گھر سے ہر قسم بیماری کا خاتمہ

کسی بھی قسم کی بیماری ہو ،اسکا علاج کرنا سنت ہے اور علاج سے کبھی گریز نہیں کرنا چاہئے ۔بحثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ بیماریاں اللہ کی جانب سے امتحان و آزمائش ہیں جن کا علاج ادویہ سے کرنا چاہئے تو سنت کے مطابق ان کا روحانی علاج کرنا بھی جائز اور مستحب عمل ہے۔اللہ کا وعدہ ہے کہ بیماریوں سے شفا بھی اسی کی جانب سے ملتی ہے۔اس کے لئے بندے کو اپنے ربّ سے ایسے طریقہ سے دعا کرنی چاہئے کہ دوا میں تاثیر پیداہو جائے ۔بے تحاشاادویات کھاتے رہنے سے جب کوئی مرض دور نہ ہوتو دیکھا جو لوگ اس دعا کو روزانہ پڑھیں اور ایک تسبیح مکمل کرنے کے بعد اسکو پانی پر پھونک کر پی لیا کریں تو جہاں انکو جسمانی عوارض سے نجات ملے گی وہاں باطنی طور پر بھی اسکو سکون ملے گا۔یہ مرض بے شک دنیاوی الجھنوں پر مشتمل کیوں نہ ہو ں،ان سے نجات کے لئے بندے کو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہئے اور اپنی عبادات و اذکار میں ثابت قدم رہنا چاہئے۔

اس دعا کو بطور تسبیح کرنے والے خود کو کبھی اکیلا نہیں سمجھتے ،ایک طاقت ان کے ساتھ رواں رہتی ہے۔مایوسی اور ڈپریشن کا مجرب عمل ہے ۔جن لوگوں میں منفی خیالات پیدا ہونے لگ جائیں ان کے لئے بڑا سودمند عمل ہے۔کسی بھی قسم کی بیماری ہو ،اسکا علاج کرنا سنت ہے اور علاج سے کبھی گریز نہیں کرنا چاہئے ۔بحثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ بیماریاں اللہ کی جانب سے امتحان و آزمائش ہیں جن کا علاج ادویہ سے کرنا چاہئے تو سنت کے مطابق ان کا روحانی علاج کرنا بھی جائز اور مستحب عمل ہے۔اللہ کا وعدہ ہے کہ بیماریوں سے شفا بھی اسی کی جانب سے ملتی ہے۔اس کے لئے بندے کو اپنے ربّ سے ایسے طریقہ سے دعا کرنی چاہئے

کہ دوا میں تاثیر پیداہو جائے ۔بے تحاشاادویات کھاتے رہنے سے جب کوئی مرض دور نہ ہوتو دیکھا گیا ہے کہ ساتھ روحانی عمل کرنے سے مرض سے جلد افاقہ ہوجاتا اور مرض جڑوں سے غائب بھی ہوجاتا ہے۔بس بندے کو دعا کا سلیقہ آنا چاہئے۔اس کے اندر عاجزی اور اخلاص ہونا چاہئے۔یر ابو نعمان رضوی سیفی فی سبیل للہ روحانی رہ نمائی کرتے اور دینی علوم کی تدریس کرتے ہیں ۔ان سے اس ای میل پررابطہ کیا جاسکتا ہے

مردے کی واپسی

سب دھک سے رہ گئے۔ بات ہی کچھ ایسی تھی‘ جس سلطان کو فوت ہوئے چند دن ہوگئے تھے۔ اب وہ ان کے سامنے تخت پر بیٹھا تھا۔ وہ اپنی آنکھیں ملنے لگے، کچھ نے خود کو چٹکیاں بھی کاٹیں کہ ہوسکتا ہے ہم کوئی سہانا خواب دیکھ رہے ہوں جب انہیں تکلیف ہوئی تو انہیں یقین کرنا ہی پڑا کہ ان کے سامنے تخت پر وہی سلطان بیٹھا ہے جس کا کچھ دن پہلے ایک فوجی مہم کے دوران انتقال ہوگیا تھا

اور اس کی میت ایک تابوت میں واپسی آئی تھی جس کی وفات نے پورے ملک کو کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ دل غم سے پھٹے جارہے تھے‘ جب آج سلطان ان سب کے سامنے دربار میں آیا تو وہ یہی سمجھے کہ ان کی روح دنیا میں واپس آگئی ہے لیکن فوراً ہی انہیں احساس ہوگیا کہ روحوں کا اس دنیا میں آنا ممکن ہی نہیں ہے۔ درباری اتنے حیرت زدہ تھے کہ وہ سلطان سے یہ بھی نہ پوچھ سکے۔ حضور! وہ جو ہم نے آپ کا جنازہ پڑھا تھا جو ہم نے آپ کو کندھے دیے تھے ان کا کیا بنا۔سلطان بھی ان سب کی حیرت سے نڈہال ہورہا تھا، کچھ دیر بعد بولا۔

اللہ تعالیٰ کی ذات ہی بھروسہ کرنے کے قابل ہے جس نے تم لوگوں کو اس آزمائش میں کامیاب کیا۔ کیسی آزمائش۔ چند دبی دبی سی سرگوشیاں ابھریں۔ اصل میں ہم نے تمہارا امتحان لیا تھا کہ تم ہمارے بغیر بھی منظم رہتے ہو یا بھیڑ بکریوں کی طرح بکھر جاتے ہو۔ یہ سن کر سب حیران رہ گئے۔ سب سے زیادہ حیرت تو سلطان کے بیٹے کو تھی۔ اسے ذرا سا بھی علم نہیں ہوا تھا کہ یہ اصلی جنازہ ہے یا کوئی چال ہے۔ اسی نے تو سب سے زیادہ کندھے جنازے کو دیے تھے۔ سلطان پھر کہنے لگا۔ چند خاص آدمیوں کے علاوہ کسی اور کو اس بات کا پتا نہیں تھا…. حد تو یہ ہے کہ اس بات کا علم ہمارے بیٹے کو بھی نہیں تھا۔ عالی جاہ! آپ نے یہ سب کچھ کیوں کیا۔ ایک درباری نے دریافت کیا۔ ہم سب کا امتحان لینا چاہتے تھے۔ اس امتحان میں ہمارا بیٹا بھی شامل تھا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ تم سب اس امتحان میں پورا اترے لیکن…. لیکن کیا عالی جاہ! وزیر اعظم نے پوچھا۔کیا حاکم کڑپہ حلیم خان کی دوستی کا پتا چل گیا ہے۔

اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسے سبق سکھایا جائے۔ تم لوگوں کو تو پتا ہی ہے کہ ہماری موت کا سن کر وہی ایک بندہ تھا جو سب سے زیادہ خوش تھا۔ اس نے شکرانے کے نوافل ادا کیے۔ نقارے پٹوائے، مٹھائیاں بانٹیں۔ اس نے اسی پر ہی بس نہیں کی بلکہ ہمارے نائب اور سفیر کو بہت بے عزت کرکے وہاں سے نکال دیا۔ وہ جانتا تھا کہ مرنے والے کبھی لوٹا نہیں کرتے نہ وہ بدلہ لے سکتے ہیں۔ اسی لیے تو وہ بڑا خوش تھا۔ ابھی یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ ایک قاصد نے آکر اطلاع دی کہ کڑپہ والوں نے بغاوت کا اعلان کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے جنگ کی تیاریاں بھیشروع کردی ہیں۔ یہ اطلاع سن کر سلطان نے فوراً ہی کڑپہ کی طرف پیش قدمی کا حکم دے دیا۔

کڑپہ والوں نے جب سلطان اور اس کے لشکر کو دیکھا تو ان کے چھکے چھوٹ گئے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ ایک مردہ اس دنیا میں کیسے واپس آسکتا ہے۔ کچھ سوچ کر حاکم کڑپہ نے اپنا قاصد سلطان کی خدمت میں بھیجا تاکہ سلطان سے صلح کے لیے بات کی جائے۔ قاصد کے آنے کی وجہ جان کو سللطان غضب ناک ہوگیا۔ جاﺅ، جا کر کہہ دو کہ ہمیں تمہاری معافی قبول نہیں ہے۔ اب جب کہ ہم دوست اور دشمن کو پہچان چکے ہیں تو اس غدار کو صرف اور صرف ہماری تلوار ہی سیدھا کرے گی۔ اسے کہہ دو کہ جنگ کی تیاری کرلے کیوں کہ ہم اس کی سرکوبی کرکے ہی رہیں گے۔قاصد کی ناکامی نے حلیم خان کو جنگ کی تیاری کرنے پر مجبور کردیا۔ حلیم خان نے اس جنگ کی قیادت اپنے بھتیجوں حسین میاں اور سعید میاں کو سونپی۔

یہ دونوں نوجوان ناتجربہ کار تھے۔ اس کے باوجود وہ بڑی بے جگری سے لڑے اور سلطان کی جنگی چالوں کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اور وہ شکست کھاگئے۔ کڑپہ فتح ہوگیا اور اس کی گرفتاری عمل میں آگئی۔ گرفتار ہونے کے باوجود دانہوں نے سلطان کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ اس میں انہیں ایک بار پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بار سلطان نے انہیں قتل کروادیا یوں ایک حاکم اپنی کم عقلی کی وجہ سے نہ صرف خود تباہ ہوا بلکہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی لے ڈوبا۔ اس سلطان کا نام سلطان حیدر علی تھا جومردہ واپس آئے تھے۔ ٹیپو سلطان کے والد تھے۔

بچت کرنے کے چند شاندار اور آسان طریقے اس خبر میں ملاحظہ کیجیے

انسان بے شک اپنی سوچ بڑی رکھے لیکن اس پر عمل درآمد کا آغاز چھوٹے کام سے کرے۔ اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشیں روک کر خاصی زیادہ بچت کی جاسکتی ہے ۔ ایک دن پیزا نہ کھائیں تو بچت شروع ہوجائے گی تاہم یہ بات مدنظر رہے کہ سرمایہ کاری پر قلیل المدتی فائدہ کم ملتا ہے یعنی اگر کوئی شخص 25 سال کی عمر سے میوچوئل فنڈ یا ایسیٹ مینجمنٹ میں کم تر سرمایہ کاری سے آغاز کرے تو وہ بیس سے

پچیس سال میں خطیر رقم کا مالک بن سکتا ہے۔ لوگ عام طور پر مستقبل میں بچوں کی تعلیم، شادیوں اور ریٹائرڈ زندگی گزارنے جیسے کاموں کےلیے بچت کے ذریعے طویل المیعاد بنیادوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔وارن بفٹ کا بچت کے حوالے سے دلچسپ اصول ہے: ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے بیشتر لوگ اخراجات سے بچنے والی رقم کو بچت سمجھتے ہیں لیکن یہ تصور غلط ہے۔ وہ کہتے ہیں کہآپ عملی زندگی میں داخل ہوتے ہی یہ فیصلہ کرلیجیے کہ آپ اپنی آمدن کا اتنے فیصد بچائیں گے۔ آپ کے ہاتھ میں جوں ہی رقم آئے، آپ سب سے پہلے اس میں سے بچت الگ کرلیجیے اور باقی رقم اس کے بعد خرچ کیجیے۔میوچوئل فنڈز ایک وسیع شعبہ ہے جس میں لاکھوں لوگ اسٹاکس، بانڈز، ریئل اسٹیٹ یا کسی بھی سیکیورٹیز کے مشترکہ فنڈ میں سرمایہ لگاتے ہیں۔

ہر سرمایہ کار کو اپنے سرمائے کی شرح سے نفع ملتا ہے۔ بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ میوچوئل فنڈز میں سرمایہ کاری کتنے عرصے کےلیے ہوتی ہے؟ 20 سال، 10 سال یا 5 سال۔اصل میں یہ سارے آپشنز درست ہیں۔ بلکہ آپ ایک دن کےلیے بھی پیسہ لگا سکتے ہیں۔بچت مختلف سیونگ فنڈز میں بھی کی جاتی ہے۔ کاروبار سے حاصل منافع یا ماہانہ تنخواہ سے بچت کی بدولت ان کے میوچوئل فنڈ اکاؤنٹ میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو میوچوئل فنڈز میں اس بات پر تشویش ہوتی ہے کہ کیا ان کا پیسہ کہیں کسی غیر اسلامی سرمایہ کاری میں تو نہیں لگ رہا۔ اس ضمن میں مختلف ایسیٹ مینجمنٹ اداروں نے شریعت سے مطابقت رکھنے والی اسکیمیں بھی متعارف کرائی ہیں۔ یوں، لوگوں کےلیے بچت کے حوالے سے نت نئی سہولیات سامنے آرہی ہیں۔

بچت کے بارے میں بہت سے لوگوں کے خدشات ہیں۔بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ کم از کم کتنے پیسوں سے سرمایہ کاری کی جائے۔ اب عالم یہ ہے کہ بہت سے کاروباری ادارے 500 روپے میں بھی میوچوئل فنڈز اکاؤنٹ کھول دیتے ہیں۔ بچت کے حوالے سے بہت کاروباری اداروں نے سہل اور تیزرفتار سہولیات متعارف کرائی ہیں۔ مثلاً ایم سی بی عارف حبیب نے آئی سیو (iSave) کے نام سے ایک دلچسپ ڈیجیٹل آپشن متعارف کرایا ہے۔ اس کی مدد سے چند منٹ میں ہی آن لائن رجسٹر یشن کرائیے اور اپنے بینک اکاؤنٹ سے ’’آئی سیو‘‘ اکاؤنٹ میں بہ آسانی پیسے منتقل کرکے بچت کا آغاز کردیجیے۔ایک بڑی سہولت یہ ہے کہ

ماہانہ تنخواہ اس میں جمع کراتے جائیے اور بوقت ضرورت اپنے اخراجات کےلیے پیسے نکالتے رہیے۔ باقی رقم پر بچت کا منافع جمع ہوتا جائے گا۔اسی طرح اگر کوئی اپنے بینک اکاؤنٹ میں پیسے واپس آئی سیو سے منتقل کرنا چاہے تو اسی وقت آن لائن ہی یہ کام ممکن ہے۔ اس ضمن میں ایم سی بی عارف حبیب نے بچت کے خواہش مند افراد کےلیے بینکوں میں استعمال ہونے والا اے ٹی ایم کارڈ بھی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی جدت انگیز پیش رفت ہے۔یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ کاروبار میں نفع و نقصان دونوں کو ضرور سامنے رکھنا چاہیے۔عام طور پر لوگ یہ سوچتے ہیں کہاگر تنخواہ ملنے کے پہلے ہی روز اپنی خواہشات پر خرچ نہیں کریں گے تو پھر کب خرچ کریں گے۔ بعض لوگ سیلری کا چھوٹا سا حصہ نکال کر میوچوئل فنڈز اور دیگر شعبوں میں لگاتے ہیں۔

اس طرح پیسے خرچ کرنے سے پہلے بچت کی اچھی عادت اپنائیے۔لوگ سوچتے ہیں کہ چھوٹی بچت سے کیا ملے گا۔ ہر مہینے کے آغاز میں چھوٹی سی رقم نکال کر منظم سرمایہ کارانہ پلان میں لگائیے اور پھر باقاعدہ بچت کا کمال دیکھیے۔ پیسے بڑھتے ہی رہیں گے۔ بچت چاہے روزانہ کی ہو یا ماہانہ بنیادوں پر، رقم چھوٹی بڑی ہونے کی پروا کئے بغیر آج ہی سے بچت کا آغاز کردیجیے۔

خوبصورت عورت اور نوجوان لڑکا

وہ عورت روز اس نوجوان کو دیکھتی لیکن وہ بغیر اس کی طرف دیکھے سر جھکا کر اسکی گلی سے گزر جاتا ، دیکھنے میں وہ کسی مدرسے کا طالب علم لگتا تھا ، لیکن اتنا خوبصورت تھا کہ وہ دیکھتے ہی اسے اپنا دل دے بیٹھی اور اب چاہتی تھی کہ وہ کسی طرح اس پر نظرِ التفات ڈالے ۔ لیکن وہ اپنی مستی میں مگن سر جھکائے زیر لب کچھ پڑھتا ہوا روزانہ ایک مخصوص وقت پر وہاں سے گزرتا اور کبھی آنکھ آٹھا کر بھی نہ دیکھتا اس عورت کو اب ضد سی ہوگئی تھی وہ حیران تھی کہ کوئی ایسا نوجوان بھی ہوسکتا ہے جو اس کی طرف نہ دیکھے ، اور اسے ایسا سوچنے کا حق بھی تھا وہ اپنے علاقے کی سب سے امیر اور خوبصورت عورت تھی خوبصورت اتنی کہ جب وہ باہر نکلتی تو لوگ اسے بے اختیار دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ۔ اسے حیرت تھی کہ جس کی خوبصورتی کو دیکھنے

کے لیے لوگ ترستے ہیں وہ خود کسی کو پسند کرے اور وہ مائل نہ ہو، اسکی طرف دیکھنا گوارہ نہ کرے اپنی انا کی شکست اور خوبصورتی کی توہین پر وہ پاگل ہوگئی اور کوئی ایسا منصوبہ سوچنے لگی جس سے وہ اس نوجوان کو حاصل کرسکے اور اسکا غرور توڑ سکے ، آخر کار شیطان نے اسے ایک ایسا طریقہ سجھا دیا جس میں پھنس کر وہ نوجوان اس کی بات مانے بنا رہ ہی نہیں سکتا تھا اگلے دن جب وہ نوجوان اس گلی سے گزر رہا تھا تو ایک عورت اسکے قریب آئی اور کہنے لگی بیٹا میری مالکن تمہیں بلا رہی ہے ۔ نوجوان نے کہا اماں جی آپ کی مالکن کو مجھ سے کیا کام ہے ، اس عورت نے کہا بیٹا اس نے تم سے کوئی مسلئہ پوچھنا ہے وہ مجبور ہے خود باہر نہیں آسکتی ۔ نوجوان اس عورت کے ساتھ چلا گیا اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہجو عورت اسے بلا رہی ہے اسکا منصوبہ کیا ہے وہ کیا چاہتی ہے وہ تو اپنی فطرتی سادہ دلی کی وجہ سے اسکی مدد کرنے کے لیے اس کے گھر آگیا اسکے ذہن میں تھا کہ شاید کوئی بوڑھی عورت ہے جو اپنی کسی معذوری کی وجہ سے باہر آنے سے قاصر ہے نوکرانی نے اسے ایک کمرے میں بٹھایا اور انتظار کرنے کا کہہ کر چلی گئی ، تھوڑی دیر بعد کمرے میں وہی عورت داخل ہوئی نوجوان نے بے اختیار اپنی نظریں جھکا لی کیونکہ اندر آنے والی عورت بہت خوبصورت تھی ،

نوجوان نے پوچھا جی بی بی آپ نے کونسا مسلئہ پوچھنا ہے ۔ عورت کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ آگئی اس نے اپنے دل کا حال کھول کر رکھ دیا اور کہا کہ میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ میں ایک دفعہ تمہیں حاصل کرلوں نوجوان یہ بات سن کر کانپ گیا اور کہنے لگا اللہ کی بندی اللہ سے ڈرو کیوں گناہ کی طرف مائل ہو رہی ہو ۔ اس نے عورت کو بہت سمجھایا لیکن عورت پر تو شیطان سوار تھا اس نے کہا کہ یا تو تم میری خواہش پوری کرو گے یا پھر میں شور مچاؤں گی کہ تم زبردستی میرے گھر میں داخل ہوئے اور میری عزت پر حملہ کیا نوجوان یہ بات سن کر بہت پریشان ہوا ، اسے اپنی عزت کسی بھی طرح محفوظ نظر نہیں آرہی تھی ، اسکی بات مانتا تو گناہ گار ہوتا نہ مانتا تو لوگوں کی نظر میں برا بنتا ۔

وہ علاقہ جہاں لوگ اسکی شرافت کی مثالیں دیا کرتے تھے وہاں پر اس پر اس قسم کا الزام لگ جائے یہ اسے گوارہ نہیں تھا ، وہ عجیب مصیبت میں پھنس گیا تھا دل ہی دل میں وہ اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوا اور اللہ سے مدد چاہی تو اس کے ذہن میں ایک ترکیب آگئی اس نے عورت سے کہا کہ ٹھیک ہے میں تمہاری خواہش پوری کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے مجھے بیت الخلاء جانے کی حاجت ہے عورت نے اسے بیت الخلاء کا بتا دیا اس نوجوان نے اندر جاکر ڈھیر ساری غلاظت اپنے جسم پر مل لی اور باہر آگیا ، عورت اسے دیکھتے ہیں چلا اٹھی یہ تم نے کیا کیا ظالم ۔ مجھ جیسی نفیس طبعیت والی کے سامنے اتنی گندی حالت میں آگئے ، دفع ہو جاؤ ، نکل جاؤ میرے گھر سے ۔ نوجوان فورا” اس کے گھر سے نکل گیا اور قریب ہی ایک نہر پر اپنے آپ کو اور اپنے کپڑوں کو اچھی طرح پاک کیا اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوا واپس مدرسے چلا گیا نماز کے بعد جب وہ سبق میں بیٹھا تو تھوڑی دیر بعد استاد نے کہا کہ آج تو بہت پیاری خوشبو آرہی ہے ، کس طالب علم نے خوشبو لگائی ہے وہ نوجوان سمجھ گیا کہ اس کے جسم سے ابھی بدبو گئی نہیں اور استاد جی طنز کر رہے ہیں وہ اپنے آپ میں سمٹ گیا اور اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے تھوڑی دیر بعد استاد جی نے پھر پوچھا کہ یہ خوشبو کس نے لگائی ہے

لیکن وہ خاموش رہا آخر کار استاد نے سب کو ایک ایک کرکے بلایا اور خوشبو سونگھنے لگے ۔ اس نوجوان کی باری آئی تو وہ بھی سر جھکا کر استاد کے سامنے کھڑا ہوگیا ، استاد نے اس کے کپڑوں کو سونگھا تو وہ خوشبو اسکے کپڑوں سے آرہی تھی استاد نے کہا کہ تم بتا کیوں نہیں رہے تھے کہ یہ خوشبو تم نے لگائی ہے نوجوان رو پڑا اور کہنے لگا استاد جی اب اور شرمندہ نہ کریں مجھے پتا ہے کہ میرے کپڑوں سے بدبو آرہی ہے لیکن میں مجبور تھا اور اس نے سارا واقعہ استاد کو سنایا استاد نے کہا کہ میں تمہارا مذاق نہیں اڑا رہا خدا کی قسم تمہارے کپڑوں سے واقعی ہی ایسی خوشبو آرہی ہے جو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سونگھی اور یقینا” یہ اللہ کی طرف سے ہے کہ تم نے اپنے آپ کو گناہ سے بچانے کے لیے اپنے آپ کو گندگی لگانا پسند کرلیا لیکن اللہ نے اسی گندگی کو ایک ایسی خوشبو میں بدل دیا جو کہ اس دنیا کی نہیں لگتی کہتے ہیں کہ اس نوجوان کے ان کپڑوں سے ہمیشہ ہی وہ خوشبو آتی رہی (نوٹ ، یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور ایک عالم دین نے اپنے بیان میں سنایا تھا ،

میری ماں کی بھی شادی ہوسکتی ہے کیا ؟

موبا ئل فون کی گھنٹی بجی ، اسکرین پر ہمارے دوست کا نام ظاہر ہوا اور ہم نے بہ سرعت فون ریسیو کرلیا ۔ علیک سلیک کے بعد ہماری باتیں شادی کے موضوع پر گھوم گئیں اور گدگدی پیدا کرتی ہوئی آگے بڑھتی رہیں ۔ اسی بیچ دوست رفیع نے ایک ایسی بات کہی کہ میں بالکل اچھل ہی گیا ۔ رفیع : سلیم بھائی ، ایک بات اور بھی دلچسپ ہے ۔۔۔ میں : ہاں ، یار جلد بتائیے ۔ رفیع : میں اس چھٹی پر گھر گیا تھا تو میں نے الحمد

للہ ابو کا نکاح ثانی کرادیا : گریٹ یار ، سچ میں ؟ دیکھو مذاق مت کرنا پلیز !! رفیع : کیا یار سلیم بھائی ، میں آپ سے جھوٹ کیوں بولوں گا ، کافی سوچ وچار کے بعد یہی مناسب لگا کہ ان کی شادی ہوہی جانی چاہیے ، امی کے انتقال کے بعد ہم سب بھائی اپنی اپنی دنیا میں مست ہیں ، آخر انہیں بھی تو کوئی ساتھی چاہیے تھا ۔ میں : اور کیاسب لوگ آسانیوں سے تیار ہوگئے ؟ رفیع : ارے عزم و ہمت ہو تو دیواریں گر ہی جاتی ہیں ، شروع شروع میں سب پھڑ پھڑائے اور پھر اوقات میں آگئے ۔ میں بالکل اڑ گيا اور ما شاءاللہ شادی ہوکر رہی ۔ میں : یار رفیع ، آج تمہارا نیک ہونا میرے اوپر ثابت ہوگيا ۔ اللہ تیری نیکی قبول کرے ۔

دل سے سلام ۔ میں نے فون رکھ دیا اور ملنے والی اس خبر کی خوشی میں کچھ دیر جھولتا رہا ۔ میرے روم پارٹنر اس بیچ ترکاری پکانے میں مصروف تھے لیکن وہ ہماری باتیں بھی سن رہے تھے ۔ کچھ دیر بعد وہ میرے پاس آئے اور سلسلہ کلام کچھ یوں آگے بڑھا ۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، مرد کی بیوی اگر مر جائے تو اس کی شادی ہونی چاہیے ، یہ دیکھیے رفیع بھائی نے نیک کام کیا اور اپنے والد کا نکاح کروادیا ۔ ۔۔ میں : ہاں اسماعیل بھائی ، بالکل ۔ رفیع بھائی تو کتنے نیک نکلے ، تب سے میں یہی سوچ رہا ہوں ۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، لیکن اگر عورت کا شوہر انتقال کرجائے تو اس کی شادی ہونی چاہیے یا نہیں ؟ میں : کیوں نہیں ، بالکل ہونی چاہیے ، بلکہ مردوں سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ عورتوں کی شادی ہو ۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، لیکن کبھی کیا آپ نے یہ سنا ہے کہ بیٹوں نے یا بیٹیوں نے مل کر ماں کی شادی کی ہو ؟ میں : اسماعیل بھائی ، آج تک تو ایسا نہیں سنا ہے ، اصل میں سماج بھی ایسا بنا ہوا ہے کہ اگر کسی خاتون کے پاس ایک دو اولاد ہوگئی تو اس کی دوسری شادی کے بارے میں سوچا ہی نہیں جاتا ۔

مرد کے بارے میں تو پھر بھی تھوڑی کشادگی پائی جاتی ہے ۔ اسماعیل : لیکن یہ سماج بنایا کس نے ہے ؟ کیا یہ سماج ہم نے نہیں بنایا ہے ۔ آپ کو کیا لگتا ہے؟ یہ شادی کی ضرورت صرف مردوں کو ہوتی ہے یا مساوی طور پر عورتوں کو بھی ہوتی ہے ، آپ سمجھتے ہیں کہ اگر شادی نہ ہو تو ذہنی ، جسمانی اور روحانی کتنے اور کیسے کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟ اسماعیل کے لہجے میں درد اور غصہ دونوں شامل تھا ۔ میں : اسماعیل بھائی ، یہ بات تو بالکل صحیح کہ رہے ہیں لیکن عام حالات میں خود خاتون بھی تو شادی کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، آپ غلط جارہے ہیں ، آپ نے ہم نے سماج ایسا بنایا ہے کہ کوئی عورت یہ جرات کرہی نہیں سکتی ، وہ اپنے سارے ارمان ، اپنی ساری شخصیت اور سارا وجود تج دیتی ہے ۔ اس کے شوہر کی ایک موت ہوتی ہے اور اسے کئی کئی موت سے گزرنا پڑتا ہے لیکن ہم بے حس لوگوں پر کچھ اثر نہیں پڑتا ۔ میں : اسماعیل بھائی ، بات تو آپ بالکل درست کہ رہے ہیں لیکن ۔۔۔۔ اسماعیل : جنا ب ، شاہ اسماعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی کےزمانے میں بھی تو سماج تھا

لیکن انہوں نے کوشش کی تھی یا نہیں ۔ ہم سب نے سماج کے آگے سپر ڈالا ہوا ہے اور اس چکر میں کتنی زندگیاں مرجارہی ہیں ، ہمیں بالکل احساس نہیں ۔ میں محسوس کررہا تھا کہ اسماعیل بھائی کے لہجے میں درد کی ایک دوسری ہی لہر ہے، کسی دوسرے موضوع پر وہ اتنے حساس کبھی نہیں ہوئے تھے ۔میں نے انہیں تھوڑا کریدنا چاہا ۔ میں : اسماعیل بھائی ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس مسئلے سےآپ کا کچھ ۔۔۔۔۔۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، میں پندرہ سال کا تھا جب میرے والد کا انتقال ہوگیا ، امی سے ان کی شادی جب ہوئی تھی ، اس وقت امی کی عمر یہی کوئی سولہ برس تھی ، میں شادی کے ایک سال بعد ہی پیدا ہوگيا تھا ، مجھ سے چھوٹی ایک بہن ہے ۔ ابو جان کی جب موت ہوئی اس وقت امی کی عمر یہی کوئی تینتیس سال چونتیس سال تھی ۔ٹھیک ہے کہ ہم دو ان کی اولاد بھی تھے لیکن ابھی ان کی تو پوری زندگی باقی تھی نا ۔ کسی نے لمحے بھر کے لیے نہیں سوچا کہ ان کی بھی ایک زندگی ہے ۔

میرے نانا صاحب حیثيت آدمی تھے ، ماموں لوگ سب ما شاءاللہ اچھے ہیں ، کسی کے خیال میں نہیں آیا کہ ایک چونتیس سال کی عمر کی لڑکی یہ پوری زندگی ایسے کیسے گزارے گی ۔ سلیم بھائی ، کچھ خواتین کی تو تینتیس سال میں شادی ہوتی ہے اور تینتیس سال کی عمر میں میری ماں کو لباس بیوگی پہناکر ان سے زندگی کی ساری رعنائی چھین لی گئی ۔ ابو جان کے انتقال کے وقت میرا شعور بھی کچھ بہت بالید ہ نہیں تھا لیکن جب آگے بڑھا تو یہ احساس کانٹے کی طرح میرے اندر چبھتا رہتا ہے ، میری ماں نہایت صابر و شاکر خاتون ہے لیکن جب ان کی سہیلیوں کو دیکھتا ہوں تو دل میں ہوک سی اٹھتی ہے ۔آج جب میں پچیس سال کا ہورہا ہوں تو مجھے بہن کی شادی کی فکر ہے ، اپنی شادی کرنی ہے !! میں : اسماعیل بھائی ، تو کیا آپ نے کبھی اپنی ماں سے اس سلسلے میں بات کی ؟ اسماعیل : آج سے دو سال قبل میں نے ماموں کےسامنے بات رکھی تھی ، اس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ امی نے مجھ سے ہفتوں بات نہیں کی ،

انہیں نہ جانے کیوں یہ محسوس ہونے لگا کہ میں ان کے بارےمیں کچھ شک میں گرفتار ہو ں ۔میں نے جب پوری بات ان کے سامنے رکھی تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے ، انہوں نے میرے ماتھے کو چوما ، دعائیں دیں اور کہا تو اتنا کہا : اسماعیل ، اب تم لوگ ہی میری کائنات ہو ، تمہارے ابو کی یادیں ہی میری زندگی ہیں ، اللہ کے لیے اس قسم کی باتیں نہ کیا کرو ، ورنہ لوگ تمہاری ماں کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کرنے لگیں گے ۔ ایک بیوہ کو ایسے بھی بہت سنبھل کر رہنا پڑتا ہے۔۔ میں : اسماعیل بھائی ، آپ کی ماں نے آپ سے صحیح کہا ۔ یہی صورت حال ۔۔۔۔۔۔۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، لیکن یار ۔۔۔۔۔۔( دیر تک وہ کچھ کہے بغیر روتے رہے ،

آنسو رک ہی نہیں رہے تھے ) ہم سب ظالم ہیں ، ہم بہت مطلبی اور خود غرض لوگ ہیں ، جھوٹی شان میں جیتے ہیں ۔ ۔۔۔ ہمیں ۔۔۔( ایک بار پھر ان کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ) میں نے کچھ کہنا چاہا ، الفاظ ابھی ٹھیک سے نکلے بھی نہیں تھے کہ وہ میرے گلے لگ گئے اور بچوں کی مانند رونے لگے ۔دیر تک روتے رہے اور پھر کہا : سلیم بھائی ، میری ماں کی تو شادی نہیں ہوسکتی لیکن کیا ہم اور بیوہ خاتون کے لیے کچھ نہیں کرسکتے ۔ اتنا کہ کر جب انہوں نے میری جانب دیکھا تو ان کے آنسو ایک بار پھر بہنے لگے کہ خود میری آنکھیں بھی بھیگی ہوئی تھیں ۔۔

حقیقی بادشاہی

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم ادھم رحمتہ اللہ علیہ دریا کے کنارے پر بیٹھے اپنی گدڑی سی رہے تھے اچانک وہان سے ایک وزیر کا گزر ہوا اس نے جو حضرت ابراہیم ادھم کو اس حالت میں دیکھا تو بڑی حیرت کا اظہار کیا اور کہنے لگا کہ کس قدر عظیم سلطنت کے مالک ہیں اور فقیری کو اختیار کر رکھا ہے بادشاہ ہو کر فقیروں کی طرح گدڑی سی رہے ہیں جبکہ ادھر ان کے نہ ہونے سے سلطنت برباد ہوئی جا رہی ہے۔حضرت ابراہیم ادھم رحمتہ اللہ علیہ نے کشف کے ذریعے سے اس کے

اس کے دل کو بات معلوم کر لی۔

اور اس کو اپنے قریب بلایا۔ وہ وزیر آپ کے قریب آیا تو آپ نے اس سے فرمایا تو نے اپنی سمجھ کے مطابق بات کی ہے۔ اس کے بعد آپ نے اپنی سوئی دریا میں بھینک دی اور پھر بلند آواز سے پکارا کہ میری سوئی مجھے دو۔ اچانک دریا کے اندر سے ہزاروں مچھلیاں اپنے اپنے منہ میں سونیب کی سوئی دبائے ہوئے پانی سے باہر نکلیں۔ حضرت ابراہیم ادھم رحمتہ اللہ علیہ نے پھر آواز دی ۔

اے اللہ ! مجھے صرف میری سوئی چاہئے چنانچہ اسی وقت ایک دوسری مچھلی برآمد ہوئی جس کے منہ میں حضرت ابراہیم ادھم رحمتہ اللہ علیہ کی سوئی تھی آپ نے سوئی اس مچھلی سے لے لی۔اس کے بعد آپ نے اس وزیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بادشاہی اچھی ہے یا وہ حقیر سلطنت کی بادشاہی۔ پھر خود ہی فرمایا؛ یقیناًیہ بادشاہی حقیقی بادشاہی ہے اور سب سے اچھی ہے۔ یہ سن کر اور دیکھ کر وزیر نے معذرت کی اور اپنی راہ پر چل دیا۔

ایک روز شیطان حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا۔

ایک روز شیطان حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا۔ آپ نے ا س سے دریافت فرمایا، بھلا یہ تو بتلا وہ کونسا کام ہے جس کے کرنے سے تو انسان پر غالب آ جاتا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ جب آدمی اپنی ذات کو بہتر سمجھتا ہے اور اپنے عمل کو بہت کچھ خیال کرتا ہے اور اپنے گناہوں کو بھول جاتا ہے۔ اے موسیٰ! مَیں آپ کو تین ایسی باتیں بتاتا ہوں جن سے آپ کو ڈرتے رہنا چاہئے۔ ایک تو غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھنا، کیونکہ جب کوئی شخص تنہائی میں غیر

میں غیر محرم عورت کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا میں ہوتا ہوں۔

یہاں تک کہ اس عورت کے ساتھ اس کو فتنے میں ڈال دیتا ہوں۔ دوسرے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کرو، اس کو پورا کیا کرو کیونکہ جب کوئی اللہ سے عہد کرات ہے تو اُس کا ہمراہی مَیں ہوتا ہوں یہاں تک کہ اس شخص اور وفاء عہد کے درمیان میں حائل ہو جاتا ہوں۔ تیسرے جو صدقہ نکالا کرو اُسے جاری کر دیا کرو کیونکہ جب کوئی صدقہ نکالتا ہے اور اُسے جاری نہیں کرتا تو میں اس صدقہ اور اس کے پورا کرنے کے بیچ میں حائل ہو جاتا ہوں۔ یہ کہہ کر شیطان چل دیا اور تین بار کہا، ہائے افسوس! مَیں نے اپنے راز کی باتیں موسیٰ سے کہہ دیں۔ اب وہ بنی آدم کو ڈرائے گا۔ (تلبیس ابلیس ص۳۹)

سبق:اپنی ذات کو بہتر سمجھنا، اسی بات سے شیطان خود ہلاک ہوا۔ کیونکہ اُس نے حضرت آدم علیہ السلام سے اپنے آپ کو بہتر سمجھا تھا۔ دین و مذہب تواضع و انکسار سکھاتاہے۔ لیکن دنیا فخر و انانیت سکھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل دنیا اہل دین کو نظرِ حقارت سے دیکھتے اور ان پر پھبتیاں کستے ہیں اور اُن کی حرکت سے شیطان خوش ہوتا ہے کہ وہ اس جیسا کام کر رہے ہیں اپنے عمل کو بھی بہت زیادہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ عمر بھر ایک ایک لمحہ بھی خدا کی یاد میں گزارہ جائے تو بھی کچھ نہیں اور خدا کے بے پایاں انعامات کے مقابلہ میں اس کی کوئی وقعت نہیں۔ ہر حال میں عمل کرو اور نظر خدا کے فضل و کرم پر رکھو اور عمل کر کے اپنے سے اوپر کے لوگوں کو دیکھو تا کہ عمل کر کے غرور پیدا نہ ہو۔ مثلاً اگر پانچ وقت کی نماز پڑھی ہے تو بزرگانِ دین کی طرف دیکھو جنہوں نے پانچ نمازوں کے علاوہ تہجد کی نمازیں اور دیگر نوافل بھی پڑھے ہیں۔ اس طرح اپنے عمل کا “بہت کچھ” ہونا نظر میں نہ رہے گا۔ کسی غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا بہت خطرناک کام ہے۔ ایسی تنہائی میں شیطان ضرور پہنچتا ہے اور اپنا رنگ دکھاتا ہے۔ آج کل نئی تہذیب نے شیطان کا یہ کام بڑا ٓسان کر دیا ہے۔ خدا تعالیٰ سے ہمارا ہر عہد پورا ہونا چاہئے۔ اور شیطان کے بس میں آ کر اس مصرعہ پر عمل نہ کرنا چاہئے کہ:۔ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا!۔

اور صدقہ و خیرات میں تاخیر ہر گز نہ کرنی چاہئے تا کہ شیطان کو رکاوٹ ڈالنے کا موقع نہ مل سکے۔ صدقہ و خیرا شیطان کے لئے ایسا ہے جیسے لکڑی کے لئے آرہ۔ لہٰذا شیطان کو جتنی جلدی ہو سکے اس آرہ کے نیچے لے آنا چاہئے۔

ایک نیک شخص کسی بادشاہ کے پاس نصیحت کرنے کے لئے بیٹھا کرتا تھا

ایک نیک شخص کسی بادشاہ کے پاس نصیحت کرنے کے لئے بیٹھا کرتا تھا اوروہ اس سے کہا کرتا :”اچھے لوگوں کے ساتھ ان کی اچھائی کی وجہ سے اچھا سلوک کرو کیونکہ برے لوگوں کے لئے ان کی برائی ہی کافی ہے۔” ایک جاہل درباری کو اس نیک شخص کی (بادشاہ سے) اس قربت پربہت حسد تھا تو اس نے اس کے قتل کی سازش تیار کی اور بادشاہ سے کہا :”یہ شخص آپ کوبدبودار سمجھتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ کل اس کو اپنے زیادہ قریب کیجئے گا جب یہ آپ کے قریب ہوگا

قریب ہوگا تو وہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لے گا تا کہ آپ کی بدبو سے بچ سکے۔” بادشاہ نے اس سے کہا:

”تم جاؤ میں خود اسے دیکھ لوں گا۔” یہ سازشی وہاں سے نکلا اور اس نیک شخص کواگلے دن اپنے گھر دعوت پر بلا کر لہسن کھلا دیا، وہ نیک آدمی وہاں سے نکل کر بادشاہ کے پاس آیا اور حسبِ عادت بادشاہ سے کہا:” اچھوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ برے کوعنقریب اس کی برائی ہی کافی ہو گی۔” توبادشاہ نے اس سے کہا :”میرے قریب آؤ۔” وہ قریب آیا تو اس نے اس خوف سے اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لیا کہیں بادشاہ لہسن کی بو نہ سونگھ لے، تو بادشاہ نے اپنے دل میں سوچا کہ فلا ں آدمی سچ کہتا تھا۔

اس بادشاہ کی عادت تھی کہ وہ کسی کے لئے اپنے ہاتھ سے صرف انعا م دینے کاہی فرمان لکھا کرتا تھا، لیکن اب کی بار اس نے اپنے ایک گورنر کو اپنے ہاتھ سے لکھا کہ”جب میرا خط لانے والایہ شخص تمہارے پاس آئے تو اسے قتل کر دینا اور اس کی کھال میں بھوسہ بھر کر میرے پاس بھیج دینا۔” اس نیک شخص نے وہ خط لیا اور دربار سے نکلا تو وہی سازشی شخص اسے ملا، اس نے پوچھا: ”یہ خط کیسا ہے؟” نیک شخص نے جواب دیا :

”شائد بادشاہ نے مجھے انعام لکھ کر دیا ہے۔” سازشی شخص نے کہا: ”یہ مجھے ہبہ کر دو۔” تو اس نیک شخص نے بخوشی کہا: ”تم لے لو۔” پھرجب وہ شخص خط لے کر عامل کے پاس پہنچا تو اس عامل نے اس سے کہا :”تمہارے خط میں لکھا ہے کہ میں تمہیں قتل کر دوں اور تمہاری کھال میں بھوسہ بھر کر بادشاہ کو بھیج دوں۔” اس نے کہا :”یہ خط میرے لئے نہیں ہے میرے معاملہ میں اللہ عزوجل سے ڈرو تا کہ میں بادشاہ سے رابطہ کر سکوں۔” تو عامل نے کہا: ”بادشاہ کا خط آنے کے بعد اس سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔” لہٰذا عامل نے اسے قتل کر کے اور اس کی کھال بھوسے سے بھر کر بادشاہ کو بھیج دی، پھر وہی نیک شخص حسبِ عادت بادشاہ کے پاس آیا اوراپنی بات دہرائی:” اچھوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔

” تو بادشاہ نے حیرت زدہ ہو کر اس سے پوچھا: ”تم نے خط کا کیا کیا؟” اس نے جواب دیا : ”مجھے فلاں شخص ملا تھا ،اس نے مجھ سے وہ خط مانگا تو میں نے اسے بخوشی اسے دے دیا۔” تو بادشاہ نے کہا :”اس نے تو مجھے بتا یا تھا کہ تم کہتے ہو کہ میرے جسم سے بُو آتی ہے۔” تو اس نیک شخص نے جواب دیا کہ ” خدا جانتا ہے میں نے تو ایسا نہیں کہا۔” پھر بادشاہ نے پوچھا :”تم نے اپنی ناک پر ہاتھ کیوں رکھا تھا؟” اس نے بتایا :”اسی شخص نے مجھے لہسن کھلا دیا تھا اور میں نے پسند نہ کیا کہ آپ اس کی بو سونگھیں۔” بادشاہ نے کہا: ”تم سچے ہو اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاؤ، برے آدمی کی برائی اسے پہنچ چکی ہے۔”

دوستوں !اللہ عزوجل ہم پر رحم فرمائے حسد کی برائی میں غور کرو۔ نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمانِ عالیشان کی حقیقت جانو : ”اپنے بھائی کی پریشانی پر خوشی کا اظہار مت کرو کہیں اللہ عزوجل اسے اس سے نجات دے۔

بیٹیاں رحمت کیوں ہوتی ہیں؟

شادی کی پہلی رات میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ جب وہ کمرہ میں پہنچ جائیں گے تو پھر دروازہ نہیں کھولیں گے چاہے کوئی بھی آجائے۔ابھی دروازہ بند ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دلہے کے والدین کمرے کے باہر پہنچے تاکہ اپنے بیٹے اور بہو کو نیک تمناؤں اور راحت بھری زندگی کی دعا دے سکیں۔دستک ہوئی بتایا گیا کہ دلہے کے والدین باہر موجود ہیں، دلہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، باوجود اس کے

کہ دلہا دروازہ کھولنا چاہتا تھا اس نے اپنے فیصلے کو مدد نظر رکھا اور دروازہ نہیں کھولا۔ والدین ناکام کھولا۔ والدین ناکام واپس لوٹ گئے۔ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی تھی کہ دلہن کے والدین بھی دلہے کے گھر جا پہنچے تاکہ اپنی بیٹی اور داماد کو اپنی نیک خواہشات ہنچاسکیں، اور انہیں سکھی زندگی کی دعا دے سکیں۔ایک بار پھر کمرے کے دروزے پر دستک دی گئی اور بتایا گیا کہ دلہن کے والدین کمرے کے باہر موجود ہیں۔

دلہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنا فیصلہ ذہن میں تازہ کیا۔باوجود اس کے کہ فیصلہ ہو چکا تھا، دلہن کی آنسوؤں بھری سرگوشی سنائی دی، نہیں میں اپنے والدین کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی اور فوراً دروازہ کھول دیا۔ شوہر نے یہ سب دیکھا مگر دلہن کو کچھ نہ کہا خاموش رہا۔اس بات کو برسوں بیت گئے ان کے ہاں چار بیٹے پیدا ہوئے اور پانچویں بار بیٹی پیدا ہوئی۔

شوہر نے ننھی سی گڑیا کے اس دنیا میں آنے کی خوشی میں ایک بہت بڑی پارٹی کا انتظام کیا اور اس پارٹی میں ہر اس شخص کو بلایا جسے وہ جانتا تھا اوار خوب خوشیاں منائی گئیں۔اس رات بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اتنی بڑی پارٹی کا اہتمام کیا، جبکہ اس سے پہلے چاروں بچوں کی پیدایش پر ہم نے یہ سب کچھ نہیں کیا۔اس بات پر شوہر مسکرایا اور بولا ‘یہ وہ ہے جو میرے لئے دروازہ کھولے گی’۔

انوکھی موت

شبینہ کا تعلق ایک بہت غریب گھرانے سے تھا ۔ وہ کل دو بہنیں تھیں ۔ بڑی بہن کی شادی ہو چکی تھی ۔ باپ کا انتقال ہو چکا تھا ۔ ماں سلائی کڑھائی اور دیگر گھریلو ہنر مندی اور دستکاری وغیرہ سے متعلق کام کر کے جیسے تیسے گھر کا خرچ چلاتی تھی ۔ بہن بیچاری خود ایک سفید پوش گھرانے میں بیاہی گئی تھی پھر بھی حسب مقدور چھوٹی بہن اور بیوہ ماں کا خیال رکھنے کی کوشش کرتی تھی ۔ کچھ رشتہ دار بھی

مدد کر دیا کرتے تھے ۔ اس طرح گزر بسر چل رہی تھی شبینہ گاؤں کے واحد پرائمری اسکول سے پانچویں پاس کرنے کے بعد گھر کے کام کاج کے علاوہ ماں کی محنت مزدوری میں بھی ہاتھ بٹا دیا کرتی تھی جسے روزی روٹی کے حصول کے ساتھ بیٹی کے رشتے کی بھی فکر دامن گیر رہتی تھی کیونکہ اسے گھر بیٹھے اب کافی سال ہو چکے تھے غربت کی وجہ سے کوئی ڈھنگ کا رشتہ آتا ہی نہ تھا یا پھر بات بنتے بنتے رہ جاتی تھی ۔ بس انہی حالات میں دن گزر رہے تھے ۔ پھر اچانک ہی شبینہ کی طبیعت خراب رہنے لگی ۔ ڈاکٹر ہو یا حکیم صاحب ، کسی کو بھی اس کی بیماری کے بارے میں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔ کوئی دوا اس پر اثر نہیں کر رہی تھی ۔ جب اس کی صحت دن بدن جواب دیتی چلی گئی اور

وہ بالکل ہی بستر سے لگ گئی تو کچھ مخیر خدا ترس حضرات کے مالی تعاون سے شہر میں اس کے علاج کا بند و بست کیا گیا ۔ ٹیسٹ وغیرہ ہوئے تو یہ روح فرسا رپورٹ سامنے آئی کہ شبینہ کو بلڈ کینسر کی آخری سٹیج چل رہی ہے اور اب بیماری لا علاج ہو چکی ہے ۔ ڈاکٹروں نے اس کی رپورٹس کی روشنی میں اس کی باقی کی زندگی کے صرف تین ماہ کا امکان ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اب بچی کو گھر پر ہی رکھ کر دوا اور دعا کی جائے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ۔ پھر یہ حال ہؤا کہ شبینہ کو بیڈ سورز ہو گئے ۔ جگہ جگہ سے جسم اُبلے ہوئے آلو جیسا ہو گیا کہ ہاتھ لگنے سے دھنسنے لگتا ۔ پیپ اور خون بہنے لگتا ۔ پورا گاؤں اسے دیکھنے آیا کرتا اور معصوم نوجوان بچی کی اذیتناک حالت دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتا ۔ ایک روز شبینہ نے صبح جاگنے کے بعد ماں کو بتایا کہ

” رات کو کسی آہٹ سے اچانک اس کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ پائینتی کی طرف دو بندے کھڑے ہیں ۔ کمرے میں نیم تاریکی کے باعث ان کے چہرے واضح نہیں تھے ۔ ہاں ان کے سر سے پیر تک سفید لباس کا پتہ چل رہا تھا ۔ جب وہ ان کی طرف دیکھنے لگی تو ایک نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اسے اپنا پنجہ پھیلا کر دکھایا ۔ بس اس کے بعد اسے پھر نیند لگ گئی ” اور اس واقعے کے ٹھیک پانچ روز بعد شبینہ کا انتقال ہو گیا ۔ شکل صورت تو اچھی ہی پائی تھی بیماری کے باعث مرجھا گئی تھی مگر مرنے کے بعد پھر سے تر و تازہ ہو گئی ۔ کفن میں لپٹی ہوئی وہ کوئی شہزادی لگ رہی تھی ۔ یہ ایک بہت ہی روح پرور اور ایمان افروز منظر تھا ۔ عورتیں اسے دیکھنے کے لئے ٹوٹی پڑ رہی تھیں ۔ دیکھے جاتی تھیں مگر ان کا دل بھرتا نہیں تھا ۔ بمشکل اس کا جنازہ اٹھایا گیا ۔ اور ایک عرصے تک گاؤں میں اس انوکھی موت کا چرچا رہ