازت دیں تو ہم اس پورے شہر کو دو پہاڑوں کےدرمیان پیس دیں‘ یہ سیرت کا اس نوعیت کا واحد واقعہ تھا کہ جبرائیل امین نے گستاخی رسول پر کسی بستی کو تباہ کرنے کی پیش کش کی ہو اور عبدیالیل اس ظلم کی وجہ تھا‘ عبد یالیل ایک بار طائف کے لوگوں کا وفد لے کر مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبویؐ میں اس کا خیمہ لگایا اور عبد یالیل جتنے دن مدینہ میں رہا‘ رسول اللہ ﷺ ہر روز نماز عشاء کے بعد اس کے پاس جاتے‘ اس کا حال احوال پوچھتے‘ اس کے ساتھ گفتگو کرتے اوراس کی دل جوئی کرتے‘ عبداللہ بن ابی منافق اعظم تھا‘ یہ فوت ہوا تو اس کی تدفین کیلئے اپنا کرتہ مبارک بھی دیا‘

اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی اور یہ بھی فرمایا‘ میری ستر دعاؤں سے اگر اس کی مغفرت ہو سکتی تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ بار اس کیلئے دعا کرتا‘‘ یہ ہے شریعت۔ مدینہ کی حدود میں آپ کی حیات میں نو مسجدیں تعمیر ہوئیں‘ آپؐ نے فرمایا ’’تم اگر کہیں مسجد دیکھو یا اذان کی آواز سنو تو وہاں کسی شخص کو قتل نہ کرو‘‘ یہ ہےشریعت۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں‘‘ جواب دیا ’’غصہ نہ کرو‘‘ وہ بار بار پوچھتا رہا‘ آپؐ ہر بار جواب دیتے ’’غصہ نہ کرو‘‘ یہ ہے شریعت اور اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا ’’ پیغمبرؐ اللہ کی بڑی رحمت ہیں‘ آپ لوگوں کیلئے بڑے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں‘ آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گردوپیش سے چھٹ جاتے‘‘ اور یہ ہے شریعت لیکن ہم لوگ نہ جانے کون سی شریعت تلاش کر رہے ہیں‘ ہم کس شریعت کا مطالبہ کر رہے ہیں‘ کیا کوئی صاحب علم میری رہنمائی کر سکتا ہے؟۔

جائے نماز کا کونہ اگر نماز کے بعد موڑا جائے۔؟

کیا نماز میں پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھنے سے نماز ہو جاتی ہے؟

موضوع: عبادات | نماز

سوال نمبر 468:اکثر لوگ نماز میں پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھتے ہیں، شرع کی رو سے کیا ایسے نماز ادا کرنا جائز ہے؟

جواب:اگر چادر یا شلوار، پتلون وغیرہ کو اَسراف اور تکبر سے زمین پر گھسیٹا جائے تو حرام ہے کیونکہ یہ مال ضائع کرنے اور دوسروں کو کمتر اور خود کو بڑا سمجھنے کے مترادف ہے،

اور اگر عرف کی وجہ سے کپڑے لٹکائے جائیں تو حرام نہیں۔ اس سوال کا جواب واضح کرنے کے لیے ذیل میں نفسِ مضمون سے متعلقہ چند احادیث درج کی جاتی ہیں :

1۔ حضرت جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے کوئی نصیحت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

کبھی کسی کو گالی نہ دینا۔ حضرت جابر بن سلیم کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی آزاد، غلام، اونٹ، بکری یعنی کسی بھی مخلوق کو گالی نہیں دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’کبھی کسی نیکی کو معمولی نہ سمجھنا اگرچہ اپنے بھائی سے مسکرا کر بات کرنا ہی کیوں نہ ہو! بیشک یہ بھی نیکی ہے۔ اپنا تہبند آدھی پنڈلی تک اونچا رکھو، نہیں تو ٹخنوں تک۔

اور خبردار چادر زمین پر نہ گھسیٹنا کہ یہ غرور و تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں۔ اور اگر کوئی شخص تجھے گالی دے اور ایسی غلط بات کا تجھے عار دے جو اُس کے علم میں تیرے اندر موجود ہے، تو اُسے اُس بار پر عار نہ لگا جو تیرے علم میں اُس کے اندر موجود ہے۔ اس کے گناہ کا وبال اُسی پر ہوگا۔‘‘

ابو داؤد، السنن، کتاب الحمام، باب ما جاء في إسبال الإزار، 4 : 56، رقم : 4084

2۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُیَ. لَاءَ، لَمْ يَنْظُرِ اﷲُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

’’جس نے غرور و تکبر سے اپنا کپڑا (تہبند، چادر، شلوار، پتلون، جبہ وغیرہ) گھسیٹا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔‘‘

اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میری چادر (تہبند) کا ایک کنارہ میں پکڑے رکھتا ہوں (ورنہ لٹک جاتا ہے)؟ فرمایا :

إِنَّکَ لَسْتَ تَصْنَعُ ذَلِکَ خُیَ. لَاءَ.

بخاری، الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 3 : 1345، رقم : 3465 ’’تم غرور و تکبر سے گھسیٹنے والوں میں سے نہیں۔‘‘

3۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص تہبند ٹخنوں سے نیچے کیے نماز ادا کر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جاؤ! وضو کرو۔ اس نے جا کر وضو کیا، پھر حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جا کر وضو کرو۔ ایک شخص نے عرض کیا! یا رسول اللہ! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم کیوں دیا؟

ایک لمحہ خاموش ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا، اور چادر لٹکانے والے کی نماز اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔ أبو داؤد، السنن، کتاب الصلاة، باب الاسال في الصلاة، 1 : 248، رقم : 638

مندرجہ بالا احادیث نمبر 2 اور 3 میں حکم ایک جیسا نہیں دیا گیا کیوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہتر جانتے تھے کہ کس آدمی میں کیا خرابی ہے اور اس پر کس انداز سے کیا تادیبی کارروائی کس قدر مؤثر ہوگی۔

اس لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لئے رعایت رکھی گئی کہ ان میں غرور و تکبر جیسی بیماری کا امکان نہ تھا۔ جب کہ دوسرے شخص کی حالت کے پیش نظر اُسے الگ حکم دیا گیا۔

زنا کیا ہے۔

اگر مرد ایک ایسی عورت سے صحبت ، ہم بستری کرے جو اس کی بیوی نہیں ہے تو، یہ زنا کہلاتا ہے، ضروری نہیں کی ساتھ سونے کو ہی زنا کہتے ہیں، بلکہ چھونا بھی زنا ایک حصہ ہے اور کسی پرائی عورت کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے.ذنا کو اسلام میں ایک بہت بڑا گناہ شمار کیا گیا ہے، اور اسلام نے ایسا کرنے والو کی سزا دنیا میں ہی رکھی ہے. اور مرنے کے بعد اللہ اس کی سخت سزا دے گا۔زنا کے بارے میں کچھ حدیث اور قرآن کی آیت دےكھيےحضرت محمد (صلی الله عليه وسلم) نے فرمایا مومن (مسلم) ہوتے ہوئے تو کوئی زنا کر ہی نہیں سکتا(بخاری شریف) الله قرآن میں فرماتا ہے اور (دیکھو) زنا کے قریب بھی نہ جانا، کورس وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے(القرآن)ذنا کی سزا اور عذاب: اگر زنا کرنے والے شادی شدہ ہو تو کھلے میدان میں پتھر مارمار کر مار ڈالا جائے اور اگر کنوارے ہو تو 100 کوڑے مارے مارے جائے۔

(بخاری شریف)ج کل دیکھنے میں آیا ہے کی اس گناہ میں بهت سے لوگ شامل ہیں، خاص کر کے اس بازار میں جہاں عورتیں اور مرد جاتے ہیں کس کا ہاتھ کس کو لگ رہا ہے کہا لگتا ہے کچھ معلوم نہیں ہوتا، چاہے لڑکا ہو یا لڑكيا اور پھر اس گناہ کو کرنے کے بعد اپنے دوستوں کو بڑی شان سے سناتے ہیں، بلکہ ان کو بھی ایسا کرنے کی رائے دیتے ہیں۔اگر کوئی اکیلے لڑکے یا لڑکی کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا گناہ اس کے ماں باپ کو بھی ملتا ہے کیونکہ انہوں نے ان کی جلدی شادی نہیں کی جس کی وجہ سے وہ غلط کام کرنے لگے،اور شادی کی عمر ہونے کے بعد بھی ماں باپ ان کی شادی نہ کرے تو اللہ ناراض ہوجاتا ہے اور ان کے گھر کی برکت ختم ہوجاتی اور اللہ ان ماں باپ سے قیامت کے دن حساب مانگے گا۔ اور ایک جگہ اللہ نے قرآن میں فرمایا کی پاک دامن لڑکیاں، پاک دامن لڑكو کے لئے ہیں،اسكا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو اچھی ہیں تو اللہ آپ کو بھی اچھی بیوی یا دولہا ديگا اور خراب ہیں تو سمجھ لیجیے۔زنا ایک ایسا عمل ہے جس سے نسیان، ایڈز ، کینسر جیسی موذی بیماریاں پھیلتی ہیں۔زنا سے انسان کا دل مردہ ہوجاتا ہے جبکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب دل مردہ ہوگیا تو پھر اس کے دل سے اسلام کی روشنی ختم ہوجاتی ہے جس سے وہ ایمان سے خالی ہوجاتا ہے انسان جو بھی غلط کام کرتا ہے اس کی قیمت اس کے بچوں، ماں یا بہن کو اس دنیا میں ہی ادا کرنی پڑتی ہے،امام شافعی رحمتہ الله کہتے ہیں کے زنا ایک قرض ہے، اگر تو اس قرض لے گا تو تیرے گھر سے یعنی تیری بہن , بیٹی سے وصول کیا جائے گا۔دوستو اس کبیرہ گناہ کی اور بھی سزائیں ہیں، لہذا خود بھی بچو اور اپنے دوستوں کو بھی بچائیں۔اگر آپ نے اپنے جنسی قصہ آپ کے دوست‘ سہیلی کو سنایا اور اس کے دل میں بھی ایسا کرنے کی بات آ گئی اور اس نے وہ کام کر لیا تو اس کا گناہ آپ کو بھی ملے گا، کیونکہ آپ نے ہی اس کو غلط راستہ دکھایا ہے ۔

اور آپ کے دوست آگے بھی جتنے لوگو کو غلط راستہ دکھائیں گے ان سب کا گناہ اپكےكھاتے میں آئے گا سب كے گھر میں اکثر، بہن، بیٹی، ماں ہیں، اگر آپ دوسرے کی طرف تاک جھانک کرو گے تو آپ کا گھر بھی محفوظ نہیں رہے گا،الله ہم سب کو اس بڑے گناہ سے بچائے۔اج آپ اس میسیج اگر کسی 1 کو بھی اسٹاک کردیں تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کتنے لوگ “اللہ” سے توبہ کر لیں گے الحديث: -جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو سرا فاتح اور سورہ اخلاص کو پڑھ لیا کرو، تو موت کے علاوہ ہر چیز سے بے خوف ہو جاؤ گے ۔وه دن قریب ہے جب آسمان پہ صرف ایک ستاراهوگا. توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا.قران کے حروف مٹ جائیں گے۔سورج زمین کے بالکل پاس آ جائے گا۔حضور صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا “بے نور ہو جائے اس کا چہرہ جو کوئی میری حدیث کو سن کر آگے نہ پہنچائے

حضرت اویس قرںی

حضرت اویس قرنی کو جنت کے دروازے پر کیوں روک لیاجائے گا۔

حضوراکرم (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جارہے ہوں تو اویس قرنی کو جنت کے دروازے پرروک لیاجائے گا۔
حضرت اویس قرنی کون ہیں اویس نام ہے عامرکے بیٹے ہیں مرادقبلہ ہے قرن انکی شاخ ہے اوریمن انکی رہائش گاہ تھی حضرت نے ماں کے حددرجہ خدمت کی ۔وہ آسمانوں تک پہنچی اویس قرنی حضورکی خدمت میں حاضرنہیں ہوسکے جبرئیل آسمان سے پہنچے اورانکی بات کوحضورنے بیان کیا چونکہ حضوردیکھ رہے تھے کہ آئندہ آنیوالی نسلیں اپنی مائوں کیساتھ کیساسلوک کریں گی ایک سائل نے سوال کیا یارسول ﷲ (صلی ﷲ علیہ وسلم) قیامت کب آئے گی توآپ نے ارشاد فرمایامجھے نہیں معلوم کب آئے گی توسائل نے کہاکہ کوئی نشانی توبتادیں توآپ نے فرمایاجب اولاداپنی ماں کوذلیل کرے گی توقیامت آئے گی۔

حضور(صلی ﷲ علیہ وسلم) نے حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) اورحضرت علی (رضی ﷲ عنہ) سے کہاکہ تمہارے دور میں ایک شخص ہوگا جس کانام ہوگا اویس بن عامر درمیانہ قد رنگ کالا جسم پر ایک سفید داغ حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے ان کاحلیہ ایسے بیان کیاجسے سامنے دیکھ رہے ہو وہ آئے گاجب وہ آئے تو تم دونوں نے اس سے دعا کرانی ہے۔ حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) اور حضرت علی (رضی ﷲ عنہ)کواویس قرنی کی دعاکی ضرورت نہیں تھی۔
یہ امت کو پیغام پہنچانے کے لیے ہے کہ ماں کا کیا مقام ہےحضرت عمر (رضی ﷲ عنہ) حیران ہوگئے اور سوچنے لگے کہ حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) کیاکہہ رہے ہیں کہ ہم اویس سے دعا کروائیں تو حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا عمر،علی اویس نے ماں کی خدمت اس طرح کی ہے جب وہ ہاتھ اٹھاتاہے توﷲ اس کی دعا کو خالی نہیں جانے دیتا۔ حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) دس سال خلیفہ رہے دس سال حج کیالیکن انہیں اویس نہ ملے ایک دن سارے حاجیوں کو اکٹھا کر لیا اور کہا کہ تمام حاجی کھڑے ہوجاو آپ کے حکم پرتمام حاجی کھڑے ہوگئے پھر کہا کہ سب بیٹھ جاو صرف یمن والے کھڑے رہو تو سب بیٹھ گئے اور یمن والے کھڑے رہے پھرکہا کہ یمن والے سارے بیٹھ جاو صر ف مراد قبیلہ کھڑا رہے پھرکہا مراد والے سب بیٹھ جاو صرف قرن والے کھڑے رہو تو مراد قبیلے والے بیٹھ گئے صرف ایک آدمی بچااور حضرت عمر نے کہا کہ تم قرنی ہو تو اس شخص نے کہاکہ ہاں میں قرنی ہوں تو حضرت عمر نے کہا کہ اویس کو جانتے ہو تو اس شخص نے کہاکہ ہاں جانتا ہوں میرے بھائی کابیٹاہے میراسگا بھتیجاہےاس کادماغ ٹھیک نہیں آپ کیوں پوچھ رہے ہیں توحضرت عمر نے کہاکہ مجھے تو تیرا دماغ صحیح نہیں لگ رہاآ پ نے پوچھا کدھر ہےتواس نے کہاکہ آیا ہوا ہے پوچھا کہاں گیا ہے تو اس نے کہا کہ وہ عرفات گیاہے اونٹ چرانے۔

آپ نے حضرت علی کو ساتھ لیا اور عرفات کی دوڑ لگادی جب وہاں پہنچے تو دیکھاکہ اویس قرنی درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے ہیں اور اونٹ چاروں طرف چررہے ہیں یہ آکربیٹھ گئے اور اویس قرنی کی نماز ختم ہونے کاانتظار کرنے لگےجب حضرت اویس نے محسوس کیاکہ دو آدمی آگئے تو انہوں نے نماز مختصرکردی سلام پھیرا توحضرت عمر نے پوچھا کون ہو بھائی توکہاجی میں مزدور ہوں اسے خبرنہیں کہ یہ کون ہیں تو حضرت عمر نے کہاکہ تیرا نام کیا ہےتو اویس قرنی نے کہ اکہ میرانام ﷲ کابندہ تو حضرت عمر نے کہا کہ سارے ہی ﷲ کے بندے ہیں تیری ماں نے تیرا نام کیارکھا ہےتو حضرت اویس نے کہاکہ آپ کون ہیں میری پوچھ گچھ کرنے والے ان کایہ کہنا تھا کہ حضرت علی نے کہاکہ اویس یہ امیرالمومنین عمربن خطاب ہیں اور میں ہوں علی بن ابی طالب حضرت اویس کا یہ سننا تھا کہ وہ کانپنے لگےکہاکہ جی میں معافی چاہتا ہوں میں تو آپ کو پہچانتا ہی نہیں تھا میں تو پہلی دفعہ آیا ہوں تو حضرت عمر نے کہاکہ تو ہی اویس ہے تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں ہی اویس ہوں حضرت عمر نے کہاکہ ہاتھ اٹھا اور ہمارے لیے دعا کر وہ رونے لگے اور کہا کہ میں دعا کروں آپ لوگ سردار اور میں نوکرآپ کامیں آپ لوگوں کے لیے دعا کروں تو حضرت عمر نے کہاکہ ہاں ﷲ کے نبی نے فرمایاتھا عمر اور علی جیسی ہستیوں کے لیے حضرت اویس کے ہاتھ اٹھوائے گئے کس لیے اس کے پیچھے جہاد نہیں، تبلیغ نہیں، تصوف نہیں اس کے پیچھے ماں کی خدمت ہے۔

جب لوگ جنت میں جارہے ہوں گے تو حضرت اویس قرنی بھی چلیں گے اس وقت ﷲ تعالیٰ فرمائیں گے کے باقیوں کو جانے دو اور اویس کو روک لو
اس وقت حضرت اویس قرنی پریشان ہوجائیں گےاورکہیں گے کہ اے ﷲ آپ نے مجھے دروازے پرکیوں روک لیاتو مجھ سےاس وقت ﷲ تعالی ٰ فرمائیں گے کہ پیچھے دیکھوجب پیچھے دیکھیں گے تو پیچھے کروڑوں اربوں کے تعدادمیں جہنمی کھڑے ہوں گےتواس وقت ﷲ فرمائے گاکہ اویس تیری ایک نیکی نے مجھے بہت خوش کیاہے’’ ماں کی خدمت‘‘ توانگلی کااشارہ کرجدھر جدھر تیری انگلی پھرتی جائے گی میں تیرے طفیل ان کوجنت میں داخل کردوں گا…