نماز میں 2 سجدے کیوں ہیں۔؟

محفل میں دوران تقریب کچھ باتیں ہوئی ںایک صاحب کہنے لگے، آپ نے اتنی باتیں کرلیں ذرا یہ تو بتایئے کہ نماز میں دو سجدے کیوں ہیں؟میں نے کہا : مجھے نہیں معلوم۔کہنے لگے: یہ نہیں معلوم تو پھر آپ کو معلوم ہی کیا ہے؟ اتنی دیر سے آپ کی باتیں سن کر محسوس ہورہا تھا کہ آپ علمی آدمی ہیں لیکن آپ تو صفر نکلے۔ میں نے کہا: جناب! میں صفر نکلا نہیں، میں صفر ہوں! میں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ مجھے بہت کچھ آتا ہے۔

کہنے لگے: اب سنیئے کہ نماز میں دو سجدے کیوں ہیں! ایک سجدہ اسلیئے کہ جب اللہ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں تو تمام فرشتے سجدے میں چلے گئے تھے۔ جب فرشتے سجدے سے اٹھے اور دیکھا کہ سجدہ نہ کرنے پر شیطان کو تا قیامت وعید ہوئی تو انہوں نے ایک اور سجدہ شکرانہ ادا کیا کہ ہم حکم عدولی والوں میں نہ تھے۔ میں نے کہا: بہت شکریہ جناب! آپ نے میری معلومات میں اضافہ کیا، میں اس کی تحقیق میں نہیں جاؤنگا کہ آیا یہ بات حسب واقعہ ہے بھی یا نہیں، لیکن ایک سوال میری طرف سے بھی۔

اگر کسی شخص سے نماز میں ایک سجدہ چھوٹ جائے تو کیا اس کی نماز ہوجائے گی؟کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم۔ میں نے پوچھا: جناب! کیا ہمیں پہلے وہ معلومات حاصل نہ کرنی چاہیئیں جن سے زندگی میں اکثر و بیشتر پالا پڑتا ہو یا پڑنے کی امید ہو۔؟۔اس پر وہ بحث کرنے لگے۔بہرحال ان صاحب نے تو وہ بات نہ مانی لیکن میں یہ سمجھ چکا تھا کہ لوگوں کے دماغ میں “علمیت” کا معیار کیا ہے؟یقین کیجئے میں نے مسجدوں کی دیواروں ہر قران و حدیث کی بجائے کفر و گستاخی کے فتوے آویزاں دیکھے۔میں نے کارپینٹر اور مستری کے درمیان “علم غیب” کے مسئلے پر بحث ہوتے دیکھی ہے۔

میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگوں کو مسلکی ویڈیوز شیئر کرتے دیکھا ہے جن کو غسل کے فرائض تک نہیں معلوم۔حدیث میں آتا ہے: “اختلاف العلماء رحمۃ”علماء کا اختلاف رحمت ہے۔مجھے لگتا ہے یہ حدیث مجھے اپنے اندر چھپے ایک اور معانی بتا رہی ہے اور وہ ہے: “اختلاف الجہلاء زحمۃ”جاہلوں کا اختلاف زحمت ہے۔بھائیو دوستو بزرگو کیونکہ علم والے جب اختلاف کرتے ہیں تو غور و فکر کے دروازے کھلتے ہیں اور دلائل کے انبار لگتے ہیںجبکہ جاہل جب اختلاف کرتے ہیں تو بحث و تکرار کے در وا ہوتے ہیں اور گالیوں کے ڈھیر لگتے ہیں

میں تو بس استعمال کرنے کی چیز ہوں

میری ملاقات اس لڑکی سے ایک چوک پر ہوئی ، رات کا وقت تھا سوچا اکیلی کھڑی ہے گھر کیلئے لفٹ دے دیتا ہوں لیکن مجھے معلوم نہیں تھا وہ تو ایک کال گرل تھی ، گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہی وہ بولی گھر لے جانا ہے یا ہوٹل لے جانا ہے اس کے سوال پر میں بوکھلا گیا اور کہا میں نے تو ایسے ہی لفٹ دی تھی کہ گھر چھوڑ دوں گا وہ مسکرا کر بولی میری شکل پر کیا ۔۔۔۔۔ لکھا ہے سب کو معلوم ہوتا ہے رات کو سڑک کنارے کون سی لڑکیاں کھڑی ہوتی اس کی بات پر میں ہنس پڑا اور بولا کہ میں نے کبھی کسی بھی لڑکی کے بارے میں بُرا سوچا ہی نہیں، بس ایسے ہی دل کر رہا تھا کہ باتیں کرتے ہیں پھر تم کو چھوڑ دوں گا، پھر میں نے اس سے پوچھا تمھارا نام کیا ہے کہنے لگی میرا نام جان کر کیا کرنا ہے بازاری لڑکی ہوں استعمال کی چیز ہوں جیسے ایک ٹشو پیپر ہوتا ہے استعمال کیا پھینک دیا۔

میں نے اس سے کئی سوال پوچھے بیچ بیچ میں وہ تھوڑی اداس سی ہو جاتی تھی پھر کہنے لگی سارے مرد ایک جیسے ہی ہوتے ہیں سب کے ایک جیسے ہی سوال ہوتے ہیں تم مجھے کچھ الگ لگے تھے لیکن تم بھی ویسے ہی نکلے، اس کی بات سن کر میرے دماغ میں طرح طرح کے خیالات جنم لے رہے تھے ابھی کچھ کہنے ہی لگا تھا تو وہ بولی کہ ہم سے جو بھی ملتا ہےوہ ہمیشہ ہمارا نام ہی پوچھتا ہے کبھی اپنا نام نہیں بتاتا شاید اس لئے کہ کہیں بدنام نہ ہوجائیں میری جگہ تمھاری محبوبہ ہوتی تو تم سب سے پہلے اسے اپنا نام بتاتے کیا کرتے ہو کیا پسند ہے سب بتاتے تاکہ وہ تم کو یاد رکھے کیونکہ وہ تمھاری دنیا کی لڑکی ہے لیکن میں چونکہ اچھی لڑکی نہیں اس لئے تم نے اپنے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا کیونکہ تم نے کون سا مجھے یاد رکھنا ہے ہیں میں تو ہوں ہی بھولنے کی چیز، وہ بول رہی تھی اور میرے دماغ پر ہتھوڑے چل رہے تھے شرم سے چور ہو رہا تھااس نے کہا کہ ایک بازاری عورت کو کسی نے کبھی اس معاشرے کا حصہ ہی نہیں سمجھا، کبھی اپنے جیسا بنایا ہی نہیں ، میں نے ایک دم ٹوکا اور کہا کہ ایسی تو کوئی بات نہیں ہے میں نے تم کو بُرا نہیں سمجھا تو وہ ہنس پڑی اور بولی اچھا چلو پھر اپنی امی سے ملوانے چلو اس کے اچانک اس سوال پر میری تو جان ہی نکل گئی وہ ہنس کر بولی ارے مذاق کر رہی ہوں مجھے معلوم ہے یہ سب باتیں ہوتی ہیں اچھا بولنے اور اچھا کرنے میں فرق ہوتا ہے پھر بولی میری جگہ تمھاری گرل فرینڈ ہوتی تو تمھارا رویہ کچھ اور ہونا تھابس فرق یہ ہے کہ میں ایک بدنام لڑکی ہوں لیکن دل تو میرے پاس بھی ہے اچھا برا مجھے بھی محسوس ہوتا ہے دکھ اور درد کا مجھے بھی معلوم ہے پیار اور نفرت کے بیچ کا فرق میں بھی سمجھتی ہوں۔

تم اپنی گرل فرینڈ کو بیوی بنانے کی خواہش کرتے ہو لیکن مجھ جیسی کو لوگ بس بستر گرم کرنے لیئے استعمال کرتے ہیں، انسان جس سے محبت کرتا ہے اسے بولتا دیکھ کر خوش ہوتا ہےسوچتا ہے کہ وقت یہیں تھم جائے لیکن ہمیں لوگ صرف دیکھتے ہیں اگر میں تمھاری محبت ہوتی تو تم مجھ سے لازمی یہ پوچھتے کہ کیا کھاؤ گی کیا پیو گی لیکن تم نے مجھ سے ایک بار بھی نہیں پوچھا حالانکہ میں نے دوپہر سے کچھ نہیں کھایا اور پیاس بھی لگی ہے لیکن میں جانتی ہوں تم کو محسوس نہیں ہوا ، میں نے اسے راستے میں اتارا اور گھر چلا گیا ، کئی بار رات کو اسی راستے سے گزر ہوا لیکن وہ مجھے پھر کبھی دکھائی نہیں دی اس دن مجھے یہ احساس ہوا کہ وہ بری نہیں تھی میں اس سے کہیں زیادہ برا ہوں

میں سید زادی ہوں

اس دن جب گلی میں میں کھڑا تھا تو ایک لڑکا ایک گھر کے باہر باربار چکر لگا رہا تھا۔میں نے اس سے جا کے پوچھا بھائی کس کی تلاش ہے تو اس نے کہا کسی کی نہیں بس ایک دوست نے ادھر آنے کا وقت دیا وہ ابھی تلک آیا نہیں۔ خیر میں اس کی بات سن کے گھر چلا گیا اور کچھ لمحوں بعد اچانک سے نکلا تو میں نے دیکھا اسی گھر سے ایک لڑ کی سر جھکائے تیزی سے باہر آئیاور جلدی سے اس لڑکے کو ایک لفافہ دے کرگھر بھاگ گئی۔لڑکا وہ لفافہ لے کر لے کر بہت ہی مسکرایا

اور اسے دل سے لگاتا ہوا وہاں سے چل دیا میں اپنی بری عادت کے مطابق تحقیق کرنے کے لیے اس کے پیچھے چل دیا وہ لڑکا ایک درخت کے نیچے جا کر رکا اور اس نے اس لفافہ کو کھولا جس کے اندر سے ایک صفحہ نکلا اس نے اس صفحہ کو کوئی تین سے چار بار چوما اور اپنی آنکھوں سے لگایا اور پڑھنے لگا میں دور سے اس کے چہرے کو اور حرکات کو دیکھ رہا تھا اور اپنی قیاس آرائیوں میں مصروف تھا اچانک سے دیکھا لڑکے نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور بے ہوش ہو کے گر پڑا۔میں بھاگتے ہوئے اس کے قریب گیا اور اس کے ہاتھ سے وہ ورق لے کر تجسس سے پڑھنے لگا۔ یہ ایک خط تھا جو اس لڑکی نے اپنے اس عاشق کو لکھا۔السلام علیکم!اے وہ نوجوان جس نے ابھی اپنی ماں کی گود سے باہر قدم رکھا ہے اور اس کی تربیت کرنے پر تھوک ڈالا ہےمیں مانتی ہوں تیری سوچ کے مطابق جس محبت کا تو دعویدار ہے وہ سچی اور پکی ہے اور تو اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وفا بھی کرے گا کیونکہ اس محبت کا آغاز نظر کے ملنے سے ہوا تھا اور انجام جسم کے ملنے پر ہوگا،کیونکہ میری ماں نے اپنے بیٹے عبدالرسول کو ایک دن کہا تھابیٹا یہ نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک ہے اور جب یہ تیر چلتا ہے نا اس کی طاقت کبھی کبھی پورے پورے خاندان برباد کر دیتی ہے اور پھر جب اس کا بدلا مڑتا ہے تو لفظ عزت بھی سر جھکا کر انسانوں کی بستی سے نکل جاتا ہے۔

لہٰذا اس آنکھ کو صرف اپنے سوہنے نبیﷺ کے چہرے کو دیکھنے کے لیے منتظر رکھنا ورنہ قیامت کے دن اپنے ماں کو حضور ﷺکی بارگاہ میں شرمندہ نہ کرنا کہمیں اس بات پر شرم کے مارے ڈوب مروں کہ میں نے تیری تربیت میں کمی چھوڑ دی تھی۔۔تو سن اے خود کو خوبصورت شہزادہ اور مجھے دنیا کی حور سمجھنے والے میں ایک سید زادی ہوں اور میرا تعلق اماں فاطمہ کے قبیلہ سے ہے جو قیامت کو تمام جنتی عورتوں کی سردار ہوں گی میں نے اپنے لیے دعا مانگی ہے کہ اے اللہمجھے جنت میں ان کی خادمہ بنانا تو تو خود فیصلہ کر اگر میں تیری محبت میں مبتلا ہو جاؤں تو

خادمیت تو کیا مجھے جنت کے قریب بھی نہیں آنے دیا جائے گا۔رہا سوال تو نے جو مجھے کل شام باغ کے اس پیڑ کے نیچے ملنے کو بلایا ہے میں وہاں بھی آجاتی لیکن میں تم سے ایک وعدہ لوں کہ تو اپنی بہن گڈی کو بھی ساتھ لے کر آنا اور میں اپنے بھائی کو۔کیونکہ تیری نظر میں دنیا کی سب سے شریف عورت تیری گڈی بہن ہے اور میرے بھائی کی نظر میں دنیا کی سب سے شریف عورت میں ہوںاسطرح دونوں مردوں کی غلط فہمی دور ہو جائے گی اور اس کے بعد جب گاؤں میں یہ خبر پھیلے گی

تو کوئی بھائی اپنی بہن کو شریف نہیں سمجھے گا اس طرح آئندہ محبت کرنے والوں پر ہمارا احسان رہے گا کہ یا تو وہ اس گناہ سے ہماری وجہ سے دور رہیں گے یا انہیں ہر طرح کی آسانیا ں ہو جائیں گی رات کے تیسرے پہر کوئی بھائی اپنی بہن کو کسی باغ کے پیڑ کے نیچے ملنے سے نہیں روکے گا۔پھر جب یہ گناہ اتنا عام ہو جائے گا تو لفظ غیرت کی تعریف بھی سب کو سمجھ آ جائے گی کہ اپنی بہن کی طرف کسی کی نگاہ نہ اٹھنے دینا غیرت نہیں بلکہ اپنی نظروں کو کسی کی بہن کی طرف بڑھنے سے روکنے کا نام غیرت ہے۔

اے میرے خوبرو عاشق! تو جو محبت کر رہا ہے اس میں ہوس کی بْو کے سوا کچھ نہیں کیا تیری ماں نے تجھے وہ قرآن نہیں پڑھایا جس میں مومن کی حیا کا ذکرکیا تو مرد مومن اور حضور ﷺکا وہ امتی نہیں جس نے ایمان کے درجوں میں سے ایک درجہ حیا کا پایا ہو۔میری باتیں پڑھ کر تجھے غصہ آیا ہو گا کہ میں نے تیری بہن کا ذکر کیوں کیا لیکن ایمان کی بات ہے ہر باحیا بھائی کی یہ کیفیت ہی ہوتی ہے مگر ایسا ہونا کہ اپنی بہن کے علاوہ کسی بھی عورت کو شریف نہ سمجھنا یہ گندی سوچ اور تربیت کا نتیجہ ہے۔کیا تو نے حضرت علی کا یہ فرمان نہیں پڑھا’’اپنی سوچ کو پانی کے قطروں کی طرح صاف رکھو کیونکہ جس طرح پانی کے قطروں سے دریا بنتا ہے اسی طرح سوچ سے ایمان بنتا ہے‘‘۔

کیا تیرے پاس جو ایمان ہے وہ دکھلاوے کا ہے ؟میں تجھے تبلیغ نہیں کر رہی بس اتنا بتا رہی ہوں کہ تیری بہن گڈی جو کہ میری دوست ہے اس کو بھی ایک تجھ جیسے بے ایمان اور راہ بھٹکے نوجوان نے خط لکھا اور اسی پیڑ کے نیچے بلایا لیکن عین اسی وقت جب کہ میں تجھے خط دے رہی ہوں تیری بہن نے بھی اسے خط دیا اور اسے اس کی محبت کا جواب دیا کہ وہ اس سے محبت کرے گی انہی باتوں اور شرائط کے ساتھ جو میں تجھے لکھ رہی ہوں

اگر تجھے یہ سب میری باتیں منظور ہیں تو جا اور جا کہ گڈی کو بھی ایسا کرنے کی اجازت دے دے جو تو مجھ سے چاہتا ہے کیوں کہ اس لڑکے کو بھی میں نے یہ ہی الفاظ گڈی سے لکھوا کے دئیے اور اگر میں ایسا نہ کرتی تو وہ لڑکا بھی راہ راست پر نہ آتا اور تیری بہن بھی گمراہ ہو چکی ہوتی۔۔اب آخری دو باتیں جن کا تو اپنے اللہ سے وعدہ کرنا۔تونے مجھ پر بری نظر ڈالی تو تیرے لیے اللہ نے یہ مکافات عمل والا سبق پیدا کیا۔اور میں نے تیری بہن کو بری راہ سے بچایا

اس لیے میں بھی اللہ کی عطاکردہ ہمت سے تیری گمراہی اور اللہ کی ناراضگی والے جال سے بچ گئی ہوں۔اب اگر میرا تیری بہن پر احسان ہے تو پھر اس کو بھول کر اپنی گناہ کی ضد پر قائم رہنا چاہتا ہے تو اس دفعہ یاد رکھنا اللہ نے تجھے چار بہنیں اور ایک ماں دی ہے۔میں بھی اللہ سے دعا کروں گی کہ اللہ تجھے اور تیرے گھر والوں کو گمراہی اور ایسے گنا ہ سے بچائے اور تو بھی اللہ سے توبہ کر ۔

یہ میرا پہلا پیار کا خط ہے جس میں میں اعتراف کرتی ہوں کہ میں اللہ سے اس کے حبیب ﷺسے پیار کرتی ہوں اگر جس چیز کی تو دعوت دیتا ہےیہ میرے نبی پاک ﷺ کی سیرت میں ہوتی تو میں اس پر عمل کرتی اور اگر ایسا عمل اور اس کی مثال اماں فاطمہ ؒ کی زندگی میں ملتی تو میں اس پر عمل کرتی اور اگر ان کی زندگی میں نہیں اور میری اور تیری والدہ کی زندگی میں ایسی ایک نہیں ہزار مثالیں بھی ہوتی تو بھی تو مجھے ہرگز اس دعوت کا قبول کرنے والا نہ پاتا، اللہ تیری بہنوں اور میری عزت کی حفاظت فرمائے۔

والسلام اللہ کی بندی

تیری ماں،بہن،بیوی اور بیٹی کی عزت تیرے ہاتھ میں ہے اگر ابلیس پھر بھی تجھے ورغلانے میں کامیاب ہو گیا تو جان لے تو نے لوگوں کو اپنے گھر زنا کی دعوت دے دی اور دنیا کے بازار میں اچھا برا سب ملتا ہے تیری مرضی ہے برائی کے بدلے برائی لے یا نیکی کے بدلے نیکی لے کیوں کہ جیسا سکہ ویسا سودا۔

حضرت علیؓ کی شان

حضور اکرمؐ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہؓ کو اپنے ابن عم حضرت علیؓ کے ساتھ رخصت کیا تو جب حضرت فاطمہؓ اپنے شوہر حضرت علیؓ کے گھر میں داخل ہوئیں تو دیکھا کہ حضرت علیؓ کے پاس تو ایک تکیہ، گھڑا اور کوزے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

اور زمین پر پتھر کا چورا بچھا ہواہے۔ آنحضرتؐ نے حضرت علیؓ کو پیغام بھیجا کہ جب تک میں نہ آ جاؤں اپنی بیوی کے پاس نہ جانا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد حضور اقدسؐ رونق افروز ہوئے۔ آپؐ نے پانی لانے کا حکم دیا، پانی لایا گیا توآپؐ نے اس میں کوئی دعا اور ذکر وغیرہ پڑھاجو کچھ پڑھنا اللہ کو منظور تھا، پھر حضرت علیؓ کے چہرے چھڑک دیا، پھر حضرت فاطمہؓ کو بلایا تو و حیا و شرم کے مارے اپنے کپڑوں میں لپٹی ہوئی حاضر خدمت ہوئیں، آپؐ نے ان پر بھی وہ پانی چھڑکا۔ اس کے بعد نبی اکرمؐ نے حضرت فاطمہؓ سے فرمایا:

’’یاد رکھو! میں نے تیرا نکاح ایسے شخص سے کیاہے جو مجھے اپنے خاندان میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ پھر حضورِ اقدسؐ، حضرت علیؓ کو یہ فرماتے ہوئے واپس تشریف لے گئے کہ اپنی اہلیہ کو لو۔ اور ان دونوں کے لیے دعائیں کرتے رہے یہاں تک کہ حجرہ سے باہر آ گئے۔

دھوکہ

نو بیاہتا بیوی اپنے باپ کو دیکھتے ہی رونے لگی۔باپ نے پوچھا کہ کیوں رو رہی ہو؟بولی ابا جی مجھے دھوکہ دیا گیا ہے۔مجھے اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔میرے ساتھ بد دیانتی کی گئی ہے۔روتے ہوئے بولی جس آدمی سے میری شادی ہوئی ہے وہ پہلے سے شادی شدہ بھی ہے اور اس خبیث کے پانچ بچے اور بھی ہیں۔باپ نے بیٹی کو تسلی دیتے ہوئے کہا ہاں بیٹی بہت زیادتی ہوئی ہے تمہارے ساتھ۔۔۔بیٹی بولی جی ابا جان میرےساتھ بھی بہت ظلم ہوا ہے

اور میرے چھے بچوں کے ساتھ بھی دھوکہ ہوا ہےسب سے اہم سوالمیں میڈیکل کالج کا طالب علم تھا اور ایک دن جب کلاس میں داخل ہوا تو تھوڑا سا لیٹ تھا، مجھے معلوم ہوا کہ پروفیسر صاحب ایک سرپرائز ٹیسٹ لے رہے تھے۔ میں جلدی سے بیٹھا اور میں نے بھی ان سے ٹیسٹ پیپر لے لیا۔ میں نے جب حل کرنا شروع کیا تو میں پریشان تھا کہ باقیوں سے دیر سے شروع ہوا ہوں لیکن کیونکہ میں ہر روز کا لیسن گھر جا کر تیار کرتا رہتا تھا تو کافی جلدی میں نے سارے سوال ٹھیک ٹھیک سے حل کر لیے، اتنےمیں میں نے ٹیسٹ پیپر پلٹا اور آخری سوال دیکھا تو میں حیران رہ گیا ، لکھا تھا: یونیورسٹی کی صفائی کرنے والے چپڑاسی کا پورا نام کیا ہے؟ میں نے سوچا کہ یہ غلطی سے ٹیسٹ میں شامل کردیا گیا ہو گا سو میں نے اس کا کوئی جواب نہ لکھا اور اپنا باقی پیپر جمع کرا دیا۔ میں نے اس کو بہت بار دیکھا تھا، وہ ایک لمبا، چوڑا آدمی تھا لیکن مجھے اس کا نام یاد نہیں تھا اور مجھے ویسے بھی یقین تھا کہ اس سوال سے گریڈ کو کوئی اثر نہیں پڑ سکتا تھا کہ میرے ایک کلاس فیلو نے پروفیسر سے پوچھ ہی لیا کہ سر کیا اس کے بھی مارکس ہیں؟ پروفیسر نے بولا: بیٹا جی سب سے زیادہ مارکس اس ہی سوال کے ہیں اور یہ میں کوئی مزاق نہیں کر رہا کیونکہ آپ سب ڈاکٹر بننے جا رہے ہو اور ڈاکٹر پورے معاشرے کا مسیحا ہوتا ہے،

ایسے انسان کے لیے اچھا انسان ہونا بہت اہم ہے، اگر آپ ادھر کے صفائی کرنے والے کا نام نہیں جانتے تو آپ کے دل میں گھمنڈ کا ناسور ہے اور تکبر ہر بیماری کی جڑ ہے۔ آپ اگر اچھے انسان نہیں ہو تو کسی کو کیسے شفایاب کر سکتے ہو۔ آج اس بات کو کوئی بیس سال بیت چکے ہیں اور میں ایک بہت اچھا اور معروف ڈاکٹر ہوں اور مجھے آج تک ہمارے چپڑاسی کا نام یاد ہے،

اس کا نام جاہن تھا اور میرا خیال ہے کہ کلاس کے سب سٹوڈنٹس اس کا نام ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ جب بھی ہم کسی جگہ کام کرتے ہیں تو وہاں کے سب لوگ ہمارے کام آتے ہیں، کسی کا کام بڑا ہوتا ہے، کسی کا چھوٹا، لیکن اس کی وجہ سے ہم کسی کی کم اور کسی کی زیادہ عزت کرنے کا حق نہیں رکھتے، اگر کسی مشین کو دیکھو تو کتنے بڑے چھوٹے پرزوں سے مل کر بنتی ہے، اگر ایک چھوٹا سا پرزا بھی گم جائے یا ڈھیلا پڑ جائے تو مشین پوری بیکار ہو جاتی ہے،

ہر ایک کی عزت کرنا سیکھو۔ عزت لوگ نہیں دیتے، خدا دیتا ہے اور صرف اس کو دیتا ہے، جو عزت دینا جانتا ہے۔ چیزوں کی عزت ایک گھٹیا اور نیچ سوسائٹی کی علامت ہے، جیسے ہم پاکستانی۔ جتنے ملکوں نے ترقی کی انہوں نے جزبے کی قدر کی ہے اور پورا پورا معاشرہ پنپ گیا اور ادھر پاکستان میں وہی پیدائشی رئیس چار خاندان عزت عزت اپنا حق بنا کر سب کے سر پر بیٹھ کر ٹھنگیں مار رہے ہیں کیوں؟۔۔۔کیونکہ آپ لوگ مارنے دیتے ہیں،

آپ لوگ ان کو بڑی چیز خود بناتے ہیں۔ جب کسی پر ظلم ہو اور ساتھ والے چپ کر کے دیکھیں تو وہ معاشرہ مردہ ہوتا ہے، کیونکہ اللہ نے تو صاف بتایا ہے کہ تمہارے سامنے کسی مظلوم یا ناتواں پر ظلم ڈھایا جائے تو ا سے ہاتھ سے روکو، نہیں روک سکتے تو زبان سے روکو، سکت نہیں ہے، تو دل میں تو برا جانو۔ ادھر تو سب لکیر کے فقیر ہیں، جس کے پاس پیسہ اس کے پاس طاقت

ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی۔

ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﮭﮏ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺑﻨﺎ ﺑﻨﺎ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﮩﻤﺎﻧﺪﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ۔ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ۔ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ، ” ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮨﻮﮞ ۔ ” ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺍ

ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺟﺎ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﷺ ﺁﺝ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮨﯿﮟ ” ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﯿﺤﺪ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﻗﺖ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﻣﺤﻨﺖ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺍﭼﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﺟﻮﭦ ﮔﺌﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻣﻌﺰﺯ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ۔ ﺍﺱ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﭘﺮ ﺗﮑﻠﻒ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ‘ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻭﮞ ﮔﺎ ‘ ۔ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺣﺸﺮﺍﺕ ، ﺑﭽﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻣﮩﻠﮏ ﺣﺸﺮﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ۔ﺟﺐ ﻭﮦ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ” ﯾﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﺮ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺧﻄﺮﺍﺕ ، ﻣﺸﮑﻼﺕ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﻠﮏ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺗﻢ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﺪﺍﺭﺕ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ ۔

“ﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺟﻮ ﮨﺮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ ﮐﮯ ﻟﮯ ﮐﮭﻼ ﺭﮨﮯ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺑﺨﺸﯿﺶ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ، ” ﺟﺐ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﻼ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ، ﺍﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺗﮯ ﮨﯿﮟ , ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ، ” ﮐﺲ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﺳﮯ ؟ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ؟ ” ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ، ” ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺼﯿﺐ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺍﻭﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ “ﻣﯿﺮﮮ ﻋﺰﯾﺰﻭ ! ﺟﺎﻥ ﻟﻮ ﮐﮧ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﺟﻨﺖ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﮯ ۔ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ، ” ﺟﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯ ﺁﺧﺮ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮯ ﻟﻮﺙ ﮨﻮ

شادی اور محبت میں کیا فرق ہے؟

ایک بار ایک لڑکا اپنی ایک ٹیچر کے پاس گیا اور ان سے پوچھا کہ مس شادی اور پیار میں کیا فرق ہوتا ہے؟ وہ بولی کہ اس کا جواب میں تمہیں ایک تجربے کی روشنی میں سکھاؤں گی۔ ایک گندم کے کھیت میں جاؤ اور وہاں سے گندم کا ایک ایسا خوشہ توڑ کر لاؤ جو تمہیں سب سے بڑا اور شاندار لگے پر ایک شرط ہے کہ ایک بار آگے چلے گئے تو کھیت میں واپس جا کر کوئی پرانا گندم کا خوشہ نہیں توڑ سکتے، مثال کے طور پر تم نے ایک بہت بڑا خوشہ دیکھا لیکن

خوشہ دیکھا لیکن تمہیں لگے کہ ابھی اتنا کھیت باقی پڑا ہے اور تم اس کو چھوڑ کر آگے نکل جاتے ہو اور آگے کوئی خوشہ اس جتنا بڑا نہیں ملتا تو اب تم واپس لوٹ کر اس والے کو نہیں لے سکتے۔ وہ گیا اور بغل والے کھیت میں چھانٹی کرنے لگا، ابھی دیکھ ہی رہا تھا کہ چوتھائی کھیت میں چھانٹی کر کے اس کو بہت سے بڑ ے بڑے گندم کے خوشے نظر آئے لیکن اس نے ان میں سے کسی کو چننے کے بچائی سوچا کہ ابھی اتنا کھیت باقی پڑا ہے اس میں اس سے بھی بڑے مل جائیں گے، جب اس نے سارا کھیت دیکھ لیا تو آخر میں اس کو سمجھ آئی کہ بالکل شروع میں جو خوشے اس نے دیکھے تھے وہی سب سے بڑے بڑے تھے اور اب وہ واپس تو جا نہیں سکتا تھا، سو وہ اپنی میڈم کے پاس خالی ہاتھ واپس لوٹ آیا۔

اس کی میڈم نے پوچھا کہ کدھر ہے سب سے بڑا گندم کا خوشہ، وہ بولا کہ میں آگے نکل گیا تھا اس امید میں کہ شاید کوئی اور بہتر والا مل جائے گا مگر جب تک سمجھ آیا ، میں آگے آگیا تھا اور واپس تو نہیں لوٹ سکتا تھا نا۔ اس کی میڈم نے بولا کہ بیٹے سمجھ جاؤ کہ یہ معاملہ ہی محبت میں ہوتا ہے، آپ جوان ہوتے ہو، کم سن اور پر جوش بہتر سے بہتر کی تلاش میں ایک عمر گزار دیتے ہو تو پتہ چلتا ہے کہ جو بیچ میں چھوڑ دیے تھے وہی لوگ اصل میں بہت انمول تھے لیکن اب آپ ان کو واپس حاصل نہیں کر سکتے تو پچھتاتے ہو۔ اب ایک کام کرو ساتھ والے چھلی کے کھیت میں جاؤ اور ادھر سے سب سے بڑی چھلی لے کر آؤ جو تمہیں مطمئن کر سکتی ہو۔

وہ گیا اور لگا مکئی کے کھیت کی چھانٹی کرنے۔ ابھی تھوڑا ہی کھیت دیکھا تھا کہ ایک درمیانی چھلی اس کو ٹھیک لگی اور اس نے سوچا کہ پھر پہلے والی غلطی نہ کر بیٹھوں، تو وہ اسی کو لے آیا۔ میڈم نے بولا اب کی بار آپ خالی ہاتھ نہیں لوٹے؟ اس نے بولا، مجھے لگا کہ اس سے بڑی بھی ہوں گی مگر میرے لیے یہی بہتر تھی اور اگر آگے اس سے بھی چھوٹی ہوتیں تو میں واپس بھی تو نہیں لوٹ سکتا تھا نا۔ میڈم بولی: یہ ہے شادی کا معاملہ، جو آپ کو ایسی لگے کہ یہ مجھے مطمئن کر رہی ہے، اس کا سب سے شاندار ہونا ضروری نہیں، اور یہ بات ہمیشہ آپکو آپ کی ماضی کی محبتوں کے تجربے سکھاتے ہیں۔ اب آپ سمجھے کہ محبت اور شادی میں کیا فرق ہوتا ہے

وفادار کتا

بغداد میں ایک شخص نے کتا پال رکھا تھا ایک دن اس کا کہیں جانا ہوا تو کتا بھی ساتھ ساتھ چلنے لگا، یہاں تک کہ اس شخص کا گزر اس کے دشمنوں کے پاس سے ہوا، انہوں نے پکڑ لیا اور ایک مکان میں لے جا کر قتل کر کے کنوئیں میں پھینک دیا، کتا ان کے دروازے پر پڑا رہا ان لوگوں میں سے ایک شخص باہر نکلا تو کتا اسے کاٹنے کو دوڑا، اس نے لوگوں کو مدد کے لئے پکارا اور بمشکل جان بچائی۔

مگر اس واقعہ کی اطلاع خلیفہ کو بھی ہوئی تو خلیفہ نے کو بلایا اور پوچھا آخر کیا وجہ ہے کتا تیرے پیچھے کیوں پڑ گیا؟ مقتول کی ماں نے دیکھا تو کہا میرے بیٹے کے دشمنوں میں یہ شخص بھی ہے کوئی تعجب کی بات نہیں یہ بھی قاتلوں میں شامل ہو۔ چنانچہ خلیفہ نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ اس شخص کے ساتھ ساتھ چلو وہ سبھی جا رہے تھے اور کتا بھی ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ اس کنوئیں پر پہنچے تو کتے نے زور زور سے بھونکنا شروع کر دیا یہ ماجرا دیکھتے ہی اس شخص نے اقرار کر لیا کہ میں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اسے قتل کیا ہے۔چنانچہ خلیفہ نے قصاص میں تمام کو قتل کرا ڈالا۔

کتا بھی اپنے مالک کا اتنا وفادار ہے کہ اس کا نمک کھاتا ہے تو پھر اس کی چوکھٹ سے لگا رہتا ہے اور اپنی وفاداری کا حق ادا کر دیتا ہے۔ لیکن ہم انسان اپنے رب العالمین سے کیسے غافل ہوئے کہ اس کی ہر طرح کی نعمت کے باوجود دنیا میں ایسے کھو گئے کہ اپنے رب کو بھول گئے اور اس کے نا شکرے ہو گئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں نے تم کو عنایت کیا اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کر سکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بے انصاف اور نا شکرا ہے۔‘‘(سورہ ابراہیم آیت 34)

حضرت عمرؓکا قول

سیدنا عمرؓ کے زمانے میں ایک علاقے کا شہزادہ تھا۔ وہ گرفتار ہو کر پیش ہوا۔ حضرت عمرؓ چاہتے تھے کہ اس بندے کو قتل ہی کروا دیں کیونکہ اس نے مسلمانوں کے خلاف بہت ہی زیادہ مصیبت بنائی ہوئی تھی۔ چنانچہ آپ نے اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ جب قتل کا حکم دے دیا تو اس نے کہا، جی کیا آپ میری آخری تمنا پوری کر سکتے ہیں؟ آپ نے پوچھا، کون سی؟ اس نے کہا مجھے پیاس لگی ہوئی ہے لہٰذا پانی کا پیالہ دیجئے، آپ نے حکم دیا کہ اسے پانی کا پیالہ پلا دواسے پانی کا پیالہ دے دیا گیا۔ جب اس نے پانی کا پیالہ ہاتھ میں لیا تو کانپنا شروع کردیا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا، بھئی! آپ کانپ کیوں رہے ہیں؟ کہنے لگا، مجھے ڈر لگ رہا ہے

کہ میں ادھر پانی پینے لگوں گا اور ادھر جلاد مجھے قتل کر دے گا، اس لیے مجھ سے پیا ہی نہیں جا رہا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا تو فکر مت کر جب تک تو یہ پانی نہیں پی لیتا اس وقت تک تجھے قتل نہیں کیا جائے گا۔ جیسے ہی آپؓ نے یہ کہا تو اس نے پانی کا پیالہ زمین پر گرا دیا اور کہنے لگا،جی آپ قول دے چکے ہیں، کہ جب تک میں اپنی کا یہ پیالہ نہیں پیوں گا آپ مجھے قتل نہیں کریں گے، لہٰذا اب آپ مجھے قتل نہیں کر سکتے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ہاں میں نے قول دیا تھا لہٰذا اب میں تجھے قتل نہیں کرتا جیسے ہی آپ نے کہا کہ میں تجھے قتل نہیں کرتا تو اس وقت وہ کہنے لگا، جی اچھا آپ نے تو فرمایا کہ آپ مجھے قتل نہیں کریں گے لیکن میری بات سن لیجئے کہ آپ مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان بنادیجئے۔

آپ نے پوچھا، بھئی! آپ پہلے تو مسلمان نہیں بنے اب بن رہے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ پہلے آپ میرے قتل کا حکم دے چکے تھے، اگر میں اس وقت کلمہ پڑھ لیتا تو لوگ کہتے کہ موت کے خوف سے مسلمان ہوا ہے، لہٰذا میں چاہتا تھا کہ کوئی ایسا حیلہ کروں کہ موت کا خوف ٹل جائے، پھر میں اپنی مرضی سے اسلام قبول کروں اور لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اللہ کی رضا کے لیے اسلام قبول کیا ہے۔ تو مخلص بندے کا کام کبھی ادھورا نہیں رہتا بلکہ ہمیشہ رب العزت اس کو پورا کر دیتے ہیں۔

محبت کی ایک لازوال داستان

ابو العاص بعثت سے پہلے ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا : میں اپنے لیے آپ کی بڑی بیٹی زینبؓ کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں ان کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔ گھر جا کر رسول اللہ ﷺ نے زینب سے کہا : تیرے خالہ کے بیٹے نے تیرا نام لیا ہے کیا تم اس پر راضی ہو ؟ زینب کا چہرہ سرخ ہوا اور مسکرائیں- رسول اللہ ﷺ اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور ابو العاص بن الربیع کا رشتہ زینب کے لیے قبول کیا۔ یہاں سے محبت کی ایک داستان شروع ہوتی ہے۔

ابو العاص سے زینبؓ کا بیٹا “علی” اور بیٹی”امامۃ” پیدا ہوئے۔ پھر آزمائش شروع ہوجاتی ہے کیونکہ نبی ﷺ پر وحی نازل ہوئی اور آپﷺ اللہ کے رسول بن گئے، ابو العاص کہیں سفر میں تھے جب واپس آیا تو بیوی اسلام قبول کر چکی تھیں۔ جب گھر میں داخل ہوا بیوی نے کہا : میرے پاس تمہارے لیے ایک عظیم خبر ہے۔ یہ سن کر وہ اٹھ کر باہر نکلتا ہے۔ زینب خوفزدہ ہو کر ان کے پیچھے پیچھے باہر نکلتی ہے اور کہتی ہے : میرے ابو نبی بنائے گئے ہیں اور میں اسلام قبول کر چکی ہوں۔ ابو العاص : تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ؟ اب دونوں کے درمیان ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوتا ہے جو کہ عقیدے کا مسئلہ تھا۔ زینبؓ : میں اپنے ابو کو جھٹلا نہیں سکتی، نہ ہی میرے ابو کبھی جھوٹے تھے وہ تو صادق اور امین ہیں ، میں اکیلی نہیں ہوں میری ماں اور بہنیں بھی اسلام قبول کر چکی ہیں، میرا چچا زاد بھائی ( علیؓ بن ابی طالب ) بھی اسلام قبول کر چکے ہیں، تیرا چچا زاد ( عثمانؓ بن عفان ) بھی مسلمان ہوچکے ہیں، تیرے دوست ابوبکرؓ بھی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ ابو العاص : مگر میں نہیں چاہتا کہ لوگ یہ کہیں کہ اپنی قوم کو چھوڑ دیا، اپنے آباو اجداد کو جھٹلایا۔تیرے ابو کو ملامت نہیں کرتا ہوں۔ بہر حال ابو العاص نے اسلام قبول نہیں کیا یہاں تک کہ ہجرت کا زمانہ آگیا اور زینبؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہا :

اے اللہ کے رسولﷺ کیا آپ مجھے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے شوہر اور بچوں کے پاس ہی رہو۔ وقت گزرتا گیا اور دونوں اپنے بچوں کے ساتھ مکہ میں ہی رہے یہاں تک کہ غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا اور ابو العاص قریش کی فوج کے ساتھ اپنے سسر کے خلاف لڑنے کے لیے روانہ ہوا۔ زینبؓ خوفزدہ تھی کہ اس کا شوہر اس کے ابا کے خلاف جنگ لڑے گا اس لیے روتی ہوئی کہتی تھی: اے اللہ میں ایسے دن سے ڈرتی ہوں کہ میرے بچے یتیم ہوں یا اپنے ابو کو کھودوں۔ ابو العاص بن الربیع رسول اللہ ﷺ کے خلاف بدر میں لڑے ، جنگ ختم ہوئی تو داماد سسر کے قید میں تھا،

خبر مکہ پہنچ گئی کہ ابو العاص جنگی قیدی بنائے گئے۔ زینبؓ پوچھتی رہی کہ میرے والد کا کیا بنا ؟ لوگوں نے بتا یا کہ مسلمان تو جنگ جیت گئے اس پر زینبؓ نے سجدہ شکر ادا کیا۔ پھر پوچھا : میرے شوہر کو کیا ہوا ؟ لوگوں نے کہا : اس کو ان کے سسر نے جنگی قیدی بنایا۔ زینبؓ نے کہا :میں اپنے شوہر کا فدیہ (دیت) بھیج دوں گی۔ شوہر کا فدیہ دینے کے لیے زینبؓ کے پاس کوئی قیمتی چیز نہیں تھی اس لیے اپنی والدہ ام المومنین خدیجہؓ کا ہار اپنے گلے سے اتار دیا اور ابو العاص بن الربیع کے بھائی کو دے کر اپنے والد ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ ایک ایک قیدی کا فدیہ وصول کر کے ان کو آزاد کر رہے تھے اچانک اپنی زوجہ خدیجہؓ کے ہار پر نظر پڑی توچھا :

یہ کس کا فدیہ ہے ؟ لوگوں نے کہا : یہ ابو العاص بن الربیع کا فدیہ ہے۔یہ سن کر رسول اللہ ﷺ روپڑے اور فرمایا :یہ تو خدیجہؓ کا ہار ہے، پھر کھڑے ہوگئے اور فرمایا : اے لوگو یہ شخص برا داماد نہیں کیا میں اس کو رہا کروں ؟ اگر تم اجازت دیتے ہو میں اس کا ہار بھی اس کو واپس کردوں؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسولﷺ۔ رسول اللہ ﷺ نے ہار ابو لعاص کو دیا اور فرمایا : زینبؓ سے کہو کہ خدیجہ کے ہار کا خیال رکھے۔ پھر فرمایا : اے ابو العاص کیا میں تم سے تنہائی میں کوئی بات کر سکتا ہوں؟ ان کو ایک طرف لے جا کر فرمایا :

اے ابو العاص اللہ نے مجھے کافر شوہر اور مسلمان بیوی کے درمیان جدائی کرنے کا حکم دیا ہے اس لیے میری بیٹی کو میرے حوالے کرو گے؟ ابو العاص نے کہا: جی ہاں۔ دوسری طرف زینبؓ شوہر کے استقبال کے لیے گھر سے نکل کر مکہ کے داخلی راستے پر ان کی راہ دیکھ رہی تھی۔ جب ابو العاص کی نظر اپنی بیوی پر پڑی فورا کہا : میں جا رہا ہوں۔ زینبؓ نے کہا : کہاں ؟ ابو العاص : میں نہیں تم اپنے باپ کے پاس جانے والی ہو ۔ زینب : کیوں؟ ابو العاص : میری اور تمہاری جدائی کے لیے۔ جاو اپنے باپ کے پاس جاو۔
زینبؓ : کیا تم میرے ساتھ جاو گے اور اسلام قبول کرو گے؟

ابو العاص : نہیں۔ زینبؓ اپنے بیٹے اور بیٹی کو لے کر مدینہ منورہ چلی گئی۔ جہاں 6 سال کے دوران کئی رشتے آئے مگر زینبؓ نے قبول نہیں کیا اور اسی امید سے انتظار کرنے لگی کہ شوہر شاید اسلام قبول کر کے آئے گا۔ 6 سال کے بعد ابو العاص ایک قافلے کے ساتھ مکہ سے شام کے سفر پر روانہ ہوا، سفر کے دوران راستے میں صحابہ کی ایک جماعت نے ان کو گرفتار کر کے ساتھ مدینہ لے گئے،مدینہ جاتے ہوئے زینبؓ اور ان کے گھر کے بارے میں پوچھا ، فجر کی آذان کے وقت زینبؓ کے دروازے پر پہنچا ۔ زینبؓ نے ان پر نظر پڑتے ہی پوچھا کیا اسلام قبول کر چکے ہو؟

ابو العاص : نہیں۔ زینبؓ : ڈرنے کی ضرورت نہیں خالہ زاد کو خوش آمدید، علی اور امامہ کے باپ کو خوش آمدید۔ رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی تو مسجد کے آخری حصے سے آواز آئی کہ: میں ابو العاص بن الربیع کو پناہ دیتی ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے سن لیا جو میں نے سنا ہے؟ سب نے کہا :جی ہاں اے اللہ کے رسولﷺ۔ زینبؓ نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ ابو العاص میرا خالہ زاد ہے اور میرے بچوں کا باپ ہے میں ان کو پناہ دیتی ہوں۔ نبی ﷺ نے قبول کر لی اور فرمایا : اے لوگو یہ برا داماد نہیں،اس شخص نے مجھ سے جو بھی بات کی سچ بولا اور جو وعدہ کیا وہ نبھایا۔ اگر تم چاہتے ہو کہ

اس کو اس کا مال واپس کر کے اس کو چہوڑ دیا جائے یہ اپنے شہر چلا جائے یہ مجھے پسند ہے۔ اگر نہیں چاہتے ہو تو یہ تمہارا حق ہے اور تمہاری مرضی ہے میں تمہیں ملامت نہیں کروں گا۔ لوگوں نے کہا :ہم اس کا مال اس کو واپس کر کے اس کو جانے دینا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے زینب تم نے جس کو پناہ دی ہم بھی اس کو پناہ دیتے ہیں۔ اس پر ابو العاص زینبؓ کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ نے زینب سے فرمایا : اے زینب ان کا اکرام کرو یہ تیرا خالہ زاد ہے اور بچوں کا باپ ہے مگر یہ تمہارے قریب نہ آئےکیونکہ یہ تمہارے لیے حلال نہیں۔ زینبؓ نے کہا : جی ہاں اے اللہ کے رسولﷺ۔ گھر جا کر ابو العاص بن ربیع سے کہا :

اے ابو العاص جدائی نے تجھے تھکا دیا ہے کیا اسلام قبول کر کے ہمارے ساتھ رہو گے۔ ابو العاص : نہیں۔ اپنا مال لے کر مکہ روانہ ہو گئے جب مکہ پہنچے تو کہا : اے لوگو : یہ لو اپنے اپنے مال، کیا کسی کا کوئی مال میرے ذمے ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ تمہیں بدلہ دے تم نے بہتر وعدہ نبھایا۔ ابو العاص نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کے بعد مدینہ روانہ ہوئے اور جب مدینہ پہنچے تو پھر فجر کا وقت تھا ۔ سیدھا نبی ﷺ کے پاس گئے اور کہا :کل آپ نے مجھے پناہ دی تھی اور آج میں یہ کہنے آیا ہو کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور

آپ اللہ کے رسولﷺ ہیں۔ ابو العاصؓ نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ کیا زینبؓ کے ساتھ رجوع کی اجازت دیتے ہیں؟ نبی ﷺ نے ابوالعاصؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : آو میرے ساتھ، زینبؓ کے دروازے پر لے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا اور زینبؓ سے فرمایا : یہ تمہارا خالہ زاد واپس آیا ہے تم سے رجوع کی اجازت مانگ رہا ہے کیا تمہیں قبول ہے؟زینبؓ کا چہرہ سرخ ہوا اور مسکرائیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس واقعے کے صرف ایک سال بعد زینبؓ کا انتقال ہوا جس پر ابو العاصؓ لوگوں کے سامنے زارو قطار رونے لگے حتی کہ رسول اللہ ﷺ ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر تسلی دیتے تھے، جواب میں ابو العاصؓ کہتے :اے اللہ کے رسول ﷺ اللہ کی قسم زینب کے بغیر میں دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا اور ایک سال کے بعد ہی ابو العاصؓ بھی انتقال کر گئے۔