رزق کی کمی کے اسباب

رزق ایک ایسی نعمت ہے جس کی تقسیم کا اختیار و ذمہ مالکِ کائنات نے اپنے پاس رکھا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ وہ ہر انسان کو طیؔب و طاہر اور پاک رزق عطا فرماتا ہے اور اس رزق میں اضافہ و فراخی کے مواقع بھی بخشتا ہے۔ مگر اکثر انسانوں کی فطرت ہے کہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ رزق کا وعدہ رب تعالٰی کی ذات نے کر رکھا ہے، لہٰذا وہ ہماری قسمت میں لکھا گیا دانہ پانی تقدیر کے مطابق ضرور عطا فرماتا ہے۔

تاہم کچھ لوگ توکؔل اوریقین کی کمی کا شکار ہو کر قبل از وقت، ضرورت سے زیادہ طلب کرتے یا لالچ کا شکار ہو کر بعض اوقات ناجائز و حرام ذرائع کے استعمال سے اپنا حلال کا رزق بھی کھو دیتے ہیں۔ مزید جاننے کے لیے نیچے کلک کریں اللہ تعالٰی اور اس کے حبیب ﷺ نے ہمیں رزقِ حلال کی طلب، کمانے کا طریقہ، تجارت اور کاروبار کے مکمل اصول سکھائے اور بتائے ہیں۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ جب تک ہم اسلامی حدود اورشرعی تعلیمات کے مطابق ملازمت، کاروبار اور تجارت کرتے ہیں تب تک سب کچھ ٹھیک رہتا ہے۔ جب ہم شرعی حدود سے تجاوز اور احکام الٰہی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں تو رزق میں سے برکت اٹھنا شروع ہو جاتی ہے اور یوں بڑی بڑی فیکٹریوں اور کارخانوں کے مالک بھی بھکاری بن جایا کرتے ہیں۔ ناظرین رزق حلال کمانے والوں کے لیے اللہ پاک اپنی رحمت کے خزانے کھول دیتا ہے

دنیا میں باعزت رکھتا ہے آخرت میں بلند درجات سے نوازتا ہے مگر اللہ کو چھوڑ کر مال و دولت کے حصول کا غلام بن جانا سب سے بڑی بدقسمتی ہے اور یہی سب سے بڑی ذلت ہے ناظرین اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم رازق کو بھول جاتے ہیں اور روزے کے پیچھے لگ جاتے ہیں اگر ہم روزی کو چھوڑ کر رازق کے پیچھے لگ جائیں تو روزی خود بخود آپ کے پیچھے ہوگئی رات دیر تک جاگتے رہنے اور صبح کو دیر سے بیدار ہونے کی خراب عادت اب ہماری طرز زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے ہم کبھی یہ جاننے کی زحمت بھی نہیں کرتے کہ یہ بری عادت ہمیں کیا نقصانات پہنچا رہی ہے یا پھر اس عادت سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے تو آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ صبح جلدی کیسے اٹھا جاسکتا ہے ناظرین اگر آپ صبح جلدی اٹھنا چاہتے ہیں تو آپ کو رات کو جلدی سونا ہوگا تاکہ آپ کی نیند پوری ہواور آپ صبح جلدی اٹھ سکیں ظاہر سی بات ہے اگر آپ رات کو دیر سے سوئے گے تو صبح دیر سے ہی اٹھیں گے اور اگر رات کو جلد سوئیں گے تو جلد ہی اٹھیں گے

اور اگر جلدی سے جائیں گے تو صبح جلدی اٹھ جائیں گے پہلے چار سے پانچ دن آپ کو مشکل ہو سکتی ہے لیکن جیسے ہی آپ کو عادت ہو جائے گی تو آپ رات کو جلدی سو جایا کریں گے اور صبح جلدی اٹھ کر نماز ادا کیا کریں گے ناظرین آپ کو پیارے نبی ﷺ کے بارے میں دو ایسی چیزیں بتانے جا رہے ہیں جن کے بارے میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس گھر کے دروازے رشتے داروں کے لیے بند ہو جائیں اور جس گھر میں رات دیر تک جاگنے اور صبح دیر سے اٹھنے کا رواج پیدا ہوجائے تو وہاں رزق کی تنگی اور بے برکتی کو کوئی نہیں روک سکتا اللہ پاک ہم سب کو صبح جلدی اٹھنے اور نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پیارے آقا کے فرمان پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہماری روزی میں برکت پیدا ہوسکے ناظرین یہ بہت اہم چیزیں ہیں جو آج ہم نے آپ کو بتائی جس گھر کے دروازے رشتہ داروں کے لئے بند ہوجائے اور جس گھر میں رات دیر تک جاگنے اور صبح دیر سے اٹھنے کا رواج پیدا ہوجائے تو وہاں رزق کی تنگی اور بےبرکتی کو کوئی نہیں روک سکتا ناظرین یہ بہت ہی اہم معلومات ہے جو ہمارے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا ہے

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں صبح جلدی اٹھنے اور پانچ وقت کی نماز پڑھنے کی تو فیق عطا فرمائے جو لوگ رزق کی خاطر راتوں کی جاگتے ہیں اور دن کو لیٹ اٹھتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ اگر روزی میں برکت چاہتے ہیں تو رات کو جلدی سو جایا کریں اور صبح جلد اٹھ کر نماز ادا کیا کریں اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ہیں لبتہ اب تک باوثوق طریقے سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مذاکرات کا یہ عمل رنگ لائے گا۔

اگر رات کو دورانِ نیند جاگ جائیں

اگر آپ رات کو دوران نیند جاگ جائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا تو اس وقت دعا پڑھ کر اللہ سے جو بھی دعا کریں گے وہ پورہ ہوگی انشاءاللہ جو دعا پڑھنی ہے اگر بات اچھی لگے تو لازمی شئیر کریں شکریہ دعا کی قبولیت کے لیے متعدد اوقات اور جگہیں ہیں جن میں سے ہم کچھ یہاں بیان کرتے ہیں مصیبت آنے سے پہلے ہمیں کیا کرنا چاہیے عبداللہ بن عبید فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسولﷺ سے عرض کیا۔

کہ میں کیا پڑھا کروں اپنی حفاظت کے لیے مصیبتوں کو ٹالنے کے لیے پڑیشانیوں سے بچنے کے لیے میں کیا پڑھوں نبی اکرمﷺ نے ان کو حل بتا رہے ہیں کیا پڑھنا ہے تم نے اپنی مصیبت پریشانی اور غم کو دور کرنے کے لیے اور اتنی چھوٹی چھوٹی دعائیں ہیں ہم یہ نہیں کرتے اگر ہم کسی بیماری میں مبتلا ہوجائیں تو ہم ڈاکٹر کے کہنے پے بہت ساری میڈیسن کھاتے ہیں دل بھی نہیں ہے کرتا میڈیسن کھانے کو لیکن ہم کھاتے ہیں کیوں کے بیماری کو کنٹرول کرنا ہے لیکن اگر ہم وہی کریں مصیبت غم نہ آئے کسی آفت کو دور کرنا ہے تو کنٹرول کے لیے ازکار ہے نہ پیسہ جاتا ہے لیکن وہ ہم سے نہیں ہے ہوتا عبداللہ بن عبید نے کہا اللہ کے رسول اپنی حفاظت کے لیے میں صبح اور شام کے معاملے میں کیا پڑھوں تو نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں ہر صبح اور شام تین تین مرتبہ تم سورۃ اخلاص پڑھو پھر تین

مرتبہ سورۃ فلک پڑھیں پھر فرمایا تین مرتبہ سورۃ الناس پڑھو مطلب تینوں سورۃ ایک ساتھ پڑھیں ہر وقت پریشانی والی چیز سے اللہ پاک محفوظ رکھے گا صحابی فرمارہے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا اگر کوئی پریشانی مصیبت آجائے تو صبح شام تین تین مرتبہ سورۃ اخلاص سورۃ فلک اور سورۃ الناس کو تین تین بار پڑھا کرو یہ تمہارے لیے کافی ہو جائے گا مصیبتوں کے لیے پریشانیوں کے لیے۔

ایسے 7 اعمال

ایسے اعمال جن کی اصلاح نہ ہوتو وہ ہمیشہ پریشانی اورغربت کا شکارہوجاتے ہیں توایسے سات سوالوں کی طرف میں آپ کی توجہ دلائوں گا کہ جن کی اصلاح آپ لوگوں کوکرنی چاہیے اگرآپ کوئی بھی وظائف کررہے ہیں توساتھ میں یہ اعمال اپنی زندگی میں کررہے ہیں اور دیکھنے میں بھی آتا ہے یہ سات اعمال اکثرگھروں میں پائےجاتے ہیں توان کی پریشانی دورنہیں ہے ہوتی وہ اورپریشانی میں گرتے چلےجاتے ہیں۔ سب سے پہلا جوعمل ہے جلدی جلدی نمازپڑھنے سےغربت آتی ہے بہت سارے لوگ ایسے ہیں جوجلدی جلدی نمازپڑھنے کےعادی ہوتے ہیں جو لوگ سکون کے ساتھ نماز نہیں ہے پڑھتے ان کے لئے یہ بری خبر ہے کہ اگرآپ جلدی جلدی نمازپڑھنے کے عادی ہیں تو پریشانی آپ کے پاس سے جائے گی نہیں بلکے اور پریشانی آئے گی۔

ایسی کے ساتھ عمل نمبر2 بہت سے لوگ میں نے دیکھے ہیں جو کھڑے ہوکر پیشاب کرتے ہیں بغیرکسی مجبوری کے کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کرنا چاہیے اگرکوئی مجبوری ہے آپ کسی ایسی جگہ گئے ہیں جہاں آپ بیٹھ کرپیشاب نہیں کرسکتے اگرکوئی حالت مجبوری ہو تب توآپ کرسکتے ہیں لیکن اس کو عادت بنا لینا ابھی بات نہیں ہے تو کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے بہت زیادہ حالات بگرجاتے ہیں اس سے خاص طور پربچنا چاہیےاورپیشاب کے قطروں سے بھی بچنا چاہیے۔ نمبرتین پیشاب کی جگہ وضو کرنے سے برکتیں اٹھ جاتی ہیں بہت سے گھرایسے ہیں جہاں پیشاب کی جگہ بھی ساتھ ہے نہانے کی جگہ بھی ساتھ ہے اوربیسن بھی ساتھ ہی ہے بلکل پاس پاس بنی ہوئی ہیں پیشاب کی جگہ پے وضوکرنے سے آپ کی برکتیں اٹھ جاتی ہیں اگرآپ کے پاس کوئی اور جگہ نہیں ہے جہاں آپ وضونہیں کرسکتے تو حالت مجبوری آپ وہاں پروضو کرسکتے ہیں تھورا سا ہٹ کے واشروم کا دروازہ کھول کر اس طرح آپ کر سکتے ہیں لیکن اگرآپ کے گھرکوئی اورجگہ موجود ہے لیکن پھربھی آپ پیشاب والی جگہ جا کروضوکریں گے تواس سے کیا ہوگا آپ کے گھر سے برکتیں اٹھ جائیں گی۔ اسی طرح نمبر چارکھڑے ہوکرپانی پینے سے بہت سارے لوگ ایسے ہیں جوکھڑے ہوکر پانی پیتے ہیں الٹے ہاتھ سے بھی پانی پی رہے ہیں اورکھڑے ہو کر بھی پانی پی رہے ہیں خود کواوراپنے بچوں کواس طرح سے آپ تربیت دیں کے کھڑے ہوکرپانی نہ پیئیں بیٹھ کرپانی پینا سنت ہے وہ بھی تین گھونٹ میں بعض اوقات ایسے ہوتا ہےکوئی ایسی جگہ ہوتی ہے۔

جہاں بیٹھ نہیں سکتے حالت مجبوری پرآپ کھڑے ہوکرپانی پی سکتے ہیں لیکن اس کوعادت بنا لینا یہ جو ہے خطرناک ہوسکتا ہے تواس سے کیا ہوتا ہے گھرپرغریبی کےاثرات آنے لگ جاتے ہیں یہ چوتھا عمل ہے اس سے آپ کو بچنا چاہیے۔ اب آتے ہیں عمل نمبر 5 منہ سے چراغ بجھانے سے بہت سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو منہ سے چراغ بجھاتے ہیں اسی طرح ماچس ہے اسے بھی آپ منہ سے بجھاتے ہیں یہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے کسی بھی آگ کو منہ سے نہ بجھائیں کوشش کریں اس کوکسی اور زریعےسے بجھایا جائےاگر آپ منہ سے ہی بجھائیں گے توآپ کو زندگی میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پرے گا یہ باتیں عجیب لگ رہی ہوں گی لیکن واقعی ایسے ہوتا ہے منہ سے چراغ بجھانا نہیں ہے چاہیے ہاتھ سے یا پھر کسی اورچیز سے آپ کو آگ بجھانی چاہیے۔ نمبرچھ دانت سے ناخن کاٹنے سے رکاوٹیں آنےلگ جاتی ہیں۔ بہت سارے لوگ ملتے ہیں جواپنے ناخن اپنے دانتوں سے کاٹتے ہیں اوران کو نخن کٹر کی ظرورت ہی نہیں ہے پرتی دانتوں سے ںاخن کو کاٹنے سے رکاوٹیں آپ کے کاموں میں آتی ہیں۔ اسی طرح سے نمر سات دامن یا آستین سے منہ صاف کرنے سے غربت منڈلانے لگتی ہے کافی زیادہ لوگ ایسے ہیں جو کھانا کھانے کے بعد اپنے منہ کو اپنے دامن یا آستین سے صاف کرلیتے ہیں یا کوئی بھی چیز کھا لیں آپ کا منہ گندا ہو گیا تو اس کو آستین سے صاف کرلیا آپ نے اپنے دامن یا آستین وغیرہ کا سہارا نہیں ہے لینا بس تھوری سی آپ محنت کرلیں اپنے پاس کوئی ٹشو یا رومال رکھ لیں کہ جس سے ضرورت پڑھنے سے آپ اپنا منہ صاف کرلیں تواسطرح سے کرنا چاہیے۔

دامن یا آستین سے منہ کو صاف نہیں ہے کرنا چاہیے اس طرح سے آپ کے کپڑے بھی گندے ہوں گے اوراس طرح سے غربت بھی منڈلانے لگتی ہے۔ یہ بہت ہی خطرناک چیز ہے اس سے بچیں بہت سارے لوگ ایسے ہوں گے جوکہیں گے کہ اس سے کیا ہوگا اس سے بہت کچھ ہوتا ہے آپ کو اس سے بچنا چاہیے یہ ہو گئے ہیں سات اعمال جس سے غربت کے آثارآنے لگتے ہیں۔ ان تمام چیزوں پرعمل کریں اوردوسروں تک بھی شیئرکریں تاکہ اورکوئی بھی ان غلطیوں سے بچ سکے اچھی باتوں کو شیئر کرنا صدقہ جاریا ہے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں جزاک اللہ خیر

آدمی اپنی بیوی کو دنیا کی عورتوں سے

ایک شخص ایک تجربہ کار عالم دین کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : جب میں نے اپنی بیوی کو شادی سے پہلے پسند کیا تو ایسا محسوس ہوتا کہ اللہ نے دنیا میں اس جیسا کسی کو نہیں بنایا اور جب اس کو نکاح کا پیغام بھیجا تو مجھے محسوس ہوا کہ بہت سی دوسری عورتیں بھی خوبصورتی میں اس کے مثل ہیں. اور پھر جب میں نے اس سے شادی کر لی تو مجھے محسوس ہوا کہ بہت سی عورتیں تو اس سے زیادہ خوبصورت ہیں.

پھر جب ہماری شادی کو کچھ عرصہ بیت گیا تو مجھے ہوا کہ دنیا کی تمام ہی عورتیں میری بیوی سے زیادہ بہتر ہیں تو اس دانا عالم نے فرمایا : اگر تم دنیا کی تمام عورتوں سے نکاح کر لو تو تم سڑکوں پر آوارہ پھرنے والے کتوں کو ان عورتوں سے اچھا جاننے لگو تو اس شخص نے حیرت سے پوچھا : کہ آپ نے ایسا کس لئے فرمایا ؟ تو وہ دانا عالم فرمانے لگے : “اس لئے کہ مسئلہ تمہاری بیوی کا نہیں ، مسئلہ یہ ہے کہ انسان کو جب حریص نفس، بھٹکتی آنکھیں اور خوف اللہ سے خالی دل دیا گیا ہو تو اس کی آنکھ کو قبر کی مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی . اے انسان ! تیرا مسئلہ یہ ہے کہ تو اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے اپنی نگاہوں کی حفاظت نہیں کرتا . کیا تمہیں ایسا عمل نا بتاوں جس سے تمہاری بیوی تمہیں روز اول کی طرح محبوب لگنے لگے؟ تو اس شخص نے کہا : کیوں نہیں ، ضرور بتائیے. وہ دانا عالم فرمانے لگے: اپنی نگاہوں کو جھکا کر رکھو، اس لیے کہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے۔

قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُم ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُون۔

ترجمہ : اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایمان والوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہوں کو جھکائے رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے ، اور بے شک جو تم کرتے ہو اللہ پاک اس سے خوب باخبر ہیں

جمعہ کے دن اللہ پاک کا ایک نام پڑھ لیں انشاءاللہ رزق میں اضافہ ہوگا

ے شک اﷲ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ، اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود وسلام بھیجو“۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے ، اسی دن حضرت آدم عليه السلام پیدا کئے گئے ، اسی دن جنت میں داخل کئے گئے ، اسی دن جنت سے نکالے گئے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی“۔(مسلم )نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمای“تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، اس دن کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھے پہنچایا جاتا ہے۔

” قیامت کے دن سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجتے ہیں “۔ ( ترمذی)ایک سائل حضرت علیؓ کے پاس آ یا اور عرض کی کہ مجھے کچھ دیجئے ،میں تنگدست ہوں، حضرت علی ؓ کے پاس اس وقت دینے کے لئیے کوئی چیز نہ تھی، آپ نے دس بار درود پڑھ کر سائل کی ہتھیلی پر پھونک مار کر فرمایا ہتھیلی بند کر دو، سائل نے باہر جا کر جب ہتھیلی کھولی تو سونے کے دنیاروں سے بھری پڑی تھی۔سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری قبر کو عبادت گاہ نہ بناؤ ، اور مجھ پر درود بھیجو ، بلا شبہ تمہارا درود مجھ تک پہنچتا ہے ، چاہے تم جہاں رہو“۔ (ابوداؤد)سیدنا علی بن ابی طالبؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “حقیقی معنوں میں بخیل وہ شخص ہے ، جس کے پاس میرے نام کا تذکرہ ہوا ، لیکن اس نے مجھ پر درود نہیں بھیجا “۔(ترمذی) حضرت عبد ا ﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔

جو شخص مجھ پر بکثرت درود شریف پڑھتا ہے ، قیامت کے روز وہ سب سے زیادہ میرے قریب ہوگا ۔ (ترمذی)اس لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک سن کر کم از کم صلی اللہ علیہ وسلم کہے ۔ُُمشکل جو سر پر آپڑی تیرے ہی نام سے ٹلیمشکل کشا ہے تیر انام تج پر لاکھوں درودوسلامدرودشریف ایک دعا بھی ہے جس سے اﷲ کے پیارے رسول ﷺ پر رحمت طلب کی جاتی ہے اور سلامتی بھی طلب کی جاتی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ، اطاعت اور محبت کے علاوہ،

روزانہ 300 بار پڑھ لیں

انسان کی زندگ میں اتار چھڑھاؤ آتا رہتا ہے اس کو کبھی خوشی ملتی ہے تو کبھی غم کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی اس کی صحت اچھی ہوتی ہے تو کبھی بیماریوں نے گھیر رکھا ہوتا ہے۔ کبھی وافر مقدار میں رزق ہوتا ہے پیسوں کی ریل پیل ہوتی ہے تو کبھی ایک وقت کے کھانے کو نہیں ہوتا ۔ کبھی وسائل تو کبھی مسائل ۔ یہ تمام چیزیں انسان کی زندگی کا حصہ ہے اور مرتے دم تک یہ چلتے رہتے ہیں لیکن اصل کمال تو یہ ہے کہ انسان ہر ھالت میں اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کی طرف سے کسی بھی بھیجی جانے والی حالت میں خوش رہے۔

انسان کو اللہ سے مانگنا چاہئے کیونکہ کسی بابے کے پاس کسی دربار پر کچھ نہیں ملتا جو ملتا ہے اللہ سے ملتا ہے اس لئے تنہائی میں اس کو یاد کرنا چاہئے اس کے آگے سر بسجود ہو کر اپنے مسائل پیش کرنے چاہئے تب جاکر اللہ بھی نوازتا ہے ۔ آج ہم آپ کو ایک ایسا وظیفہ بتانے جارہے ہیں جس کے پڑٖھنے سے رزق کی تنگی ختم ہو جائے گی ۔ بے روزگی نہیں رہے گی اور اگر کاروبار ہے تو اس میں ایسی برکت آئے گی کہ پھر سنبھالنے سے بھی نہیں سنبھلے گا ۔ یہ وظیفہ بس رات کو سونے سے پہلے کر لیا کریں اور پھر اس کے کمالات دیکھیں ۔ اس وظیفہ سے پہلے 3 بار درود شریف پڑھے اگر درود ابراہیمی ہو تو زیادہ بہتر ہے اس کے بعد یا مجیب یا وھاب 300 مرتبہ پڑھیں اور پھر درود شریف پڑھ لیں اس کے بعد اپنے حاجت کے لئے دعا کریں اور سو جائیں مال و دولت میں اضافے کیلئے یَاوَھَّابُ یَارَزَّاقُ کا وظیفہ بہت مؤثر ہے‘ اس لیے اضافہ کے خواہش مند شخص کو چاہیے کہ شام کی نماز کے بعد نوافل اوابین پڑھے ‘اس کے بعد دو رکعت نفل اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے پڑھے۔

ان نوافل کی ہر رکعت میں الحمدشریف اور سورت پڑھنے کے بعد ایک سو مرتبہ درج بالا وظیفہ پڑھے۔ نوافل کے بعد سر سجدے میں رکھ کر ایک سو گیارہ مرتبہ پھر یہی وظیفہ پڑھے۔ اس کے بعد سجدے ہی میں اضافہ رزق کی دعا کرے۔ انشاء اللہ بے پناہ مال و دولت میں اضافہ ہوگا اور یہ عمل ایک سال تک جاری رکھے۔

عمل اچھا لگا ہو تو لازمی ایسے اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر کریں

یہ چیز کھاکر 80 سال کا بوڑھا بھی بھاگے

ادرک عام استعمال ہونے والی ایسی جڑی بوٹی ہے جو بدہضمی سے لے کر جسمانی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے تک متعدد فوائد کی حامل ہے۔ ادرک کے فوائد و خصوصیت کے لحاظ سے اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں پائی جانے والی نعمتوں کے حوالے سے ارشاد فرمایا ہے کہ ”وہاں انہیں ایسا مشروب پلایا جائے گا جس میں ادرک بھی ملا ہوا ہو گا“۔ قدیم چینی طریقہ علاج میں ادرک کو پٹھوں اور جوڑوں کی تکالیف کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا تھا تاہم اب ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے بھی ادرک کے طبی فوائد پر تحقیق کر کے اسے جوڑوں اور پٹھوں کی تکالیف سے نجات کا موثر ذریعہ قرار دیا ہے۔

چین کی مشہور بوٹی جن سنگ جو متعدد امراض میں بطور دوا استعمال کی جاتی ہے دراصل ادرک ہی کی ایک قسم ہے۔ امریکی ریاست جارجیا میں کی جانے والی اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ادرک کا روزانہ استعمال پٹھوں کے ساتھ ساتھ جوڑوں کی تکالیف سے حفاظت کابھی انتہائی مؤثر ذریعہ ہے ایک طبی جریدے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ادرک کا استعمال پٹھوں کے درد میں بیس سے پچیس فیصد تک کمی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بھی پڑھیے : ادرک کی چائے کے حیرت انگیز فوائد، ادرک کی چائے بنانے کا طریقہ غذائی ماہرین کے مطابق ادرک میں گٹھیا اور جوڑوں کا درد کم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، ادرک میں موجود جنجرول نامی مرکب سوزش اور درد دور کرتا ہے۔ ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جب گھٹنوں کی تکلیف میں مبتلا لوگوں کو ادرک کے اجزا کھلائے گئے تو تکلیف میں کمی محسوس ہوئی۔ جوڑوں اور پٹھوں کی تکالیف کا علاج اگر آپ کو کمر میں درد ہے، یا آپ جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے پریشان ہیں۔

پیارے نبی کریمﷺ کا رونا

صحابہ اکرمؓ اجمین کی حا لت پر پیارے نبی کریم ﷺکا رونا حضرت علیؓ فرما تے ہیں۔ میں سردی کی وقت اپنے گھر سے نکلابھوک بھی لگی ہوئی تھی بھوک کے مارے برا حال تھا سردی بھی بہت تنگ کر رہی تھی ہمارے ہاں بغیر رنگی ہوئی کھال پڑی تھی جس میں سے کچھ بو بھی آرہی تھی اسے میں نے کاٹ کر گلے میں ڈال لیا اور اپنے سینے سے با ندھ لیا تا کہ اس کے ذریعہ کچھ تو گرمی حاصل ہو۔

اللہ کی قسم گھر میں میرے کھانے کی کوئی چیز نہیں تھی اگر حضور اقدسﷺکے گھر تو (وہ مجھے مل جاتی ) وہاں بھی کچھ نہیں تھامیں مدینہ منورہ کی ایک طرف کو چل پڑا وہاں ایک یہودی اپنے باغ میں تھا میں نے دیوار کے سوراخ سے اس کی طرف جھانکااس نے کہا اے عربی !کیا با ت ہے؟(مزوری پر کام کروگے) ایک ڈول پانی نکالنے پر ایک کھجور لینے کو تیار ہو؟میں نے کہا ہاں باغ کا دروازہ کھولو۔ اس نے دروازہ کھول دیا۔میں اندر گیا اور ڈول نکالنے لگااور وہ مجھے ہر ڈول پر ایک کھجوردیتا رہا ۔ یہاں تک کہ میری مٹھی کھجوروں سے بھر گئی اور میں نے کہا اب مجھے اتنی کھجوریں کافی ہیں ۔پھر میں وہ کھجوریں کھائیں اور بہتے پانی سے منہ لگا کر پیا۔پھر میں حضور ﷺ کی خدمت میں آیا ۔ اور مسجد میں آپ کے پاس بیٹھ گیا ۔حضور اقدسﷺ اپنے صحابہ کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے اتنے میں حضرت مصب بن عمیرؓ اپنے پیوند والی چادر اورھے ہوئے آئے۔جب حضور اقدس ﷺ نے انہیں دیکھا تو ان کا نازونعمت والا زمانہ یا دآگیا اور اب انکی موجودہ حالت فقروفاقہ والی حالت بھی نظرآرہی تھی اس پرحضور ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور آپ رونے لگے پھر آپ نے فرمایا۔

(آج تو فقروفاقہ اور تنگی کا زمانہ ہے لیکن) تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم میں ہر آدمی صبح ایک جوڑہ پہنے گا اور شام کو دوسرا اور تمہارا گھروں پر ایسے پردے لٹکائے جائیں گے جیسے کعبہ پر لٹکائے جاتے ہیں ۔ہم نے کہا پھر تو ہم اس زمانے میں زیادہ بہتر ہوں گے۔ضرورت کے کاموں میں دوسرے لگا کریں گے ہمیں لگنا نہیں پڑئے گا اور ہم عبادت کے لئے فارغ ہو جائیں گے۔حضورﷺ نے فرمایا نہیں آج تم اس دن سے بہتر ہو(کہ دین کا کام تم تکلیفوں اور مشقت کے ساتھ کر رہے ہو۔

پیارے نبی کریمﷺ کا رونا

صحابہ اکرمؓ اجمین کی حا لت پر پیارے نبی کریم ﷺکا رونا حضرت علیؓ فرما تے ہیں۔ میں سردی کی وقت اپنے گھر سے نکلابھوک بھی لگی ہوئی تھی بھوک کے مارے برا حال تھا سردی بھی بہت تنگ کر رہی تھی ہمارے ہاں بغیر رنگی ہوئی کھال پڑی تھی جس میں سے کچھ بو بھی آرہی تھی اسے میں نے کاٹ کر گلے میں ڈال لیا اور اپنے سینے سے با ندھ لیا تا کہ اس کے ذریعہ کچھ تو گرمی حاصل ہو۔

اللہ کی قسم گھر میں میرے کھانے کی کوئی چیز نہیں تھی اگر حضور اقدسﷺکے گھر تو (وہ مجھے مل جاتی ) وہاں بھی کچھ نہیں تھامیں مدینہ منورہ کی ایک طرف کو چل پڑا وہاں ایک یہودی اپنے باغ میں تھا میں نے دیوار کے سوراخ سے اس کی طرف جھانکااس نے کہا اے عربی !کیا با ت ہے؟(مزوری پر کام کروگے) ایک ڈول پانی نکالنے پر ایک کھجور لینے کو تیار ہو؟میں نے کہا ہاں باغ کا دروازہ کھولو۔ اس نے دروازہ کھول دیا۔میں اندر گیا اور ڈول نکالنے لگااور وہ مجھے ہر ڈول پر ایک کھجوردیتا رہا ۔ یہاں تک کہ میری مٹھی کھجوروں سے بھر گئی اور میں نے کہا اب مجھے اتنی کھجوریں کافی ہیں ۔پھر میں وہ کھجوریں کھائیں اور بہتے پانی سے منہ لگا کر پیا۔پھر میں حضور ﷺ کی خدمت میں آیا ۔ اور مسجد میں آپ کے پاس بیٹھ گیا ۔حضور اقدسﷺ اپنے صحابہ کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے اتنے میں حضرت مصب بن عمیرؓ اپنے پیوند والی چادر اورھے ہوئے آئے۔جب حضور اقدس ﷺ نے انہیں دیکھا تو ان کا نازونعمت والا زمانہ یا دآگیا اور اب انکی موجودہ حالت فقروفاقہ والی حالت بھی نظرآرہی تھی اس پرحضور ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور آپ رونے لگے پھر آپ نے فرمایا۔

(آج تو فقروفاقہ اور تنگی کا زمانہ ہے لیکن) تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم میں ہر آدمی صبح ایک جوڑہ پہنے گا اور شام کو دوسرا اور تمہارا گھروں پر ایسے پردے لٹکائے جائیں گے جیسے کعبہ پر لٹکائے جاتے ہیں ۔ہم نے کہا پھر تو ہم اس زمانے میں زیادہ بہتر ہوں گے۔ضرورت کے کاموں میں دوسرے لگا کریں گے ہمیں لگنا نہیں پڑئے گا اور ہم عبادت کے لئے فارغ ہو جائیں گے۔حضورﷺ نے فرمایا نہیں آج تم اس دن سے بہتر ہو(کہ دین کا کام تم تکلیفوں اور مشقت کے ساتھ کر رہے ہو۔

جیب بھر دینے والا چھوٹا سا وظیفہ

انسان کی زندگ میں اتار چھڑھاؤ آتا رہتا ہے اس کو کبھی خوشی ملتی ہے تو کبھی غم کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی اس کی صحت اچھی ہوتی ہے تو کبھی بیماریوں نے گھیر رکھا ہوتا ہے۔ کبھی وافر مقدار میں رزق ہوتا ہے پیسوں کی ریل پیل ہوتی ہے تو کبھی ایک وقت کے کھانے کو نہیں ہوتا ۔ کبھی وسائل تو کبھی مسائل ۔ یہ تمام چیزیں انسان کی زندگی کا حصہ ہے اور مرتے دم تک یہ چلتے رہتے ہیں لیکن اصل کمال تو یہ ہے کہ انسان ہر ھالت میں اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کی طرف سے کسی بھی بھیجی جانے والی حالت میں خوش رہے۔ انسان کو اللہ سے مانگنا چاہئے کیونکہ کسی بابے کے پاس کسی دربار پر کچھ نہیں ملتا جو ملتا ہے اللہ سے ملتا ہے۔

اس لئے تنہائی میں اس کو یاد کرنا چاہئے اس کے آگے سر بسجود ہو کر اپنے مسائل پیش کرنے چاہئے تب جاکر اللہ بھی نوازتا ہے ۔ آج ہم آپ کو ایک ایسا وظیفہ بتانے جارہے ہیں جس کے پڑٖھنے سے رزق کی تنگی ختم ہو جائے گی ۔ بے روزگی نہیں رہے گی اور اگر کاروبار ہے تو اس میں ایسی برکت آئے گی کہ پھر سنبھالنے سے بھی نہیں سنبھلے گا ۔ یہ وظیفہ بس رات کو سونے سے پہلے کر لیا کریں اور پھر اس کے کمالات دیکھیں ۔ اس وظیفہ سے پہلے 3 بار درود شریف پڑھے اگر درود ابراہیمی ہو تو زیادہ بہتر ہے اس کے بعد یا مجیب یا وھاب 300 مرتبہ پڑھیں اور پھر درود شریف پڑھ لیں اس کے بعد اپنے حاجت کے لئے دعا کریں اور سو جائیں مال و دولت میں اضافے کیلئے یَاوَھَّابُ یَارَزَّاقُ کا وظیفہ بہت مؤثر ہے‘ اس لیے اضافہ کے خواہش مند شخص کو چاہیے

کہ شام کی نماز کے بعد نوافل اوابین پڑھے ‘اس کے بعد دو رکعت نفل اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے پڑھے۔ ان نوافل کی ہر رکعت میں الحمدشریف اور سورت پڑھنے کے بعد ایک سو مرتبہ درج بالا وظیفہ پڑھے۔ نوافل کے بعد سر سجدے میں رکھ کر ایک سو گیارہ مرتبہ پھر یہی وظیفہ پڑھے۔ اس کے بعد سجدے ہی میں اضافہ رزق کی دعا کرے۔ انشاء اللہ بے پناہ مال و دولت میں اضافہ ہوگا اور یہ عمل ایک سال تک جاری رکھے۔

عمل اچھا لگا ہو تو لازمی ایسے اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر کریں