جس گھر میں نماز اور تلاوت قرآن نہ کی جائے وہاں کیا واقعہ ہوتے ہیں

کئی دنوں سے میں محسوس کررہی تھی کہ صبح بستر سے اٹھتے ہوئے میں کافی تھکی اور نڈھال سی ہوجاتی ہوں ۔بستر چھوڑنے کو دل ہی نہیں چاہتا۔کئی دنوں سے ایسا ہورہا تھا ۔حالانکہ دفتر جانے سے پہلے میں نماز فجر پڑھنے کے لئے اٹھ پڑتی تھی ۔ رات کو میں جلد سوجاتی تھی اسلئے فجر تک میری نیند پوری ہوجاتی تھی۔ یہ ہفتہ کی رات کا واقعہ ہے ،مجھ

پر اسی تھکاوٹ اور نیند کا غلبہ تھا ۔میں سستی اور کاہلی سے آنکھیں بند کئے بستر پر دراز تھی کہ اچانک مجھے لگا دوانجان عورتیں میرے کمرے میں سرگوشی کے انداز میں بول رہی ہیں۔میں نے پہلے وہم سمجھا اور پہلو بدل کر سوگئی ۔ پھر آوازیں میرے قریب آگئیں۔ کوئی میرے بستر پر بیٹھ گیاتھا۔میں نے آنکھیں نہیں کھولیں اور نہ چونکی ۔لیکن جب یہ سرگوشیاں مجھے صاف سنائی دینے لگیں تو میرا دل دھک دھک کرنے لگا۔’’ دیکھو کیا واقعی یہ سو رہی ہے؟‘‘ ایک خاتون بولی۔’’ہاں سورہی ہے۔اسکی آنکھیں بند ہیں‘‘ دوسری نے جواب دیا۔ ’’ پھر کیا کریں ۔بیٹھیں یا چلیں‘‘ پہلی آواز آئی۔ ’’ میرا خیال ہے چلتی ہیں ۔جب جاگ جائے گی تو دوبارہ آجائیں گی‘‘ دوسری آواز کے ساتھ ہی کمرے میں سنّاٹا چھاگیا ۔میں نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں ،کمرے کا جائزہ لیا،کوئی نہیں تھا ۔میں حیران تھی کہ یہ کون ہوسکتی ہیں۔میں واش روم گئی اور کُلی کرکے ساتھ والے کمرے میں چلی گئی،بھائی اس وقت تک اٹھ پڑا تھا۔میں نے سوال کیا ’ ’ یہ عورتیں کون تھیں؟‘‘’’ کون سی عورتیں‘‘ اس نے الٹا سوال کردیا۔ ’’یہی جو باتیں کررہی تھیں‘‘ میں نے چڑ کر سے پوچھا۔ ’’ میں نے تو کسی کی آواز نہیں سنی‘‘ اس

نے کاندھا اچکا کر بے نیازی سے کہا ۔اب اس سے زیادہ کیا سوچاجاسکتا تھا ۔ہوسکتا ہے واقعی یہ میرا وہم ہو۔۔۔لیکن یہ وہم ہرگز نہیں تھا ۔سوموار کے روز میں جب دفتر سے واپس آئی تو امی نے نماز عصر کے بعد مجھے چائے دیتے ہوئے کہا ’’ نائلہ میں نے آج تمہارا صدقہ دیا ہے۔تم نماز وقت پر پڑھا کرو۔‘‘ پھر انہوں نے خود ہی بتایا’’ میں نے رات کو بڑا عجیب خواب دیکھا ہے۔خواب میں دو عورتیں دیکھیں ،جن میں سے ایک چھوٹے قد اور دوسری بڑے قد کی تھی۔میں اس وقت کچن میں تھیں ۔انہیں یوں گھر میں گھسے ہوئے دیکھ کر میں نے کہا تم کون ہو اور بلا اجازت کیسے میرے گھر میں آگئی ہو‘‘ لمبی بولی’’ ہم ٹہل رہی تھیں۔ابھی چلی جاتی ہیں‘‘اسکے بولنے کاانداز غیر مانوس اور عجیب تھا’’ چلو نکلو یہاں سے ۔یہ کوئی پارک نہیں ‘‘’’چلی جاتی ہیں ‘‘ لمبی نے چھوٹی سے کہا ’’ چلو ہم نائلہ کے کمرے میں چلتی ہیں‘‘ ’’ ارے ارے ۔۔۔۔۔۔‘‘ میں انہیں روکتی رہ گئی ،وہ تمہارے کمرے میں گئیں اور جب میں بھی ان کے پیچھے تمہارے کمرے میں پہنچی تو دونوں غائب تھیں۔البتہ تمہارے کمرے سے عجیب سی بو آرہی تھی۔ایسے جیسے چوہا مرا پڑا ہو۔ میں تو چیخ اٹھی اور اس چیخ کے

ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی۔میں سمجھ گئی کہ یہ دونوں بدروحیں تھیں ‘‘’’ ہاں یہ بدروحیں ہی ہوسکتی ہیں‘‘ میں نے چونک کر کہا اور امی سے دودن پہلے کا واقعہ بیان کردیا ۔ہم دونوں پریشان ہوگئیں کہ یہ شیطانی مخلوق ہمارے گھر کیا کرنے آگئی ہے۔اس وقت ہم دونوں ماں بیٹی نے آیت کریمہ پڑھا اور رد خوف و بلا کی دعائیں پڑھ کر پورے گھر پر پھونکیں ماریں ۔ امی نے خوشبویات بھی جلائیں اور کہا’’ میری امی ٹھیک کہا کرتی تھیں کہ جس گھر میں نماز اورذکر اذکار نہیں ہوتا وہاں شیطان ڈیرے ڈال لیتا ہے۔‘‘ اس رات میں نماز عشاء کے بعد آیت الکرسی پڑھ کر سوئی ،توبہ استغفارکی۔ یہ میری کوتاہی تھی کہ میں نماز سے غافل ہوگئی تھی۔ اس رات مجھے بے حد سکون ملا اورصبح نماز فجر کے وقت جب آنکھ کھلی تو میں پہلے کی طرح چست تھی۔یقینی طور پر میری غفلت کے باعث شیطان میرے اعصاب پر چھا گیا تھا اور میرا پورا جسم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا تھا ۔الحمد للہ اب میں ٹھیک ہوں۔

رزق کی تنگی اور لڑائی جھگڑے کا فوری حل

حضرت امام علی رض کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور ہاتھ جوڑ کر عرض کرنے لگی !! یا علی ؑ ہمارے گھر میں جھگڑے بہت ہوتے ہیں، کوئی کسی سے محبت نہیں کرتا اور رزق میں تنگی رہتی ہے حضرت علیؑ سے عورت نے پوچھا ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عورت کا سوال سنتے ہی امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا اے ورت !! جب تم اللہ کا رزق پکاتے ہو تو کچھ نیچے تو نہیں گرتا ؟یہ سوال سن کر عورت نے عرض کیا ہاں علیؑ جب جب میں دودھ اُبالتی ہوں تو وہ تھوڑا سا گر جاتا ہے۔ بس عورت کا یہ کہنا تھا کہ حضرت علی رض نے فرمایا: اے عورت یاد رکھنا کہ جب تم اللہ کا دیا گیا رزق گراؤ گی اور جلاؤ گی تو اس سے گھر میں بے سکونی ، جھگڑے ، نفرت اور رزق میں تنگی کے اسباب پیدا ہوں گے۔ دودھ کو ابال کر پینا چاہئے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دودھ ابل کر زمین پر نہ گرے تم اپنی اس عادت پر قابو پا لو اللہ کے کرم سے تمہارے گھر میں سکون ، محبت اور برکت آجائے گی۔

حضرت علیؑ کی بات سنتے ہی عورت گھر گئی اور آئندہ اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچانے لگی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اپس کے گھر میں خوشخالی اور ہر طرف سکون ہوگیا۔ سبق: اپنے گھر میں اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچائیں ، شکریہ ، التماس دعا: حضرت امام علی رض کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور ہاتھ جوڑ کر عرض کرنے لگی !! یا علی ؑ ہمارے گھر میں جھگڑے بہت ہوتے ہیں، کوئی کسی سے محبت نہیں کرتا اور رزق میں تنگی رہتی ہے ۔ حضرت علیؑ سے عورت نے پوچھا ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عورت کا سوال سنتے ہی امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا اے عورت !! جب تم اللہ کا رزق پکاتے ہو تو کچھ نیچے تو نہیں گرتا ؟یہ سوال سن کر عورت نے عرض کیا ہاں علیؑ جب جب میں دودھ اُبالتی ہوں تو وہ تھوڑا سا گر جاتا ہے۔ بس عورت کا یہ کہنا تھا کہ حضرت علی رض نے فرمایا: اے عورت یاد رکھنا کہ جب تم اللہ کا دیا گیا رزق گراؤ گی اور جلاؤ گی تو اس سے گھر میں بے سکونی ، جھگڑے ، نفرت اور رزق میں تنگی کے اسباب پیدا ہوں گے۔ دودھ کو ابال کر پینا چاہئے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دودھ ابل کر زمین پر نہ گرے تم اپنی اس عادت پر قابو پا لو اللہ کے کرم سے تمہارے گھر میں سکون ، محبت اور برکت آجائے گی۔ حضرت علیؑ کی بات سنتے ہی عورت گھر گئی اور آئندہ اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچانے لگی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اپس کے گھر میں خوشخالی اور ہر طرف سکون ہوگیا۔ سبق: اپنے گھر میں اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچائیں ، شکریہ ، التماس دعا: مدینہ میں آکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخالف گروہ نے آرام سے بیٹھنے نہ دیا۔

آپ کے وہ پیرو جو مکہ میں تھے انھیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جانے لگیں بعض کو قتل کیا۔ بعض کو قید کیا اور بعض کو زد وکوب کیااور تکلیفیں پہنچائیں۔ پہلے ابو جہل اور غزوہ بدر کے بعد ابوسفیان کی قیادت میں مشرکینِ مکہ نے جنگی تیاریاں کیں، یہی نہیں بلکہ اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑھائی کردی، اس موقع پر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کرتے جنھوں نے کہ آپ کوانتہائی ناگوار حالات میں پنا ہ دی تھی اور آپ کی نصرت وامداد کاوعدہ کیا تھا، آپ نے یہ کسی طرح پسند نہ کیا آپ شہر کے اندرر کر مقابلہ کریں اور دشمن کو یہ موقع دیں کہ وہ مدینہ کی پر امن ابادی اور عورتوں اور بچوں کو بھی پریشان کرسکے۔ گو آپ کے ساتھ تعدادبہت کم تھی لیکن صرف تین سو تیرہ آدمی تھے، ہتھیار بھی نہ تھے مگر آپ نے یہ طے کر لیا کہ آپ باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ کریں گے چنانچہ پہلی لڑائی اسلام کی ہوئی۔ جو غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے۔ اس لڑائی میں زیادہ رسول نے اپنے عزیزوں کو خطرے میں ڈالا چنانچہ آپ کے چچا زاد بھائی عبید ہ ابن حارث ابن عبد المطلب اس جنگ میں شہید ہوئے۔ علی ابن ابو طالب علیہ السلام کو جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ 25 برس کی عمر تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا علی بن ابی طالب کے سر رہا۔ جتنے مشرکین قتل ہوئے تھے ان میں سے آدھے مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے اس کے بعد غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین یہ وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں علی بن ابی طالب نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے۔ تقریباًان تمام لڑائیوں میں علی بن ابی طالب کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا۔

اس کے علاوہ بہت سی لڑائیاں ایسی تھیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی بن ابی طالب کو تنہا بھیجا اورانھوں نے اکیلے ان تمام لڑائیوں میں علی بن ابی طالب نے بڑی بہادری اور ثابت قدمی دکھائی اور انتہائی استقلال، تحمّل اور شرافت نفس سے کام لیاجس کا اقرار خود ان کے دشمن بھی کرتے تھے۔ غزوہ خندق میں دشمن کے سب سے بڑے سورما عمر وبن عبد ود کو جب آپ نے مغلوب کر لیااور اس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پر بیٹھے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعب دہن پھینک دیا۔ آپ کو غصہ آگیااور آپ اس کے سینے پر سے اتر ائے۔ صرف اس خیال سے کہ اگر غصّے میں اس کو قتل کیا تو یہ عمل محض خدا کی راہ میں نہ ہوگا بلکہ خواہش نفس کے مطابق ہوگا۔ کچھ دیر کے بعد آپ نے اس کو قتل کیا، اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی لاش برہنہ کردیتے تھے مگر علی بن ابی طالب نے اس کی زرہ نہیں اُتاری اگرچہ وہ بہت قیمتی تھی۔ چنانچہ اس کی بہن جب اپنے بھائی کی لاش پر آئی تو اس نے کہا کہ کسی اور نے میرے بھائی کوقتل کیا ہوتا تو میں عمر بھر روتی مگر مجھ یہ دیکھ کر صبر آگیا کہ اس کا قاتل علی بن ابی طالب سا شریف انسان ہے جس نے اپنے دشمن کی لاش کی توہین گوارا نہیں کی۔ آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یا بچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھا یا اور کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ نہیں کیا۔

تین بیٹیوں کے بعد مٹھائی تقسیم

حمیر ہ جب پیدا ہو ئی تھی تب بھی اس کے با پ نے خو شی اور صبر و شکر کا دا من ہا تھ سے نا چھو ڑا تھا خا ندا ن اور محلے وا لو ں کے لا کھ ا عترا ضا ت ہو نے کے با و جود اس نے اپنی تیسر ی بیٹی ہو نے پر بھی مٹھا ئی تقسیم کی تھی پھر چو تھی پا نچو یں چھٹی اور پھر سا تو یں اسکے با پ نے سا تو ں بیٹیو ں کی پیدا ئش پر خو شیا ں منا ئیں تھیں اور منا تا کیو ں نا بیٹی ر حمت جو ہو تی ہے مو لو ی ہو نے کی و جہ سے مذ ہب سے خو ب آ شنا ئی تھی با تیں کر تا تو منہ سے پھو ل سے جھڑ تے تھے وہ ا کثر سمجھا تا تھا بیٹی خدا کی ر حمت ہو تی ہے ز حمت تو سما ج کی ظا لم ر سمو ں نے بنا د

یا ہےاب اسکی سا ت بیٹیا ں تھیں مگر اسکی پیشا نی پر ایک شکن بھی نہ پڑ ی تھی سا تو ں بیٹیا ں اسے جا ن سے ز یا دہ عز یز تھیں ان کے لیئے مو لو ی ہو نے کے سا تھ سا تھ اسنے در ز ی کا کا م بھی شرو ع کر دیا تھا بیٹیو ں کی ا چھی طر ح تر بیت کی پڑ ھا یا لکھایا جو خو د کھا تے دو نو ں میا ں بیو ی ا نھیں بھی کھلا تے او ڑ ھنے پہننے کو بھی منا سب مل جا تا تھا یو نہی دن گز ر تے گئے لہذا بیٹیا ں جوا ن اور مو لو ی بو ڑ ھا ہو تا گیا جب بیٹیا ں جوا ن ہو ئیں انکی شا دیو ں کی با ر یا ں آ ئیں تو لڑ کے وا لو ں کے بھر م اور جہیز کی لسٹ د یکھ کر بہت پر یشا ن اور متفکر ہوا کہ اب کیا ہو گا سا ری ز ند گی کی کما ئی میں تو دو بیٹیو ں کی شا دی ہو ئی ہےآ نکھو ں سے د کھا ئی بھی کم د ینے لگا تھا اب وہ درزی کا کام بھی نہ کر سکتا تھا گھر بھر کے کھا نے پینے کا بندو بست کر نا بھی اسی کی ذ مہ داری تھی بمشکل گھر کا کھا نا پینا پو را ہو تا بھلا جہیز کہا ں سے ا کٹھا کر تے حمیر ہ جو تیسرے نمبر پر تھی کچھ سمجھدار ہو ئی تو ایک خوا تین کے ادارے میں کا م شرو ع کر دیا سلا ئی کڑ ھا ئی ا چھی کر لیتی تھی کو رسسز بھی کئے ہو ئے تھے تعلیم بھی تھی بی اے تک لہذا منا سب تنخوا ہ میں جا ب مل گئی اب حمیرہ کو جاب کر تے ہو ئے و ہا ں پر پندرہ سا ل ہو گئے تھےمیرے پو چھنے پر اس نے یہ سب کچھ بتا یا تھا مز ید اس نے بتا یا کہ ہم اپنے ما ں با پ پر قطعا بو جھ نہ ہو تیں اگر لڑ کی کی شا دی پر اس کے وا لد ین سے جہیز نہ لیا جا تا میر ے با پ کے سا ت بیٹیو ں کی جگہ بیٹے ہو تے

تو ا چھا تھا آ ج ہمیں جہیز کے بغیر کا ئی بھی قبو لنے کو تیار نہیں ہے آ ئے روز سیمینار ز ہو تے ہیں خوا تین کے حقوق کی ر ٹ لگا ئی جا تی ہے مگر سمجھ نہیں آ تی وہ خوا تین کو نسے حقو ق ما نگتی ہیں ایسے حقو ق کی جگہ اگر اپنے مسا ئل کو ا جا گر کیا جا ئے تو کو ئی و جہ نہیں ہےکہ معا شر ے سے اس ظا لم ر سم کا خا تمہ کیا جا سکتا ہے کیا ہم جہیز لینے جیسی ر سم کے خلا ف ا تنا لڑے ہیں جتنا کہ ہمیں لڑ نا چا ہیے تھا ۔۔۔۔۔۔؟ اب تم ہی بتا و بھلا میں کیا کر تی میرے پاس اس کے علا وہ دو سرا کو نسا آ پشن تھا آ خر مجھے گھر سے نکلنا پڑا اگر میں یہ جا ب نہ کر و ں گی تو ضرور بہ ضرور میر ی چھو ٹی بہنیں کنوا ری رہ جا ئیں گیں ا نگلی اٹھا نے وا لے ہما رے کردار پر ضرور ا نگلی ا ٹھا تے ہیں مگر ہما رے مسا ئل پر کسی کی نظر نہیں ہے ہما رے سما ج میں عورت کی ہتک اور تذ لیل میں تو کو ئی کسر ا ٹھا نہیں ر کھی جا تیجس معا شرے میں بس ا سٹا پ پر ا کیلی عورت کھڑی نہیں ہو سکتی وہا ں وہ پو رے سما ج کے سا تھ ٹکر لے چکی تھی اب وہ کما نے وا لی لڑکی تھی اور ہما رے معا شرے میں کما نے وا لی لڑ کی کو بھی تو ا چھا خیا ل نہیں کیا جا تا ۔۔۔۔۔۔اس و جہ سے وہ خا ندا ن سے تو کٹ ہی چکے تھے بلکہ پو رے محلے میں بھی مشہور ہو چکے تھے کہ مو لو ی کی بیٹیا ں جا ب کر تی ہیں لہذا اب انکا نام بھی آوارہ بد چلن اور نہ جا نے کیسی لڑ کیو ں میں آ چکا تھا آ خر میں اس نے مجھ سے ا تنا سا کہا تھا کہ ا پنے ملنے وا لو ں سے کہنا بھلے بیٹیو ں کو خر ید لیا کر یںمگر جہیز مت لیا کر یں مجھے شدت سے انکی بے بسی کا احساس ہوا جب اسکے قر یب بیٹھی ہو ئی ا سکی بیمار ما ں نے کہا کہ بیٹا میں د عا کر تی ہو ں دن رات کہ خدا اس دور میں غر یب کو بیٹی نہ

دے بیٹیو ں وا لے غر یب ما ں با پ کتنے مجبور و بے کس ہو تے ہیں اسکا اندازہ تم نہیں لگا سکتی بیٹی ہم تو ان لو گو ں میں سے تھے جنکا آ نچل تک کسی غیر مرد نے نہ د یکھا تھا اور آج یہ دن دیکھنے پڑ ر ہے ہیں کہ بیٹیو ں کو جاب کر نا پڑ رہی ہے اسی ا ثنا ء میں حمیرہ کے والد اسے لینے آ گئےوہ ضعیف ا لعمر سفید داڑ ھی وا لے بز رگ تھے جس کے چہرے پر تھکن اور ز ند گی بھر مشقت کے آ ثار نما یا د یکھے جا سکتے تھے د یکھتے ہی د یکھتے حمیر ہ اور اسکے بز رگ وا لد ین بس پر لٹک گئے اور میر ی آ نکھو ں سے او جھل ہو گئے میں نے سو چا ایسے کتنے ہی لو گ اس رسم کی سزا کا ٹ رہے ہیں آ خر کیو ں ہم اس رسم کو ختم نہیں کر دیتے آ خر کیو ں

سلطان محمود کی قبر کا واقعہ

سلطان محمود غزنوی نے دنیا میں تینتیس 33 سال حکومت کی اور اس وقت کا دنیا کا شجاعت اور دنیا پر اثر و رسوخ رکھنے والا دوسرے نمبر کا بادشاہ تھا۔ پہلے نمبر پر چنگیز خان تھا دوسرے نمبر پر محمود غزنوی تھا تیسرے نمبر پر سکندر یونانی تھا چھوتھے پر تیمور لنگ تھا اور یہ دوسرے نمبر کا بادشاہ تھا سلطان محمود غزنوی۔ 410 ہجری میں سلطان محمود غزنوی کی وفات ہوئی اور دنیا پر تینتیس سال حکومت کی ہے یہ واقعہ سچا اور انفرادی حثیت رکھتا ہے کہ 1974 میں شہر غزنوی میں زلزلہ آیا جس سے سلطان جس سے سلطان محمود غزنوی کی قبر پھٹ گئی اور مزار بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔

تو اس وقت کے افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ مرحوم نے دوبارہ مزار کی تعمیر نو کی اور قبر کو مرمت کروایا۔ تعمیر کے مقصد کے لئے قبر کو پورا کھول دیا گیا کیونکہ قبر نیچے تک پھٹ گئی تھی جب قبر کو کھولا گیا تو قبر کے معمار اور قبر کی زیارت کرنے والے حیران رہ گئے کہ قبر کے اندر سے ہزار سال سے مرے ہوئے اور تابوت کی لکڑی صحیح سلامت ہے سب لوگ حیران اور ورطہ حیرت کا شکار ہوگئے تابوت صحیح سلامت ، ہزار سال گزرنے کے باوجود ، حکام نے تابوت کو کھولنے کا حکم دیا تو جس آدمی نے کھولا تو پلٹ کر پیچھے گرا اور بےہوش ہوگیا تو جب پیچھے لوگوں نے آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ سلطان جو تینتیس سال حکومت کرکے مرا اور مرے ہوئے ہزار سال گزر چکے ہیں وہ اپنے تابوت میں ایسے پڑا تھا جیسے کوئی ابھی اس کی میت کو رکھ کے گیا ہے۔اور اس کا سیدھا ہاتھ سینے پر تھا الٹا ہاتھ اور بازو جسم کے متوازی سیدھا تھا اور ہاتھ ایسے نرم جیسے زندہ انسان کے ہوتے ہیں اور ہزار سال مرے بیت چکے ہیں یہ اللہ تعالیٰ نے ایک جھلک دیکھائی کہ جو میرے محبوب کی غلامی اختیار کرتے ہیں وہ بادشاہ بھی ہو گئے تو وہ اللہ کے محبوب بن کے اللہ کے پیارے بن کے اللہ کے دربار میں کامیاب ہو کر پیش ہوگے۔زندگی مختصر ہے

اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔وقت کے آگے طاقت ور سے طاقت ور بادشاہ کمزور اور بے بس ہے وقت کو کوئی نہیں روک سکتا لیکن وقت پرجس شخص نے اللہ کی مخلوق کی بہتری، بھلائی اور اللہ کی خوشنودی کو مقدم رکھا وہی شخص مرنے کے بعد بھی لافانی ہے۔ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ،سچی کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ، اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو

عبادت اپنی جگہ گھر داری اپنی جگہ! پڑھنے والی تحریر

حضوراکرم ؐ مسجدمیں تشریف فرماتھے توآپ ؐ نے کہاکہ اس درواز ے سے ایک جنتی آنے والاہےتوتھوڑی دیربعدایک انصاری صحابی داڑھی میں وضوکاتازہ پانی لگاہواورالٹےہاتھ میں جوتاپکڑاہواداخل ہوئے اگلے دن پھرآپ ؐ نے فرمایاکہ اس دروازے سے ایک جنتی داخل ہونے والاہےدوسرے دن بھی وہی صحابی اوراسی حالت میں تیسرے دن پھرآپ ؐ نےفرمایاکہ ا س درواز ے سے ایک جنتی داخل ہوگا پھروہی صحابی تینوں دن ایک آدمی .اس مجلس میں ایک صحابی بیٹھے تھےعبداللہ بن امریہ صحابی سب سے زیادہ عبادت کرنے والے تھے ۔ ساری رات تہجد پڑھتےاورساراسال روزہ رکھتے تھے اورچوبیس گھنٹے میں ایک دفعہ قرآن ختم کرلیتے تھے ان کی شادی ہوئی اورشادی والی رات دلہن بیٹھی ہوئی ہے اوراسے چھوڑ کرعبادت شروع کردی۔

بیوی بھی انتظارکرتی رہی آخرکارتھک کربیوی نے بھی مصلیٰ اٹھایااورحضرت عبداللہ بن امرکے ساتھ عبادت شروع کردی یہاں تک کہ صبح ہوگئی .صبح جب حضرت عبداللہ کے والدنے ان سے پوچھاکہ رات کیسی گزری توانہوں نے کہاکہ سبحان اللہ ساری رات عبادت کرکے گزاری توانہوں نے کہاکہ تیراستیاناس ہوشادی والے دن بھی تونے عبادت کی .بیوی کے حقوق کاخیال نہیں رکھا حضرت عبداللہ کے والدحضوراکرم ؐ کے پاس چلے گئےاوران سے جاکراپنے بیٹے کی شکایت کی .حضوراکرم ؐ نے پھران کوپابندکیاکہ توتین دن سےپہلے قرآن ختم نہیں کریگاایک دنروزہ رکھے گااورایک دن چھوڑے گا.ان کوخیال آیاکیایہ مجھ سے بھی زیادہ عبادت کرتاہےمیں نے جاکردیکھناہے تووہ ان جنتی صحابی کے گھرچلے گئے اوران کے والدسے ان کے گھررہنے کی اجازت مانگی کہ دیکھوں یہ کیاکرتاہے توجنتی صحابی جب سوئے توصبح ہوکرجاگے تویہ دیکھ کرحضرت عبداللہ حیرت زدہ ہوگئے اورسوچاکہ منافق آدمی بھی تہجدنہیں چھوڑ تاتین دن تک یہی کام ہوتارہا انہوں نے سوچاکہ یہ توکچھ کام نہیں کرتے توان کوجنت کیسے ملے گی لیکن پھریہ بھی سوچاکہ نبی کریم ؐ کی بات بھی غلط نہیں ہوسکتی انہوں نے تین دن بعدتنگ آگران صحابی سےپوچھاکہ آپ کیاکرتے ہوتین دن آپ کی بشارت سنی کہ جنتی صحابی آرہاہے

آپ فرض نمازوں کے علاوہ کوئی عبادت بھی نہیں کرتے تواس صحابی نے کہاکہ بیٹاجوتم نے دیکھایہی ہے میرے پاس کے علاوہ کچھ بھی نہیں.حضوراکر م ؐ کی بات بھی غلط نہیں اوران صحابی کاکوئی عمل بھی نظرنہیں آیااب ان کوسمجھ نہیں آرہا کہ نبی کریم ؐ نے یہ کیوں فرمایااب جب یہ صحابی اپنے گھرواپس جانے لگے تواس جنتی صحابی نے کہاکہ بھتیجاادھرآئومیں تم کواندرکی بات بتاتاہوں جب وہ قریب آئے تواس جنتی صحابی نے کہاکہ بیٹامیرے اس دل میں کسی کے لیے کوئی حسدنہیں میں دوسروں کی کامیابی پرخوش ہوتاہوں تواس کے بعدحضرت عبداللہ بن امرنے فرمایایہی وجہ ہے …یہی وجہ ہے کہ حضورؐ نے آپ کانام لیا

چور کی سزا یہ ہے کہ اس کے ہاتھ کاٹ دے جائے

ایک نوجوان کو چوری کے جرم میں حضرت عمر فاروقؓ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔جب تفتیش کرنے پر اس نوجوان کا جرم ثابت ہوگیا تو آپ نے شرع کے مطابق چور کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم صادر فرمادیا ۔وہ نوجوان فریاد کرنے لگا اور رونے لگا معافی کا طلبگار ہوا کہ یہ میری پہلی چوری ہے میں آئندہ کبھی بھی چوری نہیں کروں گا ۔حضرت عمرؓ نے فرمایا ’تم غلط کہتے ہو تم نے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ چوریاں کی ہیں۔آخر ار اس نوجوان کو اس بات کا اقرا ر کرنا پڑا کہ واقعی اس نے اس نے پہلے بھی چوری کی وارداتیں کی ہیں۔اب وہ بجائے معافی مانگنے کے اس بات پر حیران تھا کہ

حضرت عمرؓ کو کیسےوریوں کی خبر ہوئی اس نے حیرانگی کے عالم میں پوچھا اے امیر المومنینؓ !میری گزشتہ کی ہوئی چوریوں کا علم میرے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو نہیں ہے ۔آپ کو اس بات کی اطلاع کس طرح ہوگئی ے؟حضرت عمرؓ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کسی کو بھی اس وقت تک ذلیل و خوار نہیں کرتا جب تک کہ وہ برائی کی حد سے آگے نہ بڑھ جائے‘‘۔انسان ہمیشہ کامیاب لوگوں جیسا بننا چاہتا ہے لیکن اگرآپ کو علم ہوجائے کہ کامیاب لوگ رات کو سونے سے پہلے فار غ وقت میں کیاکرتے ہیں تو یقیناًآپ بھی یہ کام کریں گے۔کچھ پڑھنا:ہر بڑے آدمی کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ سونے سے قبل کچھ نہ کچھ ضرور پڑھتا ہے کہ اس طرح اس کے علم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور یہ اس کی تمام زندگی میں اس کے لئے فائدہ مند رہتا ہے۔

کام کی لسٹ بنانا:بین الاقوامی بزنس سپیکر مائیکل کیر کا کہنا ہے کہ کامیاب لوگ سونے سے قبل اگلے دن کے کاموں کی لسٹ پہلے ہیبنا لیتے ہیں تا کہ وہ رات کو پرسکون نیند لے سکیں اور اگلے دن وہ کام نمٹا لیں۔فیملی کے ساتھ وقت گزارنا:ہر کامیاب انسان کے لئے فیملی کی زندگی اچھا رکھنا فائدہ مند ہوتا ہے اور وہ اپنے بچوں اور بیوی کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور ان کی باتیں سنتے ہیں ،انہیں مشورے دیتے ہیں ۔اس طرح ان کی فیملی لائف اچھی گزرتی ہے اور وہ باہر کے کام بہتر طریقے سے کر پاتے ہیں۔دن بھر کی باتوں پر غور:ایسے افراد سونے سے قبل دن کے معمولات پر غور کرتے ہیں ۔اس طرح انہیں یہ علم ہوجاتا ہے کہ وہ کہاں غلط ہیں اور اگلی بار اس غلطی سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔

غور وخوص:کامیاب افراد چیزوں کے بارے میں غور و حوض کرتے ہیں اور سونے سے قبل کم از کم دس منٹ سوچنے میں صرف کرتے ہیں۔مکمل نیند لینا:یہ ایک انتہائی اہم ضرورت ہے اور اس کے ذریعے آپ دن بھر کے معمولات بہتر طریقے سے کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔کامیاب افراد کے لئے مناسب نیند اہم چیز ہوتی ہے اور وہ اس کے لئے پلاننگ کرتے ہیں۔کام سے وقتی لاتعلقی:کام کرنا ایک اچھی عادت ہے لیکن ہر وقت کام کو سر پر سوار رکھنے سے منفی رد عمل ہوتا ہے لہذا کامیاب افراد سونے سے قبل اپنے دماغ کو کام سے وقتی طور پر دور کرکے ذہن کو پرسکون کرتے ہیں۔مثبت سوچ سے سونا:انسان کا اپنی زندگی میں مثبت سوچ رکھنا ضروری ہے کہ اس طرح آگے بڑھنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے۔منفی خیالات صرف تباہی لے کر آتے ہیں لہذا کامیاب افراد مثبت سوچ کے ساتھ بستر میں جاتے ہیں۔اگلے دن کی کامیابی:کامیاب افراد کبھی بھی مایوس ذہن کے ساتھ نہیں سوتے ،جب وہ بستر میں جاتے ہیں تو اگلے دن کی کامیابی کی سوچ ان کے ذہن میں ہوتی ہے،اگلے دن جب وہ بیدار ہوتے ہیں تو ان کی سوچ باقی لوگوں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے جس کی وجہ سے انہیں کامیابی ملنے کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔

قرآن کی آیات کا فیصلہ

سوال یہ ہے کہ ’پاک مرد پاک عورتوں کے لیے‘ اس آیت کا کیا مطلب ہے؟ بہت سے عالم اس سے مراد شادی لیتے ہیں، کہ اگر آپ ناپاک ہوں گے تو آپ کو بیوی بھی ناپاک ملے گی۔ براہ مہربانی اس کا صحیح مطلب سمجھا دیں۔ شکریہ۔۔جاری ہے۔

جواب:

انسانی فطرت ہے کہ ہر شخص اپنے ہم خیال اور اپنے جیسی طبیعت کے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کو ترجیح دیتا ہے اور اپنے ہم خیال و ہم جلیس کے ساتھ رہنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ اسی فطری جذبہ کو قرآنِ مجید نے بھی بیان کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ زانی مرد سے زناکاری پر رضامند وہی عورت ہوتی ہے جو زانیہ یا مشرکہ ہو کہ زنا کو عیب نہ سمجھتی ہو۔ ایسی عورت کے ساتھ رہنے کو قبول وہی مرد کرتے ہے جو اسی جیسا بدکار یا مشرک ہو کہ زنا کی حرمت کا قائل نہ ہو۔ زناکاری کرنا یا زانیہ سے نکاح کرنا اسی طرح اپنی پاک دامن عورتوں کو زانی مردوں کے نکاح میں دینا مومنوں پر حرام ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔۔جاری ہے۔

الزَّانِي لَا يَنكِحُ إلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ.

بدکار مرد سوائے بدکار عورت یا مشرک عورت کے (کسی پاکیزہ عورت سے) نکاح (کرنا پسند) نہیں کرتا اور بدکار عورت سے (بھی) سوائے بدکار مرد یا مشرک کے کوئی (صالح شخص) نکاح (کرنا پسند) نہیں کرتا، اور یہ (فعلِ زنا) مسلمانوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔

النُّوْر، 24: 3

درج بالا آیت میں نہ صرف لوگوں کی پسندیدگی کو بیان کیا گیا ہے بلکہ اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ ایسا زانی یا زانیہ جس نے توبہ نہ کی ہو، جس کے زنا کی شہرت عام ہو اس کے ساتھ کسی مومن کا نکاح جائز نہیں ہے۔ جب کسی مرد یا عورت کی بدچلنی کا علم ہو تو اس کے باوجود اس سے نکاح کرنا اہل ایمان کے لیے حرام ہے۔ اگر وہ اس گناہ سے توبہ کر لیں، اس عمل کو ترک کر کے اپنی اصلاح کر لیں تو زانی یا زانیہ کی صفت ان سے ختم ہو جائے گی۔ آیت کا منشاء یہی ہے کہ جن لوگوں کی بدکاری معلوم ہو ان کو جیون ساتھی منتخب کرنا گناہ ہے‘ اس سے اہلِ ایمان کو پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے بدکاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اس حکمِ خداوندی میں یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ زنا ایسا قبیح فعل ہے جس کا مرتکب اسلامی معاشرے اور صالح خاندانی نظام کا حصہ بننے کے قابل نہیں رہتا۔ اسی لیے ارشاد فرمایا:۔۔جاری ہے

الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ أُوْلَئِكَ مُبَرَّؤُونَ مِمَّا يَقُولُونَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ.

ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے (مخصوص) ہیں اور پلید مرد پلید عورتوں کے لئے ہیں، اور (اسی طرح) پاک و طیب عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے (مخصوص) ہیں اور پاک و طیب مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں (سو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاکیزگی و طہارت کو دیکھ کر خود سوچ لیتے کہ اللہ نے ان کے لئے زوجہ بھی کس قدر پاکیزہ و طیب بنائی ہوگی)، یہ (پاکیزہ لوگ) ان (تہمتوں) سے کلیتًا بری ہیں جو یہ (بدزبان) لوگ کہہ رہے ہیں، ان کے لئے (تو) بخشش اور عزت و بزرگی والی عطا (مقدر ہو چکی) ہے (تم ان کی شان میں زبان درازی کر کے کیوں اپنا منہ کالا اور اپنی آخرت تباہ و برباد کرتے ہو).۔۔جاری ہے۔

النُّوْر، 24: 26

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر مرد زانی ہے تو اس کو لازماً زانی عورت ہی ملے گی، یا عورت زانی ہے تو اس کے نصیب میں فقط زانی مرد ہی ہوگا۔ قرآنِ مجید نے اس کا انکار کیا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالی نے قرآنِ مجید میں ایسے انبیاء علیھم السلام کا تذکرہ فرمایا ہے کہ جن کی بیویاں کافرہ تھیں۔ فرعون جیسے بدترین کافر کی بیوی حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے صالحہ خاتون قرار دیا ہے اور ان کی سیرت کا تذکرہ بھی قرآنِ مجید میں ملتا ہے۔

بیوی کیساتھ یہ تین کام کرنا اپنے آپ کو برباد کرنے کے برابر ہیں

بعض اوقات انسان سے جانے انجانے میں کچھ ایسی غلطیاں سر زد ہوجاتی ہیں جس کی کوفت اسے ساری زندگی تڑپاتی ہے آج ہم آپ سےتین ایسے کام شیئر کریں گے جو بیوی کے ساتھ کرنے سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے جو بھی شخص اپنی شریک حیات کے ساتھ یہ عمل کرے گا رزق اس سے دور کر دیا جائے گا بیماریا اس کی زندگی میں عام ہو جاتی ہے ساس سسر کو گالی دینا شادی کے بندھن سے منسلک ہونے کے بعد ساس سسر والدین کا درجہ رکھتے ہیں وہ وہی تعظیم کے حقدار ہیں جو اپنے والدین کی ہوتی ہے ان کو برا بھلا کہنا

گالی گلوچ کسنے سے منع فرمایا گیا ہے کچھ ان پڑھ لوگ اپنے ساس سسر کو برے ناموں سے پکارتے ہیں توزوال ایسے گھر کا مقدر بن جاتا ہے بیوی کے ساتھ غیر فطری طریقے سے ہمبستری کرنا بیوی کے ساتھ پچھلے حصے سے ہمبستری کرنا شرمگاہ کو منہ لگانا یہ ایک غیرفطری فعل ہے جس سے عورت تکلیف سے دوچار ہوتی ہے ایسے مرد پیسے پیسے کا محتاج ہو جاتے ہیں وہ شوہر جو بات بات پروہ الفاظ بولے جس میں طلاق کاناپسند دید لفظ ہو گھروں میں میاں بیوی کے درمیان وقتی ناراضگی ہو جاتی ہے مگرچھوٹی بات پر طلاق کالفظ بول کرعورت کو پریشان کرنا بہت بڑی زیادتی ہے لفظ طلاق کو اللہ پاک نے سخت ناپسندفرمایاہے زندگی ایک دوسرےکوسمجھنےاوربرداش کرنے کانام ہے غلطیاں جانے انجانےمیں ہوجاتی ہیں

بہترین حکمت عملی یہی ہے کہ خوش اسلابی سے حل کیے جائیں تاکہ دلوں میں رنجشیں پروان نہ چڑھیں اور وفاباقی رہ سکیں جب میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھ لیتے ہیں ایک دوسرے کی خوشی کا احترام کرتے ہیں ایک دوسرے کو وہ مقام دیتے ہیں جس کا وہ حق رکھتے ہیں مرد عورت کو اپنی پراپرٹی نہ سمجھےعورت مرد کو اپنا غلام نہیں تو ان کی ازدواجی زندگی جنت بن جاتی ہے دوستو اپنی بھی اصلاح کریں اور دوسروں سے بھی شیئر کریں تاکہ وہ بھی ان کاموں کا مرتکب ہونے سے بچ سکیں اور اپنی اصلاح کر سکیں شکری

عورت کیلئے ایک ہی شادی کا حکم کیوں؟؟؟

سائنس کے دائرے میں قرآنی معجزات کی ایک جھلک ایک ماہرِ جنین یہودی (جو دینی عالم بھی تھا) کھلے طور پر کہتا ہے کہ روئے زمین پر مسلم خاتون سے زیادہ پاک باز اور صاف ستھری کسی بھی مذھب کی خاتون نہیں ہے پورا واقعہ یوں ہے کہ الپرٹ اینسٹاین انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ایک ماہرِ جنین یہودی پیشوا روبرٹ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا جس کا واحد سبب بنا قرآن میں مذکور مطلقہ کی عدت کے حکم سے واقفیت اور عدت کیلئے تین مہینے کی تحدید کے پیچھے کارفرما حکمت سے شناسائی اللہ کا فرمان ہے والمطلقات یتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء [البقرة:228] “مطلقات اپنے آپکو تین حیض تک روکے رکھیں” اس آیت نے ایک حیرت انگیز جدید علم ڈی این اے کے انکشاف کی راہ ہموار کی اور یہ پتا چلا کہ مرد کی منی میں پروٹین دوسرے مرد کے بالمقابل 62 فیصد مختلف ہوا کرتی ہےتفصیلات کےلیے وڈیو دیکھیں

اور عورت کا جسم ایک کمپیوٹر کی مانند ہے جب کوئی مرد ہم بستری کرتا ہے تو عورت کا جسم مرد کی تما بیکٹریاں جذب ومحفوظ کر لیتا ہے
اس لئے طلاق کے فورا بعد اگر عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرلے یا پھر بیک وقت کئی لوگوں سے جسمانی تعلقات استوار کرلے تو اس کے بدن میں کئی ڈی این اے جمع ہو جاتے ہیں جو خطرناک وائرس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور جسم کے اندر جان لیوا امراض پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں سائنس نے پتا لگایا کہ طلاق کے بعد ایک حیض گزرنے سے 32سے35 فیصد تک پروٹین ختم ہو جاتی ہے اور دوسرے حیض آنے سے 67 سے 72 تک آدمی کا ڈی این اے زائل ہو جاتا ہے
اور تیسرے حیض میں 99.9%کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور پھر رحم سابقہ ڈی این اے سے پاک ہو جاتا ہے اور بغیر کسی سائڈ افیکٹ و نقصان کے نئے ڈی این اے قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے ایک طوائف کئ لوگوں سے تعلقات بناتی ہے جس کے سبب اس کے رحم مختلف مردوں کی منی چلی جاتی ہیں اور جسم مختلف ڈی این اے جمع ہو جاتے ہٰیں اور اسکے نتیجے میں وہ مہلک امراض کا شکار بن جاتی ہے اور رہی بات متوفی عنہا کی عدت تو اس کی عدت طلاق شدہ عورت سے زیادہ ہے کیونکہ غم و حزن کے بنا پر سابقہ ڈی این اے جلدی ختم نہیں ہوتا اور اسے ختم ہونے کے لئے پہلے سے زیادہ وقت درکار ہے اور اسی کی رعایت کرتے ہوئے ایسی عورتوں کےلئے چار مہینے اور دس دن کی عدت رکھی گئی ہے فر مان الہی ہے والذين يتوفون منكم و يذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر و عشرا
[البقرة:٢٣٤]

”اور تم میں سے جس کی وفات ہو جائے اور اپنی بیویاں چھوڑے تو چاہیے کہ وہ چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو روکے رکھیں“ اس حقیقت سے راہ پاکر ایک ماہر ڈاکٹر نے امریکہ کے دو مختلف محلے میں تحقیق کیا ایک محلہ جہاں افریقن نژاد مسلم رھتے ہیں وہاں کی تمام عورتوں کے جنین میں صرف ایک شوہر ہی کا ڈی این اے پایا گیا جبکہ دوسرا محلہ جہاں اصل امریکن آزاد عورتیں رھتی ہیں ان کے جنین میں ایک سے زائد دو تین لوگوں تک کے ڈی این اے پائے گئے جب ڈاکٹر نے خود اپنی بیوی کا خون ٹیسٹ کیا تو چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی کہ اس کی بیوی میں تین الگ الگ لوگوں کے ڈی ان اے پائے گئے جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کی بیوی اسے دھوکہ دے رہی تھی اور یہ کہ اس کے تین بچوں میں سے صرف ایک اس کا اپنا بچہ ہے اس کے بعد ڈاکٹر پوری طرح قائل ہوگیا کہ صرف اسلام ہی وہ دین ہے جو عورتوں کی حفاظت اور سماج کی ہم آہنگی کی ضمانت دیتا ہے اور اس بات کی بھی کہ مسلم عورتیں دنیا کی سب سے صاف ستھری پاک دامن وپاک باز ہوتی ہیں