آپﷺ کے چہرے کا نور کیسا تھا؟

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی الله تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ “میں جب مکہ معظمہ میں پہنچی اور حضور ﷺ کے گھر آئی تو میں نے دیکھا کہ جس کمرہ میں حضور ﷺ تشریف فرما تھے، وہ کمرہ سارا چمک رہا تھا. میں نے حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پوچھا کہ :
” کیا اس کمرہ میں بہت سے چراغ جلا رکھے ہیں؟ ”

حضرت آمنہ رض اللہ تعالٰی عنہا نے جواب دیا :
” نہیں! بلکہ یہ ساری روشنی میرے لخت جگر پیارے بچہ (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم) کے چہرے کی ہے ”

حلیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ :
” میں اندر گئی تو حضور ﷺکو دیکھا کہ آپ سیدھے لیٹے ہوۓ سو رہے ہیں، اور اپنی مبارک ننھی انگلیاں چوس رہے ہیں. میں نے ﷺ کا حسن جمال دیکھا تو فریفتہ ہو گئی اور حضور ﷺ کی محبت میرے بال بال میں رچ گئی. پھر میں حضور ﷺ کے سر انور مبارک کے پاس بیٹھ گئی اور حضور ﷺ کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو حضور ﷺ نے اپنی چشمان مبارک کھول دیں اور مجھے دیکھ کر مسکرانے لگے. اللہ اکبر! میں نے دیکھا کہ اس نور بھرے منہ سے ایک ایسا نور نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا. پھر میں نے حضور ﷺ کو اٹھا کر اپنا دایاں دودھ آپ کے مبارک منہ میں ڈالا تو آپ نوش فرمانے لگے. بایاں دودھ مبارک منہ میں ڈالنا چاہا تو منہ پھیر لیا اور دودھ نہ پیا. کیونکہ میرا اپنا ایک بچہ تھا. حضور ﷺ نے انصاف فرما کر دودھ کا یہ حصہ اپنے دودھ شریک کے لیے رہنے دیا. سبحان اللہ!. میں پھر حضورﷺ کو لے کر واپس چلنے لگی تو حضرت عبدالمطلب نے زاد راہ کے لئے کچھ دینا چاہا تو میں نے کہا :
” حضور ﷺ کو پا لینے کے بعد اب مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ”

حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتی ہیں کہ :
” جب میں اس نعمت عظمی (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم) کو گود میں لے کر باہر نکلی تو مجھے ہر چیز سے مبارک باد کی آوازیں آنے لگی کہ “اے حلیمہ رضاعت محمد ﷺ کی تجھے مبارک ہو. پھر جب میں اپنی سواری پر بیٹھی تو میری کمزور سواری میں بجلی جیسی طاقت پیدا ہو گئی کہ وہ بڑی بڑی توانا اونٹنیوں کو پیچھے چھوڑنے لگی. سب حیران رہ گئے کہ :
” حلیمہ کی سواری میں یک دم یہ طاقت کیسے آ گئی؟ ”

تو سواری خود بولی :
” میری پشت پر اولین و آخرین کے سردار (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم) سوار ہیں. انہی کی برکت سے میری کمزوری جاتی رہی اور میرا حال اچھا ہو گیا

ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کا واقعہ ذکر کیا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے ایک شخص کا واقعہ ذکر کیا جس نے کسی دوسرے شخص سے ایک ہزار دینار قرض طلب کیاتھا۔ اس نے گواہ مانگا تو قرض طلب کرنے والے نے جواب دیا: اﷲ بطور گواہ کافی ہے ۔ پھر اس نے کہا کہ کوئی ضامن لے کر آؤ۔ قرض خواہ نے کہا کہ اﷲ بطور ضامن کافی ہے۔ دوسرے نے کہا: تم سچ کہتے ہو۔چنانچہ ایک متعین مدت کے لئے اسے قرض دے دیا۔ وہ شخص سمندر پار تجارت کے لئے نکل متعینہ مدت پر قرض کی ادائیگی کی خاطر واپس پہنچنے کے لئے کشتی تلاش کی تو اسے کوئی کشتی نہ مل سکی۔

بالآخر اس نے ایک لکڑی لی ، اس کے اندر سوراخ کیا پھر اس میں ایک ہزار دینار اور جس سے قرض لیا قرض لیا تھا اس کے نام ایک خط رکھ کر اسے بند کردیا۔ پھر سمندر کے پاس آیا اور یہ دعا کی:اے اﷲ ! تو یقینا جانتا ہے کہ میں نے ایک شخص سے ایک ہزار دینار قرض لئے ، اس نے مجھ سے ضامن مانگا تو میں نے کہا کہ اﷲ بطور ضامن کافی ہے چنانچہ وہ تیرے نام پر راضی ہوگیا پھر اس نے گواہ طلب کئے تو میں نے کہا: اﷲ بطور گواہ کافی ہے پس وہ تیر ی گواہی پر راضی ہوگیا۔ اے اﷲ! میں نے اس کی رقم اس تک پہنچانے کے لئے کشتی کی تلاش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن مجھے کشتی نہیں مل سکی۔ اے اﷲ ! اب یہ مال میں تیرے سپرد کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے وہ لکڑی دریا میں ڈال دی۔ وہ لکڑی سمندر میں ڈوب گئی اور یہ شخص واپس پلٹ گیا۔ اس کے بعد بھی یہ شخص اس شہر تک پہنچنے کے لئے کشتی کی تلاش میں لگارہا۔دوسری طرف وہ شخص جس نے قرض دیا تھا اس تلاش میں نکلا کہ شاید کوئی کشتی اس کا مال لے کر آئی ہو۔

اچانک اسے ایک لکڑی نظر آئی جسے اس نے اپنے گھر میں بطور ایندھن استعمال کے لئے لے لیا۔ یہ وہی لکڑی تھی جس میں مال رکھ کر اس شخص نے بھیجا تھا ۔جب گھر پہنچ کر اسے چیرا تو مال کے ساتھ ایک خط بھی ملا۔ کچھ دنوں کے بعد وہ شخص حاضر ہوا جس نے قرض لئے تھے اور ایک ہزار دینار پیش کرنے لگا۔ ساتھ ہی معذرت کے ساتھ کہنے لگا : اﷲ کی قسم! میں آپ کا مال آپ تک پہنچانے کے لئے مسلسل کشتی کی تلاش میں لگارہا لیکن آج سے پہلے مجھے کوئی کشتی نہ مل سکی۔دوسرے نے کہا : کیا تم نے میرے پاس کچھ بھیجا تھا؟ اس نے جواب دیا کہ میں آپ کو بتلارہا ہوں کہ آج

آنے سے پہلے تک مجھے کوئی کشتی نہ مل سکی۔ دوسرے نے جواب دیا کہ اﷲ تعالی نے آپ کی طرف سے مال ادا کردیا ہے۔ آپ نے لکڑی میں جو رکھ کر بھیجا تھا وہ مجھے مل گیا ہے۔ اب آپ اپنا یہ ایک ہزار لے کرجو ابھی اپنے ساتھ لائے ہیں بخیروعافیت واپس جائیے۔ (صحیح بخاری، کتاب الحوالات

کیا بیوی بغیر اجازت شوہر کے بٹوے سے پیسے نکال سکتی ہے

میاں بیوی کا رشتہ بہت مضبوط رشتہ ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہوتے ہیں اس لحاظ سے ان کاایک دوسرے پر سب سے زیادہ حق ہوتا ہے۔ ایک مسئلہ جو ہمارے ہاں اکثر درپیش رہتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے بٹوے یا جیب سے از خود پیسے نکال لیتی ہے اور یہ عمل بعد میں میاں بیوی کےدرمیان لڑائی جھگڑے کا باعث بھی بنتا ہے۔اسلام اس حوالے سے کہتا ہے کہ عورت کو چاہئے کہ اپنے

نفس ومال میں شوہرکی مرضی کے خلاف کوئی تصرف نہ کرے، مال میں تصرف سے مراد وہ مال ہے جو مرد نے ضروریات زندگی کیلئے عورت کو دیا ہے۔ اس میں اس کی مرضی و اجازت کے بغیر خرچ کرنا درست نہیں اور بعض علماء نے کہا ہے کہ مال سے مراد عورت کا مال مراد ہے۔اس صورت میں عورت کواپنے مال میں بھی بغیر شوہر کی مرضی کے تصرف نہیں کرنا چاہئے، بہترین عورت کا یہی کردار ہوتا ہے۔ عورت کو اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے کسی کو تحفہ دینا بھی جائز نہیں البتہ وہ اپنے مال میں سے دے سکتی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ کسی عورت کیلئے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو تحفہ دینا جائز نہیں ( نسائی کتاب الزکوۃ۵/ ۶۶)

غرض کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر کی کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر خرچ نہیں کر سکتی۔ علماء نے لکھا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر کے مال کو اندھا دھند یا بیدردی سے خرچ نہ کرے بلکہ اس میں اعتدال اور میانہ روی کا پہلو اختیار کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گی تو اس پر اس کو ثواب بھی ملے گا، ہاں اگر کوئی ہنگامی ضرورت پیش جائے یا اتنا لینے کی حاجت لاحق ہو جائے جو عمومی اخراجات اور خیر وخیرات کےماسوا ہو تو پھر اس سلسلہ میں شوہر کی اجازت ضروری ہو جائیگی۔

لیکن اگر شوہر نے اس طرح کی اجازت پہلے سے دے رکھی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ جب عورت اپنے گھر کا کھانا ( یا اناج ) بغیر کسی خرابی کے خرچ کرتی ہے تو اسے اجر ملے گا اور شوہر کو بھی اس کی کمائی کی وجہ سے اور جمع کرنے والے کو بھی اسی طرح کا ثواب ہو گا۔( بخاری کتاب الزکوۃ ۲/ ۰۲۱)اس حدیث سے امام بخاری نے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں اپنا اور اپنے بچوں کا نفقہ شوہر کے مال میں سے لے سکتی ہے

اِخلاص کسے کہتے

جُنید بغدادی کہتے تھے کہ میں نے اِخلاص ایک حجام سے سِیکھا۔ایک میرے اُستاد نے کہا کہ تُمہارے بال بہت بڑھ گئے ہیں اب کٹوا کے آنا۔پیسے کوئی تھے نہیں پاس میں، حجام کی دُکان کے سامنے پہنچے تو وہ گاہک کے بال کاٹ رھا تھا۔اُنہوں نے عرض کی چاچا اللہ کے نام پہ بال کاٹ دو گے۔یہ سنتے ہی حجام نے گاہک کوسائیڈ پر کیا اور کہنے لگا۔ پیسوں کے لیے توروز کاٹتا ھوں۔اللہ کے لیے آج کوئی آیا ھے۔ اب انُکا سر چُوم کے کُرسی پہ بٹھایا روتے جاتے اور بال کاٹتے جاتے۔حضرت جنید بغدادی نے سوچا کہ

میں جب کبھی پیسے ھوئے توان کو ضرور کچھ دوں گا۔عرصہ گزر گیا یہ بڑے صوفی بزرگ بن گئے۔ ایک دن ملنے کے لیے گئے واقعہ یاد دلایا اور کچھ رقم پیش کی۔تو حجام کہنے لگا جُنید تو اتنا بڑاصوفی ھوگیا تجھےاتنا نہیں پتا چلا کہ جو کام اللہ کے لیے کیا جائے اس کا بدلہ مخلوق سے نہیں لیتے۔۔

جُنید بغدادی کہتے تھے کہ میں نے اِخلاص ایک حجام سے سِیکھا۔ایک میرے اُستاد نے کہا کہ تُمہارے بال بہت بڑھ گئے ہیں اب کٹوا کے آنا۔پیسے کوئی تھے نہیں پاس میں، حجام کی دُکان کے سامنے پہنچے تو وہ گاہک کے بال کاٹ رھا تھا۔اُنہوں نے عرض کی چاچا اللہ کے نام پہ بال کاٹ دو گے۔یہ سنتے ہی حجام نے گاہک کوسائیڈ پر کیا اور کہنے لگا۔ پیسوں کے لیے توروز کاٹتا ھوں۔اللہ کے لیے آج کوئی آیا ھے۔ اب انُکا سر چُوم کے کُرسی پہ بٹھایا روتے جاتے اور بال کاٹتے جاتے۔حضرت جنید بغدادی نے سوچا کہ

میں جب کبھی پیسے ھوئے توان کو ضرور کچھ دوں گا۔عرصہ گزر گیا یہ بڑے صوفی بزرگ بن گئے۔ ایک دن ملنے کے لیے گئے واقعہ یاد دلایا اور کچھ رقم پیش کی۔تو حجام کہنے لگا جُنید تو اتنا بڑاصوفی ھوگیا تجھےاتنا نہیں پتا چلا کہ جو کام اللہ کے لیے کیا جائے اس کا بدلہ مخلوق سے نہیں لیتے

میں سید زادی ہوں

اس دن جب گلی میں میں کھڑا تھا تو ایک لڑکا ایک گھر کے باہر باربار چکر لگا رہا تھا۔میں نے اس سے جا کے پوچھا بھائی کس کی تلاش ہے تو اس نے کہا کسی کی نہیں بس ایک دوست نے ادھر آنے کا وقت دیا وہ ابھی تلک آیا نہیں۔ خیر میں اس کی بات سن کے گھر چلا گیا اور کچھ لمحوں بعد اچانک سے نکلا تو میں نے دیکھا اسی گھر سے ایک لڑ کی سر جھکائے تیزی سے باہر آئیاور جلدی سے اس لڑکے کو ایک لفافہ دے کرگھر بھاگ گئی۔لڑکا وہ لفافہ لے کر بہت ہی مسکرایااور اسے دل سے لگاتا ہوا وہاں سے چل دیا میں اپنی بری عادت کے مطابق تحقیق کرنے کے لیے اس کے پیچھے چل دیا وہ

لڑکا ایک درخت کے نیچے جا کر رکا اور اس نے اس لفافہ کو کھولا جس کے اندر سے ایک صفحہ نکلا اس نے اس صفحہ کو کوئی تین سے چار بار چوما اور اپنی آنکھوں سے لگایا اور پڑھنے لگا میں دور سے اس کے چہرے کو اور حرکات کو دیکھ رہا تھا اور اپنی قیاس آرائیوں میں مصروف تھا اچانک سے دیکھا لڑکے نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور بے ہوش ہو کے گر پڑا۔میں بھاگتے ہوئے اس کے قریب گیا اور اس کے ہاتھ سے وہ ورق لے کر تجسس سے پڑھنے لگا۔ یہ ایک خط تھا جو اس لڑکی نے اپنے اس عاشق کو لکھا۔السلام علیکم!اے وہ نوجوان جس نے ابھی اپنی ماں کی گود سے باہر قدم رکھا ہے اور اس کی تربیت کرنے پر تھوک ڈالا ہےمیں مانتی ہوں تیری سوچ کے مطابق جس محبت کا تو دعویدار ہے وہ سچی اور پکی ہے اور تو اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وفا بھی کرے گا کیونکہ اس محبت کا آغاز نظر کے ملنے سے ہوا تھا اور انجام جسم کے ملنے پر ہوگا،کیونکہ میری ماں نے اپنے بیٹے عبدالرسول کو ایک دن کہا تھابیٹا یہ نظر ابلیس کے تیروں می سے ایک ہے اور جب یہ تیر چلتا ہے نا اس کی طاقت کبھی کبھی پورے پورے خاندان برباد کر دیتی ہےاور پھر جب اس کا بدلا مڑتا ہے تو لفظ عزت بھی سر جھکا کر انسانوں کی بستی سے نکل جاتا ہے۔ لہٰذا اس آنکھ کو صرف

اپنے سوہنے نبیﷺ کے چہرے کو دیکھنے کے لیے منتظر رکھنا ورنہ قیامت کے دن اپنے ماں کو حضور ﷺکی بارگاہ میں شرمندہ نہ کرنا کہمیں اس بات پر شرم کے مارے ڈوب مروں کہ میں نے تیری تربیت میں کمی چھوڑ دی تھی۔۔تو سن اے خود کو خوبصورت شہزادہ اور مجھے دنیا کی حور سمجھنے والے میں ایک سید زادی ہوں اور میرا تعلق اماں فاطمہ کے قبیلہ سے ہے جو قیامت کو تمام جنتی عورتوں کی سردار ہوں گی میں نے اپنے لیے دعا مانگی ہے کہ اے اللہمجھے جنت میں ان کی خادمہ بنانا تو تو خود فیصلہ کر اگر میں تیری محبت میں مبتلا ہو جاؤں توخادمیت تو کیا مجھے جنت کے قریب بھی نہیں آنے دیا جائے گا۔رہا سوال تو نے جو مجھے کل شام باغ کے اس پیڑ کے نیچے ملنے کو بلایا ہے میں وہاں بھی آجاتی لیکن میں تم سے ایک وعدہ لوں کہ تو اپنی بہن گڈی کو بھی ساتھ لے کر آنا اور میں اپنے بھائی کو۔کیونکہ تیری نظر میں دنیا کی سب سے شریف عورت تیری گڈی بہن ہے اور میرے بھائی کی نظر میں دنیا کی سب سے شریف عورت میں ہوںاسطرح دونوں مردوں کی غلط فہمی دور ہو جائے گی اور اس کے بعد جب گاؤں میں یہ خبر پھیلے گی تو کوئی بھائی اپنی بہن کو شریف نہیں سمجھے گا اس طرح آئندہ محبت کرنے والوں پر ہمارا احسان رہے گا کہ یا تو وہ اس گناہ سے

ہماری وجہ سے دور رہیں گے یا انہیں ہر طرح کی آسانیا ں ہو جائیں گی رات کے تیسرے پہر کوئی بھائی اپنی بہن کو کسی باغ کے پیڑ کے نیچے ملنے سے نہیں روکے گا۔پھر جب یہ گناہ اتنا عام ہو جائے گا تو لفظ غیرت کی تعریف بھی سب کو سمجھ آ جائے گی کہ اپنی بہن کی طرف کسی کی نگاہ نہ اٹھنے دینا غیرت نہیں بلکہ اپنی نظروں کو کسی کی بہن کی طرف بڑھنے سے روکنے کا نام غیرت ہے۔اے میرے خوبرو عاشق! تو جو محبت کر رہا ہے اس میں ہوس کی بْو کے سوا کچھ نہیں کیا تیری ماں نے تجھے وہ قرآن نہیں پڑھایا جس میں مومن کی حیا کا ذکرکیا تو مرد مومن اور حضور ﷺکا وہ امتی نہیں جس نے ایمان کے درجوں میں سے ایک درجہ حیا کا پایا ہو۔میری باتیں پڑھ کر تجھے غصہ آیا ہو گا کہ میں نے تیری بہن کا ذکر کیوں کیا لیکن ایمان کی بات ہے ہر باحیا بھائی کی یہ کیفیت ہی ہوتی ہے مگر ایسا ہونا کہ اپنی بہن کے علاوہ کسی بھی عورت کو شریف نہ سمجھنا یہ گندی سوچ اور تربیت کا نتیجہ ہے۔کیا تو نے حضرت علی کا یہ فرمان نہیں پڑھا’’اپنی سوچ کو پانی کے قطروں کی طرح صاف رکھو کیونکہ جس طرح پانی کے قطروں سے دریا بنتا ہے اسی طرح سوچ سے ایمان بنتا ہے‘‘۔کیا تیرے پاس جو ایمان ہے وہ دکھلاوے کا ہے ؟میں تجھے تبلیغ نہیں کر رہی بس اتنا بتا رہی ہوں کہ

تیری بہن گڈی جو کہ میری دوست ہے اس کو بھی ایک تجھ جیسے بے ایمان اور راہ بھٹکے نوجوان نے خط لکھا اور اسی پیڑ کے نیچے بلایا لیکن عین اسی وقت جب کہ میں تجھے خط دے رہی ہوں تیری بہن نے بھی اسے خط دیا اور اسے اس کی محبت کا جواب دیا کہ وہ اس سے محبت کرے گی انہی باتوں اور شرائط کے ساتھ جو میں تجھے لکھ رہی ہوںاگر تجھے یہ سب میری باتیں منظور ہیں تو جا اور جا کہ گڈی کو بھی ایسا کرنے کی اجازت دے دے جو تو مجھ سے چاہتا ہے کیوں کہ اس لڑکے کو بھی میں نے یہ ہی الفاظ گڈی سے لکھوا کے دئیے اور اگر میں ایسا نہ کرتی تو وہ لڑکا بھی راہ راست پر نہ آتا اور تیری بہن بھی گمراہ ہو چکی ہوتی۔۔اب آخری دو باتیں جن کا تو اپنے اللہ سے وعدہ کرنا۔تونے مجھ پر بری نظر ڈالی تو تیرے لیے اللہ نے یہ مکافات عمل والا سبق پیدا کیا۔اور میں نے تیری بہن کو بری راہ سے بچایااس لیے میں بھی اللہ کی عطاکردہ ہمت سے تیری گمراہی اور اللہ کی ناراضگی والے جال سے بچ گئی ہوں۔اب اگر میرا تیری بہن پر احسان ہے تو پھر اس کو بھول کر اپنی گناہ کی ضد پر قائم رہنا چاہتا ہے تو اس دفعہ یاد رکھنا اللہ نے تجھے چار بہنیں اور ایک ماں دی ہے۔میں بھی اللہ سے دعا کروں گی کہ اللہ تجھے اور تیرے گھر والوں کو گمراہی اور ایسے گنا ہ سے بچائے اور تو بھی اللہ سے توبہ کر ۔یہ میرا پہلا پیار کا خط ہے جس میں میں اعتراف کرتی ہوں کہ میں اللہ سے اس کے حبیب ﷺسے پیار کرتی ہوں اگر جس چیز کی تو دعوت دیتا ہےیہ میرے نبی پاک ﷺ کی سیرت میں ہوتی تو

میں اس پر عمل کرتی اور اگر ایسا عمل اور اس کی مثال اماں فاطمہ ؒ کی زندگی میں ملتی تو میں اس پر عمل کرتی اور اگر ان کی زندگی میں نہیں اور میری اور تیری والدہ کی زندگی میں ایسی ایک نہیں ہزار مثالیں بھی ہوتی تو بھی تو مجھے ہرگز اس دعوت کا قبول کرنے والا نہ پاتا، اللہ تیری بہنوں اور میری عزت کی حفاظت فرمائے۔والسلام اللہ کی بندیتیری ماں،بہن،بیوی اور بیٹی کی عزت تیرے ہاتھ میں ہے اگر ابلیس پھر بھی تجھے ورغلانے میں کامیاب ہو گیا تو جان لے تو نے لوگوں کو اپنے گھر زنا کی دعوت دے دی اور دنیا کے بازار میں اچھا برا سب ملتا ہے تیری مرضی ہے برائی کے بدلے برائی لے یا نیکی کے بدلے نیکی لے کیوں کہ جیسا سکہ ویسا سودا۔

درود کی فضیلت

ایک یہودی کسی مسلمان کا پڑوسی تھا۔ اس یہودی کے ساتھ۔ اس کا مسلمان پڑوسی بہت اچھا سلوک کرتا تھا۔ اس مسلمان کی عادت تھی کہ وہ ہر تھوڑی دیر بعد یہ جملہ کہتاتھا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے۔ جو کوئی بھی اس مسلمان سے ملتا۔ وہ مسلمان اسے اپنا یہ جملہ ضرور سناتا اور جو بھی اس کے ساتھ بیٹھتا اسے بھی ایک مجلس میں کئی بار یہ جملہ مکمل یقین سے سناتا تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے۔ اس

مسلمان کا یہ جملہ اس کے دل کا یقین تھا۔ اور وہ خود اس جملے کے فوائد و ثمرات دن رات اپنی زندگی میں دیکھتا تھا۔ اس مسلمان کے جملے سے، اس کے پڑوسی’’ یہودی‘‘ کو تکلیف بہت ہوتی تھی۔ مگر وہ کیا کر سکتا تھا۔ اسے اپنے کاموں اور ضروریات کے لئے بار بار اس مسلمان سے ملنا ہوتا۔ اور ان ملاقاتوں کے دوران اسے بار بار یہی جملہ سننے کو ملتا کہ: ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے‘‘۔ بالآخر اس یہودی نے اس مسلمان کو ’’جھوٹا‘‘ کرنے کی ٹھان لی۔ اس نے ایک سازش تیار کی تاکہ اس مسلمان کو ذلیل و رسوا کیا جائے۔ اور ’’درود شریف‘‘ کی تاثیر پر اس کے یقین کو کمزور کیا جائے۔ اور اس سے یہ جملہ کہنے کی عادت چھڑوائی جائے۔ یہودی نے ایک سنار سے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ اور اسے تاکید کی کہ ایسی انگوٹھی بنائے کہ اس جیسی انگوٹھی پہلے کسی کے لئے نہ بنائی ہو۔ سنار نے انگوٹھی بنا دی۔ وہ یہودی انگوٹھی لے کر مسلمان کے پاس آیا۔ حال احوال کے بعد مسلمان نے اپنا وہی جملہ ، اپنی وہی دعوت دہرائی کہ ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعا قبول ہوتی ہے ہر حاجت اور مراد پوری ہوتی ہے‘‘۔ یہودی نے دل میں کہا کہ۔ اب بہت ہو گئی۔ بہت جلد یہ ’’جملہ ‘‘ تم بھول جاؤ گے۔ کچھ دیر بات چیت کے بعد یہودی نے کہا۔ میں سفر پر جا رہا ہوں۔ میری ایک قیمتی انگوٹھی ہے۔ وہ آپ کے پاس امانت رکھ کر جانا چاہتا ہوں۔ واپسی پر آپ سے لے لوں گا۔ مسلمان نے کہا۔

کوئی مسئلہ نہیں آپ بے فکر ہو کر انگوٹھی میرے پاس چھوڑ جائیں۔ یہودی نے وہ انگوٹھی مسلمان کے حوالے کی اور اندازہ لگا لیا کہ مسلمان نے وہ انگوٹھی کہاں رکھی ہے۔ رات کو وہ چھپ کر اس مسلمان کے گھر کودا اور بالآخر انگوٹھی تلاش کر لی اور اپنے ساتھ لے گیا۔ اگلے دن وہ سمندر پر گیا اور ایک کشتی پر بیٹھ کر سمندر کی گہری جگہ پہنچا اور وہاں وہ انگوٹھی پھینک دی۔ اور پھر اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔ اس کا خیال تھا کہ جب واپس آؤں گا۔ اور اس مسلمان سے اپنی انگوٹھی مانگوں گا تو وہ نہیں دے سکے گا۔ تب میں اس پر چوری اور خیانت کا الزام لگا کر خوب چیخوں گا اور ہر جگہ اسے بدنام کروں گا۔ وہ مسلمان جب اپنی اتنی رسوائی دیکھے گا تو اسے خیال ہو گا کہ درود شریف سے کام نہیں بنا اور یوں وہ اپنا جملہ اور اپنی دعوت چھوڑ دے گا ۔ مگر اس نادان کو کیا پتا تھا کہ۔ درود شریف کتنی بڑی نعمت ہے۔ یہودی اگلے دن واپس آ گیا۔ سیدھا اس مسلمان کے پاس گیا اور جاتے ہی اپنی انگوٹھی طلب کی۔ مسلمان نے کہا آپ اطمینان سے بیٹھیں آج درود شریف کی برکت سے میں صبح دعا کر کے شکار کے لئے نکلا تھا تو مجھے ایک بڑی مچھلی ہاتھ لگ گئی۔ آپ سفر سے آئے ہیں وہ مچھلی کھا کر جائیں۔ پھر اس مسلمان نے اپنی بیوی کو مچھلی صاف کرنے اور پکانے پر لگا دیا۔ اچانک اس کی بیوی زور سے چیخی اور اسے بلایا۔ وہ بھاگ کر گیا تو بیوی نے بتایا کہ مچھلی کے پیٹ سے سونے کی انگوٹھی نکلی ہے۔ اور یہ بالکل ویسی ہے جیسی ہم نے اپنے یہودی پڑوسی کی انگوٹھی امانت رکھی تھی۔ وہ مسلمان جلدی سے اس جگہ گیا جہاں اس نے یہودی کی انگوٹھی رکھی تھی۔ انگوٹھی وہاں موجود نہیں تھی۔ وہ مچھلی کے پیٹ والی انگوٹھی یہودی کے پاس لے آیا اور آتے ہی کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت پوری ہوتی ہے۔

پھر اس نے وہ انگوٹھی یہودی کے ہاتھ پر رکھ دی۔ یہودی کی آنکھیں حیرت سے باہر، رنگ کالا پیلا اور ہونٹ کانپنے لگے۔ اس نے کہا یہ انگوٹھی کہاں سے ملی؟۔ مسلمان نے کہا۔ جہاں ہم نے رکھی تھی وہاں ابھی دیکھی وہاں تو نہیں ملی۔ مگر جو مچھلی آج شکار کی اس کے پیٹ سے مل گئی ہے۔ معاملہ مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہا مگر الحمد للہ آپ کی امانت آپ کو پہنچی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے پریشانی سے بچا لیا۔ بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے اور ہر حاجت و مراد پوری ہوتی ہے۔ یہودی تھوڑی دیر کانپتا رہا پھر بلک بلک کر رونے لگا۔ مسلمان اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔ یہودی نے کہا مجھے غسل کی جگہ دے دیں۔ غسل کر کے آیا اور فوراً کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھنے لگا اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ وہ بھی رو رہا تھا اور اس کا مسلمان دوست بھی۔ اور مسلمان اسے کلمہ پڑھا رہا تھا اور یہودی یہ عظیم کلمہ پڑھ رہا تھا۔ جب اس کی حالت سنبھلی تو مسلمان نے اس سے ’’وجہ‘‘ پوچھی تب اس نومسلم نے سارا قصہ سنا دیا۔ مسلمان کے آنسو بہنے لگے اور وہ بے ساختہ کہنے لگا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درودشریف بھیجنے سے ہر دعاء قبول ہوتی ہے ۔ اور ہر حاجت و مراد پوری ہوتی ہے۔

میتھی دانہ کے کرشماتی فوائد

وایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے عجوہ کجھور ک لیا اور اس کے ساتھ میتھی دانہ کو لیا اور ان دونوں کو پانی میں ابال دیا ایک طرف سے جوش دیا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت پسند فرمایا میتھی دانہ اور میتھرے الگ الگ ہیں اور دونوں کے خواص بھی الگ الگ ہے میتھی دانہ ایک انتہائی صحت بخش چیز ہے جس کے استعمال سے بہت ساری بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے حکمت میں اس کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے اور اس کو مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اس کے استعمال سے جسم سے کلسٹرول خارج ہونے لگ جاتا ہے اور دل کی بند شریانوں کو کھولنے میں نہایت مفید ہے میتھی دانہ کی وجہ سے وہ کریسٹول جو خون کی رگوں میں جم جاتا ہے وہ بھی ختم ہو جاتا ہے اور اگر اس کو مسلسل استعمال کیا جاتا رہے تو اس کے استعمال کی وجہ سے خون میں لوتھڑے بننے کا عمل بھی ختم ہو جاتا ہے۔

اور چربی ختم ہونے لگ جاتی ہے جس کے بعد دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ ختم ہو جاتا ہےمیتھی دانہ کو اگر مسلسل استعمال کیا جائے تو اس کی وجہ سے بلڈپریشر بالکل کنٹرول ہوجاتا ہے اور جسم سے اگر فاسد مادے نکالنے ہو تو میتھی دانہ سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے جگر کو تندرست رکھنے گردوں کو صاف رکھنے اور مثانے کو ہر طرح کے گند سے صاف کرنے کے لئے بہترین چیز ہے میتھی دانہ شوگر کے مریضوں کے لیے ایک بہترین دوا کی حیثیت رکھتا ہے اس کی وجہ سے جسم میں شوگر کی لیول کنٹرول میں رہتا ہے اور اگر حد سے زیادہ نہیں پڑتا یہ کھانے کو ہضم کرنے گلوکوز کو توڑنے میں لبلبے کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں اپنے معتدل سطح پر آجاتا ہےاگر شوگر کا کوئی مریض مسلسل تین ماہ تک میتھی دانہ استعمال کرتا رہے تو امید کی جاسکتی ہے کہ اس کا شوگر بالکل معتدل ہو جائے گا اور اس کی شوگر کی بیماری بھی ختم ہو سکتی ہے میتھی دانہ جیسے پہلے بتایا گیا ہے چکنائی کو جسم سے خارج کرتا ہے اس لیے اگر کوئی موٹا شخص میتھی دانا کا مسلسل استعمال کرے تو اس کی وجہ سے اس کا موٹاپا بھی ختم ہوسکتا ہے اگر میتھی دانہ کو پیس کر اس کا پیسٹ بنایا جائے اور اس کو اپنے چہرے پر لگایا جائے تو اس کی وجہ سے چہرے سے داغ دھبے دانے کیل مہاسے مکمل طور پر ختم ہو جاتے ہیں جن لوگوں کو بالوں کی خشکی بالوں کے میں کہاں اور بالوں کی کمزوری کا مسئلہ ہے۔

وہ دو چمچ میتھی لے اس کو پیسے اور اس کو دہی میں ملا کر سر پر لگایا جائے اگر ہفتے میں دو دفعہ اس کا استعمال کیا جائے تو اس کی وجہ سے تمام مسائل ختم ہو سکتے ہیں یاد رہے میتھی دانہ خشک اور گرم مزاج رکھتا ہے اس لیے اس کے استعمال سے پہلے اپنے حکیم یا اپنے طبیب سے رابطہ ضرور کرے تاکہ وہ آپ کو بتا سکیں گے اس کا استعمال آپ کے لئے کس حد تک مناسب ہے اور کتنی مقدار آپ اس کی استعمال کر سکتے ہیں

رزق بڑھانے کا آسان عمل

اللّہ تعالیٰ کی پاک اور لاریب کتاب قرآن مجید میں آیا ہے اِنَّہ‘ مِنْ سُلَیْمَانَ وَاَنَّہ’ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ ( سورۂ النمل: ۳۰ ) ترجمہ : یہ ( خط) سلیمان علیہ السّلام کی طرف سے ہے اور اللّہ پاک کے اسم مبارک سے آغاز کرتا ہوں جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے ۔ حضرت سلیمان علیہ السّلام نے اپنے خط کا آغاز اللّہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے ہی کیا ۔ اسی طرح حضرت نوح علیہ السّلام کی کشتی کے چلنے کا تذکرہ قرآن مجید میں کیا گیا ، تو اللّہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ۔ قَالَ ارْکَبُوْ فِیھَا بِسْمِ اللّہ مَجرِھَا وَمُزسٰھَا ۔( سورۂ ہود : ۴۱ ) ترجمہ : اللّٰہ نے فرمایا ، اس میں سوار ہوجاؤ اللّہ کے نام سے ، اس کا چلنا بھی ہے اور اس کا رُکنا بھی ۔گویا کسی بھی ایسے کام کا آغاز جو جائز ہو ، تو اللّٰہ کا نام لینا اور اس سے شروع کرنا انبیاعلیہم السّلام کی سنت مبارک ہے۔

یوں اس کام میں برکت پیدا ہوجاتی ہے ۔ جب نبی پاک حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وسلم بھی کوئی کام کرتے ، تو اس کی ابتدا اللّہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے فرماتے ، آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے مختلف فرمانرواؤں کے نام خطوط لکھے ، تو ان کا آغاز بھی اللّہ تعالیٰ کے نام سے ہی کیا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کس قدر اہمیت کی حامل ہے ۔ رسول پاک صلی اللّہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دروازہ بند کرتے ہوئے بسم اللّہ پڑھو۔ چراغ گل کرتے ہوئے بسم اللّہ پڑھو، برتن ڈھانپتے ہوئے بسم اللّہ پڑھو اور مشک کا منہ بند کرتے ہوئے بسم اللّہ پڑھو ( الجامع الا حکام القرآن ۹۸) علامہ قرطبیؒ نے لکھا ہے کہ کھانے پینے ، ذبح کرنا ، وضوکرنے ، کشتی میں سوار ہونے غرض ہر ( صحیح ) کام کرنے سے پہلے بسم اللّہ پڑھنا مستحب ہے ۔ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کے فضائل و فوائد ۔ ہر مشکل اور ہر حاجت کے لیے :۔ * جو شخص بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بارہ ہزار مرتبہ اس طرح پڑھے کہ ہر ایک ہزار پورا کرنے کے بعد درود شریف کم از کم ایک مرتبہ پڑھے اور اپنے مقصد کے لیے دُعا مانگے ۔ پھر ایک ہزار اسی طرح پڑھ کر اپنے مقصد کے لیے دُعا کرے ۔ اسی طرح بارہ ہزار پورے پڑھے ، تو انشاءاللّہ ہر مشکل سے نجات اور ہر حاجت پوری ہوگی ۔ * بسم اللّہ کے حروف کے عدد 786 ہیں ۔ جو شخص اس عدد کے موافق سات روز تک متواتر بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھا کرے اور اپنے مقصد کے لیے دُعا کیا کرے ۔ تو انشاءاللّہ مقصد پورا ہوگا ۔ تسخیر قلوب :۔ * جو شخص بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ چھ سو مرتبہ لکھ کر اپنے پاس رکھے ، تو لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت و عزت ہوگی ، کوئی اس سے بدسلوکی نہ کر سکے گا ۔ حفاظت از آفات :۔ * جو شخص محرم کی پہلی تاریخ کو 100 مرتبہ پوری بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کاغذ پر لکھ کر اپنے پاس رکھے ، ہر طرح کی آفات و مصائب سے محفوظ رہے گا ۔

چوری اور شیطانی اثرات سے حفاظت :۔ * سونے سے پہلے 21 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھیں ، تو چوری اور شیطانی اثرات سے اور اچانک موت سے محفوظ رہے گا ۔ ظالم پر غلبہ :۔ * کسی ظالم کے سامنے 50 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر جانے سے اللّہ تعالیٰ اس کو مغلوب کرکے اس کو غالب کر دیں گے ۔ ذہن اور حافظہ تیز کرنے کے لیے :۔ * 786 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پانی پر دم کرکے طلوع آفتاب کے وقت پینے سے ذہن کھل گائے گا اور حافظہ قوی ہوجائے گا۔ کھیتی کی حفاظت اور برکت کے لیے :۔ * 101 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کاغذ پر لکھ کر کھیت میں مخصوص جگہ دفن کر دے ، تو کھیتی تمام آفات سے محفوظ رہے گی اور اس میں برکت ہوگی ۔ حفاظت اولاد : ۔ * جس عورت کے بچے زندہ نہ رہتے ہوں ، وہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 61 مرتبہ لکھ کر تعویز بنا کر اپنے پاس رکھے ، تو بچے محفوظ رہیں گے ۔ حکام کے لیے :۔ * بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کسی کاغذ پر 500 مرتبہ لکھے اور اس پر 150 مرتبہ بسم اللّہ پڑھے ۔ پھر اس تعویز کو اپنے پاس رکھے ، تو حکام مہربان ہوجائیں گے اور ظالم کے شر سے محفوظ رہے گا ۔ درد سر کے لیے :۔ * 21 مرتبہ لکھ کر درد والے کے گلے میں یا سر پر باندھ دیں ، تو دردِ سر جاتا رہے گا ۔ * اگر کوئی شخص دنیا و آخرت کے مصائب سے بچنا چاہے ، تو بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کا کثرت سے ورد کرے ۔ * ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ایک مرتبہ پڑھے ، اللّہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں دس ہزار نیکیوں کا ثواب درج کرتے ہیں ، دس ہزار گناہ محو ہوجاتے ہیں اور دس ہزار درجات بلند ہوتے ہیں ۔

اگر بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 70 مرتبہ کفن پر لکھ دیا جائے ، تو میت قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گی اور منکر و نکیر سوال کرنے میں سختی نہ کریں گے ۔ * 21 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھنے کے سبب چوری ، آگ ، ناگہانی موت اور ہر قسم کی آفت و بلا سے حفاظت نصیب ہوگی ۔ * 35 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ لکھ کر گھر میں لٹکا دی جائے تو شیطان و جن اس گھر میں داخل نہ ہوسکیں گے ۔ ہر ضرورت اور مشکل کے لیے :۔ * بعد نماز سنت فجر اگر کوئی شخص بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 90 مرتبہ اول و آخر گیارہ مرتبہ درود شریف ہمیشہ ورد میں رکھے ، انشاءاللّہ کوئی مشکل پیش نہ آئے گی ۔ جب بھی ضرورت کے وقت پڑھے گا ، ہر مقصد میں کامیابی اور مشکل آسان ہوگی ۔ مالی پریشانی سے بچنے کے لیے : ۔ * اگر ہر نماز کےبعد سورۃ فاتحہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سمیت 21 مرتبہ پابندی سے پڑھ لیا کریں ، تو آپ کبھی بھی مالی پریشانی سے دو چار نہیں ہوں گے ۔

ابن جوزی روایت کرتے ہیں کہ ھرات میں ایک سادات فیملی تھی

ابن جوزی روایت کرتے ہیں کہ ھرات میں ایک سادات فیملی تھی ۔خاتون جوانی میں بیوہ ہوگئیں ۔بچوں والی تھیں ۔تنگ دستی آئی توانہوں نے سمرقندکی طرف ہجرت کی ۔وہاں پہنچیں تولوگوں نے پوچھاکہ یہاں کوئی سردار،کوئی سخی ہے ؟؛لوگوں نے بتایاکہ یہاں دوسردارہیں ۔ایک مسلمان ہے اورایک آتش پرست ۔خاتون مسلمان سردارکے گھرگئیں اورکہاکہ میں آل رسولﷺ ہوں ،پردیسن ہوں ،نہ کھانے کوکچھ ہے نہ ہی رہنے کاکوئی ٹھکانہ ہے ۔ سردارنے پوچھا:تمھارے پاس کوئی نسب نامہ ہے ؟ ’’خاتون نے کہا‘‘:بھائی میں ایک نادارپردیسن ہوں ،میں سندکہاں سے لاؤں ؟ ’’وہ کہنے لگا‘‘:یہاں توہردوسراآدمی کہتاہے کہ میں سید ہوں ،آل رسولﷺ

ہوں ،یہ جواب سن کروہ خاتون وہاں سے نکلیں اورمجوسی سردارکے پاس گئیں ۔وہاں اپناتعارف کرایااس نے فورا اپنی بیگم کوان کے ہمراہ بھیجاکہ جاؤان بچیوں کولے آؤ،رات سردہے ،خاتون اوران کی بچیوں کوکھاناکھلاکرمہمان خانے میں سونے کیلئے جگہ دے دی گئی ۔ اسی رات کومسلمان سردارنے خواب دیکھاکہ رسول ﷺ جنت میں سونے سے بنے ایک خوبصورت محل کے دروازے پرکھڑے ہیں ’’یہ عرض کرتاہے ‘‘:یارسول اللہ ﷺ !یہ محل کس کاہے ؟آپﷺ ٖفرماتے ہیں :ایک مسلمان کاہے ،یہ کہتاہے :مسلمان تومیں بھی ہوں ’’آپ فرماتے ہیں ‘‘:اپنے اسلام کی کوئی سندپیش کرو،وہ شخص کانپ جاتاہے ،آپ ﷺ فرماتے ہیں :’’میرے گھرکی بیٹی تیرے دروازے پرچل کرآئی اورتونے اس سے سادات ہونے کی سند مانگی ؟میری نظروں سے دورہوجا۔ جب اس کی آنکھ کھلی تووہ ننگے سراورننگے پاؤں باہرنکل آیااورشورمچاناشروع کردیاکہ وہ پردیسن خاتون کہاں گئی ؟لوگوں نے بتایاکہ وہ آتش پرست سردارکے گھرچلی گئی ۔وہ اسی حالت میں بھاگابھاگاکیااوراس سردارکے دروازے کوزورزورسے کھٹکھٹانے لگ پڑا۔گھرکامالک باہرنکلااورپوچھا:کیاہوا؟وہ خاتون جواپنی بچیوں کے ہمراہ تمھارے گھرمیں ٹھہری ہوئی ہے ،مجھے دے دووہ میرے مہمان ہیں ۔ حضور!وہ میرے مہمان ہیں ،میں آپ کونہیں دے سکتا۔مجھ سے تین سودینارلے لواورانہیں میرامہمان بننے دو‘‘ مجوسی سردارکی آنکھوں میں آنسوبھرآئے ،کہنے لگا‘‘:بھائی میں نے بن دیکھے کاسوداکیاتھا،اب تودیکھ چکاہوں ،اب میں تمھیں کیسے

واپس کردوں ؟میں خواب دیکھاکہ جنت کے دروازے پراللہ کے نبی ﷺ کھڑے تھے ،تجھے کہاجارہاتھاکہ دورہوجا!اس کے بعد رسول خداﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اورفرمانے لگے کہ تومیری بیٹی کوکھانااورٹھکانہ دیا۔تواورتیراساراخاندان بخش دیئے گئے ہیں ۔سب کے لئے اللہ تعالی نے جنت کافیصلہ کردیاہے ۔آنکھ کھلتے ہی میں ایمان لاچکاہوں ،میراساراخاندان کلمہ پڑھ چکاہے ،ہم وہ دولت کبھی آپ کوواپس نہیں کرینگے ۔

ایک عورت پیر صاحب کے پاس گئی

ایک عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ہو جائے۔پیر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو شیر کی گردن کے بال پرہوگا۔ اور وہ بال بھی آپ خود شیر کی گردن سے اکھاڑ کر لائیں گی۔ تب اثر ہوگا ورنہ کوئی فائدہ نہ ہوگا۔وہ عورت بہت پریشان ہوگئی۔جاری ہے۔ اور مایوس ہو کر واپس آگئی اور اپنی سہیلیوں کو بتایا۔ایک سہیلی نے دیا کہ کام تو مشکل ہے مگر ناممکن نہیں، تم ایسا کرو کہ روزانہ پانچ کلو گوشت لیکر جنگل جایا کرو اور جہاں شیر آتا ہے وہاں ڈال کر چھپ جاؤ۔کچھ عرصہ بعد شیر کے سامنے جا کر ڈالو وہ گوشت کا عادی ہو جائیگا۔

تم اس کے قریب جاکر گوشت ڈالنا شروع کر دینا اور اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دینا اور جب شیر تم سے مانوس ہو جائے تو گردن سے بال اکھیڑ لینا۔اس عورت کو بات پسند آئی، دوسرے دن ہی اس نے گوشت لیا اور جنگل گئی اور گوشت ڈال کے چھپ گئی، شیر آیا گوشت کھایا اور چلا گیا۔اس عورت نے ایک ماہ تک ایسا کیا، ایک ماہ بعد اس نے شیر کے سامنے جا کر گوشت ڈالنا شروع کر دیا۔ تاکہ شیر کو پتہ چل سکے کہ اس کی خدمت کون کرتا ہے۔کچھ عرصہ بعد شیر بھی عورت سے مانوس ہو گیا تھا، عورت نے شیر کی گردن پر آہستہ آہستہ پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا.ایک دن عورت نے موقع دیکھ شیر کی گردن سے بال اکھیڑا اور خوشی خوشی پیر صاحب کے پاس پہنچ گئی اور بال پیر صاحب کو دیا اور کہا کہ میں شیر کی گردن سے بال اکھیڑ کر لے آئی ہوں اب آپ عمل شروع کریں۔پیر صاحب نے پوچھا: کیسے لائی ہو؟

تو عورت نے پوری تفصیل بتا دی۔پیر صاحب مسکرایا اور کہا کہ کیا تمہارا شوہر اس جنگلی درندے سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟جوکہ خونخوار ہوتاہے، جس کی تم نے چند دن خدمت کی اور وہ تم سے اتنا مانوس ہو گیا۔ کہ تم نے اس کی گردن سے بال اکھیڑ لیا اور اس نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا تمہارے شوہر کے ساتھ بھی پیٹ لگا ہوا ہے تم اس کی خدمت کرو جب جنگلی درندہ خدمت سے اتنا مانوس ہو سکتا ہے تو ایک باشعور انسان بھی آپ کے تابع ہو سکتا ہے