نبی کریم ﷺ نے فرمایا جن عورتوں میں یہ نشانیاں ہوں وہ بہت بابرکت عورتیں ہوتی ہیں ،آپ بھی پڑھئے وہ کونسی نشانیاں ہیں؟‎

حضرت عائشہؓ ارشاد فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ جن عورتوں میں یہ نشانیاں ہوں وہ بہت ہی بابرکت ہوتی ہیں. عورت کی بابرکت ہونے کی علامات میں سے ہے کہ ۔نمبر ایک : اس کی طرف رشتہ بھیجنے اوررشتہ منظور ہونے میں آسانی ہو ،.نمبر دو : اس کا مہر آسان ہو یعنی بہت زیادہ پحیپدہ نہ ہو . نمبر تین : اس کے ہاں بچوں کی پیدائش میں آسانی ہو .جن عورتوں میں یہ نشانیاں پائی جاتی ہیں وہ بہت ہی بابرکت ہوتی ہیں. یہ بھی پڑھیے حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ

’’آپ ﷺ کی زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا؟‘‘حضورﷺ نے فرمایا
والدہ نے سات دن دودھ پلایا‘ آٹھویں دن دشمن اسلام ابو لہب کی کنیز ثوبیہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا‘ ثوبیہ نے دودھ بھی پلایا اور دیکھ بھال بھی کی‘ یہ چند دن کی دیکھ بھال تھی‘ یہ چند دن کا دودھ تھا لیکن ہمارے رسولؐ نے اس احسان کو پوری زندگی یاد رکھا‘ مکہ کا دور تھا تو ثوبیہ کو میری ماں میری ماں کہہ کر پکارتے تھے‘ ان سے حسن سلوک بھی فرماتے تھےان کی مالی معاونت بھی کرتے تھے‘ مدنی دور آیا تو مدینہ سے ابولہب کی کنیز ثوبیہ کیلئے کپڑے اور رقم بھجواتے تھے‘ یہ ہے شریعت۔

حضرت حلیمہ سعدیہ رضاعی ماں تھیں‘ یہ ملاقات کیلئے آئیں‘ دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور میری ماں‘ میری ماں پکارتے ہوئے ان کی طرف دوڑ پڑے‘ وہ قریب آئیں تو اپنے سر سے وہ چادر اتار کر زمین پر بچھا دی جسے ہم کائنات کی قیمتی ترین متاع سمجھتے ہیں‘ اپنی رضاعی ماں کو اس پر بٹھایا‘ غور سے ان کی بات سنی اور ان کی تمام حاجتیں پوری فرما دیں‘ یہ بھی ذہن میں رہے‘ حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں‘ فتح مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئی‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سو درہم عنایت کئے‘ رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی‘ پتہ چلا تو انہیں بلایا‘ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا‘ اپنے ہاں قیام کی دعوت دی‘حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی‘ رضاعی بہن کو غلام‘ لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا ‘

یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں‘ یہ ہے شریعت۔13 جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے‘ ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے‘ لکھانے اور سکھانے کے عوض رہا کیا گیا‘ حضرت زید بن ثابتؓ کو عبرانی سیکھنے کا حکم دیا‘ آپؓ نے عبرانی زبان سیکھی اور یہ اس زبان میں یہودیوں سے خط و کتابت کرتے رہے‘ کافروں کا ایک شاعر تھا‘سہیل بن عمرو۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں بھی کرتا تھا اور توہین آمیز شعر بھی کہتا تھا‘ یہ جنگ بدر میں گرفتار ہوا‘ سہیل بن عمرو کو بارگاہ رسالت میں پیش کیا گیا‘ حضرت عمرؓ نے تجویز دی‘ میں اس کے دو نچلے دانت نکال دیتا ہوں‘ یہ اس کے بعد شعر نہیں پڑھ سکے گا‘ تڑپ کر فرمایا ’’ میں اگر اس کے اعضاء بگاڑوں گا تو اللہ میرے اعضاء بگاڑ دے گا‘‘ سہیل بن عمرو نے نرمی کا دریا بہتے دیکھا تو عرض کیا ’’ مجھے فدیہ کے بغیر رہا کر دیا جائے گا‘‘ اس سے پوچھا گیا’’کیوں؟‘‘ سہیل بن عمرو نے جواب دیا ’’ میری پانچ بیٹیاں ہیں‘

میرے علاوہ ان کا کوئی سہارا نہیں‘‘ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن عمرو کو اسی وقت رہا کر دیا‘ یہاں آپ یہ بھی ذہن میں رکھئے‘ سہیل بن عمرو شاعر بھی تھا اور گستاخ رسول بھی لیکن رحمت اللعالمینؐ کی غیرت نے گوارہ نہ کیا‘ یہ پانچ بچیوں کے کفیل کو قید میں رکھیں یا پھر اس کے دو دانت توڑ دیں‘ یہ ہے شریعت ۔غزوہ خندق کا واقعہ ملاحظہ کیجئے‘عمرو بن عبدود مشرک بھی تھا‘ ظالم بھی اور کفار کی طرف سے مدینہ پر حملہ آور بھی ۔ جنگ کے دوران عمرو بن عبدود مارا گیا‘ اس کی لاش تڑپ کر خندق میں گر گئی‘ کفار اس کی لاش نکالنا چاہتے تھے لیکن انہیں خطرہ تھا‘ مسلمان ان پر تیر برسادیں گے‘ کفار نے اپنا سفیر بھجوایا‘ سفیر نے لاش نکالنے کے عوض دس ہزار دینار دینے کی پیش کش کی‘ رحمت اللعالمینؐ نے فرمایا ’’میں مردہ فروش نہیں ہوں‘ ہم لاشوں کا سودا نہیں کرتے‘ یہ ہمارے لئے جائز نہیں‘‘ کفار کو عمرو بن عبدود کی لاش اٹھانے کی اجازت دے دی ‘خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تورات کے نسخے پڑے تھے‘ تورات کے سارے نسخے اکٹھے کروائے اور نہایت ادب کے ساتھ یہ نسخے یہودیوں کو پہنچا دیئے اور خیبر سے واپسی پر فجر کی نماز کیلئے جگانے کی ذمہ داری حضرت بلالؓ کو سونپی گئی‘حضرت بلالؓ کی آنکھ لگ گئی‘

سورج نکل آیا تو قافلے کی آنکھ کھلی‘ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا ’’بلال آپ نے یہ کیا کیا‘‘ حضرت بلالؓ نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ ﷺ جس ذات نے آپؐ کو سلایا‘ اس نے مجھے بھی سلا دیا‘‘تبسم فرمایا اور حکم دیا ’’تم اذان دو‘‘ اذان دی گئی‘ آپؐ نے نماز ادا کروائی اور پھر فرمایا ’’تم جب نماز بھول جاؤ تو پھر جس وقت یاد آئے اسی وقت پڑھ لو‘‘ یہ ہے شریعت۔حضرت حذیفہ بن یمانؓ سفر کر رہے تھے‘ کفار جنگ بدر کیلئے مکہ سے نکلے‘ کفار نے راستے میں حضرت حذیفہؓ کو گرفتار کر لیا‘ آپ سے پوچھا گیا‘ آپ کہاں جا رہے ہیں‘ حضرت حذیفہؓ نے عرض کیا ’’مدینہ‘‘ کفار نے ان سے کہا ’’ آپ اگر وعدہ کرو‘ آپ جنگ میں شریک نہیں ہو گے تو ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘ حضرت حذیفہؓ نے وعدہ کر لیا‘یہ اس کے بعد سیدھے مسلمانوں کے لشکر میں پہنچ گئے‘ مسلمانوں کو اس وقت مجاہدین کی ضرورت بھی تھی‘ جانوروں کی بھی اور ہتھیاروں کی بھی لیکن جب حضرت حذیفہؓ کے وعدے کے بارے میں علم ہوا تومدینہ بھجوا دیا گیا اور فرمایا ’’ہم کافروں سے معاہدے پورے کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں صرف اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہیں‘‘

نجران کے عیسائیوں کا چودہ رکنی وفد مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے عیسائی پادریوں کو نہ صرف ان کے روایتی لباس میں قبول فرمایا بلکہ انہیں مسجد نبویؐ میں بھی ٹھہرایا اور انہیں ان کے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت بھی تھی‘یہ عیسائی وفد جتنا عرصہ مدینہ میں رہا‘ یہ مسجد نبویؐ میں مقیم رہا اور مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کرتا رہا‘ ایک مسلمان نے کسی اہل کتاب کو قتل کر دیا‘ آپؐ نے مسلمان کے خلاف فیصلہ دیا اور یہ مسلمان قتل کے جرم میں قتل کر دیا گیا‘ حضرت سعد بن عبادہؓ نے فتح مکہ کے وقت مدنی ریاست کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا‘ یہ مکہ میں داخل ہوتے وقت جذباتی ہو گئے اور انہوں نے حضرت ابو سفیانؓ سے فرمایا ’’ آج لڑائی کا دن ہے‘ آج کفار سے جی بھر کر انتقام لیا جائے گا‘‘ رحمت اللعالمینؐ نے سنا تو ناراض ہو گئے‘ ان کے ہاتھ سے جھنڈا لیا‘ ان کے بیٹے قیسؓ کے سپرد کیا اور فرمایا ’’نہیں آج لڑائی نہیں‘ رحمت اور معاف کرنا کا دن ہے‘‘۔ مدینہ میں تھے تو مکہ میں قحط پڑ گیا‘مدینہ سے رقم جمع کی‘ خوراک اور کپڑے اکٹھے کئے اور یہ سامان مکہ بھجوادیا اور ساتھ ہی اپنے اتحادی قبائل کو ہدایت کی ’’مکہ کے لوگوں پر برا وقت ہے‘ آپ لوگ ان سے تجارت ختم نہ کریں‘‘۔

مدینہ کے یہودی اکثر مسلمانوں سے یہ بحث چھیڑ دیتے تھے ’’نبی اکرم ﷺ فضیلت میں بلند ہیں یا حضرت موسیٰ ؑ ‘‘ یہ معاملہ جب بھی دربار رسالت میں پیش ہوتا‘ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں سے فرماتے ’’آپ لوگ اس بحث سے پرہیز کیا کریں‘‘۔ ثماثہ بن اثال نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا اعلان کر رکھا تھا‘ یہ گرفتار ہو گیا‘ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی‘ اس نے انکار کر دیا‘یہ تین دن قید میں رہا‘ اسے تین دن دعوت دی جاتی رہی‘ یہ مذہب بدلنے پر تیار نہ ہوا تو اسے چھوڑ دیا گیا‘ اس نے راستے میں غسل کیا‘ نیا لباس پہنا‘ واپس آیا اور دست مبارک پر بیعت کر لی۔ ابو العاص بن ربیع رحمت اللعالمین ؐکے داماد تھے‘ رسول اللہ ﷺکی صاحبزادی حضرت زینبؓ ان کے عقد میں تھیں‘ یہ کافر تھے‘ یہ تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے واپس مکہ جا رہے تھے‘ مسلمانوں نے قافلے کا مال چھین لیا‘ یہ فرار ہو کر مدینہ آگئے اور حضرت زینبؓ کے گھر پناہ لے لی‘

صاحبزادی مشورے کیلئے بارگاہ رسالت میں پیش ہو گئیں‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ابوالعاص کی رہائش کا اچھا بندوبست کرومگر وہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ تم اس کیلئے حلال نہیں ہو‘‘ حضرت زینبؓ نے عرض کیا ’’ابوالعاص اپنا مال واپس لینے آیا ہے‘‘مال چھیننے والوں کو بلایا اور فرمایا گیا’’یہ مال غنیمت ہے اور تم اس کے حق دار ہو لیکن اگر تم مہربانی کر کے ابوالعاص کا مال واپس کردو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا‘‘ صحابہؓ نے مال فوراً واپس کر دیا‘ آپ ملاحظہ کیجئے‘ حضرت زینبؓ قبول اسلام کی وجہ سے مشرک خاوند کیلئے حلال نہیں تھیں لیکن رسول اللہ ﷺنے داماد کو صاحبزادی کے گھر سے نہیں نکالا‘ یہ ہے شریعت۔حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ’’ زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا‘‘ فرمایا‘ وہ دن جب میں طائف گیا اورعبدیالیل نے شہر کے بچے جمع کر کے مجھ پر پتھر برسائے‘ میں اس دن کی سختی نہیں بھول سکتا‘عبدیالیل طائف کا سردار تھا‘

اس نے رسول اللہ ﷺ پر اتنا ظلم کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جلال میں آ گئی‘ حضرت جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کیا‘ اگر اجازت دیں تو ہم اس پورے شہر کو دو پہاڑوں کےدرمیان پیس دیں‘ یہ سیرت کا اس نوعیت کا واحد واقعہ تھا کہ جبرائیل امین نے گستاخی رسول پر کسی بستی کو تباہ کرنے کی پیش کش کی ہو اور عبدیالیل اس ظلم کی وجہ تھا‘ عبد یالیل ایک بار طائف کے لوگوں کا وفد لے کر مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبویؐ میں اس کا خیمہ لگایا اور عبد یالیل جتنے دن مدینہ میں رہا‘ رسول اللہ ﷺ ہر روز نماز عشاء کے بعد اس کے پاس جاتے‘ اس کا حال احوال پوچھتے‘ اس کے ساتھ گفتگو کرتے اوراس کی دل جوئی کرتے‘ عبداللہ بن ابی منافق اعظم تھا‘ یہ فوت ہوا تو اس کی تدفین کیلئے اپنا کرتہ مبارک بھی دیا‘

اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی اور یہ بھی فرمایا‘ میری ستر دعاؤں سے اگر اس کی مغفرت ہو سکتی تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ بار اس کیلئے دعا کرتا‘‘ یہ ہے شریعت۔ مدینہ کی حدود میں آپ کی حیات میں نو مسجدیں تعمیر ہوئیں‘ آپؐ نے فرمایا ’’تم اگر کہیں مسجد دیکھو یا اذان کی آواز سنو تو وہاں کسی شخص کو قتل نہ کرو‘‘ یہ ہےشریعت۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں‘‘ جواب دیا ’’غصہ نہ کرو‘‘ وہ بار بار پوچھتا رہا‘ آپؐ ہر بار جواب دیتے ’’غصہ نہ کرو‘‘ یہ ہے شریعت اور اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا ’’ پیغمبرؐ اللہ کی بڑی رحمت ہیں‘ آپ لوگوں کیلئے بڑے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں‘ آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گردوپیش سے چھٹ جاتے‘‘ اور یہ ہے شریعت لیکن ہم لوگ نہ جانے کون سی شریعت تلاش کر رہے ہیں‘ ہم کس شریعت کا مطالبہ کر رہے ہیں‘ کیا کوئی صاحب علم میری رہنمائی کر سکتا ہے؟۔

جائے نماز کا کونہ اگر نماز کے بعد موڑا جائے۔؟

کیا نماز میں پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھنے سے نماز ہو جاتی ہے؟

موضوع: عبادات | نماز

سوال نمبر 468:اکثر لوگ نماز میں پائنچے ٹخنوں سے نیچے رکھتے ہیں، شرع کی رو سے کیا ایسے نماز ادا کرنا جائز ہے؟

جواب:اگر چادر یا شلوار، پتلون وغیرہ کو اَسراف اور تکبر سے زمین پر گھسیٹا جائے تو حرام ہے کیونکہ یہ مال ضائع کرنے اور دوسروں کو کمتر اور خود کو بڑا سمجھنے کے مترادف ہے،

اور اگر عرف کی وجہ سے کپڑے لٹکائے جائیں تو حرام نہیں۔ اس سوال کا جواب واضح کرنے کے لیے ذیل میں نفسِ مضمون سے متعلقہ چند احادیث درج کی جاتی ہیں :

1۔ حضرت جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! مجھے کوئی نصیحت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

کبھی کسی کو گالی نہ دینا۔ حضرت جابر بن سلیم کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی آزاد، غلام، اونٹ، بکری یعنی کسی بھی مخلوق کو گالی نہیں دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’کبھی کسی نیکی کو معمولی نہ سمجھنا اگرچہ اپنے بھائی سے مسکرا کر بات کرنا ہی کیوں نہ ہو! بیشک یہ بھی نیکی ہے۔ اپنا تہبند آدھی پنڈلی تک اونچا رکھو، نہیں تو ٹخنوں تک۔

اور خبردار چادر زمین پر نہ گھسیٹنا کہ یہ غرور و تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں۔ اور اگر کوئی شخص تجھے گالی دے اور ایسی غلط بات کا تجھے عار دے جو اُس کے علم میں تیرے اندر موجود ہے، تو اُسے اُس بار پر عار نہ لگا جو تیرے علم میں اُس کے اندر موجود ہے۔ اس کے گناہ کا وبال اُسی پر ہوگا۔‘‘

ابو داؤد، السنن، کتاب الحمام، باب ما جاء في إسبال الإزار، 4 : 56، رقم : 4084

2۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُیَ. لَاءَ، لَمْ يَنْظُرِ اﷲُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

’’جس نے غرور و تکبر سے اپنا کپڑا (تہبند، چادر، شلوار، پتلون، جبہ وغیرہ) گھسیٹا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔‘‘

اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یارسول اﷲ! میری چادر (تہبند) کا ایک کنارہ میں پکڑے رکھتا ہوں (ورنہ لٹک جاتا ہے)؟ فرمایا :

إِنَّکَ لَسْتَ تَصْنَعُ ذَلِکَ خُیَ. لَاءَ.

بخاری، الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، 3 : 1345، رقم : 3465 ’’تم غرور و تکبر سے گھسیٹنے والوں میں سے نہیں۔‘‘

3۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص تہبند ٹخنوں سے نیچے کیے نماز ادا کر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جاؤ! وضو کرو۔ اس نے جا کر وضو کیا، پھر حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جا کر وضو کرو۔ ایک شخص نے عرض کیا! یا رسول اللہ! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم کیوں دیا؟

ایک لمحہ خاموش ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا، اور چادر لٹکانے والے کی نماز اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔ أبو داؤد، السنن، کتاب الصلاة، باب الاسال في الصلاة، 1 : 248، رقم : 638

مندرجہ بالا احادیث نمبر 2 اور 3 میں حکم ایک جیسا نہیں دیا گیا کیوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہتر جانتے تھے کہ کس آدمی میں کیا خرابی ہے اور اس پر کس انداز سے کیا تادیبی کارروائی کس قدر مؤثر ہوگی۔

اس لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لئے رعایت رکھی گئی کہ ان میں غرور و تکبر جیسی بیماری کا امکان نہ تھا۔ جب کہ دوسرے شخص کی حالت کے پیش نظر اُسے الگ حکم دیا گیا۔

زنا کیا ہے۔

اگر مرد ایک ایسی عورت سے صحبت ، ہم بستری کرے جو اس کی بیوی نہیں ہے تو، یہ زنا کہلاتا ہے، ضروری نہیں کی ساتھ سونے کو ہی زنا کہتے ہیں، بلکہ چھونا بھی زنا ایک حصہ ہے اور کسی پرائی عورت کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے.ذنا کو اسلام میں ایک بہت بڑا گناہ شمار کیا گیا ہے، اور اسلام نے ایسا کرنے والو کی سزا دنیا میں ہی رکھی ہے. اور مرنے کے بعد اللہ اس کی سخت سزا دے گا۔زنا کے بارے میں کچھ حدیث اور قرآن کی آیت دےكھيےحضرت محمد (صلی الله عليه وسلم) نے فرمایا مومن (مسلم) ہوتے ہوئے تو کوئی زنا کر ہی نہیں سکتا(بخاری شریف) الله قرآن میں فرماتا ہے اور (دیکھو) زنا کے قریب بھی نہ جانا، کورس وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے(القرآن)ذنا کی سزا اور عذاب: اگر زنا کرنے والے شادی شدہ ہو تو کھلے میدان میں پتھر مارمار کر مار ڈالا جائے اور اگر کنوارے ہو تو 100 کوڑے مارے مارے جائے۔

(بخاری شریف)ج کل دیکھنے میں آیا ہے کی اس گناہ میں بهت سے لوگ شامل ہیں، خاص کر کے اس بازار میں جہاں عورتیں اور مرد جاتے ہیں کس کا ہاتھ کس کو لگ رہا ہے کہا لگتا ہے کچھ معلوم نہیں ہوتا، چاہے لڑکا ہو یا لڑكيا اور پھر اس گناہ کو کرنے کے بعد اپنے دوستوں کو بڑی شان سے سناتے ہیں، بلکہ ان کو بھی ایسا کرنے کی رائے دیتے ہیں۔اگر کوئی اکیلے لڑکے یا لڑکی کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا گناہ اس کے ماں باپ کو بھی ملتا ہے کیونکہ انہوں نے ان کی جلدی شادی نہیں کی جس کی وجہ سے وہ غلط کام کرنے لگے،اور شادی کی عمر ہونے کے بعد بھی ماں باپ ان کی شادی نہ کرے تو اللہ ناراض ہوجاتا ہے اور ان کے گھر کی برکت ختم ہوجاتی اور اللہ ان ماں باپ سے قیامت کے دن حساب مانگے گا۔ اور ایک جگہ اللہ نے قرآن میں فرمایا کی پاک دامن لڑکیاں، پاک دامن لڑكو کے لئے ہیں،اسكا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو اچھی ہیں تو اللہ آپ کو بھی اچھی بیوی یا دولہا ديگا اور خراب ہیں تو سمجھ لیجیے۔زنا ایک ایسا عمل ہے جس سے نسیان، ایڈز ، کینسر جیسی موذی بیماریاں پھیلتی ہیں۔زنا سے انسان کا دل مردہ ہوجاتا ہے جبکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب دل مردہ ہوگیا تو پھر اس کے دل سے اسلام کی روشنی ختم ہوجاتی ہے جس سے وہ ایمان سے خالی ہوجاتا ہے انسان جو بھی غلط کام کرتا ہے اس کی قیمت اس کے بچوں، ماں یا بہن کو اس دنیا میں ہی ادا کرنی پڑتی ہے،امام شافعی رحمتہ الله کہتے ہیں کے زنا ایک قرض ہے، اگر تو اس قرض لے گا تو تیرے گھر سے یعنی تیری بہن , بیٹی سے وصول کیا جائے گا۔دوستو اس کبیرہ گناہ کی اور بھی سزائیں ہیں، لہذا خود بھی بچو اور اپنے دوستوں کو بھی بچائیں۔اگر آپ نے اپنے جنسی قصہ آپ کے دوست‘ سہیلی کو سنایا اور اس کے دل میں بھی ایسا کرنے کی بات آ گئی اور اس نے وہ کام کر لیا تو اس کا گناہ آپ کو بھی ملے گا، کیونکہ آپ نے ہی اس کو غلط راستہ دکھایا ہے ۔

اور آپ کے دوست آگے بھی جتنے لوگو کو غلط راستہ دکھائیں گے ان سب کا گناہ اپكےكھاتے میں آئے گا سب كے گھر میں اکثر، بہن، بیٹی، ماں ہیں، اگر آپ دوسرے کی طرف تاک جھانک کرو گے تو آپ کا گھر بھی محفوظ نہیں رہے گا،الله ہم سب کو اس بڑے گناہ سے بچائے۔اج آپ اس میسیج اگر کسی 1 کو بھی اسٹاک کردیں تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے کتنے لوگ “اللہ” سے توبہ کر لیں گے الحديث: -جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو سرا فاتح اور سورہ اخلاص کو پڑھ لیا کرو، تو موت کے علاوہ ہر چیز سے بے خوف ہو جاؤ گے ۔وه دن قریب ہے جب آسمان پہ صرف ایک ستاراهوگا. توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا.قران کے حروف مٹ جائیں گے۔سورج زمین کے بالکل پاس آ جائے گا۔حضور صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا “بے نور ہو جائے اس کا چہرہ جو کوئی میری حدیث کو سن کر آگے نہ پہنچائے

حضرت اویس قرںی

حضرت اویس قرنی کو جنت کے دروازے پر کیوں روک لیاجائے گا۔

حضوراکرم (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جارہے ہوں تو اویس قرنی کو جنت کے دروازے پرروک لیاجائے گا۔
حضرت اویس قرنی کون ہیں اویس نام ہے عامرکے بیٹے ہیں مرادقبلہ ہے قرن انکی شاخ ہے اوریمن انکی رہائش گاہ تھی حضرت نے ماں کے حددرجہ خدمت کی ۔وہ آسمانوں تک پہنچی اویس قرنی حضورکی خدمت میں حاضرنہیں ہوسکے جبرئیل آسمان سے پہنچے اورانکی بات کوحضورنے بیان کیا چونکہ حضوردیکھ رہے تھے کہ آئندہ آنیوالی نسلیں اپنی مائوں کیساتھ کیساسلوک کریں گی ایک سائل نے سوال کیا یارسول ﷲ (صلی ﷲ علیہ وسلم) قیامت کب آئے گی توآپ نے ارشاد فرمایامجھے نہیں معلوم کب آئے گی توسائل نے کہاکہ کوئی نشانی توبتادیں توآپ نے فرمایاجب اولاداپنی ماں کوذلیل کرے گی توقیامت آئے گی۔

حضور(صلی ﷲ علیہ وسلم) نے حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) اورحضرت علی (رضی ﷲ عنہ) سے کہاکہ تمہارے دور میں ایک شخص ہوگا جس کانام ہوگا اویس بن عامر درمیانہ قد رنگ کالا جسم پر ایک سفید داغ حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے ان کاحلیہ ایسے بیان کیاجسے سامنے دیکھ رہے ہو وہ آئے گاجب وہ آئے تو تم دونوں نے اس سے دعا کرانی ہے۔ حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) اور حضرت علی (رضی ﷲ عنہ)کواویس قرنی کی دعاکی ضرورت نہیں تھی۔
یہ امت کو پیغام پہنچانے کے لیے ہے کہ ماں کا کیا مقام ہےحضرت عمر (رضی ﷲ عنہ) حیران ہوگئے اور سوچنے لگے کہ حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) کیاکہہ رہے ہیں کہ ہم اویس سے دعا کروائیں تو حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا عمر،علی اویس نے ماں کی خدمت اس طرح کی ہے جب وہ ہاتھ اٹھاتاہے توﷲ اس کی دعا کو خالی نہیں جانے دیتا۔ حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) دس سال خلیفہ رہے دس سال حج کیالیکن انہیں اویس نہ ملے ایک دن سارے حاجیوں کو اکٹھا کر لیا اور کہا کہ تمام حاجی کھڑے ہوجاو آپ کے حکم پرتمام حاجی کھڑے ہوگئے پھر کہا کہ سب بیٹھ جاو صرف یمن والے کھڑے رہو تو سب بیٹھ گئے اور یمن والے کھڑے رہے پھرکہا کہ یمن والے سارے بیٹھ جاو صر ف مراد قبیلہ کھڑا رہے پھرکہا مراد والے سب بیٹھ جاو صرف قرن والے کھڑے رہو تو مراد قبیلے والے بیٹھ گئے صرف ایک آدمی بچااور حضرت عمر نے کہا کہ تم قرنی ہو تو اس شخص نے کہاکہ ہاں میں قرنی ہوں تو حضرت عمر نے کہا کہ اویس کو جانتے ہو تو اس شخص نے کہاکہ ہاں جانتا ہوں میرے بھائی کابیٹاہے میراسگا بھتیجاہےاس کادماغ ٹھیک نہیں آپ کیوں پوچھ رہے ہیں توحضرت عمر نے کہاکہ مجھے تو تیرا دماغ صحیح نہیں لگ رہاآ پ نے پوچھا کدھر ہےتواس نے کہاکہ آیا ہوا ہے پوچھا کہاں گیا ہے تو اس نے کہا کہ وہ عرفات گیاہے اونٹ چرانے۔

آپ نے حضرت علی کو ساتھ لیا اور عرفات کی دوڑ لگادی جب وہاں پہنچے تو دیکھاکہ اویس قرنی درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے ہیں اور اونٹ چاروں طرف چررہے ہیں یہ آکربیٹھ گئے اور اویس قرنی کی نماز ختم ہونے کاانتظار کرنے لگےجب حضرت اویس نے محسوس کیاکہ دو آدمی آگئے تو انہوں نے نماز مختصرکردی سلام پھیرا توحضرت عمر نے پوچھا کون ہو بھائی توکہاجی میں مزدور ہوں اسے خبرنہیں کہ یہ کون ہیں تو حضرت عمر نے کہاکہ تیرا نام کیا ہےتو اویس قرنی نے کہ اکہ میرانام ﷲ کابندہ تو حضرت عمر نے کہا کہ سارے ہی ﷲ کے بندے ہیں تیری ماں نے تیرا نام کیارکھا ہےتو حضرت اویس نے کہاکہ آپ کون ہیں میری پوچھ گچھ کرنے والے ان کایہ کہنا تھا کہ حضرت علی نے کہاکہ اویس یہ امیرالمومنین عمربن خطاب ہیں اور میں ہوں علی بن ابی طالب حضرت اویس کا یہ سننا تھا کہ وہ کانپنے لگےکہاکہ جی میں معافی چاہتا ہوں میں تو آپ کو پہچانتا ہی نہیں تھا میں تو پہلی دفعہ آیا ہوں تو حضرت عمر نے کہاکہ تو ہی اویس ہے تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں ہی اویس ہوں حضرت عمر نے کہاکہ ہاتھ اٹھا اور ہمارے لیے دعا کر وہ رونے لگے اور کہا کہ میں دعا کروں آپ لوگ سردار اور میں نوکرآپ کامیں آپ لوگوں کے لیے دعا کروں تو حضرت عمر نے کہاکہ ہاں ﷲ کے نبی نے فرمایاتھا عمر اور علی جیسی ہستیوں کے لیے حضرت اویس کے ہاتھ اٹھوائے گئے کس لیے اس کے پیچھے جہاد نہیں، تبلیغ نہیں، تصوف نہیں اس کے پیچھے ماں کی خدمت ہے۔

جب لوگ جنت میں جارہے ہوں گے تو حضرت اویس قرنی بھی چلیں گے اس وقت ﷲ تعالیٰ فرمائیں گے کے باقیوں کو جانے دو اور اویس کو روک لو
اس وقت حضرت اویس قرنی پریشان ہوجائیں گےاورکہیں گے کہ اے ﷲ آپ نے مجھے دروازے پرکیوں روک لیاتو مجھ سےاس وقت ﷲ تعالی ٰ فرمائیں گے کہ پیچھے دیکھوجب پیچھے دیکھیں گے تو پیچھے کروڑوں اربوں کے تعدادمیں جہنمی کھڑے ہوں گےتواس وقت ﷲ فرمائے گاکہ اویس تیری ایک نیکی نے مجھے بہت خوش کیاہے’’ ماں کی خدمت‘‘ توانگلی کااشارہ کرجدھر جدھر تیری انگلی پھرتی جائے گی میں تیرے طفیل ان کوجنت میں داخل کردوں گا…

ایک نوجوان لڑکی نے جب مسجد میں طالبعلم کے ساتھ رات گزاری

ہندوستان میں ایک نواب کی خوبرو لڑکی فسادات کے دوران ایک مسجد میں پناہ لینے داخل ہوئی تو دیکھا ایک نوجوان طالب علم درس و تدریس میں مشغول ہے- بغیر کوئی آہٹ کیے لڑکی چند ساعت خاموش کھڑی رہی اور پھر طالب علم کے قریب چلی گئی- اسلامی رنگ میں رنگے طالب علم نے جب ایک نوجوان لڑکی کو مسجد میں غیر شرعی حالت میں دیکھا تو اسے مسجد سے نکلنے کو کہا جس سے لڑکی نے انکار کیا- طالب علم نے غصہ، منت و سماجت ہر حربہ آزمایا مگر لڑکی نے اللہ کا واسطہ دے کر کہا کہ بہر کی عزت کو خطرہ ہے اور اسے رات یہیں گزارنے دیا جائے۔

اس پر طالب علم نے کہا کہ ایک شرط پر تم مسجد میں ٹھہر سکتی ہو کہ ایک کونے میں پوری رات خاموش بیٹھی رہو گی اور کسی صورت میرے ساتھ بات نہیں کرو گی-ادھر نوجوان طالب علم ہر تھوڑی دیر بعد اپنی ایک انگلی آگ پر رکھتا اور پھر وہ سسکیاں لے کر ہٹاتا۔ لڑکی رات بہر یہ تماشا دیکھتی رہی مگر کچھ کہنے سے قاصر تھی- خدا خدا کرکے صبح ہوئی- لڑکا اذان دینے اٹھا اور لڑکی سے کہا کہ وہ اب مسجد سے نکلے کیونکہ نمازی آنے والے ہوں گے تاکہ کوئی بدگمانی نہ کرے- لڑکی نے كہا ٹھیک مگر مجھے ایک بات بتا دیں کہ رات بھر آپ وقفے وقفے سے اپنی انگلی آگ پر کیوں رکھتے تھے- طالب علم نے جواب دیا کہ رات میں نے نفس اور شیطان اور اللہ کے احکامات کے مابین شش و پنج میں گزاری- جب کبھی شیطان کا غلبہ ہوتا تو میری خواہش ابھرتی کہ اکیلی لڑکی ہے اپنی خواہش کی تکمیل کرلوں مگر جب دوزخ کا عذاب سامنے پاتا تو اپنی انگلی کو آگ پر رکھ کر یہ آزمائش کرتا کہ کیا اس آگ کو میں سہہ پاؤں گا- مگر جلد ہی احساس ہوجاتا کہ ایک چھوٹی انگلی یہ تھوڑی سا آگ برداشت نہیں کرسکتی تو جہنم کی آگ میرے پورے جسم کو کیسے بھسم کرے گی.وقت گزرتا گیا – نواب زادی کیلیے امیر سے امیر شخصیات کے رشتے آنے لگے مگر وہ ہر رشتہ ٹھکراتی رہی۔

لڑکی کے والدین بہت پریشان تھے کہ آخر معاملہ کیا ہے- بالاخر لڑکی زبان پر مدعا لے آئی کہ اس کی شادی صرف مذکورہ طالب علم سے کی جائے ورنہ وہ کبھی شادی نہیں کرے گی- نتیجہ: ایک رات نفس کو قابو رکھ کر وہ غریب طالب علم محل میں چلا گیا اگر ہم پوری زندگی اللہ اور رسول کے طور طریقوں پر گزاریں تو خالق کائنات ہمیں جنت کے محلات میں کیا مقام دیں گے!

بدکار عورت کی زندگی میں انقلاب ایک ہی رات میں طوائف سے نیکو کار کیسے بن گئی ؟

ربیع رحمتہ اللہ علیہ راتوں کو جاگتے اورکثرت سے نوافل ادا کرتے ۔ ان کی والدہ بیان کرتی ہیں: میں سو جاتی‘ اٹھتی تو دیکھتی کہ ربیع نماز پڑھ رہا ہے۔ پھر سو جاتی پھر اٹھتی تو دیکھتی کہ ربیع ابھی تک نماز پڑھ رہا ہے۔ ماں دیکھتی کہ اس کا لخت جگر مسلسل آہ و بکا میں مصروف ہے تو نامور عالم دین مولانا عبدالمالک مجاہد اپنے ایک خصوصی مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔

ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر بیٹے سے کہہ اٹھتی: بیٹے! تم اتنی زیادہ مشقت اور اتنی زیادہ محنت کرتے ہو‘کچھ دیر کے لیے سو جایا کرو۔ کچھ آرام بھی کر لیا کرو۔ ایک دن بیٹے کی محبت میں مغلوب ہو کر کہنے لگیں۔ یَا بُنَيَّ لَعَلَّکَ قَتَلْتَ قَتِیلًا‘ ’’لگتا یوں ہے کہ تم نے کسی کو قتل کیا ہوا ہے اور اس گناہ کو معاف کروانے کے لیے اتنی زیادہ مشقت اور محنت کر رہے ہو؟‘‘ ربیع جواب میں فرمانے لگے: ہاں‘ ہاں اماں جان! میں نے واقعی کسی کو قتل کیا ہے۔ والدہ کہنے لگیں: بیٹے ! تو پھر ہمیں بتاؤتم نے کسے قتل کیا ہے تاکہ ہم اس کے پاس جائیں اس سے قتل معاف کروا لیں۔ اللہ کی قسم! اگر مقتول کے ورثاء تمہیں اس طرح روتے پیٹتے دیکھ لیں تو تم پر رحم کھاتے ہوئے تمہیں معاف کر دیں گے۔ ربیع کہنے لگے: اماں جان! جسے میں نے قتل کیا ہے وہ میرا اپنا نفس‘ میری جان ہی ہے۔ ’قَتَلْتُھَا بِالذُّنُوبِ وَالْمَعَاصِي‘ ’’ میں نے اسے اپنے گناہوں اور معصیت کے ذریعے قتل کر رکھا ہے۔ بد قماش لوگوں نے ربیع کو فتنے میں ڈالنے کے لیے ایک بدکار عورت کا انتخاب کیا۔

اس سے کہا: یہ ایک ہزار دینار پکڑو۔ وہ کہنے لگی: اتنی بڑی رقم مجھے کس مقصد کے لیے دے رہے ہو؟ کہنے لگے: یہ مبلغ ربیع بن خثیم کے ایک بوسے کی قیمت ہے۔ بس وہ تمہارا ایک بوسہ لے لیں تو یہ ساری رقم تمہاری ہے۔ وہ تو بدکردار تھی‘ کہنے لگی: فکر نہ کرو‘ بات بوسے سے آگے تک جائے گی۔ ایک رات اس نے اپنے آپ کو بنایا‘ سنوارا‘ اچھے کپڑے پہنے‘ خوب بن ٹھن کر کوئی بہانہ بنایا اور ربیع کے پاس ایسے وقت میں چلی گئی جب وہ تنہا تھے۔ اس نے ان کے پاس جا کر اپنے جسم کے بعض حصوں کو عریاں کیا اور ان کے سامنے کھڑی ہو کر دعوت گناہ دینے لگی۔ ربیع کی نظر جب اس پر پڑی تو تقریبا چیخنے کے انداز میں کہنے لگے: اللہ کی بندی! ذرا سوچو ‘اگر تم پر ابھی موت وارد ہو جائے۔ ابھی ملک الموت آ جائے تو اپنے رب کو کیا جواب دو گی؟ ذرا غور کرو کہ اگر ابھی تم سے منکر نکیر سوال کریں تو تمہاری کیفیت کیا ہو گی؟ ذرا تصور کرو کہ تم اللہ رب العزت کے سامنے کھڑی ہو گی تو اپنے رب کو کیا جواب دو گی؟

دیکھو! اگر تم نے توبہ نہ کی تو ذرا اس جہنم کا تصور کرو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ ربیع کے الفاظ سے عورت کے دل پر چوٹ پڑی اور ا س پر خوف الٰہی طاری ہو گیا۔ وہ سابقہ گناہوں کے پیش نظر اپنے انجام کے بارے میں سوچ کر کانپنے لگی۔عورت روتی‘ سسکیاں لیتی وہاں سے واپس بھاگی اور اس نے دل کی گہرائیوں سے اپنے خالق ومالک کے حضور سچی توبہ کر لی۔ اب اس کی حالت یکسر بدل چکی تھی۔ وہ راتوں کو قیام کرتی‘ دن کو روزہ رکھتی اور دن رات اپنی گناہ سے آلودہ گزری ہوئی زندگی پر تاسف کرتی ہوئی گڑ گڑا کر بارگاہ الہی میں روتی رہتی۔ حتی کہ وہ کوفہ کی عابد ہ مشہور ہوگئی۔کوفے کے بدقماش کہنے لگے: ہم نے اس عورت کے ذریعے ربیع کو بگاڑنے کی کوشش کی‘ مگر ربیع نے تو اس بدکار عورت ہی کو تبدیل کر دیا‘ یہ ہمارے کام سے بھی گئی۔ قارئین کرام! آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ربیع کو اس عظیم فتنے کے سامنے کس چیز نے ثابت قدم رکھا؟ کیا ان کے ہاں جسمانی طاقت یا شہوت کی کوئی کمی تھی؟ہرگز نہیں ! گناہ کے لیے نفس انسانی کی رغبت وشہوت تو بہت طاقتور ہے۔ یہ محض اللہ اور یوم آخرت پر ان کا مضبوط ایمان ویقین تھا اور اللہ تعالیٰ کی خشیت تھی جس نے انہیں اتنی بڑی آزمائش سے بعافیت وخیریت نکال لیا۔ آخری عمر میں ربیع پر فالج کا حملہ ہوا اور ان کا ایک پہلو کمزور ہو گیا۔ اس حالت میں بھی وہ نماز مسجد ہی میں حاضر ہو کر پڑھا کرتے تھے۔ دو آدمی انہیں سہارا دے کر مسجد میں لاتے اور وہ نماز باجماعت ادا کرتے ۔ ان سے کہا گیا: اللہ تعالیٰ نے تو آپ کو رخصت عطا کی ہے آپ گھر پر نماز کیوں ادا نہیں کر لیتے؟ وہ کہتے: میرے بھائیو! میں جب حی علی الفلاح کی ندا سنتا ہوں تو پھر کیسے اس پر لبیک نہ کہوں۔(ش س م)

ہلدی سے ہر قسم کی خارش کا خاتمہ

دوستو!آج ہم آپکو بہت ہی فائدہ مند چیز بتانے جارہے ہیں جو کہ گرمیوں میں تقریباََ بہت سے لوگوں کو اس کی ضرورت پڑے گی۔گرمیوں کے موسم میں بہت سے لوگوں کو خارش کی شکایت ہوتی ہے اور لوگ ا س کو دور کرنے کے لئے طرح طرح کی ادویات اور کریمیں استعمال کرتے ہیں۔لیکن
آج ہم آپکو اس کا بہت ہی آسان اور زبردست گھریلو نسخہ بتا جارہے ہیں جس سے انشا ءاللہ آپکی خارش بہت ہی جلد ختم ہوجائے گی۔یہ نسخہ آپ کے گھر میں موجود ایک عام سی چیز سے تیار ہو گا اور

آپکی ہر قسم کی خارش کو ختم کردے گا۔اس نسخے کو بنانے کے لئے ہمیں جو چیزیں چاہیئں وہ یہ ہیں۔آپ نے سب سے پہلے ہلدی لینی ہے اور پانی۔اب آپ نے ہلدی کو پانی میں ڈال کر مکس کرنا ہے اور جس جس جگہ پر خارش ہورہی ہو وہاں لگا لینا ہے۔انشا ءاللہ کچھ ہی دیر میں آپکی خارش ختم ہوجائے گی۔

پٹھان کون ہے؟

پٹھان کو آفغان کہتے ہیں آفغان اسلئے کہتے ہیں کہ آفغان حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام تھا اور ان کو جنات کی زبان سے پیار ہوگیا تھا تو انہوں نے اپنے والد حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا کہ آپ جننات کو کہے کہ مجھے اپنی زبان سیکھائیں سلیمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی درخواست قبول کی اور جنات کو حکم دیا کہ آفغان کو جنات کی زبان سیکھائی جائـے

وہ زبان بعد میں پختنوں کی نام سے پہجانا گیا پٹھان کی اصلیت اور قومیت کے بارے میں جو دلائل ہیں وہ یہ کہ پٹھان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے اولاد ہیں, اور قومیت سے بنی اسرائیل هــے انگریز مورخین لکھتـے ہیں کہ پٹھان قوم ارجینیا کی ایک حصے میں رہتـے تھـے ارجینیا کے لوگوں تھـے ارجینیا کے لوگوں کا دعوی هــے کہ افغان یا پٹھان ارجینیا ہم میں سے ہیں۔جاری ہے۔ کیونکہ البانیہ کے اوغان جو کے بعد مین افغان بنا ارجینیا سے ہندوستان کی طرف چل پڑے ایک اور مورخین لکھتے ہیں کہ اسرائیل قبائیل بہت تکالیف اور مصیبتون کے بعد افغانستان میں آباد ہوگئیں, جب حضور اکرم ﷺ نے اسلام کی تبلیغ شروع کی اور لوگ جوق درجوق اسلام مین داخل ہونے لگے

تو اس وقت پٹھان قوم کا سردار جس کا نام قیس عبدالرشید تھا اپنے پورے خاندان کیساتھ محمد ﷺ کی حضور میں حاضر ہوا اور محمد ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمان ہوگئـے اس لئـے دنیا بھر میں جہاں بھی پُختون ہونگـے مسلمان ہونگـے دنیا میں پُختون ہی واحد قوم هــے جس میں اسلام کے بغیر کوئی مذہب نہیں اگر پُختون سے پوچھاجائـے کہ اپ پہلـے مسلمان ہے یا پُختون ؟ تو جواب ہوگا کہ میں پانچ ہزار سال سے پُختون ہوں اور چودہ سو سال پہلـے مسلمان ہوں،۔جاری ہے۔

افغان قوم کو پٹھان کیو کہا جاتا ہے،؟جب کافروں نے مکہ پر قبضہ کر لیا تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رض کو حکم دیا کہ جاؤ اپنے افغانیوں کو بلاؤں جہاد کے لیے خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنھ افغانستان چلے گئے اور افغان سردار قیس عبدالرشید کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ارسال کیا، قیس عبدالرشید کے قیادت میں لشکر مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوا۔جاری ہے۔

شام کو صحابہ کرام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری سنائی کہ افغانی لشکر آتے ہی کافروں کا قاتل عام شروع کر دیا اور تمام کافروں کا خاتمہ کردیا، اور مکہ مکرمہ کو افغانیوں نے فتح کر لیا، تو اسی لمحے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زبان پر پر یہ الفاظ آئے بطان یہ لقب افغان قوم کو رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے طرف سے ملا ہےبطان لفظ عربی زبان کے ہے یعنی سخت ترین لکڑی وہ جو سمندری جہازوں میں لگایا جاتا ہے جیسے سمندری پانی بھی کمزور نہیں کرسکتا ہےیہ لفظ جب برصغیر پہنچا تو بطان سے پٹھان ہوگیا

تیز بارش میں ایک لڑکی نے کسی گھر پناہ لے لی

شام کے شہردمشق کا واقعہ ہے کہ ایک نوجوان خوبصورت لڑکی روانہ اکیلی یونیورسٹی جاتی تھی ،ا س یونیورسٹی میں اس کا والد ایک ڈیپارٹمنٹ کا انچارج تھا، ایک دن چھٹی کے بعد اچانک بادل گرجنے لگے،اور زوردار بارش ہونے لگی،سردی کی شدت بڑھنے لگی،آسمان سے گرنے والے اولے سروں پرگرنے لگی یہ لڑکی بھی یونیورسٹی سے نکلی اور جائے پناہ کی تلاش میں دوڑنے لگی، اس کاجسم سردی سے کانپ رہاتھا،جب بارش تیز ہوئی تو ایک دروازہ

کھٹکھٹایا، گھر میں موجود لڑکا باہرنکلااور اسے اندر لے آیا، دونوں کاآپس میں تعارف ہواتو معلوم ہواکہ لڑکابھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتاہے اور اس شہرمیں اکیلا رہتاہے، ایک کمرہ برآمدہ اور واش روم کل گھر تھا،نوجوان نے لڑکی کو آرام کرنے کو کہااور اس کے پاس ہیٹر رکھ دیا، کہاکہ جب کمرہ گرم ہوجائے گاتووہ ہیٹر نکال لے گا، تھوڑی دیر تک لڑکی بستر پر کانپتی رہی ، پھر اچانک نیند آگئی،نوجوان ہیٹر لینے آیا تواسے یہ لڑکی بہت پیاری لگی، وہ ہیٹر لے کر کمرے سے باہر نکل گیا لیکن شیطان اسے گمراہکرنے کے لیے موقع کی تلاش میں تھا، اسے وسوسہ دینے لگا۔تھوڑی دیر میں لڑکی کی آنکھ بھی کھل گئی جب اس نے اپنے آپ کو بستر پر لیٹا ہوا پایا تو ہربڑا کر اٹھ گئی ، اور گھبراہٹ کے عالم میں باہر کی جانب دوڑنے لگی،

باہر نکلی تووہ نوجوان بھی برآمدے میں بے ہوش تھا، گھبراہٹ کے عالم میں گھر کی طرف دوڑ پڑی اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا، یہاں تک کہ اپنے باپ کی گود میں سر رکھ دیاجوپوری رات شہر کے کونے کونے میں اسے تلاش کرچکا تھا۔ لڑکی نے اپنے والد کو تمام داستان سنائی اور قسم کھا کر کہا کہ میں نہیں جانتی جس وقت میری آنکھ لگی ، کیا ہوا، میرے ساتھ کیا کیا گیا ، کچھ پتہ نہیں، اس کا باپ انتہائی غصے کی حالت میں اٹھا اور یونیورسٹی پہنچ گیا، غیرحاضر ہونیوالے طلباءکے بارے میں پوچھا، توپتہ چلا کہ ایک لڑکا شہر سے باہر گیا ہے۔

اورایک بیمار ، ہسپتال میں داخل ہے ، باپ ہسپتال پہنچ گیا تاکہ اس نوجوان کو تلاش کرے اور اپنی بیٹی کا انتقام لے، ہسپتال میں تلاش کے بعد جب متعلقہ کمرے میں پہنچا تو اسے اس حال میں پایا کہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پٹیوں سے بندھی ہوئی تھیں، استفسار پر ڈاکٹر نے بتایاکہ جب یہ ہمارے پاس لایا گیاتو اس کے دونوں ہاتھ جلے ہوئے تھے ۔اس گورکن نے اپنے باپ سے کہاکہ جب بھی اس قبر کے پاس سے گزرتا ہے تو گدھے کی آواز آتی ہے، اس کے وارثوں کا پتہ دے دیں تاکہ اطلاع کرسکوں، پھر اس پتے پر پہنچا تو ایک خاتون باہر آئی جو یہ سن کر زاروقطار رونے لگی اور کہنے لگی کہتعارف کرائے بغیر لڑکی کے والد نے نوجوان کو قسم دیتے ہوئے کہاکہ بتائیں، آپ کو کیا ہوا ہے؟

وہ بولا کہ کل ایک لڑکی بارش سے بچتے ہوئے میرے پاس پناہ لینے آئی، میں نے اسے اپنے ہاں پناہ دے دی لیکن شیطان مجھے پھسلانے لگا ، ہیٹر لینے کے بہانے اندر تووہ لڑکی مجھے جنت کی حور لگی، میں فوراً باہر نکل آیالیکن شیطان پھسلاتا رہاتو جب بھی شیطان مجھے ورغلاتا، میں اپنی انگلی آگ میں جلادیتاتاکہ جہنم کی آگ اور اس کے عذاب کو یاد کروں، اپنے نفس کو برائے سے باز رکھ سکوں،۔یہاں تک کہ میری ساری انگلیاں جل گئیں اور میں بے ہوش ہوگیا، مجھے نہیں معلوم کہ ہسپتال کیسے پہنچا؟ یہ بات سن کر باپ بہت حیران ہوا اور بلند آواز میں کہاکہ اے لوگو ، گواہ رہو میں نے اس پاک سیرت لڑکے سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیا، یہ اللہ سے ڈرنے والوں کا انجام ہے ، اگر اسے اللہ کا ڈرنہ ہوتا تو اس کی عزت نہیں بچ سکتی تھی ۔

مسلمانوں کی خواتین کی ساری دینا میں مثال نہیں ملتی

یورپ میں فیملی کا کوئی تصور نہیں ہے، یوں کہہ لیں کے بہن، بھائی، ماں، باپ اور دادا، دادی کی کوئی تمیز نہیں ہے، جنسی ضرورت کے لئے شادی کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی،وہاں عورت کی کوئی عزت نہیں ہے، کوئی شوہر نہیں ہے جو کہے بیگم تم گھر رہو میں تمہیں ہر چیز گھر لا کے دونگا، وہاں کوئی بیٹا نہیں ہے جو کہے ماں تم گھر سے نہ نکلو میں ہوں نا؟ وہاں کوئی بیٹی نہیں ہے جو کہے ماں تم تھک گئی ہو آرام کرو میں کام کر دونگی ۔وہاں عورت گھر کے کام خود کرتی ہمیں سکھاتا ہے کہ۔۔غصہ اسلام میں حرام ہے۔۔ اور ایک مسلمان کو اپنے غصےپر قابو رکھنا چاہیے کیونکہ۔۔۔۔۔میرے نبیؐ نے فرمایا۔۔”طاقتور وہ شخص نہیں ہے جو کشتی میں دوسروں کو پچھاڑ دیتا ہے بلکہ طاقتور تو در حقیقت وہ ہے جو غصے کے موقعے پر اپنے اوپر قابو رکھتا ہے۔

یعنی کہ غصے میں آکر کوئی ایسی حرکت نہیں کرتا جو اللہ اور رسول کو ناپسند ہے غصہ اور اپنی زبان پر قابو پانے والا شخص اچھا مسلمان کہلاتاہے۔۔ ۔۔میرے نبی نےولی فرمایا کہ ۔۔۔۔۔جو (خلاف حق بولنے سے)اپنی زبان کی حفاظت کرے گا ۔۔۔۔۔اللہ اسکے عیب پر پردہ ڈالے گا ۔۔۔۔اس لیئے اپنی زبان سے ہمیشہ اچھی بات ہی نکالیں اور ۔۔۔۔۔اللہ سخت ناراض ہوتا ہے اس بات سے بھی کہ کسی کی نقل اتاریں ۔۔۔۔اللہ سبحان وتعالی کو یہ پسند نہیں کہ اسکی بنائی ہوئی چیز یا انسان میں سے نقل نکالیں اسی لیئیے میرے نبی نے فرمایا کہ “میں کسی کی نقل اتارنا پسند نہیں کرتا چاہے اسکے بدلے مجھے بہت سی دولت ملے”۔۔۔۔۔اسلام ہمیں سکھاتاہے

کہ ۔۔۔۔۔دوسرے جب مصیبت میں مبتلا ہوں تو آپ ان پر خوش نہ ہوں ۔۔۔۔۔بلکہ ان کے غم میں برابر کے شریک ہو کر انکا غم دور کرنے کی کوشش کریں کیونکہ میرے نبی نے فرمایا “تو اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار نہ کر ورنہ اللہ اس پر رحم فرمائے گا (اور مصیبت ہٹادےگا)اور تجھے مصیبت میں مبتلا کر دے گا ۔۔۔۔۔۔جن دو آدمیوں کے درمیان دشمنی ہوتی ہے ان میں سے کسی ایک پر اس دوران کوئی مصیبت آ پڑتی ہے تو دوسرا بہت خوشی مناتاہے ۔۔۔۔۔۔یہ اسلامی ذہنیت کے خلاف بات ہے مومن اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی نہیں مناتا اگرچہ دونوں کے درمیان رنجش ہو