بچوں کے بلوغت کی عمر

بچے جب بلوغت میں داخل ہوں تو والدین ان کی تربیت کیسے کریں ؟ اگر آپ نے اس حساس موضوع کو نظر انداز کیا تو بچے بے راہ روی کا شکار ہو سکتے ہیں بچے جب بلوغت میں داخل ہوں تو والدین ان کی تربیت کیسے کریں ؟ اگر آپ نے اس حساس موضوع کو نظر انداز کیا تو بچے بے راہ روی کا شکار ہو سکتے ہیں ہم سب اس الجھن کا شکار ہیں کہ بچوں اور نوجوانوں کو جنسی تعلیم دینی چاہیے یا نہیں. اس موضوع پر اب الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے ہو رہے ہیں مگر ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے. یہ بات طے ہے کہ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور سیکولر و لبرل طبقہ ہمارے بچوں کی اس معاملے میں جس قسم کی تربیت کرنا چاہتا ہے یا کر رہا ہے۔

وہ ہر باحیا مسلمان کے لیے ناقابل قبول ہے. مگر یہ بھی ضروری ہے کہ نوعمر یا بلوغت کے قریب پہنچنے والے بچوں اور بچیوں کو اپنے وجود میں ہونے والی تبدیلیوں اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا جائے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر سے بچوں کو اس چیز کی مناسب تعلیم نہ ملے تو وہ باہر سے لیں گے جو کہ گمراہی اور فتنہ کا باعث بنے گا چند فی صد لبرل مسلمانوں کو چھوڑ کر ہمارے گھروں کے بزرگوں کی اکثریت آج کی نوجوان نسل میں بڑھتی بے راہ روی سے پریشان ہے. وہ لوگ جو اپنے گھرانوں کے بچوں کے کردار کی بہترین تربیت کے خواہشمند ہیں، انکی خدمت میں کچھ گزارشات ہیں جن سے ان شاءاللہ ان کے بچوں میں پاکیزگی پیدا ہوگی ۔جاری ہے ۔ وقت گزرتا گیا۔ اولاد کی تعلیم مکمل ہوئی۔ تین بیٹیوں کی شادی بیرون ملک کردی جبکہ ایک بیٹی کی شادی پاکستان میں ایک جج سے کردی۔ ایک بیٹے کو اچھی ملازمت دلوائی، دو بیٹوں کو کاروبار میں شامل کیا۔ انہیں بھی حلال اور حرام محنت کے گُر سکھائے اور خود مطمئن ہو کر گھر بیٹھ گئے۔

اب تک سب کچھ سردار صاحب کی مرضی اور سوچ کے مطابق چل رہا تھا لیکن اب وقت بدلنے کا موسم شروع ہونے والا تھا۔ سردار صاحب نے جو مال جمع کیا تھا اس کا حساب دینے کا وقت آ گیا تھا۔ حرام محنت کے بوئے ہوئے بیجوں نے پھل دینا شروع کردیا تھا۔ لہذا وقت نے کروٹ لی اور دو بیٹوں کا جائیداد اور کاروبار کی تقسیم پر جھگڑا شروع ہو گیا۔ اختلافات عروج پر پہنچے اور ایک بیٹے نے دوسرے بیٹے کو لاہور کے مشہور چوک میں گولی مار کر قتل کر دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *