عبادت اپنی جگہ گھر داری اپنی جگہ! پڑھنے والی تحریر

حضوراکرم ؐ مسجدمیں تشریف فرماتھے توآپ ؐ نے کہاکہ اس درواز ے سے ایک جنتی آنے والاہےتوتھوڑی دیربعدایک انصاری صحابی داڑھی میں وضوکاتازہ پانی لگاہواورالٹےہاتھ میں جوتاپکڑاہواداخل ہوئے اگلے دن پھرآپ ؐ نے فرمایاکہ اس دروازے سے ایک جنتی داخل ہونے والاہےدوسرے دن بھی وہی صحابی اوراسی حالت میں تیسرے دن پھرآپ ؐ نےفرمایاکہ ا س درواز ے سے ایک جنتی داخل ہوگا پھروہی صحابی تینوں دن ایک آدمی .اس مجلس میں ایک صحابی بیٹھے تھےعبداللہ بن امریہ صحابی سب سے زیادہ عبادت کرنے والے تھے ۔ ساری رات تہجد پڑھتےاورساراسال روزہ رکھتے تھے اورچوبیس گھنٹے میں ایک دفعہ قرآن ختم کرلیتے تھے ان کی شادی ہوئی اورشادی والی رات دلہن بیٹھی ہوئی ہے اوراسے چھوڑ کرعبادت شروع کردی۔

بیوی بھی انتظارکرتی رہی آخرکارتھک کربیوی نے بھی مصلیٰ اٹھایااورحضرت عبداللہ بن امرکے ساتھ عبادت شروع کردی یہاں تک کہ صبح ہوگئی .صبح جب حضرت عبداللہ کے والدنے ان سے پوچھاکہ رات کیسی گزری توانہوں نے کہاکہ سبحان اللہ ساری رات عبادت کرکے گزاری توانہوں نے کہاکہ تیراستیاناس ہوشادی والے دن بھی تونے عبادت کی .بیوی کے حقوق کاخیال نہیں رکھا حضرت عبداللہ کے والدحضوراکرم ؐ کے پاس چلے گئےاوران سے جاکراپنے بیٹے کی شکایت کی .حضوراکرم ؐ نے پھران کوپابندکیاکہ توتین دن سےپہلے قرآن ختم نہیں کریگاایک دنروزہ رکھے گااورایک دن چھوڑے گا.ان کوخیال آیاکیایہ مجھ سے بھی زیادہ عبادت کرتاہےمیں نے جاکردیکھناہے تووہ ان جنتی صحابی کے گھرچلے گئے اوران کے والدسے ان کے گھررہنے کی اجازت مانگی کہ دیکھوں یہ کیاکرتاہے توجنتی صحابی جب سوئے توصبح ہوکرجاگے تویہ دیکھ کرحضرت عبداللہ حیرت زدہ ہوگئے اورسوچاکہ منافق آدمی بھی تہجدنہیں چھوڑ تاتین دن تک یہی کام ہوتارہا انہوں نے سوچاکہ یہ توکچھ کام نہیں کرتے توان کوجنت کیسے ملے گی لیکن پھریہ بھی سوچاکہ نبی کریم ؐ کی بات بھی غلط نہیں ہوسکتی انہوں نے تین دن بعدتنگ آگران صحابی سےپوچھاکہ آپ کیاکرتے ہوتین دن آپ کی بشارت سنی کہ جنتی صحابی آرہاہے

آپ فرض نمازوں کے علاوہ کوئی عبادت بھی نہیں کرتے تواس صحابی نے کہاکہ بیٹاجوتم نے دیکھایہی ہے میرے پاس کے علاوہ کچھ بھی نہیں.حضوراکر م ؐ کی بات بھی غلط نہیں اوران صحابی کاکوئی عمل بھی نظرنہیں آیااب ان کوسمجھ نہیں آرہا کہ نبی کریم ؐ نے یہ کیوں فرمایااب جب یہ صحابی اپنے گھرواپس جانے لگے تواس جنتی صحابی نے کہاکہ بھتیجاادھرآئومیں تم کواندرکی بات بتاتاہوں جب وہ قریب آئے تواس جنتی صحابی نے کہاکہ بیٹامیرے اس دل میں کسی کے لیے کوئی حسدنہیں میں دوسروں کی کامیابی پرخوش ہوتاہوں تواس کے بعدحضرت عبداللہ بن امرنے فرمایایہی وجہ ہے …یہی وجہ ہے کہ حضورؐ نے آپ کانام لیا

چور کی سزا یہ ہے کہ اس کے ہاتھ کاٹ دے جائے

ایک نوجوان کو چوری کے جرم میں حضرت عمر فاروقؓ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔جب تفتیش کرنے پر اس نوجوان کا جرم ثابت ہوگیا تو آپ نے شرع کے مطابق چور کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم صادر فرمادیا ۔وہ نوجوان فریاد کرنے لگا اور رونے لگا معافی کا طلبگار ہوا کہ یہ میری پہلی چوری ہے میں آئندہ کبھی بھی چوری نہیں کروں گا ۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ’تم غلط کہتے ہو تم نے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ چوریاں کی ہیں۔آخر ار اس نوجوان کو اس بات کا اقرا ر کرنا پڑا کہ واقعی اس نے اس نے پہلے بھی چوری کی وارداتیں کی ہیں۔اب وہ بجائے معافی مانگنے کے اس بات پر حیران تھا کہ

حضرت عمرؓ کو کیسےوریوں کی خبر ہوئی اس نے حیرانگی کے عالم میں پوچھا اے امیر المومنینؓ !میری گزشتہ کی ہوئی چوریوں کا علم میرے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو نہیں ہے ۔آپ کو اس بات کی اطلاع کس طرح ہوگئی ے؟حضرت عمرؓ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کسی کو بھی اس وقت تک ذلیل و خوار نہیں کرتا جب تک کہ وہ برائی کی حد سے آگے نہ بڑھ جائے‘‘۔انسان ہمیشہ کامیاب لوگوں جیسا بننا چاہتا ہے لیکن اگرآپ کو علم ہوجائے کہ کامیاب لوگ رات کو سونے سے پہلے فار غ وقت میں کیاکرتے ہیں تو یقیناًآپ بھی یہ کام کریں گے۔کچھ پڑھنا:ہر بڑے آدمی کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ سونے سے قبل کچھ نہ کچھ ضرور پڑھتا ہے کہ اس طرح اس کے علم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور یہ اس کی تمام زندگی میں اس کے لئے فائدہ مند رہتا ہے۔

کام کی لسٹ بنانا:بین الاقوامی بزنس سپیکر مائیکل کیر کا کہنا ہے کہ کامیاب لوگ سونے سے قبل اگلے دن کے کاموں کی لسٹ پہلے ہیبنا لیتے ہیں تا کہ وہ رات کو پرسکون نیند لے سکیں اور اگلے دن وہ کام نمٹا لیں۔فیملی کے ساتھ وقت گزارنا:ہر کامیاب انسان کے لئے فیملی کی زندگی اچھا رکھنا فائدہ مند ہوتا ہے اور وہ اپنے بچوں اور بیوی کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور ان کی باتیں سنتے ہیں ،انہیں مشورے دیتے ہیں ۔اس طرح ان کی فیملی لائف اچھی گزرتی ہے اور وہ باہر کے کام بہتر طریقے سے کر پاتے ہیں۔دن بھر کی باتوں پر غور:ایسے افراد سونے سے قبل دن کے معمولات پر غور کرتے ہیں ۔اس طرح انہیں یہ علم ہوجاتا ہے کہ وہ کہاں غلط ہیں اور اگلی بار اس غلطی سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔

غور وخوص:کامیاب افراد چیزوں کے بارے میں غور و حوض کرتے ہیں اور سونے سے قبل کم از کم دس منٹ سوچنے میں صرف کرتے ہیں۔مکمل نیند لینا:یہ ایک انتہائی اہم ضرورت ہے اور اس کے ذریعے آپ دن بھر کے معمولات بہتر طریقے سے کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔کامیاب افراد کے لئے مناسب نیند اہم چیز ہوتی ہے اور وہ اس کے لئے پلاننگ کرتے ہیں۔کام سے وقتی لاتعلقی:کام کرنا ایک اچھی عادت ہے لیکن ہر وقت کام کو سر پر سوار رکھنے سے منفی رد عمل ہوتا ہے لہذا کامیاب افراد سونے سے قبل اپنے دماغ کو کام سے وقتی طور پر دور کرکے ذہن کو پرسکون کرتے ہیں۔مثبت سوچ سے سونا:انسان کا اپنی زندگی میں مثبت سوچ رکھنا ضروری ہے کہ اس طرح آگے بڑھنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے۔منفی خیالات صرف تباہی لے کر آتے ہیں لہذا کامیاب افراد مثبت سوچ کے ساتھ بستر میں جاتے ہیں۔اگلے دن کی کامیابی:کامیاب افراد کبھی بھی مایوس ذہن کے ساتھ نہیں سوتے ،جب وہ بستر میں جاتے ہیں تو اگلے دن کی کامیابی کی سوچ ان کے ذہن میں ہوتی ہے،اگلے دن جب وہ بیدار ہوتے ہیں تو ان کی سوچ باقی لوگوں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے جس کی وجہ سے انہیں کامیابی ملنے کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔

قرآن کی آیات کا فیصلہ

سوال یہ ہے کہ ’پاک مرد پاک عورتوں کے لیے‘ اس آیت کا کیا مطلب ہے؟ بہت سے عالم اس سے مراد شادی لیتے ہیں، کہ اگر آپ ناپاک ہوں گے تو آپ کو بیوی بھی ناپاک ملے گی۔ براہ مہربانی اس کا صحیح مطلب سمجھا دیں۔ شکریہ۔۔جاری ہے۔

جواب:

انسانی فطرت ہے کہ ہر شخص اپنے ہم خیال اور اپنے جیسی طبیعت کے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کو ترجیح دیتا ہے اور اپنے ہم خیال و ہم جلیس کے ساتھ رہنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ اسی فطری جذبہ کو قرآنِ مجید نے بھی بیان کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ زانی مرد سے زناکاری پر رضامند وہی عورت ہوتی ہے جو زانیہ یا مشرکہ ہو کہ زنا کو عیب نہ سمجھتی ہو۔ ایسی عورت کے ساتھ رہنے کو قبول وہی مرد کرتے ہے جو اسی جیسا بدکار یا مشرک ہو کہ زنا کی حرمت کا قائل نہ ہو۔ زناکاری کرنا یا زانیہ سے نکاح کرنا اسی طرح اپنی پاک دامن عورتوں کو زانی مردوں کے نکاح میں دینا مومنوں پر حرام ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔۔جاری ہے۔

الزَّانِي لَا يَنكِحُ إلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ.

بدکار مرد سوائے بدکار عورت یا مشرک عورت کے (کسی پاکیزہ عورت سے) نکاح (کرنا پسند) نہیں کرتا اور بدکار عورت سے (بھی) سوائے بدکار مرد یا مشرک کے کوئی (صالح شخص) نکاح (کرنا پسند) نہیں کرتا، اور یہ (فعلِ زنا) مسلمانوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔

النُّوْر، 24: 3

درج بالا آیت میں نہ صرف لوگوں کی پسندیدگی کو بیان کیا گیا ہے بلکہ اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ ایسا زانی یا زانیہ جس نے توبہ نہ کی ہو، جس کے زنا کی شہرت عام ہو اس کے ساتھ کسی مومن کا نکاح جائز نہیں ہے۔ جب کسی مرد یا عورت کی بدچلنی کا علم ہو تو اس کے باوجود اس سے نکاح کرنا اہل ایمان کے لیے حرام ہے۔ اگر وہ اس گناہ سے توبہ کر لیں، اس عمل کو ترک کر کے اپنی اصلاح کر لیں تو زانی یا زانیہ کی صفت ان سے ختم ہو جائے گی۔ آیت کا منشاء یہی ہے کہ جن لوگوں کی بدکاری معلوم ہو ان کو جیون ساتھی منتخب کرنا گناہ ہے‘ اس سے اہلِ ایمان کو پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے بدکاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اس حکمِ خداوندی میں یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ زنا ایسا قبیح فعل ہے جس کا مرتکب اسلامی معاشرے اور صالح خاندانی نظام کا حصہ بننے کے قابل نہیں رہتا۔ اسی لیے ارشاد فرمایا:۔۔جاری ہے

الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ أُوْلَئِكَ مُبَرَّؤُونَ مِمَّا يَقُولُونَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ.

ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے (مخصوص) ہیں اور پلید مرد پلید عورتوں کے لئے ہیں، اور (اسی طرح) پاک و طیب عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے (مخصوص) ہیں اور پاک و طیب مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں (سو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاکیزگی و طہارت کو دیکھ کر خود سوچ لیتے کہ اللہ نے ان کے لئے زوجہ بھی کس قدر پاکیزہ و طیب بنائی ہوگی)، یہ (پاکیزہ لوگ) ان (تہمتوں) سے کلیتًا بری ہیں جو یہ (بدزبان) لوگ کہہ رہے ہیں، ان کے لئے (تو) بخشش اور عزت و بزرگی والی عطا (مقدر ہو چکی) ہے (تم ان کی شان میں زبان درازی کر کے کیوں اپنا منہ کالا اور اپنی آخرت تباہ و برباد کرتے ہو).۔۔جاری ہے۔

النُّوْر، 24: 26

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر مرد زانی ہے تو اس کو لازماً زانی عورت ہی ملے گی، یا عورت زانی ہے تو اس کے نصیب میں فقط زانی مرد ہی ہوگا۔ قرآنِ مجید نے اس کا انکار کیا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالی نے قرآنِ مجید میں ایسے انبیاء علیھم السلام کا تذکرہ فرمایا ہے کہ جن کی بیویاں کافرہ تھیں۔ فرعون جیسے بدترین کافر کی بیوی حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے صالحہ خاتون قرار دیا ہے اور ان کی سیرت کا تذکرہ بھی قرآنِ مجید میں ملتا ہے۔

بیوی کیساتھ یہ تین کام کرنا اپنے آپ کو برباد کرنے کے برابر ہیں

بعض اوقات انسان سے جانے انجانے میں کچھ ایسی غلطیاں سر زد ہوجاتی ہیں جس کی کوفت اسے ساری زندگی تڑپاتی ہے آج ہم آپ سےتین ایسے کام شیئر کریں گے جو بیوی کے ساتھ کرنے سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے جو بھی شخص اپنی شریک حیات کے ساتھ یہ عمل کرے گا رزق اس سے دور کر دیا جائے گا بیماریا اس کی زندگی میں عام ہو جاتی ہے ساس سسر کو گالی دینا شادی کے بندھن سے منسلک ہونے کے بعد ساس سسر والدین کا درجہ رکھتے ہیں وہ وہی تعظیم کے حقدار ہیں جو اپنے والدین کی ہوتی ہے ان کو برا بھلا کہنا

گالی گلوچ کسنے سے منع فرمایا گیا ہے کچھ ان پڑھ لوگ اپنے ساس سسر کو برے ناموں سے پکارتے ہیں توزوال ایسے گھر کا مقدر بن جاتا ہے بیوی کے ساتھ غیر فطری طریقے سے ہمبستری کرنا بیوی کے ساتھ پچھلے حصے سے ہمبستری کرنا شرمگاہ کو منہ لگانا یہ ایک غیرفطری فعل ہے جس سے عورت تکلیف سے دوچار ہوتی ہے ایسے مرد پیسے پیسے کا محتاج ہو جاتے ہیں وہ شوہر جو بات بات پروہ الفاظ بولے جس میں طلاق کاناپسند دید لفظ ہو گھروں میں میاں بیوی کے درمیان وقتی ناراضگی ہو جاتی ہے مگرچھوٹی بات پر طلاق کالفظ بول کرعورت کو پریشان کرنا بہت بڑی زیادتی ہے لفظ طلاق کو اللہ پاک نے سخت ناپسندفرمایاہے زندگی ایک دوسرےکوسمجھنےاوربرداش کرنے کانام ہے غلطیاں جانے انجانےمیں ہوجاتی ہیں

بہترین حکمت عملی یہی ہے کہ خوش اسلابی سے حل کیے جائیں تاکہ دلوں میں رنجشیں پروان نہ چڑھیں اور وفاباقی رہ سکیں جب میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھ لیتے ہیں ایک دوسرے کی خوشی کا احترام کرتے ہیں ایک دوسرے کو وہ مقام دیتے ہیں جس کا وہ حق رکھتے ہیں مرد عورت کو اپنی پراپرٹی نہ سمجھےعورت مرد کو اپنا غلام نہیں تو ان کی ازدواجی زندگی جنت بن جاتی ہے دوستو اپنی بھی اصلاح کریں اور دوسروں سے بھی شیئر کریں تاکہ وہ بھی ان کاموں کا مرتکب ہونے سے بچ سکیں اور اپنی اصلاح کر سکیں شکری

عورت کیلئے ایک ہی شادی کا حکم کیوں؟؟؟

سائنس کے دائرے میں قرآنی معجزات کی ایک جھلک ایک ماہرِ جنین یہودی (جو دینی عالم بھی تھا) کھلے طور پر کہتا ہے کہ روئے زمین پر مسلم خاتون سے زیادہ پاک باز اور صاف ستھری کسی بھی مذھب کی خاتون نہیں ہے پورا واقعہ یوں ہے کہ الپرٹ اینسٹاین انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ایک ماہرِ جنین یہودی پیشوا روبرٹ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا جس کا واحد سبب بنا قرآن میں مذکور مطلقہ کی عدت کے حکم سے واقفیت اور عدت کیلئے تین مہینے کی تحدید کے پیچھے کارفرما حکمت سے شناسائی اللہ کا فرمان ہے والمطلقات یتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء [البقرة:228] “مطلقات اپنے آپکو تین حیض تک روکے رکھیں” اس آیت نے ایک حیرت انگیز جدید علم ڈی این اے کے انکشاف کی راہ ہموار کی اور یہ پتا چلا کہ مرد کی منی میں پروٹین دوسرے مرد کے بالمقابل 62 فیصد مختلف ہوا کرتی ہےتفصیلات کےلیے وڈیو دیکھیں

اور عورت کا جسم ایک کمپیوٹر کی مانند ہے جب کوئی مرد ہم بستری کرتا ہے تو عورت کا جسم مرد کی تما بیکٹریاں جذب ومحفوظ کر لیتا ہے
اس لئے طلاق کے فورا بعد اگر عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرلے یا پھر بیک وقت کئی لوگوں سے جسمانی تعلقات استوار کرلے تو اس کے بدن میں کئی ڈی این اے جمع ہو جاتے ہیں جو خطرناک وائرس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور جسم کے اندر جان لیوا امراض پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں سائنس نے پتا لگایا کہ طلاق کے بعد ایک حیض گزرنے سے 32سے35 فیصد تک پروٹین ختم ہو جاتی ہے اور دوسرے حیض آنے سے 67 سے 72 تک آدمی کا ڈی این اے زائل ہو جاتا ہے
اور تیسرے حیض میں 99.9%کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور پھر رحم سابقہ ڈی این اے سے پاک ہو جاتا ہے اور بغیر کسی سائڈ افیکٹ و نقصان کے نئے ڈی این اے قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے ایک طوائف کئ لوگوں سے تعلقات بناتی ہے جس کے سبب اس کے رحم مختلف مردوں کی منی چلی جاتی ہیں اور جسم مختلف ڈی این اے جمع ہو جاتے ہٰیں اور اسکے نتیجے میں وہ مہلک امراض کا شکار بن جاتی ہے اور رہی بات متوفی عنہا کی عدت تو اس کی عدت طلاق شدہ عورت سے زیادہ ہے کیونکہ غم و حزن کے بنا پر سابقہ ڈی این اے جلدی ختم نہیں ہوتا اور اسے ختم ہونے کے لئے پہلے سے زیادہ وقت درکار ہے اور اسی کی رعایت کرتے ہوئے ایسی عورتوں کےلئے چار مہینے اور دس دن کی عدت رکھی گئی ہے فر مان الہی ہے والذين يتوفون منكم و يذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر و عشرا
[البقرة:٢٣٤]

”اور تم میں سے جس کی وفات ہو جائے اور اپنی بیویاں چھوڑے تو چاہیے کہ وہ چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو روکے رکھیں“ اس حقیقت سے راہ پاکر ایک ماہر ڈاکٹر نے امریکہ کے دو مختلف محلے میں تحقیق کیا ایک محلہ جہاں افریقن نژاد مسلم رھتے ہیں وہاں کی تمام عورتوں کے جنین میں صرف ایک شوہر ہی کا ڈی این اے پایا گیا جبکہ دوسرا محلہ جہاں اصل امریکن آزاد عورتیں رھتی ہیں ان کے جنین میں ایک سے زائد دو تین لوگوں تک کے ڈی این اے پائے گئے جب ڈاکٹر نے خود اپنی بیوی کا خون ٹیسٹ کیا تو چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی کہ اس کی بیوی میں تین الگ الگ لوگوں کے ڈی ان اے پائے گئے جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کی بیوی اسے دھوکہ دے رہی تھی اور یہ کہ اس کے تین بچوں میں سے صرف ایک اس کا اپنا بچہ ہے اس کے بعد ڈاکٹر پوری طرح قائل ہوگیا کہ صرف اسلام ہی وہ دین ہے جو عورتوں کی حفاظت اور سماج کی ہم آہنگی کی ضمانت دیتا ہے اور اس بات کی بھی کہ مسلم عورتیں دنیا کی سب سے صاف ستھری پاک دامن وپاک باز ہوتی ہیں

Edible Printing: Makes Boring Food Attractive

WHAT IS EDIBLE PRINTING?

It is utilized to embellish birthday cakes and sweets which are fit for human utilization. They are of different structures and can be utilized to embellish our sustenance things and make them even more alluring and scrumptious.

WHERE DO WE USE EDIBLE PRINTING?

It tends to be seen at birthday parties, marriage capacities, infant showers, office parties. At whatever point there is a birthday party, a birthday cake is an unquestionable requirement and birthday cake nowadays look amazingly alluring as a result of them.

Indeed, even at marriage capacities, wedding cakes are brought and we regularly observe miniatures of a lady of the hour and a prepare on the wedding cake. This is only palatable printing.

We additionally purchase cakes and sweets on authority capacities, achievement gatherings and child showers and they are an unquestionable requirement for such events also.

Different TYPES OF EDIBLE PRINTING:

They come in different structures:

· Food pens

· Icing sheets

· Edible Inks

· Edible printing arrangements

· Icing sugar

Nourishment pens: If you have ever visited a cake shop, you probably saw a sustenance pen. A nourishment pen is utilized to compose names on cakes and cupcakes and different edibles. On your birthday, you probably requested your name to be jotted on the birthday cake. This is finished by the nourishment pen itself. Sustenance pens are produced using nourishment colorings and in this manner distinctive sustenance pens can give diverse hues according to our prerequisites.

Icing sheets: Icing sheets are thin, flavorless, white hued sheets that can be gone through a printer. When it has been printed and dried; it doesn’t break or split effortlessly. It is effortlessly reasonable and is set on sustenance things. Nowadays, we find different designs and even our own photos imprinted on a cake. This is finished with the assistance of icing sheets. Icing sheets are made with water, corn syrup, corn starch, cellulose, glycerin, sugar, vanilla, and so forth.

Eatable Inks: Edible inks are utilized to print designs or pictures on the icing sheets. The eatable inks come as cartridges which are embedded in the printers to print the designs on the icing sheets. The palatable inks are for the most part made of sugar arrangement and diverse sustenance colorings and can print the designs precisely.

Eatable printing arrangements: Edible printing arrangements arrive in an extensive variety of hues. While purchasing an eatable printing answer for our printer, we have to ensure that the organization from which we are acquiring our item is bona fide and does not make any unfriendly impact our wellbeing.

Icing sugar: Icing sugar is only finely powdered sugar that can be utilized as frostings over desserts and cakes. It is additionally called confectioners’ sugar. Icing sugars can be utilized in formulas like fondant, marshmallows and cream fills. It is made of consumable cornstarch and sugar and gives an appealing look to bread shop items and pastries.

Eating Your Curds And Whey

Nursery rhymes are every now and again many years old and their implications are not clear but rather essentially rehashed or sung by youthful youngsters. On account of “Little Miss Muffet” she is eating a centuries old adaptation of customary curds and whey, which is your fundamental curds, most likely the nourishment that this rhyme delineates. Curds is depleted, yet the whey remains, leaving the individual curds free. also, the causticity evacuated to accomplish an all the more sweet and charming taste.

Cheddar curds are a fundamental part in cheesemaking, which can likewise be browned for a bite or appetizer.These curds are strong bits of soured drain and produced using crisp sanitized drain during the time spent making cheddar after bacterial culture and an acidic substance, similar to lemon juice, are added to cause thickening (turning sour). For accommodation, pastry specialists as often as possible “turn sour” drain to deliver a buttermilk taste when making biscuits, hotcakes or other prepared products. Vinegar or lemon juice are the most widely recognized added substance, however hundreds of years back rennet was utilized (bovine’s stomach lining). It is then cut into solid shapes and the outcome is a blend of whey (the fluid) and curd. This blend is cooked and squeezed to isolate the whey from the curd, making the last result of cheddar curd. Typically gentle in flavor, new curds squeak when nibbled into, a trademark caused via air caught inside the permeable material. In the nation of India, a famous option in contrast to meat is paneer, which is broadly utilized in customary fundamental courses, and rice biryani. It looks like tofu and has a flat yet satisfying taste and surface. (Alright, more than you needed to know.)

In spite of the fact that cheddar curds in a perfect world ought to be eaten new, they can be bought at neighborhood stores across the country, The most well-known curd is a youthful cheddar. In Wisconsin, cheddar industrial facilities wrench them out day by day to fulfill the interest and have been created since the mid 1800s, while cheesemaking got its begin in America’s Dairyland, as Swiss and German workers conveyed their aptitudes and formulas to the Midwest. Today they are the state’s most famous bite. Wisconsin creates more than 2 billion pounds of cheddar for every year. That is a ton of curds.

A prevalent nibble in the province of Wisconsin (nothing unexpected), they have been delighted in for a considerable length of time with wine or lager, yet now have spread the nation over, particularly at district and state fairs, where they are typically pan fried. They can be acquired at numerous neighborhood general stores.

So essentially, Miss M was perched on a stool eating curds until the point when that bug showed up and destroyed things for her. That should clear up any disarray you’ve had since youth. Nowadays she would probably be noshing on broiled cheddar curds and tasting a soda. Presently go cook a few and appreciate.

Licorice: Good And Plenty

Licorice is an individual from the vegetable family and albeit comparative in taste, not identified with anise.The licorice plant is a perpetual herbaceous plant local to southern Europe and parts of Asia and India and has been utilized in confections and sugars for quite a long time. Nations that as of now deliver licorice incorporate India, Iran, Italy, Afghanistan, China, Pakistan and Iraq. In the Netherlands, licorice drops are a standout amongst the most prominent types of desserts and have been esteemed for a huge number of years for many purposes, including a solution for a cracked gut, hacks and colds. Its uses date as far back as old Egypt, where it was made into a beverage to fix stomach related issues, in the wake of heating up the root and including fluid. It is still much of the time worldwide in home grown teas.

Normally sweet and simple to develop, it has been perceived for its restorative incentive to help with relief from discomfort, crabby insides, joint torment, sore throat, acid reflux and even a cell reinforcement. Albeit inordinate utilization of licorice can be destructive, it is exceedingly far-fetched that somebody would ingest enough to be an issue. It advanced toward America by means of Great Britain, and since licorice has been a long standing most loved around the world, it turned out poorly by early candymakers, who started acquainting it with fulfill America’s developing sweet tooth in the late 1800s:

Great and Plenty – the most seasoned marked treats, presented in 1893 in its unmistakable box with pink and white confections, related to its trademark character “Choo-Choo Charlie” on early TV, and a most loved motion picture theater sweet; kids got a kick out of rattling those crates and irritating other motion picture goers;

Dark Crows gum drops likewise go back to the late 1890s;

Laughs jellied confections – five flavors to a bundle which included one licorice piece, presented in 1921;

Arranged licorice blend and swizzle sticks – amusing to bite and stretch, biting on licorice root was utilized in African nations for a considerable length of time as a methods for cleaning teeth;

Dark jam beans – everybody has a most loved flavor, and many reach for those dark ones first;

Smith Bros. hack drops – first brand presented in 1847 and a hit with its particular bundle including two hairy men of honor, tragically bankrupt now; (wild cherry flavor came later)

Dark Jack gum – 1884 a biting gum creator named Thomas Adams started adding licorice enhancing to his chicle gum,and called his creation Adams’ Black Jack, the primary seasoned gum in the U.S. It was additionally the main gum to be offered in sticks; (not well known any longer, but rather still accessible)

Not as famous as it was a century back, licorice still draws an unwavering after, particularly among the hard and chewy treat devotees. Beside the way that is can make your teeth and gums dim, it keeps on having an unequivocal after. It’s one of those flavors which you either like or despise, and basically limits itself to confections. Licorice frozen yogurt and treats don’t appear to spring up anyplace, yet that is okay with the individuals who cherish it. What’s more, Choo-Choo Charlie might be gone, yet his legend lives on. It’s great and ample no doubt.

Sweet Potatoes and Yams

Staying here at my work area my brain wandered back to a years ago thanksgiving supper. My significant other Pam was in the kitchen setting up a devour for our supper and what a devour it was. We had turkey finish with stuffing, a ham, vegetables, pureed potatoes and sauce, potato and macaroni servings of mixed greens, the typical cranberry sauce and obviously sweet potatoes. No real occasion feast was ever total without sweet potatoes on the table.

These recollections made me consider the distinctions which exist between the two comparative vegetables.There is dependably a touch of disarray between these two things and in this short tirade I mean to confident scatter the fantasies encompassing this established vegetable. The reality of the situation is that the vegetable that you have called a yam for various years is very pretty much than a sweet potato. A genuine yam a great many people have never observed nor tasted.

The truth is out people; the sweet, orange-shaded root vegetable which you esteem so beyond all doubt is really an assortment of sweet potato. All “yams” which you find in a supermarket or create showcase are in actuality not yams by any stretch of the imagination. The larger part of individuals wrongly trust that those since a long time ago, red-cleaned items in the store are yams, however the reality remains that they are simply one of numerous assortments of our regular sweet potatoes. One considers how we came to be so befuddled and wrong on this fine vegetable. To answer this inquiry we would initially need to find the primary contrasts which exist between the two items.

A yam is darker in shaded than the its prominent orange-fleshed cousin. A genuine yam is a consumable root which is to a great degree dull and is normally foreign made to the United States from the Caribbean. In surface it is harsh and flaky and contains almost no beta carotene.

Contingent upon the sweet potatoes assortment its substance can run from an unadulterated white to the prominent orange shading or at times even a purple shade. The orange-fleshed assortment touched base in the United States various decades prior. With an end goal to advance the foreign made assortment and to recognize it from the white assortment, makers and merchants marked the imports with an African word “nyami” and in this manner called them “yams” for short.

I trust this clears up a portion of the riddle and disarray related with these two fine sustenances and with that I wish an incredible eating background with either yams or sweet potatoes.

Who Needs Ice in Winter?

It is cool outside. It is chilly inside. It’s simply no fun being chilly and cooped up in your home. Is it true that it isn’t greatly improved to go out to a place that has heaps of warming and a warm climate? It’s extraordinary to get out a bit and spend time with a few companions. Unquestionably, when you go to a bar or eatery you make the most of your most loved beverage. What’s more, most beverages require ice.

Regardless of whether it is winter or summer, the manner in which a beverage is made continues as before. The formula doesn’t change essentially in light of the fact that the climate changes, and your inclination on how the beverage is rolled out doesn’t improvement since it is chilly. Therefore, bars and eateries need to provide food for ice consistently.

Amid winter months bar and eatery proprietors need to guarantee that they have adequate ice available. The most ideal approach to cook for this interest is by putting resources into a decent ice machine that makes ice when required. Essentially this providing food gear ought to have the capacity to make a set measure of ice when you require it and furthermore have the capacity to store it for a couple of hours. You ought to have the capacity to control the measure of ice being made and have enough accessible for the beverages orders. In the event that you happen to have a busier night than common, the ice producer must have the capacity to make ice rapidly, inside minutes if conceivable. The exact opposite thing you need is for a client to sit tight for their beverages. All things considered, drinks are the snappiest thing to get ready and no client needs to trust that you will get ice.

Few out of every odd bar has similar requests. A little ban or eatery won’t profit by having a major ice machine, for instance. In this way you should evaluate the extent of your foundation with the quantity of clients that visit you all things considered. At that point you will have the capacity to figure the quantity of beverages that are requested on a normal night. When you have this data, you can evaluate how much ice you utilize which will give you the knowledge regarding what estimate ice machine you have to obtain.

Bars and eateries do require ice in winter. This is to ensure that they take care of the demand of their clients who love to have their beverages on the stones. Regardless of what the climate might be, having a night out with companions is constantly appreciated.

CaterWeb stocks a full scope of business kitchen items and we even offer free showings and additionally hands on preparing if fundamental. Visit our site to get to our online store or then again we invite you to visit our new showroom.