حضورﷺ کا صحابہ کو بتایا ہوا طاقتور وظیفہ

میں آپ سے ایسی بات شئیرکرناچاہتا ہوں جس کی مجھے بھی ظرورت ہے ہرکلمہ گو کو بھی ظرورت ہے جس نے اللہ اوراللہ کے رسول ﷺ پر ایمان لایا اس کے لئے ظروری ہے کہ ان کے حکموں کا بھی پابند رہے اللہ کے حکم کومانے اس کےاوپرعمل کرے محمد ﷺ کے ہرطریقے کوہرادا کودل کی گہرائیوں سے محبت کے ساتھ تسلیم کرے۔ حضوراکرمﷺ کے پاس صحابہ بھی جاتے تھے پریشانیوں کو بھی لے کرجاتے تھے معاملات کے حل کے لئے بھی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے مسائل پوچھنے کےلئے بھی جاتے تھے اورزندگی گزارنے کے طریقے معلوم کرتے تھے تو آپ ﷺ نے ایک غریب آدمی سے لے کر بادشاہ تک ہرآدمی کے زندگی گزارنے کے طریقے بتائے کوئی آدمی جاتا کہ ہمارے گھر کے اندررزق کی تنگی ہے۔

کاروبار نہیں ہے پریشان ہیں توآپ ﷺ کیا بتاتے فرمایا کرتے تھے سورہ واقعہ پڑھ لیا کرو یہ سورہ واقعہ ستائیسویں سپارے کہ اندر ہے۔ اورپھریہ کہتے تھے کہ میرا دل چاہتا ہے میرے ہرامتی کے سینے کے اندر یہ سورہ محفوظ ہوجائے اوربہت سارے صحابہ کے واقع بھی ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بہت جليل القدر صحابی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ اپنے دورے خلافت میں ان کا جو مہانہ معاوضہ تھا ان کی جو تنخواہ تھی وہ روک دی اوردل میں سوچا کہ وہ میرے پاس آئیں گے اور آ کے میرے پاس مطالبہ کریں گے کہ میرے کام کا معاوضہ کیوں نہیں دیاجب انہیں پتہ چلا کہ فارق اعظم رضی اللہ عنہ نے میرا مہینہ کا معاوضہ روک دیا ہے بند کردیا ہے فوراً اپنے گھرگئے جا کر بچیوں سے کہا کہ آج کے بعد تم سب نے سورہ واقعہ پڑھنی ہے انہوں نے پڑھنی شروع کردی چھ مہینے گزرگئے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ انتظار کررہے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائیں گے اورآ کر مجھے کہیں گے کہ آپ نے میرا معاوضہ کیوں روکا وہ گئے نہیں اورآخر کارفاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو خود بلانا پرا اور بلایا اورپوچھا کیا آپ نے اپنے لیے کوئی اسٹاک جمع کر کے رکھا تھا چھ مہینے ہوگئے آپ نے کوئی رابطہ ہی نہیں کیا میرے ساتھ توانہوں نے فرمایا جیسے ہی مجھے پتہ چلا کہ آپ نے میری تنخواہ بند کردی تو میں نے گھر میں بچیوں سے جا کر بتایا کہ یہ حضورنبی اکرم ﷺ کا بتایا ہواعمل ہے کوئی معمولی چیز نہیں سورہ واقعہ پڑھو اللہ اس کی برقت سے مجھے روزے دے رہے ہیں تم نے اپنا دروازا بند کیا لیکن اللہ نے تو نہیں بند کیا وہ دروازا توکھلا ہے توآپ گھر کے اندر تمام افراد مل کر جو بھی قرآن پاک پڑھا ہوا ہے سورہ واقعہ رات کو پڑھ لیا کریں آپ مغرب کے بعد پڑھ لیں عشاء کے بعد پڑھ لے رات کو سونے سے پہلے پڑھ لیں آپ یہ معمول بنا لیں گے تو انشاء اللہ تعالی آپ کے گھروں کے اندر رزق کی تنگی کبھی بھی نہیں ہوگی اوردوسری بات یہ سمجھے جو بات آدمی کہتا ہے اس بات پراس کا عمل ہوتواس کا فائدہ بھی زیادہ ہے ایک تو قرآن پاک پڑھنے کا ثواب وہ تو مستقل ہے ہی ہے۔

دس گناہ معاف ہوتے ہیں دس درجات بلند ہوتے ہیں اورنام اعمال میں دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اوراس کے ساتھ ساتھ اللہ دنیا کی پریشانی کو بھی دورکردیتے ہیں آپ اپنے بچوں سے بھی کہیں اس سورہ کو پڑھنے کے لئے اور خود بھی پڑھیں یہ نہیں کے گھر میں صرف ایک آدمی ہی پڑھ رہا ہے سارے پڑھیں اگرایک آدمی پڑھے گا تواس کا بھی فائدہ ہے لیکن اگر سارے گھر کے پڑھیں گے تواس کا اورفائدہ بڑھ جائے گا اس لئے اس وظیفہ پراس لئے عمل کریں کہ یہ وظیفہ ہمارے پیارے بھیﷺ کا بتایا ہوا ہے عام آدمی کا بتایا ہوا نہیں ہے اورمیں آمید کرتا ہوں آپ سب اس پرعمل کو ظرورکریں گے اوراس وظیفہ کوزیادہ سے زیادہ شئیربھی کریں گے جوجو بھی آپ کی یہ بات سن کرعمل کریں گے ان کا بھی فائدہ ہوگا اورآپ کا بھی فائدہ ہوگا انسان لالچی ہے دنیا کے فائدے کے لئے تولالچ کرتا ہے آخرت کے فائدے کے لئے لالچ کرو جو فائدہ ہمیشہ کے لئے ہے دنیا میں کچھ مل بھی گیا توعارضی کے لئے ہے اس لیے یہی اللہ تعالی سے مانگیں کہ اللہ دنیا میں بھی اپنی نعمتوں سے سرفرازفرما اورآخرت کی نعمتوں سے بھی مالامال فرما۔

رات کو سونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا یہ اسم مبارک پڑھ لیں

انسان کی زندگی میں اتار چڑھائو آتے رہتے ہیں ، اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھنا مسلمان کیلئے ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کی دنیا میں آزمائش کیلئے اس کے سامنے کئی امتحان رکھے وہیں ان امتحانات سے سرخرو ہونے کا طریقہ بھی بتایا۔ بیماری ہو یا کوئی اور مسئلہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی فرمائی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ نے دنیا میں کوئی ایسا مرض نہیں اتارا جس کا علاج نہ اس کے ساتھ پیدا فرمایا ہو سوائے مرض الموت کے ہر مرض کی شفا رکھ دی گئی ہے۔ ہماری روز مرہ میں اتار چڑھائو معمول کا حصہ ہیں۔ معاشی پریشانیاں بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو آزمانے کا سبب ہیں تاکہ بندہ اللہ کی ہر حالت میں شکر گزاری کا عادی ہو اور اچھے اور برے دونوں حالات کو رب کی طرف سے سمجھ کر شکر ادا کرے۔اللہ تعالیٰ کے 99اسم مبارک ہیں ۔ ہر اسم مبارک اپنے اندر الگ تاثیر کا حامل ہے۔

اسلم مبارکہ کے وظائف جہاں روحانی معاملات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں وہیں دنیاوی مشکلات سے بھی چھٹکارا دلانے کا باعث ہیں۔ گھریلو اور کاروباری زندگی میں اتار چڑھائو آنے کی صورت میں نماز عشا کے بعد اول و آخر درود شریف کے ساتھ تین سو تین بار ’’یا مجیب یا وہاب‘‘پڑھیں اور بعد از تسبیح اسم مبارکہ اللہ سے نہایت خلوص اور درمندانہ اندازمیں اپنی مشکلات دور اور حاجات پوری فرمانے کی دعا کریں انشااللہ آپ کی دعا اللہ تعالیٰ کےہاں مقبول ٹھہرے گی۔نوٹ: وظیفے کیلئے ہی صرف نماز نہ پڑھیں بلکہ پنج گانہ نماز کو اپنی عادت بنائیں۔ حضرت علیؓ کا قول مبارک ہے کہ جب میری خواہش ہوتی ہے کہ میں اپنے رب سے گفتگو کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں اور جب میری یہ خواہش ہوتی ہے کہ میرا رب مجھ سے گفتگو فرمائے تو میں تب بھی نماز پڑھتا ہوں۔ حدیث شریف کا مفہوم ہےکہ ایککافر اور مسلمان میں فرق صرف نماز کا ہے۔ نماز نہ صرف خود ادا کریں بلکہ گھر میں خواتین اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کریں۔ نمازنہ صرف ذہنی، قلبی سکون کا باعث ہے بلکہ گھر کے ماحول کو بھی پرسکون اور رحمتوں کے نزول کا باعث بنتی ہے انسان کی زندگی میں اتار چڑھائو آتے رہتے ہیں ، اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھنا مسلمان کیلئے ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کی دنیا میں آزمائش کیلئے اس کے سامنے کئی امتحان رکھے وہیں ان امتحانات سے سرخرو ہونے کا طریقہ بھی بتایا۔

بیماری ہو یا کوئی اور مسئلہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی فرمائی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ نے دنیا میں کوئی ایسا مرض نہیں اتارا جس کا علاج نہ اس کے ساتھ پیدا فرمایا ہو سوائے مرض الموت کے ہر مرض کی شفا رکھ دی گئی ہے۔ ہماری روز مرہ میں اتار چڑھائو معمول کا حصہ ہیں۔ معاشی پریشانیاں بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو آزمانے کا سبب ہیں تاکہ بندہ اللہ کی ہر حالت میں شکر گزاری کا عادی ہو اور اچھے اور برے دونوں حالات کو رب کی طرف سے سمجھ کر شکر ادا کرے۔اللہ تعالیٰ کے 99اسم مبارک ہیں ۔ ہر اسم مبارک اپنے اندر الگ تاثیر کا حامل ہے۔اسلم مبارکہ کے وظائف جہاں روحانی معاملات میں مددگار ثابت ہوتے ہیں وہیں دنیاوی مشکلات سے بھی چھٹکارا دلانے کا باعث ہیں۔ گھریلو اور کاروباری زندگی میں اتار چڑھائو آنے کی صورت میں نماز عشا کے بعد اول و آخر درود شریف کے ساتھ تین سو تین بار ’’یا مجیب یا وہاب‘‘پڑھیں اور بعد از تسبیح اسم مبارکہ اللہ سے نہایت خلوص اور درمندانہ اندازمیں اپنی مشکلات دور اور حاجات پوری فرمانے کی دعا کریں انشااللہ آپ کی دعا اللہ تعالیٰ کےہاں مقبول ٹھہرے گی۔نوٹ: وظیفے کیلئے ہی صرف نماز نہ پڑھیں بلکہ پنج گانہ نماز کو اپنی عادت بنائیں۔

حضرت علیؓ کا قول مبارک ہے کہ جب میری خواہش ہوتی ہے کہ میں اپنے رب سے گفتگو کروں تو میں نماز پڑھتا ہوں اور جب میری یہ خواہش ہوتی ہے کہ میرا رب مجھ سے گفتگو فرمائے تو میں تب بھی نماز پڑھتا ہوں۔ حدیث شریف کا مفہوم ہےکہ ایککافر اور مسلمان میں فرق صرف نماز کا ہے۔ نماز نہ صرف خود ادا کریں بلکہ گھر میں خواتین اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کریں۔ نمازنہ صرف ذہنی، قلبی سکون کا باعث ہے بلکہ گھر کے ماحول کو بھی پرسکون اور رحمتوں کے نزول کا باعث بنتی ہے۔

زنا ایک قرض ہے

ایک بادشاہ کے سامنے کسی عالم نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ زانی کے عمل کا قرض اس کی اولاد یا اس کے اہل خانہ میں سے کسی نہ کسی کو چکانا پڑتا ہے اس بادشاہ نے سوچا کہ میں اس کا تجربہ کرتاہوں اس کی بیٹی حسن و جمال میں بے مثال تھی اس نے شہزادی کو بلا کر کہا کہ عام سادہ کپڑا پہن کر اکیلی بازار میں جاؤ اپنے چہرے کو کھلا رکهو اور لوگ تمہارے ساتھ جو معاملہ کریں وہ ہوبہو آکر مجھے بتاؤ شہزای نے بازار کا چکر لگا یا مگر جو غیر محرم شخص اس کی طرف دیکهتا وہ شرم و حیا سے نگاہیں جھکا لیتا کسی مرد نے اس شہزادی کے حسن و جمال کی طرف دھیان ہی نہیں دیا سارے شہر کا چکر لگا

کر جب شہزادی اپنے محل میں داخل ہو میں داخل ہو نے لگی تو راہداری میں کسی ملازم نے محل کی خادمہ سمجھ کر روکا گلے لگا یا بوسہ لیا اور بهاگ گیا شہزادی نے بادشاہ کو سارا قصہ سنایا تو بادشاہ روپڑا اور کہنے لگا کہ میں نے ساری زندگی غیر محرم سے اپنی نگاہوں کی حفاظت کی ہے البتہ ایک مرتبہ میں غلطی کر بیٹها اور ایک غیر محرم لڑکی کو گلے لگا کر اس کا بوسہ لیا تھا میرے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو میں نے اپنے ہاتھوں سے کیا تھا. سچ ہے کہ زنا ایک قصاص والا عمل ہے جس کا بدلہ اداہوکر رہتا ہے. ( تفسیر روح المعاني )ہمیں اس واقعے سے عبرت حاصل کرنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ ہماری کوتاہی کا بدلہ ہماری اولادیں چکاتی پھریں جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے گھر کی عورتیں پاکدامن بن کر رہیں اسے چاہئے کہ وہ غیر محرم عورتوں سے بے طمع ہوجائے اسی طرح جو عورتیں چاہتی ہیں کہ ہمارے خاوند نیکو کاری کی زندگی گذاریں بے حیائی والے کاموں کو چھوڑ دیں انہیں چاہئے کہ وہ غیر محرم مردوں کی طرف نظر اٹهانا بهی چھوڑ دیں تا کہ “پاکدامنی کا بدلہ پاکدامنی” کی صورت میں مل جائے..

.رہ گئی بات کہ اگر کسی نے پہلے یہ کبیرہ گناہ کیا ہے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہے سچی توبہ کے ذریعے اپنے رب کو منائیں تاکہ دنیا میں قصاص سے بچ جائیں اور آخرت میں ذلت و رسوائی سے چھٹکارا پائیں… اللہ ہمیں شرم و حیا کی دولت سے مالا مال فرمائے آمیندن

اے ابن آدم ایک تیری چاہت ہےاور ایک میری چاہت ہے اور ہو گا وہی جو میری چاہت ہے

نشاء کی منگنی ٹوٹ گئی.. کیونکہ یہ حسان کی پسند سے ہوئی تھی. ماں نے وقتی طور پہ بیٹے کو چپ کرانے کیلئے رشتہ کر دیا یہ سوچ کر کہ جلدی خمار اتر جاۓ گا مگر جب شادی کا وقت قریب آیا تو جواب دے دیا.

دونوں طرف آگ برابر لگی ہوئی تھی نشاء اپنے حواس کھو رہی تھی سب نے سمجھا یا کہ اس میں کوئی بہتری ہو گی تمہارے نصیب کسی اچھی جگہ لکھے ہوں گے مگر وہ کم عقل اپنا نصیبہ خود لکھنے چلی تھی.رات کے اندھیرے میں حسان کے ساتھ گھر کی دہلیز پار گئی اور جنم دینے والوں کے نصیب میں رسوائی لکھ گئی.

دونوں بہت خوش تھے حسان اسے اپنے فلیٹ میں لے گیا اور وہ دوستوں کے ساتھ مل کر شادی کی تیاریاں کرنے لگے نشاء اپنی پسند سے ساری شاپنگ کر رہی تھی لہنگا پیک کرا کے وہ اپنے فیورٹ ریسٹورنٹ میں لنچ کر رہے تھے کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور افراتفری پھیل گئی… ہوش آنے پہ نشاء کو مژدہ ملا کہ بمب دھماکے میں وہ اپنے محبوب جس کیلئے اس نے والدین اور اپنے رب کی نافرمانی کی اسے… اور اپنی ایک ٹانگ کھو چکی ہے.

دارالامان میں زندگی کے دن پورے کرتے ہوئئ پہلی دفعہ اس آیت کا مفہوم اس پہ واضح ہوا…

“اے ابن آدم ایک تیری چاہت ہےاور ایک میری چاہت ہے اور ہو گا وہی جو میری چاہت ہے اور میں تھکا دوں گا تجھے اس میں جو تیری چاہت ہے…”

میرا دل بدل دے

دیکھو عائشہ بیگم میں آخری موقع دے رہا ہوں تمہیں اگر اس بار بھی لڑکی پیدا ہوئ نہ تو میں دوسری شادی کر لوں گا اور دس سال ہو گئے بیٹے کا منہ نہی دیکھا ہر بار بیٹے کی آس میں بیٹی بس اب مجھ سے اور صبر نہی ہوتا اسے آخری موقع سمجھو مجھے تو لگتا ہے تم بیٹا پیدا کر ہی نہی سکتی
کمرے مین تینوں بیٹیاں مولوی عبدالحق کی باتیں سن کر تھر تھر کانپ رہی تھئین باپ کا بے جا غصہ اور ماں کی بے بسی دیکھ کر بڑی بیٹی بسمہ سے رہا نہ گیا اور وہ باپ کے سامنے ا گئی

ابا اپ نے وہ حدیث نہی سنی ہمارے پیارے نبی ص نے فرمایا جس نے اپنی تین بیٹیون کی اچھی پرورش کی تو وہ جنت میں میرے ساتھ یوں ہو گا بسمہ نے اپنی شہادت اور ساتھ والی انگلی جوڑ کر دکھائ اپ تو خوش نصیب ہیں کہ بیٹیاں آپ کی جنت کا زریعہ بن رہی ہین
بس بس میرے سامنے زبان نہ کھولو ا س لئےنہی پڑھایا کہ باپ کہ اگے زبان چلاو اور زور دار طمانچہ اسکے پھول سے گالوں پہ جڑ دیا ا یہ میرا اٹل فیصلہ ہے اس بار بھی بیٹی ہوئ تو میں اپنا حق استمال کروں گا یہ اسی عورت کی نحوست ہے جو اولاد نرینہ نہی ہو رہی مولوی عبدالحق غصے سے تنتناتے ظہر کی نماز کے لئے چل دئے
اور بسمہ ماں سے کہنے لگی ماں کیا سارے واعظ لوگوں کے لئے ہین ابا مولوی ہو کر اپکو دوش دے رہے ہین کیا وہ نہی جانتے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہی ہلتا وہ تو بچوں کو قرآن پڑھاتے ہیں جانتے ہیں سپ کا قصور نہی پھر کیوں اپ کے ساتھ یہ سلوک روا رکھتے ہین بسمہ کے ساتھ تسمیعہ بھی رونے لگی بابا نے تو کبھی ہمین بھی پیار نہی کئاجیسے اس دنیا میں ہم اپنی مرضی سے ائے ہیں ثناء جو کب سے خاموش بیٹھی تھی کہنے لگی اور ہمارے نبی ص کا فرمان ہیں تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں سے بہترین سلوک کرے تو کیا بابا کو نہی معلوم وہ اپنی رعیت سے کیا کر رہے ہین

اج جمعہ تھا مولوی صاھب گھر سے تیار ہو کر مسجد گئے تو خطبہ شروع ہو چکا تھا امام صاحب کی آواز جیسے کہیں دور سے آ رہی تھی عبدالحق کے سامنے بسمہ کا آنسووں میں تر چہرہ آ رہا تھا جو نبی کی حدیث بتا رہی تھی کہ باپ ک غصہ ٹھنڈا ہو
نبی ص کا فرمان ہے جس کی تین بیٹیاں ہون اور وہ انکی اچھی پرورش کرے وہ جنت میں میرے ساتھ ایسے ہو گا عبدالحق کی نگاہ منبر پہ بیٹھے امام کی طرف گئیں جس نے اپنی شہادت اور ساتھ والی انگلی ملا رکھی تھی خبردار آئندہ میرے آگے زبان چلائ انہں بسمہ سے کہے الفاظ یاد رہے تھے اور انسو ان کی داڑھی بھگو رہے تھے ہچکیون کی آوزیں سنکر سب لوگ حیرانی سے انکی طرف دیکھ رہے تھے لیکن وہ کسی اور ہی دنیا میں تھے
گھر واپسی پہ مولوی صاھب کی دل کی دنیا بدل چکی تھی وہ سر جھکائے گھر مین داخل ہوئے اور سب کو سلام کیا بہت شفقت سے بیٹیوں کی طرف دیکھا اور پھلوں کا شاپر ان کی طرف بڑھایا تینوں بیٹیان باپ کا بدلا بدلا روپ دیکھ رہی تھین کمرے کا منظر انہیں حیران کر رہا تھا عبدالحق صاھب اپنی زوجہ کی دلجوئ کر رہے تھے اور انکی حالت ایسی تھی جیسے کوئ خواب دیکھ رہی ہون مجھے معاف کر دو عائشہ میں غفلت میں تھا مجھ بدنصیب پہ اللہ نے اپنی رحمت بیٹیوں کے روپ مین کی اور میں انہی سے منہ موڑے بیٹھا تھا مین اپنی نبی کی سیرت کو بھلا بیٹھا جن کے دل کا ٹکڑا ان کی بیٹی فاطمہ تھی اور تمہیں مورد الزام ٹھہراتا رہا تم اور بچیاں مجھے معاف کر دو اور بسمہ میرے بچے تو نے میری آنکھیں کھول دین پہلی دفعہ تینوں بچیاں بغیر خوف کے باپ کے پاس کھڑی تھیں عبدالحق نے تینون بیٹیوں اور بیوی کو خود سے لپیٹ لئا شوھر اور ب اپ کی آغوش مین اج انہین پہلی دفعہ محبت اور تحفظ کا احساس ہوا اور انہیں اپنے نبی ص پہ پیار ایا جنہوں نے اتنا پیارا دین انہیں دیا

جعلی پیر کی غضب کہانی

اک پیر جی تھے وہ ہر ہفتہ اپنے مرید کے پاس بھتہ کھانے جاتے تھے۔ مریدنی کو یہ برا لگتا تھا اک دن مریدنی نے اپنے شوہر سے کہا کہ آپ کا پیر کیسا ہے آذان ہوجاتی ہے مگر پیر جی کو پیٹ سے ہی فرصت نہیں ملتی کبھی ان سے پوچھو کی نماز بھی پڑھتے ہو؟؟ مرید صاحب کو یہ بات معقول لگی اور پیر جی سے جا کر کہہ دیا۔ پیر جی نے گہرا سانس لیا اور گویا ہوئے کہ صاحب اس ملک میں ھمارے جوڑ کا کوئی نہیں اس لئے ھم ادھر نماز نہیں پڑھتے ھم مدینہ ہیں بسس تو مرید نے کہا کہ میں تو سمجھ سکتا ہوں مگر میری بیوی نہیں مانے گی۔ پیر جی نے کہا کہ اس کو کہو کہ میں باہر سے

بےنمازی ہوں اندر سے نمازی ہوں۔ سارا دن ذکر کرتا رہتا ہوں مریدنی کو یہ جواب کچھ عجیب سا لگا مگر کچھ کہہ نا سکی۔ ادھر پیر جی کے دنوں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی پیر جی نے مریدنی کے دل کو موہ لینے کیلئے اک منصوبہ بنایا کچھ مریدوں کو کہا کہ تم یہاں سے پانچ میل دور اک کھنڈر مکان پر جاؤ اور فلاں وقت پر اس مکان کو آگ لگا دو اور ٹھیک پانچ منٹ بعد آگ بجھا دینا-تو پیر کے سامنے بھتہ پیش کیا گیا اچانک پیر جی پانی پانی کہنے لگے مرید جی بھاگے بھاگے اک گلاس پانی لائے پیر جی نے کہا کہ گلاس کا کام نہیں بالٹیاں بھر کے جلدی لے اؤ۔ لہذا بالٹیاں لائی گئی پیر جی نے وہ بالٹیاں زمین پر بہانا شروع کردیں کچھ دیر بعد سکون سے بیٹھ گئے مرید جی نے پوچھا کہ آپکو اچانک کیا ہوگیا تھا؟؟ پیر جی نے فرمایا کہ یہاں سے پانچ میل دور اک مکان کو آگ لگ گئی تھی اسکو بجھا رہا تھا۔ مرید جی نے سبحان اللہ کہا اور پیر جی پر نثار ہونے لگے بیوی سے کہا کہ تو میرے پیر پر شک کرتی ہے دیکھو میرے پیر کی کرامت مریدنی جی نے تحقیق کراوئی تو وہ واقعی سچ تھا مریدنی بھی اتنے لوگوں کا کھانا پکا پکا کر تنگ آچکی تھی۔ آخر اک بار بھت پکایا اور چینی نہ ڈالی مرید جی بھت شریف لےکر پیر کے پاس پہنچے اور ادھر مریدنی جی کپڑے دھونے لگ گئیپیر جی نے بھت ٹیسٹ کیا تو پھیکا تھا مرید کو چینی کا کہا مرید جی بیوی سے چینی نہیں ڈالی؟؟ مریدنی ڈالی ہے شاید اک جگہ سے پھیکا ہو دوسری طرف سے کھا کر دیکھیں پیر جی نے دوسری طرف سے بھی

ٹیسٹ کیا تو وہی حال تھا اب مرید جی کو اس بات پر غصہ آیا پھر ہونا کیا تھا لال پیلا ہوکر بیوی کے پاس پہنچا اور لڑائی کرنے لگا ادھر بیوی جی کو بھی اسی وقت کا انتظار تھا۔بیوی نے ڈنڈا اٹھایا اور پیر جی کی طرف لپکی پیر جی نے پوچھا کیا ماجرا ہے کیا ہوا مریدنی کیا ہونا تھا جھوٹے کمینے تجھے پانچ میل دور جلنے والے مکان کا پتہ چل گیا تھا مگر سامنے پڑے بھت کے نیچے چینی کا پتہ نہیں چل سکا چل بھاگ یہاں سے آئیندہ یہاں نظر آیا تو پورے محلے سے پٹائی کرواؤنگی۔ مریدنی کی چالاکی پر بیچارے پیر کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔پیر جی نے رومال کندھے پر رکھا اور ہارے ہوئے جرنیل کی طرح منہ لٹکائے وہاں سے رفو چکر ہونے لگے اتنے میں مریدنی نے اپنے بیٹے سے کہا کہ پیرجی سے کہو کہ جاتے جاتے میری بھینس کو برکت کی پھونک لگاتے جائیے پیر جی کو حیا آگئی پھونک مارنے کیلے بھینس کے پاس پہنچے تو ششدر رہ گئے ارے یہ کیا یہ تو گدھا ہے بھینس کدھر ہے بیٹا ؟بیٹا امی سے امی بھینس تو نہیں کھڑی امی جی نے کہا کہ بیٹا پیر جی سے کہو کہ یہ دیکھنے میں گدھا ہے مگر اندر سے تو بھینس ہے لڑکے نے جب یہ عجیب بات پیر کو سنائی تو پیر جی نے سرخ آنکھیں نکالتے ہوئے کہا تم پاگل ہو؟؟مریدنی جی نے کہا کہ تم اندر سے نمازی ہو سکتے ہو تو کیا گدھا اندر سے بھینس نہیں بن سکتا ؟؟؟پیر جی۔

وصیت

ایک شخص نے اپنے بیٹے سے وصیت کرتے ہوئے کہا: بیٹا! میرے مرنے کے بعد میرے پیروں میں یہ پھٹے پرانے موزے پہنا دینا, میری خواہش ہے مجھے قبر میں اسی طرح اتارا جائے. باپ کا مرنا تھا کہ غسل و کفن کی تیاری ہونے لگی چنانچہ حسب وعدہ بیٹے نے عالم دین سے وصیت کا اظہار کیا مگر عالم دین نے اجازت نہ دیتے ہوئے فرمایا: ہمارے دین میں میت کو صرف کفن پہنانے کی اجازت ہے. مگر لڑکے نے کافی اصرار کیا جسکی بناپر علماء شہر ایک جگہ جمع ہوئے تاکہ کوئی نتیجہ نکل سکے , مگر ہونا ہونا کیا تھا ….. لفظی تکرار بڑھتی گئی…..اسی اثناء ایک شخص وارد مجلس ہوا

اور بیٹے کو باپ کا خط تھمادیا جسمیں باپ کی وصیت یوں تحریر تھی…..میرے پیارے بیٹے, دیکھ رہے ہو؟ کثیر مال ودولت, جاہ و حشم, باغات, گاڑی, کارخانہ اور تمام امکانات ہونے کے باوجود اس بات کی بھی اجازت نھیں کہ میں ایک بوسیدہ موزہ اپنے ساتھ لے جاسکوں . ایک روز تمہیں بھی موت آئے گی آگاہ ہوجاؤ کہ تمہیں بھی ایک کفن ہی لیکے جانا پڑے گا. لہذا کوشش کرنا کہ جو مال و دولت میں نے ورثہ میں چھوڑی ہے اس سے استفادہ کرنا نیک راہ میں خرچ کرنا بے سہاروں کا سہارا بننا کیونکہ جو واحد چیز قبر میں تمہارے ساتھ جائے گی وہ تمہارے اعمال ہونگے…

ایک شخص نے اپنے بیٹے سے وصیت کرتے ہوئے کہا: بیٹا! میرے مرنے کے بعد میرے پیروں میں یہ پھٹے پرانے موزے پہنا دینا, میری خواہش ہے مجھے قبر میں اسی طرح اتارا جائے. باپ کا مرنا تھا کہ غسل و کفن کی تیاری ہونے لگی چنانچہ حسب وعدہ بیٹے نے عالم دین سے وصیت کا اظہار کیا مگر عالم دین نے اجازت نہ دیتے ہوئے فرمایا: ہمارے دین میں میت کو صرف کفن پہنانے کی اجازت ہے. مگر لڑکے نے کافی اصرار کیا جسکی بناپر علماء شہر ایک جگہ جمع ہوئے تاکہ کوئی نتیجہ نکل سکے , مگر ہونا ہونا کیا تھا ….. لفظی تکرار بڑھتی گئی…..اسی اثناء ایک شخص وارد مجلس ہوا

اور بیٹے کو باپ کا خط تھمادیا جسمیں باپ کی وصیت یوں تحریر تھی…..میرے پیارے بیٹے, دیکھ رہے ہو؟ کثیر مال ودولت, جاہ و حشم, باغات, گاڑی, کارخانہ اور تمام امکانات ہونے کے باوجود اس بات کی بھی اجازت نھیں کہ میں ایک بوسیدہ موزہ اپنے ساتھ لے جاسکوں . ایک روز تمہیں بھی موت آئے گی آگاہ ہوجاؤ کہ تمہیں بھی ایک کفن ہی لیکے جانا پڑے گا. لہذا کوشش کرنا کہ جو مال و دولت میں نے ورثہ میں چھوڑی ہے اس سے استفادہ کرنا نیک راہ میں خرچ کرنا بے سہاروں کا سہارا بننا کیونکہ جو واحد چیز قبر میں تمہارے ساتھ جائے گی وہ تمہارے اعمال ہونگے…

فجر کے نکلا تو کپڑے پلیت ہو گئے

ایک آدمی فجر کی نماز کیلئے بیدار ہوا، تیار ہوکر مسجد کی جانب روانہ ہوا مگر تھوڑی ہی دور جاکر وہ رستے میں گر پڑا اور اسکے کپڑے خراب ہوگئے۔ وہ اٹھا اور گھر واپس آکر کپڑے بدلے اور دوبارہ مسجد کی جانب روانہ ہوا، لیکن وہ دوبارہ گر پڑا ٹھیک اُسی جگہ پر، مگر وہ پھر اٹھا اور واپس جا کر پھر سے لباس تبدیل کرکے مسجد کی جانب چل پڑا۔ تیسری دفعہ اُسے رستے میں ایک آدمی لالٹین پکڑے ملا، پہلے آدمی نے لالٹین والے آدمی سے اُسکی شناخت معلوم کی تو وہ بولا کہ میں نے آپکو دو مرتبہ اس جگہ پہ گرتے ہوئے دیکھا، تو میں یہ لالٹین لے آیا تاکہ آپکے کیلئے روشنی کرسکوں۔ پہلے آدمی نے اُسکا شکریہ ادا کیا اور دونوں مسجد کی جانب روانہ ہوئے۔

جب وہ مسجد پہنچے تو پہلے آدمی نے روشنی کرنے والے آدمی سے نماز کا پوچھا تو اُس نے انکار کیا۔ پہلے آدمی نے کئی دفعہ پوچھا مگر ہر بار لالٹین والے آدمی کا جواب “انکار” میں ملتا۔ آخر پہلے آدمی نے وجہ پوچھی کہ کیوں نہیں آرہے نماز کیلئے؟ تب وہ آدمی جواب میں کہنے لگا کہ “میں شیطان ہوں”۔ پہلا آدمی کافی حیران ہوا کہ آخر ایک شیطان میرے مسجد تک جانے کیلئے روشنی کرکے نیکی کا کام کیسے کرسکتا ہے۔ تب شیطان نے اُس آدمی کو مخاطب کرکے بتایا کے میں نے تمہیں مسجد کی طرف آتے دیکھا تو میں نے تمہیں گرایا، تم گھر گئے، خود کو صاف کیا اور پھر مسجد کی طرف روانہ ہوئے، تب اللہ تعالیٰ نے تمہارے سارے گناہ معاف فرما دئیے۔ لیکن بالکل اسی جگہ پہنچ کر میں نے دوبارہ تمہیں گرایا مگر وہ بھی تمہیں مسجد نا جانے پر نہ ابھار سکا
اور تم پھر تیار ہوکر مسجد کی جانب چل پڑے، اور اسکی وجہ سے رب تعالیٰ نے تمہارے اہل و عیال کے گناہ معاف فرما دئیے۔ تب میں ڈر گیا کہ اگر میں نے تمہیں ایک اور دفعہ گرایا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ساری دنیا کے انسانوں کے گناہ معاف فرما دے۔ بس اسی لئے میں نے تمہارے لئے روشنی کی تاکہ تم بخیر و عافیت مسجد پہنچ جاؤ. اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کسی بھی نیک کام کو انجام دینے میں جتنی بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے انہیں برداشت کیجئے۔

انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ ہر مشکل و ہر آزمائش و امتحان پہ رب تعالیٰ اپنے بندے کو کتنا اجر دیتا ہے اور اسکا مقام کتنا بلند ہوتا جاتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا کہ “رب تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو ہی آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ اسکا مقام و مرتبہ مزید بلند ہوسکے”۔ کسی بھی اچھے اور نیک کام کو چھوٹا نہ سمجھئے کہ ایک انسان اسکی قیمت کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

ربیع الاول کا بہت اہم وظیفہ

س رکعت نفل نماز دو دو رکعت کرکے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد اکیس اکیس مرتبہ سورئہ اخلاص پڑھے۔ ان نوافل کی مداومت رکھنے والے کو حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت نصیب ہوتی ہے ربیع الاول قمری اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے۔ یہ بڑا متبرک اور فضیلت والا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ خیرات و برکات اور سعادتوں کا مہینہ ہے۔ حضور سرور کائناتﷺ کی ولادت مبارکہ اسی ماہ میں ہوئی تھی۔ بیس رکعات نوافل:جواہر غیبی میں ہے کہ جو کوئی شخص ماہ ربیع الاول میں بارہ رمزید جاننے کے لیے نیچے ویڈیو پر کلک کریں

ربیع الاول میں بارہ روز تک روح مبارک ﷺ پر ہدیہ اس نماز کا بھیجتا رہے کیونکہ صحابہ‘ تابعین اور تبع تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ان رکعتوں کا ثواب ہدیہ روح قدس کو بھیجا کرتے تھے۔ ترکیب نماز: بیس رکعت نفل نماز دو دو رکعت کرکے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد اکیس اکیس مرتبہ سورئہ اخلاص پڑھے۔ ان نوافل کی مداومت رکھنے والے کو حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت نصیب ہوتی ہے اور پروردرگار عالم جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرماتا ہے۔ حضور سرور کائنات ﷺ کی شفاعت نصیب ہوتی ہے۔ پہلی شب:جو کوئی اس مہینہ کی پہلی شب اور پہلے دن دو رکعت نفل نماز رات کے وقت اور دو رکعت نفل نماز دن کے وقت اس طرح سے ادا کرے کہ ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد سات مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھے تو پروردگار عالم اس شخص کوسات سوبرس کی عبادت کا اجر عطافرمائینگے۔ زیارت رسول اللہ ﷺ:جو کوئی ربیع الاول کی پہلی شب نماز عشاء کے بعد سولہ رکعت نفل نماز دو دو رکعت کرکے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد تین تین مرتبہ سورئہ اخلاص پڑھے۔ جب تمام نوافل ادا کرے تو نہایت توجہ و یکسوئی کے ساتھ قبلہ رخ بیٹھے بیٹھے ایک ہزار مرتبہ یہ درود پاک پڑھے:اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ نِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ پڑھنے کے بعد باوضو حالت میں ہی پاک صاف بستر پر بغیر کسی سے کوئی کلام کیے سو جائے انشاء اللہ تعالیٰ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوگا۔ دوسری شب:-ربیع الاول کی دوسری شب نماز مغرب کے بعد دو رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد 3,3 بار سورئہ اخلاص پڑھے

خالی پیٹ لہسن کھانے کا ایسا فائدہ کے دل خوش ہو جائے۔ اک بار ضرور ازمائیں

لہسن ایک ایسی سبزی ہے جس کا استعمال قدیم زمانے میں رہنے والے لوگ بھی کیا کرتے تھے اور اس کی افادیت سے کبھی انکار نہیں کیا گیا۔
مصری، رومن، ایرانی، یہود، عرب اور دنیا کی تمام اقوام نے لہسن کے فوائد پر کافی کچھ لکھا ہے اور اسے کبھی بھی خطرناک یہ نقصان دہ نہیں کہا گیا۔ان تمام فوائد کی سجہ سے اسے ’مصالحہ جات کا سردار‘ بھی کہا گیا ہے۔آج ہم آپ کو لہسن کے خالی پیٹ استعمال کے فوائد بتائیں گے۔

*صبح اٹھتے ہی خالی پیٹ کھانے سے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہو تا ہے اور انسانی جسم میں کئی خطرناک بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

*خالی پیٹ لہسن کھانے سے پیٹ میں موجود بیکٹیریا پیٹ خالی ہونے کہ وجہ سے بہت کمزور ہو جاتا ہے اور یہ لہسن کی طاقت کے خلاف لڑ نہیں پاتاجس سے آپ صحت مند اور کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔

*لہسن ایک قدرتی انٹی بائیوٹک ہے اور سردیوں میں اس کے استعمال سے انسان کھانسی، نزلہ ،سردی اور زکام سے محفوظ رہتا ہے۔

*یہ خون کو پتلا کرتا ہے جس سے آپ کا نظام دوران خون تیز رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کو بلند فشار خون سے بھی نجات ملتی ہے۔
*اگر خون کی شریانیں بند ہونے لگیں تو روزانہ خالی پیٹ لہسن کا استعمال کریں ، بہت جلد آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کی طبیعت بحال ہو رہی ہے۔

*اگر اعصابی کمزوری کا مسئلہ ہو تب بھی لہسن انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔

*اگر آپ کو جلدی بیماری کا مسئلہ درپیش ہو تو کھانے میں لہسن کی مقدار بڑھادیں۔ اس سے آپ کے جسم میں زہریلے مادے کم ہوں گے اور جلد تر وتازہ رہے گی۔