سورۃ الکوثر کا ایک ایسا مختصر عمل۔۔

سورت الکوثر کا ایک ایسا مختصر عمل جس سے کاروباری روکاوٹ، بندش نکاح، محبت، خاتمہ بے روزگاری، نافرمان اولاد کو راہ راست کرنکے لئے لاجواب عمل ہے، کرکے آزمائیں اور فائدہ اٹھائیں،
طریقہ عمل۔۔۔ نوچندی بدھ، یاجمعرات، جمعہ کی رات کو بعد نماز عشاء قبلہ رخ بیٹھ کر اول روز سورت الکوثر 921مرتبہ دوسرے روز 921مرتبہ اور آخری تیسرے دن 922مرتبہ پڑھ کر نمک اور کیسی میٹی چیز پر دم کر کے عمل ختم کرلیں، اب آپ سورت الکوثر کے عامل ہیں
عمل قابو میں رکھنے کے لئے روزانہ 121مرتبہ پڑھا کریں، بوقت ضرورت 121مرتبہ سورت الکوثر پڑھ کر کسی چیزپر دم کر کے مطلوب کو کھلادیں، انشاءاللہ رزلٹ 100%ہوگا، نیز یہ عمل زبان دراز ساس، نند،ظالم شوہر کو راہ راست پر لانے کے لئے کیا ہی عجیب عمل ہیں،

ایک روایت کے مطابق جب بندہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس کے جتنے گناہ ہیں سب بدن سے اتار کر ایک ڈھیر میں ڈال دو تاکہ جب تک یہ میرے حضور کھڑا رہے پاک اور ستھرا ہوکر کھڑا رہے۔بندہ نماز پڑھتا رہتا ہے اور گناہ ایک سمت ڈھیر میں جمع کردیئے جاتے ہیں۔ پھر جب وہ بندہ نماز پڑھ کر واپس جانے لگتا ہے تو فرشتے وہ گناہ پکڑ کر عرض کرتے ہیں، مالک یہ گناہ دوبارہ اس کے ساتھ ہی لگادیں؟ تو رب تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے: اب اترے تو اترے ہی رہنے دو، میرا بندہ ستھرا ہو کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔ اس روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ شخص واقعی کتنا بدنصیب ہے جس کو اپنے رب عزوجل کے حضور ایک سجدہ بھی نصیب نہ ہو۔آج اگر ہر مسلمان اپنی ذات کا موازنہ خود کرے تو ہم میں زیادہ تر افراد کا معمول یہ ہوتا ہے:٭ فجر کا وقت سوتے ہوئے گزار دیتے ہیں٭ ظہر اپنے کام کاج کی جگہ پر گزار دیتے ہیں٭ عصر سستی میں گزار دیتے ہیں٭ مغرب ہلے گلے میں اور٭ عشاء تھکن کی وجہ سے گزار دیتے ہیںیہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ بعض لوگ نماز نہ پڑھنے کے باوجود بھی ندامت کا اظہار نہیں کرتے اور اپنے ذہن میں یہ خیال رکھتے ہیںکہ ہم نماز نہیں پڑھتے، لیکن اگر وہ حقیقت سے آشنا ہو تو انہیں پتا چلے گا کہ وہ کیا نماز نہیں پڑھتے بلکہ رب انہیں سجدے کی توفیق ہی عطا نہیں کرتا۔

قیامت کے دن سب سے پہلا سوال بھی نماز کا ہی ہوگا۔ اس لئے اگر آپ بھی اپنے پچھلے تمام گناہوں کیبہتر تو یہ ہے کہ انسان دوسروں کی ذات میں ہنر اور خوبیاں تلاش کرے اور عیب اپنی ذات میں دیکھے۔ یاد رکھو کہ دنیا میں اچھائیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی۔ جس طرح گلزار میں پھول بھی ہوتے ہیں اور خار بھی۔ جس کا دل میلا ہو اسے ہر چیز میلی نظر آتی ہے۔ جس کا دل روشن ہو اسے ہر چیز روشن نظر آتی ہے۔شیخ سعدیؒ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ بے عیب ذات صرف اللہ عزوجل ہی کی ہے۔پس دوسروں کی ذات میں عیب تلاش کرنے سے بہتر ہے کہ اپنی ذات میں موجود عیبوں پر نگاہ دوڑائی جائے اور ان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *