دو سوال

کولمبیا کی ایک یونیورسٹی میں میتھس کے لیکچر کے دوران کلاس میں حاضر ایک لڑکا بوریت کی وجہ سے سارا وقت پچھلے بنچوں پر مزے سے سویا رہا، لیکچر کے اختتام پر طلباء کے باہر جاتے ہوئے شور مچنے پر اسکی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ پروفیسر نے وائٹ بورڈ پر دو سوال لکھے ہوئے ہیں. لڑکے نے انہی دو سوالوں کو اسائنمنٹ سمجھ کر جلدی جلدی اپنی نوٹ بک میں لکھا اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ ہی کلاس سے نکل گیا.

گھرجا کرلڑکا ان دو سوالوں کے حل سوچنے بیٹھا. سوال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی مشکل ثابت ہوئے.میتھس کا اگلا سیشن چار دنوں کے بعد تھا اس لئے لڑکے نے سوالوں کو حل کرنے کیلئے اپنی کوشش جاری رکھی. اور یہ لڑکا چار دنوں کے بعد ایک سوال کو حل کر چکا تھا.

اگلی کلاس میں لڑکے کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پروفیسر نے آتے ہی بجائے دیئے ہوئے سوالوں کے حل پوچھنے کے، نئے ٹوپک پر پڑھانا شروع کر دیا تھا. لڑکا اْٹھ کر پروفیسر کے پاس گیا اور اْس سے کہاکہ سر ، میں نے چار دن لگا کر ان چار پیجز پر آپکے دیئے ہوئے دو سوالوں میں سے ایک کا جواب حل کیا ہے اور آپ ہیں کہ کسی سے اس کے بارے میں پوچھ ہی نہیں رہے؟پروفیسر نے حیرت سے لڑکے کو دیکھتے ہوئے کہا کہ میں نے تو کوئی اسائنمنٹ نہیں دی. ہاں مگر میں نے وائٹ بورڈ پر دو ایسے سوال ضرور لکھے تھے جن کو حل کرنے میں اس دْنیا کے سارے لوگ ناکام ہو چکے ہیںجی ہاں.یہی منفی اعتقادات اور سوچ ہے، جنہوں نے اس دْنیا کے اکثر انسانوں کو ان مسائل کے حل سے ہی باز رکھا ہوا ہے، کہ انکا کوئی جواب دے ہی نہیں سکتا تو کوئی اور کیوں کر ان کو حل کرنے کیلئے محنت کرے.

اگر یہی طالبعلم عین اْس وقت جبکہ پروفیسر وائٹ بورڈ پر یہ دونوں سوال لکھ رہا تھا،جاگ رہا ہوتا اور پروفیسر کی یہ بات بھی سن رہا ہوتا کہ کہ ان دو مسائل کو حل کرنے میں دنیا ناکام ہو چکی ہے تو وہ بھی یقیناً اس بات کو تسلیم کرتا اور ان مسائل کو حل کرنے کی قطعی کوشش ہی نہ کرتا. مگر قدرتی طور ہر اْسکا سو جانا اْن دو مسائل میں سے ایک کے حل کا سبب بن گیا. اس مسئلے کا چار پیجز پر لکھا ہوا حل آج بھی کولمبیا کی اْس یونیورسٹی میں موجود ہے.

ﻋﺼﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺭﻭﺯﮦ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ

ﺣﻀﺮﺕ ﺧﻮﺍجہ ﻏﻼﻡ ﻓﺮﯾﺪ رحمۃ اللہ علیہ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﺟﮭﺮﻣﭧ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎ ﺗﮭﮯ.. ﺭﻣﻀﺎﻥﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ ﮐﺎ مہینہ ﺗﮭﺎ.

ﺳﺐ ﯾﺎﺩ ﺍﻟﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝﺗﮭﮯ کہ ﻋﺼﺮﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮨﻨﺪﻭ ﺟﻮﮌﺍ ﺣﺎﺿﺮِ ﺧﺪﻣﺖ ﮨﻮﺍ. جو آپکے لیے ﺷﮑﺮ ﮐﺎ ﺷﺮﺑﺖ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻻﯾﺎ ﺗﻬﺎ.ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯﺷﺮﺑﺖ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺧﻮﺍجہ ﻓﺮﯾﺪ رح ﻧﮯ ﺷﺮﺑﺖ ﺍﻓﻄﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ.یہ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﻨﺪﻭ ﺑﻮﻻ: ﺣﻀﺮﺕ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ کہ ﺁﭖ یہ ﺷﺮﺑﺖ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﻮﺵ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ.. یہ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺧﻮﺍجہ ﻓﺮﯾﺪ رحمۃ اللہ علیہ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻻؤ ﺷﺮﺑﺖ. ﺍﻭﺭ ﻋﺼﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﯽ ﺭﻭﺯﮦ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ. یہ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﻨﺪﻭ ﺟﻮﮌﺍ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺍ کہ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺷﺮﺑﺖ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﯽ ﺑﺮﺗﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﯽ ﮐﺮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮ ﺩﯼ.ﺟﺐ ﻭﮦ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﻮﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮨﻮﺋﯽ کہ ﮨﻨﺪﻭ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﻭجہ ﺳﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﺗﻮﮌﺍ. ﺍﺏ ﮐﻔﺎﺭﮦ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﺎآپ ﺳﺐ ﮐﯽ ﺳﻨﺘﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ کہ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟﮐﻞ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ. ﺍﮔﻠﮯ ﺭﻭﺯ ﮨﻨﺪؤﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ لیئے ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮ گئی. ﻭﮨﯽ ﻣﺮﯾﺪﯾﻦ ﺧﻮﺍجہ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ. ﮐﭽﮫ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮨﻨﺪﻭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ کہ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﺎ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﺗﻬﺎ کہ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺷﺮﺑﺖ ﭘﻼﺋﯿﮟ گے.

ﮨﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ کہ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮨﻨﺪؤﻭﮞ ﮐﺎ ﺷﺮﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ پیے ﮔﺎ. ﻟﯿﮑﻦ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ کہ ﺁﭖ ﻧﮯ نہ ﺻﺮﻑ ﺷﺮﺑﺖ ﭘﯿﺎ بلکہ ﻋﺼﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﻭﺯﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ. ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮨﻢ یہ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ کہ ﺁﭖ ﻟﻮﮒ ﮐﺘﻨﮯ ﻋﻈﯿﻢﺍﻟﺸﺎﻥ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ہیں ﺟﻮ ﺭﻭﺯﮦ ﺗﻮ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺘﮯ ہیں ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌﺗﮯ. پس ﮨﻢ ﭘﻮﺭﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﺁ ﮔﺌﮯ.پنجاب میں صوفیانہ مسلک چشتیہ کے احیاء کا سرا خواجہ نور محمد مہاردی کے سر ہے . یہاں مٹھن کوٹ کے مرکز کے نگران خواجہ محمد عاقل تھے جو خواجہ نور محمد مہاروی کے خلفیہ اور خواجہ غلام فرید کے جد امجد تھے . خواجہ فرید 1844ء میں یہیں پیدا ہوئے . خواجہ فرید کے والد کو سجادہ نشینی کے بعد بہاول پور کے نواب سکھوں کے عہد حکومت میں مٹھن کوٹ سے اپنی ریاست میںلے آئے اور انہوں نے چاچران نامی گاؤں میں رہائش اختیار کر لی . خواجہ غلام فرید کے بڑے بھائی خواجہ غلام فخر الدین نے ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی اہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی علوم سے بھی بہرہ ور کیا .خواجہ فرید اپنے انہی برادر بزرگ کے مرید ہوئے اور عبادات اور ریاضتوں میں غرق ہو گئے .

اٹھائیس برس کی عمر میں برادر و مرشد کے انتقال کے بعد صاحب سجادہ ہوئے مگر سجادگی کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے گوشہ نشینی اختیار کرنے کو ترجیح دی ، نامی صحراو بیابان کا رخ کیا اور کم و بیش اٹھارہ برس تک بیابانوں کو آباد کرتے رہے .

قاتل۔ حاکم وقت

قصور میں ہونے والے دلخراش واقعہ نے قوم کو بری طرح سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ننھی زینب پر گزرنے والی قیامت نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے۔ پچھلے کئی روز سے میڈیا لگاتار اس اندوہناک واقعہ کی کوریج کر رہا ہے،” جسٹس فار زینب ” کے نام سے سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی جا رہی ہے۔

معاشرے کے ہر حصے سے صرف یہی صدا بلند کی جارہی ہے کہ اس گھناؤنے فعل کو سرانجام دینے والے شیطان کو اس کے کیے کی سزا دی جائے۔ غم و غصے کی شدت اس قدر زیادہ ہے کہ مجرم کی سر عام پھانسی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔

یقیناََ اس کیس کو ملنے والی کوریج سے معصوم زینب کے لواحقین کو کم از کم یہ حوصلہ تو ضرور ہوا ہے کہ ا ن کی معصوم بیٹی کا قاتل شاید اپنے انجام کو پہنچ ہی جائے لیکن دوسری طرف جو بات ایک بار پھر سے کھل کر سامنے آئی ہے وہ پاکستان کے ریاستی نظام کا بوسیدہ پن ہے۔

زینب کا اغوا قصور میں ہونے والا اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، اخباری رپورٹوں کے مطابق دو کلومیٹر کے دائرہ میں صرف چند ماہ کے عرصے میں گیارہ سے زائد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا نے کے بعد قتل کر دیاگیا لیکن کسی ایک بھی کیس میں مجرم گرفتار نہیں ہو ا۔ ایسے حالات میں مقامی لوگوں کا غم و غصہ با لکل بجا ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ گزشتہ واقعات کے پس منظر میں زینب کے لواحقین کی جانب سے اس کی گمشدگی کے بارے میں اطلاع ملنے پر پولیس تفتیش میں سستی نہ دکھاتی۔ لیکن پولیس نے ان کی کوئی خاطر خواہ مدد نہیں کی اور تھانہ کلچر تبدیل کرنے کا خادم اعلیٰ کا نعرہ محض نعرہ ہی ثابت ہوا۔

چار روز تک پولیس روایتی انداز سے معاملے کی تفتیش کرتی رہی پھر جب بچی کی لاش ایک کچرے کے ڈھیر پر پڑی ملی تو علاقہ مکینوں کا رد عمل فطری تھا،ان میں غم وغصے اور نفرت کی لہر دوڑ گئی۔عوام باہر نکلے تو ایک اور نہایت افسوسناک واقعہ ہوگیا، پولیس کے چند جوانوں نے مظاہرین کو منتشرکرنے کی کوشش میں عوام پر سیدھی گولیاں چلا دیں۔

یہ مظاہرین آتشی اسلحہ سے مسلح نہ تھے، ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے اور وہ اپنے بازوؤں کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں گز دور ایک برآمدے کے باہر کھڑے ہوئے پولیس والوں پر پتھرائو کر رہے تھے۔ پولیس کی فائرنگ سے دو افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان دونوں واقعات نے پولیس کے نظام کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ سوال یہ ہے کہ زینب کی گمشدگی کی رپورٹ ملنے سے لے کر اس کی لاش ملنے تک کے عرصے میں پولیس نے کیا تفتیش کی؟

پرانے زمانے میں پولیس کے نظام کا اہم جز مخبری کا نظام ہوتا تھا، ہر علاقے میں تھانے کی سطح پر مخبروں کا ایک ایسا نیٹ ورک ہوتا تھا جن کی مدد سے علاقے کا ایس ایچ او اپنے علاقے میں ہونے والی سرگرمیوں سے بخوبی واقف رہتا تھا۔ ہر مخبر اپنے علاقے میں ہونے والے کسی بھی جرم کے حوالے سے تفصیلات اکٹھی کرتا اور اس کی مدد سے پولیس مجرمان تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی تھی۔ لیکن موجودہ زمانے میں پولیس کا مخبری نظام بری طرح سے ناکام ہو گیا ہے۔

اس خرابی کے پیچھے بہت سے عوامل ہیں لیکن غالباََ ہمارے شہری علاقوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پرانے زمانے میں جن علاقوں میں دو چار گاؤں ہوا کرتے تھے اب کئی ہزار گھرانوں پر مشتمل رہائشی کالونیاں بن چکی ہیں۔

ماڈرن پولیسنگ میں جہاں مجاہد فورس، ڈولفن فورس اور پولیس رسپانس یونٹ اور سیف سٹی جیسے اربوں روپے کے منصوبے بنائے گئے ہیں، وہیں تفتیشی نظام کی بنیادی کمزوریوں کو بہت حد تک نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ جرائم کی روک تھام کی کوشش میں کرائم انوسٹی گیشن پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔

آج سے کئی سال قبل جب انویسٹی گیشن کو ایک علیحدہ شعبہ بنایا گیا تو یہی خیال تھا کہ اس سے جرائم کی تفتیش بہتر کرنے میں مدد ملے گی لیکن نتائج کچھ زیادہ اچھے نہیں دکھائی دیتے۔

اگر ایک ہی علاقے میں گیارہ ایک جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن کسی ایک بھی مقدمے میں کوئی مجرم نہیں پکڑا جاتا تو کیا ان حالات میں کوئی بھی پولیس پر اعتماد کرے گا؟ اور پھر اگر اشتعال میں آکر عوام مظاہرے کرنے لگیں تو پولیس کے جوان انہیں منتشر کرنے کی کوشش میں سیدھی گولیاں چلا دیں؟

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ماڈل ٹاؤن واقعہ سے سبق سیکھتے ہوئے کم از کم پولیس کے جوانوں کی اتنی ٹریننگ ہی کر دی جاتی کہ کسی بھی صورت میں ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لئے لائیو ایمونیشن کا استعمال نہ کیا جاتا۔ ہجوم کو کنٹرول کرنے والے خصوصی یونٹس میں موجود افراد اتنے تربیت یافتہ اوراتنی تعداد میں ہیں جو بڑے ہجوموں کو کنٹرول کرسکیں؟

قصور میں پچھلے چند دنوں میں ہونے والے واقعات میں علاقے کی سیاسی قیادت کا رویہ بھی کچھ سمجھ سے باہر ہے۔کسی بھی سانحہ کے بعد عوام کی داد رسی کی سب سے پہلی ذمہ داری مقامی قیادت اور منتخب نمائندوں پر عائد ہوتی ہے۔

علاقے میں ہونے والے گیارہ واقعات کے بارے میں اگر پولیس کچھ نہیں کر پائی تو ان سیاستدانوں نے کتنی مرتبہ اس سلسلے میں اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی؟ حکمران جماعت کے کتنے سیاستدانوں نے مظلوم خا ندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا؟ اگر ان کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا توپھر اپوزیشن جماعتوں نے اس مسئلے کو اٹھانے میں کوئی کردار ادا کر کے سیاسی فائدہ حاصل کر لیا، تو اس پر واویلا کیوں؟ پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ جہاں بھی کوئی خلا پیدا ہو گا اسے بھرنے کے لئے کوئی نہ کوئی ضرور آگے آئے گا۔

جب سیاسی جماعتیں، حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپنےعوام کے ساتھ ہونے والے ظلم کے لئے آواز نہیں اٹھاتیں تو پھر انہیں اس بات کا گلہ کرنے کا کوئی حق نہیں کہ کوئی اور ادارہ یا جماعت ان کے اختیارات میں بے جامداخلت کر رہے ہیں۔اگر گیارہ معصوم جانوں کے جانے کے بعد بھی ایک سات سالہ بچی کے لواحقین کو انصاف کے حصول کے لئے مظاہرے کرنے پڑیں ،تو نظام کی خرابی کو دور کرنے کے لئے دیگر قوتوں کو آگے بڑھنا ہی ہو گا۔

بہتر ہے سیاستدان اختیارات کے حصول کے لئے جتنی جدوجہد کرتے ہیں ،اتنی ہی جدوجہد عوام کی حفاظت اور انہیں انصاف کی فراہمی کے لئے بھی کریں۔ ایس ایچ او کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ نے اپنے ذمہ لے کر نظام کو مکمل طور پر اپاہج کر دیا ہے ۔ مقتولین کو لاکھوں روپے کا معاوضہ دے کر مسائل کو بھول جانا خرابی میں اضافہ کر رہا ہے۔

حضرت علیؓ کا قول ہے کہ جس مقتول کا قاتل نا معلوم ہو، اس کا قاتل حاکم وقت ہوتا ہے۔ میرا مطالبہ ہے کہ حاکموں، بچیوں کے قاتلوں کو پکڑ کر قانون کے مطابق سزا دلواؤ۔ روز قیامت تم سے ان قتلوں کا بھی حساب لیا جا سکتا ہے۔

عقیدت کامقام

روزِ اول سے آج تک کروڑوں انسان اِس جہانِ فانی میں آئے کھایا پیا افزائشِ نسل کا حصہ بنے اور پیوندِ خاک ہو گئے ۔اِن کروڑوں انسانوں میں زیادہ تر تو گمنامی کی زندگی گزار کر گئے جبکہ کچھ اور چند ایسے انسان بھی تھے کہ خالقِ ارض و سما نے ان کو بادشاہت کا اختیار بھی دیا یہ وہ لوگ تھے کہ لاکھوں انسانوں کی زندگی موت کا فیصلہ اِن کے ہاتھ میں تھا جب یہ حرکت کرتے تو لاکھوں لوگ اِن کے ساتھ حرکت کرتے جب یہ ساکن ہو تے تو دنیا ساکن ہو جاتی ۔

شب و روز گزرتے چلے گئے اور یہ بڑے لوگ بھی ماضی کا حصہ بنتے چلے گئے یہ سلاطین اور شہنشاہ جب زندہ تھے تو ہر زبان پر اِن کا چرچا اور حکمرانی تھی لیکن جب وقت نے کروٹ لی اور یہ پیوندِ خاک ہوئے تو کچھ ہی دنوں بعد اِن کی قبروں اور مزارات پر دھول اڑنے لگی اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ اِن کی قبروں اور مزارات کے نشان تک مٹ گئے ۔مسلمانوں کی تاریخ بھی ایسے ہی بادشاہوں کے ناموں سے بھری پڑی ہے جو دنیا دار تھے وہ کچھ عرصہ تو لوگوں کو یاد رہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہی ایسے حکمرانوں کے نام بھی آج اذھان سے محو ہو چکے ہیں ۔لیکن اِن حکمرانوں میں وہ بادشاہ جنہوں نے عشقِ رسول ﷺ کی وادی میں قدم رکھا اپنی عقیدت و احترام کا اظہار کیا اور خود کو آقائے دو جہاں کا ادنی غلام سمجھا تو ایسے حکمرانوں کے نام آج تاریخ میں صرف اور صرف عشقِ رسول ﷺ کی وجہ سے زندہ ہیں ۔ایسے حکمرانوں کے شب و روز عشقِ رسول ﷺ ، سنتِ نبوی ﷺ ، عبادت ، ریاضت خشتِ الہی میں گزرے ایسے حکمرانوں کے نام تاریخ کے اوراق پر روشن ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں ۔

بت شکن سلطان محمود غزنوی جو بت شکنی کے حوالے سے قیامت تک تاریخ کے اوراق میں امر ہو گیا وہ بھی عشقِ رسول ﷺ کی دولت سے مالا مال تھا سلطان محمود کی اپنے غلام ایاز سے بھی محبت تاریخ کا حصہ ہے اس غلام ایاز کا ایک بیٹا تھا جس کا نام محمد تھا جو بادشاہ کی خدمت کے لیے مامور تھا ایک روز سلطان محمود غزنوی طہارت خانے میں آیا اور آواز دی ایاز بیٹے سے کہو کہ وضو کے لیے پانی لے کر آئے ایاز شاہانہ مزاج سے خوب واقف تھا بادشاہ کی بات سن کر پریشان ہو گیا کہ شاید میرے بیٹے سے کوئی گستاخی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے بادشاہ سلامت ناراض اور ناخوش ہو گئے ہیں اِ س لیے روزانہ کی طرح آج بیٹے کا نام لے کر نہیں پکارا سلطان محمودوضو سے فارغ ہو کر جب باہر آیا تو اپنے عزیز غلام ایاز کو غم کے سمندر میں ڈوبا ہوا پایا کیونکہ ایا ز غم کا مجسمہ بن کر اداس غمگین کھڑا تھا ۔ بادشاہ ایاز کو غمزدہ دیکھ کر بولا آج تم دکھ اور غم کا مجسمہ بن کر کیوں کھڑے ہو، تو ایاز بولا عالم پناہ آج آپ نے غلام زادے کو نام لے کر نہیں بلایا اِس وجہ سے میں بہت پریشان ہوں کہ پتہ نہیں غلام زادے سے کیا غلطی یا نافرمانی ہو گئی جس کی وجہ سے عالی جاہ ناراض ہو گئے ہیں سلطان محمود سن کر مسکرایا اور کہا ۔ ایاز ایسی کوئی بات نہیں تم مطمئن رہو نہ تو صاحبزادے سے کوئی غلطی ہوئی ہے اور نہ ہی میں اس سے ناراض ہوں ۔ لیکن ایاز کے چہرے پر ابھی تک سوالیہ اور غم کے تاثرات نمایاں تھے سلطان محمود مسکرایا اور کہا آج صاحبزادے کو نام لے کر نہ بلانے کی وجہ یہ تھی کہ مجھے شرم آئی اور میں بے ادبی سمجھا کہ بے وضو میری زبان سے راحت انس و جان و رحمتِ دو جہاں ﷺ کا اسمِ گرامی ادا ہو۔

اِسی طرح سلطان ناصر الدین بھی عشقِ رسول ﷺ میں سر سے پاں تک ڈوبا ہوا تھا ۔ نبی کریم ﷺ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ ﷺکا نام بے حد ادب و احترام سے لیتا اس کے ایک مصاحب کا نام محمد تھا ایک دن اسے نام لے کر نہ پکارا بلکہ کہا تاج دین اِدھر آ اور یہ کام کرو ۔ کام کرنے کے بعد محمد اپنے گھر چلا گیا اور پھر تین دن تک بادشاہ کی خدمت میں نہ آیا تو سلطان نے کسی کو بھیج کر اسے طلب کیا اور نہ آنے کی وجہ پوچھی تو مصاحب نے عرض کی عالی جاہ جب آپ نے مجھے خلافِ عادت تاج دین کہہ کر پکارا تو مجھے لگا میری کسی غلطی اور گستاخی کی وجہ سے آپ مجھ سے ناراض ہیں اِس شرمندگی اور غم میں تین دن میں گھر میں پڑا رہا تو سلطان ناصر دین شفقت آمیز لہجے میں بولے اے عزیز ایسی ناراضگی والی کوئی بات نہیں اس وقت میں باوضو نہیں تھا اِس لیے بغیر وضو محمد نام لینا مجھے بے ادبی لگا اِس لیے تاج دین کہہ دیا ۔

سلطان صلاح الدین ایوبی فاتح بیت المقدس کو جولازوال شہرت ملی اور قیامت تک امر ہو گیا اس کی وجہ بھی عشقِ رسول ﷺ ہی تھا ۔ ایک دفعہ مدینہ منورہ کے حکام میں سے کسی نے ایک پنکھا بطور ہدیہ بھیجا جس کی ایک طرف لکھا تھا ۔ یہ آپ کے لیے ایسا خاص تحفہ ہے کہ آج سے پہلے ایسا نایاب تحفہ آپ کو نہ تو کسی نے بھیجا اور نہ ہی کسی نے آپ کے والد کو اور نہ ہی کسی بادشاہ کو بھیجا ہو گا ۔ یہ پڑھ کر سلطان صلاح الدین ایوبی کو بہت زیادہ غصہ آگیا ۔ بادشاہ کا غصہ دیکھ کر قاصد نے عاجزی سے عرض کی اے بادشاہ سلامت آپ غصہ فرمانے سے پہلے برائے مہربانی ایک بار دوسری طرف کو بھی پڑھ لیں اور غصہ نہ کریں ۔ لہذا سلطان صلاح الدین ایوبی نے پنکھے کو دوسری طرف الٹ کر پڑھا تو وہاں دو ایمان افروز شعر لکھے ہوئے تھے ۔ میں نخلستا ن مدینہ کا پنکھا ہوں اور نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کا ہمسایہ ہو ں کہ ساری مخلوق اِس کی زیارت کے لیے آتی ہے ۔میں نے اِسی قبر مبارک کے زیر سایہ پرورش پائی حتی کہ ا،سی برکت کی وجہ سے میں سلطان صلاح الدین کے لیے راحت پر مقرر ہوا۔ یہ پڑھنے کی دیر تھی کہ بے ساختہ سلطان بول اٹھا ۔ خدا کی قسم تو نے سچ کہا ۔

عقیدت اور عشقِ رسول ﷺ سے سلطان کی خوشی کی انتہا نہ رہی ، کیونکہ یہ دنیا جہاں کے خزانوں اور نایاب تحفوں سے بڑھ کر ایسا خزانہ خاص تھا کہ اِس کے سامنے دنیا بھر کے ہیرے جواہرات اور سونے چاندی چاندی کے ڈھیر ہیچ تھے اور واقعی سلطان کو آج سے پہلے کسی نے ایسا نایاب اور مقدس تحفہ نہیں بھیجا تھا۔ یہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی کا سب سے بڑا اور مقدس تحفہ تھا ۔ سلطان عشقِ رسول ﷺاور ادب احترام میں پنکھے کو اپنی آنکھ پر رکھ لیا اور آنکھوں سے عقیدت و احترام سے خوشی کے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا۔

میر عربؐ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے

بھنبھور میوزیم سے دیبل کے آثار کی طرف جائیں تو سمندری ہواؤں کے مست جھونکے آپ کا استقبال کرتے ہیں۔ دور سے ناتراشیدہ پتھروں کی پندرہ بیس فٹ اونچی فصیل دکھائی دیتی ہے۔ برابر فاصلوں پر بنے برجوں نے اسے قابلِ دید بنا دیا ہے۔

شہرِ پناہ کے کشادہ زینے کی ستارھویں سیڑھی پر قدم رکھیں تو دیبل عبرت سرائے دہر لگتا ہے۔ “تکرارِ تمنا” کے لیے مندر ہے، نہ مسجد۔ اللہ اکبر کی صدائیں ہیں نہ جے شیو شنکر کے نعرے۔ وقت نے کچے اور چونا پتھروں کے فرش برابرکر دیے ہیں۔ جہاں کبھی چچ، داہر اور قاسم کا سکہ چلتا تھا اب وہاں خاموشیوں کا راج ہے۔ جسے صرف ہوا کی سرسراہٹ، پرندوں کی چہچہاہٹ یا کسی سیاح کے قدموں کی چاپ توڑتی ہے۔

دیبل اپنے وقت کی پررونق بندر گاہ تھی۔ فصیل، برج، مینار، کھجور کے پیڑ، خوشبوئیں، ریشم، ہر طرح کا سامانِ تجارت۔ یہاں کے مندر کی بہت شہرت تھی۔ سنسکرت میں مندر کو دیول کہتے ہیں۔ عربوں نے دیول کو دیبل کہا اور یہ اسی نام سے مشہور ہو گیا۔

۱میں دیبل میں چار تہذیبوں کے کھنڈرات پر کھڑا ماضی کی کڑیاں ملا رہا تھا کہ اچانک مندر کی گھنٹیوں سے فضا میں ارتعاش پیدا ہوا۔ پھرمنجنیقوں سے سنگ باری کا دل دوز شور اٹھا جو اذان کی گونج میں ڈھل کر سندھ و ہند میں پھیل گیا۔ ابنِ قاسم مخالفین کو زیر کرتا، مسجدوں کی بنیادیں رکھتا اور فتح کے جھنڈے گاڑتا ملتان جا پہنچا۔

قلعے کی مغربی سمت مندر کےآثار ہیں۔ عقیدت نے مندر اور اس کے سرخ جھنڈے کے ساتھ طرح طرح کی باتیں منسوب کی ہوئی تھیں۔ منجنیقوں کی طاقت نے عقیدت کے گنبد کو مسمار کیا اور ناقابلِ تسخیرجھنڈا خاک بسر ہو گیا۔

قلعے کے درمیان پتھروں سے ایک لکیر کھنچی ہوئی ہے۔ یہ لکیر اس تقسیم کی یادگار ہے جو فتح کے بعد چھاؤنی کے لیے کھینچی گئی۔ چار ہزار لشکریوں کو یہاں بسایا گیا۔ ایک طرف ذمی و موالی اور دوسری طرف شامی و عراقی۔ عوام تو پہلے ہی اس قلعہ بند شہرِ پناہ کے باہر رہتے تھے۔

دیبل میں ایک مسجد کے آثار کو بڑے اہتمام سے محفوظ کیا گیا ہے۔ اسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے بت کدوں میں یہ خدا کا پہلا گھر ہے۔ اسی سے سندھ”باب الاسلام” بنا۔

مسجد کے آثار کے مصفا پتھر، نفیس اینٹیں، سہ طرفہ دالان، ستونوں کے پایوں کی قطاریں اور غلام گردشیں بتاتی ہیں کہ یہ کوئی معمولی مسجد نہ تھی۔ عربوں کی روایتی سادگی کو ایران و روم کی فتوحات نے شان و شوکت میں بدل دیا تھا۔ مسجد کی جگہ سے ملنے والے سنگی کتبے بھنبھور میوزیم میں موجود ہیں۔ تمام کتبے خطِ کوفی میں لکھے گئے ہیں اور بغیر اعراب کے ہیں۔

2

مسجد کے آثار کے پاس محکمہ آثار قدیمہ کا ایک بورڈ نصب ہے جس کے مطابق “یہ جنوبی ایشیا کی پہلی مسجد ہے”۔ میوزیم کے داخلی دروازے کے باہر بھی جلی الفاظ میں درج ہے: “۔۔۔ سندھ کا باب الاسلام بھی اسی شہر کو کہا جاتا ہے۔ کیونکہ سب سے پہلے اسلام اسی شہر میں پھیلا اور جنوبی ایشیا کی پہلی مسجد کی بنیاد بھی اسی شہر میں رکھی گئی۔” بھنبھور میوزیم کے گائیڈ جوکھیو ظہیر احمد نے پریقین انداز میں اس بات کی تائید کی کہ یہ جنوبی ایشیا کی پہلی مسجد ہے۔3

میں بورڈ پر درج عبارت پر غور کر رہا تھا کہ بورڈ سکرین بن گیا اور ایمان کی لطیف ہواؤں سے سرشار مالا بار، مدراس، مالدیپ اور سراندیپ کے ساحل دکھائی دینے لگے۔ عرب میں نئے نبی کے ظہور کی خبر سن کر کیرالہ کے راجہ چیرامن پیرومل مدینے کے پرشوق سفر پر روانہ ہیں۔ اس سفر کی یادگار کے طور پر کیرالہ میں چیرامان جمعہ مسجد تعمیر کی جا رہی ہے۔۔۔ پیغمبرِ اسلام کی خسرو پرویز کی حکومت کے خاتمے کی پیشن گوئی پوری ہونے پر یمن کا گورنر باذان اسلام قبول کر رہا ہے اور یمنی تاجروں کو مدراس میں مسجد بنانے کا مشورہ دے رہا ہے۔

پہلی مسجد 629 اور دوسری 630 عیسوی میں تیار ہوئی۔ یہ دونوں مساجد اب بھی موجود ہیں۔ شاید یہی وہ علاقہ تھا جہاں سے میرِ عربؐ کو ٹھنڈی ہوا آئی تھی۔

قلم کو سیاہی درکار ہے!

مجھے یقین ہے کہ لفظ محنتانہ قارئین کیلئے معیوب یا نیا نہیں ہوگا۔ اگر آپ لفظ محنت سے واقف ہیں تو آپکو محنتانہ سے بھی واقفیت ہوگی۔ اس مضمون کو لکھنے کیلئے مجھے بہت سوچنا پڑا مگر پھر اسے اپنا استحقاق سمجھ کر لکھ رہا ہوں۔ آج ساری دنیا میں اچھے یا برے سے قطعہ نظر لکھنے والوں کی بھرمار ہے، اس بھرمار میں زبان کی کوئی قید نہیں ہے۔ تقریباً دنیا کی ہر زبان عام ہوتی جا رہی ہے ۔ ساری دنیا سمٹ کر گلوبل ویلیج بن چکی ہے اور رہی سہی کثر گوگل نے پوری کر رکھی ہے۔ لکھنے والوں میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اسکی اہم ترین وجہ آن لائن شائع ہونے کی سہولت ہے ۔ سارا کا سارا فنونِ لطیفہ آن لائن دستیاب ہے، کوئی شعر ہو یا کوئی افسانہ یاپھر کوئی مضمون سب کچھ آن لائن میسر ہے۔

ایک زمانہ تھا جب کوئی لکھنے والا صرف اس وجہ سے نہیں لکھ پاتا تھا کہ لکھ کر اپنے پاس ہی رکھنا پڑے گا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کسی تحریر کی اشاعت مقصود ہوتی تھی تو بہت بھاگ دوڑ کرنی پڑتی تھی اور نوعیت کے مطابق وقت کا تعین کیا جاتا تھا کیونکہ اسوقت اشاعت صرف اور صرف صفحات کی محتاج تھی۔

وقت بدلنا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے بدلتا چلاگیا اور اب تو بلکل ہی بدل گیا ہے۔ صفحات کی صورت میں شائع ہونے والے اخبارات اور رسائل آج اس وقت سے کئی گنا زیادہ شائع ہو رہے ہیں، تکنیکی ترقی نے ایک ایسا متبادل راستہ پیش کردیا جس نے نئی نسل کو کتاب اور صفحات سے دور کرنے میں اہم کردار ادا کیایہ ترقی انٹر نیٹ اور کمپیوٹر کی ایجاد تھی۔ جب وقت بہت ہوا کرتا تھا اور کرنے کیلئے کچھ کم کام ہوا کرتے تھے تب لکھنے اور پڑھنے والے دونوں ہی نایا ب ہوا کرتے تھے ۔ ایک اخبار تقریباً چار سے چھ گھروں کو سیراب کیا کرتا تھااور کبھی کبھی تو جس کے گھر آتا تھا اسے سب سے آخیر میں مطالعے کیلئے میسر ہوتا تھااور تو اور بازاروں میں ایک پڑھنے والا اور دس سننے والے ہوا کرتے تھے۔ اب سب کچھ آپکو آن لائن دستیاب ہے یعنی کمپیوٹر یا پھر آپکے ہاتھ میں موجود اسمارٹ فون پر آخبار تو کیا پوری کی پوری کتاب دستیاب ہے۔
جب رش بڑھ جاتا ہے تو اچھے اور برے میں تمیز کرنے میں دقت پیش آتی ہے اور یہاں تو رش میں ہر دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف لکھنے والے اپنی زندگیا ں داؤ پر بھی لگا رہے ہیں تو دوسری طرف یہی لکھنے والے اپنے قلم کی بولیاں لگواتے پھر رہے ہیں۔ لکھنے والے اپنی اپنی سوچ معاشرے کو دیتے جا رہے ہیں اور معاشرہ اتنی ساری سوچوں کی اماجگاہ بن چکا ہے کہ ہمارے لئے کسی کو کسی بات پر آمادہ کرنا انتہائی مشکل ترین کام بن چکا ہے۔

کوئی فرقے کیلئے لکھ رہا ہے کوئی اپنی سیاسی جماعت کیلئے لکھ رہا ہے کوئی کسی کے مفاد کا پرچار کر رہا ہے تو کوئی کچھ لکھ رہا ہے۔ سب سے اہم اور مزے کی بات یہ ہے کہ سب کا سب شائع ہو رہا ہے انگنت ویب سائٹس لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کا مشن لئے اپنا اپنا کام کئے جا رہی ہیں اور لکھنے والوں کی شائع ہونے کی خواہش کو بروقت پورا کررہی ہیں۔

دورِ حاضر میں جہاں تک نظر آرہا ہے لکھنے والوں کی کثیر تعداد شوقیہ قلم درازیوں میں مصروف ہے اور انکے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کی تحریریں منظرِ عام پر آرہی ہیں یا شائع ہورہی ہیں۔آج کل اخبارات میں بھی اداریہ کے صفحات پر ایک تحریر درج ہوتی ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ ادارے کا لکھنے والے کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ، اس تحریر کی اشاعت میری نظر میں اخبار اور رسالوں میں لکھنے والوں کی تحریر بھی ایک آن لائن لکھنے والے کے برابر میں لاکر کھڑی کردی جاتی ہے یا رکھ دی جاتی ہے یعنی گدھے اور گھوڑے کا فرق یکسر نظر انداز کردیا جاتاہے (معذرت کے ساتھ)۔

آن لائن لکھنے والے جو انگریزی زبان کا استعمال کر رہے ہیں انکا بین الاقوامی سطح تک پہنچنا آسان دیکھائی دیتا ہے دوسری طرف اپنی قومی زبان اردو میں لکھنے والوں کی تحریریں بھی بین الاقوامی سطح تک پہنچ رہی ہیں کیوں کہ دنیا کے ہر نہیں تو ہر تیسرے یا چوتھے ملک میں اردو کی ترویج کیلئے کوئی نا کوئی ویب سائٹ کسی ادبی تنظیم کے تحت کام کر رہی ہے۔

بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ دنیا تجارتی (کمرشل) ہوگئی ہے اور ہر شے کے مول لگتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ اس بات سے کسی کو انکاری نہیں ہونا چاہئے چاہے لکھنے والا کسی بھی زبان کا ہو وہ اسی معاشرے کا حصہ ہے۔ معاشرے میں معاشیات کی بڑی اہمیت ہے ۔تقریباً تمام کے تمام اشاعتی ادارے یا ایک طرح کہ میڈیا ہاؤسز مستحکم ہوتے جا رہے ہیں۔ اب جب کے ادارے مستحکم ہوچکے ہیں تو ان اداروں کی ناصرف اخلاقی بلکہ پیشہ ورانہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ادارے سے وابسطہ لکھنے والوں کا کچھ نا کچھ حسبِ حال محنتانہ متعین کریں اور لکھنے والوں کو اور اچھا لکھنے پر اکسائیں۔

امید کرتا ہوں تمام اشاعتی ادارے جو آن لائن لکھتے ہیں۔ اس اقدام کی بدولت کسی حد تک صحافتی کرپشن میں کمی کے قوی امکانات ہیں۔ مختصر سا یہ مضمون دیکھنا ہے شائع ہوتا ہے یا نہیں مگر میری اپنی برادری (لکھنے والوں) سے درخواست ہے اپنے اپنے قلم کے محنتانے کیلئے یا پھر سیاہی کیلئے قلم اٹھائیے ۔ اگر اس رائے سے اختلاف ہے توبھی ممکن ہوسکے تو میری اصلاح کیجئے۔

چالاک بیوپاری کی مقروض کی بیٹی پر نگاہ

سینکڑوں سال پہلے ایک چھوٹے سے اطالوی شہر میں ایک چھوٹے سے کاروباری آدمی پر بہت سارا قرض تھا. یہ قرض بہت ذیادہ سود پر قرضہ دینے والے آدمی نے اسے دے رکھا تھا.

وہ آدمی انہتائی نا معقول، عجیب حالت والا آدمی تھا جو اس مقروض انسان کی خوبصورت بیٹی پر فدا تھا. چنانچہ اس نے چالاکی سے اس مقروض آدمی کو ایک ڈیل کی پیشکش کی کہ وہ اس کا تمام قرضہ حذف کر سکتا ہے. ڈیل یہ تھی کہ وہ کاروباری آدمی اس کے ہاتھ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ دے دے اور قرضے سے جان چھڑا لے. چنانچہ اس مقصد کے حصول کے لیے چالاک بیوپاری نے ایک بیگ میں ایک کالا اور ایک سفید پتھر ڈالا. شرط یہ تھی کہ لڑکی کو اس میں سے ایک پتھر چننا ہوگا. اگر وہ کالا پتھر چنتی ہےچنتی ہے تو قرض اتر جائے اور بیوپاری اس سے شادی کر لےگا.اگر وہ سفید پتھ چنتی ہے تو تب بھی قرض اتر جائے گا مگر لڑکی کی مرضی ہوگی کہ وہ شاد کرے یا نہ کرے. اس کاروباری آدمی کے باغ میں کھڑے ہوئے بیوپاری نے دو پتھر اٹھائے اور بیگ میں ڈال دیے.

لڑکی نے دیکھا کہ بیوپاری نے چالاکی سے دونوں ہی پتھر کالے چنے اور بیگ میں ڈالے. لڑکی یہ دیکھ کر خاموش رہی. بیوپاری نے لڑکی کو دونوں میں سے ایک پتھ چننے کو کہا. لڑکی کے پاس اب تین ہی راستے بچے تھے. ایک یہ کہ وہ کوئی بھی پتھر اٹھانے سے انکار کر دے. دوسرا یہ کہ وہ دونوں پتھر بیگ میں سے نکالے اور بیوپاری کا کچا چٹھا کھول کے رکھ دے. تیسرا یہ کہ وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسے بیوپاری سے شادی کرنی پڑ سکتی ہے، کالا پتھر بیگ میں سے نکال لے.چنانچہ اس نے بیگ میں سے ایک پتھر نکالا اور بغیر اسے دیکھے دوسرے پتھروں میں پھینک دیا. اس نے یہ ظاہر کیا کہ جیسے پتھر غلطی سے اس کے ہاتھ سے گر گیا ہو. اب اس نے بیوپاری سے کہا: میں اپنی غلطی پر معافی چاہتی ہوں کہ پتھر غلطی سے میرے ہاتھ سے گرگیا. اگر آپ اپنے بیگ میں بچے دوسرے پتھر کو نکالیں تو پتا چل جائے گا کہ میں نے کونسا پتھر چنا.

ظاہر ہے کہ بیگ میں کالا پتھر ہی تھا. یہ جانتے ہوئے کہ اگر اس نے بیگ کھولا تو اس سے اس کا کچا چٹھا بھی کھل جائےگا، اس نے بتایا کہ لڑکی نے سفید پتھر چنا ہے. لہذا قرضہ معاف ہے. مشکل حالات میں سے نکلنے کے لیے ہمارے پاس بسا اوقات موجود راستوں کے علاوہ بھی کچھ راستے ہوتے ہیں جنہیں ہم اختیار کر کے جیت سکتے ہیں.

دنیا میں موجود موت کی وہ وادی جہاں پتھر خود چلتے ہیں

اسلام آباد(قدرت روزنامہ16جنوری2018) امریکہ میں موجود موت کی وادی کے بارے میں تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا، اگر نہیں تو امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک خوبصورت مگر پراسرار وادی جسے موت کی وادی یعنی ڈیتھ ویلی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس وادی میں موجود پتھر خود بخود اپنی جگہ تبدیل کرلیتے ہیں لیکن ایک صدر گزرنے کے بعد بالآخر اس حرکت کے پیچھے چھپی وجہ سائنسدان ڈھونڈنےمیں کامیاب ہوگئے .تفصیلات کے مطابق پتھروں کی نقل وحرکت سمیت سب کچھ ریس ٹریک پلایا نامی ایک خشک جھیل کی سطح پر ہوتا تھا اور یہ اپنے سفر کرتے ہوئے پتھروں کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچی.

ا گرچہ دنیا میں اور بھی بہت ایسے مقامات ہیں جہاں اس طرح کے اثرات پائے جاتے ہیں . دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقام کہ اس مقام پر تمام پتھر حرکت نہیں کرتے اور جو کرتے بھی ہیں تو وہ دو سے تین سال کی مدت میں کرتے ہیں.

حرکت کرنے والے پتھر نہ ایک ہی وقت میں حرکت کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی سمت ایک جیسی ہوتی ہے.یہ نیشنل پارک انتہائی گرم اور بالکل بنجر مقام ہے تاہم اس کے باوجود ہر سال سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اس مقام کا رُخ کرتی ہے،سیاحت کو مدنظررکھتے ہوئے موت کی وادی کے اس نیشنل پارک میں لوگوں کی سہولت کیلئے پانچ ہوٹل موجود ہیں لیکن لوگوں کی بڑی اکثریت اس مقام پر کیمپ لگا کر رہنے کو ترجیح دیتی ہے،یہاں 35 سے زائد اقسام کے جانور موجود ہیں، جن میں سانپ اور بھیڑیں بھی شامل ہیں.یہ مقام سطح سمندر سے 36 میٹر گہرائی میں واقع ہے اور امریکہ میں کوئی دوسری قدرتی وادی نہیں ہے جو اتنی گہرائی میں واقع ہو.ڈیتھ ویلی کی زمین پر ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ 50 ہزار افر اد کیمپ لگا کر ٹھہر سکتے ہیں، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس مقام پر کبھی بھی قابل ذکر بارش نہیں ہوئی، یہاں تک کہ 1929ءکے دورانبالکل بھی نہیں ہوئی. موسم گرما کے دوران جب گرمی انتہا کی ہوتی ہے تو یہاں کا درجہ حرارت 56 ڈگری سنٹی گریڈ ہوجاتاہے، یہ عرصہ جون سے لے کر ستمبر تک ہوتا ہے. خشکی کے باوجود اس مقام پر پودوں کی 900 سے زائد اقسام پر پائی جاتی ہیں،جو کہ صحراؤں میں موجود نباتات پر تحقیق کرنے والے ماہرین کیلئے ایک بہترین سہولت ہے.

اس مقام کو قومی یادگار کا درجہ 11فروری 1933 کو اس وقت کے صدر ہربٹ ہوورنے دیا تھا . 34 ملین ایکڑ پر پھیلی اس وادی کو دیکھنے کیلئے یہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں. سب سے زیادہ سیاح سال 2001ءمیں آئے تھے جن کی تعداد 1.1 ملین سے بھی زیادہ تھی. اس نیشنل پارک کی سرحدیں کیلیفونیا اور نیواڈا سے ملتی ہیں.دنیا بھر کے سیاحوں کے ڈیتھ ویلی میں امڈ آنے اور لوگوں کے تجسس کو مدنظر رکھتے ہوئے دو سائنسدانوں نے ان پتھروں کی از خود اپنی جگہ سے حرکت کرنے کے پیچھے چھپیوجہ کا کھوج لگانے کا فیصلہ کیا اور بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے جس کا ویڈیو ثبوت بھی پیش کردیا.کیلی فورنیا یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اوشنوگرافی کے سن ڈیگو نے تیرتے ہوئے پتھربھی دکھادیئے. کاؤزنز رچرڈ نورس اور جیمز نورس تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ کبھی کبھار رات کو ہونیوالی بارش کی وجہ سے خشک ندی کی سطح پر برف کی چادر سی تن جاتی ہے جس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے تو یہپگھل جاتی ہے اور سخت سطح گردآلود اور سلک کی طرح ہوجاتی ہے ، جس کے بعد پانی یا ہوا کے دباؤ کی وجہ سے یہ پتھر اپنی جگہ سے سرک جاتے ہیںاور ایسا ہی کچھ 20دسمبر 2013ءکو بھی ہوا. انہوں نے سائنسی جریدے پلوس ون میں لکھا کہ ” جما دینے والی سردرات کے بعد بالکل صاف اور سورج کی روشنی کیساتھ ہی انہوں نے چٹانوں کی نقل وحرکت دیکھی جس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ پتھر بھی حرکت کرتے ہیںتاہم اس کی پراسرار وجہ بھی سامنے آگئی اور پتھر ایک منٹ میں پندرہ فٹ تک جگہ سے ہٹ گئے تاہم اس علاقے کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہونے اور خشک وادی کی وجہ سے ایسا اکثر نہیں ہوتا

نوراں کنجری کی کہانی

دسمبر کے اوائل کی بات ہے جب محکمہ اوقاف نے زبردستی میری تعیناتی شیخو پورہ کے امیر محلے کی جامعہ مسجد سے ہیرا منڈی لاہور کی ایک پرانی مسجد میں کر دی. وجہ یہ تھی کہ میں نے قریبی علاقے کے ایک کونسلر کی مسجد کے لاوڈ سپیکر پے تعریف کرنے سے انکار کر دیا تھا. شومئی قسمت کے وہ کونسلر محکمہ اوقاف کے ایک بڑے افسرکا بھتیجا تھا. نتیجتاً میں لاہور شہر کے بدنام ترین علاقے میں تعینات ہو چکا تھا. بیشک کہنے کو میں مسجد کا امام جا رہا تھا مگر علاقے کا بدنام ہونا اپنی جگہ. جو سنتا تھا ہنستا تھا یا پھر اظہار افسوس کرتا تھا.

محکمے کے ایک کلرک نے تو حد ہی کر دی. تنخواہ کا ایک معاملہ حل کرانے اس کے پاس گیا تو میری پوسٹنگ کا سن کے ایک آنکھ دبا کر بولاقبلہ مولوی صاحب، آپ کی تو گویا پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں.’ میں تو گویا زمین میں چھ فٹ نیچے گڑ گیا’پھر اللہ بھلا کرے میری بیوی کا جس نے مجھے تسلی دی اور سمجھایا کے امامت ہی توہے، کسی بھی مسجد میں سہی. اور میرا کیا ہے؟ میں تو ویسے بھی گھر سے نکلنا پسند نہیں کرتی. پردے کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا. اور پھر ہمارے کونسے کوئی بچے ہیں کے ان کے بگڑنے کا ڈر ہو.بیوی کی بات سن کر تھوڑا دل کو اطمینان ھوا اور ہم نے سامان باندھنا شروع کیا. بچوں کا ذکر چھڑ ہی گیا تو یہ بتاتا چلوں کے شادی کے بائیس سال گزرنے کے باوجود اللہ نے ہمیں اولاد جیسی نعمت سے محروم ہی رکھنا مناسب سمجھا تھا.

خیر اب تو شکوہ شکایت بھی چھوڑ چکے تھے دونوں میاں بیوی. جب کسی کا بچہ دیکھ کر دل دکھتا تھا تو میں یاد الٰہی میں دل لگا لیتا اور وہ بھلی مانس کسی کونے کھدرے میں منہ دے کر کچھ آنسو بہا لیتی. سامان باندھ کر ہم دونوں میاں بیوی نے اللہ کا نام لیا اور لاہورجانے کے لئے ایک پرائیویٹ بس میں سوار ہوگئے. بادامی باغ اڈے پے اترے اور ہیرا منڈی جانے کے لئے سواری کی تلاش شروع کی. ایک تانگے والے نے مجھے پتا بتانے پر اوپر سے نیچے تلک دیکھا اور پھر برقع میں ملبوس عورت ساتھ دیکھ کر چالیس روپے کے عوض لے جانے کی حامی بھری. تانگہ چلا تو کوچبان نے میری ناقص معلومات میں اضافہ یہ کہہ کر کیا کے ‘میاں جی، جہاں آپ کو جانا ہے، اسے ہیرا منڈی نہیں، ٹبی گلی کہتے ہیں.پندرہ بیس منٹ میں ہم پہنچ گئے. دوپہر کا وقت تھا. شاید بازار کھلنے کا وقت نہیں تھا. دیکھنے میں تو عام سا محلہ تھا. وہ ہی ٹوٹی پھوٹی گلیاں، میلے کرتوں کے غلیظ دامن سے ناک پونچھتے ننگ دھڑنگ بچے، نالیوں میں کالا پانی اور کوڑے کے ڈھیروں پے مڈلاتی بے حساب مکھیاں،سبزیوں پھلوں کے ٹھیلے والے اور ان سے بحث کرتی کھڑکیوں سے آدھی باہرلٹکتی عورتیں، فرق تھا تو صرف اتنا کے پان سگریٹ اور پھول والوں کی دکانیں کچھ زیادہ تھیں. دوکانیں تو بند تھیں مگران کے پرانے بورڈ اصل کاروبار کی خبر دے رہے تھے.مسجد کے سامنے تانگہ کیا رکا، مانو محلے والوں کی عید ہوگئی. پتہ نہیں کن کن کونے کھدروں سے بچے اور عورتیں نکل کر جمع ہونے لگیں. ملی جلی آوازوں نے آسمان سر پے اٹھا لیا.’’ابے نیا مولوی ہے‘‘بیوی بھی ساتھ ہے. پچھلے والے سے تو بہتر ہی ہوگا’ کیا پتہ لگتا ہے بہن، مرد کا کیا اعتبار؟‘ہاں ہاں سہی کہتی ہے تو داڑھی والا مرد تو اور بھی خطرناک،عجیب طوفان بدتمیز تھا. مکالموں اور فقروں سے یہ معلوم پڑتا تھا کے جیسے طوائفوں کے محلے میں مولوی نہیں، شرفاء کے محلے میں کوئی طوائف وارد ہوئی ہو. اس سے پہلے کے میرے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوتا، خدا خوش رکھے غلام شبیر کو جومولوی صاحب، مولوی صاحب کرتا دوڑا آیا اور ہجوم کو وہاں سے بھگا دیا. پتہ چلا کے مسجد کا خادم ہے اور عرصہ پچیس سال سے اپنے فرائض منصبی نہایت محنت اور دیانت داری سے ادا کر رہا تھا. بھائی طبیعت خوش ہوگئی اس سے مل کے، دبلا پتلا پکّی عمر کا مرد، لمبی سفید داڑھی،صاف ستھرا سفید پاجامہ کرتا، کندھے پے چار خانے والا سرخ و سفید انگوچھا، پیشانی پے محراب کا کالا نشان، سر پے سفید ٹوپی اور نیچی نگاہیں،سادہ اور نیک آدمی اور منہ پے شکایت کا ایک لفظ نہیں، بوڑھا آدمی تھا مگر کمال کا حوصلہ و ہمّت رکھتا تھا . سامان سنبھالتے اور گھر کو ٹھیک کرتے ہفتہ دس دن لگ گئے.گھر کیا تھا دو کمروں کا کوارٹر تھا مسجد سے متصل.ایک چھوٹا سا باورچی خانہ، ایک اس سے بھی چھوٹا غسل خانہ اور بیت الخلا اور ایک ننھا منا سا صحن. بہرحال ہم میاں بیوی کو بڑا گھر کس لئے چاہیے تھا.بہت تھا ہمارے لئے، بس ارد گرد کی عمارتیں اونچی ہونے کی وجہ سے تاریکی بہت تھی. دن بارہ بجے بھی شام کا سا دھندلکا چھایا رہتا تھا. گھر ٹھیک کرنے میں غلام شبیر نے بہت ہاتھ بٹایا. صفائی کرنے سے دیواریں چونا کرنے تک. تھوڑا کریدنے پے پتا چلا کے یہاں آنے والے ہر امام مسجد کے ساتھ غلام شبّیرگھر کا کام بھی کرتا تھا. بس تنخواہ کے نام پے غریب دو وقت کا کھانا مانگتا تھا اور رات کو مسجد ہی میں سوتا تھا.یوں اس کو رہنے کی جگہ مل جاتی تھی اور مسجد کی حفاظت بھی ہوجاتی تھی. ایک بات جب سے میں آیا تھا، دماغ میں کھٹک رہی تھی. سو ایک دن غلام شبیر سے پوچھ ہی لیا.

میاں یہ بتاؤ کے پچھلے امام مسجد کے ساتھ کیا ماجرا گزرا؟ وہ تھوڑا ہچکچایا اور پھر ایک طرف لے گیا کے بیگم کے کان میں آواز نہ پڑے میاں جی اب کیا بتاؤں آپ کو؟ جوان آدمی تھے اور غیر شادی شدہ بھی.محلے میں بھلا حسن کی کیا کمی ہے. بس دل آ گیا ایک لڑکی پے.لڑکی کے دلال بھلا کہاں جانے دیتے تھے سونے کی چڑیا کو. پہلے تو انہوں نے مولانا کو سمجھانے کی کوشش کی، پھر ڈرایا دھمکایا لیکن مولانا نہیں مانے.ایک رات لڑکی کو بھگا لے جانے کی کوشش کی.بادامی باغ اڈے پر ہی پکڑے گئے.ظالموں نے اتنا مارا پیٹا کے مولانا جان سے گئے’. غلام شبّیر نے نہایت افسوس کے ساتھ ساری کہانی سنائی.پولیس وغیرہ؟ قاتل پکڑے نہیں گئے؟’ میں نے گھبرا کر پوچھا.غلام شبیر ہنسنے لگا.کمال کرتے ہیں آپ بھی میاں جی. پولیس بھلا ان لوگوں کے چکروں میں کہاں پڑتی ہے. بس اپنا بھتہ وصول کیا اور غائب. اور ویسے بھی کوتوال صاحب خود اس لڑکی کے عاشقوں میں شامل تھے لاحول ولا قوّت الا باللہ ،کہاں اس جہنم میں پھنس گئے.’ میں یہ سب سن کر سخت پریشان ہوا‘. آپ کیوں فکر کرتے ہیں میاں جی؟ بس چپ کر کے نماز پڑھیں اور پڑھائیں. دن کے وقت کچھ بچے آ جایا کریں گے ان کو قران پڑھا دیں باقی بس اپنے کام سے کام رکھیں گے تو کوئی تنگ نہیں کرتا یہاں بلکہ مسجد کا امام اچھا ہو تو گناہوں کی اس بستی میں لوگ صرف عزت کرتے ہیں.’

غلام شبیر نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوے بتایا تو میری جان میں جان آئی.انہی شروع کے ایام میں ایک واقعہ ہوا. پہلے دن ہی دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو دروازے پے کسی نے دستک دی. غلام شبیر نے جا کے دروازہ کھولا اور پھر ایک کھانے کی ڈھکی طشتری لے کے اندر آ گیا. میری سوالیہ نگاہوں کے جواب میں کہنے لگا ’نوراں نے کھانا بھجوایا ہے، پڑوس میں رہتی ہے‘ میں کچھ نا بولا اور نا ہی مجھے کوئی شک گزرا.سوچا ہوگی کوئی اللہ کی بندی اور پھر امام مسجد کے گھر کا چولھا تو ویسے بھی کم ہی جلتا ہے.بہرحال جب اگلے دو دن بھی یہ ہی معمول رہا تومیں نے سوچا کے یہ کون ہے جو بغیر کوئی احسان جتائے احسان کیے جا رہی ہے.عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں ہی تھا جب غلام شبیر کو آواز دے کے بلایا اور پوچھامیاں غلام شبیر یہ نوراں کہاں رہتی ہے؟ میں چاہتا ہوں میری گھر والی جا کر اس کا شکریہ ادا کرآئے.غلام شبیر کے تو اوسان خطا ہو گئے یہ سن کر’ میاں جی ، بی بی نہیں جا سکتی جی وہاں،میں نے حیرانی سے مزید استفسار کیا تو گویا غلام شبیر نے پہاڑ ہی توڑ دیا میرے سر پے‘ میاں جی ،

اس کا پورا نام تو پتا نہیں کیا ہے مگر سب اس کو نوراں کنجری کے نام سے جانتے ہیں. پیشہ کرتی ہے جی!پیشہ کرتی ہے؟ یعنی طوائف ہے؟ اور تم ہمیں اس کے ہاتھ کا کھلاتے رہے ہو؟ استغفراللہ! استغفراللہ.غلام شبیر کچھ شرمسار ہوا میرا غصّہ دیکھ کر تھوڑی دیر بعد ہمّت کر کے بولا:میاں جی یہاں تو سب ایسے ہی لوگ رہتے ہیں ان کے ہاتھ کا نہیں کھائیں گے تو مستقل چولھا جلانا پڑے گا جو آپ کی تنخواہ میں ممکن نہیں.یہ سن کر میرا غصّہ اور تیز ہوگیا’ہم شریف لوگ ہیں غلام شبیر ،بھوکے مر جائیں گے مگر طوائف کے گھر کا نہیں کھائیں گے‘.میرے تیور دیکھ کر غلام شبیر کچھ نہ بولا مگر اس دن کے بعد سے نوراں کنجری کے گھر سے کھانا کبھی نا آیا.جس مسجد کا میں امام تھا، عجیب بات یہ تھی کے اس کا کوئی نام نہیں تھا. بس ٹبی مسجد کے نام سے مشہور تھی. ایک دن میں نے غلام شبیر سے پوچھا کے ‘‘میاں نام کیا ہے اس مسجد کا؟’’ وہ ہنس کر بولا. میاں جی اللہ کے گھر کا کیا نام رکھنا؟پھر بھی؟ کوئی تو نام ہوگا، سب مسجدوں کا ہوتا ہے’’ میں کچھ کھسیانا ہو کے بولا‘‘بس میاں جی بہت نام رکھے جس فرقے کا مولوی آتاہے، پچھلا نام تبدیل کر کے نیا رکھ دیتا ہے آپ ہی کوئی اچھا سا رکھ دیں.’’ وہ سر کھجاتا ہوا بولا.میں سوچ میں پڑ گیا. گناہوں کی اس بستی میں اس واحد مسجد کا کیا نام رکھا جائے؟

‘‘کیا نام رکھا جائے مسجد کا؟ ہاں موتی مسجد ٹھیک رہے گا. گناہوں کے کیچڑ میں چمکتا پاک صاف موتی.’’ دل ہی دل میں میں نے مسجد کے نام کا فیصلہ کیا اور اپنی پسند کو داد دیتا اندر کی جانب بڑھ گیا جہاں بیوی کھانا لگائے میری منتظر تھی .اب بات ہوجائے قرآن پڑھنے والے بچوں کی، تعداد میں گیارہ تھے اور سب کے سب لڑکے،ملی جلی عمروں کے پانچ سے گیارہ بارہ سال کی عمر کے. تھوڑے شرارتی ضرور تھے مگر اچھے بچے تھے.نہا دھو کے اور صاف ستھرے کپڑے پہن کے آتے تھے. دو گھنٹے سپارہ پڑھتے تھے اور پھر باہر گلی میں کھیلنے نکل جاتے. کون تھے کس کی اولاد تھے؟ نہ میں نے کبھی پوچھا نا کسی نے بتایا لیکن پھر ایک دن غضب ہوگیا.قرآن پڑھنے والے بچوں میں ایک بچہ نبیل نام کا تھا. یوں تو اس میں کوئی خاص بات نا تھی لیکن بس تھوڑازیادہ شرارتی تھا.تلاوت میں دل نہیں لگتا تھا. بس آگے پیچھے ہلتا رہتا اور کھیلنے کے انتظار میں لگا رہتا،میں بھی درگزر سے کام لیتا کے چلو بچہ ہے لیکن ایک دن ضبط کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا. اس دن صبح ہی سے میرے سر میں ایک عجیب درد تھا. غلام شبیرسے مالش کرائی، پیناڈول کی دو گولیاں بھی کھائیں مگر درد زور آور بیل کی مانند سر میں چنگھاڑتا رہا. درد کے باوجود اور غلام شبّیر کے بہت منع کرنے پر بھی میں نے بچوں کا ناغہ نہیں کیا. نبیل بھی اس دن معمول سے کچھ زیادہ ہی شرارتیں کر رہا تھا. کبھی ایک کو چھیڑ کبھی دوسرے کو. جب اس کی حرکتیں حد سے بڑھ گئیں تو یکایک میرے دماغ پر غصّے کا بھوت سوار ہوگیا اور میں نے پاس رکھی لکڑی کی رحل اٹھا کر نبیل کے دے ماری،میں نے نشانہ تو کمر کا لیا تھا مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کے رحل بچے کی پیشانی پر جا لگی.

خون بہتا دیکھ کر مجھے میرے سر کا درد بھول گیا اور میں نے گھبرا کر غلام شبیر کو آواز دی وہ غریب بھاگتا ہوا آیا اور بچے کو اٹھا کے پاس والے ڈاکٹر کے کلینک پر لے گیا.خدا کا شکر ہوا کے چوٹ گہری نہیں لگی تھی.مرہم پٹی سے کام چل گیا اور ٹانکے نا لگے.خیر باقی بچوں کو فارغ کر کے مسجد کے دروازے پے پہنچا ہی تھا کے چادر میں لپٹی ایک عورت نے مجھے آواز دے کر روک لیا. میں نے دیکھا کے وہ عورت دہلیزپر کھڑی مسجد کے دروازے سے لپٹی رو رہی تھی .چالیس پینتالیس کا سن ہوگا، معمولی شکل و صورت، سانولا رنگ اور چہرے پے پرانی چیچک کے گہرے داغ، آنسوؤں میں ڈوبی آنکھیں اور گالوں پر بہتا کالا سرما،زیور کے نام پے کانوں میں لٹکتی سونے کی ہلکی سی بالیاں اور ناک میں چمکتا سستا سرخ نگ کا لونگ، چادر بھی سستی مگر صاف ستھری اور پاؤں میں ہوائی چپل ،کیا بات ہے بی بی؟ کون ہو تم؟’’ میں نے حیرانگی سے اس سے پوچھا!میں نوراں ہوں مولوی صاحب’’ اس نے چادر کے پلو سے ناک پونچھتے ہوئے کہا.نوراں؟ نوراں کنجری؟’’ میرے تو گویا پاؤں تلے زمین ہی نکل گئی. میں نے ادھر ادھر غلام شبیر کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر وہ تو نبیل کی مرہم پٹی کرا کے اور اس کو اس کے گھرچھوڑنےکے بہانے نجانے کہاں غائب تھا. جی. نوراں کنجری!

اس نے نظریں جھکائے اپنے نام کا اقرار کیا.مجھے کچھ دیر کے لئے اپنے منہ سے نکلنے والی اس کے گالی جیسی عرفیت پے شرمندگی ہوئی مگر پھر خیال آیا کے وہ طوائف تھی اور اپنی بری شہرت کی ذمہ دار،شرمندگی اس کو ہونی چاہیے تھی، مجھے نہیں.پھر اچانک مجھے احساس ہوا کے میری موتی جیسی مسجد میں اس طوائف کا نا پاک وجود کسی غلاظت سے کم نہیں تھا. باہر نکل کے کھڑی ہو. مسجد کو گندا نا کر بی بی، میں نے نفرت سے باہر گلی کی جانب اشارہ کیا.اس نے کچھ اس حیرانگی سے آنکھ اٹھا کے میری طرف دیکھا کے جیسے اسے مجھ سے اس رویے کی امید نا ہو. ڈبڈبائی آنکھوں میں ایک لمحے کے لئے کسی ان کہی فریاد کی لو بھڑکی لیکن پھر کچھ سوچ کر اس نے آنسوؤں کے پانی میں احتجاج کے ارادے کو غرق کیا اور بغیر کوئی اور بات کئے چلی گی،میں نے بھی نا روکا کے پتا نہیں کس ارادے سے آئی تھی. اتنی دیر میں غلام شبیر بھی پہنچ گیا.کون تھی میاں جی؟ کیا چاہتی تھی؟’’ غالباً اس نے عورت کو تو دیکھا تھا مگر دور سے شکل نہیں پہچان پایا.نوراں کنجری تھی،پتا نہیں کیوں آئی تھی؟ مگر میں نے بھی وہ ڈانٹ پلائی کے آئندہ اس پاک جگہ کا رخ نہیں کرے گی.’’ میں نے داد طلب نظروں سے غلام شبیر کی طرف دیکھا مگر اس کے چہرے پر ستائش کی جگہ افسوس نے ڈیرے ڈال رکھے تھے.وہ بیچاری دکھوں کی ماری اپنے بچے کا گلہ کرنے آئی تھی میاں جی! نبیل کی ماں ہے ، بچے کی چوٹ برداشت نہیں کر سکی اور آپ نے اس غریب کو ڈانٹ دیا.

’’غلام شبیر نے نوراں کی وکالت کرتے ہوئے کہا.تو نبیل نوراں کا بیٹا ہے.ایسی حرکتیں کرے گا تو سزا تو ملے گی، جیسی ماں ویسا بیٹا! میں نے اپنی شرمندگی کو بیہودگی سے چھپانے کی کوشش کی. ایک لمحے کو خیال بھی آیا کے بچہ تو معصوم ہے اور پھر میں نے زیادتی بھی کی تھی مگر پھر اپنے استاد ہونے کا خیال آیا تو سوچا کے بچے کی بھلائی کے لئے ہی تو مارا ہے کیا ہوا اور پھر ایک طوائف کو کیا حق حاصل کےمسجد کے امام سے شکایت کر سکے.کتنے بچے ہیں نوراں کے؟’’ میں نے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی‘‘.مسجد میں پڑھنے والے سب بچے نوراں کے ہیں میاں جی! اس کے علاوہ ایک گود کا بچہ بھی ہے.بس اس محلے میں صرف نوراں اپنے بچوں کو مسجد بھیجتی ہے. باقی سب لوگوں کے بچے تو آوارہ پھرتے ہیں.’’ غلام شبیرکی آواز میں پھر نوراں کی وکالت گونج رہی تھی، میں نے بھنا کر جواب دینے کا ارادہ کیا ہی تھا کے کوتوال صاحب کی گاڑی سامنے آ کر رکی. خود تو پتا نہیں کیسا آدمی تھا مگر بیوی بہت نیک تھی.ہر دوسرے تیسرے روز ختم کے نام پر کچھ نہ کچھ میٹھا بھجوا دیتی تھی.اس دن بھی کوتوال کا اردلی جلیبیاں دینے آیا تھا، گرما گرم جلیبیوں کی اشتہا رانگیز مہک نے میرا سارا غصہ ٹھنڈا کر دیا اور نوراں کنجری کی بات آئی گئی ہو گئی. یہ نبیل کو مار پڑنے کے کچھ دنوں بعد کا ذکر ہے.

عشاء پڑھا کے میں غلام شبیر سے ایک شرعی معاملے پر بحث میں الجھ گیا تو گھر جاتے کافی دیر ہوگئی. مسجد سے باہر نکلے تو بازار کی رونق شروع تھی. بالکونیوں پر جھلملاتے پردے لہرا رہے تھے اور کوٹھوں سے ہارمونیم کے سر اور طبلوں کی تھاپ کی آواز ہر سو گونج رہی تھی. پان سگریٹ اور پھولوں کی دکانوں پر بھی دھیرے دھیرے رش بڑھ رہا تھا.اچانک میری نظر نوراں کے گھر کے دروازے پرجا پڑی.وہ باہر ہی کھڑی تھی اور ہر آتے جاتے مرد سے ٹھٹھے مار مار کر گپپیں لگا رہی تھی.آج تو اس کا روپ ہی دوسرا تھا. گلابی رنگ کا چست سوٹ، پاؤں میں سرخ گرگابی، ننگے سر پے اونچا جوڑا، جوڑے میں پروئے موتیے کے پھول، میک اپ سے لدا چہرہ، گہری شوخ لپ سٹک، آنکھوں میں مسکارا اور مسکارے کی اوٹ سے جھانکتی ننگی دعوت لاحول ولا قوت اللہ باللہ’’ میں نے طنزیہ نگاہوں سے غلام شبیر کی جانب دیکھا. آخر وہ نوراں کا وکیل جو تھا. چھوڑئیے میاں جی! عورت غریب ہے اور دنیا بڑی ظالم.’’ اس نے گویا بات کو ٹالنے کی کوشش کی مگر میں اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والا نہیں تھا.یہ بتاؤ میاں، جب اس کے گاہک آتے ہیں تو کیا بچوں کے سامنے ہی؟’’ میں نے معنی خیز انداز میں اپنا سوال ادھورا ہی چھوڑ دیا.میاں جی، ایک تو اس کے بچے صبح اسکول جاتے ہیں اور اس لئے رات کو جلدی سو جاتے ہیں. دوسرا، مہمانوں کے لئے باہر صحن میں کمرہ الگ رکھا ہے.’’ غلام شبیر نے ناگوار سے لہجے میں جواب دیا.استغفراللہ! استغفراللہ!’’ میں نے گفتگو کا سلسلہ وہیں ختم کرنا مناسب سمجھا کیوں کے مجھے احساس ہو چکا تھا کے غلام شبیر کے لہجے سے جھانکتی ناگواری کا رخ نوراں کی جانب نہیں تھا .

اس کے بعد نوراں کا ذکر میرے سامنے تب ہوا جن دنوں میں اپنے اور زوجہ کے لئے حج بیت اللہ کی غرض سے کاغذات بنوا رہا تھا. اس غریب کی بڑی خواہش تھی کے وہ اور میں اللہ اور اس کے نبی پاک کی خدمت میں پیش ہوں اور اولاد کی دعا کریں. میرا بھی من تھا کے کسی بہانے سے مکّے مدینے کی زیارت ہوجائے. نام کے ساتھ حاجی لگا ہو تو شاید محکمے والے کسی اچھی جگہ تبدیلی کر دیں. زوجہ کا ایک بھانجا انہی دنوں وزارت مذہبی امور میں کلرک تھا. اس کی وساطت سے درخواست کی قبولی کی کامل امید تھی. کاغذات فائل میں اکٹھے کیے ہی تھے کے غلام شبیر ہاتھ میں کچھ اور کاغذات اٹھائے پہنچ گیا.میاں جی!ایک کام تھا آپ سے. اجازت دیں تو عرض کروں.’’ اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا‘‘ہاں ہاں میاں، کیوں نہیں!کیا بات ہے؟’’ میں نے داڑھی کے بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرتے ہوئے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا. میاں جی، آپ کی تو وزارت میں واقفیت ہے ایک اور حج کی درخواست بھی جمع کرا دیں.’’ اس نے ہاتھ میں پکڑے کاغذات میری جانب بڑھائے. دیکھو میاں غلام شبیر، تم اچھی طرح جانتے ہو کے میں گھر بار تمہارے ذمے چھوڑ کر جا رہا ہوں اور پھر تمہارے پاس حج کے لئے پیسے کہاں سے آئے؟’’ میں نے کچھ برہمی سے پوچھا.نہیں نہیں میاں جی! آپ غلط سمجھے. یہ میری درخواست نہیں ہے.نوراں کی ہے.’’ اس نے سہم کر کہا،کیا؟ میاں ہوش میں تو ہو؟ نوراں کنجری اب مکّے مدینے جائے گی؟ اور وہ بھی اپنے ناپاک پیشے کی رقم سے؟ توبہ توبہ.’

’ میرے تو جیسے تن بدن میں آگ لگ گئی یہ واہیات بات سن کر میاں جی! طوائف ہے پر مسلمان بھی تو ہے اور وہ تو اللہ کا گھر ہے وہ جس کو بلانا چاہے بلا لے. اس کے لئے سب ایک برابر’’ اپنی طرف سے غلام شبیرنے بڑی گہری بات کی‘‘.اچھا؟ اللہ جس کو بلانا چاہے بلا لے؟ واہ میاں واہ. تو پھر میں درخواست کیوں جمع کراؤں؟ نوراں سے کہو ،سیدھا اللہ تعالیٰ کو ہی بھیج دے’’ میں نے غصّے سے کہا اور اندر کمرے میں چلا گیا‘‘.زوجہ کا بھانجا بر خوردار نکلا اور اللہ کے فضل و کرم سے میری اور زوجہ کی درخواست قبول ہو گئی ،ٹکٹ کے پیسے کم پڑے تو اسی بھلی لوک کے جہیز کے زیور کام آ گئے. اللہ کا نام لے کر ہم روانہ ہوگئے،احرام باندھا تو گویا عمر بھر کے گناہ اتار کے ایک طرف رکھ دیے. اللہ کا گھر دیکھا اور نظر بھر کے دیکھا.فرائض پورے کرتے کرتے رمی کا دن آ گیا،بہت رش تھا، ہزاروں لاکھوں لوگ،ایک ٹھاٹھیں مارتا سفید رنگ کا سمندر.گرمی بھی بہت تھی. میرا تو دم گھٹنا شروع ہوگیا.

زوجہ بیچاری کی حالت بھی غیر ہوتی جا رہی تھی. اوپر سے غضب کچھ یہ ہوا کے میرے ہاتھ سے اس غریب کا ہاتھ چھوٹ گیا.ہاتھ کیا چھوٹا، لوگوں کا ایک ریلا مجھے رگیدتا ہوا ا پتا نہیں کہاں سے کہاں لے گیا. عجب حالات تھے کسی کو دوسرے کا خیال نہیں تھا. ہر کوئی بس اپنی جان بچانے کے چکّر میں تھا. میں نے بھی لاکھ اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر پیر رپٹ ہی گیا.میں نیچے کیا گرا، ایک عذاب نازل ہوگیا. ایک نے میرے پیٹ پر پیر رکھا تو دوسرے نے میرے سر کو پتھر سمجھ کر ٹھوکر ماری. موت میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگی. میں نے کلمہ پڑھا اور آنکھیں بند کی ہی تھیں کے کسی اللہ کے بندے نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کے کھینچا اور مجھے سہارا دے کر کھڑا کر دیا. میں نے سانس درست کی اور اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اس کی طرف نگاہ کی. مانو ایک لمحے کے لئے تو بجلی ہی گر پڑی. کیا دیکھتا ہوں کے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھامے نوراں کنجری کھڑی مسکرا رہی تھی.یہ ناپاک عورت یہاں کیسے آ گئی؟ اس کی حج کی درخواست کس نے اور کب منظور کی؟ میں نے ہاتھ چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر کہاں صاحب!ایک آہنی گرفت تھی. میں نہیں چھڑا سکا وہ مجھے اپنے پیچھے کھینچتی ہوئی ایک طرف لے گئی. اس طرف کچھ عورتیں اکٹھی تھی.اچانک میری نظر زوجہ پر پڑی جس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بیتاب نگاہوں سے مجمع ٹٹول رہی تھی.ہماری نظریں ملیں تو سب کلفت بھول گئی. میں دوڑ کر اس تک پہنچا اور آنسو پونچھے.کہاں چلے گئے تھے آپ؟ کچھ ہوجاتا تو؟ پریشانی سے الفاظ اس کے گلے میں اٹک رہے تھے.بس کیا بتاؤں آج مرتے مرتے بچا ہوں. جانے کون سی نیکی کام آ گئی ، میں تو پاؤں تلے روندا جا چکا ہوتا اگر نوراں نہیں بچاتی. میں نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا. نوراں؟ ہماری پڑوسن نوراں؟ وہ یہاں کہاں آگئی؟ آپ نے کسی اور کو دیکھا ہوگا. اس نے حیرانگی سے کہا.

ارے نہیں! نوراں ہی تھی. میں نے ادھر ادھر نوراں کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر وہ تو نجانے کب کی جا چکی تھی. بعد میں بھی اس کو بہت ڈھونڈا مگر اتنے جمِ غفیر میں کہاں کوئی ملتا ہے. خدا خدا کر کے حج پورا ہوا اور ہم دونوں میاں بیوی وطن واپس روانہ ہوے. لاہور ائیرپورٹ پر غلام شبیر پھولوں کے ہاروں سمیت استقبال کو آیا ہوا تھا.بہت مبارک باجی، بہت مبارک میاں جی،بلکہ اب تو میں آپ کو حاجی صاحب کہوں گا. اس نے مسکراتے ہوئے ہم دونوں کو مبارک دی تو میری گردن حاجی صاحب کا لقب سن کراکڑ گئی. میں نے خوشی سے سرشار ہوتے ہوے اس کے کندھے پے تھپکی دی اور سامان اٹھانے کا اشارہ کیا. ٹیکسی میں بیٹھے،میں نے مسجد اور گھر کی خیریت دریافت کی تو نوراں کا خیال آ گیا. میاں غلام شبیر! نوراں کی سناؤ’ میرا اشارہ اس کی حج کی درخواست کے بارے میں تھا‘. اس بیچاری کی کیا سناؤں میاں جی؟ لیکن آپ کو کیسے پتا چلا؟’ اس نے حیرانگی سے میری جانب دیکھا‘ بس ملاقات ہوئی تھی مکّے شریف میں.’ میں نے اس کے لہجے میں چھپی اداسی کو اپنی غلط فہمی سمجھا. مکّے شریف میں ملاقات ہوئی تھی؟ مذاق نا کریں میاں جی!نوراں تو آپ کے جانے کے اگلے ہی دن قتل ہو گئی تھی’ اس نے گویا میرے سر پر بم پھوڑا،قتل ہوگئی تھی؟’ میں نے اچھنبے سے پوچھا!جی میاں جی، بیچاری نے حج کے لئے پیسے جوڑ رکھے تھے.

اس رات کوئی گاہک آیا اور پیسوں کے پیچھے قتل کر دیا غریب کو. ہمیں توصبح کو پتا چلا جب اس کے بچوں نے اس کی لاش دیکھی.شور مچایا تو سب اکٹھے ہوئے، پولیس والے بھی پہنچ گئے اور اس کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئے. ابھی کل ہی میں مردہ خانے سے میّت لے کے آیا ہوں.آج صبح ہی تدفین کی اس کی.’ غلام شببر کی آواز آنسوؤں میں بھیگ رہی تھی. قاتل کا کچھ پتا چلا؟’ میں ابھی بھی حیرانگی کی گرفت میں تھا.پولیس کے پاس اتنا وقت کہاں میاں جی کے طوائفوں کے قاتلوں کو ڈھونڈے. اس بیچاری کی تو نمازجنازہ میں بھی بس تین افراد تھے، میں اور دو گورکن.’ اس نے افسوس سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا‘. اور اس کے بچے؟ ان کا کیا بنا؟’ میں نے اپنی آنکھوں میں امڈ تی نمی پونچھتے ہوئے دریافت کیا‘ نوراں کے بچے نہیں ہیں میاں جی!’ غلام شببر نے مرے کان میں سرگوشی کی.طوائفوں کے محلے میں جب کوئی لڑکا پیدا ہوتا ہے تو زیادہ تر اسے راتوں رات اٹھا کر کوڑے کے ڈھیرپر پھینک دیا جاتا ہے.وہ سب ایسے ہی بچے تھے. نوراں سب جانتی تھی کے کس کے ہاں بچہ ہونے والا ہے. بس لڑکا ہوتا تو اٹھا کر اپنے گھر لے آ تی. کہنے کو تو طوائف تھی میاں جی مگر میں گواہ ہوں.غریب جتنا بھی کماتی بچوں پے خرچ کر دیتی.بس تھوڑے بہت الگ کر کے حج پے جانے کے لئے جمع کر رکھے تھے، وہ بھی اس کا قاتل لوٹ کر لے گیا.یہ

بتاؤ غلام شبیر ،جب میں نے اس کی درخواست جمع کرانے سے انکار کیا تو اس نے کیا کہا؟’ مجھ پے حقیقتوں کے در کھلنا شروع ہو چکے تھے.بس میاں جی، کیا کہتی بیچاری. آنکھوں میں آنسو آ گئے. آسمان کی جانب ہاتھ اٹھائے اور کہنے لگی کے بس تو ہی اس کنجری کو بلائے تو بُلا لے’. مجھ پر تو پوچھو گھڑوں پانی پڑ گیا. تاسف کی ایک آندھی چل رہی تھی. ہوا کے دوش میری خطائیں اڑرہی تھیں.گناہوں کی مٹی چل رہی تھی اور میری آنکھیں اندھیائی جا رہی تھیں. آپ کیوں روتے ہیں میاں جی؟ آپ تو ناپاک کہتے تھے اس کو.’ غلام شبّیر نے حیرانگی سے میری آنسوؤں سے تر داڑھی دیکھتے ہوئے کہا.کیا کہوں !غلام شببر کہ کیوں روتا ہوں. وہ ناپاک نہیں تھی. ناپاک تو ہم ہیں جو دوسروں کی ناپاکی کا فیصلہ کرتے پھرتے ہیں. نوراں تو اللہ کی بندی تھی. اللہ نے اپنے گھر بلا لیا.’’ میری ندامت بھری ہچکیاں بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں اور غلام شبیر نا سمجھتے ہوئے مجھے تسّلی دیتا رہا‘‘. ٹیکسی محلے میں داخل ہوئی اور مسجد کے سامنے کھڑی ہو گئی. اترا ہی تھا کے نوراں کے دروازے پے نظر پڑی. ایک ہجوم اکٹھا تھا وہاں.کیا بات ہے غلام شبیر؟ لوگ اب کیوں اکٹھے ہیں؟

میاں جی !میرے خیال میں پولیس والے ایدھی سنٹر والوں کو لے کے آئے ہیں. وہ ہی لوگ بچوں کو لے کر جائیں گے. ان غریبوں کی کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے.’ غلام شببر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا. میں نے زوجہ کا ہاتھ پکڑا اور غلام شبیر کو پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے نوراں کے دروازے کی جانب بڑھ گیا.کہاں چلے میاں جی؟’ غلام شبیر نے حیرانگی سے پوچھا‘نوراں کے بچوں کو لینے جا رہا ہوں. آج سے وہ میرے بچے ہیں اور ہاں مسجد کا نام میں نے سوچ لیا ہے. آج سےاس کا نام نور مسجد ہوگا .شہریار خاورایک مشہور لکھاری اور آرٹسٹ ہیں جو عزت، برداشت اور آزادی رائے پر یقین رکھتے ہیں.‎

بابا گرو نانک کون تھے؟

26 نومبر 2015 کو ننکانہ صاحب میں گرو نانک کا 546واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔ یہ تقریبات اس ہستی کی یاد میں منعقد کی جاتی ہیں جو بلا امتیازِ مذہب و رنگ و نسل ہر کسی کے لیے پیار کا پیغام لے کر آئی تھی اور ہر مذہب کے لوگ اس سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ وہ انسان جس کا فلسفہء خدا کسی بھی ایک مذہب کی مقرر کردہ حدوں میں سمانے سے انکار کرتا تھا۔ انہوں نےپنجاب کے لوگوں کو “ست شری اکال” [یعنی خدائے واحد ہی سچ ہے] کا نعرہ دے کر ہندوستان کے ان حصوں تک بھی توحید کا پیغام پہنچایا، جہاں ابھی دوسرے صوفیاء اور بھگتوں کی آواز ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال، نے بانگِ درا کی ایک نظم میں انہیں یوں خراجِ تحسین پیش کیا ہے؛

پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے
ہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے
گرو نانک دیو جی 15 اپریل 1469کو شیخوپورہ سے 65 کلو میٹر دور واقع تلونڈی نام کے ایک گاوں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مہتا کالیاعلاقے کے پٹواری تھے۔ گرو نانک ایک روایتی ہندو گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے بچپن کے دوستوں میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے۔ ان کا سب سے قریبی دوست ایک مسلمان میراثی تھا جس کا نام’ مردانہ ‘تھا۔چھ سال کی عمر میں گرو نانک کو مقامی استاد کے پاس ہندی اور ریاضی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ انہوں نے وہاں فارسی اور عربی بھی سیکھی۔ بعض روایات کے مطابق بابانانک نے فارسی اور اسلامیات کی تعلیم ایک بزرگ سید حسین سے حاصل کی تھی اور ان کی بابا نانک پر خصوصی نظر تھی‘ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بابا گرونانک متعدد مسلمان درویشوں اور فقیروں کی صحبت میں رہے‘ ان میں پیر جلال‘ میاں مٹھا‘ شاہ شرف الدین‘ پیر عبد الرحمٰن اور پاک پتن کے حضرت بابا فرید ثانی کا نام بھی لیا جاتا ہے۔

گرو نانک غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے اور بہت جلدی سیکھتے تھے۔ وہ اپنی ذہانت سے اکثر اپنے استادوں کو حیران کر دیا کرتے تھے۔ 12 سال کی عمر میں انہیں ان کے والد نے کچھ روپے دیے اور کہا کہ ان سے مجھے بہترین سودا کر کے دکھاو۔ والد کا مقصد انہیں تجارت کے گُر سکھانا تھا۔گرو نانک نے ان روپوں سے کھانا خریدا اور محتاج لوگوں میں بانٹ دیا۔گھر پہنچے تو والد کے دریافت کرنے پر کہا کہ میں ان پیسوں کا سچا سودا کر آیا ہوں کہ میں نے اس کے ساتھ تجارت کی ہے جو مجھے اس کے بدلے کئی گنا زیادہ دے گا۔ جس مقام پر یہ واقع پیش آیا اب وہاں ایک گردوارہ ہے جس کا نام سچا سودا ہے۔

ان کی بڑی بہن بی بی نانکی کی شادی ہوئی تو وہ خاندانی رواج کے مطابق ان کے ساتھ سلطان پور آ گئے ۔ گرو نانک بچپن سے ہی زندگی کی حقیقت کے بارے میں متجسس رہتے تھے۔ وہ مویشی چرانے جنگل میں جاتے تو جوگیوں اور درویشوں کے ساتھ گھنٹوں باتیں کرتے رہتے۔گھر والوں نے سوچا کہ اگر گرو نانک کی شادی کر دی جائے تو شائد وہ دنیا داری کی طرف مائل ہو سکیں اس لیے 16سال کی عمر میں ان کی شادی بی بی سولکھنی سے کروا دی گئی۔گرو نانک نے شادی پر کوئی اعتراض نہ کیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ شادی روحانی زندگی کو متاثر نہیں کرتی۔ انہیں اپنی بیوی سے بہت پیار تھا۔ ان کے ہاں دو بیٹوں نے جنم لیا، جن کے نام شری چند اور لکشمی چند رکھے گئے۔

اس وقت ہندوستان پر لودھی خاندان کی حکومت تھی اور لاہور کا حکمران دولت
خان لودھی تھا۔ گرو نانک کو ان کے بہنوئی نے دولت خان لودھی کے ہاں ملازم رکھوا دیا۔ وہ اس کے گوداموں کی دیکھ بھال کا کام کرتے تھے جس میں مدد کے لئے ان کا بچپن کا دوست مرادنہ بھی بھیج دیا گیا۔ دن بھر وہ کام کرتے لیکن صبح اور شام کے وقت وہ مراقبہ کرتے یا وہ اور مردانہ اکثر بیٹھ کر رباب بجاتے اور روحانی گیت گاتے۔

گرو نانک ہندوستان کی عوام کی مذہبی دقیانوسیت کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ انسان کا رشتہ براہ راست خدا سے ہوتا ہے تو پھر انسان اس بحث میں کیوں اپنا وقت برباد کرتا ہے کہ گنگا کا پانی اس کے پاپ دھوئے گا یا نہیں اور کس طرح کا لباس خدا کو زیادہ پسند ہے۔ وہ کہتے تھے کہ سب سے پہلے اپنا باطن خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالو ۔لباس، رسوم اورظاہری وضع ثانوی بحث ہے۔سکھ مذہب کی روایات کے مطابق گرو نانک کو 30 سال کی عمر میں خدا نے اپنا پیغام دنیا میں پھیلانے پر فائز کیا۔اس وقت تک وہ صرف نانک تھے، ‘گرو’ نہیں تھے۔اس دن انہیں گرو یعنی ‘اتالیق’ بنایا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ1499کی ایک صبح وہ مردانہ کے ساتھ دریا پر نہانے گئے تو دریا میں اترنے کے بعد تین دن تک نہ ابھرے۔ دولت خان نے اپنے سپاہیوں کی مدد سے دریا کو چھان مارا مگر ان کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔ تین دن بعد وہ اسی مقام سے باہر نکلے جہاں دریا میں اترے تھے۔ وہ باہر نکلے تو بالکل بدلے ہوئے انسان تھے۔ وہ کچھ دن تک مکمل طور پر خاموش رہے۔ جب انہوں نے زبان کھولی تو یہ الفاظ ادا کیے:

‘اِک اَونکار سَتّ نام، کرتا پرکھ، نِر بَھو، نِر وَیر[خدائے واحد ہی سچ ہے ، وہ خالق ہے، اسے کسی کا ڈر نہیں، اس کی کسی سے دشمنی نہیں]
اکال، مورت اجونی، سے بھنگ، گُر پرساد[وہ اکیلا ہے، اس کی کوئی صورت نہیں، وہ زندگی اور موت کے چکر سے آزاد ہے، اس کا حصول ہی اصل نعمت ہے]’
گرو نانک کے انہی الفاظ سے گرو گرنتھ صاحب جو کہ سکھ مذہب کی مقدس کتاب
کا آغاز ہوتا ہے ۔

دولت خان نے انہیں اپنے دربار میں طلب کیا اور ان کے الفاظ کا مطلب دریافت کیا جس پر گرو نانک نے کہا، ‘نہ کوئی ہندو ہے نہ کوئی مسلمان’۔ اس پر دولت خان نے کہا کہ شاید ہندو نہ رہےہوں مگر مسلمان اپنے ایمان پر قائم ہیں۔ گرو نانک نے اس کے جواب میں کہا کہ خدا کی رحمت کی مسجد ہو اور بندگی کی جائے نماز ہو۔اچھا اخلاق تمہارا قرآن ہو اور سادگی اور رحمدلی تمہارا روزہ ہو۔تمہیں اگر مسلمان ہونا ہے تو ایسے مسلمان بنو۔ نیک اعمال کو اپنا کعبہ بناوّ اور سچ کو اپنا رہبر۔ اگر ایسا کرو گے تو وہ خدا جو واحد ہے اور اس کا نام حق ہے،تمہیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے گا۔ ‘

گرو نانک خدا کی وحدانیت کے قائل تھے اور بت پرستی کے خلاف تھے،انہوں نے تثلیث کی نفی کی اور اس بات کو بھی رد کیا کہ خدا انسانی روپ میں پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ملازمت چھوڑ دی اور اپنا مال و اسباب غریبوں میں بانٹ کر مردانہ کے ساتھ سفر پر نکل پڑے۔ ان کا مقصد معاشرے سے نسلی اور مذہبی امتیاز کو ختم کرنا تھا۔ وہ فرسودہ رسم و رواج کے سخت مخالف تھے۔ وہ خدا کا پیغام گیتوں کی شکل میں لوگوں تک پہنچاتے تھے۔ جس علاقے میں بھی جاتے اس کی مقامی زبان میں لوگوں سے بات چیت کرتے تھے۔ ان کے یہ اطوار اس زمانے کے لوگوں کے لیے انتہائی حیران کن تھے کیونکہ اس وقت ہندو اور مسلمان دونوں ہی ذات پات کے چکروں میں بری طرح الجھے ہوئے تھے اس لئے وہ جہاں بھی جاتے وہاں کے غریب لوگوں کے ہاں قیام کرتے اور امراء کی طرف سے دی جانے والی ضیافتیں ٹھکرا دیا کرتے۔ لوگ انہیں تحائف دیتے تو وہ غریبوں میں بانٹ دیتے۔

گرو نانک نے برصغیر کے طول و عرض میں کئی سال سفر کرتے ہوئے اپنی تعلیمات کا پرچار کیا۔ انہوں نے بر صغیر کے علاوہ مکہ، مدینہ، مصر، تاشقند، تبت،اسرائیل، اردن، شام اور بغداد سمیت دیگر کئی ممالک کا بھی سفر کیا۔ ان کا نظریہ خدا بہت آفاقی اور لامحدود تھا۔ بغداد میں مسلمان علماء کے سامنے ایک فارسی نظم پڑھی جس میں انہوں نے کہا کہ تم کیوں زمینوں اور آسمانوں کی تعداد گن رہے ہو؟ کائنات تو لامحدود ہے۔اور انسان کی زندگی ختم ہو جائے گی مگر وہ خدا کی خدائی کی انتہا کو نہ پا سکے گا۔ اسی طرح جب وہ مکہ پہنچے تو صحن کعبہ میں سو گئے۔ ان کے پاوں کعبہ کی طرف دیکھ کر پہرہ دار نے ان کو جگایا اور کہا کہ شرم نہیں آتی تم خدا کے گھر کی طرف پاوں کیےسو رہے ہو، اس پر انہوں نے کہا کہ تم مجھے وہ سمت دکھا دو جہاں خدا نہ ہو تو میں اس طرف پاوں کر لوں گا۔

گرو نانک اپنی زندگی کا بڑا حصہ سفر میں بسر کرنے کے بعد واپس پنجاب پہنچے اور راوی کے کنارے واقع ایک گاوں کرتارپور میں اپنے بیٹوں اور بیوی کے ساتھ باقی کی زندگی بسر کی۔ وہ کھیتی باڑی کرتے تھے اور لوگ دور دور سے ان کی زیارت کو آتے تھے۔ بالآخر انہوں نے اپنا جانشین گرو انگد دیو جی کو چنا اور اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

ان کی وفات کے بارے میں مشہور ہے کہ جب ان کا آخری وقت قریب آیا تو ہندووں نے مطالبہ کیا کہ آپ چونکہ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے تھے سو آپ کی میت کو جلایا جائے، جبکہ مسلمانوں کا کہنا تھا کہ آپ کی تعلیمات اسلام کے بہت قریب ہیں لہٰذا آپ کو دفنایا جانا چاہیے۔ گرو نانک نے کہا کہ جب میں وصال کر جاوں تو ہندو میری میت کے داہنی طرف پھول رکھ دیں اور مسلمان بائیں طرف اور اگلے دن تک جس طرف کے پھول تازہ رہے، اسی طرف کے لوگ میری میت کے وارث ہوں گے۔ ایسا کیا گیا اور اگلے دن جب میت سے چادر ہٹائی گئی تو وہاں دونوں طرف کے پھول تروتازہ تھے اور میت غائب تھی۔

مسلمانوں نے اپنے حصے کے پھولوں کے دفنا دیا جبکہ ہندووں نے جلا دیا۔
معروف تاریخ دان ڈاکٹر ایچ آر گپتا لکھتے ہیں کہ’ گرو نانک کا مذہب،خدا سے، انسانوں سے اور انسانیت سے پیار کا مذہب تھا۔ ان کا مذہب ذات پات، نسل اور ملک کی قید سے آزاد تھا۔ وہ ہندووں، مسلمانوں، ہندوستانیوں اور غیر ملکیوں سے یکساں محبت کرتے تھے۔ ان کا مذہب ایک عوامی تحریک تھی جس کی بنیاد سیکولر ازم اور سوشل ازم کے جدید تصورات پر مبنی تھی، تمام انسانوں کی برابری کی تحریک۔ نانک کی ساری تعلیمات پنجابی زبان میں تھی اور ان کا کلام گانے والوں میں زیادہ تر غریب محنت کش ہوتے تھے۔ نانک کا خواب ذات پات سے آزاد معاشرے کا قیام تھا۔ ان کے مذہب میں عقائد اور تصورات کے بجائے عملی تعلیمات پر زور تھا، جبکہ اس دور کے طاقتور مذاہب یعنی اسلام اور ہندو مت میں تعلیمات کے ساتھ ساتھ مذہبی تصورات اور عقائد کی بھی بہت اہمیت تھی لیکن گرو نانک کا ماننا تھا کہ عقائد انسانوں کو الجھا دیتے ہیں اور ان میں تفریق پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جبکہ تعلیمات انسان کو ہر گزرتے دن کے ساتھ نکھارتی ہیں۔ ‘

حضرت بابا نانک کو سکھ مذہب میں پہلا گُرو، ہندو مذہب میں بھگت اور مسلمانوں کے ہاں ولی اللہ مانا جاتا ہے۔ جبکہ آپ کی زندگی سے ان تینوں حیثیتوں کی تائید بھی ملتی ہے، تاہم آپ نے مذہب کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کو بہت ہی ناروا قرار دیا۔ آپ خدا کو ہر ذی روح میں جاری و ساری قرار دیتے تھے اورگفتار و کردار میں نیکی اور عفو کی تعلیم دیتے رہے۔آپ کے نزدیک خدا انسان کے باطن میں موجود ایک وحدت کا نام ہے جبکہ ذات پات، مذہب و مسلک اور رنگ و نسل کے بُت اس باطنی وحدت کو کمزور کر دیتے ہیں اور انسان کو ٹکڑوں اور گروہوں میں بانٹ کر بکھیر دیتے ہیں۔