قسمت کا ستارہ

پرانے زمانے کی بات ہے کہ بغداد میں ایک سوداگر رہا کرتا تھا جو بہت ہی دولت مند تھا لیکن اپنی دولت لٹا کروہ اتنا غریب ہوگیا تھا کہ محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالنے پر مجبور ہوگیا ۔ اپنے پچھلے وقت کی عیش و عشرت والی زندگی کو یاد کرکے وہ اکثر غمزدہ ہوجایا کرتا تھا۔ ایک رات وہ بہت ہی اداس اور غمزدہ حالت میں سویا تو اس نے خواب دیکھا کہ ایک بزرگ اس سے کہہ رہے ہیں کہ تمہاری قسمت کا ستارہ مصر کے شہر قاہرہ میں جگمگا رہا ہے۔

وہاں جاﺅ اور اسے تلاش کرو دوسرے دن صبح جب وہ بیدار ہوا تو اسے خواب والے بزرگ کی بات یاد آئی ، اس نے فوراَ قاہرہ جانے کی تیاری کی اور قاہرہ کیلئے روانہ ہوگیا ۔ کئی ہفتوں کی تکلیف اور مشقت اٹھاکر وہ اس شہر میں پہنچ گیا رات ہوچکی تھی اور اس کے پاس کسی سرائے میں قیام کے لئے کوئی رقم موجود نہ تھی۔ لہٰذا وہ ایک مسجد میں گیا اور اس کے صحن میں ایک کونے میں جاکر سوگیا۔

اتفاق سے چوروں کا ایک گروہ مسجد کے صحن میں آیا اور چوری کے ارادے سے مسجد کے برابر والے مکان میں داخل ہوا ہی تھا کہ کسی آہٹ کی وجہ سے مکان میں رہنے والے افراد جاگ گئے اور مدد کے لئے پکارنے لگے۔ چوروں نے جب یہ چیخ و پکار سنی تو گھبراکر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ تھوڑی ہی دیر میں علاقے کا داروغہ اپنے سپاہیوں کے ہمراہ وہاں پہنچا ۔ جب یہ سپاہی مسجد کے صحن میں پہنچے تو یہ سوداگر انھیں صحن میں سویا ہوا نظر آیا لہٰذا سپاہیوں نے اسے پکڑلیا اور چور سمجھ کر اس کی خوب پٹائی کی اور اس کو قید خانے میں بند کردیا۔ تین چار دن کے بعد داروغہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس اجنبی کو پیش کریں۔ جب یہ سوداگرپیش کیا گیا تو داروغہ نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو ؟ سوداگر نے جواب دیا ، میں بغداد سے آیا ہوں ، داروغہ نے سوال کیا، تم بغداد سے قاہرہ کس لئے آئے ہو؟سوداگر نے جواب دیا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس میں ایک بزرگ مجھ سے کہہ رہے تھے ”تمہاری قسمت کا ستارہ قاہرہ میں جگمگا رہا ہے۔ وہاں جاﺅ اور اسے تلاش کرو“۔

میں اسی کی تلاش میں یہاں آیا تھا لیکن آپ کے سپاہیوں نے مجھے پکڑ لیا اور میری پٹائی کردی۔ داروغہ نے جب یہ داستان سنی تو بہت ہی ہنسا اور کہنے لگااے بے وقوف انسان میں نے بھی کئی مرتبہ خواب میں کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بغداد جاﺅ اور پتھریلی گلی کے فلاں مکان میں ایک صحن ہے جس کے آخر میں ایک باغ ہے جہاں پر ایک فوارہ ہے اس کے حوض کے نیچے بہت سا خزانہ دفن ہے۔ لہٰذا وہاں جاﺅ اور اسے کھود کر نکال لو۔ کیا میں بغداد گیا ؟ ایک تم بے وقوف ہو جو اتنی دور سے یہاں قاہرہ چلے آئے اور صرف ایک خواب دیکھ کر ۔داروغہ نے اس سوداگر کو کچھ رقم دی اور کہا یہ رقم لو اور اپنے گھر واپس جاﺅ۔قاہرہ کے داروغہ نے سوداگر کو جس مکان کے بارے میں بتایا تھا وہ دراصل اس سوداگر کا اپنا مکان تھا ۔ داروغہ کی ساری باتیں سن کر سوداگر سارے معاملے کی تہہ تک پہنچ چکا تھا وہ فوراَ واپس بغداد اپنے گھر پہنچا اس نے باغ میں فوارے کے نیچے کھودنا شروع کردیا ابھی تھوڑی ہی زمیں کھودی تھی کہ اسے وہاں سے ایک بہت ہی بڑا خزانہ مل گیا۔ اس طرح اس کا خواب حیرت انگیز طور پر سچ ثابت ہوگیا اور وہ دوبارہ پھر سے مالا مال ہوگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *