انسان تباہ برباد ہوجاتا ہے اگر یہ کام کرلیں

بعض اوقات انسان سے جانے انجانے میں کچھ ایسی غلطیاں سر زد ہوجاتی ہیں جس کی کوفت اسے ساری زندگی تڑپاتی ہے آج ہم آپ سےتین ایسے کام شیئر کریں گے جو بیوی کے ساتھ کرنے سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے جو بھی شخص اپنی شریک حیات کے ساتھ یہ عمل کرے گا رزق اس سے دور کر دیا جائے گا بیماریا اس کی زندگی میں عام ہو جاتی ہے ساس سسر کو گالی دینا شادی کے بندھن سے منسلک ہونے کے بعد ساس سسر والدین کا درجہ رکھتے ہیں وہ وہی تعظیم کے حقدار ہیں جو اپنے والدین کی ہوتی ہے ان کو برا بھلا کہنا گالی گلوچ کسنے سے منع فرمایا گیا ہے۔

کچھ ان پڑھ لوگ اپنے ساس سسر کو برے ناموں سے پکارتے ہیں توزوال ایسے گھر کا مقدر بن جاتا ہے بیوی کے ساتھ غیر فطری طریقے سے ہمبستری کرنا بیوی کے ساتھ پچھلے حصے سے ہمبستری کرنا شرمگاہ کو منہ لگانا یہ ایک غیرفطری فعل ہے جس سے عورت تکلیف سے دوچار ہوتی ہے ایسے مرد پیسے پیسے کا محتاج ہو جاتے ہیں وہ شوہر جو بات بات پروہ الفاظ بولے جس میں طلاق کاناپسند دید لفظ ہو گھروں میں میاں بیوی کے درمیان وقتی ناراضگی ہو جاتی ہے مگرچھوٹی بات پر طلاق کالفظ بول کرعورت کو پریشان کرنا بہت بڑی زیادتی ہے لفظ طلاق کو اللہ پاک نے سخت ناپسندفرمایاہے زندگی ایک دوسرےکوسمجھنےاوربرداش کرنے کانام ہے غلطیاں جانے انجانےمیں ہوجاتی ہیں بہترین حکمت عملی یہی ہے کہ خوش اسلابی سے حل کیے جائیں تاکہ دلوں میں رنجشیں پروان نہ چڑھیں اور وفاباقی رہ سکیں جب میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھ لیتے ہیں ایک دوسرے کی خوشی کا احترام کرتے ہیں ایک دوسرے کو وہ مقام دیتے ہیں۔

جس کا وہ حق رکھتے ہیں مرد عورت کو اپنی پراپرٹی نہ سمجھےعورت مرد کو اپنا غلام نہیں تو ان کی ازدواجی زندگی جنت بن جاتی ہے دوستو اپنی بھی اصلاح کریں اور دوسروں سے بھی شیئر کریں تاکہ وہ بھی ان کاموں کا مرتکب ہونے سے بچ سکیں اور اپنی اصلاح کر سکیں۔

نماز فجر کے بعد

آپ سب اللہ پاک کی رحمت بالکل خیریت سے ہوں گے۔ ہمارے برے بزرگ جو بھی بات کہتے تھے سولا آنے درست ہوتی تھی۔ کہ گھرمیں روشنی رزق سے ہوتی ہے اورآپ کا بھی تجربہ ہوگا کے یہ بات بالکل درست ہے۔ جب رزق آتا ہے تو وہ اپنے ساتھ خوشیاں بھی لاتا ہے۔ روزی کی برقت سے گھروالوں کے چہروں پرسکون اورعتمنان ہوتا ہے۔ اللہ نہ کرے کبھی کسی کے ساتھ روزی رزق کا مسئلہ ہو ایسی صورتحال میں انسان کواللہ پربھروسہ رکھنا چاہیے وہ صبح بھوکا ظروراوٹھات مگر سولاتا نہیں وہ صاحب اقتدارہے آج میں آپ کو رزق میں اضافے کا ایک خاص وظیفہ بتائوں گی۔

نماز فجر کے بعد صرف سات مرتبہ یہ پڑھیں انشاءاللہ تعالی حضرت محمد ﷺ کے صدقے سے رزق میں ایک دم اضافہ ہوگا اور رزق کی تنگی بلکل ختم ہو جائے گی۔ اس خاص وظیفے کے بارے میں جاننے کے لئے نیچے تک لازمی پڑھیں اور ہمارا آج کا وظیفہ یہ ہے کہ جو انسان رزق کی تنگی کا شکار ہواور وہ چاہتا ہواس کےرزق میں بے پناہ اضافہ ہو جائے اور وہ بے حد غنی ہو جائےامیر ہو جائے تواس کو چاہئے روزانہ بعد نماز فجر صرف 7 مرتبہ یہ درود پاک پڑھے اورپھراللہ پاک سے دعا بھی کرے انشاء اللہ رزق کی تنگی کا خاتمہ ہوگا اور رزق میں بے پناہ اضافہ ہو گا۔ یاد رہے جو انسان رزق کی تنگی کا شکار ہواور وہ چاہتا ہو کے بے حد مال دار ہو جائے تو وہ سچے دل سے اللہ کی زات پر بھروسہ رکھ کر یہ درود پاک کا ورد کرے انشاءاللہ رزق کی تنگی دورہو جائے گی اور وہ ورد درود پاک کا ہے

درود تاج فجر کی نماز کے بعد 7 مرتبہ پابندی سے درود تاج پڑھیں انشاء اللہ رزق کی تنگی دور ہو جائے گی اللہ تعالی بے شمار رزق عطا فرمائیں گے اس وظیفہ کے لئے پانچ وقت کی نماز کی پابندی بھی لازمی ہے ورنہ وظیفہ اثر نہیں کرے گا اور حسب توفیق صدقہ بھی کرتے رہیں۔ اور دوستو اچھی بات کو شیئرکرنا بھی صدقہ جاریا ہے آج کا عمل پسند آیا ہوتولازمی شیئرکریں

روزانہ صبح جاگنے کے بعد یہ آیت پڑھ لیں

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام جب حالتِ نزع میں تھے، اس وقت آپ نے اپنے بیٹے سے کہا: میں تمہیں “لا الہ الا اللہ” کو مضبوطی سے تھامے رہنے کا حکم دیتا ہوں۔ کیونکہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمین اگر ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں، اور “لا الہ الا اللہ” ایک دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے، تو کلمہ توحید کا پلڑا بھاری ہوجائے گا اور اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمین ایک پیچیدہ معمّہ ہوتے، تو کلمہ توحید اس کا حل ضرور پیش کردے گا(امام بخاری نے اپنی کتاب “الادب المفرد” میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے) دوستو یہ کتنی فضیلت والا کلمہ ہے اس کا اندازہ آپ کو اس حدیث مبارکہ سے ہی ہو گیا ہوگا۔

اس کلمے کی اتنی زیادہ فضیلت ہے کہ اگر آپ اس کو صبح شام یا صبح کے آغاز کے وقت اگر دس بار پڑھ لیں تو اللہ پاک آپ کو کن کن انعمات سے نوازتے ہیں یہ جان کر آپ بہت خوش ہو جائیں گے اور اپنا معمول بنا لیں گے کہ اس کو روزانہ پڑھا جائے آج ہم آپ کو لا اله الا الله پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں بتائیں گے سید نا معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :‘‘ من شھد ان لا الہ الا اللہ مخلسا من قلبہ دخل الجنۃ ’’جس شخص نے خلوص دل سے لا الہ الا اللہ کی گواہی دی وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ سید نا عثمان سے مروی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ‘‘من مات وھو یعلم انہ لاالہ الا اللہ دخل الجنۃ ’’جو آدمی اس حال میں مرگیا کہ وہ لا الہ الا اللہ کو جانتا تھا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ ( ایک شخص کو لایا جائے گا اور اس کے سامنے اللہ تعالی [اس کے گناہوں کے]ننانوے رجسٹر کھولے گا جن میں سے ہر رجسٹر تا حد نگاہ ہوگا ۔پھر کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا جس میں لکھا ہوگا ” أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ “[یعنی: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں اور یہ کہ محمد-ﷺ-اس کے بندے اور رسول ہیں]۔

پھر ان رجسٹروں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے گا ان کا پلڑا اوپر ہو جائے گا اور کاغذ کے اس پرزے والا پلڑا جھک جائے گا) ان حدیث سے کلمہ لا اله الا الله پڑھنے کی فضیلت واضع ہے میرے دوستو اب آپ کو اس کے پڑھنے کے بارے میں آغا کریں گے حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین لوگوں کی دعا رد نہیں ہے ہوتی ایک وہ جو کثرت سے زکر کرتا ہے دوسرا مظلوم اور تیسرا وہ حکمران جو انصاف کرتا ہے۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ اے رسولﷺ احکام شریعت تو بہت ہے آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیں جس کو میں اپنا معمول بنا لوں حضور اکرمﷺ نے فرمایا ہر وقت تمہاری زبان اللہ تعالی کے زکر سے تر رہنی چاہیے تمام ازکار میں بہترین زکر کلمہ توحید ہے اس حدیث میں لا اله الا الله کو سب سے افضل بتایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اسی کلمے سے انسان ایمان کی حدود میں داخل ہوتا ہے اور یہی کلمہ تمام انبیائے کرام کا پہلا سبق تھا دوستو ذکرالٰہی دلوں کو سکون بخشتا ہے بس اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہر وقت ہم کو زکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ پاک کا یہ نام 100 بار پڑھیں

اس دور میں انسان کو ناجانے کتنی مشکلات آتی ہیں۔ کتنی ہی تکلیفوں سے اسے گزر کر جانا ہوتا ہے۔ کبھی اس کو بیٹی کے سسرال پراس پے جو ظلم ہورہا ہوتا ہے اس پر تکلیف ہوتی ہے تو کبھی بیٹے کی نافرمانی پر کبھی کسی شوہر کی نافرمانی پر کبھی کسی کو مال کے کم ہونے پرگھر میں فیملی بری ہے اور تنخوا انتی کم ہے کہ ایک وقت کا کھانا بھی نہیں کھلا سکتے۔ جو بھی انسان اس دنیا میں آتا ہے چاہے وہ مال دارہو یاغریب ہو اگر یہ دنیا عیشوعشرت کی جگہ ہوتی تو میرے بھائیوآج ہم کسی پرکوئی پریشانی نہ آتی ہرایک خوش باش ہوتامیرے دوستو یہاں پر کس نے بھی آنا ہے اس کو مشکلات سے گزر کرہی جاناہے۔ اگرہم میں سے کوئی چاہتا ہے کہ مشکل وقت آنے پراللہ دل کو تھام لے دل کو حوصلہ ملے اورجو پریشانی ہواورجو مصیبت آن پری ہے اللہ ہم کواس میں سے نکال دے تو میرے دوستو میری بہنوں مصیبت آنے کا انتظار مت کریں۔

جب مصیبت آتی ہے تو انسان اپنے اللہ کی طرف ظرورمتواجہ ہوتا ہے۔ ایک چھوٹا سا زکر ہے اللہ کا چلتے پھرتے اگر آپ ورد کرنا شروع کردیں انشاءاللہ وہ مشکلات سے ایسے نکالے گا جیسے ایک بال اگر آٹے میں گر جاتا ہے تو خواتین جب آٹا گوندتے وقت اسے نکال دیتی ہیں اسی طریقے سے اللہ پاک آپ کو مشکلات سے نکال دیں گے جب بھی کبھی آپ فری ہیں آپ کا جسم کام کررہا ہے لیکن زبان تو خاموش ہے اس زبان کو حرکت میں لائیں اورپڑھنا شروع کریں زبان سے اللہ کا یہ پیارا نام يَا سَلَامْ کا ورد کرنا شروع کردیں اورجتنا ہو سکے اس اللہ کے پیارے نام کو پڑھیں اگر دن مین سو بار بھی اس کی تسبیح آپ کر دیں تو میرے دوستو یقیننا اللہ پاک آپ کو ہرمشکل سے نکال دیں گے ہر پریشانی سے نکال دیں گے۔ کسی کو اپنے دل کے دکھڑے مت سنائیں صرف اللہ کو ہی سنائیں جو آپ کی پریشانی میں مدد کرتا ہے اور اللہ ظرور مدد کرتا ہے یہ ورد کرنے سے دل کو سکون محسوس ہو گا آپ کا دل تھم جائے گا اور سکون والا ہو جائے گا آپ سب یہ وعدہ کریں کہ اس عمل کو ظرور کریں گے اوراپنے دوستوں رشتے داروں سے بھی اس عمل کو شیئرکریں گے۔

کچھ لوگ ایسے ہیں جب ان پرپریشانی آتی ہے تو وہ کفریہ الفاظ بول دیتے ہیں کہ یہ مصیبت ہم پر ہی آنی تھی انسان پل بھر میں نا آمید ہو جاتا ہے اور اللہ پاک نے جو اسے نعمتیں دی ہوتی ہیں اس پر ناشکری کرتا ہے کبھی مشکلات کو برداشت نہیں کر پاتا اور نہ کبھی تکلیف پرصبر کرتاہے اور نہ ہی اس مسئلے میں اللہ سے دعا مانگتا ہے جب اللہ انسان کو نعمت دیتے ہیں تو وہ زوال کے بارے میں نہیں ہے سوچتا اور مغرور بن کر آکرتا ہے۔

ان پڑھ غلام

ایک بزرگ تھے، ملک میں قحط پڑا ہوا تھا، خلقت بھوک سے مر رہی تھی، ایک روز یہ بزرگ اس خیال سے کچھ خریدنے بازار جا رہے تھے کہ نہ معلوم بعد میں یہ بھی نہ ملے۔ بازار میں انھوں نے ایک غلام کو دیکھا جو ہنستا کھیلتا لوگوں سے مذاق کر رہا تھا، بزرگ ان حالات میں غلام کی حرکات دیکھ کر جلال میں آ گئے، غلام کو سخت سست کہا کہ لوگ مر رہے ہیں اور تجھے مسخریاں سوجھ رہی ہیں۔

غلام نے بزرگ سے کہا ’’آپ اللہ والے لگتے ہیں، کیا آپ کو نہیں پتا میں کون ہوں..؟‘‘ بزرگ بولے ’’تو کون ہے..؟‘‘ غلام نے جواب دیا ’’میں فلاں رئیس کا غلام ہوں جس کے لنگر سے درجنوں لوگ روزانہ کھانا کھاتے ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جو غیروں کا اس قحط سالی میں پیٹ بھر رہا ہے وہ اپنے غلام کو بھوکا مرنے دے گا؟ جائیں، آپ اپنا کام کریں، آپ کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتی‘‘۔ بزرگ نے غلام کی بات سنی اور سجدے میں گر گئے، بولے! ’’یا اللہ! مجھ سے تو یہ ان پڑھ غلام بازی لے گیا، اسے اپنے آقا پر اتنا بھروسہ ہے کہ کوئی غم اسے غم نہیں لگتا

اور میں جو تیری غلامی کا دم بھرتا ہوں یہ مانتے ہوئے کہ تو مالک الملک اور ذولجلال ولااکرام ہے اور تمام کائنات کا خالق اور رازق ہے میں کتنا کم ظرف ہوں کہ حالات کا اثر لے کر ناامید ہو گیا ہوں۔ بے شک میں گناہ گار ہوں اور تجھ سے تیری رحمت مانگتا ہوں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لائیک اور شیئر کریں۔

حضرت خضر علیہ السلام

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میرے پاس، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کی بحرین جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں میرے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے جس کے پاس آپ سے زیادہعلم ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:اے رب ! میں کس طرح اس کے پاس پہنچوں گا؟اللہ تعالیٰ نے فرمایا زنبیل میں ایک مچھلی رکھ کر چل دو جہاں وہ کھوجائے گی وہیں وہ شخص آپ کو ملے گا۔پھر موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھ اپنے خادم یوشع بن نون کو لیا اور زنبیل میں مچھلی رکھ کر چل دیئے یہاں تک کہ ایک ٹیلے کے پاس پہنچے تو موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خادم دونوں لیٹ گئے اور سوگئے۔ مچھلی زنبیل میں کودنے لگی۔

یہاں تک کہ نکل کر دریا میں گرگئی۔اللہ تعالیٰ نے پانی کا بہاؤ وہیں روک دیا اور وہاں طاق سابن گیا اور اس کا راستہ ویسا ہی بنا رہا۔ جب کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی بھول گئے کہ انہیں مچھلی کے متعلق بتائیں، صبح ہوئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کھانا طلب کیا اور فرمایا کہ اس سفر میں ہمیں بہت تھکن ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام اسی وقت تھکے جب اس جگہ سے تجاوز کیا جس کے متعلق حکم دیا گیا تھا کہ ان کے ساتھی نے کہا۔ دیکھئے جب ہم ٹیلے پر ٹھہرے تو میں مچھلی بھول گیا تھا اور یقینا یہ شیطان ہی کا کام ہے کہ مجھے بھلادیا کہ میں آپ سے اس کا تذکرہ کروں کہ اس نے عجیب طریقے سے دریا کا راستہ اختیار کیا۔موسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے وہی جگہ تم تلاش کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے۔وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے چلتے چٹان کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ چادر سے اپنے آپ کو ڈھانکے ہوئے ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا اس زمین میں سلام کہاں؟موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں زمین میں موسیٰ ہوں۔انہوں نے پوچھا بنی اسرائیل کا موسیٰ؟آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاںحضرت خضر نے فرمایا اے موسیٰ تمہارے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے جسے میں نہیں جانتا اور میرے پاس اللہ کا عطا کردہ ایک علم ہے جسے آپ نہیں جانتے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کیا میں اس شرط پر آپ کے پیچھے چلوں کہ آپ میری رہنمائی فرماتے ہوئے مجھے وہ بات سکھائیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی۔

حضرت خضر نے فرمایا آپ صبر نہیں کرسکیں گے اور اس چیز پر کیسے صبر کرسکیں گے جس کا آپ کی عقل نے احاطہ نہیں کیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کی حکم عدولی نہیں کروں گا۔حضرت خضر نے فرمایا اگر میری پیروی کرنا ہی چاہتے ہو تو جب تک کوئی بات میں خود نہ بیان کروں آپ مجھے نہیں پوچھیں گے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ٹھیک ہےپھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر دونوں ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک کشتی ان کے پاس سے گذری، انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی سوار کرلو انہوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرائے کے دونوں کو بٹھالیا۔حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا تختہ اکھاڑ دیا حضرت موسیٰ بول پڑھے کہ آپ نے کشتی کو توڑ دیا تاکہ اس کشتی والے غرق ہو جائیں آپ نے بڑا عجیب کام کیا ہے حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ ! کیا میں تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے حضرت موسیٰ نے فرمایا جو بات میں بھول گیا ہوںآپ اس پر میرا مؤ اخذہ نہ کریں اور مجھے تنگی میں نہ ڈالیں۔پھر وہ کشتی پر سے اتر کر ابھی ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک بچہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑا اور اسے ہاتھ سے جھٹکا دے کر قتل کر دیا۔موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ نے ایک بے گناہ قتل کر دیا۔ آپ نے بڑی بے جا حرکت کی۔وہ کہنے لگے کہ میں نے کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے۔راوی کہتے ہیں کہ یہ بات پہلی بات سے زیادہ تعجب خیز تھی۔موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اگر اس کے بعد بھی میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ چکے ہیں۔پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک بستی کے پاس سے گذرے اور ان سے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کر دیا۔

اتنے میں وہاں انہیں ایک دیوار ملی جو گرنے کے قریب تھی تو حضرت خضر علیہ السلام نے اس دیوار کو سیدھا کھڑا کر دیا ۔موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ ہم ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے ہماری ضیافت تک نہیں کی اور ہمیں کھانا کھلانے سے بھی انکار کر دیا۔اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت ہماری اور آپ کی جدائی کا ہے۔میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کرسکے۔اور حضرت خضر علیہ السلام حضرت موسیٰ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ میں اب آپ کو ان کاموں کا راز بتاتا ہوں کہ جن پر تم صبر نہ کر سکے کشتی تو ان مسکینوں کی تھی کہ جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ظلما کشتیوں کو چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ میں اس کشتی کو عیب دار کر دوں تو جب کشتی چھیننے والا آیا تو اس نے کشتی کو عیب دار سمجھ کر چھوڑ دیا اور وہ کشتی آگے بڑھ گئی اور کشتی والوں نے ایک لکڑی لگا کر اسے درست کر لیا اور وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا ہے فطرةً کافر تھااس کے ماں باپ اس سے بڑا پیار کرتے تھے تو جب وہ بڑا ہوا تو وہ اپنے ماں باپ کو بھی سرکشی میں پھنسا دیتا تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس لڑکے کے بدلہ میں دوسرا لڑکا عطا فرما دے جو کہ اس سے بہتر ہو اور وہ دیوار جسے میں نے درست کیا وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچے خزانہ تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہماری چاہت تھی کہ موسیٰ علیہ السلام (اللہ ان پر رحمت کرے) کچھ دیر اور صبر کرتے تاکہ ہمیں ان کی عجیب وغریب خبریں سننے کو ملتیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ نے پہلا سوال تو بھول کر کیا تھا۔پھر ایک چڑیا آئی جس نے کشتی کے کنارے پر بیٹھ کر دریا میں اپنی چونچ ڈبوئی، پھر حضرت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا میرے اور آپ کے علم نے اللہ کے علم میں سے صرف اسی قدر کم کیا جتنااس چڑیا نے دریا سے۔صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1921صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1662صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1664جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1094۔۔ یہ واقعہ قران پاک میں اس طرح بیان ہوا ہے:ترجمہ:اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوںجب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنالیاجب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔

اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا(موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے(وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت یا نعمت ولایت) دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھاموسیٰ نے ان سے (جن کا نام خضر تھا) کہا کہ جو علم (خدا کی طرف سے) آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں(خضر نے) کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گےاور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو(موسیٰ نے) کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا(خضر نے) کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو(شرط یہ ہے) مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروںتو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کردیں یہ تو آپ نے بڑی (عجیب) بات کی(خضر نے) کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے(موسیٰ نے) کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجیئے اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئےپھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔(یہ تو) آپ نے بری بات کی(خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گےانہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئےپھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔

پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا)خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔(مگر) جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ (وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں)ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دےتو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچّہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی میں اور محبت میں اس سے بہتر ہواور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی (جو) شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ (مدفون) تھا اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپنا خزانہ نکالیں۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکےسورة الكهف: آیات: 60-83 ۔

یہ آیت اسم اعظم ہے

اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْم یہ آیت اسم اعظم ہے۔ پیٹ کے درد کے لئے کسی شربت یا پانی پر سات مرتبہ پڑھ کر دم کر کے پلانا درد کو زائل کرتا ہے۔ کورے برتن میں لکھ کر گھول کر پلانا درد سرد کو بیحد مفید ہے۔ لڑکی کیلئے چاندی، لڑکے کیلئے تانبے کے پترہ پر کندہ کر کے بچے کے گلے میں ڈالنا ہر قسم کے آسیب، جن، بھوت کے خلل، نظربند سے محفوظ رکھتا ہے۔ جس عورت کو حمل نہ رہتا ہو سات دن تک نہار منہ روٹی کے ٹکڑے پر یہ آیت لاکھ کر کھائے انشاء اللہ حمل ٹھہر جائے گا۔

آیت یہ ہے ھُوَالَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآءُ ط لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ چاند کی پہلی تاریخ سے یہ عمل شروع کیا جائے ضرور انشاء اللہ کامیابی ہو گی۔ اگر کسی کا اکلوتا بیٹا مر گیا ہو وہ شخص اس آیت کو ایک سو مرتبہ روز پڑھے انشاء اللہ دل کو صبر بھی آ جائے گا اور اس فرزند کا بدلے دوسرا فرزند جلد ملے گا۔ آیت یہ ہے رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَ ھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّاب۔اگر کوئی اپنے روزگار سے موقوف ہوا یا مالدار تھا مفلس ہوا یا صاحب عزت تھا اب ذلیل ہوا یا صاحب اولاد تھا اب اولاد مر گئی یا عورت بیوہ ہوئی آئندہ کوئی پیغام نہیں دیتا یا عدالت ماتحت میں مقدمہ ہارا عدالت بالا دست میں اپیل دائر کیا ہو ایک سو ایک مرتبہ گیارہ دفعہ درود شریف پڑھنے کے اس آیت کو پڑھے۔

قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُُ ط بِیَدِکَ الْخَیْرُ ط اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌاکیس دن کے عمل میں غیب سے مراد پوری ہو گی اگر کسی بادشاہ یا امیر یا دولت مند یا عالم فاضل صاحب کمال کے دشمن حاسد زیادہ پیدا ہوئے ہوں وہ شخص صبح و شام سات سات مرتبہ ان آیتوں کو پڑھا کرے انشاء اللہ کبھی کسی حاسد کی طرف سے کوئی اذیت نہ پہنچے گی خواہ کتنی ہی کوشش کرے گا مگر ناکام رہے گا آیت یہ ہے قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِاللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ (۷۳)یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ ط وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْم۔

جس عورت کا حمل گر جاتا ہو جس سے وقت حمل کی امید معلوم ہو بچہ ہونے تک روز پانی کی طشتری پر یہ آیت مع بسم اللہ کے لکھ کر پلانا اسقاط سے محفوظ رکھے گا۔ آیت یہ ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ اَنِّیْ لَآاُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی بَعْضُکُمْم مِّنْم بَعْضٍ ۔

اللہ الصمد کا وظیفہ کرنا

اللہ الصمد اورانمول خزانہ کی کرامات میں کھاریاں شہرمیں لیڈی ہیلتھ ورکرہوں۔ ایک دفعہ میں کھاریاں کے ساتھ واقع ایک گائوں ایک گائوں میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے گئی۔ ایک خاتون نے مجھے باتوں باتوں میں اپنی زندگی کا ایک سچا واقع بتایا جس کی میں نے گائوں میں موجود کئی خواتین سے تصدیق بھی کی ہے۔ اس عورت نے کہا باجی میرا میاں باہر کے ملک میں تھا۔ کمپنی نے میرے میاں کے 12 لاکھ روپے دینے تھے کہ جھگڑا ہوگیا۔ انہوں نے میرے میاں کو واپس پاکستان بھیج دیا۔ اس وقت ان کے پاس تقریبا تیس ہزار روپے تھے جبکہ پچھلے چھ ماہ سے انہیں تنخواہ بھی نہیں ملی تھی۔ گھر آئے تو میں نے پچھلے چھ ماہ سے قرضہ لے لے کر کاغذ کالے کیے ہوئے تھے۔ جب میں نے پیسے مانگے تو نارا ض ہونے لگے کہ میرے پاس صرف تیس ہزار روپے ہیں۔ اور قرضہ تم نے 60 ہزار روپے لیا ہے۔

میں کہاں سے دوں۔ جگھڑا اتنا بڑھا کہ بات علیحدگی تک جا پہنچی۔ کسی بزرگ نے مجھے یہ وظیفہ دیا کہ سوا کلو گندم کے ہر دانے پر اَللّٰہُ الصَّمَد پڑھیں اور پھر نہر میں گرادیں۔ آپ یقین جانیے صرف ایک دن دانے پھینکے دوسرے دن کمپنی والوں نے 12 لاکھ کا چیک انہیں بھیج دیا۔ امید تو دور کی بات کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ پیسے مل جائینگے۔ چونکہ میں لیڈی ہیلتھ ورکر ہوں لہذا گھر کا ہر فرد مجھ پر اعتماد کرتا ہے۔ ایک دفعہ ویکسینیٹر ٹیکے لگانےآیاتھا۔ میں گھر میں بچے کو بلانے گئی کہ اس کی ماں بچے کو حفاظتی ٹیکہ لگوالے۔ معلوم ہو کہ ماں تو گھر میں نہیں ہے۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ گھر والوں سے روٹھ کر ہمسائے کے گھر گئی ہے۔ پانچ دن کی بیٹی تھی اور دوسری ڈیڑھ سال کی گھر میں ساس اور اس کا بیٹا بیٹھےتھے۔ میں ہمسائے کے گھر گئی۔ سردی کا موسم تھا۔ وہ عورت اپنی بچیوں کو لے کر لیٹی تھی۔ جہاں وہ عورت گئی تھی بتاتی چلوں کہ ان کا ایک ہی کمرہ تھا نہ کچن نہ باتھ نہ برآمدہ جب میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگی بچی بیمار تھی میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ میں کسی سے پیسے ادھار لے کر دوائی لائی تو خاوند آکر ناراض ہوا اور بات بڑھتے بڑھتے لڑائی جگھڑے تک پہنچ گئی۔ اب میں نے ادھر نہیں رہنا اپنے میکے جائوں گی۔ گھر والے کہنے لگے کہ ہم نے اس کو کہا تھا کہ ہم تمہیں تمہارے والدین کے گھر چھوڑ آتے ہیں مگر اس نے انکار کر دیا۔ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا پڑھوں اور یہ مان جائے۔ میں نے دل میں ہی دل درود شریف پڑھ کر خزانہ نمبر 2 پڑھا پڑھ کر اس عورت پر پھونکنا شروع کردیا۔

تقریبا 21 بار پڑھا ہوگا اور غیر محسوس طریقے سے تین پھونکیں ماریں۔ آپ یقین جانیے پتا نہیں مجھے کیوں اتنا یقین تھا کہ یہ مان جائے گی۔ میں نے اسے چلنے کو کہا ایک بچی میں نے اٹھائی ایک اس نے اور اسے اس کے گھر چھوڑ آئی۔ اس کے خاوند اور ساس کو سمجھایا کہ ابھی کچھ نہیں کہنا۔ کم ازکم میری لاج رکھنا بعد میں پتہ چلا کہ اس کے ہمسائے ناراض ہو گئے تھے کہ ہماری بات نہ مانی اور پرائی باجی کی مان لی۔ یہ خود میرا اپنا واقعہ ہے جو میاں بیوی میں انمول خزانہ کی وجہ سے صلح ہوئی۔ اس طرح ایک واقعہ میری ایک ساتھی کاہے۔ اس نے میرے زریعے ایجنٹ کے پاس اپنے میاں کا کیس جمع کروایاتھا تاکہ وہ بیرون ملک جاسکے۔ مجھ سے تقریبا بیس ہزار روپے بھی دلوئے تھے۔ چھ ماہ گزر جانے کے بعد بھی اس کا کام نہیں بنا۔ میں خود پریشان ہو گئی تھی کہ نہ کام بنے نہ پیسے واپس ملیں میں نے اپنے ساتھی کو درود شریف پڑحنے کا کہا مگر بات بنتی نظر نہ آئی۔ کافی دن سوچ بچار کے بعد میں نے اسے اَللّٰہُ الصَّمَد روزانہ ایک ہزار بار پڑھنے کو کہا۔ میں خود بھی روزانہ ایک ہزار بار اَللّٰہُ الصَّمَد کا زکر کر رہی تھی۔ یقین جانیے ایکس دن نہیں گزرے تھے کہ ایجنٹ میرے گھر آکر پیسے واپس کر گیا اور اللہ پاک نے اپنے نام کی برکت مجھے رسوائی سے بچا لیا

بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے فوائد

اللّہ تعالیٰ کی پاک اور لاریب کتاب قرآن مجید میں آیا ہے اِنَّہ‘ مِنْ سُلَیْمَانَ وَاَنَّہ’ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ ( سورۂ النمل: ۳۰ ) ترجمہ : یہ ( خط) سلیمان علیہ السّلام کی طرف سے ہے اور اللّہ پاک کے اسم مبارک سے آغاز کرتا ہوں جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے ۔ حضرت سلیمان علیہ السّلام نے اپنے خط کا آغاز اللّہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے ہی کیا ۔ اسی طرح حضرت نوح علیہ السّلام کی کشتی کے چلنے کا تذکرہ قرآن مجید میں کیا گیا ، تو اللّہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ۔ قَالَ ارْکَبُوْ فِیھَا بِسْمِ اللّہ مَجرِھَا وَمُزسٰھَا ۔( سورۂ ہود : ۴۱ ) ترجمہ : اللّٰہ نے فرمایا ، اس میں سوار ہوجاؤ اللّہ کے نام سے ، اس کا چلنا بھی ہے اور اس کا رُکنا بھی گویا کسی بھی ایسے کام کا آغاز جو جائز ہو ، تو اللّٰہ کا نام لینا اور اس سے شروع کرنا انبیاعلیہم السّلام کی سنت مبارک ہے ۔

یوں اس کام میں برکت پیدا ہوجاتی ہے ۔ جب نبی پاک حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وسلم بھی کوئی کام کرتے ، تو اس کی ابتدا اللّہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے فرماتے ، آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے مختلف فرمانرواؤں کے نام خطوط لکھے ، تو ان کا آغاز بھی اللّہ تعالیٰ کے نام سے ہی کیا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کس قدر اہمیت کی حامل ہے ۔ رسول پاک صلی اللّہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دروازہ بند کرتے ہوئے بسم اللّہ پڑھو۔ چراغ گل کرتے ہوئے بسم اللّہ پڑھو، برتن ڈھانپتے ہوئے بسم اللّہ پڑھو اور مشک کا منہ بند کرتے ہوئے بسم اللّہ پڑھو ( الجامع الا حکام القرآن ۹۸) علامہ قرطبیؒ نے لکھا ہے کہ کھانے پینے ، ذبح کرنا ، وضوکرنے ، کشتی میں سوار ہونے غرض ہر ( صحیح ) کام کرنے سے پہلے بسم اللّہ پڑھنا مستحب ہے ۔ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کے فضائل و فوائد ۔ ہر مشکل اور ہر حاجت کے لیے :۔ * جو شخص بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ بارہ ہزار مرتبہ اس طرح پڑھے کہ ہر ایک ہزار پورا کرنے کے بعد درود شریف کم از کم ایک مرتبہ پڑھے اور اپنے مقصد کے لیے دُعا مانگے ۔ پھر ایک ہزار اسی طرح پڑھ کر اپنے مقصد کے لیے دُعا کرے ۔ اسی طرح بارہ ہزار پورے پڑھے ، تو انشاءاللّہ ہر مشکل سے نجات اور ہر حاجت پوری ہوگی ۔ * بسم اللّہ کے حروف کے عدد 786 ہیں ۔ جو شخص اس عدد کے موافق سات روز تک متواتر بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھا کرے اور اپنے مقصد کے لیے دُعا کیا کرے ۔ تو انشاءاللّہ مقصد پورا ہوگا ۔

تسخیر قلوب :۔ * جو شخص بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ چھ سو مرتبہ لکھ کر اپنے پاس رکھے ، تو لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت و عزت ہوگی ، کوئی اس سے بدسلوکی نہ کر سکے گا ۔ حفاظت از آفات :۔ * جو شخص محرم کی پہلی تاریخ کو 100 مرتبہ پوری بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کاغذ پر لکھ کر اپنے پاس رکھے ، ہر طرح کی آفات و مصائب سے محفوظ رہے گا ۔ چوری اور شیطانی اثرات سے حفاظت :۔ * سونے سے پہلے 21 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھیں ، تو چوری اور شیطانی اثرات سے اور اچانک موت سے محفوظ رہے گا ظالم پر غلبہ :۔ * کسی ظالم کے سامنے 50 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر جانے سے اللّہ تعالیٰ اس کو مغلوب کرکے اس کو غالب کر دیں گے ۔ ذہن اور حافظہ تیز کرنے کے لیے :۔ * 786 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پانی پر دم کرکے طلوع آفتاب کے وقت پینے سے ذہن کھل گائے گا اور حافظہ قوی ہوجائے گا۔ کھیتی کی حفاظت اور برکت کے لیے :۔ * 101 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کاغذ پر لکھ کر کھیت میں مخصوص جگہ دفن کر دے ، تو کھیتی تمام آفات سے محفوظ رہے گی اور اس میں برکت ہوگی حفاظت اولاد : ۔ * جس عورت کے بچے زندہ نہ رہتے ہوں ، وہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 61 مرتبہ لکھ کر تعویز بنا کر اپنے پاس رکھے ، تو بچے محفوظ رہیں گے ۔ حکام کے لیے :۔ * بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کسی کاغذ پر 500 مرتبہ لکھے اور اس پر 150 مرتبہ بسم اللّہ پڑھے ۔ پھر اس تعویز کو اپنے پاس رکھے ، تو حکام مہربان ہوجائیں گے اور ظالم کے شر سے محفوظ رہے گا ۔

درد سر کے لیے :۔ * 21 مرتبہ لکھ کر درد والے کے گلے میں یا سر پر باندھ دیں ، تو دردِ سر جاتا رہے گا ۔ * اگر کوئی شخص دنیا و آخرت کے مصائب سے بچنا چاہے ، تو بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کا کثرت سے ورد کرے ۔ * ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ایک مرتبہ پڑھے ، اللّہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں دس ہزار نیکیوں کا ثواب درج کرتے ہیں ، دس ہزار گناہ محو ہوجاتے ہیں اور دس ہزار درجات بلند ہوتے ہیں ۔* اگر بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 70 مرتبہ کفن پر لکھ دیا جائے ، تو میت قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گی اور منکر و نکیر سوال کرنے میں سختی نہ کریں گے ۔ * 21 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھنے کے سبب چوری ، آگ ، ناگہانی موت اور ہر قسم کی آفت و بلا سے حفاظت نصیب ہوگی ۔ * 35 مرتبہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ لکھ کر گھر میں لٹکا دی جائے تو شیطان و جن اس گھر میں داخل نہ ہوسکیں گے ۔ ہر ضرورت اور مشکل کے لیے :۔ * بعد نماز سنت فجر اگر کوئی شخص بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 90 مرتبہ اول و آخر گیارہ مرتبہ درود شریف ہمیشہ ورد میں رکھے ، انشاءاللّہ کوئی مشکل پیش نہ آئے گی ۔ جب بھی ضرورت کے وقت پڑھے گا ، ہر مقصد میں کامیابی اور مشکل آسان ہوگی ۔ مالی پریشانی سے بچنے کے لیے : ۔ * اگر ہر نماز کےبعد سورۃ فاتحہ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سمیت 21 مرتبہ پابندی سے پڑھ لیا کریں ، تو آپ کبھی بھی مالی پریشانی سے دو چار نہیں ہوں گے ۔

عورت اور شیطان

ایک عابد شخص اپنی جھونپڑی میں لوگوں سے الگ تھلگ عبادت کیا کرتا تھا۔ وہ ستر سال تک اسی جھونپڑی میں رہا، اس عرصہ میں کبھی بھی اس نے عبادت کو ترک نہ کیا اور نہ ہی کبھی اپنی جھونپڑی سے باہر آیا …پھر ایک دن وہ جھونپڑی سے باہر آیا تو اسے شیطان نے ایک عورت کے فتنہ میں مبتلا کر دیا، اور وہ سات دن اور سات راتیں اسی عورت کے ساتھ رہا، سات دن کے بعد جب اس کی آنکھوں سے غفلت کا پردہ ہٹا تو وہ اپنی اس حرکت پر بہت نادم ہوا، اور اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں توبہ کی، اور وہاں سے رخصت ہو گیا۔

وہ اپنے اس فعل پر بہت نادم تھا، اب اس کی یہ حالت تھی کہ ہر ہر قدم پر نماز پڑھتا اور توبہ کرتا، پھر ایک رات وہ ایسی جگہ پہنچا جہاں بارہ مسکین رہتے تھے، وہ بہت تھکا ہوا تھا، تھکاوٹ کی وجہ سے وہ ان مسکینوں کے قریب گر پڑا …ایک راہب روزانہ ان بارہ مسکینوں کو ایک ایک روٹی دیتا تھا، جب وہ راہب آیا تو اس نے روٹی دینا شروع کی اور اس عابد کو بھی مسکین سمجھ کر ایک روٹی دے دی اور ان بارہ مسکینوں میں سے ایک کو روٹی نہ ملی تو اس نے راہب سے کہا :”آج آپ نے مجھے روٹی کیوں نہ دی ……؟”راہب نے جب یہ سنا تو کہا کہ :”میں تو بارہ کی بارہ روٹیاں تقسیم کر چکا ہوں، پھر اس نے مسکینوں سے مخاطب ہو کر کہا :”کیا تم میں سے کسی کو دو روٹیاں ملی ہیں …..؟”سب نے کہا :”نہیں ہمیں تو صرف ایک، ایک ہی ملی ہے …..!”یہ سن کر راہب نے کہا :”شاید تم دوبارہ روٹی لینا چاہتے ہو، جاؤ آج کے بعد تمھیں روٹی نہیں ملے گی، جب اس عابد نے یہ سنا تو اسے اس مسکین پر بڑا ترس آیا چنانچہ اس نے وہ روٹی مسکین کو دے دی اور خود بھوکا رہا اور اسی بھوک کی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا۔

جب اس کی ستر سالہ عبادت اور غفلت میں گزری ہوئی سات راتوں کا وزن کیا گیا، تو اللہ تعالٰی کی نافرمانی میں گزاری ہوئی راتیں اس کی ستر سالہ عبادت پر غالب آ گئیں۔ پھر جب ان سات راتوں کا موازنہ اس روٹی سے کیا گیا جو اس نے مسکین کو دی تھی تو وہ روٹی ان راتوں پر غالب آ گئی اور اس کی مغفرت کر دی گئی ….!