رسول اﷲ ﷺ سے مروی عبرت ناک واقعہ

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا تذکرہ فرمایا جس نے بنی اسرائیل کے ایک دوسرے شخص سے ایک ہزار دینار قرض مانگا۔ قرض دینے والے نے کہا کہ پہلے ایسے گواہ لاؤ جن کی گواہی پر مجھے اعتبار ہو۔ قرض مانگنے والے نے کہا کہ گواہ کی حیثیت سے تو بس اﷲ تعالیٰ کافی ہے۔ پھر اس شخص نے کہا کہ اچھا کوئی ضامن (گارنٹی دینے والا) لے آؤ۔

قرض مانگنے والے نے کہا کہ ضامن کی حیثیت سے بھی بس اﷲ تعالیٰ ہی کافی ہے۔ قرض دینے والے نے کہا تم نے سچی بات کہی اور وہ اﷲ تعالیٰ کی گواہی اور ضمانت پر تیار ہوگیا، چنانچہ ایک متعین مدت کے لئے انہیں قرض دے دیا۔ یہ صاحب قرض لے کر دریائی سفر پر روانہ ہوئے اور پھر اپنی ضرورت پوری کرکے کسی سواری (کشتی وغیرہ ) کی تلاش کی تاکہ اس سے دریا پارکرکے اس متعینہ مدت تک قرض دینے والے کے پاس پہنچ سکیں جو اُن سے طے ہوئی تھی، اور اُن کا قرض ادا کردیں،لیکن کوئی سواری نہیں ملی، (جب کوئی چارہ نہیں رہا تو ) انہوں نے ایک لکڑی لی اور اس میں ایک سوراخ بنایا، پھر ایک ہزار دینار اور ایک خط (اس مضمون کا کہ) ان کی طرف سے قرض دینے والی کی طرف (یہ دینار بھیجے جارہے ہیں) رکھ دیا اور اس کا منہ بند کردیا اور اسے دریا پر لے کر آئے، پھر کہا،

اے اﷲ! تو خوب جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لئے تھے، اس نے مجھ سے ضامن مانگا تو میں نے کہا تھا کہ ضامن کی حیثیت سے اﷲ تعالیٰ کافی ہے، وہ تجھ پر راضی تھا، اس نے مجھ سے گواہ مانگا تو اس کاجواب بھی میں نے یہی دیا کہ اﷲ تعالیٰ گواہ کی حیثیت سے کافی ہے تو وہ تجھ پر راضی ہوگیا تھا اور (تو جانتا ہے کہ) میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی سواری مل جائے جس کے ذریعہ میں اس کا قرض معین مدت پر پہنچا سکوں لیکن مجھے اس میں کامیابی نہیں ملی۔ اس لئے اب میں اس کو تیرے ہی سپرد کرتا ہوں (کہ تو اس تک پہنچادے) چنانچہ اس نے وہ صندوق کی شکل میں لکڑی جس میں رقم تھی، دریا میں بہادی اس یقین کے ساتھ کہ اﷲ تعالیٰ اس امانت کو ضائع نہیں کرے گا۔ اب وہ دریا میں تھی اور وہ شحص واپس ہوچکا تھا۔ اگرچہ فکر اب بھی یہی تھی کہ کسی طرح کوئی جہاز ملے جس کے ذریعہ وہ اپنے شہر جاسکے۔

دوسری طرف وہ صاحب جنہوں نے قرض دیا تھا اسی تلاش میں (بندرگاہ) آئے کہ ممکن ہے کوئی جہاز ان کا مال لے کر آیا ہو، لیکن وہاں انہیں ایک لکڑی ملی، وہی جس میں مال تھا جو قرض لینے والے نے ان کے نام بھیجا تھا، انہوں نے وہ لکڑی اپنے گھر کے ایندھن کے لئے لے لی، پھر جب اسے چیرا تو اس میں سے دینار نکلے اور ایک خط بھی۔ (کچھ دنوں بعد) وہ صاحب جب اپنے وطن پہنچے تو قرض خواہ کے یہاں آئے اور (دوبارہ) ایک ہزار دینار ان کی خدمت میں پیش کردئے۔ اور کہا کہ بخدا میں تو برابر اسی کوشش میں رہا کہ کوئی جہاز ملے تو تمہارے پاس تمہارا مال لے کر پہنچوں، لیکن مجھے اپنی کوششوں میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ پھر قرض خواہ نے پوچھا، اچھا یہ تو بتاؤ، کوئی چیز بھی میرے نام آپ نے بھیجی تھی؟ مقروض نے جواب دیا بتا تو رہا ہوں کہ کوئی جہاز مجھے اس جہاز سے پہلے نہیں ملا جس سے میں آج پہنچا ہوں۔ اس پر قرض خواہ نے کہا کہ پھر اﷲ تعالیٰ نے بھی آپ کا وہ قرض ادا کردیا جسے آپ نے لکڑی میں بھیجا تھا ، چنانچہ وہ صاحب اپنا ہزار دینار لے کر خوشی خوشی واپس ہوگئے۔
(بخاری ۔ کتاب الکفالۃ ۔ باب الکفالۃ فی القرض والدیون بالابدان وغیرہا)

قرض لیتے اور دیتے وقت ان احکام کی پابندی کرنی چاہئے جو اﷲ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ کی آیت ۲۸۲ میں بیان کئے ہیں، یہ آیت قرآن کریم کی سب سے لمبی آیت ہے۔ اس آیت میں قرض کے احکام ذکر کئے گئے ہیں، ان احکام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بعد میں کسی طرح کا کوئی اختلاف پیدا نہ ہو۔ ان احکام میں سے ایک اہم حکم “قرض کی ادائیگی کی تاریخ بھی متعین کرلی جائے” ہے۔ قرض لینے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کرکے وقت پر قرض کی ادائیگی کرے۔ اگر متعین وقت پر قرض کی ادائیگی ممکن نہیں ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اﷲ تعالی کا خوف رکھتے ہوئے قرض دینے والے سے قرض کی ادائیگی کی تاریخ سے مناسب وقت قبل مزید مہلت مانگے۔ مہلت دینے پر قرض دینے والے کو اﷲ تعالیٰ اجرعظیم عطا فرمائے گا۔ لیکن جو حضرات قرض کی ادائیگی پر قدرت رکھنے کے باوجود قرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں، ان کے لئے حضور اکرم ﷺ کے ارشادات میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، حتی کہ آپ ﷺ ایسے شخص کی نمازِ جنازہ پڑھانے سے منع فرمادیتے تھے جس پر قرض ہو یہاں تک کہ اس کا قرض ادا کردیا جائے۔

محبت کی ایک لازوال داستان

ابو العاص بعثت سے پہلے ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا : میں اپنے لیے آپ کی بڑی بیٹی زینبؓ کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں ان کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔ گھر جا کر رسول اللہ ﷺ نے زینب سے کہا : تیرے خالہ کے بیٹے نے تیرا نام لیا ہے کیا تم اس پر راضی ہو ؟

زینب کا چہرہ سرخ ہوا اور مسکرائیں- رسول اللہ ﷺ اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور ابو العاص بن الربیع کا رشتہ زینب کے لیے قبول کیا۔ یہاں سے محبت کی ایک داستان شروع ہوتی ہے۔ ابو العاص سے زینبؓ کا بیٹا “علی” اور بیٹی”امامۃ” پیدا ہوئے۔ پھر آزمائش شروع ہوجاتی ہے کیونکہ نبی ﷺ پر وحی نازل ہوئی اور آپﷺ اللہ کے رسول بن گئے، ابو العاص کہیں سفر میں تھے جب واپس آیا تو بیوی اسلام قبول کر چکی تھیں۔ جب گھر میں داخل ہوا بیوی نے کہا : میرے پاس تمہارے لیے ایک عظیم خبر ہے۔ یہ سن کر وہ اٹھ کر باہر نکلتا ہے۔ زینب خوفزدہ ہو کر ان کے پیچھے پیچھے باہر نکلتی ہے اور کہتی ہے : میرے ابو نبی بنائے گئے ہیں اور میں اسلام قبول کر چکی ہوں۔ ابو العاص : تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ؟ اب دونوں کے درمیان ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوتا ہے جو کہ عقیدے کا مسئلہ تھا۔ زینبؓ : میں اپنے ابو کو جھٹلا نہیں سکتی، نہ ہی میرے ابو کبھی جھوٹے تھے وہ تو صادق اور امین ہیں ، میں اکیلی نہیں ہوں میری ماں اور بہنیں بھی اسلام قبول کر چکی ہیں، میرا چچا زاد بھائی ( علیؓ بن ابی طالب ) بھی اسلام قبول کر چکے ہیں، تیرا چچا زاد ( عثمانؓ بن عفان ) بھی مسلمان ہوچکے ہیں، تیرے دوست ابوبکرؓ بھی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ ابو العاص : مگر میں نہیں چاہتا کہ لوگ یہ کہیں کہ اپنی قوم کو چھوڑ دیا، اپنے آباو اجداد کو جھٹلایا۔تیرے ابو کو ملامت نہیں کرتا ہوں۔ بہر حال ابو العاص نے اسلام قبول نہیں کیا یہاں تک کہ ہجرت کا زمانہ آگیا اور زینبؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہا :

اے اللہ کے رسولﷺ کیا آپ مجھے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دیں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے شوہر اور بچوں کے پاس ہی رہو۔ وقت گزرتا گیا اور دونوں اپنے بچوں کے ساتھ مکہ میں ہی رہے یہاں تک کہ غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا اور ابو العاص قریش کی فوج کے ساتھ اپنے سسر کے خلاف لڑنے کے لیے روانہ ہوا۔ زینبؓ خوفزدہ تھی کہ اس کا شوہر اس کے ابا کے خلاف جنگ لڑے گا اس لیے روتی ہوئی کہتی تھی: اے اللہ میں ایسے دن سے ڈرتی ہوں کہ میرے بچے یتیم ہوں یا اپنے ابو کو کھودوں۔ ابو العاص بن الربیع رسول اللہ ﷺ کے خلاف بدر میں لڑے ، جنگ ختم ہوئی تو داماد سسر کے قید میں تھا،

خبر مکہ پہنچ گئی کہ ابو العاص جنگی قیدی بنائے گئے۔ زینبؓ پوچھتی رہی کہ میرے والد کا کیا بنا ؟ لوگوں نے بتا یا کہ مسلمان تو جنگ جیت گئے اس پر زینبؓ نے سجدہ شکر ادا کیا۔ پھر پوچھا : میرے شوہر کو کیا ہوا ؟ لوگوں نے کہا : اس کو ان کے سسر نے جنگی قیدی بنایا۔ زینبؓ نے کہا :میں اپنے شوہر کا فدیہ (دیت) بھیج دوں گی۔ شوہر کا فدیہ دینے کے لیے زینبؓ کے پاس کوئی قیمتی چیز نہیں تھی اس لیے اپنی والدہ ام المومنین خدیجہؓ کا ہار اپنے گلے سے اتار دیا اور ابو العاص بن الربیع کے بھائی کو دے کر اپنے والد ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ ایک ایک قیدی کا فدیہ وصول کر کے ان کو آزاد کر رہے تھے اچانک اپنی زوجہ خدیجہؓ کے ہار پر نظر پڑی توچھا :

یہ کس کا فدیہ ہے ؟ لوگوں نے کہا : یہ ابو العاص بن الربیع کا فدیہ ہے۔یہ سن کر رسول اللہ ﷺ روپڑے اور فرمایا :یہ تو خدیجہؓ کا ہار ہے، پھر کھڑے ہوگئے اور فرمایا : اے لوگو یہ شخص برا داماد نہیں کیا میں اس کو رہا کروں ؟ اگر تم اجازت دیتے ہو میں اس کا ہار بھی اس کو واپس کردوں؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسولﷺ۔ رسول اللہ ﷺ نے ہار ابو لعاص کو دیا اور فرمایا : زینبؓ سے کہو کہ خدیجہ کے ہار کا خیال رکھے۔ پھر فرمایا : اے ابو العاص کیا میں تم سے تنہائی میں کوئی بات کر سکتا ہوں؟ ان کو ایک طرف لے جا کر فرمایا :

اے ابو العاص اللہ نے مجھے کافر شوہر اور مسلمان بیوی کے درمیان جدائی کرنے کا حکم دیا ہے اس لیے میری بیٹی کو میرے حوالے کرو گے؟ ابو العاص نے کہا: جی ہاں۔ دوسری طرف زینبؓ شوہر کے استقبال کے لیے گھر سے نکل کر مکہ کے داخلی راستے پر ان کی راہ دیکھ رہی تھی۔ جب ابو العاص کی نظر اپنی بیوی پر پڑی فورا کہا : میں جا رہا ہوں۔ زینبؓ نے کہا : کہاں ؟ ابو العاص : میں نہیں تم اپنے باپ کے پاس جانے والی ہو ۔ زینب : کیوں؟ ابو العاص : میری اور تمہاری جدائی کے لیے۔ جاو اپنے باپ کے پاس جاو۔
زینبؓ : کیا تم میرے ساتھ جاو گے اور اسلام قبول کرو گے؟

ابو العاص : نہیں۔ زینبؓ اپنے بیٹے اور بیٹی کو لے کر مدینہ منورہ چلی گئی۔ جہاں 6 سال کے دوران کئی رشتے آئے مگر زینبؓ نے قبول نہیں کیا اور اسی امید سے انتظار کرنے لگی کہ شوہر شاید اسلام قبول کر کے آئے گا۔ 6 سال کے بعد ابو العاص ایک قافلے کے ساتھ مکہ سے شام کے سفر پر روانہ ہوا، سفر کے دوران راستے میں صحابہ کی ایک جماعت نے ان کو گرفتار کر کے ساتھ مدینہ لے گئے،مدینہ جاتے ہوئے زینبؓ اور ان کے گھر کے بارے میں پوچھا ، فجر کی آذان کے وقت زینبؓ کے دروازے پر پہنچا ۔ زینبؓ نے ان پر نظر پڑتے ہی پوچھا کیا اسلام قبول کر چکے ہو؟

ابو العاص : نہیں۔ زینبؓ : ڈرنے کی ضرورت نہیں خالہ زاد کو خوش آمدید، علی اور امامہ کے باپ کو خوش آمدید۔ رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی تو مسجد کے آخری حصے سے آواز آئی کہ: میں ابو العاص بن الربیع کو پناہ دیتی ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے سن لیا جو میں نے سنا ہے؟ سب نے کہا :جی ہاں اے اللہ کے رسولﷺ۔ زینبؓ نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ ابو العاص میرا خالہ زاد ہے اور میرے بچوں کا باپ ہے میں ان کو پناہ دیتی ہوں۔ نبی ﷺ نے قبول کر لی اور فرمایا : اے لوگو یہ برا داماد نہیں،اس شخص نے مجھ سے جو بھی بات کی سچ بولا اور جو وعدہ کیا وہ نبھایا۔ اگر تم چاہتے ہو کہ

اس کو اس کا مال واپس کر کے اس کو چہوڑ دیا جائے یہ اپنے شہر چلا جائے یہ مجھے پسند ہے۔ اگر نہیں چاہتے ہو تو یہ تمہارا حق ہے اور تمہاری مرضی ہے میں تمہیں ملامت نہیں کروں گا۔ لوگوں نے کہا :ہم اس کا مال اس کو واپس کر کے اس کو جانے دینا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے زینب تم نے جس کو پناہ دی ہم بھی اس کو پناہ دیتے ہیں۔ اس پر ابو العاص زینبؓ کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ نے زینب سے فرمایا : اے زینب ان کا اکرام کرو یہ تیرا خالہ زاد ہے اور بچوں کا باپ ہے مگر یہ تمہارے قریب نہ آئےکیونکہ یہ تمہارے لیے حلال نہیں۔ زینبؓ نے کہا : جی ہاں اے اللہ کے رسولﷺ۔ گھر جا کر ابو العاص بن ربیع سے کہا :

اے ابو العاص جدائی نے تجھے تھکا دیا ہے کیا اسلام قبول کر کے ہمارے ساتھ رہو گے۔ ابو العاص : نہیں۔ اپنا مال لے کر مکہ روانہ ہو گئے جب مکہ پہنچے تو کہا : اے لوگو : یہ لو اپنے اپنے مال، کیا کسی کا کوئی مال میرے ذمے ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ تمہیں بدلہ دے تم نے بہتر وعدہ نبھایا۔ ابو العاص نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کے بعد مدینہ روانہ ہوئے اور جب مدینہ پہنچے تو پھر فجر کا وقت تھا ۔ سیدھا نبی ﷺ کے پاس گئے اور کہا :کل آپ نے مجھے پناہ دی تھی اور آج میں یہ کہنے آیا ہو کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور

آپ اللہ کے رسولﷺ ہیں۔ ابو العاصؓ نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ کیا زینبؓ کے ساتھ رجوع کی اجازت دیتے ہیں؟ نبی ﷺ نے ابوالعاصؓ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : آو میرے ساتھ، زینبؓ کے دروازے پر لے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا اور زینبؓ سے فرمایا : یہ تمہارا خالہ زاد واپس آیا ہے تم سے رجوع کی اجازت مانگ رہا ہے کیا تمہیں قبول ہے؟زینبؓ کا چہرہ سرخ ہوا اور مسکرائیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس واقعے کے صرف ایک سال بعد زینبؓ کا انتقال ہوا جس پر ابو العاصؓ لوگوں کے سامنے زارو قطار رونے لگے حتی کہ رسول اللہ ﷺ ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر تسلی دیتے تھے، جواب میں ابو العاصؓ کہتے :اے اللہ کے رسول ﷺ اللہ کی قسم زینب کے بغیر میں دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا اور ایک سال کے بعد ہی ابو العاصؓ بھی انتقال کر گئے۔

ایک ماں کی کہانی

دل میں بہت خواہش تھی کہ اسے دیکھوں اور سچ کا پتہ لگاؤں. جیسے ہی کزن کے ساتھ اس گھر میں داخل ہوئی جو دکھنے میں ایک نہایت ہی صاف ستھرا اور پکا گھر تھا گھر کے مکین بھی خوش لباس تھے سب نہایت خوش اخلاقی کا مظاہره کررہے تھے. ہم لوگ مکینوں کے منت کے باوجود سیدھا ایک ایسے کچے کمرے میں گئے جس کی دیواریں گرنے کو تیار تھیں.اندر تو کمره کم بکریوں کی جگہ زیاده تھا . جہاں گندی بدبو آرہی تھی. کمره میں سارے گھر کا فالتو سامان تھا. اور بکریوں کے ساتھ ان کا چاره تھا . ایک جانب نہایت ہی غلیظ بستر بچا تھا .اتنے میں ایک اپاہج ماں رینگتی ہوئی اپنے بستر تک آئی . ایک ایسی ماں جو بیٹے اور بیٹیوں کے گھر میں ایک فالتو سامان کی طرح یہاں پھینک دی گئی تھی-

دل میں بہت خواہش تھی کہ اسے دیکھوں اور سچ کا پتہ لگاؤں. جیسے ہی کزن کے ساتھ اس گھر میں داخل ہوئی جو دکھنے میں ایک نہایت ہی صاف ستھرا اور پکا گھر تھا گھر کے مکین بھی خوش لباس تھے سب نہایت خوش اخلاقی کا مظاہره کررہے تھے. ہم لوگ مکینوں کے منت کے باوجود سیدھا ایک ایسے کچے کمرے میں گئے جس کی دیواریں گرنے کو تیار تھیں.اندر تو کمره کم بکریوں کی جگہ زیاده تھا . جہاں گندی بدبو آرہی تھی. کمره میں سارے گھر کا فالتو سامان تھا. اور بکریوں کے ساتھ ان کا چاره تھا . ایک جانب نہایت ہی غلیظ بستر بچا تھا .اتنے میں ایک اپاہج ماں رینگتی ہوئی اپنے بستر تک آئی . ایک ایسی ماں جو بیٹے اور بیٹیوں کے گھر میں ایک فالتو سامان کی طرح یہاں پھینک دی گئی تھی-

وہ لڑکی کالج سے نکلتے ہی بارش شروع ہوگئی

شام کے شہردمشق کا واقعہ ہے کہ ایک نوجوان خوبصورت لڑکی روانہ اکیلی یونیورسٹی جاتی تھی ،ا س یونیورسٹی میں اس کا والد ایک ڈیپارٹمنٹ کا انچارج تھا، ایک دن چھٹی کے بعد اچانک بادل گرجنے لگے،اور زوردار بارش ہونے لگی،

سردی کی شدت بڑھنے لگی،آسمان سے گرنے والے اولے سروں پرگرنے لگی یہ لڑکی بھی یونیورسٹی سے نکلی اور جائے پناہ کی تلاش میں دوڑنے لگی، اس کاجسم سردی سے کانپ رہاتھا،جب بارش تیز ہوئی تو ایک دروازہ کھٹکھٹایا،

گھر میں موجود لڑکا باہرنکلااور اسے اندر لے آیا، دونوں کاآپس میں تعارف ہواتو معلوم ہواکہ لڑکابھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتاہے اور اس شہرمیں اکیلا رہتاہے، ایک کمرہ برآمدہ اور واش روم کل گھر تھا،نوجوان نے لڑکی کو آرام کرنے کو کہااور اس کے پاس ہیٹر رکھ دیا۔

کہاکہ جب کمرہ گرم ہوجائے گاتووہ ہیٹر نکال لے گا، تھوڑی دیر تک لڑکی بستر پر کانپتی رہی ، پھر اچانک نیند آگئی،نوجوان ہیٹر لینے آیا تواسے یہ لڑکی بہت پیاری لگی، وہ ہیٹر لے کر کمرے سے باہر نکل گیا لیکن شیطان اسے گمراہکرنے کے لیے موقع کی تلاش میں تھا،

اسے وسوسہ دینے لگا۔تھوڑی دیر میں لڑکی کی آنکھ بھی کھل گئی جب اس نے اپنے آپ کو بستر پر لیٹا ہوا پایا تو ہربڑا کر اٹھ گئی ، اور گھبراہٹ کے عالم میں باہر کی جانب دوڑنے لگی، باہر نکلی تووہ نوجوان بھی برآمدے میں بے ہوش تھا،

گھبراہٹ کے عالم میں گھر کی طرف دوڑ پڑی اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا، یہاں تک کہ اپنے باپ کی گود میں سر رکھ دیاجوپوری رات شہر کے کونے کونے میں اسے تلاش کرچکا تھا۔ لڑکی نے اپنے والد کو تمام داستان سنائی اور قسم کھا کر کہا کہ میں نہیں جانتی جس وقت میری آنکھ لگی ، کیا ہوا، میرے ساتھ کیا کیا گیا ،

کچھ پتہ نہیں، اس کا باپ انتہائی غصے کی حالت میں اٹھا اور یونیورسٹی پہنچ گیا، غیرحاضر ہونیوالے طلباءکے بارے میں پوچھا، توپتہ چلا کہ ایک لڑکا شہر سے باہر گیا ہے اورایک بیمار ، ہسپتال میں داخل ہے ،

باپ ہسپتال پہنچ گیا تاکہ اس نوجوان کو تلاش کرے اور اپنی بیٹی کا انتقام لے، ہسپتال میں تلاش کے بعد جب متعلقہ کمرے میں پہنچا تو اسے اس حال میں پایا کہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پٹیوں سے بندھی ہوئی تھیں، استفسار پر ڈاکٹر نے بتایاکہ جب یہ ہمارے پاس لایا گیاتو اس کے دونوں ہاتھ جلے ہوئے تھے ۔

اس گورکن نے اپنے باپ سے کہاکہ جب بھی اس قبر کے پاس سے گزرتا ہے تو گدھے کی آواز آتی ہے، اس کے وارثوں کا پتہ دے دیں تاکہ اطلاع کرسکوں، پھر اس پتے پر پہنچا تو ایک خاتون باہر آئی جو یہ سن کر زاروقطار رونے لگی اور کہنے لگی کہتعارف کرائے بغیر لڑکی کے والد نے نوجوان کو قسم دیتے ہوئے کہاکہ بتائیں، آپ کو کیا ہوا ہے؟

زنا کی اتنی سخت سزا کیوں؟

کئی بار ذہنوں میں سوال اٹھتا ہے کہ شریعت میں صرف زنا کی سزا ہی اتنی سخت کیوں رکھی گئی. یہاں جب قرآن کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ جہاں صرف اللہ کے حق کا معاملہ ہوتا ہے تو اللہ نرمی کا رویہ اپناتے ہیں اور جہاں بندے کا حق اللہ کے حق سے مل جائے تو اللہ پاک سختی اختیار کرتے ہیں. دو افراد کے زنا کے متاثرین دو فرد، دو خاندان، دو قومیں، دو گروہ یا دو قبیلے نہیں بلکہ پوری امت ہے. قتل کے گناہ کی سزا بھی قتل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے “

جس نے ایک انسان کو قتل کیا، اسے نے پوری انسانیت کو قتل کیا” مگر یہاں آپس میں صلح صفائی کی بنیاد پر دیت کی رعایت بھی دے دی. چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا، ڈاکے کی سزا قتل

کی سزا قتل ہے مگر زنا کی سزا یوں بھی اپنی شدت میں بڑھ کر ہے کہ یہ چھپ کر نہیں بلکہ سرِعام مجمع میں دینی ہے. اور ہر پتھر جسم پر ایک زخم بنائے گا جب تک جان نہ نکل جائے اس میں حکمت یہ ہے کہ جیسے اس گناہ کے عمل میں اس کے جسم کے ہر ٹشو tissue نے لطف اٹھایا تو اب موت بھی لمحہ لمحہ اور پل پل کی اذیت کے بعد آئے گی. یعنی زانی جب تک اپنے خون میں غسل نہ کرے، اس کی توبہ قبول نہ ہوگی مگر کیا اللہ پاک اتنے بے انصاف ہیں کہ ایک گناہ کی اتنی بڑی سزا رکھ دی مگر اس سے بچنے کی کوئی ترکیب یا طریقہ نہ سکھایا؟ ایسا نہیں ہے. اللہ تعالٰی نے اس امت کو اپنے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے واسطے سے قرآن و حدیث کے ذریعے اس گناہ سے بچنے کے لیے پورا پلان پیش کیا ہے. احکامات کی پوری لسٹ ہے. Do’s اور Dont’s کی مکمل فہرست ہے. آئیں ان سب کا جائزہ لیں

پہلا حکم: استیذان یعنی اجازت طلب کرنا

کسی کے گھر یا کمرے میں بلا اجازت مت جاؤ. بھائی بہن کے، باپ بیٹی کے، ماں بیٹے کے کمرے میں جانے سے پہلے اجازت طلب کریں. شریعت اس طرح ہمیں مزاج سکھا رہی ہے. اور آج اس حکم پر عمل نہ کرنے سے محرم رشتوں میں بھی خرابی آ رہی ہے گھر میں دو حصے رکھیں پرائیویٹ رومز یعنی ذاتی کامن رومز یعنی عام پرائیویٹ کمروں میں محرم اجازت سے اور اجنبی بالکل مت جائیں. تاکہ ایک دوسرے کو نامناسب حالت میں نہ دیکھ لیں. Segregated rooms یعنی ڈرائنگ روم وغیرہ میں مرد ہی مردوں کو attend کریں. عورتیں بالکل مت کریں چاہے کزنز ہوں یا سسرالی رشتہ دار. مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کزنز کھلم کھلا فیمیل کزنز کے کمروں میں جاتے ہیں، چھیڑ خانی ہو رہی ہوتی ہے، ہنسی مذاق اور آؤٹنگ چل رہی ہوتی ہے اور اسی دوران شیطان اپنا وار کر دیتا ہے. عورتیں یاد رکھیں مرد زبردست اور عورت زیردست ہوتی ہے کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی عورت پاک رہنا چاہے مگر مرد اس کو پاک نہ رہنے دے؟

دوسرا حکم نظر کی حفاظت نظروں کو نیچا رکھیں اور اپنی حیا کی حفاظت کریں. یہ حکم مرد عورت دونوں کے لئے ہے. عورتوں کی شادی بیاہ اور مردوں کی بازاروں میں اکثر نظر بہکتی ہے. کوئی مہمان آئے تو عورتیں جھانکتی تاکتی ہیں. باپ، بھائیوں کے دوستوں سے ہنس ہنس کر ملنا اور serving ہو رہی ہوتی ہے. جبکہ شریعت تو دیکھنے سے بھی منع کر رہی ہے. مردوں، عورتوں کی یہ عادت شادی بیاہ میں کھل کر سامنے آتی ہے جب بے حیائی اپنے عروج پر ہوتی ہے. دو اندھے اگر آمنے سامنے بیٹھے ہیں تو انکو نہیں معلوم کہ سامنے والا کیسا، کتنی عمر کا ہے. مگر شریعت ایک بینا اور اندھے کو بھی آمنے سامنے بیٹھنےسے منع کرتی ہے جیسا کہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ والی حدیث سے ثابت ہے. عورتوں اور مردوں کو کئی بار مجبوری میں بات بھی کرنی پڑتی ہے جیسے بازار وغیرہ. تب شریعت چہرے پر نظر ڈالنے سے منع کرتی ہے. صرف پردہ کرنا مسلے کا حل نہیں بلکہ نظر بھی جھکانی ہے. امام غزالی فرماتے ہیں، “نظر سوچ کے اندر تصویر لے جاتی ہے، یہ تصویر خواہش میں بدل جاتی ہے اور پھر یہی خواہش بے حیائی کا راستہ دکھاتی ہے. “

اگلا حکم:زینت کو چھپانا

پردہ اور چیز ہے اور زینت اورچیز.عورت کے اعضائے زینت نماز میں چھپانے والے اعضاء ہیں. کوشش کریں کہ اس فتنہ کے دور میں محارم سے بھی زینت والے اعضاء چھپائے جائیں. اپنے سینے اور گریبان کو خصوصاً ڈھانپیے. مرنے کے بعد اللہ تعالٰی چار کپڑوں میں عورت کو ڈھانک کر قبر میں بھیجنے کا کہتا ہے. ہم عورتوں نے زندگی میں دو کپڑوں کا لباس معمول بنا لیا ہے کہ اب تو بوتیکس بھی دوپٹے آرڈر پہ تیار کرتی ہیں. کیونکہ عورتیں تین کپڑے بھی پہننے پر راضی نہیں. مسلمان عورت کا غیر مسلم عورت سے بھی نماز والا پردہ ہے. یعنی سوائے چہرے، دونوں ہاتھ اور پاؤں کے باقی جسم چھپانا ہے. مگر یہاں تو ویکس بھی کروائی جاتی ہے اور فیشلز بھی. مرد حضرات پبلک یا گھر میں شارٹس نہیں پہن سکتے. آپ حیا دار ہوں گے تو گھر کی عورتیں بھی اپنی حیا کو متقدم رکھیں گی. ورنہ سب سے پہلے بگاڑ گھروں کے ماحول سے شروع ہوتا ہے. ماؤں اور بہنوں کے نامناسب لباس گھر کے لڑکوں میں حیا کی کمی کی وجہ بنتے ہیں. یاد رکھیں “جب عورت نے اپنے ستر کا خیال نہ رکھا تو محرم محرم کا دشمن بن گیا. جب اللہ کی مقرر کردہ حدود و قیود کا خیال نہیں رکھا جائے گا تو باپ بیٹیوں کو خود پہ حلال کر لیں گے ” خدارا اپنے گھروں سے فسق کا ماحول ختم کریں.

اگلا حکم:بیوہ اور مطلقہ کا نکاح

ان کے نکاح کا مقصد معاشرے کو پاک رکھنا ہے. کیونکہ بیوہ یا مطلقہ ازدواجی زندگی کے دور سے گزر چکی ہوتی ہے اور ان کے نکاح میں تاخیر یا انکار معاشرے کے بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے. یہ حکم اس مرد کے لیے بھی ہے جس کی بیوی مر جائے یا وہ طلاق دے دے. یاد رکھیں شادی پر اصرار وہی مرد کرتا ہے جو پاک رہ کر صرف بیوی سے سکون حاصل کرنا چاہے. ورنہ معاشرہ بھرا ہوا ہے ایسے غلیظ لوگوں سے جو شادی کو بوجھ سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں اس بوجھ کو گلے میں ڈالے بنا بھی سب کچھ مل رہا ہوتا ہے. اللہ تعالٰی نے اجازت دی ہے کہ ایک سے خواہش پوری نہیں ہوتی تو دو شادیاں کرلو. تین کرلو، چار کرلو اور اس میں بیوی کی اجازت بھی شرط نہیں ہاں بیوی کے حقوق پورے کرنا فرض ہے مگر کیا کیا اس اخلاقی طور پر دیوالیہ معاشرے کا کہ جو گرل فرینڈز تو دس دس برداشت کر لیتا ہے مگر بیوی ایک سے دو نہیں. اسی طرح بیوہ یا مطلقہ کی شادی پہ ایسے ایسے بےشرم تبصرے اور اعتراضات کیے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ.

نکاح میں بہت تاخیر نہ کی جائے

ہم گھروں میں کیبل لگوا کر، کھلی آزادی دے کر، کو ایجوکیشن میں پڑھا کر پھر اپنے بچوں سے رابعہ بصری اور جنید بغدادی بننے کی توقع کریں تو ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں. دو جوان لڑکا لڑکی جب یونیورسٹی کے آزاد اور “روشن خیال” ماحول میں پڑھیں گے تو انکو تعلق بنانے سے کون روکے گا؟ جب گھروں میں دینی تربیت نہ ہو، مائیں سٹار پلس کے ڈراموں اور کپڑوں کی ڈیزائننگ میں مگن رہتی ہوں، اولاد کی سرگرمیوں اور ان کی صحبت سے ناواقف ہوں تو جیسی خبریں آئے دن اخبارات کی زینت بنتی ہیں وہ بعید نہیں.

مگر ہمیں تو یہ سکھایا جاتا ہے کہ جب نظروں میں حیا ہو تو پردے کی ضرورت نہیں. اس کا تو یہ مطلب بھی بنتا ہے کہ جب نظروں میں حیا ہو تو پھر کپڑوں کی ضرورت بھی نہیں. یہ اللہ کا اپنے محبوب کی امت پہ خاص احسان ہے کہ اس نے ہم میں پچھلی قوموں کے تمام گناہ دیکھ کر بھی ہمیں غرق نہیں کیا. ورنہ بنی اسرائیل کے لوگ تو بندر بھی بنائے گئے اور خنزیر بھی. توبہ کے دروازے بند نہیں اور نہ ہی رب کی رحمت مدھم ہو گئی ہے. جب خدا کی محبت اور ایمان کی روشنی دل میں آجاتی ہے تو یہ “نورٌ علی نورٌ” ہے اب ایسے دل میں بے حیائی داخل نہیں ہو سکتی. ایمان کا نور لینا ہے تو ان گھروں میں جا کر بیٹھ جاؤ جہاں صبح شام اس کا ذکر اور تسبیح و پاکی بیان ہوتی ہے یعنی مسجدیں اور خانقاہیں. توبہ سے شاید دن گزرنے کا انداز بدل جائے. راتوں کی بے چینی سجدوں کے سرور میں بدل جائے. اور جب یہ میڈیا اور معاشرہ تمہاری توبہ کو کھانے لگے تب فیصلہ ہوگا کہ تم اس رب العزت کے غلام ہو یا اپنے نفس کے۔

رنگ میں بھنگ

یقیناًوہ ایک ناقابلِ فراموش اور خوب صورت لمحہ تھا جب شادی کی تقریب کے دوران دولہا اپنی دلہن کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا جب کہ حاضرین کی آنکھیں اس جوڑے پر جمی ہوئی تھیں جن کو کچھ لمحے بعد ایک خوش گوار زندگی کا آغاز کرنا تھا۔ اچانک دولہا کی جانب سے دلہن کے چہرے پر ایک تھپڑ رسید کر دیا گیا ! مگر یہ کسی ناراضگی یا غصے کی وجہ سے نہیں بلکہ اْس شہد کی مکھی کے سبب ہوا جو دلہن کے

خوب صورت چہرے کے سامنے انتہائی بے تکلفی کے ساتھ اْڑے جا رہی تھی۔برطانوی اخبار ” میل” کے مطابق مذکورہ واقعے کی وڈیو غالبا امریکا میں فلم بند کی گئی۔وڈیو سے ایسا نظر آتا ہے کہ دلہا میاں اس بات کو برداشت نہ کر سکے کہ یہ “رقاصہ” مکھی ان لمحات کا مزہ کرکرا کرے جس میں وہ اپنی شریک حیات کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو رہے ہیں۔۔ لہذا دولہا میاں نے فیصلہ کیا کہ ایک ہی کاری وار میں اس مکھی کو مار گرایا جائے۔ تاہم یہ “ضرب” غلطی سے دلہن کے چہرے پر لگی۔ اس موقع پر حاضرین محفل اور دلہن کے قہقہے بلند ہوئے جو اس موقع پر اپنی ہنسی کو روک نہ سکی۔

تندور والی عورت کا آپؐ سے گفتگو

نبی کریمؐ ایک سفر سے واپس آ رہے ہیں، ایک جگہ آپ نے پڑاؤ ڈالا، بستی قریب تھی، ایک عورت تھی جس کا تنور تھا، اس نے لشکر کی روٹیاں بھی پکائیں، جب پکا کر فارغ ہو گئی تو صحابہؓ سے کہنے لگی کہ میں تمہارے صاحب سے بات کرنا چاہتی ہوں، تو صحابہ کرامؓ اسے نبیؐ کے پاس لے آئے، کہنے لگی اللہ کے پیارے نبیؐ میں آپؐ سے ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں. فرمایا پوچھو، کہنے لگی میں ماں ہوں، تنور میں روٹیاں لگاتی ہوں، میرا ایک چھوٹا سابچہ ہے، میں

اس کو آگ کے قریب آنے نہیں دیتی، کہ اس کو کہیں گرم ہوا نہ لگ جائے، خود آگ میں ڈبکیاں لگاتی ہوں، روٹی لگانے اور نکالنے کے لیے، لیکن میں اپنے بچے پراتنی مہربان ہوں کہ اس کو تنور کے قریب بھی آنے نہیں دیتی، تو اگر میں ماں ہو کر اپنے بچے کو گرم ہوا کا لگنا بھی پسند نہیں کرتی تو آپ سے سنا ہے کہ ساری دنیا کی ماؤں کی محبتوں کو جمع کر دیا جائے اس سے بھی ستر گنا زیادہ بندوں سے اللہ پاک محبت کرتے ہیں تو اللہ پاک بندے کا جہنم میں جانا کیسے پسند فرمائیں گے؟ حدیث پاک میں آتا ہے کہ نبی کریمؐ نے یہ بات سن کر سر جھکایا، مبارک آنکھ سے آنسو آنے لگے روتے رہے روتے رہے، حتیٰ کہ جبرائیلؑ اللہ کا پیغام لے کر آئے، میرے محبوب اس عورت کو بتا دیں، وما ظلمھم اللّٰہ ولکن کانوا انفسھم یظلمون اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا، انہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا، اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری، کیونکہ اللہ تو چاہتے ہیں کہ یہ بچ جائے، لیکن بات یہ ہے کہ توبہ نہیں کرتے، توبہ کی طرف آتے ہی نہیں، بلکہ رب کی ماننے کے بجائے شیطان کو مانتے پھرتے ہیں، اور توبہ کو ڈلیٹ (Delete) کرتے ہیں، تو یہ اپنے عمل کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے، ورنہ اللہ رب العزت تو بخشنے کو تیار ہے۔یہ رشتہ ہمیشہ سلامت رہے حضرت تھانویؒ نے لکھا ہے کہ ایک آدمی کو قیامت کے دن کھڑا کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندے تو شیطان کی مانتا رہا، گناہ کرتا رہا، وہ کہے گا شیطان مجھے گرا دیتا تھا، میں گناہ کر بیٹھتا تھا لیکن میں بہت افسوس کرتاتھا کہ مجھے ایسے

نہیں کرنا چاہیے، توبہ کرتاتھا لیکن پھر شیطان گناہ کرواتا تھا، پھر میں توبہ کرتاتھا، اللہ تعالیٰ فرشوں کو گواہ بنانے کی خاطر حکم فرمائیں گے حالانکہ وہ تو عالم الغیب ہیں کہ اس کے نامۂ اعمال کو دیکھو، فرشتے کہیں گے واقعی یہ گناہ کرتا تھا، پھر شرمندہ ہو کر معافی مانگتا تھا، توبہ کرتا تھا، پھر گناہ کرتا تھا، ساری زندگی اس کایہی معاملہ رہا، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیں گے کہ دیکھو میرے بندے کو شیطان گرا دیتا تھا مگر یہ پھر اٹھ کے کھڑا ہو جاتا، پھر شیطان

گناہ کے ذریعہ گراتا یہ پھر اٹھ کے کھڑاہو جاتا، اس نے شیطان سے ہار نہیں مانی، وہ گناہ کرانے سے باز نہیںآیا مگر یہ توبہ کرنے سے بھی تو باز نہیں آیا، یہ استقامت والا بندہ ہے میں اس کو استقامت والوں کے ساتھ جنت عطا کرتا ہوں، تو آج کی اس رات میں ہم اپنے گناہوں سے سچی پکی توبہ کرکے ہم اپنے اللہ سے دعا کریں، مولاٰ پچھلے گناہوں کو معاف کر دیجئے، آئندہ نیکوکاری کی زندگی عطا فرما دیجئے۔

میا ں بیوی کے عیب

ایک آدمی کی بڑی دھوم دھام سے شادی ہو رہی تھی، اس کی دلہن اس کی اپنی پسند سے تھی اور دونوں اپنے عروسی لباس میں بہت جاذب نظر دکھ رہے تھے، سب لوگ بہت خوش تھے اور ان دونوں کو مبارک باد دے رہے تھے، دونوں میں بیوی کی ایک پرسکون اور خوشگوار ازدواجی زندگی گزر رہی تھی ۔ ایک دن صبح ناشتے کی ٹیبل پر بیوی نے میگزین میں کوئی آرٹیکل پڑھا تو اپنے شوہر کو سنایا کہ میاں بیوی کی زندگی مزید نکھر سکتی ہے اگر وہ کھل کر ایک دوسرے کو اپنی وہ عادتیں بتا دیں

جن سے وہ ایک دوسرے سے خفا ہوتے ہیں، دونوں نے ارادہ کیا کہ کل کی صبح ناشتے کی ٹیبل پر ایک دوسرے کو اپنی اپنی لسٹ بنا کر سنائیں گے کہ ایک دوسرے کی کونسی خصلتیں ان کو ناگوار

کو ناگوار گزرتی تھیں۔اگلی صبح، دونوں ناشتے کی میز پر آئے اور اپنی اپنی لسٹ کھول لی، پہلے میاں نے اپنی لسٹ میں سے پڑھنا شروع کیا، بیچ میں اس کی نظر اپنی بیوی پر پڑی تو وہ بیچاری رو رہی تھی، اس کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے، اس نے اس سے پوچھا کہ تمہیں برا لگ رہا ہے تو میں رک جاتا ہوں؟ وہ بولی کہ نہیں پلیز آپ آگے بتائیں۔ اس نے اپنی ساری لسٹ سنا ڈالی۔ پھر بیوی کی باری آئی، اس نے اپنا کاغذ اپنے خاوند کو تھما دیا، اس نے دیکھا تو اس کا کاغذ بالکل کورا تھا۔ اس کی

آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو گئے۔ اس کی بیوی بولی کہ آپ جو ہیں جیسے ہیں بالکل ایسے ہی مجھے پسند ہیں اور میں آپ میں کچھ بھی تبدیل نہیں کرنا چاہتی۔ آپ کی کوئی بھی عادت مجھے بری نہیں لگتی۔ اور آپ جس بھی حال میں رکھیں گے میں بخوشی رہ لوں گی۔ شوہر کا دل پسیج گیا اور وہ بہت پشیمان ہوا۔ اس نے اپنی بیوی سے معافی مانگی اور دونوں کا رشتہ مزید بہتر ، پائیدار اور مضبوط ہو گیا۔کسی بھی رشتے کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دوسرے انسان کی خوبیوں پر توجہ دیں نہ کہ اس کی عیب جوئی کریں۔ کبھی کسی میں بھی برائیاں تلاش کرنے سے بہتر ہے کہ اس کی اچھائیاں دیکھیں۔محبت ایک ایسا بے لوث جذبہ ہے کہ ہم کسی کی تمام تر کمزوریوں کے باوجود اس سے عشق کرتے ہیں۔

در حقیقت کسی کی کمزوریوں سے پیار کرنا اور اس کو سہارہ دینا ہی اصلی محبت ہے۔ محبت کے لیے دو با لکل پرفیکٹ لوگ نہیں چاہیے ہوتے، ایسے انسان درکار ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کا لباس ہوں اور ایک دوسرے کے عیبوں کی پردہ پوشی کریں۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ وہ آپ سے پیار کرتا ہے اور وہ آپ کو مسلسل حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے تو اس کی زبان پر نہیں اس کے رویے سے اس کو جانچیں اور ایسی زہریلی رشتہ داریوں سے بہتر ہے کہ آپ تنہائی میں وقت بتا دیں۔ زہریلے رشتے انسان کو تھکا دیتے ہیں اور اس کی صحت گر جاتی ہے، وہ جس طرح اپنی اولاد اور بزرگوں کو اہمیت اور وقت دے سکتا تھا، وہ نہیں دے پاتا، ایسے ناتے پہچانیں اور پہلے وقتوں کی طرح پوری زندگی برباد مت کریں، ایسے رشتے سے نکلیں اور اپنی اور اور لوگوں کی زندگی کو خوبصورت بنائیں۔

دوسروں کو اپنی طرف قائل کرنے کے 12حیران کن راز

ذیل میں ایسی 12 خصوصیات کو بیان کیا گیا ہے جو دوسروں پر اثر انداز ہونے والے یا بآسانی قائل کرنے والے افراد کی زندگی کا جزو ہوتی ہیں۔1۔اپنی آڈئینس کو پہچانیںمؤثر افراد اپنی آڈئینس (مخاطب) کو داخلی اور خارجی دونوں طرح سے جانتے ہیں اور اس کی مناسبت سے وہ انہیں کی زبان میں باتیں کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص شرمیلا ہے تو اس سے نرم لہجے میں بات کرنی ہے اور اگر کسی کا لہجہ جارحانہ ہے تو اسے دوسرے انداز سے نپٹنا ہے۔ زندگی میں مختلف طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ مؤثر افراد اس فرق

بخوبی سمجھتے ہیں۔ انہیں –> معلوم ہوتا ہے کہ ہر کسی سے ایک ہی طرح کا برتاؤ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا کرنے کے لیے بہت زیادہ سماجی اور شخصی جانکاری درکار ہوتی ہے جو مؤثر افراد میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔2۔ تعلق قائم کرناجب کسی کو احساس ہو جائے کہ آپ کیسے انسان ہیں تو قبولیت کا درجہ بڑھ جاتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے ہونے والی ایک تحقیق میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے طلبا سے کہا گیا کہ وہ اپنی جماعت میں کسی معاملے پر اتفاق رائے پر پہنچیں۔ ہدایات کے بغیر 55 فیصد کا اتفاق رائے ہو گیا، لیکن جب اتفاق رائے پر پہنچنے سے قبل طلبہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنا تعارف کروائیں اور اپنے پسِ منظر کے بارے میں بتائیں تو اس کے بعد 90 فیصد طلبہ اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جس سے آپ بات کر رہے ہیں وہ آ پ کا دشمن یا ہدف نہیں ہے اور بحث میں زیادہ الجھنا بھی نہیں چاہیے، بے شک آپ کے پاس مضبوط دلائل ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر آپ اس شخص کی سطح پر آ کر اور اسے سمجھ کر تعلق اور رابطہ قائم نہیں کریں گے تو وہ آپ کی نہیں مانے گا یا آپ کے کہے کو مشکوک سمجھے گا۔3۔ زیادہ دباؤ نہیں ڈالتےمؤثر افراد اپنے خیالات کا اظہار اعتماد کے ساتھ اور کھل کر کرتے ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ جارحانہ انداز اختیار نہیں کرتے یا بہت زیادہ دباؤ نہیں ڈالتے۔ مؤثر افراد اپنے مؤقف پر بہت زیادہ اصرار نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دوسروں کے قائل ہونے میں وقت بھی لگ سکتا ہے۔ وہ بے صبرے نہیں ہوتے اور مستقل مزاج رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ان کے خیالات افضل ہیں تو بالآخر لوگ انہیں اختیار کرلیں گے۔4۔ اعتمادی کی کمی نہ ہونااگر اپنے خیالات کو اس انداز میں پیش کیا جائے جیسے دوسرے سے قبولیت کی سند مانگی جا رہی ہے یا جیسے ان میں کوئی خامی موجود ہے تو دوسرا انہیں سنجیدگی سے نہیں لے گا۔ دوسروں کو اپنے خیالات یوں بتانے چاہئیں جیسے انہیں سوچ سمجھ کر تشکیل دیا گیا ہے۔ جب مقصد دوسرے کو قائل کرنا ہو تو اس میں آئیں بائیں شائیں نہیں چلتی، اور یہ بھی نہیں کہ “ہو سکتا ہے میں غلط ہوں”۔5۔ باڈی لینگوئج کو مثبت رکھیںانداز بیاں، آواز اور جسمانی حرکات میں توازن دوسروں کو قائل کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ گفتار میں گرم جوشی اور دوسرے پر توجہ کا اظہار مثبت باڈی لینگوئج کی علامات ہیں۔ اس سے دوسرے آپ کی جانب راغب ہوتے ہیں۔ جو آپ کہہ رہے ہیں وہ بھی اتنا اہم ہے جتنا یہ کہ آپ اسے کس انداز میں کہہ رہے ہیں۔6۔ واضح اور جامع ہونامؤثر افراد اپنے خیالات کا اظہار بروقت، جلد اور واضح انداز سے کر سکتے ہیں۔ جب آپ کی اپنے خیالات اور گفتار پر گرفت مضبوط ہوتی ہے تو اسے دوسروں کے اذہان میں راسخ کرنا آسان ہوتا ہے۔ بہتر حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ جس موضوع پر قائل کرنا ہو اسے خود اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔7۔ جعل سازی نہیں ہوتےمؤثر ہونے کے لیے ایماندار ہونا شرط ہے۔ جعل ساز کو پسند نہیں کیا جاتا۔ متاثر ہونا تو دور کی بات جعل ساز کی باتوں پر بہت کم اعتبار کیا جاتا ہے۔ مؤثر افراد جانتے ہیں کہ وہ کیا ہیں۔ ان میں مصنوعی پن نہیں ہوتا۔ وہ اپنے ہنر سے آگاہ ہوتے ہیں۔ وہ اس امر کی پروا کم کرتے ہیں کہ دوسرے انہیں کیسا دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ اپنے بارے فیصلہ وہ خود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وہ دوسروں کے لیے خود کو غیر ضروری اور غیر معمولی حد تک بدلنے کے جتن نہیں کرتے۔8۔ دوسروں کے مؤقف کو سمجھنامؤثر افراد کی ایک اہم خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی غلطی یا اپنے دلائل میں پائی جانے والی خامیوں کو مان لیتے ہیں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ کھلے ذہن کے مالک ہیں۔ وہ دوسروں کی مضبوط دلیل سے انکار نہیں کرتے اور اس معاملے میں ہٹ دھرم نہیں ہوتے۔ وہ دوسروں کو بات کرنے کا موقع دیتے ہیں اور اختلاف کرنے پر ان کا رویہ توہین آمیز نہیں ہوتا۔9۔ اچھے سوالات پوچھنالوگوں کی بڑی خامی یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کی بات کو کم سنتے ہیں بلکہ اس دوران غور کرتے رہتے ہیں کہ انہوں نے کیا جواب دینا ہے۔ تاہم دوسرے چاہتے ہیں کہ ان کی بات کو غور سے سنا جائے۔ اگر انہیں یہ احساس ہو کہ دوسرا توجہ ہی نہیں دے رہا تووہ برا ماننے کے ساتھ ساتھ دوسرے کی بات پر توجہ بھی کم کردیتے ہیں۔ یوں ان کا اثر قبول کرنے یا ان سے قائل ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔10۔ تصویر کشی کرنامؤثر افراد اس انداز میں گفتگو کرتے ہیں کہ جس سے صورت حال کا نقشہ دوسرے کے ذہن میں بن جاتا ہے۔ وہ دوسروں کی تصوراتی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہیں۔11۔ پہلا بھرپور تاثر قائم کرناملاقاتوں کے دوران ابتدا میں قائم ہونے والا تاثر تا دیر برقرار رہتا ہے۔ مؤثر افراد اس حقیقت پر توجہ دیتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر دوسروں کو قائل کرنے میں کامیاب ہونے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ پہلی ملاقات میں چہرے پر خوشگوار مسکراہٹ کا ہونا، گرم جوش مصافحہ اور گفتار میں سلیقہ جو تاثر قائم کرتا ہے وہ دیر سے جاتا ہے۔12۔ مستقل مزاجی مؤثر افراد مستقل مزاج ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کہاں اپنے مؤقف کا دفاع کرنا ہے اور کہاں قدم پیچھے ہٹانا ہے۔لیکن وہ اپنے نصب العین سے منہ نہیں موڑتے۔ ان کی نظر راستے کی دشواریوں کے ساتھ ساتھ مسلسل اپنے حتمی مقصد پر ہوتی ہے

میری ماں کی بھی شادی ہوسکتی ہے کیا ؟

موبا ئل فون کی گھنٹی بجی ، اسکرین پر ہمارے دوست کا نام ظاہر ہوا اور ہم نے بہ سرعت فون ریسیو کرلیا ۔ علیک سلیک کے بعد ہماری باتیں شادی کے موضوع پر گھوم گئیں اور گدگدی پیدا کرتی ہوئی آگے بڑھتی رہیں ۔ اسی بیچ دوست رفیع نے ایک ایسی بات کہی کہ میں بالکل اچھل ہی گیا ۔ رفیع : سلیم بھائی ، ایک بات اور بھی دلچسپ ہے ۔۔۔ میں : ہاں ، یار جلد بتائیے ۔ رفیع : میں اس چھٹی پر گھر گیا تھا تو میں نے الحمد

للہ ابو کا نکاح ثانی کرادیا : گریٹ یار ، سچ میں ؟ دیکھو مذاق مت کرنا پلیز !! رفیع : کیا یار سلیم بھائی ، میں آپ سے جھوٹ کیوں بولوں گا ، کافی سوچ وچار کے بعد یہی مناسب لگا کہ ان کی شادی ہوہی جانی چاہیے ، امی کے انتقال کے بعد ہم سب بھائی اپنی اپنی دنیا میں مست ہیں ، آخر انہیں بھی تو کوئی ساتھی چاہیے تھا ۔ میں : اور کیاسب لوگ آسانیوں سے تیار ہوگئے ؟ رفیع : ارے عزم و ہمت ہو تو دیواریں گر ہی جاتی ہیں ، شروع شروع میں سب پھڑ پھڑائے اور پھر اوقات میں آگئے ۔ میں بالکل اڑ گيا اور ما شاءاللہ شادی ہوکر رہی ۔ میں : یار رفیع ، آج تمہارا نیک ہونا میرے اوپر ثابت ہوگيا ۔ اللہ تیری نیکی قبول کرے ۔

دل سے سلام ۔ میں نے فون رکھ دیا اور ملنے والی اس خبر کی خوشی میں کچھ دیر جھولتا رہا ۔ میرے روم پارٹنر اس بیچ ترکاری پکانے میں مصروف تھے لیکن وہ ہماری باتیں بھی سن رہے تھے ۔ کچھ دیر بعد وہ میرے پاس آئے اور سلسلہ کلام کچھ یوں آگے بڑھا ۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، مرد کی بیوی اگر مر جائے تو اس کی شادی ہونی چاہیے ، یہ دیکھیے رفیع بھائی نے نیک کام کیا اور اپنے والد کا نکاح کروادیا ۔ ۔۔ میں : ہاں اسماعیل بھائی ، بالکل ۔ رفیع بھائی تو کتنے نیک نکلے ، تب سے میں یہی سوچ رہا ہوں ۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، لیکن اگر عورت کا شوہر انتقال کرجائے تو اس کی شادی ہونی چاہیے یا نہیں ؟ میں : کیوں نہیں ، بالکل ہونی چاہیے ، بلکہ مردوں سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ عورتوں کی شادی ہو ۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، لیکن کبھی کیا آپ نے یہ سنا ہے کہ بیٹوں نے یا بیٹیوں نے مل کر ماں کی شادی کی ہو ؟ میں : اسماعیل بھائی ، آج تک تو ایسا نہیں سنا ہے ، اصل میں سماج بھی ایسا بنا ہوا ہے کہ اگر کسی خاتون کے پاس ایک دو اولاد ہوگئی تو اس کی دوسری شادی کے بارے میں سوچا ہی نہیں جاتا ۔

مرد کے بارے میں تو پھر بھی تھوڑی کشادگی پائی جاتی ہے ۔ اسماعیل : لیکن یہ سماج بنایا کس نے ہے ؟ کیا یہ سماج ہم نے نہیں بنایا ہے ۔ آپ کو کیا لگتا ہے؟ یہ شادی کی ضرورت صرف مردوں کو ہوتی ہے یا مساوی طور پر عورتوں کو بھی ہوتی ہے ، آپ سمجھتے ہیں کہ اگر شادی نہ ہو تو ذہنی ، جسمانی اور روحانی کتنے اور کیسے کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟ اسماعیل کے لہجے میں درد اور غصہ دونوں شامل تھا ۔ میں : اسماعیل بھائی ، یہ بات تو بالکل صحیح کہ رہے ہیں لیکن عام حالات میں خود خاتون بھی تو شادی کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، آپ غلط جارہے ہیں ، آپ نے ہم نے سماج ایسا بنایا ہے کہ کوئی عورت یہ جرات کرہی نہیں سکتی ، وہ اپنے سارے ارمان ، اپنی ساری شخصیت اور سارا وجود تج دیتی ہے ۔ اس کے شوہر کی ایک موت ہوتی ہے اور اسے کئی کئی موت سے گزرنا پڑتا ہے لیکن ہم بے حس لوگوں پر کچھ اثر نہیں پڑتا ۔ میں : اسماعیل بھائی ، بات تو آپ بالکل درست کہ رہے ہیں لیکن ۔۔۔۔ اسماعیل : جنا ب ، شاہ اسماعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی کےزمانے میں بھی تو سماج تھا

لیکن انہوں نے کوشش کی تھی یا نہیں ۔ ہم سب نے سماج کے آگے سپر ڈالا ہوا ہے اور اس چکر میں کتنی زندگیاں مرجارہی ہیں ، ہمیں بالکل احساس نہیں ۔ میں محسوس کررہا تھا کہ اسماعیل بھائی کے لہجے میں درد کی ایک دوسری ہی لہر ہے، کسی دوسرے موضوع پر وہ اتنے حساس کبھی نہیں ہوئے تھے ۔میں نے انہیں تھوڑا کریدنا چاہا ۔ میں : اسماعیل بھائی ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس مسئلے سےآپ کا کچھ ۔۔۔۔۔۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، میں پندرہ سال کا تھا جب میرے والد کا انتقال ہوگیا ، امی سے ان کی شادی جب ہوئی تھی ، اس وقت امی کی عمر یہی کوئی سولہ برس تھی ، میں شادی کے ایک سال بعد ہی پیدا ہوگيا تھا ، مجھ سے چھوٹی ایک بہن ہے ۔ ابو جان کی جب موت ہوئی اس وقت امی کی عمر یہی کوئی تینتیس سال چونتیس سال تھی ۔ٹھیک ہے کہ ہم دو ان کی اولاد بھی تھے لیکن ابھی ان کی تو پوری زندگی باقی تھی نا ۔ کسی نے لمحے بھر کے لیے نہیں سوچا کہ ان کی بھی ایک زندگی ہے ۔

میرے نانا صاحب حیثيت آدمی تھے ، ماموں لوگ سب ما شاءاللہ اچھے ہیں ، کسی کے خیال میں نہیں آیا کہ ایک چونتیس سال کی عمر کی لڑکی یہ پوری زندگی ایسے کیسے گزارے گی ۔ سلیم بھائی ، کچھ خواتین کی تو تینتیس سال میں شادی ہوتی ہے اور تینتیس سال کی عمر میں میری ماں کو لباس بیوگی پہناکر ان سے زندگی کی ساری رعنائی چھین لی گئی ۔ ابو جان کے انتقال کے وقت میرا شعور بھی کچھ بہت بالید ہ نہیں تھا لیکن جب آگے بڑھا تو یہ احساس کانٹے کی طرح میرے اندر چبھتا رہتا ہے ، میری ماں نہایت صابر و شاکر خاتون ہے لیکن جب ان کی سہیلیوں کو دیکھتا ہوں تو دل میں ہوک سی اٹھتی ہے ۔آج جب میں پچیس سال کا ہورہا ہوں تو مجھے بہن کی شادی کی فکر ہے ، اپنی شادی کرنی ہے !! میں : اسماعیل بھائی ، تو کیا آپ نے کبھی اپنی ماں سے اس سلسلے میں بات کی ؟ اسماعیل : آج سے دو سال قبل میں نے ماموں کےسامنے بات رکھی تھی ، اس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ امی نے مجھ سے ہفتوں بات نہیں کی ،

انہیں نہ جانے کیوں یہ محسوس ہونے لگا کہ میں ان کے بارےمیں کچھ شک میں گرفتار ہو ں ۔میں نے جب پوری بات ان کے سامنے رکھی تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے ، انہوں نے میرے ماتھے کو چوما ، دعائیں دیں اور کہا تو اتنا کہا : اسماعیل ، اب تم لوگ ہی میری کائنات ہو ، تمہارے ابو کی یادیں ہی میری زندگی ہیں ، اللہ کے لیے اس قسم کی باتیں نہ کیا کرو ، ورنہ لوگ تمہاری ماں کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کرنے لگیں گے ۔ ایک بیوہ کو ایسے بھی بہت سنبھل کر رہنا پڑتا ہے۔۔ میں : اسماعیل بھائی ، آپ کی ماں نے آپ سے صحیح کہا ۔ یہی صورت حال ۔۔۔۔۔۔۔ اسماعیل : سلیم بھائی ، لیکن یار ۔۔۔۔۔۔( دیر تک وہ کچھ کہے بغیر روتے رہے ،

آنسو رک ہی نہیں رہے تھے ) ہم سب ظالم ہیں ، ہم بہت مطلبی اور خود غرض لوگ ہیں ، جھوٹی شان میں جیتے ہیں ۔ ۔۔۔ ہمیں ۔۔۔( ایک بار پھر ان کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ) میں نے کچھ کہنا چاہا ، الفاظ ابھی ٹھیک سے نکلے بھی نہیں تھے کہ وہ میرے گلے لگ گئے اور بچوں کی مانند رونے لگے ۔دیر تک روتے رہے اور پھر کہا : سلیم بھائی ، میری ماں کی تو شادی نہیں ہوسکتی لیکن کیا ہم اور بیوہ خاتون کے لیے کچھ نہیں کرسکتے ۔ اتنا کہ کر جب انہوں نے میری جانب دیکھا تو ان کے آنسو ایک بار پھر بہنے لگے کہ خود میری آنکھیں بھی بھیگی ہوئی تھیں ۔۔