وضو کے پانی سے اپنے جوڑوں کی درد

وضو کے پانی سے اپنے جوڑوں کی درد ہمیشہ کے لیے ختم کریں، یہ کوئی مذاق نہیں، بلکہ ایک بہت ہی زبردست اور آزمایہ ہوا عمل ہےH وضو کے پانی سے اپنے جوڑوں کی درد ہمیشہ کے لیے ختم کریں، یہ کوئی مذاق نہیں، بلکہ ایک بہت ہی زبردست اور آزمایہ ہوا عمل ہےوضو کے پانی سے اپنے جوڑوں کی درد ہمیشہ کے لیے ختم کریں، یہ کوئی مذاق نہیں، بلکہ ایک بہت ہی زبردست اور آزمایہ ہوا عمل ہے

جب ہم نماز یا کسی اور کام کیلئے وضو کرتے ہیں تو وضو کے تقریباً چار پانچ منٹ بعد تک وضو کا پانی ڈاڑھی اور چہرے وغیرہ پر ٹکا رہتا ہے اس کو اگر جوڑوں کے درد والی جگہ پر مالش کے انداز میں مل لیں تو شفاء کلی نصیب ہوتی ہے۔ ایک اور بات جن حضرات کی ڈاڑھی نہیں ہے وہ ڈاڑھی رکھیں اور پھر اس ٹوٹکے کاکمال دیکھیں۔

خواتین کی خدمت میں بھی عرض ہے کہ ان کے چہرے پر جو وضو کا پانی بچ جاتا ہے وہ اپنی مطلوبہ درد والی جگہ پر ملیں ان شاء اللہ ان کو ہر قسم کی تکلیف سے نجات ملے گی۔
یہ مفت کی دوائی اور مفت کا علاج ہے۔ ہمارے گھر میں آج تک کسی کو جوڑوں کی تکلیف نہیں ہوئی صرف اسی ٹوٹکے کی وجہ سے۔۔۔ قارئین! آپ بھی آزمائیں اور دوسروں کو بھی بتائیں

خانہ کعبہ کی چابیاں جب آقا کریم ﷺ کو دی گئیں

اس آیت کی شان نزول میں مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا اور اطمینان کے ساتھ بیت اللہ شریف میں آئے تو اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف کیا۔ حجرا سود کو اپنی لکڑی سے چھوتے تھے اس کے بعد عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو جو کعبہ کی کنجی برادر تھے بلایا ان سے کنجی طلب کی انہوں نے دینا چاہی اتنے میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اب یہ مجھے سونپئے تاکہ میرے گھرانے میں زمزم کا پانی پلانا اور کعبہ کی کنجی رکھنا دونوں ہی باتیں رہیں یہ سنتے ہی سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ روک لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ طلب کی

پھر وہی واقعہ ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہ بارہ طلب کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر دے دی کہ اللہ کی امانت آپ کو دیتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا دروازہ کھول اندر گئے وہاں جتنے بت اور تصویریں تھیں سب توڑ کر پھینک دیں، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا بت بھی تھا جس کے ہاتھ فال کے تیر تھی آپ نے فرمایا اللہ ان مشرکین کو غارت کرے بھلا خلیل اللہ کو ان سیروں سے کیا سروکار؟ پھر ان تمام چیزوں کو برباد کر کے ان کی جگہ پانی ڈال کر ان کے نام و نشان مٹا کر آپ باہر آئے کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کوئی معبود نہیں بجز اللہ کے وہ اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اس نے اپنے وعدے کو سچا کیا اپنے بندے کی مدد کی اور تام لشکروں کو اسی اکیلے نے شکست دی پھر آپ نے ایک لمبا خطبہ دیا جس میں یہ بھی فرمایا کہ جاہلیت کے تمام جھگڑے اب میرے پاؤں تلے کچل دئیے گئے خواہ مالی ہوں خواہ جانی ہوںبیت اللہ کی چوکیداری کا اور حاجیوں کو پانی پلانے کا منصب جوں کا توں باقی رہے گا

اس خطبہ کو پورا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہی تھے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر کہا حضور چابی مجھے عنایت فرمائی جائے تاکہ بیت اللہ کی چوکیداری کا اور حاجیوں کو زمزم پلانے کا منصب دونوں یکجا ہو جائیں لیکن آپ نے انہیں نہ دی مقام ابراہیم کو کعبہ کے اندر سے نکال کر آپ نے کعبہ کی دیوار سے ملا کر رکھ دیا اور اوروں سے کہہ دیا کہ تمہارا قبلہ یہی ہے پھر آپ طواف میں مشغول ہوگئے ابھی وہ چند پھیرے ہی پھرے تھے جو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوے اور آپ نے اپنی زبان مبارک سے اس آیت کی تلاوت شروع کی، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایامیرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں میں نے تو اس سے پہلے آپ کو اس آیت کی تلاوت کرتے نہیں سنا اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں کنجی سونپ دی اور فرمایا آج کا دن وفا کا نیکی اور سلوک کا دن ہےیہ عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ وہی ہیں جن کی نسل میں آج تک کعبۃ اللہ کی کنجی چلی آتی ہے

زنا کی سزا

قبیلہ غامِد (قبیلۂ جُہَینَہ کی ایک شاخ ) کی عورت تھی۔ اُس نے بھی آکر چار مرتبہ اقرار کیا کہ وہ زنا کی مرتکب ہوئی ہے اور اسے ناجائز حمل ہے۔ آپؐ نے اُس سے بھی پہلے اقرار پر فرمایا ویحک ارجعی فاستغفری الی اللہ و توبی الیہ (اری چلی جا، اللہ سے معافی مانگ اور توبہ کر)۔ مگر اس نے کہا یا رسول اللہ کیا آپ نے مجھے ماعز کی طرح ٹالنا چاہتے ہیں۔ میں زنا سے حاملہ ہوں۔ یہاں چونکہ اقرار کے ساتھ حمل بھی موجود تھا ، اس لیے آپؐ نے اُس قدر مفصّل جرح نہ فرمائی جو ماعز کے ساتھ کی تھی۔ آپؐ نے فرمایااچھا، نہیں مانتی تو جا، وضعِ حمل کے بعد آئیو۔وضعِ حمل کے بعد وہ بچے کے لے کرآئی اور کہا اب مجھے پاک کر دیجیے۔ آپؐ نے فرمایا جا اور اس کو

اور اس کو دودھ پلا۔ دودھ چھوٹنے کے بعد آئیو۔ پھر وہ دودھ چھٹانے کے بعد آئی اور ساتھ روٹی کا ایک ٹکڑا بھی لیتی آئی ۔ بچے کو روٹی کا ٹکڑا کھلا کر حضور کو دکھایا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ اب اس کا دودھ چھوٹ گیا ہے اور دیکھیے یہ روٹی کھانے لگا ہے ۔ تب آپؐ نے بچے کو پرورش کے لیے ایک شخص کے حوالے کیا اور اس کے رجم کا حکم دیا۔ اسلام میں شادی شدہ زانی کی سزا ! رجم ہی ہے کیا ان ایسی سزا کے بعد کوئی عین شاہد ایسا قبیح گناہ کرے گا زنا کی روک تھام صرف اسلام کی شرعی سزاوں میں ہے

کیا آپ جانتے ہیں سورۃ رحمٰن والا پانی دم کر کے کس بیماری سے بچا جا سکتا ہے؟

رحمن کی ہر آیت سننے کے ساتھ اس کے جسم کے اندر ایک حرارت پیدا ہوتی ہے اور جب سورۂ رحمن کی تلاوت سننے کے بعد وہ آدھا گلاس پانی پیتا ہے تو وہ اس طرح محسوس کرتا ہے کہ جس طرح انگاروں کے اوپر پانی ڈالا جاتا ہے۔میڈیکل سائنس ہیپاٹائٹس کے امراض سے متعلق مایوسی کا شکار ہوچکی ہے۔ دنیا میں اس وقت ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا مریضوںکی رجسٹرڈ تعداد چالیس کروڑ ہے ۔ جبکہ پاکستان میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ایسے میں میڈیکل سائنس کی بے بسی انسانی ذہن اور معاشرے کی تباہی کا پیغام دے رہی ہے مگر سورۂ رحمن

کے سننے سےیہ مرض چند ہی ایام میںوجود سے ایسے غائب ہوجاتاہے جیسے کبھی اس کا نام و نشان ہی نہ تھا۔ سورۂ رحمن کے ذریعے لوگوں کی ذہنی‘ جسمانی اور روحانی بیماریوںکا یقینی علاج ہوتا ہے۔سورہ رحمن کی قرآن تھراپی کے ذریعے لاعلاج مریضوں کا کامیاب علاج ہوچکا ہے بلکہ بہت سے لوگوں نے بتایا کہ سورۂ رحمن سننے سے ان کی بہت سی پیچیدہ بیماریاں ختم ہوگئیں ہیں۔ سورۂ رحمن قاری عبدالباسط کی آواز میں بغیر ترجمہ پچاس منٹ کے دورانیے پر مشتمل ہے۔ جب کوئی مکمل طور پر اپنی توجہ سورۂ رحمٰن کی طرف کرکے تلاوت سنتا ہے اور اپنی آنکھیں بند کرتا ہے۔

تو سورۂ رحمٰن کی ہر آیت سننے کے ساتھ اس کے جسم کے اندر ایک حرارت پیدا ہوتی ہے اور جب سورۂ رحمٰن کی تلاوت سننے کے بعد وہ آدھا گلاس پانی پیتا ہے تو وہ اس طرح محسوس کرتا ہے کہ جس طرح انگاروں کے اوپر پانی ڈالا جاتا ہے۔ سورۂ رحمٰن کے ان مشاہدوں کا جب ناروے میں پتہ چلا تو ناروے اوسلو سے پرائم ٹی وی سے یہ پروگرام پوری دنیا میں دکھایا گیا اور سورۂ رحمٰن کے پروگرام کی افادیت نے پوری دنیا کو چونکا دیا ہے۔

انہوںنے کہا کہ جو لوگ دکھی‘ الجھن یا ذہنی کرب میں مبتلا ہوں وہ سورۂ رحمٰن کی تلاوت دن میں تین مرتبہ متواتر سات دن تک سنیں۔ تمام بیماریوں کا علاج قرآن کی آیات میں موجود ہے اگر ہم ان آیات کو غور سے سنیں۔ اس کے ذریعے کینسر‘ فالج‘ شوگر‘ ہارٹ اٹیک اور دوسرے بے شمار امراض کا علاج کیا جاچکا ہے۔

گزشتہ سات آٹھ سال سے پاکستان کے مختلف شہروں پشاور‘لاہور‘ ملتان‘ کوئٹہ‘ اسلام آباد میں ہزاروں مریضوں کا علاج ہوچکا ہے۔ دنیا کی ہربیماری کاعلاج سورۂ رحمن کی تلاوت سننے سے ممکن ہے اس لیے لوگوںکو چاہیے کہ قاری عبدالباسط کی آواز میں سورۂ رحمٰن کی بغیر ترجمہ کی کیسٹ لے کر سات دن تک سنیں‘ ان کی بیماری ختم ہوجائے گی۔

تمہیں پتہ ہے کہ اللہ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے؟

ﺧﺮﺍﺳﺎﻥ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺷﮑﺎﺭ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﺮﻭﺍﭘﺲ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ تھی، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﻏﻼﻡ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﻣﻮﺩﺏ ﺳﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮﺳﺨﺖ ﻧﯿﻨﺪ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﮭﯽ ﺁﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﮎ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﻣﮑﮭﯽ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮨﮍﺑﮍﺍ ﮐﺮ ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍﺗﻮ

ﺩﻓﻌﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍﺗﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻏﻼﻡ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ: ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﺘﮧ ﮨﮯﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﮑﮭﯽ ﮐﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻤﺖ ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﮨﮯ؟ ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﺳﻨﮩﺮﮮ ﺣﺮﻭﻑ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﮨﮯ۔

ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ: ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ! ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﮑﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﻠﻄﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺯﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﮭﯽ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ۔ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻏﻼﻡ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺸﯿﺮ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔

قرآن کی صرف ایک آیت آپ کو شیطان کے وسوسوں سے محفوظ رکھے!

انسانوں کی طرح اسی دنیا میں شیطان اور جنات بھی پائے جاتے ہیں اور اگر کوئی اس مخلوق سے دور رہنا چاہے تو اس کیلئے حضورپاک ﷺ نے ایک ایسے نسخے کی تصدیق کردی جس پر تمام مسلمانوں کو عمل کرناچاہیے۔

شیطان سے بچنے کیلئے:سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ سورہ قبرہ میں ایک آیت سیدہ آیت القرآن ہے وہ جس گھر میں پڑھی جائے، شیطان اس سے نکل جاتا ہے۔ (مستدرک حاکم، ج1، ص560)ایک صحابیؓ کے گھر چوری:سیدنا ابی بن کعبؓ فرماتے ہیں کہ میرے پاس کھجوروں کی ایک بوری تھی۔

میں نے محسوس کیا کہ اس میں سے روز بروز کھجوریں کم ہوتی جارہی ہیں۔ ایک رات نگرانی کرکے ایک جانور کے مثل جوان لڑکے کو مین نے پکڑلیا۔ میں نے پوچھا تو انسان ہے یا جن؟ اس نے کہا : میں جن ہوں۔ اس کا ہاتھ کتے جیسا تھا اور ویسے ہی بال تھے۔ میں نے پوچھا: کیا جنات کی پیدائش ایسی ہے؟ اس نے کہا کہ میں سب سے زیادہ قوت والا جن ہوں۔ میں نے پوچھا کہ تجھے میری چیز چرانے کی جرا¿ت کیسے ہوئی۔ اس نے کہا کہ تو صدقہ کرتا ہے تو پھر بھلا ہم کیوں محروم رہیں۔

میں نے پوچھا: تیرے شر سے بچانے والی چیز کون سی ہے؟اس نے کہا: ”آیت الکرسی“صبح کو میں نے بارگاہ رسالت ﷺ میں احضر ہوکر رات کا واقعہ بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس خبیث نے یہ بات تو بالکل سچ کہی

انشاء اللہ ہر قسم کا جادوٹونا ختم ہو جائے گا

میں آپ کے لیے ایک مجرب وظیفہ لے کر حاضر ہوا ہوںجس کی برقت سے آپ پر کیا ہوا جادو ٹونا یا کسی رشتے دار نے یا کسی عزیز نے کیا ہوتو وہ زائل ہو جائے گا اس کا اثر انشاء اللہ ختم ہو جائے گا آج کل

کے دور میں یہ جادو ٹونا بہت عام ہو گیا ہے خاص تور پر اپنے عزیز ہی ہوتے ہیں جو یہ ہرکت کرتے ہیں جیسا کہ اگر کسی کے بیٹے ہوں تو دوسرے ر

شتے داروں کو تکلیف ہوتی ہے کہ اس کے بیٹے ہوگئے ہیں اس کے بیٹے جوان ہیں اس کے بیٹوں کواچھی ملازمت مل گئی ہےاس کی بچیاں ہے ان کے اچھے رشتے آنے لگے

ہیں یا ان کے کاروبار میں اضافہ ہو رہا ہے ان کے گھر میں سکون ہے امن ہے تو اس سلسلے میں گھر کے افراد یعنی کے اپنے عزیز زیادہ ملوس ہیں اس میںسارے ایک دوسرے سے حسد کر رہے ہوتے ہیں اس سلسلے میں ان تمام

نقصان سے بچنے کے لیے قرآن پاک کا ایک ازمودہ وظیفہ لے کر حاضر ہوا ہوںیہ دو سورتیں ہے قرآن پاک کی یہ سورتیں اس وقت حاضر ہوئی جب یہودیوں نے آپ ۖ پر جادو کرنے کی کوشش کی ان دو سورتوں کی تلاوت اور ان

سے دم کرنا جادو کے اثرات دور کرنے کے لیے بہت بہترین عمل ہے یہ سورتیں قرآن پاک کی آخری دو سورتیں ہیںسورہ فلک اور سورہ الناس ہیںان سورتوں کے بارے میں حدیث میں ہے کہ ان سورتوں کا دم کرنا جادو کے اثرات کو

زائل کرنے کا سب سے بہترین عمل ہے ۔خود حضور اکرم ۖ رات کو ان سورتوں کی تلاوت کر کے اپنے ہاتھوں پر دم کر کے پھر ان ہاتھوں کو پورے جسم پر پھیر لیتے تھے یہ آپ ۖ کو اس وقت وہی کے تور پر بتایا گیا تھا جب یہودیو

ں نے آپ ۖ پر جادو کیا تھاآپ ۖ نے جب ان سورتوں کو پڑھا تو اللہ پاک نے ان پر جادو کے اثر کو زائل کر دیا۔ ان سورتوں کے بہت زیادہ فضائل ہیں اگر آپ ان سورتوں پر عمل کریں تو آپ کے گھر میں ہر قسم کی لڑائی جگراہر قسم ک

ا فتنا فسادکسی بھی قسم کی پریشانی کے لیے اگر آپ ان سورتوں کو پڑھ کے پانی پر دم کر کے پی لیں گے تو اللہ پاک تمام طرح کی لڑائیاں ختم فرما دیں گے اس کے علاوہ اگر آپ کے گھر جادو ہے تو پانی پر دم کر کے آپ اس

پانی کو گھر کے چاروں کونوں پر چھڑکیں تو آپ کے گھر میں موجود جادو کے اثرات انشا ء اللہ ختم ہو جائیں گے اگر آپ کی اولاد نا فرمان ہے تو پانی پر دم کر کے اپنی اولاد کو پلادیا کریں گے تو آپ کی اولاد آپ کی آنکھوں

کی ٹھندک بن جائے گی ۔اور اس عمل کو آپ ہر نماز کے بعد کرنے والے بن جائیں تو زندگی بھر آپ کے اوپر نہ کوئی جادو نہ کوئی تعویزکوئی چیز آپ کے اوپر اثر نہیں کر سکے گی آپ نے یہ عمل کرنا کچھ ایسے ہے

کہ تین مرتبہ سورہ فلک اور تین مرتبہ سورہ الناس پڑھ کر آپ نے پانی پر دم کرنا ہے اور اس پانی کو چاروں کونوں پر چھڑک دینا ہے گھر کے سارے کونوں میں چھڑکناہے یہ عمل کسی بھی وقت کر سکتے ہیں اور اس عمل

کو روزانہ کریں گے تو بہتر ہے اگر روز صبح آپ کریں گے تو اللہ پاک سارا دن جادوٹونے اور تعویز جیسے پریشانی سے اللہ پاک آ پ کو محفوط فرمائیں گے اسی طرح تین تین مرتبہ ان سورہ کو پڑھ کر پانی پر دم کر کے

پانی کو اس پانی میں مکس کر دیں جس پانی میں سار ے گھر والے افراد پانی پیتے ہیں جیسے جیسے سارے گھر والے یہ پانی پیتے جائیں گے آ پ کے گھر کی

ساری لڑائی جگرے یا فتنا فساد ختم ہو کر ہر گھر والا ایک دوسرے سے پیار محبت کرنے لگے گیںآ ج کا یہ وظیفہ اچھا لگا ہو تو لائک اور شیئر

لوگوں کے سامنے بیوی کو

کیا بیوی کو لوگوں کے سامنے گلے لگانا جائز ہے؟جب حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللّٰہ عنہا کو لے کر مدینہ منورہ تشریف لاۓ,انہیں اپنے حرم میں شریک فرمایا,اور راستے میں ان سے زفاف کیا,

یہ بھی پڑھیں:جوان ہونے کا بیان

تو حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کہنے لگیں,میں نے لباس بدلا اور دیکھنے کیلیۓ نکلی آپ نے مجھے پہچان لیا,آپ نے میری طرف رخ کیا,میں پلٹ گئی,آپ نے تیزی سے مجھے آ لیا اور سینے سے لگا

کر فرمایا,تم نے اسے کیسی پایا؟میں نے عرض کیا,یہودی کی بیٹی یہودن ہی تو ہے,یعنی قیدی ہے. (ابن ماجہ)

1980 – حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ عَرُوسٌ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، جِئْنَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ فَأَخْبَرْنَ عَنْهَا، قَالَتْ: فَتَنَكَّرْتُ وَتَنَقَّبْتُ فَذَهَبْتُ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَيْنِي فَعَرَفَنِي، قَالَتْ: فَالْتَفَتَ، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ، فَأَدْرَكَنِي فَاحْتَضَنَنِي، فَقَالَ: «كَيْفَ رَأَيْتِ؟» قَالَتْ: قُلْتُ: أَرْسِلْ، يَهُودِيَّةٌ وَسْطَ يَهُودِيَّاتٍ

راوی علی بن زید کے متعق :امام احمد نے ضعیف کہا ہے۔

یحیی بن معین کہتے ہیں کہ قوی نہیں اور ایک قول ہے کہ یہ کچھ حیثیت والا نہیں۔

امام بخاری اور ابو حاتم نے کہا کہ یہ حجت نہیں۔

ابو حاتم نے مزید کہا کہ اس کی حدیث لکھ لی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اگر رات کو غسل کرنے کی ظرورت پیش آجا ئے تو اس سے بچنے کے لیے انسان کیا کرے

احمد عجلی کہتے ہیں کہ اس میں تشیع تھا اور یہ قوی نہیں۔

(میزان الاعتدال)

باقی ام محمد بھی مجہول الحال ہیں

آپﷺ کے چہرے کا نور کیسا تھا؟

حضرت حلیمہ سعدیہ رضی الله تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ “میں جب مکہ معظمہ میں پہنچی اور حضور ﷺ کے گھر آئی تو میں نے دیکھا کہ جس کمرہ میں حضور ﷺ تشریف فرما تھے، وہ کمرہ سارا چمک رہا تھا. میں نے حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پوچھا کہ :
” کیا اس کمرہ میں بہت سے چراغ جلا رکھے ہیں؟ ”

حضرت آمنہ رض اللہ تعالٰی عنہا نے جواب دیا :
” نہیں! بلکہ یہ ساری روشنی میرے لخت جگر پیارے بچہ (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم) کے چہرے کی ہے ”

حلیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ :
” میں اندر گئی تو حضور ﷺکو دیکھا کہ آپ سیدھے لیٹے ہوۓ سو رہے ہیں، اور اپنی مبارک ننھی انگلیاں چوس رہے ہیں. میں نے ﷺ کا حسن جمال دیکھا تو فریفتہ ہو گئی اور حضور ﷺ کی محبت میرے بال بال میں رچ گئی. پھر میں حضور ﷺ کے سر انور مبارک کے پاس بیٹھ گئی اور حضور ﷺ کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو حضور ﷺ نے اپنی چشمان مبارک کھول دیں اور مجھے دیکھ کر مسکرانے لگے. اللہ اکبر! میں نے دیکھا کہ اس نور بھرے منہ سے ایک ایسا نور نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا. پھر میں نے حضور ﷺ کو اٹھا کر اپنا دایاں دودھ آپ کے مبارک منہ میں ڈالا تو آپ نوش فرمانے لگے. بایاں دودھ مبارک منہ میں ڈالنا چاہا تو منہ پھیر لیا اور دودھ نہ پیا. کیونکہ میرا اپنا ایک بچہ تھا. حضور ﷺ نے انصاف فرما کر دودھ کا یہ حصہ اپنے دودھ شریک کے لیے رہنے دیا. سبحان اللہ!. میں پھر حضورﷺ کو لے کر واپس چلنے لگی تو حضرت عبدالمطلب نے زاد راہ کے لئے کچھ دینا چاہا تو میں نے کہا :
” حضور ﷺ کو پا لینے کے بعد اب مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ”

حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتی ہیں کہ :
” جب میں اس نعمت عظمی (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم) کو گود میں لے کر باہر نکلی تو مجھے ہر چیز سے مبارک باد کی آوازیں آنے لگی کہ “اے حلیمہ رضاعت محمد ﷺ کی تجھے مبارک ہو. پھر جب میں اپنی سواری پر بیٹھی تو میری کمزور سواری میں بجلی جیسی طاقت پیدا ہو گئی کہ وہ بڑی بڑی توانا اونٹنیوں کو پیچھے چھوڑنے لگی. سب حیران رہ گئے کہ :
” حلیمہ کی سواری میں یک دم یہ طاقت کیسے آ گئی؟ ”

تو سواری خود بولی :
” میری پشت پر اولین و آخرین کے سردار (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم) سوار ہیں. انہی کی برکت سے میری کمزوری جاتی رہی اور میرا حال اچھا ہو گیا

شیطان کی چھ کمزوریاں ‎

ایک بار رسول کریم ؐ نے شیطان کو دیکھا کہ بہت کمزور و لاغر نظر آرہا تھا ۔ آپؐ نے اس سے پوچھا: تیرا یہ حال کیوں ہو گیا ہے ؟شیطان نے کہا : اے رسول ؐاللہ:آپ کی امت کے چھ کاموں کے باعث پریشان ہوں ۔ مجھے ان کاموں کے دیکھنے کی طاقت نہیں اور میں ان کا متحمل نہیں ہوں ۔

ایک : جب ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں تو سلام کرتے ہیں ۔

دو : ایک دوسرے سے مصحافہ کرتے ہیں ۔

تین : ہر کام کا ارادہ کرنے سے قبل انشااللہ کہتے ہیں ۔

چار: گناہ ہو جائے تو استغفار کرتے ہیں ۔

پانچ : آپؐ کا نام سنتے ہیں صلوات پڑھتے ہیں ۔

چھ : ہر کام کی ابتدا میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی تلاوت کرتے ہیں