سفید بالوں کا علاج کیسے ممکن ہے

بالوں کیلئے: آلو کے خشک ٹکڑے ایک پاؤ لوہے کے برتن میں آدھ کلو پانی ڈال کر ایک دن کیلئے رکھ دیں دوسرے دن اس پانی کو لگائیں‘ بال سیاہ ہوجائیں گے۔ چند ہفتے چند مہینے یہ ٹوٹکہ ضرور آزمائیں۔ کالے اور لمبے بال: ناریل کا تیل مٹھی بھر مہندی کے پتے ڈال کر ابال لیں‘ روزانہ بالوں پرلگانے سے بال لمبے اور گھنے ہوجائیں گے۔چہرے کا مساج: چہرے پر اکثر دانوں کے ٹھیک ہوجانے کے بعد دانوں کا نشان باقی رہ جاتا ہے تو چہرے پر دانوں کیلئے روغن زیتون اور روغن کدو کو برابر (باؤل) میں ڈال کر گال کا مساج کریں اور تب تک مساج کریں جب تک دھبے دور نہ ہوجائیں۔

چہرے کے داغ دھبوں کیلئے: لیموں کے چھلکے پیس کر دودھ میں ڈال کر ملائیں اور رات کو سونے سے پہلے چہرے پر لگانے سے داغ دھبےحلقے دور ہوجائیں گے۔جلد نکھارئیے: تازہ دودھ میں گلیسرین ڈال کر چہرے پر لگانےسے جلد نکھر جاتی ہے۔

آنکھوں کےحلقوں کیلئے: ملائی میں چند قطرے لیمن کا رس ملا کر چہرے پر لگانے سے حلقے دور ہوجاتے ہیں۔پاؤں کی بدنمائی کیلئے: نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر پاؤں اس میں رکھ دیں‘ تقریباً بیس منٹ تک رہنے دیں‘ اس کے بعد کوئی بھی کولڈ کریم لگائیں۔ مزید پاؤں کی جھریوں کیلئے پٹرولیم جیلی کو متاثرہ حصہ پر لگانے سے جھریاں ختم ہوجاتی ہیں

بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنے کا اجر

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع والے سال بہت زیادہ بیمار ہو گیا تھا‘ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کیلئے تشریف لائے تو میں نے کہا‘ میری بیماری زیادہ ہو گئی ہے اور میں مالدار آدمی ہوں اور میرا کوئی وارث نہیں ہے‘ صرف ایک بیٹی ہے تو میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ نہیں میں نے کہا‘ آدھا مال صدقہ کر دوں؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں‘میں نے کہا کہ تہائی مال صدقہ
کر دوں‘ آپ

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ ہاں تہائی مال صدقہ کر دو اور تہائی بھی بہت ہے‘ تم اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر جاؤ‘ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کو فقیر چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جو بھی خرچہ اللہ کی رضا کیلئے کرو گے اس پر تمہیں اللہ کی طرف سے اجر ضرورملے گا حتیٰ کہ تم جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالوں گے اس پر بھی اجر ملے گا‘ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ اور مہاجرین تو آپ کے ساتھ مکہ سے واپس چلے جائیں گے‘ میں یہاں ہی مکہ میں رہ جاؤں گا اور میرا انتقال یہاں مکہ میں ہو جائے گا اور چونکہ

میں مکہ سے ہجرت کر کے گیا تھا تو میں اب یہ نہیں چاہتا کہ میرا یہاں انتقال ہو‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ نہیں تمہاری زندگی لمبی ہو گی (اور تمہارا اس مرض میں یہاں انتقال نہ ہو گا) اور تم جو بھی نیک عمل کرو گے اس سے تمہارا درجہ بھی بلند ہو گا اور تمہاری عزت میں بھی اضافہ ہوگا اور تمہارے ذریعے سے اسلام کا اور مسلمانوں کا بہت فائدہ ہو گا اور دوسروں کا بہت نقصان ہو گا چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ عراق کے فتح ہونے کا ذریعہ بنے۔(حیاۃ الصحابہ‘ جلد دو‘ صفحہ245)

میتھی دانہ اور کستوری میتھی کے حیران کن فوائد

روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے عجوہ کجھور ک لیا اور اس کے ساتھ میتھی دانہ کو لیا اور ان دونوں کو پانی میں ابال دیا ایک طرف سے جوش دیا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت پسند فرمایا

میتھی دانہ اور میتھرے الگ الگ ہیں اور دونوں کے خواص بھی الگ الگ ہے میتھی دانہ ایک انتہائی صحت بخش چیز ہے جس کے استعمال سے بہت ساری بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے حکمت میں اس کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے اور اس کو مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اس کے استعمال سے جسم سے کلسٹرول خارج ہونے لگ جاتا ہے اور دل کی بند شریانوں کو کھولنے میں نہایت مفید ہے میتھی دانہ کی وجہ سے وہ کریسٹول جو خون کی رگوں میں جم جاتا ہے وہ بھی ختم ہو جاتا ہے اور اگر اس کو مسلسل استعمال کیا جاتا رہے تو اس کے استعمال کی وجہ سے خون میں لوتھڑے بننے کا عمل بھی ختم ہو جاتا ہے اور چربی ختم ہونے لگ جاتی ہے جس کے بعد دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ ختم ہو جاتا ہےمیتھی دانہ کو اگر مسلسل استعمال کیا جائے تو اس کی وجہ سے بلڈپریشر بالکل کنٹرول ہوجاتا ہے اور جسم سے اگر فاسد مادے نکالنے ہو تو میتھی دانہ سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے جگر کو تندرست رکھنے گردوں کو صاف رکھنے اور مثانے کو ہر طرح کے گند سے صاف کرنے کے لئے بہترین چیز ہے میتھی دانہ شوگر کے مریضوں کے لیے ایک بہترین دوا کی حیثیت رکھتا ہے اس کی وجہ سے جسم میں شوگر کی لیول کنٹرول میں رہتا ہے اور اگر حد سے زیادہ نہیں پڑتا یہ کھانے کو ہضم کرنے گلوکوز کو توڑنے میں لبلبے کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں اپنے معتدل سطح پر آجاتا ہےاگر شوگر کا کوئی مریض مسلسل تین ماہ تک میتھی دانہ استعمال کرتا رہے تو امید کی جاسکتی ہے کہ اس کا شوگر بالکل معتدل ہو جائے گا اور اس کی شوگر کی بیماری بھی ختم ہو سکتی ہے میتھی دانہ جیسے پہلے بتایا گیا ہے چکنائی کو جسم سے خارج کرتا ہے

اس لیے اگر کوئی موٹا شخص میتھی دانا کا مسلسل استعمال کرے تو اس کی وجہ سے اس کا موٹاپا بھی ختم ہوسکتا ہے اگر میتھی دانہ کو پیس کر اس کا پیسٹ بنایا جائے اور اس کو اپنے چہرے پر لگایا جائے تو اس کی وجہ سے چہرے سے داغ دھبے دانے کیل مہاسے مکمل طور پر ختم ہو جاتے ہیں جن لوگوں کو بالوں کی خشکی بالوں کے میں کہاں اور بالوں کی کمزوری کا مسئلہ ہے وہ دو چمچ میتھی لے اس کو پیسے اور اس کو دہی میں ملا کر سر پر لگایا جائے اگر ہفتے میں دو دفعہ اس کا استعمال کیا جائے تو اس کی وجہ سے تمام مسائل ختم ہو سکتے ہیں یاد رہے میتھی دانہ خشک اور گرم مزاج رکھتا ہے اس لیے اس کے استعمال سے پہلے اپنے حکیم یا اپنے طبیب سے رابطہ ضرور کرے تاکہ وہ آپ کو بتا سکیں گے اس کا استعمال آپ کے لئے کس حد تک مناسب ہے اور کتنی مقدار آپ اس کی استعمال کر سکتے ہیں

پتلے سوکھے بچوں کے لئے انمول تحفہ

ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ صحت مند ھو پلے بڑھے اور ہر قسم کی بیماری سے بھی دور ہو اس کے لیے مختلف طرح کی ادویات بھی استعمال کی جاتی ہے اور کچھ ادویات سٹیرایڈ پر مشتمل ہوتی ہے جو بچے کی گروتھ کو پڑھاتے ضرور ہے لیکن اس کی وجہ سے بچے کی صحت پر بڑا خراب اثر ہوتا ہے اور اس کا پتہ کچھ سال بعد ہوتا ہے آج ہم آپ کو ایک ایسی چیز کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جو بالکل قدرتی ہے اور اس کے استعمال کی وجہ سے بچوں کی صحت بہتر ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی ذہنی استعداد بھی بہتر ہو سکتی ہے اس میں استعمال ہونے والی اشیاء ہیں

منقا
اجوائن

یاد رہیں منقہ اور کشمش میں فرق ہے کشمش زیادہ چھوٹا ہوتا ہے اور منقہ بڑے سائز کا ہوتا ہے یہ دونوں چیزیں بہت آسانی کے ساتھ آپ کو پنسار یاں حکیم کے دکان سے مل سکتی ہے اور دونوں چیزیں سستی بھی ہے اپنے منافع لینا ہے یاد رکھیں کشمش نہیں لینا
دوسرے نمبر پر چیز استعمال ہونے والی اجوائن ہے اجوائن زود ہضم ہے اس کی وجہ سے معدہ جلدی سے چیزوں کو ہضم کرتا ہے اور پیٹ سے بخارات نکالنے میں نہایت ہی مفید ہے

بنانے کا طریقہ

ایک گلاس پانی لیجئے اس میں دو عدد منقی کے دانے ڈالیں اب اس میں دو چٹکی اجوائن ڈالی اس پانی کو جھولے پر رکھے اور اتنا پکائیں کہ ایک گلاس پانی آدھا رہ جائے
آپ کو اب جو پانی بچ گیا ہے ایک قہوہ کی صورت میں نظر آئے گا اگر آپ کا بچہ ایک سے پانچ سال کے درمیان ہیں تو اس کو اس گلاس کا آدھا حصہ پلائے
اگر بچے کی عمر پانچ سال سے زائد ہے تو اس کو یہ پورا مشروب کے لائے
یاد رہے اس کی وجہ سے نہ صرف بچے کی صحت پر مثبت اثر پڑتا ہے بلکہ پیٹ کی بیماریاں بھی ختم ہو جاتی ہے اور بچے کی صحت بھی بہتر ہو جاتی ہے بجائے اس کے کہ آپ بیرونی دوائیاں استعمال کرائیں اس سے بہتر ہے کہ گھر میں خود ہی یہ مشروب بنا کر بچے کو پلائے

ملک کو بڑی تباہی سے گمنام ہیروز نے کیسے بچایا ؟

سال 2005پاکستان کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں تھا اس سال پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید زلزلہ آیا جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اترے بہت سارے لوگ ایسے تھے جو ہمیشہ کے لیے معذور ہوگئے اور کچھ شدید زخمی جو بعد میں جانبر نہ ہو سکے اور کچھ ایسی بھی تھے جن کے سامنے ان کی کر تباہ ہو گیا ان کے خاندان تباہ ہو گیا اور ان کا کچھ بھی باقی نہ رہا یہ دور صدرمشرف ڈکٹیٹر کا تھا اس نے چونکہ غیر ملکیوں کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا تھا اس لئے اس حادثے کے بعد پورے پاکستان کے اندر غیرملکی ایجنسیز این جی او کی شکل میں پھیل گئی جس کے بعد پاکستان میں دہشت گردی تخریب کاری قتل وغارت ٹارگٹ کلنگ کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا اس کے بعد زرداری کا دور حکومت آیا اور پاکستان میں یہ سلسلہ چلتا رہا ہجر سے بات جب نئی حکومت سامنے آئی تو انہوں نے اس سے پہلے قدم یہ اٹھایا کہ انجیوز پر بین لگا دی اور ان کے تمام ریکارڈ کو منگوا کر ان کے خلاف پیش کی گئیں جس کے بعد یہ خبر سامنے آئی کہ این جی اوز کی شکل میں تقریبا دو سو سے زائد ہیں جیوز ایسے ہیں کہ جو بیرونی ایجنسیز کے لیے کام کر رہے ہیں اور یہ انجن پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں اس کے بعد وزارت داخلہ نے این جی او جتنے بھی تھے ان کے لائسنس منسوخ کر دیے

اور ساتھ میں شرط لگا دی کہ آپ جو وزارت داخلہ کے شرائط پورے کرے گا ان کو کم کرنے کی اجازت ہوگی یہ کیسے چلتا رہااور بہت ساری ایجنسیز پر پابندی لگا دی گئی اور وہ ان کا عملہ واپس چلا گیا حال ہی میں پاکستان کے اندر 18 ایجنسیز ایسی تھی کہ جو کام کر رہی تھیں ان پر بھی پابندی لگا دی گئی اور وہ پورے اپنے عملے سمیت پاکستان سے شروع ہوگی یہ ایجنسیز 18 کی تعداد میں تھی جس میں آٹھ ایجنسیز امریکہ کی تھی جبکہ باقی ایجنسیز کا تعلق یورپ کے مختلف ممالک سے تھا یاد رہے یہ انجیوز پورے پاکستان میں پہلے ہوئی تھی اور مختلف شکلوں میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے دیں چاہے وہ مالی نقصان ہو جانی نقصان ہو یا پھر دینی نقصان ان لوگوں نے پاکستان میں موجود دہشت گردوں کو سپورٹ دینے کے لئے مالی امداد کی اس کے بعد پاکستان کی نظریاتی شناخت پر حملہ آور ہونے کے کے لیے انہوں نے مختلف ڈراموں میں مختلف فلموں میں اور مختلف چینلز پر خوب سرمایہ کاری کی جس کا نتیجہ آج آپ کو سامنے نظر آرہا ہوگا کہ ایسے ڈرامے ایسے لوگ ایسے فوٹوشوٹ کسی فلم میں نظر آ رہی ہے اور ایسے لوگ سامنے آرہے ہیں کہ جو پاکستان کی نظریات کے بالکل متصادم باتیں کرتے ہیں اور ایسے خیالات کی ترویج میں کوشش کرتے ہیں جو کہ ایک مسلم معاشرے میں ناقابل قبول ہوتے ہیں یقینا ان اٹھارہ این جی او کو ملک سے باہر نکالنا ایک بہت بڑا قدم ہے اور اس کے بعد پاکستان کی امن و امان کی صورت میں بھی بہتری دیکھنے کو ملے گی اور ایک طراز ہے نظریاتی یلغار کو بھی روکنے میں مدد ملے گی

یہ محبت فساد کروائے گی

ہم نوجوان جب کسی موضوع پر سوچتے ہوئے کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم نے سوچ کے ساگر میں کود کر بالآخر کوئی ایسی بات نکال لی ہے جو آج تک کسی مفکر، دانشور نے بھی نہ سوچی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی بذاتِ خود ایک عظیم مفکر ہے۔ اور ہمیں اگر کسی بات کا گلہ ہے تو فقط ناشناسی کا۔ خیالوں میں کتنے ہی عظیم کارنامے انجام دینے والے ہم نوجوان خود کو تو سب سے الگ اور بہترین سمجھتے ہیں مگر ہمارے اردگرد کے لوگ اس بات کو رد کرتے ہوئے ہماری ساری مفکری اور دانشوری کا ستیاناس کر دیتے ہیں۔

مگر یہ بات چونکہ انسانی خمیر میں شامل ہے کہ نوجوان کبھی ہار نہیں مانتا، لہٰذا ہم بھی ہار نہیں مانیں گے۔ اس لیے یہی لوگ کبھی نہ کبھی ہماری سوچ کو سمجھ جائیں گے۔ یا پھر ہم بھی نوجوانی کی حد پار کر کے آخر ان لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔
خیالوں کے حسین آسمان پر اُڑان بھرتے ہوئے یہ ناچیز بھی ایک موضوع میں کھویا ہوا تھا۔

میری پرواز میں کوتاہی کا سبب بنتے ہوئے اچانک ایک بات نے مجھے چونکا دیا۔
جب سے ہوش سنبھالا ہے میں نے ہر گانے، ہر فلم، ہر سیریل میں صرف ایک چیز مشترک دیکھی۔ شاعر کی شاعری ہو، گانے میں موسیقی کا تال میل ہو، کسی ہدایتکار کی کسی فلم میں محنت ہو یا کسی ڈرامے میں بے تابی بڑھاتا ہوا کوئی سین ہو،
وہ ایک احساس، وہ موضوع ہر جگہ ملے گا۔

دلیپ کمار و راج کپور کے فلمی دور پر نظر ڈورا لیں یا آج کل کے دور میں شاہ رخ یا فواد خان کی اداکاری کی جھلک دیکھ لیں۔ لتا، نور جہاں، رفیع، کشور، مہدی حسن کے سروں سے بنائی ہوئی دنیا میں جھانک کے دیکھ لیں یا آج کل کے ممی ڈیڈی گلوگاروں کی بے وجہ کامیابی کی اصل وجہ پر غور کر لیں۔ ایک احساس کا ایسا استعمال جس کے ذریعے یہ سب اپنے مداحوں کو گرویدہ کرنے میں ہر بار کامیاب ہوجاتے ہیں، اس جادو کی چَھڑی کا نام ‘محبت’ ہے۔

حد تو یہ ہے کہ اس جادو کی چھڑی کے استعمال کی کوئی حد مقرر نہیں۔ جس کا جیسے جی چاہتا ہے اسے بروئے کار لاتا ہے۔ بڑے بڑے لیجنڈز بھی اسی کے مقروض ہیں اور بہت سے نام لیوا شوبز کے ستارے اس کے شکرگزار ہیں۔ خیر گوروں کی انڈسٹری میں یہ مسئلہ اتنی سرایت نہیں کرپایا، ایکشن ہی ایکشن اور بس ایکشن! لیکن کسی حد تک ان کی فلموں میں بھی یہ روش اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔ اور جب احساس دلاتی ہے تو وہ بھی ہر حد پار کرجاتی ہے۔

مگر برصغیر کی فلم انڈسٹری ہو اور بالی وڈ، لالی وڈ کی کہکشاں کا ذکر ہو تو یہ بات ناممکن کی حدوں کو چھوتی نظر آتی ہے کہ ‘محبت’ کا سیاپا ڈالے بغیر کوئی فلم، کوئی ڈرامہ سیریل یہاں تک کہ کوئی گانا بھی مقبول ہوجائے، یہ ممکن ہی نہیں۔
ہمارے بزرگ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ان کے دور میں نور جہاں، لتا، رفیع جیسے گلوکار تھے، مغل اعظم، ہیر رانجھا جیسی لازوال فلمیں بنیں؛ سنتوش کمار، دلیپ کمار، اعجاز، یوسف خان، ندیم، وحید مراد جیسے بے مثال اداکاروں نے انڈسٹری پر راج کیا؛ مگر جب ان بے مثال اداکاروں کی لا زوال فلمیں دیکھیں، سروں کے شہنشاہوں کے گانے سنے، تو صرف ‘محبت’ ہی ‘محبت’ پائی۔

صرف یہی نہیں۔ اس ‘محبت’ کے بے دریغ استعمال کی ایک اور صورت کسی جواز کی شکل میں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے۔ اور وہ ہے صوفیائے کرام کا کلام۔ گٹار پر آواز سیدھی کرنے والے آج کل کے گلوکار سب سے پہلے بابا بلھے شاہ اور وارث شاہ کے کلام پر گانا بناتے ہیں اور کئی مرتبہ یہی ان کے کرئیر کی کامیابی کا راز بن جاتا ہے۔

وجود کی اصلیت سے واقف، دنیا کی اصلیت سے آشنا ان صوفیائے کرام نے حق کے رازوں سے متاثر ہو کر نہ جانے کن حالات میں یہ شاعری لکھی تھی مگر آج اگر وہ زندہ ہوتے تو یقیناً برہم ہوتے کہ کیسے ہر نوجوان عاشق بنتے ہوئے ان کی شاعری کو کس مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ ان فلمسازوں، گلوکاروں، شاعروں سے یہ سوال تو پوچھا جانا چاہیئے کہ کیا دنیا میں کوئی موضوع باقی نہیں بچا؟ کیا دنیا میں صرف محبوب اور محبوبہ کی جدائی ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے؟ کیا خدا نے خوشی کے لئے دنیا میں صرف محبوب کی خوبصورتی ہی بنائی ہے؟

گلی کی نکڑ پر کھڑے نوجوان سے لے کر کسی آفس کے ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھے اپنے کام میں مصروف نوجوان تک، بچپن کے بے فکر زمانے سے لے کر بڑھاپے کی پرخوف چار دیواری میں محصور ہر انسان پر اس محبت کا جادو چھایا ہوا ہے۔

مستقبل کے معماروں میں جب کچھ کر گزرنے کا جذبہ جوش مارنے لگتا ہے تب اچانک محبوب کی جدائی کا رونا روتا ہوا اریجیت سنگھ کا گانا منظرِ عام پر آجاتا ہے اور پھر ہر معمار کے دل کے قبرستان میں دفن عاشق کفن پھاڑ کر چیخ چیخ کر دہائی دیتا ہے جیسے اس گانے کی شاعری کا ایک ایک لفظ اس کی زندگی کی داستان ہے۔
اور یوں پھر سے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ماند پڑجاتا ہے۔

یہ خاکسار کوئی عالم تو نہیں ہے جو کسی عمل کو غلط یا درست کے درجے پر فائز کرسکے اور نہ ہی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ یہ محبت کا سیاپا آخر کب تک جاری رہے گا، مگر میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر یہ نظام اسی روانی سے چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہر گلی ہر چوراہے پر یہی سیاپا کسی فساد کی طرح پھیل جائے گا اور اس فساد کو ختم کرنے کے واسطے پھر سے کوئی ردالفساد شروع کرنا پڑے گا، یہ بات لکھنے میں بھی عجیب لگتی ہے مگر ایسا ممکن ہے کیونکہ ان فلموں، گانوں، ڈراموں کی وجہ سے جس قدر تیز رفتاری سے عاشقوں کی تعداد اضافہ ہورہا ہے یہ نوبت بھی کچھ بعید نہیں، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں۔ اور اس حقیقیت سے بھی آشنا ہوں کہ ناموجود احساس یعنی ‘محبت’ کے حامی لوگ میری ان باتوں سے کبھی اتفاق نہیں کریں گے۔ اچھی بات ہے کیونکہ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﻏﯿﻆ ﻭ ﻏﻀﺐ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ

ﻧﮉﺭ ﺗﮭﺎ، ﺟﺮﻧﯿﻞ ﺗﮭﺎ، ﺗﺎﺟﺭ ﺗﮭﺎ، ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺗﮭﺎ، ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺳﺘﻮﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ، ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭼﮩﺮﮦ، ﻟﻤﺒﺎ ﻗﺪ، ﺗﻮﺍﻧﺎ ﺟﺴﻢ، ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺳﯿﻨﮧ، ﺍﮐﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮔﺮﺩﻥ، ﺍﭨﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ، ﺗﻤﮑﻨﺖ، ﺷﺎﻥ ﻭ ﺷﻠﻮﮦ، ﺳﻄﻮﺕ، ﺷﮩﺮﺕ ﮨﮯ، ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﻋﯿﺐ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺭﺳﻮل ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﮯ، ﮐﮩﺎ ﺛﻤﺎﻣﮧ ! ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮ؟ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﺑﻮﻻ : ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﻮﮞ، ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﮨﻮ؟ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ

ﻧﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻭﺍﮦ، ﻧﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺪﺷﮧ، ﺟﻮ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺮ ﻟﻮ، ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺑﮍﺍ ﺗﯿﺰ ﻣﺰﺍﺝ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﮯ، ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩکھ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ؟ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ! ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺩکھ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ، ﭘﯿﮑﺮ ﺣﺴﻦ ﻭ ﺟﻤﺎﻝ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺛﻤﺎﻣﮧ ﺫﺭﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺁنکھ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻮ ﺳﮩﯽ، ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﮐﯿﺎ ﻧﻈﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ، ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ،مجھ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﺍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﻏﯿﻆ ﻭ ﻏﻀﺐ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﺌﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ، ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕؓ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﺳﻠﻮﭨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮔﺌﯽ، ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﻣﯿﺎﻥ ﭘﺮ ﮨﺎتھ ﺗﮍﭘﻨﮯ ﻟﮕﺎ، ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺍﺑﺮﻭ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮨﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮨﻮﮞ، ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، ﺟﺘﻨﺎ ﻏﺼﮧ ﮨﮯ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﻮ، ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺗﻮ ﺩیکھ ﻟﻮ، ﺛﻤﺎﻣﮧ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ :

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﻣﯿﮟ تجھ ﺳﮯ ﺑﺪ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ‏(ﻧﻌﻮﺫﺑﺎﻟﻠﮧ) ﺍن ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟن ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ : ” ﺣﺴﻦ ﯾﻮﺳﻒ ﺩﻡ ﻋﯿﺴﯽ ﯾﺪ ﺑﯿﻀﺎﻭﺭﯼﺁﻧﭽﮧ ﺧﻮﺑﺎﮞ ﮨﻤﮧ ﺩﺍﺭﻧﺪ ﺗﻮ ﺗﻨﮩﺎﺩﺍﺭﯼ ” ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﺷﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍلی۔ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ،ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﻮ ﻧﮕﺎﮦ ﮈﺍﻟﻮ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﻭﻡ ﻭ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻭ ﻣﺼﺮ ﮐﯽ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﺪﺻﻮﺭﺕ ﺑﺴﺘﯽ ﮨﮯ ‏( ﻧﻌﻮﺫﺑﺎﻟﻠﮧ) ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ؟ ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ، ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺁﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﻮﺍﺏ، ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﭘﺎﮎ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮﷺ ﺁﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮨﻢ تجھ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ، ﺫﺭﺍ ﺩیکھ ﺗﻮ ﻟﻮ، ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ، ﺍﺏ؟ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮔﻮﺵ ﺑﺮ ﺁﻭﺍﺯ ﺗﮭﮯ، ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮩﻤﯽ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯽ، ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﺎﮐﻦ ﺗﮭﺎ ﺑﯿﭽﺎﺭﮦ۔ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ! ﺁﺝ ﻧﺒﯽ ﺭﺣﻤﺖﷺ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻢ ﺻﺎﺩﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮔﺴﺘﺎﺥ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺳﺰﺍ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ، ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺁﺳﻤﺎﻥ ﻃﯿﺒﮧ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺍﺱ ﺳﺘﻮﻥ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﺑﻨﺪﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ،

ﺍﺏ ﺣﮑﻢ ﺻﺎﺩﺭ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺍﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ، ﻣﮕﺮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻭﺍلے ﭘﺎﮎ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮﷺ نے ﻣﺴﮑﺮﺍ کر ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺟﺎﺅ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺅ، ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺴﮯ ﺭﮨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺗﺠﮭﮯ کچھ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﻮ ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﮯ، ﺑﮍﮮ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻢ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ، ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﻮ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭﯾﮟ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﺗﺎﺏ ﺗﮭﯿﮟ، ﺍﻧﮑﻮ ﮐﮩﺎ، ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﮯ ﻋﺰﺕ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﻟﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﺮ ﺩﻭ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﭘﻠﭩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ،ﺑﮍﮮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﻣﺤﮑﻮﻡ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺟﺮﻧﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ، ﺻﺪﺭ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺍﺗﻨﺎ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﻭﺍﻻ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ،ﺍن ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﯿﺴﺎ” ﺑﺲ ﺍﮎ ﻧﮕﺎﮦ ﭘﮧ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﮨﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺩﻝ ﮐﺎ “ﭘﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ، ﺩﯾکھ ﮐﺮ ﺳﺮﭘﭧ ﺑﮭﺎﮔﺎ، ﺩﮌﮐﯽ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ، ﻗﺪﻡ ﺁﮔﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﺎﮒ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﻝ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﺎﮒ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﻭ ﻣﯿﻞ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﮔﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺁﯾﺎ، ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﻨﮕﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧؓ ﮐﮯ ﺳﺎتھ بیٹھے ﮨﻮئے تھے، ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢﷺ ﻧﮯ ﻧﮕﺎﮦ ﮈﺍﻟﯽ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺁ ﮔﺌﮯ؟ ﮐﮩﺎ، مجھ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ، ﮐﯿﺎ ﺍﺳﯿﺮﯼ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﮨﮯ، ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺗﺐ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺁﭖﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺏ ﺁﭖﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺩیکھ ﻟﯿﺎ، ﺍﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻏﻼﻡ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ۔

میاں بیوی کے تعلقات کے دوران وہ سگین غلطی جسے ؟

میاں بیوی کے تعلقات میں کچھ ایسے اعمال ہیں جن کو ہم معمولی سمجھتے ہیں۔جو شریعت میں سنگین جرم ہیں۔کبھی کبھار لگتا ہے کہ یہ بے حیائی کی باتیں ہیں یہ بے حیائی نہیں ہے یہ شریعت کا علم ہے ہاں اگر ہم اس طرح کی باتیں اپنی خواہش کے مطابق کریں تو یہ بے حیائی ہے۔خیر ہم واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ پہلا گناہ جس کو میاں بیوی کے تعلقات میں معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ بیوی کا اپنے شوہر کو ہمبستری سے انکار کرنا اپنے شوہر کو اپنے نزدیک آنے سے انکار کرنا۔نبی اکرم ﷺ جامع صغیر میں یہ روایت ہے،آپﷺ نے فرمایا!”جب شوہر اپنی بیوی کو بلائے (ہمبستری کے لئے)تو عورت پر واجب ہے کہ وہ فوراً اپنے شوہر کی بات مان لے”ما سوائے شرعی عذر کے ،شرعی عذر کی وجہ سے بیوی انکار کر سکتی ہے۔

یعنی ایسی کوئی شرعی مجبوری (مثلاً حیض،ماہواری وغیرہ)ہو تو وہ الگ بات ہے۔لیکن اگر شرعی عذر نہیں ہے تو آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ!”وہ (عورت)فوراً اپنے شوہر کی بات مان لے خواہ وہ انٹ کے کجاوے(اونٹ کی وہ سیٹ جس پر بیٹھ کر سواری کی جاتی ہے) پر ہی بیٹھا کیوں نہ بلا رہا ہو۔” اس معاملے کو خواتین جو بیویاں ہیں جو اپنے شوہر کو حق دینا چاہتی ہیں وہ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ جب اس معاملے میں کوتاہی ہوتی ہے تو انسان دوسری جگہ اپنی خواہشات تو پوری کرنے جاتا ہے اور یہ بات بھر بیوی برداشت نہیں کرسکتی اس لئے شریعت نے اس معاملے کی اہمیت بیان کی ہے۔ دوسر ی روایت صحیح بخاری کی ہے،آپﷺ نے فرمایا!”جب شوہر اپنی بیوی کو ہمبستری کے لئے بلائےاور بیوی انکار کر دےاور شوہر اپنی بیوی سے ناراضگی کی حالت میں سو جائے تو جب تک وہ ناراضگی کی حالت میں سوتا رہے گا فرشتے بیوی پر لعنت بھیجتے “رہیں گے۔دوسراگناہ میاں بیوی کے تعلقات میں جس کو معمولی سمجھا جاتا ہے جب کہ شریعت میں اس کا اتنا سخت گناہ ہے وہ یہ ہے کہ عورت کا بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا۔

صحیح جامع صغیر کی روایت ہے،آپﷺ نے فرمایا!”بغیر عذر کے خلع لینے والیاں اور اپنے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے والیاں، گھر اجاڑنے والیاں یہ اس امت کی منافق ہیں ۔دوسری روایت میں فرمایا! جس عورت نے بغیر کسی سبب کے اپنے خاوند سے طلاق طلب کی اس پر جہنم واجب اور یہ جنت کی خوشبو نہیں “سونگھیں گی۔ اس لئے میری پیاری بہنو !یہ کہنا یا یہ عذر پیش کرنا کہ میرا خاوند مجھے پسند نہیں ہے یا اس کی انکم بہت کم ہے میرا گزارہ نہیں ہوتا اس لئے مجھے طلاق چاہیے تو یہ کو ئی شرعی عذر نہیں ہےمزید پڑھیں:میاں بیوی کا اکٹھے غسل کرنااس لئے اس سنگین جرم اور گناہ سے بچنا چاہیے اور والدین کو چاہیے کہ وہ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی بیٹیوں کو گھر نہ بٹھا لیں ۔طلاق شوہر کا حق ہے اور یہ کتنی بری بات ہے کہ طلاق بیٹی ڈیمانڈ کر رہی ہے۔ تیسرا گناہ جو میاں بیوی کے تعلقات میں عام طور ہر ہوتا ہے اور اس کو معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ کہ ، حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرنا یا ایسی جگہ سے(پچھلے حصے سے) ہمبستری کرنا جو کہ غیر فطری ہے ،آپ ﷺ نے فرمایا! جامع ترمذی کی یہ روایت ہے،”جس شخص نے حیض والی عورت سے ہمبستری کی یا عورت کے پیچھے جماع کیا یا نجومی کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی (سچ مانا) تو اس نے اس چیز کا انکار کیا۔

جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔” یعنی وہ شریعت کا منکر ہے اس نے شریعت کا انکار کیا جس نے یہ عمل کیا۔اس کے لئے شریعت نے کفارا کا حکم دیا ہے اور یہ بہت سنگین جرم ہے لیکن اس کو لوگ سمجھ ہی نہیں پا رہے اور اس بات کو کوئی سیریس لینے کو ہی تیار نہیں ہے کہ نکاح سے پہلے اس کے آداب اور ازدواجی زندگی کے متعلق سیکھا جائے۔دنیا جہان میں ہر چیز کی ٹرینینگ ہوتی ہے وہ ہم لوگ بڑے فخر سے کرتے ہیں مزید پڑھیں: جنابت(ہم بستری) کے بعد سونے سے قبل وضو یا غسل لیکن جب بات شریعت سیکھنے کی آتی ہے تو وہاں کیا ہے جی کہ ہمیں شرم آرہی ہے۔دنیا کی بے حیائی میں شرم نہیں آتی لیکن شریعت سیکھتے ہوئے یا شریعت کی بات کرتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے۔ چوتھا گناہ میاں بیوی کے تعلقات میں جس کو معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہےکہ کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت(اکیلے)میں ملاقات کرنااور کسی غیر محرم عورت سے ہاتھ ملانا یہ بہت سخت گناہ ہے ،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا!جامع ترمذی کی روایت ہے ،”جب بھی کوئی آدمی کسی غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں ملتا ہےتو وہ دو نہیں ہوتے تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے” اور آپ ﷺ نے فرمایا! “تم میں سے کسی شخص کے لئے کیل لے کر اپنے سر میں ٹھونک لینا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ وہ کسی غیر محرم کو چھوئے” (جامع صغیر)۔۔۔۔اور ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ چھونا تو ایک معمولی بات ہے یہاں تو پورا ہاتھ ملا لیا جاتا ہے۔

ایک بار ایک خاتو ن جس کو شریعت کا علم نہیں تھا وہ مدینہ آپ ﷺ سے بیعت لینے آئی اور آپﷺ کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا آپ ﷺ نے فوراً اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے اور فرمایا!”محمد ﷺ کسی عورت کے ہاتھ کو چھونا تو دورکسی عورت کے ننگے ہاتھ کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔اور آپﷺ نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا۔”اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آللہ ہمیں دین اور شریعت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

پیٹ کم کرنے کا بہترین نسخہ خود بھی آزمائیں اور دوسروں کو بھی بتائیں

دور جدید میں بڑھا ہوا پیٹ ایک المیہ ہے۔ جس نے ہر مرد و عورت کو پریشان کر رکھا ہے۔ اگرچہ بڑھے ہوئے پیٹ کے حامل افراد بہت سے ٹوٹکے تو آزمائے ہیں لیکن وہ بہت کم ہی کامیاب ہو پاتے ہیں- ہم آپ کو آج چند ایسے مشروبات کے بارے میں بتائیں گے جن کا استعمال کر کے آپ اس مصیبت سے جان چھڑا سکتے ہیں- یہ مشروبات کم کیلوریز پر مشتمل ہوتے ہیں لیکن پیٹ کو تیزی کے ساتھ یا مختصر وقت میں کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں- کیسے کم کیا جائے لٹکے ہوئے پیٹ کو دیکھیں اس اردو کے نیچے ایک ویڈیو میں اور شیئر بھی کریں اور خد بھی رIce cold water برف والے ٹھنڈے پانی کے استعمال سے آپ کے جسم میں موجود زیادہ سے زیادہ کیلوریز کا خاتمہ ممکن ہے- یہ پانی آپ کے میٹابولک نظام کو تیز کردیتا ہے- لیکن اپنے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے آپ کو روزانہ کم سے کم 16 اونس ٹھنڈا پانی پینا ہوگا-

01 Black and Green Tea سبز چائے کا استعمال ایسے افراد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے جو اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں- یہ چائے جسم میں موجود کیلوریز کو جلاتی ہے اور میٹابولک ںظام کو تیز کرتی ہے- سبز چائے دوسرے مشروبات کی نسبت 43 فیصد زیادہ کیلوریز جلانے کی صلاحیت رکھتی ہے- اور یہی خصوصیات کالی چائے میں بھی موجود ہوتی ہیں- اگر آپ پیٹ کم کرنا چاہتے ہیں تو یہ چائے آپ کے لیے بہترین ہے-

02 Vegetable Juice سبزیوں کا استعمال صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے اس لیے انہیں اپنی خوراک کا حصہ ضرور بنائیں- لیکن اگر سبزیوں کا رس پیا جائے تو یہ نہ صرف دل و دماغ کو فرحت و تازگی بخشتا ہے بلکہ کیلوریز جلاںے میں مؤثر بھی ثابت ہوتا ہے- جس کے بعد آپ کا پیٹ کم ہوسکتا ہے-

03 termelon Smoothie تربوز کا جوس جسم میں نمی کو قائم رکھنے کے حوالے سے ایک بہترین مشروب ہے- یہ مشروب انتہائی کم کیلوریز اور بہت زیادہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے- اس کے علاوہ یہ پٹھوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پیٹ کی چربی کو کم بھی کرتا ہے- اس لیے پیٹ کم کرنے کے حوالے سے یہ مشروب ایک بہترین انتخاب ثابت ہوسکتا ہے-

04 Coconut water ناریل کا پانی الیکٹرو لائٹس (electrolytes) سے بھرپور ہوتا ہے اور یہاں فہرست میں موجود تمام مشروبات سے زیادہ الیکٹرو لائٹس ناریل پانی میں پائے جاتے ہیں- اور یہ مادہ جسم میں نمی کو برقرار رکھتا ہے- ناریل پانی کو بغیر مصنوعی فلیور اور چینی کے پینا چاہیے- یہ توانائی میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ میٹابولزم کے عمل کو تیز کرتا ہے-

05 Nutritional Drinks عذائی مشروبات انسان پر مثبت اثر ڈالتے ہیں اور صحت بخش ہوتے ہیں- غذائی مشروبات کے استعمال سے آپ وزن کم کرسکتے ہیں اور اس کے لیے ایک گلاس پینا ہی کافی ہوتا ہے کیونکہ یہ طویل وقت تک توانائی فراہم کرسکتے ہیں- لیکن یہ خصوصیات تمام غذائی مشروبات میں موجود نہیں ہوتی اس لیے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں- اور اس بات کی تصدیق کرلیں کہ کونسا غذائی مشروب آپ کے لیے بہتر ہے-

06 Skim Milk یہ ایک ایسا دودھ جس میں کریم موجود نہیں ہوتی- اس دودھ کا استعمال جسم میں موجود چربی کو کم کرتا ہے- ماہرینِ غذائیات کے مطابق ایسے افراد جو ڈیری مصنوعات استعمال نہیں کرتے ان کی اضافی چربی ایسے لوگوں کے مقابلے 70 فیصد کم ہوتی ہے جو ان مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں-اگر آپ اس دودھ سے مطلوبہ نتائچ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو روزانہ ایک گلاس ضرور پئیں

چاول کے 4دانے اور مالا مال ہوجائیں

آج کے دور میں ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس پیسہ آجائے وہ بھی امیر ہو جائے. پیسہ کیلئے انسان کچھ بھی کرسکتا ہے.
مزید پڑھیں: رات کے وقت چاول کھانے چاہئیں یا نہیں ؟ ماہرین نے ایسا انکشاف کر ڈالا کہ آپ کچھ بھی کھانے سے پہلے آئندہ ہزار بار سوچا کریں گے چاہے وہ غلط طریقے سے کرے یا اچھے طریقے سے.
لیکن غلط طریقے سے پیسے کمائے گا تو وہ پیسہ حرام قرار دیا جائے گا.لیکن اگر وہی پیسہ جائز طریقے سے کمایا جائے تو اس سے آدمی کا اپنے اوپر سے بھروسہ بھی بڑھتا ہے اور وہ اپنی زندگی سے بھی مطمئن رہتا ہے اور اس کا پیسہ بھی حلال ہوتا ہے اور سب سے اچھی بات اللہ بھی اس سے خوش ہوتا ہے اور اسے اور زیادہ رزق دیتا ہے تو دوستوں جو لوگ یہ خواہش کرتے ہیں کہ وہ بھی پیسہ کمائیں لیکن ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہ ہو تو میرے دوست اور بھائی پریشان نہ ہوں میں آپ کے لئے ایک بہت ہی اچھا وظیفہ لے کر آیا ہوں.

یہ وظیفہ کرنے سے انشاء اللہ اللہ آپ کیلئے رزق کے دروازے کھول دے گا. یہ وظیفہ کرنے سے پہلے آپ کو کچھ ضروری باتیں بتاتا ہوں. ویہ وظیفہ کرنے کیلئے آپ کو پانچ وقت کی نماز ادا کرنی ہوگی. اور اللہ پر پورا بھروسہ رکھنا ہوگا.کیونکہ رزق اللہ ہی دیتا ہے. تو چلو دوستوں اب میں آپ کو وظیفہ بتاتا ہوں.آپ وظیفہ اس طرح کریں.یہ وظیفہ آپ نے چاول کے دانوں سے کرنا ہےاس کیلئے آپ کو چاول کے سات دانے چاہئیں. جب آپ چاول کے سات دانے لے لیں گے تب آپ کو چاول کے ہر دانے پر گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھنا ہوگا جب آپ یہ کام کرلیں تو پھر آپ کو..یا رزاق.. ستر بار پڑھنا ہوگا.یاد رکھیںیہ عمل آپ کو وضو کرکے پاک صاف جگہ پر کرنا ہوگا.جب آپ ستر مرتبہ وہ اسم پڑھ لیں پھر اس کے بعد آپ کو چاول کے ہر دانے پر پھر گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھنا ہوگا.

جب آپ یہ عمل کرلیں تو ان سات چاول کے دانوں کو اپنے پرس وغیرہ میں سنبھال کے رکھ لیں. انشاء اللہ آپ کے پیسے ی کبھی کمی نہیں آئے گی. اور دل سے دعا بھی کرنی ہے. بس ہر حال میں اللہ پاک کا شخر ادا کرنا ہے. کیونکہ رزق دینے والا اللہ ہے. اگر یہ عمل رمضان میں کریں گے.تو بہت افضل ہے