ایک طوائف کی بیٹی

ایک دن طوائف کی بیٹی اپنی ماں سے پوچھنے لگی کہ اماں یہ پیار کیا ہوتا ہے ؟

طوائف نے عجیب لہجہ میں کہا ۔ مفت کی عیاشی ۔ کیونکہ ہمارے ہاں زیادہ تر محبت کی شادیاں ناکام ہو جاتی ہے اور انجام جدائی اور رسوائی نکلتا ہے ایسا لگتا ہے کہ محبت نفرت کی ابتدا ہوتی ہے ۔ دیکھو کتنا عجیب ہے کہ محبت دن گزرنے کے ساتھ زیادہ ہونے کے بجائے کم ہوتی ہے ۔ ایک دوسرے سے بوریت محسوس ہوتی ہے ۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے اس لئے کہ محبت آزادی سے ہوتی ہے قید سے نہیں ۔ ہمارے ہاں الٹا چکر ہے ۔ جیسے ہی کسی کو محبت ہو جاتی ہے ساتھ میں قید کا سفر شروع ہو جاتا ہے ۔ لڑکیوں کی فرمائشیں بھی عجیب ہوتی ہے ۔ مجھے روز چاند کی طرف دیکھ کر لویو کا مسیج کرنا ہے ۔ میری ہر بات کا جواب دینا ہے میری ہر بات ماننی ہے ۔ میں جب بھی مسیج کروں تو جواب فورا آنا چاہئے لڑکا کچھ یوں کہتا ہے اپنی کزن سے بات نہیں کرنی ۔ میری مرضی کےکپڑے پہننے ہیں ۔ زیادہ باہر نہ نکلا کر ۔ مجھی یہ اچھا نہیں لگتا ۔ وہ اچھا نہیں لگتا ۔

گویا محبت نہ ہوئی ایک فل ٹائم ڈیوٹی ہوئی لوگ کہتے ہیں کہ محبت کی نہیں جاتی بلکہ خود ہو جاتی ہے ۔ غلط ہے یہ بات اور اس کا کہنے والا بھی ۔ ہاں ابتدا تو ہوتی ہے لیکن اس کو مظبوظ کرنے میں اپنے ارادیں داخل ہوتے ہیں ۔ ہمیں کوئی پسند بھی آجئےتو سمجھتےہیں کہ ہمیں اس سے محبت ہو گئی ہے

پرفیوم کی تیاری میں غلیظ ترین چیز استعمال کیے جانے کا انکشاف

عرب ٹی وی کے مطابق دارالحکومت ریاض میں ایک ایسی لیب کا پتہ لگایا گیا ہے جہاں مشہور بین الاقوامی برانڈز کے نام سے جعلی پرفیومز تیار کرکے مملکت میں فروخت کیے جارہے تھے.

سعودی وزارت تجارت وسرمایہ کاری نے شہری کی شکایت پرمذکورہ لیب پر چھپاپہ مار کرجعلی پرفیومز کی بڑی مقدار قبضے میں لے لی.

چھاپے کے دوران حکام کو پیشاب سے بھری بوتلیں بھی ملیں جو پرفیومز میں شامل کرنے کے غرض سے اکٹھی کی گئی حکام نے بتایا کہ یہ لیب دارالحکومت ریاض کے مشہور بازار التعمیر میں واقع ہے تاہم مذکورہ لیب کا نام اور اس میں ملوث افراد کی شناخت ظاہرنہیں کی گئی جب کہ بدنامی کے پیش نظر پرفیومز بنانے والی بین الاقوامی کمپنی کا نام بھی منظر عام پر نہیں لایا گیا.

واضح رہے کہ ایک شہری نے خفیہ طور پر ویڈیو بنا کر حکام کو ارسال کی تھی جس میں اس مکروہ دھندے کی نشاندہی کرکے حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا.

صبح گھر سے نکلتے ہوئے یہ تسبیح پڑھیں گے تو سارے دن کی مصیبتیں ختم ہوجائیگی مٹی میں ہاتھ ڈالنے پر سونا بن جائے

انسان جب صبح گھر سے دفتر یا کاروبار یا پھر کسی اور کام سے باہر نکلتا ہے تو شیطان بھی اپنے حواریوں سمیت اسکے ساتھ ہولیتا ہے اور اس کے لئے مصائب اور گناہ کی راہیں ہموار کرتا رہتا ہے. روحانی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی انسان باوضو ہوکر گھر سے باہر نکلے تو تیسرا کلمہ پڑھنا شروع کردے

.شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ شریف اور درود خضری پڑھ لے. کم از کم گیارہ بار تو لازمی یہ کلمہ پاک پڑھنا وطیرہ بنا لے ، انسان ڈرائیونگ کرتے یا ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران بھی زیر لب یا دل میں تیسرے کلمہ کا ورد جاری رکھ سکتا ہے.یہ عمل ایسا مجرب ہےجو انسان پر مشکلات ٹال دیتااور اسکے لئے آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں.بزرگان دین اس کلمہ کی تسبیح کرتے کرتے معرفت کی منازل طے کرگئے. آج بھی تصوف کی بھی تصوف کی راہ پر چلنے کی خواہش رکھنے والے اس کلمہ پاک کا ورد کرتے ہیں

.جو لوگ براؤیں اور دشمنوں کی خطرناک چالوں سے بچنا چاہتے اور جن کے کاروبار میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہوں وہ اس کلمہ کی تسبیح اپنا معمول بنا کر رکھیں .انشا ءاللہ رب العظیم حامی و ناصر ہوگا.

موت کے بعد انسان مرتا نہیں ہے بلکہ صرف یہ تبدیلی آتی ہے“ معروف ڈاکٹر نے ایسا انکشاف کر دیا کہ جان کر اپ بھی سبحان اللہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے

موت کے بعد انسان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا آج تک کوئی حتمی جواب نہیں مل سکا لیکن اب ایک معروف امریکی ڈاکٹر نے اس حوالے سے ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ جان کر آپ بھی بے ساختہ سبحان اللہ پکار اٹھیں گے. ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق نیویارک کے این وائی یو لینگون ہیلتھ سکول آف میڈیسن کے شعبہ انتہائی نگہداشت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سام پرنیا نے انکشاف کیا ہے

کہ ”موت کے بعد انسان مرتا نہیں ہے بلکہ اس کا دماغ اور حواس کام جاری رکھتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ مرنے والا شخص اپنی موت سے آگاہ ہوتا ہے.

موت ایک پراسیس کا نام ہے، ہمارے خاتمے کا نہیں. موت کے وقت دماغ کو آکسیجن کی فراہمی رک جاتی ہے اور دماغ کے سرکٹ بند ہو جاتے ہیں جس سے انسان بیرونی دنیا سے کٹ جاتا ہے.

“ڈاکٹر سام کے مطابق جب دل دھڑکنا بند کرتا ہے تو زندگی کے تمام پراسیسز ختم ہو جاتے ہیں کیونکہ اس سے دماغ، گردوں اور جگر وغیرہ کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے. موت کے اس پراسیس کے بعد انسان کی ایک اور زندگی شروع ہو جاتی ہے. موت کے وقت انسان اپنی تمام عمر کے اعمال کو یاد کرتا ہے اور ایک طرح سے اپنا محاسبہ کرتا ہے. چنانچہ موت کے پراسیس کے بعد انسان مکمل تبدیل ہو کر دوبارہ ایک نئی زندگی کی طرف آتا ہے. اس بار وہ بہت عاجز اور منکسرالمزاج ہوتا ہے اور اس میں خودغرضی بالکل نہیں ہوتی .“

وہ صحابی جنہیں آپ ﷺ اپنا منہ بولا بیٹا کہتے تھے ۔۔۔پڑھیے ایمان افروز اسلامی واقعہ

نبی پاک ﷺ کی پوری زندگی ہمارے لیے بہترین مثال ہے اور آپ ﷺ کی اپنے صحابہ کے ساتھ محبت کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں .سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ وہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن مجید میں آیا ہے.

آپ کو بچپن میں اغوا کر کےغلام بنا لیا گیا تھا. کئی ہاتھوں سے بکتے ہوئے آپ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے. اس دوران آپ کے والد کو بھی آپ کی خبر پہنچ گئی. انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو منہ مانگی رقم کی آفر کر دی. آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، “اگر زید تمہارےساتھ جانا چاہے تو میں کوئی رقم نہ لوں گا.” زید نے اپنے والدین کی بجائے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی

. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا برتاؤ اپنے ملازموں کے ساتھ بھی کیسا ہوتا ہوگا. اس موقع پر حضور صلی اللہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زید رضی اللہ عنہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا. جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نبوت کا اعلان فرمایا تو حضرت خدیجہ، علی اور ابوبکر رضی اللہ عنہم کے بعد آپ چوتھے شخص تھے جو ایمان لائے. طائف کے سفر میں زید حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ تھے. جب وہاں کے اوباشوں نے آپ پر سنگ باری کی تو زید نے یہ پتھر اپنے جسم پر روکے.حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کی شادی اپنی پھوپھی زاد بہن زینب رضی اللہ عنہا سے کر دی تھی. ان میں نباہ نہ ہو سکا اور طلاق ہو گئی. دور جاہلیت کی یہ رسم تھی کہ منہ بولے بیٹوں کا معاملہ سگی اولاد کی طرح کیا جاتا اور ان کی طلاق یافتہ بیویوں سے نکاح حرام سمجھا جاتا. اس رسم کے بہت سے سنگین معاشرتی نتائج نکل رہے تھے. اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حکم دیا کہ آپ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کر لیں تاکہ اس رسم کا خاتمہ ہو.

اسی تناظر میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ کا ذکر سورۃ احزاب میں آیا ہے…یہ بھی پڑھیے..حضرت نوح علیہ السلام کی عمر تقریباً 950 سال تھی وہ جس جھونپڑی میں رہتے تھے وہ اتنی چھوٹی تھی کہ جب آپ سوتے تو آدھا جسم اندر اور آدھا جسم باہر ہوتا جب حضرت عزرائیل علیہ السلام روح قبض کرنے آئے تو پوچھا: آپ نے اتنے سال اس جھونپڑی میں گزار دئیے آپ چاہتے تو اچھا گھر بنا سکتے تھے؟ حضرت نوح علیہ السلام نے جواب دیا : میں نے تمہارے انتظار میں اتنا عرصہ گزار دیا. ملک الموت نے کہا : ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب لوگوں کی عمریں 100 سال سے بھی کم ہوں گی اور وه بڑے بڑے محل بنائیں گے اس پر حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا: (اتنی مختصر زندگی)اگر میں اس زمانے میں ہوتا تو اپنا سر سجدے سے ہی نہ اٹھاتے

یتیموں کی مدد کا ثواب

ظہیر صاحب کراچی کے بڑے بزنس مین ہیں، آج سے 22 سال قبل ان کا اکلوتا بیٹا حادثے کا شکار گیا، بیوی دوسری بار ماں بننے کی صلاحیت سے محروم تھی، ظہیر صاحب کے پاس دو آپشن تھے، یہ نئی شادی کرتے یا پھر باقی زندگی اولاد کے بغیر گزار دیتے لیکن ظہیر صاحب تیسرے آپشن کی طرف چلے گئے،یہ ایک دن کراچی کے بڑے یتیم خانے میں گئے، اپنے مرحوم بیٹے کا ہم عمر تلاش کیا، بچہ گود لیا، گھر لائے، بچے کا نام بدل کر اپنے مرحوم بیٹے کا نام رکھ دیا اور بچے کو اسی اسکول میں داخل کرا دیا.جس اسکول میں ان کا بیٹا پڑھتا تھا، نیا بیٹا سال گزرنے کے بعد ان کا پورا بیٹا بن گیا، یہ دونوں میاں بیوی مرحوم بیٹے کو بھول گئے، ظہیر صاحب کا لے پالک بیٹا جوان ہوا، اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور سارا کاروبار سنبھال لیا، یہ بیٹا شائستہ بھی ہے، مہذب بھی، خوف خدا سے مالامال بھی اور خدمت گزار بھی.

آپ نے اگر کسی بیٹے کو ماں باپ کے پاؤں دھو کر پیتے دیکھنا ہو تو آپ ظہیر صاحب کے لے پالک بیٹے کو دیکھئے،ظہیر صاحب کے بیٹے نے والدین کی محبت اور اطاعت میں مثال قائم کر دی، ظہیر صاحب اور ان کی اہلیہ آج اپنے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک بیٹا لے کر انھیں پہلے سے بہتر بیٹا دے دیا، دوست ظہیر صاحب کے اس فیصلے کو ظہیر ماڈل کہتے ہیں.ہماری دنیا میں کامیاب ہونے والے 82 فیصد لوگ یتیم، طلاق یافتہ والدین کے بچے یا

پھرسنگل پیرنٹس کی اولاد ہوتے ہیں،سائنسی تحقیق نے ثابت کیا، یتیمی انسان کے اندر ایک عجیب فورس پیدا کرتی ہے، یہ فورس انسان کو کہیں سے کہیں لے جاتی ہے، آپ آج دنیا کے 20 بڑے شعبوں کے بیس کامیاب ترین لوگوں کی فہرست نکالیںاور ان کے پروفائل پڑھیں، آپ کو میری بات پر یقین آ جائے گا، اگریتیمی بڑی طاقت نہ ہوتی تو اللہ کے آخری نبیؐ یتیم نہ ہوتے، یتیمی میں کوئی نہ کوئی ایسی طاقت تھی.جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی کو یتیم پیدا کیا اور پھر چھ سال کی عمر میں ان کے سر سے والدہ کا سایہ بھی اٹھا لیا، آپ تاریخ کا مطالعہ کریں، آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے، دنیا کے زیادہ تر بڑے لیڈر، بڑے سپہ سالار بچپن میں یتیم ہو گئے تھے، وہ یتیمی میں بڑے ہوئے اور پھر جوان ہو کر پوری دنیا کی شکل بدل دی، محرومی شاید انسان کی صلاحیتوں کے لیے کک ثابت ہوتی ہے اور یتیم کیونکہ اپنی زندگی کے ابتدائی حصے میں دنیا بھر کی محرومیاں دیکھ لیتا ہے چنانچہ یہ جوان ہونے تک زمانے کی تمام گرم ہواؤں کا ذائقہ چکھ لیتا ہے،ہم دوست اپنے دوستوں کو مشورے دیتے ہیںآپ زندگی میں کم از کم ایک بچہ یا بچی ضرور گود لیں، یہ بچی یا بچہ آپ کے اپنے بچوں سے بہتر ثابت ہو گا ، ہمارے جن دوستوں نے ظہیر ماڈل پر کام کیا وہ آج جھولی پھیلا کر دعائیں دے رہے ہیں.پشاور کا واقعہ پاکستان کی تاریخ کا المناک ترین واقعہ تھا، دہشت گردوں نے 16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک اسکول کے 132 بچوں کو قتل کر دیا، اس واقعے نے پوری دنیا کے انسانوں کو اندر سے ہلا کر رکھ دیا، پوری دنیا پاکستان کے ساتھ اس وقت مغموم ہے، ہم

لوگ کوشش کے باوجود اپنے اندر سے دکھ نہیں نکال پا رہے، ہم اس غم میں دوسری اور تیسری صف کے لوگ ہیں، آپ ان والدین کی حالت کا اندازہ لگائیے جو صبح خود اپنے بچوں کو اسکول چھوڑ کر آئے اور سہ پہر اور شام کے وقت انھیں بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں ملیں، یہ اپنے مرے ہوئے بچوں کے چہرے تک نہ دیکھ سکے، یہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ عملاً فوت ہو چکے ہیں، یہ اب نفسیاتی لحاظ سے کبھی بحال نہیں ہو سکیں گے.میری ان والدین سے درخواست ہے آپ اگر ظہیر ماڈل پر چلے جائیں، آپ اگر ملک کے مختلفیتیم خانوں سے اپنے بچوں کے ہم عمر اور ہم نام تلاش کرلیں، آپ ان بچوں کو گود لیں،آپ انھیں اسی اسکول میں پوری مراعات کے ساتھ داخل کرائیں اور آپ ان یتیم بچوں کے وہ سارے نخرے برداشت کریں جو آپ اپنے بچوں کے برداشت کرتے تھے تو یقینا آپ کے غم میں کمی آ جائے گی، یہ حقیقت ہے ہمارے بچے ہمارے جگر کا ٹکڑا ہوتے ہیں اور آپ کسی دوسرے کے جگر کے ٹکڑے کو اپنے جگر کا حصہ نہیں بنا سکتے لیکن اللہ تعالیٰ نے یتیم بچوں میں ایک عجیب صلاحیت رکھی ہے، انسان جب کسی یتیم بچے کو اپنے بچے کی جگہ دیتا ہے تو یتیم بچہ نہ صرف جلد مرحوم بچے کی جگہ لے لیتا ہے بلکہ یہ انسان کی زیادہ محبت اور زیادہ توجہ کھینچ لیتا ہے چنانچہ مجھے یقین ہے اگر مرحوم بچوں کے والدین ظہیر ماڈل پرآ جائیں تو انھیں اپنے کھوئے ہوئے بچے بھی واپس مل جائیں گے، ان کی نفسیاتی بحالی کا عمل بھی تیز ہو جائے گا اور یہ غم اور دکھ سے بھی جلد چھٹکارہ پا جائیں گے

لٹکتی سکن کو ٹائٹ کرنے کا فارمولا جو 50 سال عمر والوں کو 35 کا بنا دے اس کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں لازمی آزمائیں

لٹکتی سکن کو ٹائٹ کرنے کا فارمولا جو 50 سال عمر والوں
کو 35 کا بنا دے اس کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں لازمی آزمائیں

چہرے کی خوبصورتی شخصیت کو اُبھارتی ہے اگر چہرے پر جھریاں ہوں تو خوبصورتی زائل ہوجائی ہے جس سے شخصیت متاثر ہوتی ہے ۔ جھریوں کی وجہ سے چہرے کی جلد لٹکنے لگتی ہے اور آپ کی عمر حقیقت سے زیادکھنے لگتی ہے ۔اس پریشانی سے بچنے کے لیے آپ ان ٹپس پر عمل کرسکتے ہیں ۔

نائٹ کلینزنگ
ایک چمچ براؤن شوگر (بلکل باریک پسی ہوئی )میں ایک چمچ زیتون کاتیل مکس کرکے پیسٹ بنالیں ۔ پھر پیسٹ کو چہرے پر لگا کرتھوڑی دیر ہلکامساج کریں، خشک ہونے دیں اور 5 منٹ کے بعد تازہ پانی /عرق گلاب سے منہ دھولیں ۔ایسا کرنے سے نہ صرف چہرہ گردوغبارسے پاک ہو جائے گا بلکہ ان عوامل سے بچائے گا جو چہرے پر جھریاں پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔

سکن ٹائٹننگ ٹونر
دو چمچ گلاب کے عرق میں ایک چمچ لیموں کا رس اور ادھی چمچی روغن بادام مکس کرکے کاٹن کی مدد سے چہرے پر لگائیں ۔ جب چہرہ خشک ہو جائے تو تازہ پانی سے دھولیں ایسا کرنے سے چہرے کی سکن کبھی نہیں ٹھلکے گی ۔

موئسچر ائزنگ فیشل ماسک
دو چمچ کوئی بھی اچھا موئسچرائزر، ایک انڈے کی سفیدی، دو چٹکی ہلدی اور ایک چمچی شہد کو مکس کرکے پیسٹ بنالیں ۔ اس پیسٹ کو 20منٹ کےلیے چہرے پر لگا کرتازہ پانی سے دھولیں ۔ یہ عمل بھی چہرے کو پرکشش بنائے گا اور سکن کو جواں رکھے گا ۔

اس کے علاوہ یہ آسان سی ورزش اپنا معمول بنائیں۔
دونوں ہاتھوں کی شہادت کو اُ نگلی سے بھنووں کو اُوپر ماتھے پر دباؤڈالیں ۔ اور آنکھیں بند کرکے بھنووں کو اُپر کی طرف کھینچیں ۔ 5بار اس رعمل کو دہرائیں ۔
دونوں ہاتھوں کو شہادت کی اُنگلی سے گالوںکو اُوپر کی جانب کھینچیں اور ساتھ مسکرائیں ۔ روزانہ اس عمل کو 5 بار دہرائیں ۔ 3 ہفتوں میں ڈھیلی جلد ٹائٹ ہوجائےگی ۔

کالی مرچ سےسفید بال کالے اورگھنے رکھنے کا قدرتی طریقہ مہنگے ٹریٹمنٹ کو فوراََ چھوڑیں بس یہ نسخہ آزمائیں

کالی مرچ سےسفید بال کالے اورگھنے رکھنے کا قدرتی طریقہ مہنگے ٹریٹمنٹ کو فوراََ چھوڑیں بس یہ نسخہ آزمائیں

بالوں کو صحت مند اور خوبصورت دیکھنا سب ہی کی خواہش ہوتی ہے، سفید بال انسان کی شخصیت میں ایک واضح تبدیلی لاتے ہیں، عام طور پر سفید بال ہی لوگوں کی عمر کے بارے میں بتاتے ہیں، جس کے سبب خود اعتمادی کے خاتمے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

دور حاضر میں بالوں کو نت نئے رنگوں میں رنگنے کی روایت عام ہوگئی ہے۔ ایک وقت تھا جب محض تب ہی بال رنگے جاتے تھے جب وہ سفید ہورہے ہوں۔ لیکن اب تو نوجوان لوگ بھی کثرت سے اس فیشن کو اپنا رہے ہیں۔

مصنوعی طریقوں سے بال رنگنا اکثر کافی مہنگا پڑ جاتا ہے۔ دکانوں میں ملنے والی ڈائیز اکثر نقصان دہ کیمیکلز سے تیار کئے جاتے ہیں جو بالوں کو کمزور کرتے ہیں ا وربال جھڑنے لگتے ہیں۔

کتنا ہی اچھا ہو کہ کوئی ایسا طریقہ ہو جس سے آپ کے سفید بال بھی کالے ہوجائیں اور ان کی مضبوطی بھی برقرار رہے۔ مندرجہ ذیل آسان قدرتی طریقے سے آپ اپنے سفید بالوں کو بغیر کوئی نقصان پہنجائے کالے کرسکتے ہیں۔

مصنوعی طریقوں کے مقابلے میں قدرتی نسخوں کے اثر کرنے میں وقت تو زیادہ لگتا ہے لیکن اس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہوتے، اس کے لئے کالی مرچ کے استعمال کا قدرتی طریقہ درج ذیل ہے۔

سفید بال کالے کرنے کا آسان اور مجرب نسخہ
سفید بالوں کیلئے سب سے بہترین چیز بھنگڑا سیاہ ہے، اس کے علاوہ روغن کلونجی، اور کالی مرچ نہایت مفید ہیں۔

تیل بنانے کی ترکیب:
بھنگڑا سیاہ 25 گرام ۔ کالی مرچ 25 گرام اور کلونجی کو ملا کر پانی میں ابال لیں اورپھر اسے چھان کر تیل میں ملا لیں اس تیل کو لگانے سے بال کالے رہیں گے اس کے ساتھ ساتھ آملہ کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے۔

صبح کے ناشتہ میں دو عدد آملہ اس طرح کھایئے جس طرح چیونگم کھائی جاتی ہے، اس طریقہ علاج سے آپ کے سفید بال سیاہ ہوجائیں گے۔

بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے کیلئے
بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے کیلئے چھوٹی چندن کا استعمال بے حد فائدہ مند ہے، چھوٹی چندن سو گرام اور خشک دھنیا دو سو گرام اور سو گرام مصری لے کر ان تینوں اشیاء کو ملا کر ایک چائے کے چمچ کے برابر مقدار میں کھانے سے بلڈ پریشر کنٹرول ہو جاتا ہے۔

ایسا وظیفہ جو دولت کا ڈھیر لگا دیں

انسان پر پریشانیاں آتی رہتی ہے جو کہ مختلف نوعیت کی ہوتی ہے لیکن سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ انسان تہی دامن ہو جائے اور ضروریات زندگی کے لئے اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ۔

کچھ وظائف ایسے ہیں جن کے پڑھنے سے ہر تٓطرح کی تکالیف خٹم ہو جاتی ہے جن کو نوکری نہ ملتی ہو ۔ قرض زیادہ ہو مال میں برکت نہ ہو ۔ یا پھر کسی صورت میں ضروریات پوری نہ ہورہی ہو ان کو چاہئے کہ اس طضیفہ کا ورد کریں ۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو نوکریاں ملی ۔ لوگوں کو کاروبار میں منافع ہونےلگا ۔

بہت سے ایسے تھے جن کے پاس کچھ نہیں تھا لیکن اس وظیفہ کی برکت سے آج وہ امیر و آسودہ ہے ۔ ایک شخص نے اپنا حال بتایا کہ میں قریب تھا کہ روڈ پر بھیک مانگنے لگ جاتا لیکن اس وظیفہ کو جب سے پڑھنا شروع کیا تو حیران ہوگیا کیونکہ غیب سے مسلسل اور فراوانی کے ساتھ رزق ملنےلگا ۔

ایسے تمام لوگ یہ وظیفہ پڑھا کریں ،انشا اللہ چالیس روز تک روزانہ شام مغرب کے بعد اکیالیس سو بار پڑھنا معمول بنا لیں اور سجدے میں سر گرا کر ایک سو بار پڑھنے کے بعد اللہ سے دعا کیا کریں ۔اکیالیس دن پڑھنے کے بعد روزانہ سو بار پڑھا کریں۔ان شاء اللہ مراد پوری ہوگی۔اگر گھر کے سارے افراد مل کر اس وظیفہ کو روزانہ گیارہ ہزار پڑھیں اور ایک ہفتہ تک جاری رکھیں تو بھی مراد کے دروازے کھل جائیں گے۔وظیفہ یہ ہے۔

نبی کریم ﷺ کی پسندیدہ غذائیں

سرکہ اور جو کی روٹی: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سرکہ اور جو کی روٹی بہت پسند تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان دونوں کا استعمال فرماتے۔ گوشت کدو اور جو کی روٹی کو پسند فرماتے اور بڑی رغبت سے تناول فرماتے۔

زیتون اور اس کا تیل: حضرت ابو رشید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم زیتون کا پھل کھاؤ اور اس کا تیل استعمال کرو کیونکہ یہ بابرکت درخت ہے۔

ثرید: ثرید اس کھانے کو کہا جاتا ہے جو شوربے یا پتلی دال میں بھگو کر تیار کیا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ترین کھانا ثرید تھا۔

کدو: کدو ایک سبزی ہے جو ذائقہ میں لذیذ اور تاثیر میں‌ زود ہضم ، صحت بخش اور دماغی صلاحیتوں کو بڑھانے والا ہے۔ کدو مفرح قلب، جگر اور اعصاب کے لیے مفید سبزی ہے۔ کدو ہمارے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ پسند تھا۔ پسندیدگی کا یہ عالم تھا کہ گوشت اور کدو کے سالن سے کدو کے قتلے اٹھا اٹھا کر پہلے کھاتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک درزی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔صاحب خانہ نے جو کی روٹی اور شوربہ پیش کیا۔ شوربہ میں کدو گوشت تھا۔ پس میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کدو کے ٹکڑے اٹھا اٹھا کر نکالتے تھے۔ اس دن سے میں بھی کدو کو پسند کرنے لگا۔

شہد: شہد کے بارے میں‌ یہ بات طے شدہ ہے کہ یہ بہت سے امراض میں مفید ہے۔ اور اس کا استعمال جسم کو امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ تمام تر کاوشوں کے باوجود اب تک شہد کا متبادل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ شہد کی ایک خوبی اس کے رس کا جلد اثر کرنا اور قدرتی انٹی بایوٹک (Anti Biotic) ہونا ہے۔ یہ حلق سے نیچے اترتے ہی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ نوزائیدہ بچے سے لے کر جاں بلب مریض تک سب کے لئے غذا اور دوا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد بہت پسند تھا۔ اور اس کا بہت استعمال فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پسند فرماتےتھے۔ شہد کی شفا بخشی کا ذکر قرآن میں‌بھی آیا ہے اور اسے موت کے علاوہ ہر مرض کا علاج قرار دیا گیا ہے۔

دودھ: دودھ حضرت انسان کے لیے ایک مکمل غذا ہے اور اس سے بہتر غذا شاید ہی ہو۔ دودھ میں‌ جسم کی ضرورت کے مطابق تمام اجزا موجود ہیں جن سے جسم صحت مند رہ سکتا ہے اور اس کی نشونما صحیح ہو سکتی ہے۔ جن علاقوں کے لوگ دودھ استعمال کرتے ہیں ان کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں۔ اللہ کے فرستادہ پیغمبروں‌کی یہ پسندیدہ غذا رہی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ بہت پسند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر گائے اور بکری کا دودھ استعمال فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: کوئی چیز ایسی نہیں جو طعام اور مشروب دونوں کا کام دیتی ہو، سوائے دودھ کے۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ گائے کے دودھ کو اپنے لئے لازم قرار دے دو، کیونکہ یہ شفا بخش ہے اور اس کا گھی دوا ہے۔

کھجور: کھجور ایک مقوی غذا ہے۔ سب پھلوں میں سے زیادہ توانائی بخش ہے۔ جسم انسانی کو جس قدر حیاتین کی ضرورت ہوتی ہے اسی قدر کھجور میں‌ہے۔ کھجور جسم کو فربہ کرتی ہے۔ صالح خون پیدا کرتی ہے۔ سینہ اور پھیپھڑوں کو قوت بخشنے کے لیے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ کھجور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرغوب غذا رہی ہے۔ قرآن مجید میں بھی کھجور کا ذکر آیا ہے۔ کھجور کی ایک قسم عجوہ ہے جو مدینہ منورہ میں‌ ہوتی ہے۔ یہ امراض‌ قلب میں‌ مفید ہے۔ عجوہ کھجور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پسند تھی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جو شخص روزانہ صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیا کرے اسے اس دن زہر اور جادو سے کوئی نقصان نہیں‌پہنچا سکتا۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے: عجوہ جنت کا پھل ہے۔ اس میں زہر سے شفا دینے کی تاثیر ہے۔ حضرت عطیہ رضی اللہ عنہا اور عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکھن اور کھجوریں پیش کیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پسند فرماتے تھے۔

گوشت: گوشت جسم انسانی کی صحت و توانائی کے لئے بہت مفید قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں‌ جسم کی طاقت و توانائی کے لئے اہم اجزا ہوتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حلال جانوروں کا گوشت بہت شوق سے کھاتے تھے۔ بلکہ گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرغوب غذا تھی۔ مرغ کا گوشت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے۔ حضرت ابو الدرداء سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا و جنت دونوں جگہ سب کھانوں کا سردار گوشت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گوشت دنیا و آخرت میں بہترین سالن ہے اور گوشت تمام کھانوں کا سردار ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی شخص کے ہاں کھانے پر گیا۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بکرے کا بازو بھوننے کا حکم دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں‌ سے کاٹ کاٹ کر مجھے دینے لگے۔