مجھے پندرہ لاکھ کی ضرورت تھی یہ وظیفہ کیا اور امیر ہوگی

عض لوگ جگہ جگہ عاملین اور مختلف بابوں کے پاس دھکے کھاتے پھرتے ہیں کہ ہمارے گھر پر جادو ہے یا جنات کا اثر ہے۔ ہماری زندگی میں صرف ویرانی اور پریشانی ہے۔اولاد کی نافرمانی‘ چڑچڑاپن‘ ڈھٹائی ضد‘ اور غصہ پھر مارکٹائی نے اور زیادہ جلتی پر تیل کا کام کیا‘ لوگ ہر دس دن بعد عامل تو بدلتے ہیں وظیفے تو تبدیل کرتے ہیںلیکن اپنے آپ کو بدلنے کا کبھی خیال نہیںکرتے ۔

کیا کبھی سوچا میرا رزق کیسا‘ میرے گھر کاماحول کیسا۔مائیں یہ نہیں دیکھتیں کہ میں سارا دن ٹی وی کے سامنے بیٹھ کرکیا دیکھتی ہوں‘ کونسی موسیقی سنتی ہوں‘ جو میں دیکھتی اورسنتی ہوں میرا معصوم بچہ یا بچی بھی دیکھ رہی ہوتی ہے‘ وہ معصوم ہے لیکن اس کے اندر بھی ا حساسات کا موجیں اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جس کی سمجھ والدین کو اس وقت آتی ہے جب وہ نافرمانی کی شکل میں اظہار کرتا ہے۔

ہماری زندگی کے عادات و اطوار میں کیوں نہ جناتی چیزیں آئیں جس گھرسے حفاظت والے اعمال چلے جائیں گے تو شریر جنات کیلئے ایسے گھر میں داخل ہونا اور ہر قسم کی عیاشی کرنا‘ گھر تباہ کرنا‘ عورتوں کو چھیڑنا‘ معاشی پریشانیوں میں گھر والوں کو مبتلا کرنا‘ بیماریوں میںمبتلا کرنا بالکل آسان ہوجاتا ہے۔آئیے حفاظت والے اعمال کی طرف آئیے اور جادو جنات، بیماریوں، معاشی پریشانیوں سے نجات پائیں۔

جنات کی نظربد اور خواتین کے چہرے پردانے: جو خواتین بے پردگی اختیار کرتی ہیں اور گھر یا باہر چہرے کو نہیں ڈھانپتی اکثر ان کے چہروں پر دانوں کی بھرمار ہوجاتی ہے۔ یا ان کے چہرے کی جلد خراب ہوجاتی ہے۔ جگہ جگہ سے علاج معالجہ کے باوجود آرام نہیں آتا۔ بالآخر وہ روحانی علاج کروائیں تو انہیں صحت ملتی ہے۔ یہ سب جنات کی نظر بد کا شاخسانہ ہے۔ لہٰذا جنات کی نظربد سے بچنے کیلئے پردہ کا اہتمام ضرور کریں۔

بیوی کے مجرم

شادی شدہ مرد اگر تاک جھانک کرے تو یہ کردار کے گھٹیا پن اور ذلالت کی علامت ہے، یہ کوئی بیماری یا کمزوری نہیں انکی اپنی بدنیتی ہے. تمہارے پاس بیوی موجود ہے تمہیں دوسری عورت کو دیکھنے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟ ایک غیرت مند مرد کو اگر کسی سے سچی محبت ہوجائے تو دوبارہ کسی عورت کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا اور بے غیرت مرد شادی کے باوجود دوسری عورت کو دیکھ لیتے ہیں.

یہ صرف اور صرف بے غیرتی اور کردار کے گھٹیا پن کی وجہ سے ہے. ایسے لوگ مجرم ہیں اپنی بیوی کے، اسکے حقوق مارنے والے . آگے جاکر عورت کو ان سے سوال کرنے کا حق دیا جائے گا. ‎‎ میں 50 کی دہائی کے آخر پر 30 سال کا لگتا ہوں! میں روزانہ استعمال کرتا ہوں…. میں 50 کی دہائی کے آخر پر 30

سال کا لگتا ہوں! میں روزانہ استعمال کرتا ہوں…. 5 کلو کم کرنے کے لیے، آپ کو اسے 3 دنوں کے لیے ہر صبح کھانے کی ضرورت ہے 5 کلو کم کرنے کے لیے، آپ کو اسے 3 دنوں کے لیے ہر صبح کھانے کی ضرورت ہے چربی کا موثر تحلیل کار! اگر آپ 80 کلو سے زائد وزن ہیں 3 ہفتے میں 35 کلو گھٹائیں چربی کا موثر تحلیل کار! اگر آپ 80 کلو سے زائد وزن ہیں 3 ہفتے میں 35 کلو گھٹائیں میں تقریباً 50 کی ہوں لیکن میں 30 کی دکھائی دیتی ہوں! ہر روز میں اس کے ساتھ مساج کرتی ہوں میں تقریباً 50 کی ہوں لیکن میں 30 کی دکھائی دیتی ہوں! ہر روز میں اس کے ساتھ مساج کرتی ہوں میری توند کیسے ختم ہوئی. 3 ہفتوں میں 56 کلو ممکن. سونے سے پہلے ایک گلاس پیئیں.. میری توند کیسے ختم ہوئی. 3 ہفتوں میں 56 کلو ممکن. سونے سے پہلے ایک گلاس پیئیں.. سونے سے قبل یہ “ٹوٹکہ” کریں اور صبح تک آپ کے پیٹ سے 7 کلو گھٹ جائیں گے! سونے سے قبل یہ “ٹوٹکہ” کریں اور صبح تک آپ کے پیٹ سے 7 کلو گھٹ جائیں گے! کیسے لوگ بلوں کی %30 کم ادائیگی کرتے ہیں؟ یہاں دیکھیں>>> کیسے لوگ بلوں کی %30 کم ادائیگی کرتے ہیں؟

یہاں دیکھیں>>> آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں عورت کی مکاری حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہو ‎‎ “حاضر دماغی” شاہ عبدالعزیز رحمۃ االہ علیہ کی حاضر جوابی: تمہاری چاہت نہ کریں گے بیوی کو تنور میں ڈال دیا حکمران اورموچی کیا نماز واقعی بے حیائی سے روکتی ہے؟ انوکھی شرط کامیابی کا نسخہ ” ایک عِبادت گُزار خادِمہ ” داتا گنج بخش اورجاہلوں کا بوجھ

میاں بیوی کی خوبیاں

ایک میاں بیوی ایک کاؤنسلر کے پاس گئے . ان کا آپس میں شدید جھگڑا چل رہا تھا.

وہ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے کے بھی روا دار نہیں تھے. انہوں نے سوچا کہ لوگوں کے مشورے پر عمل درآمد کیا جائے اور تھوڑی سی تھیراپی کروا لی جائے. جب وہ دونوں آفس میں داخل ہوئے تو کاؤنسلر نے دونوں کے چہرے پر سخت کشیدگی دیکھی. اس نے ان دونوں کو بیٹھنے کے لیے بولا. جب وہ بیٹھ گئے تو اس نے بولا کہ اب آپ بتائیں کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ تو وہ دونوں یکدم بولنا شروع ہو گئے اور ایک سانس میں ایک دوسرے پر تنقید کے پہاڑ ڈال دیے. دونوں اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے.کاؤنسلر نے ان دونوں کو اپنے دل کی بھڑاس نکالنے دی اور چپ کر کے ان کی لڑائی ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی. جب دونوں بول بول کر تنگ آگئے تو کاؤنسلر نے انہیں بولا کہ اچھا یہ تو لڑائی اور خامیوں والی کہانی ہو گئی اب ایک دوسرے کی خوبیاں بیان کرو. تم دونوں کو ایک دوسرے میں کیا کیا باتیں پسند ہیں؟ دونوں بالکل خاموش ہو گئے.

بہت دیر تک دونوں نے کچھ نہیں بولا. کاؤنسلر سمجھ گئی کہ ان کو ایک دوسرے پر اتنا شدید غصہ ہے کہ ایک دوسرے کی کوئی اچھی بات یاد ہی نہیں ہے اور نہ ہی وہ یاد کرنا چاہتے تھے.کاؤنسلر نے ایک ایک کاغذ اور پین دونوں کو تھما دیے اور میاں بیوی کو بولا کہ اپنے اپنے کاغذ پر ایک دوسرے کی خوبیاں تحریر کرو. ایک دفعہ پھر بہت دیر دونوں نے کچھ بھی نہ لکھا اور غصہ ان کے چہروں پر عیاں تھا. بہت دیر کے بعد خا وند نے جیسے ہی اپنے کاغذ پر کچھ لکھنا شروع کیا تو ایک دم ہی اس کی بیگم بھی تیز تیز اپنے کاغذ پر کچھ لکھنے لگ گئی. لگ رہا تھا کہ ابھی بھی دونوں مقابلے پر اپنا اپنا کاغذ بھرنے بیٹھ گئے تھے.جب انہوں نے لکھ لیا تو، بیوی نے اپنا کاغذ کاؤنسلر کو تھمایا. اس نے اسے واپس کرتے ہوئے بولا کہ اسے اپنے شوہر کو دو. وہ خود ہی پڑھے گا. بیوی نے اسے دے دیا اور اس کا کاغذ لے لیا.

دونوں نے پڑھنا شروع کیا اور تھوڑی دیر بعد بیوی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے. وہ دونوں ایک دوسرے کی تعریفیں پڑھ کر بہت خوش ہوئے. کمرے کی فضا ایک دم تبدیل ہو گئی تھی. ایسے لگ رہا تھا جیسے ان دونوں کی کبھی لڑائی ہی نہ ہوئی ہو. کاؤنسلر کا فرض پورا ہو چکا تھا. وہ دونوں جیسے لڑتے بھڑتے اندر داخل ہوئے تھے ویسے ہی ہنستے مسکراتے بانہوں میں بانہیں ڈالے کمرے سے نکل رہے تھے. ہر انسان بہت سی خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے. اگر ہم دوسروں کے عیب تلاش کرنے لگیں تو ان کی اور اپنی زندگی عذاب بنا لیتے ہیں اور اگر ہم ہر ایککی خوبیوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیں تو اپنی اور دوسروں کی زندگی آسان بنا دیتے ہیں. فیصلہ آپ لوگوں کے اپنے ہاتھ میں ہے.

اللہ تک پہنچنے کا طریقہ

حضرت بہلول دانا ؒ کے زمانے میں بغداد کے بادشاہ کی دلی تمنا تھی کہ حضرت بہلول دانا ؒ اس سے ملاقات کریں لیکن آپ رحمتؒ کبھی بھی بادشاہ کے دربار میں تشریف نہ لے گئے . ایک دن یوں ہوا کہ بادشاہ چھت پر بیٹھا تھا کہ اس نے حضرت بہلول دانا ؒ کو شاہی محل کے قریب سے گزرتے دیکھا . فورا حکم دیا کہ حضرت بہلول داناؒ کو کمند ڈال کر محل کی چھت پر کھینچ لیا جائے . چنانچہ ایسا ہی کیا گیا .

جب آپؒ بادشاہ کے سامنے پہنچے تو بادشاہ نے پوچھا یہ فرمائیے آپ اللہ تک کیسے پہنچے ؟فرمایا : جس طرح آپ تک پہنچا . بادشاہ نے عرض کی ” میں سمجھا نہیں ” فرمایا ، ” اے بادشاہ ! اگر میں خود آپ تک پہنچنا چاہتا تو نہا دھو کر ، لباس _ فاخرہ پہن کر ، دربان کی منتیں کر کے محل کے اندر داخل ہوتا . پھر عرضی پیش کرتا ، پھر گھنٹوں انتظار کرتا ، پھر بھی ممکن تھا کہ آپ میری درخواست رد کر دیتے . لیکن جب آپ نے خود مجھے بلانا چاہا تو محض کچھ لمحوں میں ہی اپنے سامنے بلا لیا .

اسی طرح جب اللہ کو اپنے بندے کی کوئی ادا پسند آتی ہے تو اسے لمحوں میں قرب کی وہ منزلیں طے کروا دی جاتی ہیں جو بڑے بڑے عابدوں کیلئے باعث رشک بن جاتی ہیں.

ﻭﮦ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ

ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺣﻨﯿﻔﮧ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺳﺒﻖ ﭘﮍﮬﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﺮﻗﻌﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺁﺋﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﺐ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﺮﯼ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤتہ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﯼ.ﻃﻠﺒﺎﺀﺑﮍﮮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﺑﮭﺌﯽ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻧﯿﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﯿﺐ ﺗﻮ ﻻﺋﯽ ﺳﺎتھ ﭼﮭﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ.

ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤتہ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺳﯿﺐ ﮐﺎﭨﺎﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ ﺣﺼّﮧ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﭼﮭﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ

.ﺍﺏ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤتہ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﻮ ﺣﺪﯾﺜﯿﮟ ﺳﻨﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺪﯾﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺧﻼ ﻑ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ.ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺟﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺪﯾﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﺮﯾﮏ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﮯ.ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎﻭﮦ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﯼ ﺗﻮ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ.ﺍﺏ ﯾﮧ ﺣﯿﺮ ﺍﻥ ﮐﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﭘﻮچھ ﮐﺮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ.ﻧﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻧﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ . ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﯿﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺌﯽ ﺭﻧﮓ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﭩﯿﺎﻟﮧ ﮨﮯ،ﮐﮩﯿﮟ ﻣﮩﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﮨﮯ، ﮐﮩﯿﮟ ﺳﺒﺰ ﮨﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﺮﺥ ﮨﮯ.ﻋﻮﺭﺕ ﺟﺐ ﻧﺎﭘﺎﮎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﻥ ﮐﺌﯽ ﺭﻧﮓ ﺑﺪﻟﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ.ﻭﮦ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﺭﻧﮓ ﻧﺎﭘﺎﮐﯽ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﭘﺎﮐﯽ ﮐﺎ ﮨﮯ

ﮐﮧ ﮐﺐ ﻧﻤﺎﺯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺳﯿﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺭﻧﮓ ﮨﻮ ﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺎﭨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺳﻔﯿﺪ ﺭﻧﮓ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻧﮓ ﻧﮩﯿﮟ.ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺳﻔﯿﺪﺣﺼّﮧ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮮﺩﯾﺎﮐﮧ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺭﻧﮓ ﻧﺎﭘﺎﮐﯽ ﮐﮯ ﮨﯿﮟ.ﻭﮦ ﺧﯿﺮﺍﻟﻘﺮﻭﻥ ﮐﺎ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﺩﻣﺎﻍ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﻮﭼﮭﺎﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎ ﻡ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺲ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ . ‏

حضرت عمرؓ کی فراست

ایک نوجوان کو چوری کے جرم میں حضرت عمر فاروقؓ کی خدمت میں پیش کیا گیا.جب تفتیش کرنے پر اس نوجوان کا جرم ثابت ہوگیا تو آپ نے شرع کے مطابق چور کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم صادر فرمادیا .

وہ نوجوان فریاد کرنے لگا اور رونے لگا معافی کا طلبگار ہوا کہ یہ میری پہلی چوری ہے میں آئندہ کبھی بھی چوری نہیں کروں گا .حضرت عمرؓ نے فرمایا ’تم غلط کہتے ہو تم نے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ چوریاں کی ہیں.آخر ار اس نوجوان کو اس بات کا اقرا ر کرنا پڑا کہ واقعی اس نے پہلے بھی چوری کی وارداتیں کی ہیں.اب وہ بجائے معافی مانگنے کے اس بات پر حیران تھا کہ حضرت عمرؓ کو کیسےوریوں کی خبر ہوئی

اس نے حیرانگی کے عالم میں پوچھا اے امیر المومنینؓ !میری گزشتہ کی ہوئی چوریوں کی ہوئی چوریوں کا علم میرے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو نہیں ہے .آپ کو اس بات کی اطلاع کس طرح ہوگئی ے؟حضرت عمرؓ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کسی کو بھی اس وقت تک ذلیل و خوار نہیں کرتا جب تک کہ وہ برائی کی حد سے آگے نہ بڑھ جائے‘‘.

انسان ہمیشہ کامیاب لوگوں جیسا بننا چاہتا ہے لیکن اگرآپ کو علم ہوجائے کہ کامیاب لوگ رات کو سونے سے پہلے فار غ وقت میں کیاکرتے ہیں تو یقیناًآپ بھی یہ کام کریں گے.کچھ پڑھنا:ہر بڑے آدمی کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ سونے سے قبل کچھ نہ کچھ ضرور پڑھتا ہے کہ اس طرح اس کے علم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور یہ اس کی تمام زندگی میں اس کے لئے فائدہ مند رہتا ہے. کام کی لسٹ بنانا:بین الاقوامی بزنس سپیکر مائیکل کیر کا کہنا ہے کہ کامیاب لوگ سونے سے قبل اگلے دن کے کاموں کی لسٹ پہلے ہیبنا لیتے ہیں

تا کہ وہ رات کو پرسکون نیند لے سکیں اور اگلے دن وہ کام نمٹا لیں.فیملی کے ساتھ وقت گزارنا:ہر کامیاب انسان کے لئے فیملی کی زندگی اچھا رکھنا فائدہ مند ہوتا ہے اور وہ اپنے بچوں اور بیوی کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور ان کی باتیں سنتے ہیں ،انہیں مشورے دیتے ہیں .اس طرح ان کی فیملی لائف اچھی گزرتی ہے

دھوبی کا بیٹااورحضرت نظام الدین اولیا

حضرت نظام الدین اولیاءؒ اکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے کہ’’ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا، ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا‘‘. پھر غش کھا جاتے-ایک دن ان کے مریدوں نے پوچھ لیا کہ حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیا ماجرا ہے؟آپؒ نے فرمایا ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑ ے دھلنے آیا کرتے تھے اور وہ میاں بیوی کپڑ ے دھو کر پریس کر کے واپس محل پہنچا دیا کرتے تھے،ان کا ایک بیٹا بھی تھا جو جوان ہوا تو کپڑ ے دھونے میں والدین کا ھاتھ بٹانے لگا، کپڑ وں میں شہزادی کے کپڑ ے بھی تھے،جن کو دھوتے دھوتے وہ شہزادی کے نادیدہ عشق میں مبتلا ہو گیا،محبت کے اس جذبے کے جاگ جانے کے بعد اس کے اطوار تبدیل ہو گئے،وہ شہزادی کے کپڑ ے الگ کرتا انہیں خوب اچھی طرح دھوتا،انہیں استری کرنے کے بعد ایک خاص نرالے انداز میں تہہ کر کے رکھتا،سلسلہ چلتا رہا آخر والدہ نے اس تبدیلی کو نوٹ کیا اور دھوبی کے کان میں کھسر پھسر کی کہ یہ تو لگتا ہے سارے خاندان کو مروائے گا،

یہ تو شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے،والد نے بیٹے کے کپڑ ے دھونے پر پابندی لگا دی، ادھر جب تک لڑکا محبت کے زیر اثر محبوب کی کوئی خدمت بجا لاتا تھا، محبت کا بخار نکلتا رہتا تھا،مگر جب وہ اس خدمت سے ہٹایا گیا تو لڑکا بیمار پڑ گیا اور چند دن کے بعد فوت ہو گیا.

ادھر کپڑوں کی دھلائی اور تہہ بندی کا انداز بدلا تو شہزادی نے دھوبن کو بلا بھیجا اور اس سے پوچھا کہ میرے کپڑے کون دھوتا ہے؟دھوبن نے جواب دیا کہ شہزادی عالیہ میں دھوتی ہوں،شہزادی نے کہا پہلے کون دھوتا تھا؟دھوبن نے کہا کہ میں ہی دھوتی تھی،شہزادی نے اسے کہا کہ یہ کپڑا تہہ کرو،اب دھوبن سے ویسے تہہ نہیں ہوتا تھا،شہزادی نے اسے ڈانٹا کہ تم جھوٹ بولتی ہو،سچ سچ بتاؤ ورنہ سزا ملے گی،دھوبن کے سامنے کوئی دوسرا رستہ بھی نہیں تھا کچھ دل بھی غم سے بھرا ہوا تھا، وہ زار و قطار رونے لگ گئی،اور سارا ماجرا شہزادی سے کہہ دیا، شہزادی یہ سب کچھ سن کر سناٹے میں آ گئی.پھر اس نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا اور شاہی بگھی میں سوار ہو کر پھولوں کا ٹوکرا بھر کر لائی اور مقتول محبت کی قبر پر سارے پھول چڑھا دیے، زندگی بھر اس کا یہ معمول رہا کہ وہ اس دھوبی کے بچے کی برسی پر اس کی قبر پر پھول چڑ ھانے ضرور آتی. یہ بات سنانے کے بعد حضرت کہتے، اگر ایک انسان سے بن دیکھے محبت ہوسکتی ہے تو بھلا اللہ سے بن دیکھے محبت کیوں نہیں ہو سکتی؟

ایک انسان سے محبت اگر انسان کے مزاج میں تبدیلی لا سکتی ہے اور وہ اپنی پوری صلاحیت اور محبت اس کے کپڑ ے دھونے میں بروئےکار لا سکتا ہے تو کیا ہم لوگ اللہ سے اپنی محبت کو اس کی نماز پڑھنے میں اسی طرح دل وجان سے نہیں استعمال کر سکتے؟ مگر ہم بوجھ اتارنے کی کوشش کرتے ہیں. اگر شہزادی محبت سے تہہ شدہ کپڑوں کے انداز کو پہچان سکتی ہے تو کیا رب کریم بھی محبت سے پڑھی گئی نماز اور پیچھا چھڑانے والی نماز کو سمجھنے سے عاجز ہے؟ حضرت نظام الدین اولیاءؒ پھر فرماتے وہ دھوبی کا بچہ اس وجہ سے کامیاب ہے کہ اس کی محبت کو قبول کر لیا گیا جبکہ ہمارے انجام کا کوئی پتہ نہیں قبول ہوگی یا منہ پر ماردی جائے گی اللہ جس طرح ایمان اور نماز روزے کا مطالبہ کرتا ہے اسی طرح محبت کا تقاضا بھی کرتا ہے، یہ کوئی مستحب نہیں فرض ہے! مگر ہم غافل ہیں . پھر فرماتے اللہ کی قسم اگر یہ نمازیں نہ ہوتیں تو اللہ سے محبت کرنے والوں کے دل اسی طرح پھٹ جاتے جس طرح دھوبی کے بچے کا دل پھٹ گیا تھا، یہ ساری ساری رات کی نماز ایسے ہی نہیں پڑھی جاتی کوئی جذبہ کھڑا رکھتا ہے،

دیہاتی نوجوان کی ذہانت

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻋﺎﻟﯿﺸﺎﻥ ﻣﺤﻞ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺑﺲ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﯽ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﻣﺤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺟﻨﺖ ﮐﺎ ﭨْﮑﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﻏﺮﺿﯿﮑﮧ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺸﺪﺭ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﺷﺮﻁ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻣﺤﻞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﺘﻌﯿﻦ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺤﻞ ﺍْﺳﮯ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍْﺱ ﻣﺘﻌﯿﻦ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍْﺱ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻗﻠﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﺳﺮ ﭘﮭﺮﮮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺟﺎﻥ ﮔﻨﻮﺍ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﯿﺎ ﺁﺩﮬﺎﻣﺤﻞ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﭘﺎﺗﺎ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﭘﻮﺭﺍ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺟﻞ ﮐﺎ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻟﯿﮑﺮ ﮨﯽ ﺁﺗﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺷﮩﺮﮦ ﺑﮩﺖ ﺩْﻭﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺍْﮌﺗﯽ ﺍْﮌﺗﯽ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﯽ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺟﺐ ﭘﻮﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﺳْﻨﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﯽﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﭘﮩﻨﭻ ﻣﺤﻞ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺩﺭﺑﺎﺭﯼ ﻭﺯﯾﺮﻭﮞ ﻣﺸﯿﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻼﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ

ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺩْﮬﻦ ﮐﺎ ﭘﮑﺎ ﻧﮑﻼ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻌﯿﻦ ﻭﻗﺖ ﺩﯾﺪﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﮮ ﻟﯿﮑﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﺮﮮ ﺗﮏ ﺩﺭ ﻭ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﺭﺍﮨﺪﺍﺭﯾﺎﮞ ﻓﺎﻧﻮﺱ ﻗﻤﻘﻤﮯ ﻗﺎﻟﯿﻦ ﺻﻮﻓﮯ ﺗﺎﻻﺏ ﺣﻮﺽ ﺑﺎﻍ ﭘﮕﮉﻧﮉﯾﺎﮞ ﺍﻟﻐﺮﺽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﮍﮮ ﭘﮩﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﻗﺖ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺭﻭﺑﺮﻭ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺩﺭﺑﺎﺭﯼ ﮔﻮﯾﺎ ﺳﻨﺎﭨﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﺌﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﻁ ﭘﺮ ﻗﺎﺋﻢ ﮨﻮﮞ ﻣﺤﻞ ﺍﺏ ﺗﯿﺮﺍ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﻭﻗﺖ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻃﮯ ﺷﺪﮦ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺟﺴﮑﮯ ﺩﺭﻭﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﯿﺎﺭﯾﺎﮞ ﺑﺎﻏﺎﺕ ﺣﻮﺽ ﺗﺎﻻﺏ ﮐﻤﺮﮮ ﺭﮨﺎﺋﺸﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﻦ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺑﺎﻍ ﮐﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﯿﺎﺭﯾﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﻤﻘﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻭﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﻧﻘﺶ ﻭﻧﮕﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﻗﺖ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻥ ﮔﻨﻮﺍ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻞ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ

ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳْﻦ ﮐﺮ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﻗﮩﻘﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﻞ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﭘﺮﻟﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﮐﮯ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﮔﻨﻮﺍﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺻﺪﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﯿﻢ ﻭﺍ ﮐﺮﻟﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺤﻞ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺁﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮔﻨﻮﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﺍﺏ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﻠﮑﯿﺖ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍْﺳﮯ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﻮﻧﮕﺎ ﺩﻭﺳﺘﻮ ” ﻭﮦ ﻣﺤﻞ ﺩْﻧﯿﺎ ﮨﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻭﮦ ﮐﺮﯾﻢ ﺫﺍﺕ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻢ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻢ ﻭﺍ ﺁﻧﮑﮫ ﻭﺍﻟﮯ ﻭﮦ ﺩﺍﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺩْﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺎﻣﻘﺼﺪ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﮐﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ

خالی پیٹ لہسن کھانے کے بعد آپ کے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے؟جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

لہسن ایک ایسی سبزی ہے جس کا استعمال قدیم زمانے میں رہنے والے لوگ بھی کیا کرتے تھے اور اس کی افادیت سے کبھی انکار نہیں کیا گیا۔ مصری، رومن، ایرانی، یہود، عرب اور دنیا کی تمام اقوام نے لہسن کے فوائد پر کافی کچھ لکھا ہے اور اسے کبھی بھی خطرناک یہ نقصان دہ نہیں کہا گیا۔ان تمام فوائد کی سجہ سے اسے ’مصالحہ جات کا سردار‘ بھی کہا گیا ہے۔آج ہم آپ کو لہسن کے خالی پیٹ

استعمال کے فوائد بتائیں گے۔ *صبح اٹھتے ہی خالی پیٹ کھانے سے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہو تا ہے اور انسانی جسم میں کئی خطرناک بیماریوں کے خلاف لڑنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

*خالی پیٹ لہسن کھانے سے پیٹ میں موجود بیکٹیریا پیٹ خالی ہونے کہ وجہ سے بہت کمزور ہو جاتا ہے اور یہ لہسن کی طاقت کے خلاف لڑ نہیں پاتاجس سے آپ صحت مند اور کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔

*لہسن ایک قدرتی انٹی بائیوٹک ہے اور سردیوں میں اس کے استعمال سے انسان کھانسی، نزلہ ،سردی اور زکام سے محفوظ رہتا ہے۔

*یہ خون کو پتلا کرتا ہے جس سے آپ کا نظام دوران خون تیز رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کو بلند فشار خون سے بھی نجات ملتی ہے۔
*اگر خون کی شریانیں بند ہونے لگیں تو روزانہ خالی پیٹ لہسن کا استعمال کریں ، بہت جلد آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کی طبیعت بحال ہو رہی ہے۔

*اگر اعصابی کمزوری کا مسئلہ ہو تب بھی لہسن انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔

*اگر آپ کو جلدی بیماری کا مسئلہ درپیش ہو تو کھانے میں لہسن کی مقدار بڑھادیں۔ اس سے آپ کے جسم میں زہریلے مادے کم ہوں گے اور جلد تر وتازہ رہے گی۔

نیک رشتہ کے لیے روحانی عمل۔ کچھ دنوں میں ہی رشتوں کی لائن لگ جائے گی

موجودہ دور کی مشکلات و آزمایش میں ایک مشکل اچھا رشتہ کا نہ ملنا بھی ھے ۔مرد وخواتین کی کثیر تعداد اس مشکل سے دو چار ھیں اس ضمن میں یہ عمل مبارک پیش کیا جا رھا ھے جسکی برکت سے باحمدللہ معمولی شکل صورت اور محدود مالی وسایل رکھنے والوں کہ رشتے اپنے سے اونچے خوبصورت اور مالدارلوگوں میں طےپائےھیں آج وہ سب پرسکون ھنسی خوشی عیش وعشرت کی زندگی بسر کر رھے ھیں۔ یہ عمل نہایت آسان اور موثر جسکی برکت سے نیک سبب اچھا رشتہ اللہ کے فضل وکرم سے جلد از جلد مل جاتا ھے ۔

اگر اس سلسلہ میں نظر بد حسد جادو یا بندش حایل ہو تو وہ بھی ختم ہو جاتی ھے ۔درحقیقت دیرنیہ خواہشات کی تکمیل میں بننے والی تمام روکاوٹیں اس عمل سے اختتام پزیر ہو کر باعزت با رونق طریقہ سے زندگی عقد ونکاح کے پاکیزہ بندھن میں بندھ جاتی ھے ۔حقیر حکیم حیدر علی روحانی عرض کرتا ھے کہ یہ عمل لڑکی یا لڑکا خود انجام دے ۔اگر کویی دشواری و دقت ہوتو والد یا والدہ بھی بجا لا سکتے ھیں۔عمل نوٹ فرمائے۔ “

مہندی میں عرق گلاب ڈالکر قلم سے کاغذ پر اس عبارت عمل کو لکھ لے اور اپنے بازو یہ گلے یا پرس میں خوشبو لگا کر رکھ کر روزانہ فقط 34 بار پڑھیں ۔ یا اللہ یا جامع الناس یا جامع یا روف یا رحیم یا کریم ُسبحَنَ اَلَّذِی خَلَقَ الاَزوَ١جَ کُلَّھَآمِمّاَ تُنبَِتُ اُلاَرضُ وَمِنْ اَنفُسِھِم وَمِمَّا لَا یَعلَمُونَ ۔الھی بحق یسین والقران الحکیم نیک رشتہ جلد از جلد عطا فرما ۔ حاجت کی تکمیل تک عمل جاری رکھیں انشاللہ چند یوم بعد ہی مالک دو جھاں کرم فرما دیں گے ۔

یہ عمل آل روحانیہ کے اکابرین سے منقول ھے اور پہلی بار حقیر علمی جزبہ کے پیش نظر پیش کر ر ھا ھے ۔یہ عمل حقیر کا مجرب از مجرب عمل ھے جس سے لا تعداد احباب مستفید ہو چکے ھیں۔ عمل سے قبل آل روحانیہ کے بزرگوں کی روح پر فتوح کو فاتحہ سے یاد فرما کر انکی دعا کو شامل کرلے ۔عمل سے قبل صدقہ حسب اسطاعت کسی غریب کو دیں اول وآخر گیارہ بار درود ابراھیمی بجا لایں۔ فقط ضرورت مند احباب کو اجازت عمل ھے