صاحب اب میرا کام ہوجائے گا نا۔؟

دوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اور پھر جھٹک کر لپیٹ لیا ۔ “پیسے ملنے تک تمہیں ایک دو چکر تو اور لگانے ہی پڑیں گے ۔کل ہی میں مالکان سے تمہارے شوہر کا زکر کرتا ہوں ” میں نے شرٹ کے بٹن لگائے ،ہاتھوں سے بال سنوارے اور دفتر کے پیچھے ریٹائرنگ روم کے دروازے سے باہر جھانک کر آس پاس احتیاتاً ایک طائرانہ نظر دوڑانے لگا ۔ ویسے تو نیا چوکیدار وقتا فوقتا چائے پانی کے نام پر میری طرف سے ملنے والی چھوٹی موٹی رقم کے بدلے میں میرا خیر خواہ تھا مگر پھر بھی میں کسی مشکل میں گرفتار نہیں ہونا چاہتا تھا ۔ ” پھر میں کل ہی آجاؤں ” وہ میرے پختہ جواب کی منتظر تھی ۔

” کل نہیں ! ! ! ”

میں روز اس طرح یہاں آنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا اس لئیے بس آہ بھر کر رہ گیا ۔۔۔۔۔
ہائے غریبوں کو بھی کیسے کیسے لعل مل جاتے ہیں ۔۔۔ میں نے نظروں سے اسکے جسم کے پیچ و خم کو تولتے ہوئے سوچا

” ارے سنو ! ! تم نے شلوار اُلٹی پہنی ہے ۔”
وہ چونک کر اپنی ٹانگوں کی طرف جھکی اور خجل ہوگئی ۔

” اسے اتار کر سیدھی کرلو ۔ میں چلتا ہوں پانچ منٹ بعد تم بھی پچھلے دروازے سے نکل جانا۔ ۔ ۔ اور ہاں احتیاط سے کوئی دیکھ نہ لے تمہیں ۔

زیمل خان چار سال سے ہماری فیکٹری میں رات کا چوکیدار تھا تین ہفتے پہلے فیکٹری میں داخل ہونے والے ڈاکوؤں کے ساتھ مزاحمت میں ٹانگ پر گولی کھا کر گھر میں لاچار پڑا ہوا تھا ۔ مالکان اسکے علاج کے لئیے پچاس ہزار دینے کا اعلان کر کے بھول گئے تھے ۔ سو اسکی بیوی اسی سلسلے میں بار بار چکر لگا رہی تھی ۔ میں نے اسکی مدد کا فیصلہ کیا اور چھٹی کے بعد شام میں اسے فیکٹری آنے کا اشارہ دے دیا ۔

عمر ! عمر!

اپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مجھے عقب سے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی ۔ اسکے اور میرے گھر لوٹنے کا وقت تقریبا ایک ہی تھا اور کبھی کبھار تو ہم اسی طرح اکھٹے گھر میں داخل ہوتے تھے ۔ وہ ایک چھوٹے بینک میں کلرک تھی ۔
“ایک خوشخبری ہے ” قدرے فربہی مائل وجود کو سنبھالے وہ تیزی سے اوپر آرہی تھی

خوشی سیے اسکی بانچھیں کھلی جا رہی تھیں

” مینیجر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں اور آج ہی انہوں میرے پرونوشن کی بات ہے ”
دروازے کے سامنے رک کر اس نے ہینڈ بیگ ٹٹولااور چابی نکالی
۔”انہوں نے کہا ہے تھوڑا وقت لگے گا مگر کام ہوجائے گا

“ارے واہ مبارک ہو ” ” میں نے خوشدلی سے اسے مبارکباد دی
” تمہیں پتا ہے مجھ سمیت پانچ امیدوار ہیں ، اور وہ آصفہ ہے نا وہ بھی میرے حق میں نہیں مگر ڈائیریکٹر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں ۔۔ کیوں نہ ہوں میں اتنی محنت جو کرتی ہوں اور ویسے بھی ۔ ۔ ۔ ۔

۔وہ گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے بھی مسلسل بولے چلی گئی
۔میں اسکی پیروی کرتے ہوئے اسکی فتح کی داستان سے محظوظ ہورہا تھا کہ اچانک میری نظر اسکی الٹی شلوار کے ریشمی دھاگوں میں الجھ گئیں

عورت کیلئے ایک ہی شادی کا حکم کیوں؟؟؟

سائنس کے دائرے میں قرآنی معجزات کی ایک جھلک ایک ماہرِ جنین یہودی (جو دینی عالم بھی تھا) کھلے طور پر کہتا ہے کہ روئے زمین پر مسلم خاتون سے زیادہ پاک باز اور صاف ستھری کسی بھی مذھب کی خاتون نہیں ہے پورا واقعہ یوں ہے کہ الپرٹ اینسٹاین انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ایک ماہرِ جنین یہودی پیشوا روبرٹ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا جس کا واحد سبب بنا قرآن میں مذکور مطلقہ کی عدت کے حکم سے واقفیت اور عدت کیلئے تین مہینے کی تحدید کے پیچھے کارفرما حکمت سے شناسائی اللہ کا فرمان ہے والمطلقات یتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء [البقرة:228] “مطلقات اپنے آپکو تین حیض تک روکے رکھیں” اس آیت نے ایک حیرت انگیز جدید علم ڈی این اے کے انکشاف کی راہ ہموار کی اور یہ پتا چلا کہ مرد کی منی میں پروٹین دوسرے مرد کے بالمقابل 62 فیصد مختلف ہوا کرتی ہےتفصیلات کےلیے وڈیو دیکھیں

اور عورت کا جسم ایک کمپیوٹر کی مانند ہے جب کوئی مرد ہم بستری کرتا ہے تو عورت کا جسم مرد کی تما بیکٹریاں جذب ومحفوظ کر لیتا ہے
اس لئے طلاق کے فورا بعد اگر عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرلے یا پھر بیک وقت کئی لوگوں سے جسمانی تعلقات استوار کرلے تو اس کے بدن میں کئی ڈی این اے جمع ہو جاتے ہیں جو خطرناک وائرس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور جسم کے اندر جان لیوا امراض پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں سائنس نے پتا لگایا کہ طلاق کے بعد ایک حیض گزرنے سے 32سے35 فیصد تک پروٹین ختم ہو جاتی ہے اور دوسرے حیض آنے سے 67 سے 72 تک آدمی کا ڈی این اے زائل ہو جاتا ہے
اور تیسرے حیض میں 99.9%کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور پھر رحم سابقہ ڈی این اے سے پاک ہو جاتا ہے اور بغیر کسی سائڈ افیکٹ و نقصان کے نئے ڈی این اے قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے ایک طوائف کئ لوگوں سے تعلقات بناتی ہے جس کے سبب اس کے رحم مختلف مردوں کی منی چلی جاتی ہیں اور جسم مختلف ڈی این اے جمع ہو جاتے ہٰیں اور اسکے نتیجے میں وہ مہلک امراض کا شکار بن جاتی ہے اور رہی بات متوفی عنہا کی عدت تو اس کی عدت طلاق شدہ عورت سے زیادہ ہے کیونکہ غم و حزن کے بنا پر سابقہ ڈی این اے جلدی ختم نہیں ہوتا اور اسے ختم ہونے کے لئے پہلے سے زیادہ وقت درکار ہے اور اسی کی رعایت کرتے ہوئے ایسی عورتوں کےلئے چار مہینے اور دس دن کی عدت رکھی گئی ہے فر مان الہی ہے والذين يتوفون منكم و يذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر و عشرا
[البقرة:٢٣٤]

”اور تم میں سے جس کی وفات ہو جائے اور اپنی بیویاں چھوڑے تو چاہیے کہ وہ چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو روکے رکھیں“ اس حقیقت سے راہ پاکر ایک ماہر ڈاکٹر نے امریکہ کے دو مختلف محلے میں تحقیق کیا ایک محلہ جہاں افریقن نژاد مسلم رھتے ہیں وہاں کی تمام عورتوں کے جنین میں صرف ایک شوہر ہی کا ڈی این اے پایا گیا جبکہ دوسرا محلہ جہاں اصل امریکن آزاد عورتیں رھتی ہیں ان کے جنین میں ایک سے زائد دو تین لوگوں تک کے ڈی این اے پائے گئے جب ڈاکٹر نے خود اپنی بیوی کا خون ٹیسٹ کیا تو چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی کہ اس کی بیوی میں تین الگ الگ لوگوں کے ڈی ان اے پائے گئے جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کی بیوی اسے دھوکہ دے رہی تھی اور یہ کہ اس کے تین بچوں میں سے صرف ایک اس کا اپنا بچہ ہے اس کے بعد ڈاکٹر پوری طرح قائل ہوگیا کہ صرف اسلام ہی وہ دین ہے جو عورتوں کی حفاظت اور سماج کی ہم آہنگی کی ضمانت دیتا ہے اور اس بات کی بھی کہ مسلم عورتیں دنیا کی سب سے صاف ستھری پاک دامن وپاک باز ہوتی ہیں

7 قسم کی عورتوں

ایک عرب دانا نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ 7 قسم کی عورتوں سے کبھی شادی نہ کرنا، خواہ وہ حسن و جمال اور مال و دولت میں بے مثال ہی کیوں نہ ہوں! وہ سات عورتیں یہ ہی

ں ۔۔انانہ ، منانہ، كنانہ، حنانہ، حداقہ، براقہ اور شداقہ!انانہ – وہ عورت جو ہر وقت سر پر پٹی باندھے رکھے، کیوں کہ شکوہ و شکایت ہی ہمیشہ اس کا معمول ہو گاـ 2) منانہ – وہ عورت جو ہر وقت مرد پر احسان ہی جتاتی

رہے کہ میں نے تیرے ساتھ یہ یہ احسان کیا اور تجھ سے تو مجھے کچھ حاصل نہیں ہوا 3) کنانہ – وہ عورت جو ہمیشہ ماضی کو یاد کرے فلاں وقت میں میرے پاس یہ تھا وہ تھا 4) حنانہ – وہ عورت جو ہر وقت اپنے سابقہ خاوند کو ہی یاد کرتی رہے

ہی یاد کرتی رہے اور کہے کہ وہ تو بڑا اچھا تھا مگر تم ویسے نہیں ہو 5) حداقہ – وہ عورت جو خاوند سے ہر وقت فرمائش ہی کرتی رہے، جو چیز بھی دیکھے اس کی طلبگار ہو جائے 6) براقہ – وہ عورت جو ہر وقت اپنی چمک دمک میں ہی لگی رہے 7) شداقہ – وہ عورت جو تیز زبان ہو اور ہر وقت باتیں بنانا ہی اس کا کام ہو

جھگڑالو بیوی مصیبت نہیں بلکہ نعمت خداوندی ہے

اکثر آپ کے دوست اور دفتر میں ساتھ کام کرنے والے افراد اپنی بیویوں کی شکایت کرتے اور ان کی جھگڑالو طبیعت کے باعث شدید تنگ نظرآتے ہیں مگر آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ جھگڑالو بیوی مصیبت یا پریشانی نہیں بلکہ نعمت خداوندی ہےاور اس بات کو ماہرین نے اپنی تحقیق میں ثابت کر دکھایا ہے۔

امریکی یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی کی خاتون پروفیسر کے مطابق ان کی ایک تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ شادی کے بعد نوک جھونک اور خاتون کی شکایتیں ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتیں بلکہ اس کےصحت پر اچھے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔تحقیق کے مطابق ہرین نے

اس کے لیے ایک ہزار سے زائد شادی شدہ جوڑوں کا 5 سال تک مطالعہ کیا جن کی عمریں 57 سے 85 سال تھی، ان میں سے 389 جوڑے کی کسی ایک رکن کو آخر میں ذیابیطس کا مرض لاحق ہوگیا تھا۔ ماہرین نے اپنے 5 سالہ مطالعے میں نوٹ کیا کہ منفی ازدواجی زندگی نہ صرف

مردوں میں ذیابیطس کو روکتی ہے بلکہ اگر کوئی اس مرض کا شکار ہو تو وہ اس کی بہتر نگرانی اور علاج میں بھی معاون ثابت ہوتی ہےجس کی وجہ یہ ہے کہ شکایتی بیویاں شوہر کے کھانے پینے اور صحت کے معاملات پر بھی نکتہ چینی کرتی رہتی ہیں اور اس طرح سے

وہ شوگر کے مرض سے دور رہتے ہیں جب کہ اس کے برخلاف شادی شدہ خواتین کی پرسکون زندگی ذیابیطس کو 5 سال کے لیے ٹال سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کی بیوی جھگڑالو اور شکوہ کرتی رہتی ہے تو اس سے آپ کے جسم پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور ایسے مرد ذیابیطس جیسے امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں

قرآن پاک سے علاج کریں

اس حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کر سکتا دنیا میں ہر امیر غریب ، نیک و بد کو قانون قدرت کے تحت دکھوں ، غموں اور پریشانیوں ، بیماریوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے۔

لیکن وہ انسان خوش قسمت ہے جو اس غم ، دکھ اور پریشانی کو صبر اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔اگرچہ غم اور پریشانیوں کا علاج تو آج سے چودہ سو ۴۳ سال پہلے قرآن و حدیت میں بڑے احسن انداز کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہماری موجودہ پریشانیوں کی بنیادی وجہ قرآنی کمالات سے لا علمی اور دوری ہے۔

آئیے ہم آپ کو قرآنی شفا سے روشناس کرائیں تاکہ آپ کی مایوس کر دینے والی ۔ مشکلات فوری دور ہوں۔ یقین جانیے ان آزمودہ قرآنی شفاﺅں کو آزما کر خود کشتی تک پہنچنے والے خوشحالی کی زندگی ہنسی خوشی بسر کر رہے ہیں۔

قارئین! سورہ البقرہ سے لے کر سورہ الناس تک کے روحانی و ظائف و عملیات ملاحظہ فرمائیں۔ روحانی بیماری کی مثال:نیک کاموں میں دل کا نہ لگنا، برے کاموں میں مزہ آنا جسمانی بیماری کی مثال:

ہر طرح کے جسمانی اعذار جس میں کھانسی نزلے سے لیکر فالج کینسر تک کی بیماریاں شامل ہیں سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں اور بندش سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں امن الرسول سے آخر تک رات میں سوتے وقت پڑھا کریں اس لیے کہ : سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں امن الرسول سے ختم تک ایسی ہیں۔

کہ جس گھر میں تین رات تک پڑھی جائیں شیطان اس کے قریب نہیں جاتا ۔ (ترمذی ‘نسائی‘ ان حبان‘ حاکم ‘حصن حصین) حدیث شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورئہ بقرہ کو ایسی دو آیتوں پر مکمل فرمایا جنہیں اپنے اس خزانے سے مجھے دی ہیں، جو اس کے عرش کے نیچے ہے۔

انہیں خود ہی سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی سکھاﺅ کیونکہ یہ آیتیں رحمت ہیں، قرآن اور دعا ہیں۔ (حاکم ‘حصن حصین) حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتیں کسی رات پڑھ لے تو یہ دونوں آیتیں اس کے لیے ہو جائیں گی۔ (ترمذی ، حدیث نمبر:۱۸۸۲)

جج صاحب نے تنگ آ کر کہا کہ وکیل صاحب اس سے آگے بھی چلیے، آپ پچھلی کئی پیشیوں سے یہی کہانی سنا رہے ہیں

چور کا ہاتھ کاٹ دو

ایک نوجوان کو چوری کے جرم میں حضرت عمر فاروقؓ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔جب تفتیش کرنے پر اس نوجوان کا جرم ثابت ہوگیا تو آپ نے شرع کے مطابق چور کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم صادر فرمادیا ۔وہ نوجوان فریاد کرنے لگا اور رونے لگا معافی کا طلبگار ہوا کہ یہ میری پہلی چوری ہے میں آئندہ کبھی بھی چوری نہیں کروں گا ۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ’تم غلط کہتے ہو تم نے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ چوریاں کی ہیں۔آخر ار اس نوجوان کو اس بات کا اقرا ر کرنا پڑا کہ واقعی اس نے اس نے پہلے بھی چوری کی وارداتیں کی ہیں۔اب وہ بجائے معافی مانگنے کے اس بات پر حیران تھا کہ

حضرت عمرؓ کو کیسےوریوں کی خبر ہوئی اس نے حیرانگی کے عالم میں پوچھا اے امیر المومنینؓ !میری گزشتہ کی ہوئی چوریوں کا علم میرے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو نہیں ہے ۔آپ کو اس بات کی اطلاع کس طرح ہوگئی ے؟حضرت عمرؓ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کسی کو بھی اس وقت تک ذلیل و خوار نہیں کرتا جب تک کہ وہ برائی کی حد سے آگے نہ بڑھ جائے‘‘۔انسان ہمیشہ کامیاب لوگوں جیسا بننا چاہتا ہے لیکن اگرآپ کو علم ہوجائے کہ کامیاب لوگ رات کو سونے سے پہلے فار غ وقت میں کیاکرتے ہیں تو یقیناًآپ بھی یہ کام کریں گے۔کچھ پڑھنا:ہر بڑے آدمی کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ سونے سے قبل کچھ نہ کچھ ضرور پڑھتا ہے کہ اس طرح اس کے علم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور یہ اس کی تمام زندگی میں اس کے لئے فائدہ مند رہتا ہے۔

کام کی لسٹ بنانا:بین الاقوامی بزنس سپیکر مائیکل کیر کا کہنا ہے کہ کامیاب لوگ سونے سے قبل اگلے دن کے کاموں کی لسٹ پہلے ہیبنا لیتے ہیں تا کہ وہ رات کو پرسکون نیند لے سکیں اور اگلے دن وہ کام نمٹا لیں۔فیملی کے ساتھ وقت گزارنا:ہر کامیاب انسان کے لئے فیملی کی زندگی اچھا رکھنا فائدہ مند ہوتا ہے اور وہ اپنے بچوں اور بیوی کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور ان کی باتیں سنتے ہیں ،انہیں مشورے دیتے ہیں ۔اس طرح ان کی فیملی لائف اچھی گزرتی ہے اور وہ باہر کے کام بہتر طریقے سے کر پاتے ہیں۔دن بھر کی باتوں پر غور:ایسے افراد سونے سے قبل دن کے معمولات پر غور کرتے ہیں ۔اس طرح انہیں یہ علم ہوجاتا ہے کہ وہ کہاں غلط ہیں اور اگلی بار اس غلطی سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔

غور وخوص:کامیاب افراد چیزوں کے بارے میں غور و حوض کرتے ہیں اور سونے سے قبل کم از کم دس منٹ سوچنے میں صرف کرتے ہیں۔مکمل نیند لینا:یہ ایک انتہائی اہم ضرورت ہے اور اس کے ذریعے آپ دن بھر کے معمولات بہتر طریقے سے کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔کامیاب افراد کے لئے مناسب نیند اہم چیز ہوتی ہے اور وہ اس کے لئے پلاننگ کرتے ہیں۔کام سے وقتی لاتعلقی:کام کرنا ایک اچھی عادت ہے لیکن ہر وقت کام کو سر پر سوار رکھنے سے منفی رد عمل ہوتا ہے لہذا کامیاب افراد سونے سے قبل اپنے دماغ کو کام سے وقتی طور پر دور کرکے ذہن کو پرسکون کرتے ہیں۔مثبت سوچ سے سونا:انسان کا اپنی زندگی میں مثبت سوچ رکھنا ضروری ہے کہ اس طرح آگے بڑھنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے۔منفی خیالات صرف تباہی لے کر آتے ہیں لہذا کامیاب افراد مثبت سوچ کے ساتھ بستر میں جاتے ہیں۔اگلے دن کی کامیابی:کامیاب افراد کبھی بھی مایوس ذہن کے ساتھ نہیں سوتے ،جب وہ بستر میں جاتے ہیں تو اگلے دن کی کامیابی کی سوچ ان کے ذہن میں ہوتی ہے،اگلے دن جب وہ بیدار ہوتے ہیں تو ان کی سوچ باقی لوگوں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے جس کی وجہ سے انہیں کامیابی ملنے کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔

حوض کوثر کے برتنوں اور وصف کا بیان

حضرت ابوذرؓ کہتـے ہیـں کہ!! میں نے عـرض کیا اللہ کـے رســــــولﷺ حــــوض کوثر کے برتن کیسـے ہیـں؟

آپ ﷺ نے فـرمـــــــایا!! قسـم ہے اس ذات کی جس کے ہاتـھ میں میــری جــان ہے یـقیناً اس کے برتن تاروں سـے بھی زیادہ ہیـں اس تاریک رات میـں جس میـں آســـمان سـے بادل چـــھٹ گیا ہو، اور اس کے پیـالے جنت کے برتنـوں میـں سـے ہوں گــے اس سے جـــــو ایک مـــرتبہ پی لـے گا وہ کبھـی پیـاسا نـہ ہو گا، اس کی چــــوڑائی اس کی لمـبائی کـے برابر ہے، اس کا فــــــاصـلہ اتنا ہـے جتـنا عـمان سے ایلہ تک کا فـــاصلہ ہے، اس کا پانی دودھ سـے زیادہ ســفید اور شـہد سے زیادہ میـٹھا ہـے“۔
سبحان اللّٰہ !!
ابن عمـرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فـرمـــــــایا ”میـرے حوض کا فـــاصلہ اتـنا ہے جتنا کـوفہ سـے حجر اسود تک کا فـــاصلہ ہـے“۔ قیامت کے دن ہر نبی کے لئے ایک حوض ہو گا اور ہر نبی کی امت کی الگ الگ پہچان ہو گی، ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حوض کا نام کوثر ہے، خالد رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ! آپ ﷺ نے فرمایا!!
کیا تم جانتے ہو “کوثر” کیا ہے؟ یہ ایک جنت کی نہر ہے جو مجھے میرے رب نے عطا کی ہے، اس میں بہت ہی خیر ہے، میری امت اس سے پانی پیئے گی، اس کے آبخورے تاروں کی تعداد میں ہیں، اس حوض پر سب لوگوں سے پہلے میرے پاس پہنچنے والے فقراء مہاجرین ہوں گے، پریشان و پراگندہ سروں والے، میلے کچیلے کپڑوں والے، جن کا نکاح خوش حال و خوش عیش عورتوں سے نہیں ہو سکتا اور جن کے لیے دروازے نہیں کھولے جاتے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ)
حوض کوثر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے پانی پینے والے خوش نصیب وہ لوگ ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے!!

{إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا}
اگر تم منع کردہ کبیرہ گناہوں سے بچو تو ہم تمہارے گناہ مٹا کر عزت کی جگہ میں داخل کر دینگے۔[النساء : 31]

لوگوں میں سے بعض کو حوض سے دور ہٹایا جائے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ!! نبی کریم ﷺ نے فرمایا!
“میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر رہوں گا۔ کچھ لوگ میرے سامنے آئیں گے پھر انہیں مجھ سے دور ہٹا دیا جائے گا تو میں کہوں گا! اے میرے رب!
یہ میرے ساتھی یعنی امتی ہیں تو کہا جائے گا! آپ کو پتہ نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا بدعات گھڑی تھیں” (صحیح البخاری:۶۵۷۶) (سنن ترمذی

پوچھو عائشہؓ کیا پوچھنا چاہتی ہو؟

ایک دن رسولؐ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا’’جو جی چاہے مانگو‘‘ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا ’’وہ راز بتائیے جس سے تمام گناہ معاف ہو جائیں‘‘حضورؐ نے فرمایا ’’وہ یہ راز ہے کہ جب کوئی مومن کسی دوسرے مومن کی کانٹا چبھنے کے برابر تکلیف دور کرتا ہے تو اللہ اس کے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے اور جنت میں اس کواعلیٰ درجہ ملے گا‘‘جب صحابہ کرام کو یہ معلوم ہواتو وہ بے حد خوش ہوئے ، لیکن حضرت ابوبکرؓ نے رونا شروع کردیا،صحابہؓ کو تعجب ہوا انہوں نے پوچھا ’’آپ کیوں روتے ہیں؟‘‘ حضرت ابوبکر

صدیقؓ نے جواب دیا’’میں اس لئے روتا ہوں کہ جب دوسروں کا دکھ درد دور کرنا گناہوں کی معافی اور جنتی ہونے کا ذریعہ بن سکتا ہے تو ان لوگوں کا کیا حشر ہوگا۔ جو دوسروں کو دکھ پہنچاتے ہیں‘ میں آپ کے نبیؐ سے ملنا چاہتا ہوں وہ کہاں رہتے ہیں ایک چینی ڈاکٹر ایک دن مسجد میں گیا اس نے دیکھا کہ ایک مسلمان منہ ہاتھ دھو رہا ہے.

وہ مسلمان کے پاس گیا اور پوچھا کہ جس طریقے سے آپ منہ ہاتھ دھو رہے تھے یہ طریقہ آپ کو کس نے سکھایا ہے. مسلمان نے جواب دیا ہم اس طرح منہ ہاتھ دھونے کو وضو کہتے ہیں اور یہ طریقہ ہمارے نبی اکرمؐ نے ہم کو سکھایا ہے ہم دن میں پانچ بار وضو کرتے ہیں. اس نے کہا کہ میں آپ کے نبیؐ سے ملنا چاہتا ہوں وہ کہاں رہتے ہیں.وہ شخص بولا ان کا تو چودہ سو سال پہلے انتقال ہو گیا تھا. وہ بولا میں چینی طریقہ علاج کا ماہر ڈاکٹر ہوں.

ہم جانتے ہیں قدرت نے انسان کے جسم میں کھال کے نیچے چھیاسٹھ مقامات پر ایک خاص طریقے سے مساج کیا جاتا ہے جس سے پچاس سے زیادہ بیماریوں کا موثر علاج ہوتا ہے. میں نے دیکھا کہ آپ جس طریقے سے وضو کر رہے تھے اس میں آپ نے وضو کے دوران جسم کی ایسی باسٹھ جگہوں پر ہاتھوں سے مساج کیا جہاں قدرت نے سوئچ نصب کر رکھے ہیں اور دن میں پانچ دفعہ وضو کرنے کی وجہ سے آپ کی بہت سی بیماریاں خود بہ خود غیر محسوس طور پر آپ کے جسم سے رفع ہوتی رہتی ہیں

جس کا آپ کو احساب بھی نہیں ہوتا میرا خیال تھا کہ جس شخص نے آپ کو وضو کا یہ طریقہ سکھایا وہ یقیناً انسانیت کا درد دل میں رکھنے والا ایک عظیم محقق اور علم طب کا ماہر ہوگا۔حضرت عبد اللہ صنابحى (رضی اللہ عنہ) کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بندۂ مومن جب وضو کرتا اور اس میں کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ؛ اور جب ناک میں پانی ڈال كر اسے جهاڑتا ہے تو اس کے ناک کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ؛ اور جب چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ،

یہاں تک کہ پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ؛ اور جب دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ؛ اور جب اپنےسر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ اس کے کانوں سے بھی نکل جاتے ہیں ؛ اور جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، یہاں تک کہ ان کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں . فرمایا:پھر اس کا مسجد جانا اور نماز پڑھنا اس پر مزید ہوتا ہے.

ان چار قسم کے مردوں سے کبھی شادی مت کریں

اس انفارمیشن کی وجہ سے میری تمام بہنیں اپنی زندگی بتاہ ہونے سے بچا سکتی ہیں ہر بہن اپنا رشتہ ہونے سے پہلے ان باتوں کا خیاک ضرور رکھیں اور اپنی زندگی کو ایک اچھے انسان کے ہاتھوں سیونپے دولت شوہرت کو دیکھ کر رشتہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اچھے اخلاق والے انسان سے کرنی چاہئے اس بات کا دھیاں خاص طور والدین کو رکھنا چاہئے یہ انفامیشن آپ کو اچھا رشتہ ڈھونڈنے میں مددگار ثابت ہوگی ان مردوں سے نکاح کرنے سے بچیں اور اپنی ازواجی زندگی کو تباہ ہونے سے بچائیں۔

پہلا وہ مرد جو کے غیرعورتوں کے ساتھ تعلقات رکھتا ہو اور شادی شدہ ہوتب بھی اپنی بیوی کے علاوہ دوسری عورتوں سے جنسی تعلقات رکھتا ہو۔ دوسرا وہ شخص جو کہ سود خور ہو مطلب کو ایسیا کاروبار جو کہ شریعت کی نظر میں سود کے دائرے میں آئے اس سے بھی شادی نہ کریں کیونکہ سود ایک لعنت ہے۔ تیسرا وہ شخص جوکہ لواطق ہو مطلب ہم جنسیت کا شکار ہونے والا ہم جنسیت کہتے ہیں کہ مردکا مرد سے غیراخلاقی جنسی تعلق ہے ایک انتہائی بڑا گناہ ہے اس کا عذاب حضرت لوط علیہ السلام کی پوری قوم کو کھا گیا۔چوتھا وہ شخص جو شراب پیتا ہو اس شخص سے بھی شادی نہ کریں ایسے شخص کو اپنی اور اپنے گھر کی کوئی پرواہ نہی ہ

گھر سے ہر قسم بیماری کا خاتمہ

کسی بھی قسم کی بیماری ہو ،اسکا علاج کرنا سنت ہے اور علاج سے کبھی گریز نہیں کرنا چاہئے ۔بحثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ بیماریاں اللہ کی جانب سے امتحان و آزمائش ہیں جن کا علاج ادویہ سے کرنا چاہئے تو سنت کے مطابق ان کا روحانی علاج کرنا بھی جائز اور مستحب عمل ہے۔اللہ کا وعدہ ہے کہ بیماریوں سے شفا بھی اسی کی جانب سے ملتی ہے۔اس کے لئے بندے کو اپنے ربّ سے ایسے طریقہ سے دعا کرنی چاہئے کہ دوا میں تاثیر پیداہو جائے ۔بے تحاشاادویات کھاتے رہنے سے جب کوئی مرض دور نہ ہوتو دیکھا جو لوگ اس دعا کو روزانہ پڑھیں اور ایک تسبیح مکمل کرنے کے بعد اسکو پانی پر پھونک کر پی لیا کریں تو جہاں انکو جسمانی عوارض سے نجات ملے گی وہاں باطنی طور پر بھی اسکو سکون ملے گا۔یہ مرض بے شک دنیاوی الجھنوں پر مشتمل کیوں نہ ہو ں۔

ان سے نجات کے لئے بندے کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہئے اور اپنی عبادات و اذکار میں ثابت قدم رہنا چاہئے۔ اس دعا کو بطور تسبیح کرنے والے خود کو کبھی اکیلا نہیں سمجھتے ،ایک طاقت ان کے ساتھ رواں رہتی ہے۔مایوسی اور ڈپریشن کا مجرب عمل ہے ۔جن لوگوں میں منفی خیالات پیدا ہونے لگ جائیں ان کے لئے بڑا سودمند عمل ہے۔کسی بھی قسم کی بیماری ہو ،اسکا علاج کرنا سنت ہے اور علاج سے کبھی گریز نہیں کرنا چاہئے ۔بحثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ بیماریاں اللہ کی جانب سے امتحان و آزمائش ہیں جن کا علاج ادویہ سے کرنا چاہئے تو سنت کے مطابق ان کا روحانی علاج کرنا بھی جائز اور مستحب عمل ہے۔اللہ کا وعدہ ہے کہ بیماریوں سے شفا بھی اسی کی جانب سے ملتی ہے۔اس کے لئے بندے کو اپنے ربّ سے ایسے طریقہ سے دعا کرنی چاہئے کہ دوا میں تاثیر پیداہو جائے ۔بے تحاشاادویات کھاتے رہنے سے جب کوئی مرض دور نہ ہوتو دیکھا گیا ہے کہ ساتھ روحانی عمل کرنے سے مرض سے جلد افاقہ ہوجاتا اور مرض جڑوں سے غائب بھی ہوجاتا ہے۔بس بندے کو دعا کا سلیقہ آنا چاہئے۔اس کے اندر عاجزی اور اخلاص ہونا چاہئے۔یر ابو نعمان رضوی سیفی فی سبیل للہ روحانی رہ نمائی کرتے اور دینی علوم کی تدریس کرتے ہیں ۔ان سے اس ای میل پررابطہ کیا جاسکتا ہے