سیاہ فام عورت

ایک مرتبہ حضرت بلال رضی الله عنہ اور حضرت ابوزر غفاری رضی الله عنہ میں تلخ کلامی ہوگئ تو غصے میں حضرت ابوزر غفاری رضی الله عنہ نے حضرت بلال رضی الله عنہ کو ” اے سیاہ فام عورت کے بیٹے ” کہہ دیا۔ حضورِاکرم صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلم کو جب خبر ملی تو آپ صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” اے ابو زر، کیا تم نے بلال کی والدہ کے لئے نامناسب الفاظ استعمال کئے ہیں ؟ کیا تم میں ابھی بھی جہالت موجود ہے؟”حضرت ابوزر غفاری یہ سن کر روتے ہوے۔

مسجد سے بھاگے اور حضرت بلال کے پاس پہنچ کر اپنی رخسار زمین پر رکھ کر بولے ” اے بلال، جب تک آپ اِس (گال) پر اپنا پاؤں نہیں رکھیں گے، میں نہیں اٹھونگا۔ آپ عالی مقام ہیں اور میں ادنیٰ حقیر “حضرت بلال رضی الله عنہ یہ سن کر رونے لگے اور اُنہیں زمین سے اٹھا کر اسی رخسار پر بوسہ دیا اور گلے لگالیا۔(شعیب الایمان ۴۷۶۰، صحیح بخاری ۵۰، صحیح مسلم ۱۶۶۱)حجتہ الوداع کے موقع پر پیارے رسولِ عربی محمد صلیٰ الله علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا ” کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر، کسی عربیکوکسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر برتری نہیں سوائے تقوٰی کی بنیاد پر “

نہار منہ لہسن

لہسن ایک ایسی سبزی ہے جس کا استعمال قدیم زمانے میں رہنے والے لوگ بھی کیا کرتے تھے اور اس کی افادیت سے کبھی انکار نہیں کیا گیا۔ مصری، رومن، ایرانی، یہود، عرب اور دنیا کی تمام اقوام نے لہسن کے فوائد پر کافی کچھ لکھا ہے اور اسے کبھی بھی خطرناک یہ نقصان دہ نہیں کہا گیا۔ان تمام فوائد کی سجہ سے اسے ’مصالحہ جات کا سردار‘ بھی کہا گیا ہے۔آج ہم آپ کو لہسن کے خالی پیٹ استعمال کے فوائد بتائیں گے۔ *صبح اٹھتے ہی خالی پیٹ کھانے سے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہو تا ہے اور انسانی جسم میں کئی خطرناک بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ *خالی پیٹ لہسن کھانے سے پیٹ

میں موجود بیکٹیریا پیٹ خالی ہونے کہ وجہ سے بہت کمزور ہو جاتا ہے اور یہ لہسن کی طاقت کے خلاف لڑ نہیں پاتاجس سے آپ صحت مند اور کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں گے *لہسن ایک قدرتی انٹی بائیوٹک ہے اور سردیوں میں اس کے استعمال سے انسان کھانسی، نزلہ ،سردی اور زکام سے محفوظ رہتا ہے۔ *یہ خون کو پتلا کرتا ہے جس سے آپ کا نظام دوران خون تیز رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کو بلند فشار خون سے بھی نجات ملتی ہے۔ *اگر خون کی شریانیں بند ہونے لگیں تو روزانہ خالی پیٹ لہسن کا استعمال کریں ، بہت جلد آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کی طبیعت بحال ہو رہی ہے۔ *اگر اعصابی کمزوری کا مسئلہ ہو تب بھی لہسن انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ *اگر آپ کو جلدی بیماری کا مسئلہ درپیش ہو تو کھانے میں لہسن کی مقدار بڑھادیں۔ اس سے آپ کے جسم میں زہریلے مادے کم ہوں گے اور جلد تر وتازہ رہے گی۔

دوپہر کو سونا سنت نبوی ﷺ ہے

دوپہر کے وقت سونا سستی کی علامت نہیں بلکہ ذہنی و جسمانی بہتری کا ایک شاندار طریقہ ہے۔ بعض افراد کو اس کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ذیل میں قیلولہ کرنے کی وجوہ بیان کی گئی ہیں ۔ ۱۔ ضرورت:دور جدید میں بہت سے افراد اپنی نیند پوری نہیں کر پاتے۔ طویل اوقاتِ کار، مصروف نجی زندگی، شہرکا شور اور الیکٹرانک آلات کا استعمال ہمارے ذہن اور جسم کو آرام نہیں کرنے دیتے۔ اگر آپ کی نیند پوری نہیں ہوتی تو قیلولہ آپ کی ضرورت ہے کیونکہ آپ کو نیند کی ضرورت ہے ۔ ۲۔ وراثت: سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ لاکھوں سال قبل انسان درختوں پر رہتا تھا اور ایک ہی بار طویل دورانیے کے لیے نہیں سوتا تھا بلکہ دن اور رات کو مختلف وقفوں سے سوتا تھا۔

جب انسان نے درختوں کا بسیرا ترک کیا تو وہ رات بھر سونے لگا۔ کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو ماضی کے انسان کی طرح ایک ہی وقت میں لمبی نیند نہیں سو سکتے بلکہ انہیں وقفوں میں نیند آتی ہے۔ جس طرح کچھ لوگ پیدائشی طور پر بائیں بازو سے کام کرتے ہیں اس طرح نیند کا یہ نظام کچھ لوگوں کو ورثے میں ملتا ہے۔ ایسے افراد کو دن میں تھوڑی دیر سو لینا چاہیے تاکہ ان کی نیند پوری ہو سکے۔ ۳۔کارکردگی:میکائیلا شیفرین ایتھلیٹ ہیں اورا نہوں نے 2018ء کے ونٹر اولمپکس میں سونے کا تمغہ جیتا۔ وہ ریس میں حصہ لینے سے قبل تھوڑی دیر باقاعدگی سے سوتی ہیں جس سے ان کا دماغ اور جسم تازہ دم ہو جاتا ہے۔ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے بہت سے ایتھلیٹ بھی ایسا کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر باسکٹ بال کے معروف امریکی کھلاڑی جے جے ریڈک روزانہ دو سے چار بجے دن کو سوتے ہیں اور اس کے بعد شام کے وقت کھیلتے ہیں۔ ان ایتھلیٹس کو معلوم ہے کہ دن کے وقت سونے سے ان کی کارکردگی اچھی ہو جائے گی۔ ۴۔ خواب:بعض خواب ایسے ہوتے ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے ہم نیند میں یہ محسوس کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم انہیں دیکھ رہے ہیں اور یہ ایک خوش گوار تجربہ ہوتا ہے۔

دن کے وقت سوتے ہوئے ہمارا دماغ زیادہ سرگرم ہوتاہے اور ایسے خواب دیکھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ان خوابوں میں کبھی کبھار کوئی نیا اور کارآمد خیال بھی ذہن میں آ جاتا ہے۔ تخلیقی ذہن رکھنے والوں کے لیے یہ ایک اچھا موقع ہوتا ہے۔

صرف ایک پھونک

گھریلو ناچاقی ایک عام سی بات بن چکی ہے میاں بیوی میں معمولی جھگڑا تو معمول کی بات ہے لیکن جب معاملہ روزانہ کے جھگڑوں تک دراز ہوجائے ،تلخ کلامی ہوتی رہے تو اس کا اثر دونوں پر تو پڑتا ہی ہے بچے بھی خراب ہوتے ہیں.ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کیروادار نہیں رہتے

نوکری پیشہ ہوں تو اسکا اثر نوکری پر بھی پڑتا ہے.ایسے میاں بیوی اگر روزانہ صبح و شام بسم اللہ الواسع جل جلالہ روزانہ ایک تسبیح پڑھاکریں توان میں محبت پیدا ہوجائے گی. زیادہ اور مضبوط محبت کے لئے انہیں نماز عشا ء کے بعدیا سونے سے پہلے یَاحَنَّانْ یَاحَلِیمْ ایک تسبیح پڑھنا چاہئے .یاد رکھیں وظائف پڑھنے سے مشکالات کم ہوتیں یا ختم ہوتی ہیں لیکن اس کا ثواب الگ سے ملتا ہے.انسان کا تعلق اللہ کریم سے جڑا رہتا ہے ، نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہا کیجئیے اور شئیر کیجئیے۔

قرآن حکیم

یوں تو قرآن کریم کا حرف حرف شفا اور معجزہ ہے مگر سورۃ یٰسین کو قرآن کا دل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ روایات میں ہے کہ سورۃ یٰسین حضور اکرم ﷺ پر ہجرت کے موقع پر نازل ہوئی۔ اس وقت آپؐ کے پیچھے کفار مکہ لگے ہوئے تھے اور آپؐ ان کے حصار میں آچکے تھے مگر سورۃ یٰسین کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو کفار کی آنکھوں سے اوجھل کر دیااور یوں آپؐ کفار کے حصار سےاللہ کے فضل و کرم کے ساتھ بحفاظت مدینہ کی جانب نکل جانے میں کامیاب ہو گئے۔ سورۃ یٰسین مشکلات اور پریشانیوں میں نہ صرف دل و دماغ کو پرسکون رکھتی ہے بلکہ اس کی برکت سے بڑی سے بڑی مشکل اور بلا بھی ٹل جاتی ہے۔

امام ناصر الدین ؒ سے متعلق روایات میں درج ہے کہ ایک مرتبہ امام ناصرالدینؒ بیمار ہوئے اور اس بیماری میں آپ کو مرض سکتہ ہو گیا، اعزاء و اقرباء نے آپ کو مردہ تصور کر کے دفن کر دیا، رات کے وقت آپ کو ہوش آیا، خود کو مدفون دیکھا، سخت متحیر ہوئے، اس حیرت و پریشانی و اضطراب میں آپ کو یاد آیا کہ جو شخص حالت پریشانی میں چالیس مرتبہ سورہ یسین پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اضطراب کو رفع کرتا ہے اور تنگی فراخی سے بدل جاتی ہے چنانچہ آپ نے سورہ یسین پڑھنی شروع کی، ابھی انتالیس مرتبہ پڑھ چکےتھے کہ ایک کفن چور نے کفن چرانے کی نیت سے آپ کی قبر کھودی، امام نے اپنی فراست سے معلوم کیا کہ یہ کفن چور ہے، چالیسویں مرتبہ آپ نے بہت دھیمی آواز سے پڑھنا شروع کیا کہ دوسرا شخص نہ سن سکے، ادھر آپ نے چالیسویں مرتبہ پورا کیا ادھر کفن چور بھی اپنا کام پورا کر چکا تھا۔کفن چور اس قدر ڈرا کہ اس کادل پھٹ گیا اور چل بسا، امام ناصرالدین ؒکو خیال ہوا کہ اگر میں فوراً شہر چلا جاؤں تو لوگوں کو سخت پریشانی و حیرت و ہیبت ہو گی، پس آپ رات کو ہی شہر میں گئےاور ہر محلہ کے دروازے کے آگے پکارتے تھے کہ میں ناصرالدین ہوں تم لوگوں نے مجھے سکتہ کی حالت میں دیکھ کر غلطی سے مردہ

تصور کیا اور دفن کر دیا، میں زندہ ہوں، اس واقعہ کے بعد امام ناصر الدین نے قرآن کریم کی تفسیر لکھی۔سورۃ یٰسین کے بے شمار فوائد ہیں اگر کسی شخص کو بیماری کے سبب کسی جسمانی عضو کے بیکار ہونے کا ڈر ہو توقرآن مجید کا دل کہلانے والیسورۃ یٰسین کو ہر روز صبح و شام تین مرتبہ پڑھ کر اس عضو پر دم کرے، اسی طرح تنہائی میں بیٹھ کر پڑھے تو دل خوشی محسوس کرے. سورج نکلنے سے پہلے سورۃ یٰسین پڑھے تو سستی و کاہلی دور وہو جاتی ہے ۔

ذیابیطس

سان ڈیاگو (نیوز ڈیسک) پیاز کا استعمال ہم عموماً کھانوں کو پرلطف بنانے کیلئے اور بطور سلاد کرتے ہیں مگر سائنسدانوں نے اس مزیدار سبزی کو ذیابیطس کے مریضوں کیلئے نہایت مفید قرار دے دیا ہے۔ نائیجیریا کی ڈیلٹا سینٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنی تازہ ترین تحقیق امریکہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں پیش کی ہے۔

اس تحقیق میں معلوم کیا گیا ہے کہ ذیابیطس کی دوا Metformin کے ساتھ پیاز کا ست استعمال کرنے سے خون میں موجود شوگر کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے جبکہ ذیابیطس کے مریضوں میں کولیسٹرول کا لیول بھی کم ہو جاتا ہے۔اس تحقیق میں کئے جانے والے تجربات میں پیاز سے حاصل کیا گیا خام ست استعمال کیا گیا تھا۔ تجربات میں 400 اور 600 ملی گرام فی کلوگرام فی یوم کی دو خوراکیں استعمال کی گئیں جن کے نتیجہ میں شوگر کے لیول میں 35 فیصد اور 50 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پیاز کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا مفید ہے۔ یہ ذیابیطس میں فائدہ مند ہے جبکہ صحت مند افراد میں میٹابولزم کو تیز کر کے بھوک بڑھاتا ہے۔

صبح سورج نکلنے سے پہلے ہی یہ سورہ پڑھ لیں

سورت الکوثر کا ایک ایسا مختصر عمل جس سے کاروباری روکاوٹ، بندش نکاح، محبت، خاتمہ بے روزگاری، نافرمان اولاد کو راہ راست کرنکے لئے لاجواب عمل ہے، کرکے آزمائیں اور فائدہ اٹھائیں، طریقہ عمل۔۔۔ نوچندی بدھ، یاجمعرات، جمعہ کی رات کو بعد نماز عشاء قبلہ رخ بیٹھ کر اول روز سورت الکوثر 921مرتبہ دوسرے روز 921مرتبہ اور آخری تیسرے دن 922مرتبہ پڑھ کر نمک اور کیسی میٹی چیز پر دم کر کے عمل ختم کرلیں، اب آپ سورت الکوثر کے عامل ہیں عمل قابو میں رکھنے کے لئے روزانہ 21مرتبہ پڑھا کریں، بوقت ضرورت 121مرتبہ سورت الکوثر پڑھ کر کسی چیزپر دم کر کے مطلوب کو کھلادیں۔

انشاءاللہ رزلٹ 100% ہوگا، نیز یہ عمل زبان دراز ساس، نند،ظالم شوہر کو راہ راست پر لانے کے لئے کیا ہی عجیب عمل ہیں، ایک روایت کے مطابق جب بندہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس کے جتنے گناہ ہیں سب بدن سے اتار کر ایک ڈھیر میں ڈال دو تاکہ جب تک یہ میرے حضور کھڑا رہے پاک اور ستھرا ہوکر کھڑا رہے۔بندہ نماز پڑھتا رہتا ہے اور گناہ ایک سمت ڈھیر میں جمع کردیئے جاتے ہیں۔ پھر جب وہ بندہ نماز پڑھ کر واپس جانے لگتا ہے تو فرشتے وہ گناہ پکڑ کر عرض کرتے ہیں، مالک یہ گناہ دوبارہ اس کے ساتھ ہی لگادیں؟ تو رب تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے: اب اترے تو اترے ہی رہنے دو، میرا بندہ ستھرا ہو کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔ اس روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ شخص واقعی کتنا بدنصیب ہے جس کو اپنے رب عزوجل کے حضور ایک سجدہ بھی نصیب نہ ہو۔آج اگر ہر مسلمان اپنی ذات کا موازنہ خود کرے تو ہم میں زیادہ تر افراد کا معمول یہ ہوتا ہے: فجر کا وقت سوتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔

ظہر اپنے کام کاج کی جگہ پر گزار دیتے ہیں عصر سستی میں گزار دیتے ہیں مغرب ہلے گلے میں اور عشاء تھکن کی وجہ سے گزار دیتے ہیںیہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ بعض لوگ نماز نہ پڑھنے کے باوجود بھی ندامت کا اظہار نہیں کرتے اور اپنے ذہن میں یہ خیال رکھتے ہیںکہ ہم نماز نہیں پڑھتے، لیکن اگر وہ حقیقت سے آشنا ہو تو انہیں پتا چلے گا کہ وہ کیا نماز نہیں پڑھتے بلکہ رب انہیں سجدے کی توفیق ہی عطا نہیں کرتا اگر یہ عمل ٹھیک رہا آپ کے ساتھ تو پلیز دوسروں کے ساتھ بھی شیئر ضرور کیجئے اس میں دوسروں کا بھی فائدہ ہوگا،۔اور شیئر لازمی کریں کسی اور کا بھی بھلا ہوجائے گا انشاءاللہ۔

زیرناف بال کاٹنے کا طریقہ

ہفتہ میں ایک بار ان حصّوں کے بالوں کی صفائی کرنی چاہیئے اور سب سے بہتر دن جمعہ کا ہے۔ ان بالوں کی صفائی میں 15 دن تک تاخیر جائز ہے اور 40 دن گزرنا گناہ ہے۔ بغل اور شرم گاہ کے بال کترانا فطری کاموں میں شامل ہیں۔ اور اسلام نے اسکی بہت تاکید کی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ:”یہ پانچ چیزیں انسان کی فطرت میں سے ہیں:

1۔ ختنہ 2۔ زیر ناف بال صاف کرنا 3۔ مونچوں کا کاٹنا 4۔ ناخن کاٹنا 55۔ بغل کے بالوں کی صفائی” نبی کریمﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ ہر ہفتے بالوں کی صفائی کرتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہے کہ “رسول اللہ ﷺ مونچوں کے کم کرنے، ناخن، بغل اور شرمگاہ کے بالوں کی صفائی کے 40 دن مقرر کئے ہیں کہ انکو اس سے زیادہ نہیں چھوڑنے۔”بغل کے بالوں کے متعلق حکم یہ ہے کہ ان کو نوچا جائے۔ اسطرح کرنے سے بغل سے بدبو نہیں آئے گی اور اچھی طرح صفائی ہو جاتی ہے۔ اگر کسی کو نوچنے میں دشواری ہو تو پھر کاٹا جائے۔ (آج کل نوچنے کیلئے برقی مشین ملتی ہے جس سے نوچنا بہت آسان ہوتا ہے)مرد کیلئے زیر ناف بال استرے یا بلیڈ سے صاف کرنا بہتر ہے۔ مونڈھتے وقت ابتدا ناف کے نیچھے سے کرے اور پاؤڈر کریم وغیرہ کوئی بال صفا چیز لگا کر زائل کرنا بھی جائز ہے اور عورت کیلئے سنت یہ ہے کہ کریم یا پاؤڈر وغیرہ سے بال ختم کرے، استرہ نہ لگائے۔

زیر ناف صفائی کی حدود:

زیر ناف کی صفائی کی حد مثانہ سے نیچے پیڑو کی ہڈی سے شروع ہوتی ہے، اسلیئے پیڑو کی ہڈی کے شروع سے لے کر مخصوص اعضا، انکے اردگر اور انکے برابر رانوں کے جوڑ تک اور پاخانہ خارج ہونے کی جگہ کے بال صاف کرنا واجب ہے۔

جمعہ کے نماز کے بعد کا خاص وظیفہ

جمہ کی نماز کے بعد کا خاص وظیفہ .یہ وظیفہ کرنے سے آپ کی مشکالات ختم
[popuppress id=”139″] میں ہر جمعہ کو غروبِ آفتاب سے قبل -جس کے بارے میں قبولیت کی گھڑی ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے- مسجد میں جان بوجھ کر داخل ہوتا ہوں، اور اللہ کیلئے دو رکعت نماز تحیۃ المسجد ادا کرتا ہوں؛ پھر دوسری رکعت کے آخری سجدہ کو غروب آفتاب تک لمبا کرتا ہوں، اور اس دوران سجدے کی حالت میں دعا ہی کرتا رہتا ہوں، یہاں تک کہ مغرب کی آذان ہوجاتی ہے؛ کیونکہ جمعہ کے دن آخری لمحات میں قبولیت کی گھڑی پانے کا اچھا موقع ہوتا ہے، اور قبولیت کے امکانات مزید روشن کرنے کیلئے میں سجدے میں دعا مانگتا ہوں، اور بسا اوقات اگر کسی سببی نماز کا وقت نہ ہو ، یا نفل نماز کیلئے ممنوعہ وقت ہو تو میں جان بوجھ کر ایسی سورت کی تلاوت کرتا ہوں جس میں سجدہ تلاوت ہو، تو تب بھی میں اتنا لمبا سجدہ کرتا ہوں کہ جمعہ کے دن مغرب کی آذان ہو جائے، ایک دن میں ایسے ہی کر رہا تھا کہ ایک آدمی نے آکر میرے ذہن میں اس عمل کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کردئیے، اور اس عمل کے بارے میں “بدعت” ہونے کا بھی عندیہ دے دیا۔ تو کیا میرا یہ عمل بدعت ہے؟ حالانکہ میری نیت یہی ہے کہ جمعہ کے دن آخری لمحات میں قبولیت کی گھڑی تلاش کی جائے، اور میں سجدے کی حالت میں اللہ سے دعا مانگوں، تو اس طرح قبولیت کیلئے دو امکانات ہونگے، اس عمل کیلئے میری نیت یہ ہی ہے کہ قبولیت کی گھڑی تلاش کروں۔
علمائے کرام نے جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کو متعین کرنے کیلئے متعدد اور مختلف آراء دی ہیں، ان تمام آراء میں دلائل کے اعتبار سے ٹھوس دو اقوال ہیں:

1- یہ گھڑی جمعہ کی آذان سے لیکر نماز مکمل ہونے تک ہے۔

2- عصر کے بعد سے لیکر سورج غروب ہونے تک ہے۔

ان دونوں اقوال کے بارے میں احادیث میں دلائل موجود ہیں، اور متعدد اہل علم بھی ان کے قائل ہیں۔

*الف- پہلے قول کی دلیل : ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی کے بارے میں کہتے ہوئے سنا: (یہ گھڑی امام کے بیٹھنے سے لیکر نماز مکمل ہونے تک ہے) مسلم: (853)

اس موقف کے قائلین کی تعداد بھی کافی ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:

“سلف صالحین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ان دونوں میں سے کونسا قول راجح ہے، چنانچہ بیہقی نے ابو الفضل احمد بن سلمہ نیشاپوری کے واسطے سے ذکر کیا کہ امام مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: “ابو موسی رضی اللہ عنہ کی حدیث اس مسئلہ کے بارے میں صحیح ترین اور بہترین ہے” اسی موقف کے امام بیہقی، ابن العربی، اور علمائے کرام کی جماعت قائل ہے۔

اور امام قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث اختلاف حل کرنے کیلئےواضح ترین نص ہے، چنانچہ کسی اور کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہئے۔

عورت کا دوسری عورت کے ساتھ

ہمارا یہ معاشرہ جس تیزی سے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ لیکن اس اخلاقی گراوٹ کے ذمہ دار کسی حد تک والدین اکرام بھی ہیں۔جو اپنے بچوں کو دنیا کی ایسی درسگاہوں میں داخل کرتے ہیں جو مکمل طور پر مغربی ماحول اور تعلیم سے رنگے ہوئے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً ہمارے معصوم بچوں کے ذہن اس کا شکار ہو جاتے ہیں

ٹارزن آدھا ننگا رھتا ھے،

سنڈریلا آدھی رات کو گھر آتی ہے،

پنوکیو ہر وقت جھوٹ بولتا ہے،

الہ دین چوروں کا بادشاہ ہے،

بیٹ مین 200 میل پر گھنٹہ ڈرائیو کرتا ہے،

رومیو اور جولیٹ محبت میں خود کشی کر لیتے ہیں،

ہیری پوٹر جادو کا استعمال کرتا ہے،

مکی اور منی محض دوستی سے بہت آگے ہیں،

(سلیپنگ بیوٹی )افسانوی کہانی جس میں شہزادی جادو کے اثر سے سوئی رہتی ہے ایک شہزادے کی kiss ہی اسے جگا سکتی ہے۔

ڈمبو شراب پیتا ہے، اور تصورات میں کھو جاتا ہے،

سکوبی ڈو ڈراؤنے خواب دیتا ہے،

اور سنو وائٹ 7 اشخاص کے ساتھ رہتی ہے،

تو ہمیں حیران نہیں ہونا چاہئے کہ بچے بدتمیزی کرتے ہیں، وہ یہ سب کہانیوں اور کارٹونز سے حاصل کرتے ہیں جو ہم انہیں مہیا کرتے ہیں،

اس کی بجائے ہمیں انہیں اس طرح کی کہانیاں پڑھانی چاھئیں،

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہ ختم ہونے والی خدمت اور وفاداری،

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بردباری اور عدل وانصاف سے پیار،

عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا شرم و حیا کا معیار،

علی رضی اللہ عنہ کی ہمت اور حوصلہ دکھائیں،

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی برائی سے لڑنے کی خواہش،

فاطمہ رضی اللہ عنہا کا اپنے والد کے لئے پیار اور ادب،

صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کی وعدہ کی ہوئی جگہ کے لئے فتح،

اور سب سے زیادہ ہمیں اللہ، قرآن کریم اور سنت سے پیار، محبت سے پڑھانا چاہئے، سب سے اہم پہلو یہی ہے،

اور پھر دیکھیں تبدیلی کیسے شروع ہوتی ہے! ان شاء اللہ

ہم اپنے دینی تقاضوں کو سمجھتے بھی ہیں لیکن دوسری طرف دنیاوی ترقی کے لئے ان باتوں کو ناگزیر بھی سمجھتے ہیں۔بدقسمتی سے ہم اس راہ پر گامزن ہیں جو مکمل تباہی کی طرف جاتا ہے۔

محترم والدین! اپنے بچوں کو بڑا آدمی بننے سے پہلے بڑا انسان بننے کی تعلیم دیجئے۔
آج آپ ان کی پرورش ٹھیک کریں گے تو کل کو نئی نسل آپ کو شرمندہ نہیں کرے گی۔ انشاء اللہ