یہ چیز کھائیں اور دس دن میں خون کی کمی دور کر لیں۔

تھوڑی سی کشمش لیں اور اسے ہمارے بتائے طریقے سے استعمال کرلیں اور پھر گالوں کی لالی چیک کریں۔ کشمش کو تو آپ نے دیکھا ہی ہوگا جو کہ انگور خشک کرکے بنائی جاتی ہے اور اس کی رنگت گولڈن ، سبزیا سیاہ ہو سکتی ہے۔ یہ مزیدار میوہ عام استعمال کیا جاتا ہے

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اگر اس کا روز استعمال کیا جائے تو آپ کیا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں ؟ اگر نہیں تو ضرور جان لیں۔ کشمش جسے انگور خشک کر کے بنایا جاتا ہے۔ اس کی رنگت گولڈن سبزیا سیاہ ہو سکتی ہے۔ یہ مزید میوہ روز مرہ زندگی کےمزید جاننے کے ئے نیچے ویڈیوپرکلک کریں

دوران عام استعمال کیا جاتا ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر کشمش کا روزانہ استعمال کیا جائے تو آپ کیا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں اگر نہیں تو آج آپ کو بتاتے ہیں۔ خون کی کمی دور کرے : کشمش آئرن سے بھرپور میوہ ہے ، جو خون کی کمی دور کرنے کے لیے اہم ترین جز ہے ، کشمش کو آسانی سے دلیہ ،

دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کویہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔ کشمش بھی آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جسے آسانی سے دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے

بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔ جسم میں خون کی کمی انسان کو بہت ساری بیماریوں میں مبتلا کردیتی ہے۔ خون کی کمی سے چہرےکی خوبصورتی بھی متاژرہوتی ہے۔ خواتین میں یہ مسئلہ عام ہے خصوصا حمل کےدوران خون کی کمی اوربھی برھ جاتی ہے

خون کی کمی کی وجہ سے صحت بھی خراب ہوجاتی ہےڈاکڑکی ادویات اس پریشانی کا پراپرحل نہی ہےاس لیےآج آپ کے ساتھ ایک ایسا نسخہ شیئرکررہی ہوں جس کےزیعے آپ کے جسم میں خون کی کمی بلکل دورہو جائے گی یہ نایاب نسخہ نا صرف آپ کےجسم میں ریڈ سیلزکو بڑھائےگا

بلکہ آپ کی صخت کو بھی اچھا بنائےگا خون کی کمی کو دور کرنے کا یہ سب سے زیادہ آسان نسخہ ہے صرف دس دن تک آپ یہ نسخہ استعمال کریں پھر اپنے گالوں کی لالی اور سرخی چیک کیجئے گا۔ شمش جسے انگور خشک کرکے بنایا جاتا ہے،

اس کی رنگت گولڈن، سبز یا سیاہ ہوسکتی ہے۔یہ مزیدار میوہ روز مرہ زندگی کے دوران عام استعمال کیا جاتا ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں ہے کہ اگر کشمش کا روزانہ استعمال کیا جائے تو آپ کیا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں؟اگر نہیں تو آج ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ امراض سے پاک زندگی کی کنجی قبض سے نجات فائبرسے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ کشمش میں ٹارٹارک ایسڈ بھی پایا جاتا ہے

جو ہلکے جلاب جیسا اثر دکھاتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق آدھا اونس کشمش روزانہ استعمال کرنے والے افراد کا ہاضمہ دگنا تیزی سے کام کرتا ہے۔ خون کی کمی دور کرتاہے۔کشمش آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جو خون کی کمی دور کرنے کے لیے اہم ترین جز ہے، کشمش کو آسانی سے دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے

بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔ تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔کشمش بخار سے بھی تحفظ دیتا ہے کشمش میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس وائرل اور بیکٹریا سے ہونے والے انفیکشن کے نتیجے میں بخار کے عارضے کا علاج بھی فراہم کرتے ہیں۔

معدے کی تیزابیت ختم کرتا ہے۔ کشمش میں پوٹاشیم اور میگنیشم ہوتا ہے جو کہ معدے کی تیزابیت میں کمی لاتے ہیں، معدے میں تیزابیت کی شدت بڑھنے سے جلدی امراض، جوڑوں کے امراض، بالوں کا گرنا، امراض قلب اور کینسر تک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ آنکھوں کی صحت بہتر کرے۔

کشمش میں موجود اجزاءآنکھوں کو مضر فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے تحفظ دیتے ہیں جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری، موتیا اور بینائی کی کمزوری سے بھی تحفظ ملتا ہے۔ اس میوے میں موجود بیٹا کیروٹین، وٹامن اے اورکیروٹین بھی بینائی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

جسمانی توانائی بڑھائے کاربوہائیڈریٹساور قدرتی چینی کی بدولت یہ میوہ جسمانی توانائی کے لیے بھی اچھا ذریعہ ہے، کشمش کا استعمال وٹامنز،پروٹین اور دیگر غذائی اجزاءکو جسم میں موثر طریقے سے جذب ہونے میں بھی مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باڈی بلڈرز اور ایتھلیٹس کشمش کا استعمال عام کرتے ہیں۔ کشمش کا استعمال بے خوابی سے بھی نجات دلاتا ہے

اس میوے میں موجودآئرن بے خوابی یا نیند نہ آنے کے عارضے سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے جبکہ نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔ بلڈ پریشر آئرن، پوٹاشیم، بی وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر پوٹاشیم خون کی شریانوں کے تناؤ کو کم کرتا ہےاور بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر کم کرتا ہے

اسی طرح قدرتی فائبر شریانوں کی اکڑن کو کم کرتا ہے جس سے بھی بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آتی ہے۔ اس میں موجود کیلشیئم ہڈیوں کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

گردوں کی صحت کے لیے بہتر پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے ان کا استعمال معمول بناناگردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرتا ہے۔یقیناً اتنی خوبیاں جاننےکے بعد آپ آج سے ہی کشمش کاباقاعدگی سےاستعمال شروع کر دینگے۔

بیوی سے عشق کب ہوتی ہے۔؟

” ایک خاتون نے نہایت دلچسپ سوال کیا، کہنے لگیں ’’تارڑ صاحب میں نے آپ کا حج کا سفرنامہ ’’منہ ول کعبے شریف‘‘ پڑھا ہے جس میں آپ نے اپنی بیگم کا تذکرہ اس طرح کیا ہے جیسے وہ آپ کی بیوی نہ ہوں گرل فرینڈ ہوں‘‘۔۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’’خاتون جب میں اپنے سفرناموں میں غیرمنکوحہ خواتین کا تذکرہ کرتا تھا تب بھی لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے اور اب اگر اپنی منکوحہ کے ساتھ چہلیں کرتا ہوں تو بھی اعتراض ہوتا ہے۔۔۔ اگر آخری عمر میں بالآخر اپنی بیوی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہوں تو بھی آپ کو منظور نہیں‘‘۔ وہ خاتون نہایت پُرمسرت انداز میں کہنے لگیں ’’آخری عمر میں ہی کیوں؟‘‘ ۔۔۔ میں نے انہیں تو جواب نہیں دیا محض مسکرا دیا لیکن میں آپ کو رازداں بناتا ہوں۔۔۔ آخری عمر میں بیوی کے عشق میں مبتلا ہو جانا ایک مجبوری ہے کہ اتنی طویل رفاقت کے بعد آپ کو احساس ہوتا ہے کہ اس بھلی مانس نے مجھ پر بہت احسان کئے۔

میری بے راہرو حیات کو برداشت کیا۔۔۔ کبھی شکایت نہ کی البتہ ڈانٹ ڈپٹ وغیرہ بہت کی تو بس یہی عشق میں مبتلا ہونے کے لائق ہے۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ جوانی میں بیوی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، مرد آخر مرد ہے دل میں خیال آتا تھا کہ اگر یہ مر جائے تو سبحان اللہ میں دوسری شادی کر لوں۔۔۔ اب اس بڑھاپے میں ہر نماز کے بعد میں دعا مانگتا ہوں کہ یا اللہ اسے سلامت رکھنا، یہ مر گئی تو میں دربدر ہو جاؤں گا، مجھے تو کوئی پانی بھی نہیں پوچھے گا۔۔۔ مجھے پہلے لے جانا اِسے سلامت رکھنا۔ ویسے یہ میرا نصف صدی کا پاسے سونے کی مانند کھرا تجربہ ہے کہ نوجوانی میں اپنی بیویوں سے عشق کرنے والے اور اُس کا چرچا کرنے والوں نے ہمیشہ اُن بیویوں سے چھٹکارا حاصل کر کے دوسری شادیاں کیں۔۔۔ مجھ سے پانچ چھ برس جونیئر ایک مناسب شاعر اور ان دنوں بہت دھانسو کالم نگار نے کہا ’’تارڑ بھائی۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نے عشق کی شادی کی ہے۔۔۔ میں اپنی بیوی سے ایک ایسا عشق کرتا ہوں جس کی مثال روئے زمین پر نہ ملے گی۔ میں اُس کی پرستش کرتا ہوں، وہی میرا مذہب ہے اور میں نے اُسے جو خطوط لکھے، جاں نثار اختر نے کہاں لکھے ہوں گے، یہ خطوط تاج محل سے بھی عظیم تر ہیں۔۔۔ میں یہ خطوط کتابی صورت میں شائع کروا رہا ہوں تاکہ آنے والی نسلوں کو معلوم ہو کہ عشق کیا ہوتا ہے۔۔۔ اور اس شہر میں صرف تین لوگ ہیں جنہیں میں اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خطوط کی اس کتاب کا فلیپ تحریر کریں۔۔۔ اعتزاز احسن، منو بھائی اور آپ۔۔۔ اُنہوں نے لکھ دیا ہے آپ بھی لکھ دیں۔۔۔ میں نے لکھ دیا اور پھر کتاب کا انتظار کرنے لگا۔ چار پانچ ماہ کے بعد میں نے اس کتاب کے ناشر سے پوچھا کہ خطوط کی وہ کتاب کیاہوئی تو وہ کہنے لگے ’’موصوف تو اپنے عشق کو طلاق دے چکے ہیں اور ان دنوں دوسری بیوی کے عشق میں سرشار ہو رہے ہیں‘‘۔ میرے ابّا جی کے ایک دوست نسبت روڈ چوک کے قریب حکمت کی دکان کرتے تھے۔

وہ اپنی بیوی کے ساتھ اتنا عشق کرتے تھے کہ دکان کی دیواروں پر اُس کی تصویریں سجا رکھی تھیں اور کہتے تھے’’چوہدری صاحب۔۔۔ میں لمحہ بھر کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ اُس کا چہرہ دیکھتا رہتا ہوں تب دن گزرتا ہے‘‘۔۔۔ جانے کیا ہوا کہ اُن کی بیوی ناگہانی موت سے دوچار ہو گئیں، اُن کو اتنا صدمہ ہوا کہ بہت دنوں تک کچھ کھایا پیا نہیں اور لاغر ہو گئے۔۔۔ مرحومہ کی قبر کے برابر میں ایک جھونپڑا ڈال کر اُس میں فروکش ہو گئے۔۔۔ گھر ترک کر کے قبرستان میں بسیرا کر لیا، درویشی اختیار کر لی، بیوی کی قبر کے ساتھ لپٹ کر روتے رہتے۔۔۔ ایک دو ماہ بعد میں نے ابّا جی سے پوچھا کہ آپ کے اُس دوست کا کیا حال ہے جو بیوی کی قبر کے ساتھ رہتے ہیں تو ابّا جی کہنے لگے اور مسکرا کر کہنے لگے ’’ اُس نے اپنی چھوٹی سالی سے شادی کر لی ہے اور ان دنوں ہنی مون منانے مری گئے ہوئے ہیں‘‘۔ جوانی میں اپنی بیویوں سے محبت کرنے والے لوگ ۔۔۔ ہمیشہ دوسری شادی کرتے ہیں۔۔۔ آزمائش شرط ہے۔۔۔ چونکہ میں نے اپنی اہلیہ سے جوانی میں محبت نہیں کی اس لئے میں نے دوسری شادی بھی نہیں کی۔ ویسے اس عمر میں آ کر اپنی بیوی کے عشق میں مبتلا ہو کر اُس کے ساتھ فلرٹ کرنا نہایت ہی شاندار تجربہ ہے۔ میں اُسے ’’ڈارلنگ‘‘ یا ’’سویٹ ہارٹ‘‘ کہتا ہوں تو وہ ناک چڑھا کر کہتی ہے ’’دفع‘‘

ہمارے شادی کو دس سال ہوگئے لیکن اولاد کی نعمت سے محرو تھے

ہر وظیفہ پورے دل سے کیا کریں اور پورے دھیان سے تبھی آپکو اس میں اچھے نتائج ملیں گے ۔ وظیفہ میں نماز کی پانچ وقت کی پابندی کا خا ص خیال رکھیں آج ہم آپکو جو وظیفہ بتا رہے ہیں اس سے آپکو فائد ہ ہوگا۔ وظیفہ کو ناجائز کاموں کے لیے استعمال مت کریں ۔ غلط مقاصد کے لیے استعمال کریں گے تو اس کے غلط نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے ۔ وظیفہ کیلئے نماز کی پابندی لازمی ہوتی ہے ۔ اگر آپ پانچ وقت کی نماز ادا نہیں کریں گے تو وظیفہ کر نے کاکچھ اثر نہیں ہوگا۔ ، اگر کوئی شخص اولاد سے محروم ہو تو سورۃ ا لکوثر کو باوضو پانچ سو بار روزانہ پڑھا کرے اور پابندی کے ساتھ یہ عمل مکمل تین ماہ تک کرے انشاء اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہو جائے گا۔

اگر ہزاربار اول وآخر درود شریف گیارہ گیارہ بار پڑھا کرے اس نیت سے کہ حضورﷺ کی زیارت نصیب ہو تو انشاء اللہ تعالیٰ زیارت فیض بشارت سے کامیاب ہوگا ۔ نزول باراں رحمت کے وقت ایک سو بار پڑھیں جو دعا مانگے قبول ہوگی ۔ اگر کسی دشمن نے گھر میں جادو دفن کر دیا ہو، اس سورۃ کا ورد کرنے سے جادو دفن کر نے کی جگہ معلوم ہوجائیگی اور جادو کا اثر دور ہو جائے گا۔ وظیفہ یا عمل پورے یقین سے کریں ، شک عمل کو ضائع کر دیتا ہے ، پوری توجہ کے ساتھ وظیفہ پڑھا جائے اور دعا پورے دل اور خشوع و خضوع سے مانگیں ، رزق حلال کا اہتمام کریں ، حرام غذا عمل کے اثر کو ختم کر دیتی ہے ، ہر عمل اللہ کی رضا کیلئے کریں ، مالک راضی ہوگا تو کام بنے گا۔ ان افراد کے وظائف اور عمل بے اثر رہتے ہیں جو نماز اور دیگر فرائض ادا نہیں کرتے ۔ حرام کاموں سے بچیں ، حرام کاموں سے روحانیت کو نقصان پہنچتا ہے تب عمل اثر نہیں کرتا ۔ الفاظ کی تصیح کا اہتمام کر یں الفاظ غلط پڑھنے سے معنی بدل جاتے ہیں ، صفائی اور پاکیزگی کا اہتمام کریں

بیٹی کا حق مہر

ایک کافر جوان اپنے چچا کی بیٹی پر عاشق ہو گیا اس کا چچا حبشہ کا بادشاہ تها جوان اپنے چچا کے پاس گیا اور کہا: چچا جان مجهے آپکی بیٹی پسند ہے میں اسکی خواستگاری کے لئے آیا ہوں. بادشاہ نے کہا:کوئی بات نہیں لیکن اس کا مهر بہت بهاری ہے. جوان نے کہا جو کچھ بھی ہو مجهے قبول ہے. بادشاہ نے کہا:مدینہ شهر میں میرا ایک دشمن رہتا ہے اس کا سر میرے پاس لائو اس وقت میری بیٹی تمہاری ہو گی.جوان نے کہا : چچا جان آپکے دشمن کا نام کیا ہے ؟ کہا: لوگ اسے کہا: لوگ اسے علی ابن ابی طالب کے نام سے جانتے ہیں جوان نے فورا گهوڑے کے اوپر زین رکهی اور تیر، تلوا،ر نیزہ اور کمان کے ساتھ راہی مدینہ ہوا. جب شهر کے نزدیک ایک تپہ کے اوپر پہنچا تو دیکها کہ ایک عربی جوان نخلستان میں باغبانی و بیلچہ چلا رہا ہے. جوان کے نزدیک گیا اور کہا: اے مرد عرب کیا تم علی کو جانتے ہو؟ جوان عرب نے کہا:علی سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا: اپنے چچا جو کہ حبشہ کا بادشاہ ہے اس کے لئے علی کا سر لینے آیا ہوں کیونکہ اس نے اپنی بیٹی کا حق مهر علی کا سر قرار دیا ہے۔

جوان عرب نے کہا: تم علی کا مقابلہ نہیں کرسکتے. اس نے کہا:کیا علی کو جانتے ہو؟ جوان عرب:جی ہر روز اس کے ساتھ ہوتا ہوں اور ہر روز اس کو دیکهتا ہوں. اس نے کہا:علی کیسی هیبت رکهتا ہے کہ میں اس کا سر تن سے جدا نہیں کر سکتا؟ جوان عرب:میرے قد جتنا اس کا قد ہے اور هیکل (جسامت) بهی میرے اندازہ کے مطابق ہے. اس نے کہا :اگر تہماری طرح ہے تو پهر مسئلہ کوئی نئیں. مرد عرب نے کہا: پہلے تم مجهے شکست دو پهر میں تم کو علی کا پتہ بتاؤں گا. کہا:شمشیر و تیر و کمان و سنان. کہا: آمادہ ہو جاو. جوان اونچی آواز میں ہنسا اور کہا کیا تم اس بیلچے سے مجهے شکست دو گے؟ پس تیار ہو جاو شمشیر کو نیام سے نکالا .پهر پوچها کہ تمہارا نام کیا ہے؟ مرد عرب نے جواب دیا عبد اللہ. تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا فتاح اور اسی لمحے تلوار کے ساتھ عبد اللہ پر حملہ کر دیا.عبد اللہ نے چشم زدن میں اس کو کندهے اور بازو سے پکڑا اور آسمان کی طرف بلند کیا اور زمین پر دے مارا اور اس کا خنجر اپنے ہاتھ میں لیا اور بلند کیا.

اچانک دیکها کہ جوان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو رہے ہیں. مرد عرب نے کہا:کیوں رو رہے ہو؟ جوان نے کہا:میں اپنے چچا کی بیٹی کا عاشق تها آیا تها تاکہ علی کا سر اپنے چچا کے لئے لے جاو تاکہ وہ اپنی دختر مجهے دے لیکن لگتا ہے ابهی آپکے ہاتھوں سے مارا جاؤں گا. مرد عرب نے جوان کو بلند کیا اور کہا:آجاو اس تلوار سے میرا سر اپنے چچا کے لئے لے جائو اس نے پوچھا تم کون ہو؟ کہا : میں اسد اللہ الغالب ، على ابن ابی طالب ہوں. اگر میرے سر کی وجہ سے خدا کے بندوں میں سے کسی کا دل شاد ہوتا ہے تو میں حاضر ہوں کہ میرا سر تمہارے چچا کی بیٹی کا حق مهر ہو جائے.جوان زور زور سے رونے لگا اور اْپؓ کے قدموں میں گر پڑا اور کہا: میں چاہتا ہوں کہ آج سے آپ کا غلام بن جائوں. اسی طرح فتاح بنام قنبر علی ابن ابی طالب کا غلام ہو گیا۔

ہر جائز حاجت پوری انشاءاللہ

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کے جو کوئی بسم الله شریف کا ورد ہر روز بکثرت کرے انیس ١٩ فرشتوں کے عذاب سے نجات پاے گا جو کے دوزخ پی مؤکل ہیں ق کے بسم الله شریف کے الفاظ بھی انیس ١٩ ہیں جب کوئی مشکل در پیش ہو تو بسم الله شریف کو با طہارت کامل سات سو چھیاسی ٧٨٦ بار سات ٧ روز تک پڑھے ہر مشکل آسان ہو اگر ہمیشہ ورد میں رکھے تو کسی اور عمل کی ضرورت ہی پیش نا آے اور اگر بعد نماز فجر پندرہ سو ١٥٠٠ مرتبہ جس مطلب کے لئے پڑھا جائے وہ کام ہو ہم چار دوستوں کا ایک گروپ تھا، نہیں بلکہ پانچ دوستوں کا، پہلے چار اسلئے کہا تھا کہ ہم چار دوست پارٹیاں اور ہلہ گلہ وغیرہ کرتے تھے لیکن پانچواں عظمت خان تھا جو کہ اکثر پارٹیوں میں شریک نہیں ہوتا تھا۔۔ اسے ہلہ گلہ اور خرچہ کرنا اچھا نہیں لگتا تھا شاید اسلئے کہ وہ بہت کنجوس تھا ہم اس کو بہت طعنے بھی دیتے تھے لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا تھا۔

پھر بھی بندہ دل کا اچھا تھا اسلئے ہمارے گروپ میں کسی نا کسی کھاتے میں شامل تھا۔ وہ ایک سردیوں کی یخ بستہ رات تھی میں اور میرا دوست عظمت بائیک پر کسی کام سے صدر کےلئے روانہ ہوئے۔ بائیک میری تھی سو میں ہی چلا رہا تھا۔ابھی ہم آدھے راستے پر ہی تھے کہ ایک دم عظمت چلایا۔۔۔ ارے بائیک روکو بائیک روکو۔۔ میں تھوڑا سا پریشان ہوا کہ اللہ خیر ہی کرے بحر حال میں نے بائیک روک دی۔ عظمت بائیک سے اترا اور جہاں سے ہم آرہے تھے وہاں واپس پیدل تیز تیز چلنے لگا۔ میں نے بھی بائیک ایک سائیڈ پر روک لی اور اس کے پیچھے چلا گیا۔۔۔

اللہ کے عشق کا ایک ذرّہ

ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ایسے نوجوان کے قریب سے گزرے جو باغ میں پانی لگا رہا تھا،اُس نے آپ علیہ السلام سے کہا کہ بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمائیے کہ اللّہ ربّ العزت اپنے عشق کا ایک ذرّہ مجھے عنائیت فرما دے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک ذرّہ تو بہت ہے تم اس کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے،اُس نے کہا کہ،صرف نصف ذرّہ ہی عطا فرما دے،اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پروردِ گارِ عالم سے دعا مانگی:یا اللّہ! ” اسے اپنے عشق کا نصف ذرّہ رحمت عطا فرما دے۔

یہ دعا مانگنے کے بعد آپ وہاں سے تشریف لے گئےکچھ عرصہ بعد پھر اسی راستہ سے آپ علیہ السلام کا گزر ہُوا اور اُسجوان کے بارے میں دریافت کِیا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ تو دیوانہ ہو گیا ہے اور پہاڑوں پر چلا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پروردِ گارِ عالم سے دعا مانگی: یا اللّہ! ” اُس جوان سےمیرا سامنا کر دے۔ ” پھر آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ جوان پہاڑ کی ایک چوٹی پر کھڑا ہو کر آسمان کی طرف دیکھے جا رہا ہے۔آپ علیہ السلام نے اُسے سلام کِیا لیکن اُس نے کوئی جواب نہ دیا۔آپ علیہ السلام نے اُس سے فرمایا کہ تم مجھے نہیں جانتےمیں عیسیٰ ( علیہ السلام ) ہوں۔اللّہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل ہوئی کہ ” اے عیسیٰ ( علیہ السلام ) ! جس کے دل میں میری محبت کا نصف ذرّہ بھی موجود ہو وہ کس طرح انسانوں کی بات سن سکتا ہے۔مجھے قسم ہے اپنی عزت و جلال کی،اگر اسے آرے سے چیر کر دو ٹکڑے بھی کر دیا جائے تو اسے احساس تک نہ ہو گا- (مکاشفتہ القلوب باب 10 صفحہ 84) سبحان اللہ

وہ ایک سبزی جو شرابی سے شراب چھڑادے

آج کل خواتین تو ایک طرف مرد حضرات بھی کم عمر اور جوان نظر آنے کیلئے طرح طرح کے ٹوٹکے آزماتے نظر آتے ہیں۔ مگر ہم یہاں آپ کو ان ٹوٹکوں اور سائیڈ ایفیکٹ کی حامل کاسمیٹکس اور ادویات سے نجات دلانے اور جوان نظر آنے کا ایسا طریقہ بتانے جا رہے ہیں جس سے اب تک ہزاروں افراد استفسادہ حاصل کر چکے ہیں۔نباتات میں اللہ تعالیٰ نے بے پناہ فوائد پنہاں رکھےہیں اور ان پر ریسرچ کرنے والے افراد روز ان کے حیرت انگیز فوائد سے متعلق آگاہ کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسی ہی ایک سبزی کریلابھی ہے جس کا جوس پینے سے آپ کی عمر جیسے رک سی جاتی ہے اور چہرہ سے آپ کئی برس چھوٹے نظر آنے لگتے ہیں۔ اطبا کریلے کو دافع زہر، دافع بخار، شتہا انگیز ، مقوی معدہ دافع صفرا اور مسہل قرار دیتے ہیں۔ یہ ذیابیطس کا ایک دیسی علاج بھی ہے۔ س میں انسولیں سے مشابہہ ایک مادہ پایا جاتا ہے اسے نباتی انسولیں کا نام دیا گیا ہے ۔

یہ مادہ خون اور پیشاب میں شوگر کی مقدار کم کرتا ہے ۔ حکماء پچھلے کئی برس سے ذیابیطس کے علاج میں کریلے استعمال کرا رہے ہیں ۔شوگر کے مریضوں کو چار پانچ کریلوں کا پانی روزانہ صبح نہار منہ پینا چاہیے ۔کریلا خطرناک بیماری بواسیر پر بھی مفید ہے۔ ئے کے تین چمچ پتوں کا جوس ایک گلاس لسی میں شامل کرکے روزانہ صبح ایک ماہ تک پینا بواسیر کا عارصہ دور کرتا ہے ۔ کریلوں کی جڑوں کاپیسٹ بواسیر کے مسوں پر لگانا بھی مفید ہے ۔کریلا کا جوس خون کو صاف کرتا ہے اور کئی طرح کے جلدی امراض میں تریاق کا درجہ رکھتا ہے۔ خون کے متعدد امراض جن میں فساد خون سے پھوڑے ، پھنسیاں نکلنا، خارش، چنبل ، بھگندر، جالندھر شامل ہیں۔ تازہ کریلوں کا جوس ایک کپ، ایک چائے کا چمچ لیموں کا رس ملا کر صبح نہار منہ ایک ایک چسکی پینا مفید ہے ۔پرانے امراض میں یہ علاج چار سے چھ ماہ تک جاری رکھنا پڑتا ہے ۔ کریلا کی جڑیں بھی کئی امراض کیلئے دوا کا درجہ رکھتی ہیں جن میں سانس کی بیماری بھی شامل ہے۔ جڑوں کا ملیدہ ایک چائے کا چمچ ، اسی مقدار میں شہد یا تلسی کے پتوں کا جوس ملا کر ایک ماہ تک روزانہ رات کو پینے سے دمہ ، برونکائٹس ، زکام، گلے کی سوزش اور ناک کے استرکی سوزش کا عمدہ علاج ہے۔موسم گرما میں عموماََ پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ علاقوں میں ہیضے کی وبا پھوٹ پڑنے کی خبریں میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

ہیضہ اور اسہا ل کے ابتدائی مرحلوں میں کریلوں کے پتوں کا تازہ جوس شفاء بخش دوا ہے ۔ چائے کے دو چمچ جو س ہم وزن پیاز کے جوس اور ایک چائے کا چمچ لیموں کا رس ملا کر دینا شافی علاج ہے ۔کریلا نشہ چھڑوانے کا بھی کام آتا ہے۔ کریلے کے پتوں کا جوس شرابکے بداثرات کا اچھا علاج ہے۔ اب کے زہریلے مادوں کے لئے مؤثر تریاق کا کام دیتا ہے ۔ شراب نوشی سے جگر کو پہنچنے والے نقصان کی بھی اصلاح ہوتی ہے ۔

زنا ایک قرض ہے

ایک بادشاہ کے سامنے کسی عالم نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ زانی کے عمل کا قرض اس کی اولاد یا اس کے اہل خانہ میں سے کسی نہ کسی کو چکانا پڑتا ہے اس بادشاہ نے سوچا کہ میں اس کا تجربہ کرتاہوں اس کی بیٹی حسن و جمال میں بے مثال تھی اس نے شہزادی کو بلا کر کہا کہ عام سادہ کپڑا پہن کر اکیلی بازار میں جاؤ اپنے چہرے کو کھلا رکهو اور لوگ تمہارے ساتھ جو معاملہ کریں وہ ہوبہو

آکر مجھے بتاؤ شہزای نے بازار کا چکر لگا یا مگر جو غیر محرم شخص اس کی طرف دیکهتا وہ شرم و حیا سے نگاہیں جھکا لیتا کسی مرد نے اس شہزادی کے حسن و جمال کی طرف دھیان ہی نہیں دیا سارے شہر کا چکر لگا کر جب شہزادی اپنے محل میں داخل ہو میں داخل ہو نے لگی تو راہداری میں کسی ملازم نے محل کی خادمہ سمجھ کر روکا گلے لگا یا بوسہ لیا اور بهاگ گیا شہزادی نے بادشاہ کو سارا قصہ سنایا تو بادشاہ روپڑا اور کہنے لگا کہ میں نے ساری زندگی غیر محرم سے اپنی نگاہوں کی حفاظت کی ہے البتہ ایک مرتبہ میں غلطی کر بیٹهااور ایک غیر محرم لڑکی کو گلے لگا کر اس کا بوسہ لیا تھا میرے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو میں نے اپنے

ہاتھوں سے کیا تھا. سچ ہے کہ زنا ایک قصاص والا عمل ہے جس کا بدلہ اداہوکر رہتا ہے. ( تفسیر روح المعاني )ہمیں اس واقعے سے عبرت حاصل کرنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ ہماری کوتاہی کا بدلہ ہماری اولادیں چکاتی پھریں جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے گھر کی عورتیں پاکدامن بن کر رہیں اسے چاہئے کہ وہ غیر محرم عورتوں سے بے طمع ہوجائے اسی طرح جو عورتیں چاہتی ہیں کہ ہمارے خاوند نیکو کاری کی زندگی گذاریں بے حیائی والے کاموں کو چھوڑ دیں انہیں چاہئے کہ وہ غیر محرم مردوں کی طرف نظر اٹهانا بهی چھوڑ دیں تا کہ “پاکدامنی کا بدلہ پاکدامنی” کی صورت میں مل جائے..

.رہ گئی بات کہ اگر کسی نے پہلے یہ کبیرہ گناہ کیا ہے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہے سچی توبہ کے ذریعے اپنے رب کو منائیں تاکہ دنیا میں قصاص سے بچ جائیں اور آخرت میں ذلت و رسوائی سے چھٹکارا پائیں… اللہ ہمیں شرم و حیا کی دولت سے مالا مال فرمائے آمین..

قرآن پاک کی ایک ایسی آیت جو آپ کو ذہین بنا دے!‎

کند ذہنی دور کرنے اور ذہین بننے کیلئے نہایت آزمودہ عمل ہے

جس سے فائدہ اٹھا کر آپ نہ صرف اپنے بچوں کی کندذہنی کو دور کر سکتے ہیں بلکہ خود بھی ذہین بن سکتے ہیں. سورۃ مزمل کی آیت نمبر 8’’واذکر اسم ربک و تبتل الیہ تبتیلا‘‘ روزانہ 313مرتبہ اول و آخر گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھیں

انشا اللہ اس عمل کی برکت سے کند ذہنی دور ہو جائے گی اور آپ یاآپ کے بچے ذہین بن جائیں گے

کند ذہنی دور کرنے اور ذہین بننے کیلئے نہایت آزمودہ عمل ہے

جس سے فائدہ اٹھا کر آپ نہ صرف اپنے بچوں کی کندذہنی کو دور کر سکتے ہیں بلکہ خود بھی ذہین بن سکتے ہیں. سورۃ مزمل کی آیت نمبر 8’’واذکر اسم ربک و تبتل الیہ تبتیلا‘‘ روزانہ 313مرتبہ اول و آخر گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھیں

انشا اللہ اس عمل کی برکت سے کند ذہنی دور ہو جائے گی اور آپ یاآپ کے بچے ذہین بن جائیں گے

ﺷﺎﺩﯼ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺑﮓ ﺑﯿﻨک ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ

ﻟﮍﮐﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻋﻤﺮ 20 ﺳﺎﻝ ﮬﮯ ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮬﺮ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻟﮍﮐﭙﻦ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ ،، 30- 25 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮔﮭﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺳﺎﺱ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﭨﻮﮐﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﭘﯿﺎﺯ ،ﻟﮩﺴﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﺩﺭﮒ ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﺍُﮒ ﺁﺗﺎ ﮬﮯ ، ﺍﺏ ﺷﺎﺩﯼ ﮬﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺳﺎﺳﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﯿﮟ ،،20 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻟﮍﮐﯽ Flexibility ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ ﻭﮦ ﮬﺮ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﯾﮉﺟﺴﭧ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﮬﮯ ،، ﺟﺒﮑﮧ 30 ﺳﺎﻟﮧ ) ﻟﮍﮐﯽ ( ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﺍﯾﻢ ﺍﮮ ﺗﻮ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﮬﮯ ﻣﮕﺮ ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﺑﭽﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮬﺘﯽ ،، ﺍﯾﺴﯽ ﺑﭽﯽ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﺷﻮﮬﺮ ﮬﯽ ﭘﺎﻟﺘﺎ ﮬﮯ ،، ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﮈﺑﻞ ﺍﯾﻢ ﺍﮮ ﻟﮍﮐﯽ ﭼﺎﮬﺌﮯ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭨﯿﻮﺷﻦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭨﯿﻮﺷﻦ ﭘﮍﮬﺎ ﺳﮑﮯ ، ﺍﻭﺭ ﮈﺑﻞ ﺍﯾﻢ ﺍﮮ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﯽ ﺑﭽﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ 35 ﻓﯿﺼﺪ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ ،،،،،،ﮐﭽﮫ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﮈﺭﺍﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﻟﮩﻦ ﺑﻨﺘﯽ ﺭﮬﺘﯽ ﮬﯿﮟ

ﻣﮕﺮ ﺍﺻﻠﯽ ﺭﺷﺘﮯ ﭨﮭﮑﺮﺍﺗﯽ ﺭﮬﺘﯽ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﮈﺍﺅﻥ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ،، ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺭﺷﺘﮯ ﺧﺘﻢ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮬﺘﺎ ،،،،،،،،،،،،ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﯿﺖ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﻻﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﻃﻼﻕ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﭼﻼﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ 98 ٪ ﮐﯿﺴﺰ ﻣﯿﮟ ﻃﻼﻕ ﮬﻮ ﮬﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ ،ﺍﻧﻤﺎ ﺍﻻﻋﻤﺎﻝ ﺑﺎﻟﻨﯿﺎﺕ ،، ﺟﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻮﮐﻞ ﺩﻭ ﺗﻮ ﺭﺍﻧﯽ ﺑﻦ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﺗﯽ ﮬﮯ ،، ﺍﯾﻒ ﺍﮮ ﺑﮩﺖ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮬﮯ ،، ﺟﺐ ﺗﮏ ﺭﺷﺘﮧ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﺑﮭﯽ ﺩﻻﺋﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮬﮯ ﻣﮕﺮ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﮐﻮ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺴﺘﺮﺩ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﻔﺮﺍﻥِ ﻧﻌﻤﺖ ﮬﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻠﺘﺎ -،، ﺑﻌﺾ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺗﻮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎ ﺑﮭﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﺁﺋﮯ ﭼﺎﺭ ﭼﺎﺭ ﺑﭽﯿﺎﮞ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﮬﻮ ﺭﮬﯽ ﮬﯿﮟ ، ﺟﺒﮑﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﻭﮦ ﺑﮭﯽﮬﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﺁﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺮﺍﺩﺭﯼ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺭﺷﺘﮧ ﺭﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﯿﮟﺍﮔﺮ 20 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺩﯼ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ

ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻃﻼﻕ ﺧﺪﺍﻧﺨﻮﺍﺳﺘﮧ ﮬﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻟﮍﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﮕﮧ ﺑﯿﺎﮬﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮬﮯ ﯾﻌﻨﯽ 24 ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺍﻣﮑﺎﻧﺎﺕ ﺑﮭﯽ 75 ٪ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ،ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮩﻠﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮬﮯ 27 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ، ﺩﻭ ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺩﻧﮕﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻃﻼﻕ ﮬﻮ ﺑﮭﯽ ﮔﺊ ﺗﻮ 30 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻃﻼﻕ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﮐﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺍﻣﮑﺎﻧﺎﺕ ﻧﮧ ﮬﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ،، ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺗﺠﺮﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﻧﭽﻮﺭ ﮬﮯ ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﺰﯼ ﻣﺖ ﻟﯿﮟ ﭘﻠﯿﺰ ،، ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﺭﺯﻕ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ، ﻧﻮﭦ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭨﮑﮍﮮ ﻣﻠﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﺎﻟﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺑﮩﺘﺮ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ ،، ﺍﮐﯿﻼ ﻣﺮﺩ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺷﺮﻁ ﻟﮕﺎ ﻟﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﮐﺮﻭﮌ ﭘﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺤﺮﯾﮧ ﺗﺎﺅﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﭨﮭﯽ ﻧﮧ ﮬﻮ ﺗﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ، ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﯿﺎﮬﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺍﻥ ﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮ ﮔﯽ ،، ﺷﺎﺩﯼ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺑﮓ ﺑﯿﻨﮓ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﺎ ،،ﮬﺮﯼ ﺍﭖ ﺑﻮﺍﺯﺋﺰ ،، ﻟﮓ ﺟﺎﺅ ﺍﻣﯽ ﺍﺑﻮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ.