جو رزق تمہارے حصے میں ہے وہ ضرور مل کر رہے گا

مشہور مؤرخ ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ میں ایک سال حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں تھا تو میں نے خراسان ( اس دور میں خراسان‘ ایران اور افغانستان سمیت ارد گرد کے کئی ممالک کو کہا جاتا تھا) سے آئے ہوئے ایک شخص کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا ‘ وہ کہہ رہا تھا :’’ اے مکہ کے رہنے والو! اے حج کیلئے دور دراز سے آنے والو! میری ایک تھیلی گم ہو گئی ہے جس میں ایک ہزار دینار تھے ۔ جو شخص بھی مجھے وہ واپس کر دے تو اللہ تعالیٰ اُسے بہترین جزادے اور جزادے اور جہنم سے آزادی عطا کرے‘‘( دینار سونے کا سکہ ہوتا تھا اور آج کل کے حساب سے اس کا وزن 4, 347گرام بنتا ہے ۔

اس طرح اندازہ کر لیں کہ ایک ہزار دینار ، اچھا خاصا سونے کا خزانہ تھا)یہ اعلان سنتے ہی مکہ مکرمہ کے ایک بوڑھے صاحب اٹھے اور انہوں نے اُس اعلان کرنے والے کو مخاطب کر کے کہا :’’ اے خراسانی بھائی ! ہمارے شہر کے حالات آج کل بہت ہی دگرگوں ہیں ۔ ہر طرف قحط سالی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔ مزدوری کے مواقع بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ فقر و غربت کا دور دورہ ہے ۔ آپ کیلئے میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اُس شخص کیلئے جو آپ کا مال لوٹا دے‘ کچھ انعام کا اعلان کردو ۔ ممکن ہے کہ وہ مال کسی فقیر اور محتاج کے ہاتھ لگا ہو تو جب وہ انعام کا اعلان سنے گا تو آپ کا مال لا کر دے دے گا ۔ تاکہ اُسے بھی حلال طریقے سے کچھ دینار مل جائیں‘‘۔

خراسانی شخص نے پوچھا:’’ آپ کے خیال میں ایسے شخص کا انعام کتنا ہونا چاہیے؟‘‘۔مکہ مکرمہ کے رہائشی اُن بزرگ عمر شخص نے کہا :’’ ایک ہزار دینار میں سے کم از کم سو دینار تو ہونے ہی چاہئیں ‘‘۔لیکن خراسانی شخص اس پر راضی نہیں ہوا اور اُس نے کہا :’’ میں اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہوں ۔ آج مجھے مال نہ ملا تو کوئی بات نہیں ‘روزِ قیامت تو مل ہی جائے گا ‘‘۔ابن جریرطبری کہتے ہیں کہ میں یہ سارا مکالمہ سن رہا تھا اور میں سمجھ گیا کہ یہ مال کسی اور کو نہیں اسی بابا جی کو ملا ہے لیکن یہ بغیر کسی حلال انعام کے اُسے واپس نہیں کرنا چاہتا ہے ۔ شاید یہ بہت محتاج اور فقیر ہے ۔ میں نے اپنے شک کو یقین میں بدلنے کیلئے اور اصل صورت حال سمجھنے کیلئے اُس کا پیچھا کیا کہ یہ کہاں جاتا ہے؟وہ بابا جی اپنی جگہ سے اٹھے اور مکہ مکرمہ ایک پرانے محلہ کے کچے گھر میں داخل ہوئے ۔ ابن جریر طبری باہر کان لگا کر سن رہے تھے ۔ اندر گھر سے آواز آئی کہ بابا جی اپنی اہلیہ کو کہہ رہے تھے:’’ اے لبابہ ! دیناروں کا مالک مل چکا ہے اور اب ہمیں دینار واپس ہی کرنے پڑیں گے ۔ میں نے اُسے کچھ انعام دینے کا ہی کہا لیکن وہ تو اس سے بھی انکاری ہے‘‘۔

کئی دنوں سے فاقے کی ستائی ہوئی اہلیہ نے جواب دیا :’’ میں پچاس سال سے آپ کے ساتھ غربت بھری زندگی بسر کر رہی ہوں لیکن کبھی اپنی زبان پر حرفِ شکایت نہیں لائی ۔ لیکن اب تو کئی دنوں سے فاقہ ہے ۔ پھر ہم دونوں کی ہی بات نہیں ۔ گھر میں ہماری چار بیٹیاں ، آپ کی دو بہنیں اور آپ کی والدہ بھی ہیں ۔ انہی کا کچھ خیال کر لو ۔ یہ مال جیسا بھی ہے آج خرچ کر لو ۔ کل کو ممکن ہے کہ اللہ تمہیں مالدار کر دے تو یہ قرض چکا دینا ‘‘۔بابا جی نے اپنی لرزتی ہوئی آواز میں کہا:

’’ کیا میں ۸۶ برس کی عمر میں آکر اب حرام کھانا شروع کردوں‘ جبکہ میں نے پوری زندگی صبر وشکر میں گزاردی ہے ۔ اب تو یوں سمجھو کہ میں قبر میں پائوں لٹکائے بیٹھا ہوں ۔ مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا۔‘‘ اس پر بیوی بھی خاموش ہو گئیابن جریر طبری کہتے ہیں میں یہ سب باتیں سن کر بہت حیران ہوا اور واپس حرم شریف آگیا ۔ اگلے دن جب سورج کچھ بلند ہوا تو وہ ہی کل والا خراسانی شخص اپنے گم شدہ مال کا اعلان کرنے لگا ۔ پھر وہ ہی بابا جی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا :’’اے خراسانی بھائی! میں نے کل بھی آپ کو ایک مفید مشورہ دیا تھا اگر آپ ہزار دینار میں سے سو دینار نہیں دے سکتے تو دس دینار ہی دے دو تاکہ اگر کسی غریب‘ فقیر ‘ محتاج کو آپ کا مال ملا ہے تو اُس کا بھی کچھ بھلا ہو جائے ‘‘۔

ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ اس طرح دوسرا دن بھی بیت گیا اور خراسانی شخص کو اُس کا مال نہیں مل سکا ۔ جب تیسرے دن کی صبح ہوئی تو پھر وہ آکر اپنے گم شدہ مال کا اعلان کرنے لگا ۔ اب پھر وہ ہی بابا جی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا :’’خراسانی بھائی! میں نے پرسوں آپ کو سو دینار انعام کا اعلان کرنے کا مشورہ دیا لیکن آپ نہیں مانے ۔ کل دس دینار کا مشورہ دیا ‘ اُس پر بھی آپ نے انکار کر دیا ۔ چلو! ایک دینار انعام کا ہی اعلان کر دو ، ممکن ہے کہ جس غریب کو مال ملا ہے ‘ اُس کے گھر میں کئی دن سے فاقہ ہو تو وہ ایک دینار سے اپنے اہل و عیال کیلئے کچھ کھانے کا ہی انتظام کر لے گا ‘‘۔

خراسانی شخص نے پھر بڑی ہی تنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک دینار بھی دینے کیلئے تیار نہیں ہوں ۔ اپنا مال لوں گا تو پورا لوں گا ورنہ روزِ قیامت ہی فیصلہ ہو گا ۔جب بابا جی نے یہ سنا تو اُن کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا اور اُس خراسانی شخص کا دامن اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا:’’میرے ساتھ آئو کہ میں تمہارا مال واپس کردوں ۔ اللہ کی قسم! جب سے یہ مال مجھے ملا ہے‘ میں ایک پل بھی سکون کی نیند نہیں سو سکا ہوں‘‘۔ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ میں بھی چپکے سے ان کے پیچھے پیچھے چل دیا ۔ بابا جی اپنے گھر میں داخل ہوئے ۔ دینار لیے اور باہر نکل کر وہ سارے دینار اُس خراسانی شخص کو دیتے ہوئے کہا:’’اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دے اور اپنے فضل سے ہمیں رزق عطا فرمائے‘‘۔

مجھے اُن کے پیچھے گھر سے رونے اور سسکیوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی کہ سب کئی دن فاقے سے تھے ۔ اُس خراسانی شخص نے تسلی سے اپنے دینار گنے اور روانہ ہو گیا ۔ ابھی وہ تھوڑا ہی آگے گیا تھا کہ اچانک مڑا اور اُن بابا جی کی کنیت سے اُنہیں مخاطب کر کے کہنے لگا:’’اے ابو غیاث! میرے والد کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنی میراث میں تین ہزار دینار چھوڑے تھے اور وصیت کی تھی کہ شرعی طریقے پر اس کا تیسرا حصہ یعنی ہزار دینار فقراء و مساکین پر صدقہ کر دئیے جائیں اور میں مکہ مکرمہ سے یہ مال اسی نیت سے لایا تھا کہ کسی فقیر اور محتاج کو دے کر اپنے لیے اور اپنے مرحوم والد کیلئے دعا کروائوں گا ۔ مجھے اس سفر میں آپ سے زیادہ سفید پوش کوئی نظر نہیں آیا ‘ اس لیے یہ مال رکھ لو اور اپنی ضروریات میں خرچ کرو‘‘۔یہ سن کر ابو غیاث کی آنکھوں سے تشکر بھرے آنسو رواںہو گئے اور انہوں نے خراسانی شخص اور اس کے والد ِ مرحوم کو خوب دعائیں دیں ۔ پھر جب وہ خراسانی شخص وہاں سے جانے لگا میں بھی واپس ہونے کیلئے مڑا تو پیچھے انہی بابا جی ’’ابو غیاث‘‘ کی آواز سنائی دی :

’’ بیٹا ! رک جائو ۔ میں پہلے دن سے دیکھ رہا ہوں کہ تم میرا پیچھا کر رہے ہو اور پورے معاملے سے باخبر ہو ۔ میںنے اپنے شیخ احمد بن یونس یربوعیؒ سے اور انہوں نے امام مالکؒ سے اور امام مالکؒ نے حضرت نافع ؒ سے سنا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتاتے تھے کہ جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کو فرمایا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی ہدیہ (تحفہ) بغیر مانگے اور بغیر نفس کے انتظار کے دے دے تو اُسے قبول کر لینا اور رد نہ کرنا‘‘۔پھر انہوں نے گھر کے نو افراد کیلئے سو ‘سو دینار الگ کیے اور پورا دسواں حصہ یعنی سو دینار مجھے عنایت کیے اور مجھے ساتھ ہی کہا کہ یہ حلال مال ہے ‘ اسے احتیاط سے خرچ کرنا ۔

ابن جریر طبری کہتے ہیں میں وہ ہی سو دینار دو سال تک خرچ کرتا رہا اور خوب علم حاصل کیا ۔اللہ کریم ہم سب کو اپنے لطف و احسان سے اس کا یقین عطا فرما دے کہ جو رزق ہمارے نصیب میں لکھا ہے‘ وہ ہمیں ضرور ملے گا چاہے وہ کہیں بھی ہو اور جو رزق ہمارے حصہ کا نہیں ہے‘ وہ ہمارے کام نہیں آئے گا ‘ خواہ ہمارے ہاتھ میں ہی کیوں نہ ہو۔ بس رزقِ حلال کے اہتمام اور حرام روزی سے بچنے کی یہی کنجی ہے ۔ باقی رزقِ حلال کیلئے محنت ‘ مسنون دعائوں اور مقبول وظائف بھی بندے کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کے ذرائع اور بہانے ہیں۔دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

مکڑی

ایک تحقیق کے مطابق مادہ مکڑی بچے دینے کے بعد نر مکڑی (اپنے بچوں کے باپ) کو قتل کر کے گھر سے باہر پھینک دیتی ہے۔ پھر جب اولاد بڑی ہو جاتی ہے، تو اپنی ماں کو قتل کر کے گھر سے باہر پھینک دیتی ہے۔ کتنا عجیب و غریب گھرانہ اوریقیناً بدترین گھرانہ ہے۔قرآن مجید کی اس پوسٹ کہ بعد اگلی پوسٹ یہ والی ہے ایک سورت ہے” العنکبوت” —- عنکبوت کو اردو میں “مکڑی ” کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایاہے کہ سب سے بودا یا کمزور گھر مکڑی کا ہے قرآن کاکہ سب سے بودا یا کمزور گھر مکڑی کا ہے قرآن کامعجزہ دیکھیں،ایک جملے میں ہی اس گھرانے کی پوری کہانی بیان کر دی کہ بے شک گھروں میں سے سب سے کمزور گھر عنکبوت کا ہے اگر یہ(انسان) علم رکھتے۔

”انسان مکڑی کے گھر کی ظاہری کمزوری کو تو جانتے تھے، مگر اس کےگھرکی معنوی کمزوری یعنی دشمنی اور خانہ جنگی سے بے خبر تھے۔ اب جدید سائنس کی وجہ سے اس کمزوری سے بھی واقف ہو گئے، اس لیے اللہ نے فرمایا اگر یہ علم رکھتے یعنی مکڑی کی گھریلو کمزوریوں اور دشمنی سے واقف ہو تے۔اس سب کے باوجود اللہ تعالی نے ایک پوری سورت کانام اس بری خصلت والیکیڑے کے نام پر رکھا حالانکہ اس سورت کے شروع سے آخرتک گفتگو فتنوں کے بارے میں ہے۔سورت کی ابتدا یوں ہے : ” کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اس بات پر چھوٹ جائیں گے کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایمان لایا ہے اور ان کو آزمایا نہیں جائے گا”اور فرمایا “لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں ۔جو کہتے تو ہیں کہ ہم نے ایمان لایا ہے مگر جب ان کو اللہ کی راہ میں اذیت دی جاتی ہے، تو لوگوں کی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھتے ہیں۔”ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ مکڑی کا فتنوں اور آزمائشوں سے کیا تعلق ہے؟درحقیقت، فتنے، سازشیں اور آزمائشیں بھی مکڑی کی جال کی طرح پیچیدہ ہیں اور انسان کے لیے ان کے درمیان تمیز کرنا ان کو بے نقاب کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مگر اللہ مدد کرے تو یہ کچھ بھی نہیں ہوتے۔

جب انسان مرتا ہے

عام طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد میت کی آنکھیں کیوں کھلی رہ جاتی ہیں۔سائنس اسکا جو بھی جواب دے لیکن ایک مسلمان کے لئے اس سے بڑا حکمت افروز جواب کیا ہوسکتا ہے جو آقائے دوجہان ﷺ نے دیا تھا اور اس راز لافانی سے آگاہ فرمادیا تھا کہ جب کوئی فوت ہوتا ہے تو اسکی آنکھیں ایک ایسا منظر دیکھ رہی ہوتی ہیں جو زندوں کو نظر نہیں آتا۔مسلم اور ابن ماجہ کی روایات کے مطابق حضرت ابوسلمہؓ کا جب آخری وقت آیا تورسول اللہ ﷺان کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔وہ جان کنی کے عالم میں تھے، پردے کے دوسری طرف عورتیں رورہی تھیں۔

آپﷺ نے فرمایا’’ میت کی جان نکل رہی ہوتی ہے تو اس کی نگاہیں پرواز کرنے والی روح کا پیچھا کرتی ہیں، تم دیکھتے نہیں کہ آدمی مر جاتا ہےتو اس کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں‘‘ جب حضرت ابوسلمہؓ کا دم نکل گیا تو آپﷺ نے دست مبارک سے ان کی آنکھیں بند کر دیں۔آپﷺ نے عورتوں کو تلقین کی کہ (میت پربین کرتے ہوئے) اپنے لیے بددعا نہیں، بلکہ بھلائی کی دعا ہی مانگیں، کیونکہ فرشتے میت اور اس کے اہل خانہ کی دعا یا بددعا پر آمین کہتے ہیں۔ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوسلمہؓ کے لیے یوں دعا فرمائی’’ اے اللہ، ابوسلمہ کی مغفرت کر دے۔ ہدایت یافتوں (اہل جنت) میں ان کا درجہ بلند کر دے۔ پس ماندگان میں ان کا قائم مقام ہو جا۔ اے رب العٰلمین، ہماری اور ان کی مغفرت کردے۔ قبر میں ان کے لیے کشادگی کر دے اور اسے منور کر دے ‘‘ حضرت ابوسلمہؓ سابقون الاولین صحابہ کرام میں سے تھے ،روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت ابو سلمہؓ کی نماز جنازہ کے دوران پہلی بار نو تکبریں کہی تھیں۔

گلاس گرم پانی کے ساتھ 3 کھجوریں اس سے ہوگا کیا

یہ وہ پھل ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں متعدد بار آیا ہے. حضرت مریم کو دوران حمل کھجوریں کھانے کی ہدایت کی گئی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پھل انتہائی مقوی غذا ہے. حکماء اسے کئی اعتبار سے دیگر پھلوں پر فوقیت دیتے ہیں. شہد اور کھجور کا مزاج گرم ہے اس وجہ سے یہ موسم سرما میں بہت مفید ہے. یہ دمے کے مریضوں کیلئے بہترین غذا کا درجہ رکھتی ہے اور ساتھ ہی ہاضمہ بھی درست رکھتی ہے خون صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ جسم میں تازہ خون بھی پیدا کرتی اس اردو کے نیچے ویڈیو پر کلک کرکے دیکھیں ویڈیو میں کیسے نسخہ کیسے استعمال کرنا ہے دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں

شہد اور کھجور بلغم کا خاتمہ اور پھیپھڑوں کو بھی طاقت بخشتی ہے. جسم کے ساتھ ساتھ دماغ‘ اعصاب‘ قلب ‘معدے اورجسم کے پٹھوں کیلئے بھی بے حد مفید ہے.جن لوگوں کا وزن کم ہو یا خون کی کمی ہو انہیں پابندی کے ساتھ کھجور اور شہد کا استعمال کرناچاہئے. یہ امراض قلب میں بھی فائدہ مند ہے اس کے معدنی نمکیات دل کی دھڑکن کو منظم کرتے ہیں اور اس کے بعض اجزاء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خون بننے میں مدد دیتے ہیں کھجور کے ریشے‘ میگنیشم‘ کیلشیم کے حصول کا عمدہ ذریعہ ہے اور ان میں پوٹاشیم کی بھی وافر مقدار موجود ہوتی ہے. کھجور‘ فیٹ‘ سوڈیم اور کولسٹرول فری ہے اور صحت کے بارے میں حساس افراد کیلئے بہترین معیاری غذا ہے. طب نبویﷺ کے مطابق عجوہ کھجور کی خاص ادویائی اہمیت ہے. یہ خون میں کولیسٹرول کی سطح گھٹاتی اور انجائنا کے مریضوں کو فائدہ پہنچاتی ہے. خصوصاً مدینہ منورہ کی عجوہ کھجوریں کولیسٹرول لیول گھٹانے میں انتہائی مفید ثابت ہوتی ہیں.کولیسٹرول کی سطح گھٹانے کا ایک نسخہ یہ ہے کہ 42 عجوہ کھجوروں کی گٹھلیاں پیس کر اور باریک سفوف بنا کر ایک مرتبان میں رکھ لیں روزانہ نہار

منہ استعمال کریں . ایک اور طریقہ یہ بھی ہے کہ ایک چائے کا چمچہ خالص شہد بھر کے اب اس میں کھجور کی 2 گٹھلیوں کا سفوف ملالیں اور 21 دن تک صبح نہار منہ استعمال کریں اور آدھے گھنٹے بعد ناشتہ کرلیں. شہد اور کھجور کے استعمال سے انجائنا سے بچاؤ بھی ممکن ہے. عجوہ کھجور کے 21 دانے لیں اور اس سے گٹھلیاں نکالنے کے بعد پیس کر باریک سفوف بنالیں. پھر اس سفوف کو دوبارہ اسی خالی جگہ میں بھردیں جہاں سے گٹھلیاں نکالی گئی تھیں ان میں سفوف بھر دیں اور سفوف کی ذرا سی بھی مقدار باقی نہ بچے اب انہیں 21 روز تک باقاعدگی سے استعمال کریں انشاء اﷲ تعالیٰ افاقہ ہوگا.اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے شہد میں بھی اتنی افادیت رکھی ہے جسے بیان نہیں کیا جاسکتا. شہد کمزور لوگوں کیلئے اﷲ تعالیٰ کا بہت بڑا تحفہ ہے جس کا سردیوں میں مستقل استعمال انسان کو چار چاند لگا دیتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مردانہ کمزوری دور کرنے کیلئے رات کو سونے سے قبل دو چمچ شہد کے گرم دودھ میں ملا کر پینے سے مردانہ کمزوری دور ہوجاتی ہے اور اگر اس کے ساتھ کھجور کا استعمال کیا جائے تو سونے پر سہاگہ ہوگا.

معدہ ،جگر ‘ مثانہ میں گرمی ‘ ورم اور سوزش پیدا ہو ہوجائے تو آپ صبح نہار منہ ایک گلاس میں 2شہد کے چمچ ملا کر پئیں انشاء اﷲ تعالیٰ فائدہ ہوگا. بچوں اور بڑوں کو اکثر دائمی نزلہ و زکام اور کھانسی کی شکایت رہتی ہے جوکہ بظاہر ایک چھوٹی سی بیماری نظر آتی ہے جسے اکثر چھوٹے بڑے نظرانداز کردیتے ہیں اور یہ مرض بعد میں

شدت اختیار کرجاتا ہے جس کے نتیجے میں انسان کو سر درد‘ جسم میں کمزوری‘ آنکھوں سے پانی کا بہنا‘ حلق میں خراش اور ہلکا ہلکا بخار اور تھکاوٹ بھی شروع ہوجاتی ہے جس سے ہر وقت بدن سست روی کا شکار ہوتا ہے. ایسے مریضوں کو چاہئے کہ وہ یہ نسخہ بنا کر استعمال کریں ان سب تکالیف کو دور کرنے کیلئے ایک مفید نسخہ آپ کی نظر پیش کرتا ہوں. آدھا تولہ ملٹھی‘ آدھا تولہ لونگ‘ آدھا تولہ دارچینی‘ آدھا تولہ فلفل دراز اور آدھا تولہ الائچی کلاں لے کر اس کو باریک پیس لیں اور شہد میں حسب مقدار ملا کر اس کی معجون بنالیں اور رات کو سونے سے قبل آدھی چمچ کھانے سے انشاء اﷲ تعالیٰ کھانسی ‘ نزلہ و زکام اور بخار کی حدت میں کمی واقع ہوگی.

مچھلی کے شوقین ہیں تو حضورؐ کایہ فرمان ضرور پڑھ لیں

مچھلی دنیا بھر میں مرغوب غذاسمجھی جاتی ہے، اسکی کئی اقسام ہیں لیکن اسکی ہر قسم جدا طبی خصوصیات کی حامل ہے. طب نبوی ﷺ میں مچھلی کے طبی فوائد کا ذکر ملتا ہے. نبی کریم ﷺنے بے پناہ غذائی اور طبی فوائد کی وجہ سے ہی مچھلی کے گوشت کی خاص طور پر اِجازت عطا فرمائی. سفید مچھلی میں چکنائی بہت کم ہوتی ہے جبکہ تیل والی مچھلی میں غیرسیرشدہ چکنائی کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے جو کہ کولیسٹرول کے تناسب کو خود بخود کم کر دیتی ہے. اِس لئے ا س کا اِستعمال بھی اِنسانی صحت کے لئے مفید ہے. ایک تو بہت مشہور ہے.حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے حدیث مروی

ہے”رسول اللہﷺ نے ہم کو تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا اور ہمارے کمانڈرحضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ تھے. جب ہم ساحل بحر تک پہنچے تو ہمیں شدید بھوک نےآلیا اور اس بھوک میں ہم نے درختوں کے پتے جھاڑ کر کھائے.اتفاق سے سمندر کی موجوں نے ایک عنبر نامی مچھلی پھینکی‘ جس کو ہم نے ۵۱ دن تک کھایا‘ اور اس کی چربی کا شوربہ بنایا‘ جس سے ہمارےجسم فربہ ہوگئے‘حضرت ابو عبیدہؓ نے اس مچھلی کی ایک پسلی کو کھڑا کیا اور ایک شخص کو اونٹ پر سوار کرکے اس پسلی کی کمان کے نیچے سے گزارا تو اس کے نیچے سے وہ باآسانی گزرگیا“ امام احمد بن حنبلؒ نے اور ابن ماجہؒ نے اپنی سنن میں حضرت عبداللہ بن عمرؓکی روایت میں کہا ہے ”نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہمارے لئے دو مرد اور دو خون حلال کئے گئے مچھلی اور ٹڈی‘ جگر اور طحال بستہ خون“ مچھلی کو عربی میں سمک کہتے ہیں. اسکا گوشت اورتیل دل کے امراض کلیسٹر ول، موٹاپا، ڈپریشن، کینسر، جلد، زخم اور دوسرے بہت سے امراض میں مفید ہے. مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا دل کے امراض میں ایک بہت مفید چیز ہے.مچھلی کا تیل ماں کے پیٹ میں بچے کی آنکھوں اور دما غ کی نشوونما میں مدد گار ثابت ہوتاہے . محقق واطبا کہتے ہیں کہ سمندری مچھلیاں‘بہتر‘عمدہ‘پاکیزہ اور زود ہضم ہوتی ہیں . تازہ

مچھلی بارد رطب ہوتی اور دیر ہضم ہوتی ہے. اس سے بلغم کی کثرت ہوتی ہے مگر دریائی اور نہر کی مچھلیاں اس سے مستثنیٰ ہیں. اس لئے کہ یہ بہتر اخلاط پیدا کرتی ہیں‘ بدن کو شادابی عطا کرتی ہیں‘منی میں اضافہ ہوتا ہے اور گرم مزاج لوگوں کی اس اصلاح ہوتی ہے. مچھلی کا سب سے عمدہ حصہ وہ ہے جو دم کے قریب ہوتا ہے .تازہ فربہ مچھلی کا گوشت اور چربی بدن کو تازگی بخشتی ہے :-

دودھ کا اُبل کر گرنا

حضرت امام علی رض کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور ہاتھ جوڑ کر عرض کرنے لگی !! یا علی ؑ ہمارے گھر میں جھگڑے بہت ہوتے ہیں، کوئی کسی سے محبت نہیں کرتا اور رزق میں تنگی رہتی ہے ۔ حضرت علیؑ سے عورت نے پوچھا ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عورت کا سوال سنتے ہی امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا اے عورت !! جب تم اللہ کا رزق پکاتے ہو تو کچھ نیچے تو نہیں گرتا ؟یہ سوال سن کر عورت نے عرض کیا ہاں علیؑ جب جب میں دودھ اُبالتی ہوں تو وہ تھوڑا سا گر جاتا ہے۔

بس عورت کا یہ کہنا تھا کہ حضرت علی رض نے فرمایا: اے عورت یاد رکھنا کہ جب تم اللہ کا دیا گیا رزق گراؤ گی اور جلاؤ گی تو اس سے گھر میں بے سکونی ، جھگڑے ، نفرت اور رزق میں تنگی کے اسباب پیدا ہوں گے۔ دودھ کو ابال کر پینا چاہئے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دودھ ابل کر زمین پر نہ گرے تم اپنی اس عادت پر قابو پا لو اللہ کے کرم سے تمہارے گھر میں سکون ، محبت اور برکت آجائے گی۔ حضرت علیؑ کی بات سنتے ہی عورت گھر گئی اور آئندہ اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچانے لگی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اپس کے گھر میں خوشخالی اور ہر طرف سکون ہوگیا۔ سبق: اپنے گھر میں اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچائیں ، شکریہ ، التماس دعا:

حضرت امام علی رض کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور ہاتھ جوڑ کر عرض کرنے لگی !! یا علی ؑ ہمارے گھر میں جھگڑے بہت ہوتے ہیں، کوئی کسی سے محبت نہیں کرتا اور رزق میں تنگی رہتی ہے ۔ حضرت علیؑ سے عورت نے پوچھا ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عورت کا سوال سنتے ہی امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے فرمایا اے عورت !! جب تم اللہ کا رزق پکاتے ہو تو کچھ نیچے تو نہیں گرتا ؟یہ سوال سن کر عورت نے عرض کیا ہاں علیؑ جب جب میں دودھ اُبالتی ہوں تو وہ تھوڑا سا گر جاتا ہے۔

بس عورت کا یہ کہنا تھا کہ حضرت علی رض نے فرمایا: اے عورت یاد رکھنا کہ جب تم اللہ کا دیا گیا رزق گراؤ گی اور جلاؤ گی تو اس سے گھر میں بے سکونی ، جھگڑے ، نفرت اور رزق میں تنگی کے اسباب پیدا ہوں گے۔ دودھ کو ابال کر پینا چاہئے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دودھ ابل کر زمین پر نہ گرے تم اپنی اس عادت پر قابو پا لو اللہ کے کرم سے تمہارے گھر میں سکون ، محبت اور برکت آجائے گی۔ حضرت علیؑ کی بات سنتے ہی عورت گھر گئی اور آئندہ اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچانے لگی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اپس کے گھر میں خوشخالی اور ہر طرف سکون ہوگیا۔ سبق: اپنے گھر میں اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو ضائع ہونے سے بچائیں ، شکریہ ، التماس دعا:

عورت کی صبر اور

ایک عورت کو اللہ ہر بار اولاد نرینہ سے نوازتا مگر چند ماہ بعد وہ بچہ فوت ہو جاتا لیکن وہ عورت ہر بار صبر کرتی اور اللہ کی حکمت سے راضی رہتی تھی۔ مگراس کے صبر کا امتحان طویل ہوتا گیا اور اسی طرح ایک کے بعد ایک اس عورت کے بیس بچے فوت ہوئے۔ آخری بچے کے فوت ہونے پر اس کے صبر کا بندھن ٹوٹ گیا۔ وہ آدھی رات کو زندہ لاش کی طرح اٹھی اور اپنے خالق حقیقی کے سامنے سر سجدے میں رکھ کر خوب روئی اور اپنا غم بیان کرتے ہوئے کہا ‘اے کون و مکاں کے مالک.! تیری اس گناہگار بندی سے کیا خطا ہوئی کہ سال میں نو مہینے خون جگر دے کر اِس بچے کی

تکلیف اٹھاتی ہوں اور جب امید کا درخت پھل لاتا ہے تو صرف چند ماہ اس کی بہار دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔ آئے دن میرا دل غم کا شکار رہتا ہے کہ میرا بچہ پروان چڑھے گا بھی کہ نہیں۔اے دکھی دلوں کے بھید جاننے والے! مجھ کمزور پر اپنا لطف و کرم فرما دے۔ روتے روتے اسے اونگھ آ گئی۔ خواب میں ایک شگفتہ پربہار باغ دیکھا جس میں وہ سیر کر رہی تھی کہ سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ایک محل نظر آیا جس کے اوپر اس عورت کا نام لکھا ہوا تھا۔ باغات اور تجلیات دیکھ کر وہ عو رت خوشی سے بیخود ہو گئی۔ محل کے اندر جا کر دیکھا تو اس میں ہر طرح کی نعمت موجود تھی اور اس کے تمام بچے بھی اسی محل میں موجود تھے جو اسے وہاں دیکھ کے خوشی سے جھوم اٹھے تھے۔ پھر اس عورت نے ایک غیبی آوازسنی کہ تو نے اپنے بچوں کے مرنے پر جو صبر کیا تھا یہ سب اس کا اجر ہے۔ خوشی کی اس لہر سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ جب وہ خواب سے بیدار ہوئی تواس کا سارا ملال جاتا رہا اور اس نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے عرض کیا ‘یا الہٰی اب اگر تواس سے بھی زیادہ میرا خون بہا دے تو میں راضی ہوں۔ اب اگر تو سینکڑوں سال بھی مجھے اسی طرح رکھے تو مجھے کوئی غم نہیں۔ یہ انعامات تو میرے صبر سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس حکایت سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو

ہر حال میں صبر کا دامن تھامے رکھنا چاہیے کیونکہ یہی چیز انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔مصیبتیں‘ پریشانیاں اور دکھ یہ اللہ اپنے بندوں پر اس لئے بھیجتا ہے کہ وہ ان کے درجات بلند کرنا چاہتا ہے‘ صبر کرنا ولیوں اور پیغمبروں کا شیوہ ہے‘ صبر کرنے سے انسان ایسے درجات پا لیتا ہے جو بڑے بڑے عبادت گزار نہیں پا سکتے۔ حکایت نمبر 63 مترجم کتاب ‘حکایات رومی‘ از حضرت مولانا جلال الدین رومی ؒ

وہ صورت مبارکہ جیسے پڑھنے یا سننے سے پریشانیاں ختم ہو جاتے ہیں۔ قرآنی وظیفہ

دنیا میں عمومی طورپر انسان مالی پریشانیوں میں جکڑا رہتاہے لیکن کا حل بھی قرآن مجید میں موجود ہے ، سورۃ رحمان کی تلاوت کرنے سے نہ صرف آپ کے رزق میں کشادگی ہوتی ہے بلکہ قرضوں سے بھی نجات مل سکتی ہے ،

وہ کچھ یوں ہیں۔فراخئی رزق کیلئے:ثواب کے علاوہ رزق کی فراخی کے لئے ہر روز نماز عشاء کے بعد تین بار سورۃ رحمان پڑھے۔ اول و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھے۔

ہر روز عشاء کی نماز کے بعد یہ وظیفہ بلا ناغہ پڑھنے کا معمول بنالیا جائے تو رب تعالیٰ کے فضل و کرم سے کبھی رزق میں کمی واقع نہ ہوگی۔غربت و افلاس سے چھٹکارا:عربت، تنگدستی اور افلاس دور کرنے کے لئے ہر جمعہ کو نماز عشاء پڑھ کر مصلحے پر بیٹھے اور اول و آخر گیارہ بار درود پاک پڑھے۔

درمیان میں دس مرتبہ سورہ رحمن پڑھے۔پھر رب تعالیٰ سے دعا مانگے اور کسی سے بات چیت نہ کرے۔ حق تعالیٰ نے چاہا تو چند ہی دنوں میں اس پر خدا کا بے انتہا انعام و اکرام ہوجائے گا۔دکان میں ترقی کے لئے:باوضو حالت میں سات مرتبہ سورہ رحمن شریف پڑھ کر اپنی دکان کے مال پر دم کریں۔

اللہ تعالیٰ نے چاہا تو دکان خوب چلے گی اور گاہک وافر مقدارمیں دکان میں آئیں گے۔قرض سے نجات:جس کسی پر بہت زیادہ قرض واجب الادا ہو اور وہ قرض ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیے

کہ وہ ہر نماز کے بعد اول گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھے، پھر 11 بار سورہ رحمان پڑھے۔پڑھنے کے بعد پھر گیارہ مرتبہ درود پاک پڑھے۔ حق تعالیٰ نے چاہا تو غیب سے قرض کی ادائیگی کا سامان پیدا ہوجائے گا اور پریشانی جاتی رہے گی۔

صفر کا خاص وظیفہ اللہ الصمد پڑھنے کا فائدہ

اللہ پاک نے اپنے زکر میں دنیا جہاں کے فائدے رکھے ہیں اورایسے فائدے رکھیں ہیں اگر ہمیں ان میں چھپے خزانوں کا علم ہو جائے توہم دن رات اللہ کی عبادت کرتے رہیں اور اس کے زکر سے کبھی بھی سر نہ اوٹھائیں اورجو بھائی بہن پریشان ہیں وہ غریب ہیں مالی حالات دے تنگ ہیں صدقہ وہ چیز ہے جو آپ کو ہر پریشانی سے ہرمصیبت سے نکال دیتا ہے ہرچیز کا صدقہ ہوتا ہے آپ اپنے جسم کا بھی صدقہ دیں۔ یہ عمل میرے وہ بھائی بھی کر سکتے ہیں جن کی مالی اسطاعت کم ہے جوغربت میں ہیں وہ بھی کرسکتے ہیں اورجن مزید پڑھنے کے لیے نیچے ویڈیو پر کلک کریں

کواللہ پاک نے دیا ہوا ہے وہ بھی کرسکتے ہیں صرف ایک مٹھی چاول آپ اپنے ہاتھ میں لیں اورآپ اللہ الصمد پڑھنا شروع کردیں آپ جب بھی اس زکرکو پڑھیں توباوضوہواللہ الصمد ہردانے پر پڑھنا شروع کردیں دس دنوں کا یہ عمل ہے دس دن میں چاول کے سارے دانوں پرآپ اللہ الصمد کا زکر مکمل کریں آپ کی مرضی ہے آپ اس عمل کو ایک دن میں بھی کرسکتے ہیں۔ دو دن میں بھی کرسکتے ہیں لیکن دس دنوں میں آپ نے اس کو مکمل کرنا ہے جب مکمل کر لیں توآپ اس کو چھت پر بھی پھینک سکتے ہیں تاکہ چرند پڑندے یہ کھا لیں قبرستان میں پھینک دیں یا پھر جنگل میں پھینک دیں اگر وہ بھی نہی ہے تو پاس کسی دریا میں پھینک دیں تومیرے بھائیواس کا اتنا برا فائدہ ہے للہ کی بہت مخلوقات ہےجو ہم کو نظر بھی نہیں ہے آتی یہ بوکھی پیاسی اللہ سے اپنے رزق کے لئے دعا مانگ رہی ہوتی ہیں جب آپ کا بھیجا ہوا یہ ایک لقمہ کھائیں گی تو اللہ سے دعائیں کریں گی

یہ آپ کا جب بھیجا ہوا صدقہ کھائیں گی فریاد کریں گی اللہ سے اس وقت آپ کی کوئی بھی حاجت ہے یہ عمل کرتے ہوئے آپ کی مالی پریشانی میں بیٹے کی نوکری کا مسئلہ ہے شوہر کے کاروبار کا مسئلہ ہے بیٹیوں کی شادی کا مسئلہ ہے جو بھی مسئلہ ہے انشاءاللہ یہ عمل کریں اللہ پاک ہر طرح کے مسائل سے آپ کو نکال دیں گے کوئی بھی پریشانی ہے آپ کی آپ ہر پریشانی کے لئے یہ عمل کر سکتے ہیں۔ ترمذی شریف کی روایت ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نقل کیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص بزار سے گزرتے وقت یہ دعا پڑھ لے اسے دس لاکھ نیکیاں ملتی ہیں دس لاکھ گناہ معاف ہوں گے اور وہ دعا کیا ہے لا إلهَ إلَّا اللهُ وحدَه لا شريكَ له ، له المُلْكُ وله الحمْدُ ، وهو على كلِّ شيءٍ قديرٌ تودوستو آج کا عمل اچھا لگے تولائک اورشئیرظرورکریں

سورۃ الکوثر کا ایک ایسا مختصر عمل۔۔

سورت الکوثر کا ایک ایسا مختصر عمل جس سے کاروباری روکاوٹ، بندش نکاح، محبت، خاتمہ بے روزگاری، نافرمان اولاد کو راہ راست کرنکے لئے لاجواب عمل ہے، کرکے آزمائیں اور فائدہ اٹھائیں،
طریقہ عمل۔۔۔ نوچندی بدھ، یاجمعرات، جمعہ کی رات کو بعد نماز عشاء قبلہ رخ بیٹھ کر اول روز سورت الکوثر 921مرتبہ دوسرے روز 921مرتبہ اور آخری تیسرے دن 922مرتبہ پڑھ کر نمک اور کیسی میٹی چیز پر دم کر کے عمل ختم کرلیں، اب آپ سورت الکوثر کے عامل ہیں
عمل قابو میں رکھنے کے لئے روزانہ 121مرتبہ پڑھا کریں، بوقت ضرورت 121مرتبہ سورت الکوثر پڑھ کر کسی چیزپر دم کر کے مطلوب کو کھلادیں، انشاءاللہ رزلٹ 100%ہوگا، نیز یہ عمل زبان دراز ساس، نند،ظالم شوہر کو راہ راست پر لانے کے لئے کیا ہی عجیب عمل ہیں،

ایک روایت کے مطابق جب بندہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس کے جتنے گناہ ہیں سب بدن سے اتار کر ایک ڈھیر میں ڈال دو تاکہ جب تک یہ میرے حضور کھڑا رہے پاک اور ستھرا ہوکر کھڑا رہے۔بندہ نماز پڑھتا رہتا ہے اور گناہ ایک سمت ڈھیر میں جمع کردیئے جاتے ہیں۔ پھر جب وہ بندہ نماز پڑھ کر واپس جانے لگتا ہے تو فرشتے وہ گناہ پکڑ کر عرض کرتے ہیں، مالک یہ گناہ دوبارہ اس کے ساتھ ہی لگادیں؟ تو رب تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے: اب اترے تو اترے ہی رہنے دو، میرا بندہ ستھرا ہو کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔ اس روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ شخص واقعی کتنا بدنصیب ہے جس کو اپنے رب عزوجل کے حضور ایک سجدہ بھی نصیب نہ ہو۔آج اگر ہر مسلمان اپنی ذات کا موازنہ خود کرے تو ہم میں زیادہ تر افراد کا معمول یہ ہوتا ہے:٭ فجر کا وقت سوتے ہوئے گزار دیتے ہیں٭ ظہر اپنے کام کاج کی جگہ پر گزار دیتے ہیں٭ عصر سستی میں گزار دیتے ہیں٭ مغرب ہلے گلے میں اور٭ عشاء تھکن کی وجہ سے گزار دیتے ہیںیہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ بعض لوگ نماز نہ پڑھنے کے باوجود بھی ندامت کا اظہار نہیں کرتے اور اپنے ذہن میں یہ خیال رکھتے ہیںکہ ہم نماز نہیں پڑھتے، لیکن اگر وہ حقیقت سے آشنا ہو تو انہیں پتا چلے گا کہ وہ کیا نماز نہیں پڑھتے بلکہ رب انہیں سجدے کی توفیق ہی عطا نہیں کرتا۔

قیامت کے دن سب سے پہلا سوال بھی نماز کا ہی ہوگا۔ اس لئے اگر آپ بھی اپنے پچھلے تمام گناہوں کیبہتر تو یہ ہے کہ انسان دوسروں کی ذات میں ہنر اور خوبیاں تلاش کرے اور عیب اپنی ذات میں دیکھے۔ یاد رکھو کہ دنیا میں اچھائیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی۔ جس طرح گلزار میں پھول بھی ہوتے ہیں اور خار بھی۔ جس کا دل میلا ہو اسے ہر چیز میلی نظر آتی ہے۔ جس کا دل روشن ہو اسے ہر چیز روشن نظر آتی ہے۔شیخ سعدیؒ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ بے عیب ذات صرف اللہ عزوجل ہی کی ہے۔پس دوسروں کی ذات میں عیب تلاش کرنے سے بہتر ہے کہ اپنی ذات میں موجود عیبوں پر نگاہ دوڑائی جائے اور ان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے