رزقِ حلال کے حصول کی تاکید

رزق کے متعلق سب سے پہلے اسلام نے اپنے پیروکاروں کو خوب اچھی طرح یقین دلایا ہے کہ دنیا اور اس کی تمام اشیاء کا مالک ایک اللہ ہے. یہ مال و دولت حقیقت میں صرف خدا کا ہے.

رزق کی کشایش اور تنگی خدا کے ہاتھ میں اور اس کی حکمت ہیں. دولت مند انسان یہ سمجھتا ہے کہ مجھ ہی میں کوئی ایسی بات ہے یا مجھے ایسا ہنر اور طریقہ معلوم ہے، جس سے یہ ساری دولت میرے چاروں طرف سمٹی چلی آرہی ہے. لیکن دینی تعلیم کے علاوہ دنیا کے واقعات پر گہری نظر اس یقین کو مٹانے کے لیے کافی ہے. کلام اللہ میں ہے، مفہوم : ’’ اور زمین میں کوئی چلنے والا نہیں، مگر یہ کہ اس کی روزی خدا کے ذمیّ ہے.‘‘ (سورہ ہود ) ’’ اسی کے ہاتھ میں ہیں، آسمانوں اور زمین کی کنجیاں وہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق پھیلا دیتا ہے اور جس کے لیے چاہے ناپ دیتا ہے. وہ ہر چیز کی خبر رکھتا ہے.‘‘(سورہ شوریٰ ) مفہوم: ’’ زمین اور آسمان کے خزانے اسی کے ہیں. خدا ہی کا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور زمین میں ہے.

آسمان وزمین کی ملکیت اور بادشاہی اسی ایک اللہ کی ہے.‘‘ قرآن مجید نے ان کو بار بار بیان کرکے مسلمانوں کی رگ و پے میں یہ اسی لیے رچایا، تاکہ ان میں فیاضی، مال سے ایثار، شکر، قناعت پسندی اور بے طمعی کے جوہر پیدا ہوجائیں. روزی کمانا دراصل انسانی زندگی کی ضروریات سے ہے اور شرعا ًو عقلاً ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنی زندگی کی ضروریات کی تکمیل اور اصلاح کے لیے حصول رزق کی کوشش کرے، خواہ وہ تجارت و زراعت کی شکل میں ہو یا ملازمت کی صورت میں. قرآن مجید میں اللہ فرماتا ہے. مفہوم: ’’ زمین کی تمام چیزیں اللہ نے تمہارے لیے پیدا کی ہیں. ‘‘ سورۂ مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، مفہوم: ’’ اپنے رب کا فضل اور خوش نودی تلاش کرتے رہو.‘‘ مفہوم : ’’ زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو.‘‘ (سورہ جمعہ) قرآن پاک کے محاورے میں ’’ خدا کا فضل تلاش کرنے‘‘ سے مقصود تجارت اور روزی کا کمانا ہوتا ہے. معلوم ہُوا کہ حصول رزق کی تلاش کرنا رازقِ کائنات کا فضل ہے

اور یہ زمین اس کے لیے بہ منزلہ میدان کے ہے اور اس میدان کی تمام اشیاء انسان کے نفع کے لیے پیدا کی گئی ہیں. لہٰذا ضروری ہوا کہ ایسے قواعد و ضوابط مقرر کردیے جائیں جن کے ماتحت فضل ِ الٰہی کی تلاش کی جائے. کیوں کہ رزق اور اس کے حصول کے لیے اگر کوئی قاعدہ اور ضابط نہ ہو اور اسے بے قید چھوڑ دیا جائے تو ظاہر ہے کہ اس طرح عدل اور ظلم، امانت اور خیانت، پاک اور ناپاک، جائز اور ناجائز کی تمیز اُٹھ جائے گی اور یہ نظام انسانی کی تباہی و بربادی کا باعث ہوگی. اسلام سے قبل دنیا کی کچھ ایسی ہی حالت تھی. جس کے جی میں جو آتا اور جیسے آتا کماتا تھا. حتیٰ کہ ظلم و جور سے کمائی ہوئی دولت پر فخر کیا جاتا تھا. اسلام آیا تو اس نے حصول رزق کے حدود مقرر کیے، جائز، ناجائز اور حلال و حرام کی تفریق پیدا کی. پاک روزی ڈھونڈنے اور اسی سے ضروریات ِ زندگی کو پورا کرنے کی تاکید فرمائی. انسان کا اپنے رب کے ساتھ بندگی اور نیاز مندی کا تعلق ہے، اور اس تعلق کا اہم تقاضا یہ ہے کہ اللہ کے بندے رزق حلال کی کوشش کریں اور ذرایع آمدنی کی صحت و پاکی کا خیال رکھیں، کیوں کہ رزق کے سلسلے میں پاکی و صحت سے صرف نظر کرلینا اصول بندگی کے بھی خلاف ہے. آج کل کے بہت سے اچھے خاصے دین دار حلقوں میں بھی معاملات یعنی خرید و فروخت، امانت، قرض، نوکری اور مزدوری کی اصلاح کا اتنا اہتمام نہیں جتنا کہ ہونا چاہیے.

جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت لوگ جن کی حالت ِ نماز، روزہ وغیرہ عبادات کے لحاظ سے کچھ غنیمت بھی ہے، کاروبار ان کے بھی پاک نہیں ہیں. حالاں کہ کاروبار کی پاکی اور معاملات کی صحت کے شعبے کی اہمیت کا یہ عالم ہے. اس کا تعلق بہ یک وقت اللہ کے حق سے بھی ہے اور بندوں کے حقوق سے بھی، نماز، روزہ، وغیرہ عبادات اگرچہ ارکانِ دین ہیں اور اس حیثیت سے ایمان کے بعد انہیں کا درجہ ہے مگر کوئی شخص ان میں کوتاہی کرتا ہے تو صرف خدا کا مجرم ہوتا ہے. پھر اگر سچے دل سے توبہ و استغفار کی جائے تو بارگاہ خداوندی سے اس جرم کی معافی ہی کی امید ہے. لیکن اگر لین دین میں خیانت واقع ہوجائے اور حصول رزق کے لیے ناجائز ذرائع کو اختیار کیا جائے تو اس طرح اللہ عز و جل کی نافرمانی بھی ہوگی اور کسی نہ کسی بندے کی حق تلفی بھی اور یہ بات دُہرا جرم قرار پائے گی. رہا یہ خیال جیسے اللہ کے کرم سے معافی کی اُمید ہی ہے تو قیامت کے دن جس بندے کی حق تلفی ہوئی ہے اس سے بھی معافی حاصل کرلی جائے گی، تو اگرچہ اس کا امکان ضرور ہے مگر کون کہہ سکتا ہے جو بندے ہم جیسے کم حوصلہ ہیں وہ قیامت کے دن ضرور ہی معاف کر دیں گے. پھر اگر وہ معاف نہ کریں تو …. ؟ معاملات کو دین کے دوسرے شعبوں کے مقابل یہ خاص امتیاز بھی حاصل ہے. اس میں اپنی ذاتی منفعت و مصلحت اور اپنی خواہش نفس کی اور اللہ عز و جل کے احکام کی کش مکش بہ نسبت دوسرے تمام شعبوں سے زیادہ رہتی ہے.

نفس کی خواہش عموماً یہ ہی ہوتی کہ جھوٹ سچ اور جائز ناجائز کا لحاظ کیے بغیر جیسا موقع ہو اور جس طرح بھی نفع کی زیادہ اُمید ہو کر گزرا جائے. یہ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ، دھوکا، فریب حتیٰ کہ بچوں کے استعمال کی معمولی دوائیوں تک کی بوتلوں پر جعلی لیبل لگا کر فروخت کرنا یہ سب خواہش نفس ہی کے محرکات ہیں اور اللہ کا دین یہ کہتا ہے کہ نفع کم یا ہو زیادہ، تجارت میں فائدہ ہو یا نقصان، جھوٹ، فریب اور دھوکے کے ذریعے حصول رزق حرام و ممنوع ہے. لہٰذا بندے کی بندگی، اور فرماں برداری کا سب سے زیادہ سخت امتحان معاملات و معاشرت کے احکامات میں ہوتا ہے. غرض یہ کہ دینی و اُخروی فلاح و فوز انہیں کا حصہ ہے جو اپنی خواہش نفس پر قابو رکھتے ہیں اور نفس کی بڑی سے بڑی تحریک انہیں جادۂ حق سے منحرف نہیں کرتی ہے. لہٰذا جب تک انسان اپنی حرص و طمع کو روک کر حصول رزق کے جائز طریقے اختیار نہیں کرے گا وہ کام یابی حاصل نہیں کرسکتا، خواہ یہ کام یابی دین کی ہو یا دنیا کی. اسلام نے حصول رزق سے متعلق عدل و انصاف پر مبنی جو اصول مقر ر کیا ہے وہ ایک ایسی مرکزی حیثیت کا ہے کہ جس کو پیش نظر رکھ کر ہم یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ حصول رزق کے ذرایع میں سے کون سا ذریعہ حلال اور جائز ہے اور کون سا حرام اور ناجائز ہے.

سورۂ نساء میں فرمایا. مفہوم: ’’ اے ایمان والو تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ لیکن یہ کہ لین دین ہو آپس کی خوشی سے.‘‘ یہ آیت لین دین کے متعلق ایک اصولی حیثیت رکھتی ہے اور اس نے لین دین کے ان طریقوں کو جو ایمان داری کے خلاف ہیں اور جن کی کوئی حد نہیں ہے ایک لفظ باطل سے بیان کردیا یعنی کسی کی چیز خواہ وہ دھوکا و فریب ، ظلم و جور سے لی جائے یا چوری اور غصب، رشوت اور خیانت اور سُود کے ذریعے حاصل کی جائے غرض یہ کہ جس ناجائز طریقے سے بھی دوسرے کا مال لیا جائے اس آیت کے عموم و اطلاق کے اندر داخل ہے. پھر ا س سلسلے میں اسلام کی تکمیلی تعلیم کا یہ عالم ہے کہ اس نے ان نازک ناجائز معاملات اور وسیلوں کی بھی جنہیں عام طور پر باطل نہیں سمجھا جاتا یا انہیں بہت ہی کم درجے کا جرم خیال کیا جاتا ہے نشان دہی کی ہے اور ان کی دینی و دنیوی بُرائیوں کی تشہیر کرکے ان کی اہمیت کو ظاہر کیا ہے اور اپنے پیروکاروں کو ان سے بچنے کی تاکید کی ہے…

پٹھان قوم کے لیئےحضور اکرم ﷺ نےکب اور کیا دعا کی ؟

پٹھان کو آفغان کہتے ہیں آفغان اسلئے کہتے ہیں کہ آفغان حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام تھا اور ان کو جنات کی زبان سے پیار ہوگیا تھا تو انہوں نے اپنے والد حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا کہ آپ جننات کو کہے کہ مجھے اپنی زبان سیکھائیں سلیمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی درخواست قبول کی اور جنات کو حکم دیا

کہ آفغان کو جنات کی زبان سیکھائی جائـے وہ زبان بعد میں پختنوں کی نام سے پہجانا گیا پٹھان کی اصلیت اور قومیت کے بارے میں جو دلائل ہیں وہ یہ کہ پٹھان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے اولاد ہیں, اور قومیت سے بنی اسرائیل هــے انگریز مورخین لکھتـے ہیں کہ پٹھان قوم ارجینیا کی ایک حصے میں رہتـے تھـے ارجینیا کے لوگوں کا دعوی هــے کہ افغان یا پٹھان ارجینیا ہم میں سے ہیں۔

جاری ہے۔کیونکہالبانیہ کے اوغان جو کے بعد مین افغان بنا ارجینیا سے ہندوستان کی طرف چل پڑے ایک اور مورخین لکھتے ہیں کہ اسرائیل قبائیل بہت تکالیف اور مصیبتون کے بعد افغانستان میں آباد ہوگئیں,

جب حضور اکرم ﷺ نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور لوگ جوق درجوق اسلام مین داخل ہونے لگے تو اس وقت پٹھان قوم کا سردار جس کا نام قیس عبدالرشید تھا اپنے پورے خاندان کیساتھ محمد ﷺ کی حضور میں حاضر ہوا اور محمد ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمان ہوگئـے اس لئـے دنیا بھر میں جہاں بھی پُختون ہونگـے مسلمان ہونگـے

دنیا میں پُختون ہی واحد قوم هــے جس میں اسلام کے بغیر کوئی مذہب نہیں اگر پُختون سے پوچھاجائـے کہ اپ پہلـے مسلمان ہے یا پُختون ؟ تو جواب ہوگا کہ میں پانچ ہزار سال سے پُختون ہوں اور چودہ سو سال پہلـے مسلمان ہوں،۔جاری ہے۔

افغان قوم کو پٹھان کیو کہا جاتا ہے،؟جب کافروں نے مکہ پر قبضہ کر لیا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رض کو حکم دیا کہ جاؤ اپنے افغانیوں کو بلاؤں جہاد کے لیے خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنھ افغانستان چلے گئے اور افغان سردار قیس عبدالرشید کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ارسال کیا، قیس عبدالرشید کے قیادت میں لشکر مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوا۔جاری ہے۔

شام کو صحابہ کرام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری سنائی کہ افغانی لشکر آتے ہی کافروں کا قاتل عام شروع کر دیا اور تمام کافروں کا خاتمہ کردیا، اور مکہ مکرمہ کوافغانیوں نے فتح کر لیا،

تو اسی لمحے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زبان پر پر یہ الفاظ آئے بطان یہ لقب افغان قوم کو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے طرف سے ملا ہےبطان لفظ عربی زبان کے ہے یعنی سخت ترین لکڑی وہ جو سمندری جہازوں میں لگایا جاتا ہے جیسے سمندری پانی بھی کمزور نہیں کرسکتا ہےیہ لفظ جب برصغیر پہنچا تو بطان سے پٹھان ہوگیا نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں۔

کیا محمد ﷺ صبح نہار منہ پانی پیتے تھے یاں کچھ اور

بعض لوگوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ نہار منہ پانی پینا صحت کے لئے مضر ہے ۔ دراصل اس بات کی بنیاد چند ضعیف روایت ہیں ۔

(1) پہلی روایت : ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا
:مَن شرِب الماءَ علیَ الرِیقِ اَنتقصَت قُوتہُ (المعجم الأوسط للطبرانی :4646) ترجمہ : جس نے نہار مُنہ پانی پیا اس کی طاقت کم ہو گئی۔

روایت کا حکم :٭اس روایت کی سند میں محمد بن مخلد الرعيني ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے

٭امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
٭علامہ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے (السلسلۃ الضعیفہ : 6032)
(2) دوسری روایت : ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی روایت میں بھی یہ ہی الفاظ ہیں :من شرب الماء على الريق انتقضت (المعجم الأوسط للطبرانی:6557)
ترجمہ :جس نے نہار مُنہ پانی پیا اس کی طاقت کم ہو گئی ۔
روایت کا حکم : ٭اس روایت کی سند میں عبدالاول المعلم نامی راوی کے بارے میں امام طبرانی نے اس روایت کے بعد لکھا کہ “یہ روایت صرف عبدالاول المعلم نے ہی بیان کی ہے “۔ ٭امام ہیثمی نے کہا کہ اس میں ایک جماعت ہے جنہیں میں نہیں جانتا ہوں۔(مجمع الزوائد10/305)
(3)ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شرب الماء على الريق يفقد الشحم (الکامل فی ضعفاء الرجال)
ترجمہ : نہار مُنہ پانی پینے سے چربی ختم ہوتی ہے۔ روایت کا حکم : ٭یہ روایت ضعیف ہونے کی وجہ سے ہی الکافل فی ضعفاء الرجال میں درج کی گئی ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عاصم بن سلیمان الکوزی ہے جس کو أئمہ حدیث نے جھوٹا،روایات گھڑنے والا قرار دیا ہے ۔ ٭ ابن الجوزی وغیرہ محدثین نے یفقد کی جگہ یعقد کا لفظ ذکر کیا ہے اور اس روایت کو موضوع میں شمار کیا ہے ۔ (موضوعات ابن الجوزی 3/204)

رسول اکرم ﷺ صبح نہار منہ پانی نہیں تھے پیا کرتے وہ پانی میں ایک چمچ شہد کا ملا کر پیا کرتے تھے اور لوگوں کو بھی چاہئے کہ ایسا ہی کرنا جب وہ صبح اٹھے تو، پانی بھی پینا کوئی منا نہیں کیا گیا لیکن اپنی نبی کی سنت پوری کرنی چاہئے

سورۃ الفاتحہ کا یہ عمل کرلیں۔۔

رزق کیلئے سورہ فاتحہ کا یہ عمل کریں ہم آج آپ کو ایک ایسا پاور فل وظیفہ بتانے جا رہے ہیںاگر آپ مالی طور پر بہت زیادہ تنگ دستی کا سامنا کررہے ہیںیا آپ بے روز گار ہیں آپ نے کافی جگہ جاب کیلئے اپلائی کیا اور آپ کو جاب نہیں مل رہی یا آپ قرضے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔آئے دن کوئی نہ کوئی آپ کو مالی پریشانی کا سامنا رہتا ہے تو آپ صرف سات راتیں یہ عمل کرنا ہے انشاءاللہ یہ عمل کرنے سے آپکو رزق کی جو بھی تنگ دستی ہے ۔

آپ نے یہ عمل اس جگہ یعنی کہ اس کمرے میں کرنا ہے جہاں کوئی نہ ہوصرف آپ اکیلے ہی وہاں پر ہوں۔اگر سات راتوں میں سے آپ کی کوئی رات مِس ہوگا ئے تو آپ اس کو کسی اور بھی مکمل کر سکتے ہو۔ آپ نے یہ عمل جمعرات کے دن سے شروع کرنا ہے اور سات راتیں یعنی کے بدھ تک یہ عمل کرنا ہے ۔آپ نے یہ عمل کسی بھی نماز کے بعد کرنا اور کوئی ایسا ٹائم رکھنا ہے کے ساتوں دن آپ اس ٹائم ہی یہ عمل کرسکیں۔تو آپ نے نماز پر ہی بیٹھ کر قبلہ کی طرف منہ کرکے جو بھی پریشانی ہے اس کو ذہن میں رکھ کے یہ عمل کرنا ہے۔کوشش کریں کہ یہ عمل رات کو کریں کیونکہ رات کو یہ عمل کرنے کی بہت زیادہ فضیلت ہوتی ہے ۔آپ نے سب سے پہلے اول و آخر درود ابراہیمی گیارہ گیارہ مرتبہ پڑھنا ہے۔اس کے بعد آ پ نے نوے مرتبہ سورة فاتحہ کو پڑھنا ہے۔سورة فاتحہ کو پڑھنے سے پہلے ہر مرتبہ آپ نے پہلے بسم اللہ پڑھنی ہے۔

اور پھر اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کریں۔دوسرے دن آپ نے پھر اول و آخر دس دس مرتبہ درود ابراہیمی پڑھنا ہے اور درمیان میں اسی مرتبہ سورة فاتحہ کو پڑھنا ہے۔اور پھر تیسرے دن آپ نے نو نو مرتبہ اول و آخر درود ابراہیمی کو پڑھنا ہے اور درمیان میں ستر مرتبہ سورة فاتحہ کو پڑھنا ہے چوتھے دن آپ نے آٹھ آٹھ مرتبہ اول و آخر درود ابراہیمی اور درمیان میں ساٹھ مرتبہ آپ نے سورة فاتحہ کو پڑھنا ہے۔ اور پانچوے دن آپ نے اول و آخر سات سات مرتبہ درود ابراہیمی اور درمیان میں پچاس مرتبہ سورة فاتحہ کو پڑھنا ہے۔اور آپ نے اسی طرح باقی دونوں سن بھی اسی طرح ایک بار درور اور دس مرتبہ سورة فاتح کم کرکے پڑھنی ہے۔اور آخر اللہ کے حضور رو کر دعا مانگنی ہے انشا ءاللہ آپ کی مشکل آسان ہوجائے گی ۔

نماز فجر کے بعد صرف 7 مرتبہ یہ پڑھنا ہے

آپ سب اللہ پاک کی رحمت بالکل خیریت سے ہوں گے۔ ہمارے برے بزرگ جو بھی بات کہتے تھے سولا آنے درست ہوتی تھی۔ کہ گھرمیں روشنی رزق سے ہوتی ہے اورآپ کا بھی تجربہ ہوگا کے یہ بات بالکل درست ہے۔ جب رزق آتا ہے تو وہ اپنے ساتھ خوشیاں بھی لاتا ہے۔ روزی کی برقت سے گھروالوں کے چہروں پرسکون اورعتمنان ہوتا ہے۔ اللہ نہ کرے کبھی کسی کے ساتھ روزی رزق کا مسئلہ ہو ایسی صورتحال میں انسان کواللہ پربھروسہ رکھنا چاہیے وہ صبح بھوکا ظروراوٹھاتا مگر سولاتا نہیں وہ صاحب اقتدارہے آج میں آپ کو رزق میں اضافے کا ایک خاص وظیفہ بتائوں گی۔

نماز فجر کے بعد صرف سات مرتبہ یہ پڑھیں انشاءاللہ تعالی حضرت محمد ﷺ کے صدقے سے رزق میں ایک دم اضافہ ہوگا اور رزق کی تنگی بلکل ختم ہو جائے گی۔ اس خاص وظیفے کے بارے میں جاننے کے لئے نیچے تک لازمی پڑھیں اور ہمارا آج کا وظیفہ یہ ہے کہ جو انسان رزق کی تنگی کا شکار ہواور وہ چاہتا ہواس کےرزق میں بے پناہ اضافہ ہو جائے اور وہ بے حد غنی ہو جائےامیر ہو جائے تواس کو چاہئے روزانہ بعد نماز فجر صرف 7 مرتبہ یہ درود پاک پڑھے اورپھراللہ پاک سے دعا بھی کرے انشاء اللہ رزق کی تنگی کا خاتمہ ہوگا اور رزق میں بے پناہ اضافہ ہو گا۔ یاد رہے جو انسان رزق کی تنگی کا شکار ہواور وہ چاہتا ہو کے بے حد مال دار ہو جائے تو وہ سچے دل سے اللہ کی زات پر بھروسہ رکھ کر یہ درود پاک کا ورد کرے انشاءاللہ رزق کی تنگی دورہو جائے گی

اور وہ ورد درود پاک کا ہے درود تاج فجر کی نماز کے بعد 7 مرتبہ پابندی سے درود تاج پڑھیں انشاء اللہ رزق کی تنگی دور ہو جائے گی اللہ تعالی بے شمار رزق عطا فرمائیں گے اس وظیفہ کے لئے پانچ وقت کی نماز کی پابندی بھی لازمی ہے ورنہ وظیفہ اثر نہیں کرے گا اور حسب توفیق صدقہ بھی کرتے رہیں۔ اور دوستو اچھی بات کو شیئرکرنا بھی صدقہ جاریا ہے آج کا عمل پسند آیا ہوتولازمی شیئرکریں

نماز میں 2 سجدے کیوں ہیں۔؟

محفل میں دوران تقریب کچھ باتیں ہوئی ںایک صاحب کہنے لگے، آپ نے اتنی باتیں کرلیں ذرا یہ تو بتایئے کہ نماز میں دو سجدے کیوں ہیں؟میں نے کہا : مجھے نہیں معلوم۔کہنے لگے: یہ نہیں معلوم تو پھر آپ کو معلوم ہی کیا ہے؟ اتنی دیر سے آپ کی باتیں سن کر محسوس ہورہا تھا کہ آپ علمی آدمی ہیں لیکن آپ تو صفر نکلے۔ میں نے کہا: جناب! میں صفر نکلا نہیں، میں صفر ہوں! میں نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ مجھے بہت کچھ آتا ہے۔ کہنے لگے: اب سنیئے کہ نماز میں دو سجدے کیوں ہیں! ایک سجدہ اسلیئے کہ جب اللہ نے تمام فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں تو تمام فرشتے

سجدے میں چلے گئے تھے۔ جب فرشتے سجدے سے اٹھے اور دیکھا کہ سجدہ نہ کرنے پر شیطان کو تا قیامت وعید ہوئی تو انہوں نے ایک اور سجدہ شکرانہ ادا کیا کہ ہم حکم عدولی والوں میں نہ تھے۔ میں نے کہا: بہت شکریہ جناب! آپ نے میری معلومات میں اضافہ کیا، میں اس کی تحقیق میں نہیں جاؤنگا کہ آیا یہ بات حسب واقعہ ہے بھی یا نہیں، لیکن ایک سوال میری طرف سے بھی۔

اگر کسی شخص سے نماز میں ایک سجدہ چھوٹ جائے تو کیا اس کی نماز ہوجائے گی؟کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم۔ میں نے پوچھا: جناب! کیا ہمیں پہلے وہ معلومات حاصل نہ کرنی چاہیئیں جن سے زندگی میں اکثر و بیشتر پالا پڑتا ہو یا پڑنے کی امید ہو۔؟۔اس پر وہ بحث کرنے لگے۔بہرحال ان صاحب نے تو وہ بات نہ مانی لیکن میں یہ سمجھ چکا تھا کہ لوگوں کے دماغ میں “علمیت” کا معیار کیا ہے؟یقین کیجئے میں نے مسجدوں کی دیواروں ہر قران و حدیث کی بجائے کفر و گستاخی کے فتوے آویزاں دیکھے۔میں نے کارپینٹر اور مستری کے درمیان “علم غیب” کے مسئلے پر بحث ہوتے دیکھی ہے۔

میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگوں کو مسلکی ویڈیوز شیئر کرتے دیکھا ہے جن کو غسل کے فرائض تک نہیں معلوم۔حدیث میں آتا ہے: “اختلاف العلماء رحمۃ”علماء کا اختلاف رحمت ہے۔مجھے لگتا ہے یہ حدیث مجھے اپنے اندر چھپے ایک اور معانی بتا رہی ہے اور وہ ہے: “اختلاف الجہلاء زحمۃ”جاہلوں کا اختلاف زحمت ہے۔بھائیو دوستو بزرگو کیونکہ علم والے جب اختلاف کرتے ہیں تو غور و فکر کے دروازے کھلتے ہیں اور دلائل کے انبار لگتے ہیںجبکہ جاہل جب اختلاف کرتے ہیں تو بحث و تکرار کے در وا ہوتے ہیں اور گالیوں کے ڈھیر لگتے ہیں

حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضور ﷺ کی امامت میں نماز پڑھتے ہوئے توڑ کر گھر چلے گئے

حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضور ﷺ کی امامت میں نماز پڑھتے ہوئے توڑ کر گھر چلے گئے، وہ وقت جب تین جلیل القدر فرشتے جبرائیلؑ، میکائیلؑ اور اسرافیلؑ کو بیک وقت حرکت میں آنا پڑ گیا، ایما ن افروز واقعہ ایک دن حضور اکرم ﷺ نے نماز عصر پڑھائی تو پہلا رکوع اتنا طویل فرمایا کہ گمان ہوا کہ شاید رکوع سے سر نہ اٹھائیں گے ۔پھر جب آپ ﷺنے رکوع سے سر اٹھالیا ۔نماز ادا فرما لینے کے بعد آپ ﷺ نے اپنا رُخِ اَنور محراب سے ایک جانب پھیر کر فرمایا کہ میرا بھائی اور چچا زاد علی بن ابو طالب کہاں ہے ؟ حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آخری صفوں سے عرض کیالبیک ! میں حاضر ہوں یارسول اللہﷺ ۔۔۔! آپ ﷺنے فرمایااے ابو الحسن ! میرے قریب آجاؤ چنانچہ حضرتِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺ کے قریب آکر بیٹھ گئے۔آپ ﷺ نے فرمایا ابو الحسن ! کیا تم نے اگلی صف کے وہ فضائل نہیں سنے جو اللہ عزوجل نے مجھے بیان فرمائے ہیں ؟ عرض کیا:کیوں نہیں، یارسول اللہ ﷺ۔۔۔ارشاد فرمایاپھر کس چیز نے تمہیں پہلی صف اور تکبیر اولیٰ سے دور کردیا ،کیا حسن اور حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کی محبت نے تمہیں مشغول کردیا تھا ؟ عرض کیان کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیسے رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا پھر کس چیز نے تمہیں روکے رکھا ؟

عرض کیا کہ جب حضرتِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان دی تھی میں اس وقت مسجد ہی میں تھا اور دو رکعتیں ا دا کی تھیں پھر جب حضرتِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اقامت کہی تو میں آپ ﷺ کے ساتھ تکبیرِ اُولیٰ میں شامل ہوا ۔پھر مجھے وضو میں شبہ ہوا تو میں مسجد سے نکل کر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر چلا گیا اور جا کر حسن و حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما )کو پکارا مگر کسی نے میری پکار کا جواب نہ دیا تو میری حالت اس عورت کی طرح ہوگئی جس کا بچہ گم ہوجاتا ہے یا ہانڈی میں ابلنے والے دانے جیسی ہوگئی ۔میں پانی تلاش کررہا تھا کہ مجھے اپنے دائیں جانب ایک آواز سنائی دی اور سبز رومال سے ڈھکا ہوا سونے کا پیالہ میرے سامنے آگیا۔میں نے رومال ہٹایا تو اس میں دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا اور مکھن سے زیادہ نرم پانی موجود تھا۔ میں نے نماز کے لئے وضوکیا پھر رومال سے تری صاف کی اور پیالے کو ڈھانپ دیا ۔پھرمیں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مجھے کوئی نظر نہ آیا نہ ہی مجھے یہ معلوم ہوسکا کہ پیالہ کس نے رکھا اور کس نے اٹھایا ؟آپ ﷺ نے غیب کی خبر دیتے ہوئے مسکرا کر ارشادفرمایا:مرحبا! مرحبا! اے ابو الحسن !کیا تم جانتے ہو تمہیں پانی کا پیالہ اور رومال کس نے دیا تھا؟ عرض کی اللہ اور اس کے رسول عزوجل و ﷺ بہتر جانتے ہیں ارشاد فرمایا: پیالہ تمہارے پاس جبرئیلِ امین علیہ السلام لے کر آئے اور اس میں حظیرۃ القدس کا پانی تھا اوررومال تمہیں حضرتِ میکائیل علیہ السلام نے دیا تھا ، حضرتِ اسرافیل علیہ السلام نے مجھے رکوع سے سر اٹھانے سے روکے رکھایہاں تک کہ تم اس رکعت میں آکر مل گئے، اے ابو الحسن ! جو تم سے محبت کریگا اللہ عزوجل اس سے محبت کریگا اور جو تم سے بغض رکھے گا اللہ عزوجل اسے ہلاک کردے گا ۔

نبی کریم ﷺ ایک سفر

نبی کریم ﷺ ایک سفر سے واپس آ رہے تھے،ایک جگہ آپ نے پڑاؤ ڈالا، بستی قریب تھی،ایک عورت تھی جس کا تنور تھا،اس نے لشکر کی روٹیاں بھی پکائیں،جب پکا کر فارغ ہو گئی تو صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہنے لگی :میں تمہارے صاحب سے بات کرنا چاہتی ہوں،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اُسے نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئے۔کہنے لگی اللہ کے پیارے رسول !ﷺ میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں۔فرمایا :پوچھو! کہنے لگی:میں ماں ہوں،تنور میں روٹیاں لگاتی ہوں، میرا ایک چھوٹا سا بچہ ہے،میں اس کو آگ کے قریب آنے نہیں دیتی کہاس کو کہیں گرم ہوا نہ لگ جائے،خود آگ میں ڈبکیاں لگاتی

ہوں،روٹی لگانے اور نکالنے کے لیے۔لیکن میں اپنے بچے کو گرم ہوا کا لگنا بھی پسند نہیں کرتی،تو میں نے آپ سے سُنا تھا کہ ساری دنیا کی ساری دنیا کی ماؤں کی محبتوں کو جمع کر دیا جائے،اس سے ستر گناہ زیادہ بندوں سے اللہ پاک محبت کرتے ہیں تو اللہ پاک بندے کو جہنم میں جانا کیسے پسند فرمائیں گے؟حدیثِ پاک میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ بات سُن کر سر جھکایا، مبارک آنکھوں میں آنسو آنے لگے،روتے رہے،روتے رہے،حتیٰ کہ جبرائیل ؑ اللہ کا پیغام لے کر ئے،میرے محبوب! اس عورت کو بتا دیں:“وما ظلمھم اللہ ولکن کانوا انفسھم یظلمون۔”ترجمہ:”اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا،انہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا”اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری،کیوں کہ اللہ تو چاہتے ہیں کہ یہ بچ جائیں،لیکن بات یہ ہے کہ توبہ نہیں کرتے، توبہ کی طرف آتے ہی نہیں،بلکہ رب کی ماننے کے بجائے شیطان کی مانتے پھرتے ہیں،اور توبہ کو ضائع کرتے ہیں، بھول جاتے ہیں،تو یہ تو اپنے عمل کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔

دو بھائیوں کی شادی پر مسئلہ

کوفہ کے ایک شخص نے بڑے دھوم دھام سے ایک ساتھ اپنے دو بیٹوں کی شادی کی، ولیمہ کی دعوت میں تمام اعیان واکابر موجود تھے مسعر بن کدام، حسن بن صالح، سفیان ثوری، امام اعظم بھی شریک دعوت تھے، لوگ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک صاحب خانہ بدحواس گھر سے نکلااور کہا ”غضب ہوگیا “زفاف کی رات عورتوں کی غلطی سے بیویاں بدل گئی جس عورت نے جس کے پاس رات گزاری وہ اس کا شوہر نہیں تھا سفیان ثوری نے کہا امیر معاویہ کے زمانے میں ایسا واقعہ پیش آیا تھا، اس سے نکاح پر کچھ فرق نہیں پڑتا ہے۔

البتہ دونوں کو مہر لازم ہوگا،مسعر بن کدام،امام صاحب کی طرف متوجہ ہوئے کہ آپ کی کیا رائے ہے، امام صاحب نے فرمایا پہلے دونوں لڑکے کو بلایا جائے تب جواب دوں گا، دونوں شوہر کو بلایا گیا اما م صاحب نے دونوں سے الگ الگ پوچھا کہ رات تم نے جس عورت کے ساتھ رات گزاری ہے، اگر وہی تمہارے نکاح میں رہے کیا تمہیں پسندہے ؟دونوں نے کہا: ہاں! تب امام صاحب نے فرمایا: تم دونوں اپنی بیویوں کو جن سے تمہارا نکاح پڑھایا گیا تھا اسے طلاق دے دو اورہر شخص اس سے نکاح کر لے جو اس کے ساتھ ہم بستر رہ چکی ہے۔ (عقود الجمان ص:۲۵۵)حضرت سفیان ثوری نے جو جواب دیا تھا مسئلہ کے لحاظ سے وہ بھی صحیح تھا،وطی بالشبہ کی وجہ سے نکاح نہیں ٹوٹتا ہے؛ مگر امام صاحب نے جس مصلحت کو پیش نظر رکھا، وہ ان ہی کا حصہ تھا؛ اس لیے کہ وطی بالشبہ کی وجہ سے عدت تک انتظار کرنا پڑتا جو اس وقت ایک مشکل امر تھا پھر عدت کے زمانے ہر ایک کو یہ خیال گزرتا کہ میری بیوی دوسرے کے پاس رات گزار چکی ہے، اور اس کے ساتھ رہنے پر غیرت گوارہ نہ کرتی اور نکاح کا اصل مقصد الفت ومحبت، اتحاد واعتماد بڑی مشکل سے قائم ہوپاتا ۔

جس گھر میں نماز اور تلاوت قرآن نہ کی جائے وہاں کیا واقعہ ہوتے ہیں

کئی دنوں سے میں محسوس کررہی تھی کہ صبح بستر سے اٹھتے ہوئے میں کافی تھکی اور نڈھال سی ہوجاتی ہوں ۔بستر چھوڑنے کو دل ہی نہیں چاہتا۔کئی دنوں سے ایسا ہورہا تھا ۔حالانکہ دفتر جانے سے پہلے میں نماز فجر پڑھنے کے لئے اٹھ پڑتی تھی ۔ رات کو میں جلد سوجاتی تھی اسلئے فجر تک میری نیند پوری ہوجاتی تھی۔ یہ ہفتہ کی رات کا واقعہ ہے ،مجھ

پر اسی تھکاوٹ اور نیند کا غلبہ تھا ۔میں سستی اور کاہلی سے آنکھیں بند کئے بستر پر دراز تھی کہ اچانک مجھے لگا دوانجان عورتیں میرے کمرے میں سرگوشی کے انداز میں بول رہی ہیں۔میں نے پہلے وہم سمجھا اور پہلو بدل کر سوگئی ۔ پھر آوازیں میرے قریب آگئیں۔ کوئی میرے بستر پر بیٹھ گیاتھا۔میں نے آنکھیں نہیں کھولیں اور نہ چونکی ۔لیکن جب یہ سرگوشیاں مجھے صاف سنائی دینے لگیں تو میرا دل دھک دھک کرنے لگا۔’’ دیکھو کیا واقعی یہ سو رہی ہے؟‘‘ ایک خاتون بولی۔’’ہاں سورہی ہے۔اسکی آنکھیں بند ہیں‘‘ دوسری نے جواب دیا۔ ’’ پھر کیا کریں ۔بیٹھیں یا چلیں‘‘ پہلی آواز آئی۔ ’’ میرا خیال ہے چلتی ہیں ۔جب جاگ جائے گی تو دوبارہ آجائیں گی‘‘ دوسری آواز کے ساتھ ہی کمرے میں سنّاٹا چھاگیا ۔میں نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں ،کمرے کا جائزہ لیا،کوئی نہیں تھا ۔میں حیران تھی کہ یہ کون ہوسکتی ہیں۔میں واش روم گئی اور کُلی کرکے ساتھ والے کمرے میں چلی گئی،بھائی اس وقت تک اٹھ پڑا تھا۔میں نے سوال کیا ’ ’ یہ عورتیں کون تھیں؟‘‘’’ کون سی عورتیں‘‘ اس نے الٹا سوال کردیا۔ ’’یہی جو باتیں کررہی تھیں‘‘ میں نے چڑ کر سے پوچھا۔ ’’ میں نے تو کسی کی آواز نہیں سنی‘‘ اس

نے کاندھا اچکا کر بے نیازی سے کہا ۔اب اس سے زیادہ کیا سوچاجاسکتا تھا ۔ہوسکتا ہے واقعی یہ میرا وہم ہو۔۔۔لیکن یہ وہم ہرگز نہیں تھا ۔سوموار کے روز میں جب دفتر سے واپس آئی تو امی نے نماز عصر کے بعد مجھے چائے دیتے ہوئے کہا ’’ نائلہ میں نے آج تمہارا صدقہ دیا ہے۔تم نماز وقت پر پڑھا کرو۔‘‘ پھر انہوں نے خود ہی بتایا’’ میں نے رات کو بڑا عجیب خواب دیکھا ہے۔خواب میں دو عورتیں دیکھیں ،جن میں سے ایک چھوٹے قد اور دوسری بڑے قد کی تھی۔میں اس وقت کچن میں تھیں ۔انہیں یوں گھر میں گھسے ہوئے دیکھ کر میں نے کہا تم کون ہو اور بلا اجازت کیسے میرے گھر میں آگئی ہو‘‘ لمبی بولی’’ ہم ٹہل رہی تھیں۔ابھی چلی جاتی ہیں‘‘اسکے بولنے کاانداز غیر مانوس اور عجیب تھا’’ چلو نکلو یہاں سے ۔یہ کوئی پارک نہیں ‘‘’’چلی جاتی ہیں ‘‘ لمبی نے چھوٹی سے کہا ’’ چلو ہم نائلہ کے کمرے میں چلتی ہیں‘‘ ’’ ارے ارے ۔۔۔۔۔۔‘‘ میں انہیں روکتی رہ گئی ،وہ تمہارے کمرے میں گئیں اور جب میں بھی ان کے پیچھے تمہارے کمرے میں پہنچی تو دونوں غائب تھیں۔البتہ تمہارے کمرے سے عجیب سی بو آرہی تھی۔ایسے جیسے چوہا مرا پڑا ہو۔ میں تو چیخ اٹھی اور اس چیخ کے

ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی۔میں سمجھ گئی کہ یہ دونوں بدروحیں تھیں ‘‘’’ ہاں یہ بدروحیں ہی ہوسکتی ہیں‘‘ میں نے چونک کر کہا اور امی سے دودن پہلے کا واقعہ بیان کردیا ۔ہم دونوں پریشان ہوگئیں کہ یہ شیطانی مخلوق ہمارے گھر کیا کرنے آگئی ہے۔اس وقت ہم دونوں ماں بیٹی نے آیت کریمہ پڑھا اور رد خوف و بلا کی دعائیں پڑھ کر پورے گھر پر پھونکیں ماریں ۔ امی نے خوشبویات بھی جلائیں اور کہا’’ میری امی ٹھیک کہا کرتی تھیں کہ جس گھر میں نماز اورذکر اذکار نہیں ہوتا وہاں شیطان ڈیرے ڈال لیتا ہے۔‘‘ اس رات میں نماز عشاء کے بعد آیت الکرسی پڑھ کر سوئی ،توبہ استغفارکی۔ یہ میری کوتاہی تھی کہ میں نماز سے غافل ہوگئی تھی۔ اس رات مجھے بے حد سکون ملا اورصبح نماز فجر کے وقت جب آنکھ کھلی تو میں پہلے کی طرح چست تھی۔یقینی طور پر میری غفلت کے باعث شیطان میرے اعصاب پر چھا گیا تھا اور میرا پورا جسم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا تھا ۔الحمد للہ اب میں ٹھیک ہوں۔