بیوی کیساتھ یہ تین کام کرنا اپنے آپ کو برباد کرنے کے برابر ہیں

بعض اوقات انسان سے جانے انجانے میں کچھ ایسی غلطیاں سر زد ہوجاتی ہیں جس کی کوفت اسے ساری زندگی تڑپاتی ہے آج ہم آپ سےتین ایسے کام شیئر کریں گے جو بیوی کے ساتھ کرنے سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے جو بھی شخص اپنی شریک حیات کے ساتھ یہ عمل کرے گا رزق اس سے دور کر دیا جائے گا بیماریا اس کی زندگی میں عام ہو جاتی ہے ساس سسر کو گالی دینا شادی کے بندھن سے منسلک ہونے کے بعد ساس سسر والدین کا درجہ رکھتے ہیں وہ وہی تعظیم کے حقدار ہیں جو اپنے والدین کی ہوتی ہے ان کو برا بھلا کہنا

گالی گلوچ کسنے سے منع فرمایا گیا ہے کچھ ان پڑھ لوگ اپنے ساس سسر کو برے ناموں سے پکارتے ہیں توزوال ایسے گھر کا مقدر بن جاتا ہے بیوی کے ساتھ غیر فطری طریقے سے ہمبستری کرنا بیوی کے ساتھ پچھلے حصے سے ہمبستری کرنا شرمگاہ کو منہ لگانا یہ ایک غیرفطری فعل ہے جس سے عورت تکلیف سے دوچار ہوتی ہے ایسے مرد پیسے پیسے کا محتاج ہو جاتے ہیں وہ شوہر جو بات بات پروہ الفاظ بولے جس میں طلاق کاناپسند دید لفظ ہو گھروں میں میاں بیوی کے درمیان وقتی ناراضگی ہو جاتی ہے مگرچھوٹی بات پر طلاق کالفظ بول کرعورت کو پریشان کرنا بہت بڑی زیادتی ہے لفظ طلاق کو اللہ پاک نے سخت ناپسندفرمایاہے زندگی ایک دوسرےکوسمجھنےاوربرداش کرنے کانام ہے غلطیاں جانے انجانےمیں ہوجاتی ہیں

بہترین حکمت عملی یہی ہے کہ خوش اسلابی سے حل کیے جائیں تاکہ دلوں میں رنجشیں پروان نہ چڑھیں اور وفاباقی رہ سکیں جب میاں بیوی ایک دوسرے کو سمجھ لیتے ہیں ایک دوسرے کی خوشی کا احترام کرتے ہیں ایک دوسرے کو وہ مقام دیتے ہیں جس کا وہ حق رکھتے ہیں مرد عورت کو اپنی پراپرٹی نہ سمجھےعورت مرد کو اپنا غلام نہیں تو ان کی ازدواجی زندگی جنت بن جاتی ہے دوستو اپنی بھی اصلاح کریں اور دوسروں سے بھی شیئر کریں تاکہ وہ بھی ان کاموں کا مرتکب ہونے سے بچ سکیں اور اپنی اصلاح کر سکیں شکری

عورت کیلئے ایک ہی شادی کا حکم کیوں؟؟؟

سائنس کے دائرے میں قرآنی معجزات کی ایک جھلک ایک ماہرِ جنین یہودی (جو دینی عالم بھی تھا) کھلے طور پر کہتا ہے کہ روئے زمین پر مسلم خاتون سے زیادہ پاک باز اور صاف ستھری کسی بھی مذھب کی خاتون نہیں ہے پورا واقعہ یوں ہے کہ الپرٹ اینسٹاین انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ایک ماہرِ جنین یہودی پیشوا روبرٹ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا جس کا واحد سبب بنا قرآن میں مذکور مطلقہ کی عدت کے حکم سے واقفیت اور عدت کیلئے تین مہینے کی تحدید کے پیچھے کارفرما حکمت سے شناسائی اللہ کا فرمان ہے والمطلقات یتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء [البقرة:228] “مطلقات اپنے آپکو تین حیض تک روکے رکھیں” اس آیت نے ایک حیرت انگیز جدید علم ڈی این اے کے انکشاف کی راہ ہموار کی اور یہ پتا چلا کہ مرد کی منی میں پروٹین دوسرے مرد کے بالمقابل 62 فیصد مختلف ہوا کرتی ہےتفصیلات کےلیے وڈیو دیکھیں

اور عورت کا جسم ایک کمپیوٹر کی مانند ہے جب کوئی مرد ہم بستری کرتا ہے تو عورت کا جسم مرد کی تما بیکٹریاں جذب ومحفوظ کر لیتا ہے
اس لئے طلاق کے فورا بعد اگر عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرلے یا پھر بیک وقت کئی لوگوں سے جسمانی تعلقات استوار کرلے تو اس کے بدن میں کئی ڈی این اے جمع ہو جاتے ہیں جو خطرناک وائرس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور جسم کے اندر جان لیوا امراض پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں سائنس نے پتا لگایا کہ طلاق کے بعد ایک حیض گزرنے سے 32سے35 فیصد تک پروٹین ختم ہو جاتی ہے اور دوسرے حیض آنے سے 67 سے 72 تک آدمی کا ڈی این اے زائل ہو جاتا ہے
اور تیسرے حیض میں 99.9%کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور پھر رحم سابقہ ڈی این اے سے پاک ہو جاتا ہے اور بغیر کسی سائڈ افیکٹ و نقصان کے نئے ڈی این اے قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے ایک طوائف کئ لوگوں سے تعلقات بناتی ہے جس کے سبب اس کے رحم مختلف مردوں کی منی چلی جاتی ہیں اور جسم مختلف ڈی این اے جمع ہو جاتے ہٰیں اور اسکے نتیجے میں وہ مہلک امراض کا شکار بن جاتی ہے اور رہی بات متوفی عنہا کی عدت تو اس کی عدت طلاق شدہ عورت سے زیادہ ہے کیونکہ غم و حزن کے بنا پر سابقہ ڈی این اے جلدی ختم نہیں ہوتا اور اسے ختم ہونے کے لئے پہلے سے زیادہ وقت درکار ہے اور اسی کی رعایت کرتے ہوئے ایسی عورتوں کےلئے چار مہینے اور دس دن کی عدت رکھی گئی ہے فر مان الہی ہے والذين يتوفون منكم و يذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر و عشرا
[البقرة:٢٣٤]

”اور تم میں سے جس کی وفات ہو جائے اور اپنی بیویاں چھوڑے تو چاہیے کہ وہ چار مہینے اور دس دن اپنے آپ کو روکے رکھیں“ اس حقیقت سے راہ پاکر ایک ماہر ڈاکٹر نے امریکہ کے دو مختلف محلے میں تحقیق کیا ایک محلہ جہاں افریقن نژاد مسلم رھتے ہیں وہاں کی تمام عورتوں کے جنین میں صرف ایک شوہر ہی کا ڈی این اے پایا گیا جبکہ دوسرا محلہ جہاں اصل امریکن آزاد عورتیں رھتی ہیں ان کے جنین میں ایک سے زائد دو تین لوگوں تک کے ڈی این اے پائے گئے جب ڈاکٹر نے خود اپنی بیوی کا خون ٹیسٹ کیا تو چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی کہ اس کی بیوی میں تین الگ الگ لوگوں کے ڈی ان اے پائے گئے جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کی بیوی اسے دھوکہ دے رہی تھی اور یہ کہ اس کے تین بچوں میں سے صرف ایک اس کا اپنا بچہ ہے اس کے بعد ڈاکٹر پوری طرح قائل ہوگیا کہ صرف اسلام ہی وہ دین ہے جو عورتوں کی حفاظت اور سماج کی ہم آہنگی کی ضمانت دیتا ہے اور اس بات کی بھی کہ مسلم عورتیں دنیا کی سب سے صاف ستھری پاک دامن وپاک باز ہوتی ہیں