ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﻓﯿﺼﻠﮧ

ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺩﻭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺗﮭﮯ، ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﯿﻦﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ.ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﺎﻧﭻ ، ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻠﮑﺮﮐﮭﺎﻧﮯ ﯿﭩﮭﮯ ﮨﯽ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﺗﻨﮯﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺑﮭﯽﺁﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻏﺖ ﮨﻮﺉ ﺗﻮﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﭨﮫ ﺩﺭﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺼﮧ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖﺩﮮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ .ﺟﺲ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﭘﺎﻧﭻ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎﺣﺴﺎﺏ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺎﻧﭻ ﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﺭﮨﻢﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ ﺩﯾﻨﮯﭼﺎﮨﮯ .

ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﻒ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧﮐﯿﺎ ، ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟﭘﯿﺶ ﻫﻮﺍﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻓﺮﻣﺎﺉﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺭﻓﯿﻖ ﺟﻮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﻮﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﻧﻔﻊ ﮨﮯ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺣﻖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫﺟﻮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﻮ ﻣﺠﮭﮯ

ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮨﻮﮔﺎ .ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺣﻖ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺕ ﺩﺭﮨﻢﻣﻠﻨﮯ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ ، ﺍﺱ ﻋﺠﯿﺐ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﺘﺤﯿﺮ ﮨﻮﮔﯿﺎ.ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺗﯿﻦ ﺁﺩﻣﯽﺗﮭﮯ ، ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺗﯿﻦ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺭﻓﯿﻖ ﮐﯽﭘﺎﻧﭻ ، ﺗﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﮐﻮﺑﮭﯽ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮐﺎﺣﺼﮧ ﺩﯾﺎ ، ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺗﯿﻦ ﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺼﮯﺗﯿﻦ ﺟﮕﮧ ﮐﺌﮯﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ 9 ﭨﮑﮍﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ . ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻮﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ 15 ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ24ﭨﮑﮍﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ

ﺍﯾﮏ ﻧﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﭨﮑﮍﮮﮐﮭﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻓﯽ ﮐﺲ 8 ﭨﮑﮍﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ .ﺗﻢ ﻧﮯ 9 ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺁﭨﮫ ﺧﻮﺩ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﻣﺴﺎﻓﺮﮐﻮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺭﻓﯿﻖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ 15 ﭨﮑﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 8ﺧﻮﺩ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ 7 ﺗﯿﺴﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﺋﯿﮯ . ﺍﺱ ﻟﺌﯿﮯ 8 ﺩﺭﮨﻢ ﻣﯿﮟﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺗﻢ ﺍﻭﺭ 7 ﮐﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺭﻓﯿﻖ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﮨﮯ ﯾﮧﺗﻔﺼﯿﻞ ﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﺟﮭﮕﮍﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺁﭖﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻟﯿﺎ

شراب کیسے حرام ہوئی؟

مؤرخین نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت نوح علیہ السلام نے انگور کی بیل اگائی. ایک دن شیطان آیا اور اس نے انگور کی بیل پر پھونک ماری تو وہ سوکھ گئی.حضرت نوح علیہ السلام یہ کیفیت دیکھ کر پریشان ہوگئے ، پھر شیطان آپ ؑ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! آپ پریشان کیوں ہیں؟ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی پریشانی کی وجہ بتائی ، وجہ سن کر شیطان نے حضرت نوح علیہ السلام کو مشورہ دیا کہ اگر آپ اس بیل کو سر سبز دیکھنا چاہتے ہیں تو میرے مشورے پر عمل کریں اورمجھے اجازت دیجیئے کہ میں اس بیل پر شیر، چیتا، ریچھ، گیدڑ، کتا، لومڑی اور مرغ سات جانوروں کا خون بطور نذرانہ چڑھا دوں.

اس عمل سے مجھے یقین ہے کہ یہ بیل دوبارہ ہری بھری ہو جائےبھری ہو ہو جائےبھری ہو جائے گیحضرت نوح علیہ السلام نے اجازت دے دیاور یہ اجازت بے خبری کی وجہ سے تھی، چونکہ حضرت نوح علیہ السلام کو اس وقت نذرانے کی حرمے معلوم نہیں تھی. چناچہ شیطان نے ان سات جانوروں کا خون انگور کی بیل میں چڑھا دیا تو اچانک وہ سرسبز ہونے لگی بلکہ خون ڈالنے سے اتنا فائدہ ہوا کہ ہمیشہ بیل میں ایک ہی قسم کے انگور لگتے تھے

لیکن اس مرتبہ سات قسم کے انگور آئے. اسی وجہ سے “شرابی”(شراب پینے والا) شیر کی طرح بہادر، ریچھ کی طرح طاقتور، چیتے جیسا غصہ، گیدڑ کی طرح بھونکنے والا، کتے کی طرح جھگڑالو، لومڑی کی طرح چاپلوس اور مرغ کی طرح چنختا رہتا ہے. اسی زمانے میں نوح علیہ السلام کی قوم پر شراب حرام کردی گئی.(روضہ العلماء)

جاہل کی پہچان

شمعون (یہودا کا پوتا اور جناب عیسیٰ کا حواری) نے رسول خدا سے کہا : مجھے جاہل کی علامتیں بیان فرما دیں. آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس کے ہم نشیں ہو گے تو تم کو رنج پہنچائے گا .اگر اس سے الگ رہوگے توتم کو برا بھلا کہے گا .

اگر کوئی چیز تم کو دے گا تو احسان جتائے گا. اگر تم اس کو کچھ دو گے تو نا شکری کرے گا. اگر اس سے کوئی راز کی بات کہو گے تو (اس کو فاش کرکے ) تمھارے ساتھ خیانت کرے گا.

اگر اس سے تم نے کوئی راز کی بات کی تو (افشائے راز کا) الزام تم پر رکھے گا. اگر بے نیاز و مال دار ہو جائے گا تو مغرور سرکش ہوجائے گا اور سختی سے پیش آئے گا. آئے گا. پیش آئے گا. اگر فقیر ہوگا تو خدا کی نعمتوں کا انکار کرے گا اور گناہ کی پروا نہیں کرے گا. اگر خوش ہوگا تو طغیان و زیادہ روی کرے گا. اگر غمگین ہوگا تو نا امید ہوجائے گا . اگر روئے گا تو نالہ و فریاد کرے گا.نیکوں کی غیبت کرے گا. اگر ہنسے گا تو اس کی ہنسی قہقہ ہوگی. خدا کو دوست نہیں رکھے گا اور قانونِ الہی کا احترام نہیں کرے گا. خدا کو یاد نہیں کرے گا.

اگر تم اس کو خوش کردو تو تمھاری تعریف کرے گا اور تعریف میں لاف و گزاف سے کام لے گا جو باتیں تمھارے اندر نہیں پائی جاتیں تمھاری نیکیوں کے عنوان سے تم میں گنوائےگا.اگر تم سے ناراض ہوجائے تو ساری تعریفوں کو ختم کردے گا اورتمھاری طرف ناروا چیزوں کی نسبت دے گا.

وہ پھل جو نبی اکرمﷺ کو بہت پسند تھے، انتہائی ایمان افروز تحریر

سرکار دو عالم ‘آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہم سب کے لئے بہترین نمونہ ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قو ل‘ ہر فعل اور ہر عادت میں حکمت کا بحر بیکراں موجود ہے .آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عادات جن کا تعلق اگرچہ براہ راست شرعی احکامات سے نہیں لیکن ان کی اتباع ایک تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کمال محبت کااظہار ہونے کی وجہ سے مؤجب ثواب ہے اور دوسرے دنیاوی فیوض وبرکات کے حصول کا ذریعہ بھی. یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا کی اتباع کا اہتمام فرماتے تھے. حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم مختلف طریقوں سے کھجور استعمال فرمایا کرتے تھے ‘کبھی کھجوریں ہی تناول فرمایا کرتے‘ کبھی ان کے ساتھ مکھن ملا مکھن ملا ساتھ مکھن ملا کر استعمال فرماتے‘ کبھی ان کو دودھ میں ملا کر تناول فرماتے اورکبھی ککڑی خربوزے یا تربوز کے ساتھ ملا کرکھاتے تھے اور ساتھ ہی اس کی حکمت بیان فرماتے تھے کہ اس طرح کھجور کی گرمی کو ان مذکورہ چیزوں کی ٹھنڈک کے ذریعے معتدل کیا جا سکتا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچی کھجور تناول نہیں فرماتے تھےاللہ تعالیٰ نے ہر علاقے کے باشندوں کے مزاج کے موافق پھل پیدا فرمائے ہیں چنانچہ ان علاقائی پھلوں کا انسانی صحت میں بہت دخل ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے علاقے کے اعتبار سے کھجور کا باکثرت استعمال فرماتے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی کھجور کے لئے برکت کی دعا بھی فرمائی جس کے سبب وہاں ہمیشہ عمدہ اور بکثرت کھجور پیدا ہوتی ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عجوہ کھجور سب سے زیادہ پسند تھی اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا پھل قرار دیا.

حضرت عامر بن سعد کی ایک روایت کے مطابق جو شخص صبح کو سات عجوہ کھجور کھا لے گا اس دن اس پر کسی جادو یا زہر کا اثر نہیں ہوگا. حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں کھجور نہ ہواس گھر والے بھوکے ہیں. جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی نومولود بچہ پیش کیا جاتا تو اس کے منہ میں گھٹی کے طورپر کھجور چبا کرڈالا کرتے. اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نوموجود بچے کی ماں کے لئے بھی کھجور تجویز فرمایا کرتے تھے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے ساتھ مومن کو تشبیہ دی ہے کہ مومن کی طرح اس میں خیر ہی خیر ہے چنانچہ اس کے پتے تنا پھل حتیٰ کہ گٹھلی کا گودا بھی فائدہ مند ہے. حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم مختلف طریقوں سے کھجور استعمال فرمایا کرتے تھے ‘کبھی کھجوریں ہی تناول فرمایا کرتے‘ کبھی ان کے ساتھ مکھن ملا کر استعمال فرماتے‘ کبھی ان کو دودھ میں ملا کر تناول فرماتے اورکبھی ککڑی خربوزے یا تربوز کے ساتھ ملا کرکھاتے تھے اور ساتھ ہی اس کی حکمت بیان فرماتے تھے کہ اس طرح کھجور کی گرمی کو ان مذکورہ چیزوں کی ٹھنڈک کے ذریعے معتدل کیا جا سکتا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچی کھجور تناول نہیں فرماتے تھے اطباء نے بھی کھجور کو بہترین میوہ شمار کیا ہے. جگر کے لئے مقوی ہے اور قوت کو بڑھاتی ہے‘ حلق کے جملہ امراض سے نجات دلاتی ہے جبکہ پھلوں میں سب سے زیادہ غذائیت کھجور میں ہوتی ہے. حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زیتون کھاؤ اور اس کا تیل لگاؤ یہ مبارک درخت سے نکلا ہے . حضرت ابوہریر ہؓ کی روایت کے مطابق اس میں ستر بیماریوں کے لئے شفاء ہے. زیتوں کا پانی جلی ہوئی جگہ پر آبلے نہیں پڑنے دیت مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ہے زیتوں کے پتے بدن کے سرخ دانوں اور پھوڑے پھنسیوں کے لئے مفید ہیں .اس کا تیل جلد میں نرمی پیدا کرتا اور بالوں کی سفیدی روکتا ہے. حضرت ابوذرغفاری فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انجیر پیش کئے گئے .آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرا مؓ سے فرمایا کھاؤ ‘اگر میں یہ کہتا کہ جنت سے کوئی میوہ اتارا گیا ہے تووہ انجیر کے متعلق کہتا . انجیر مثانہ اور گردہ کو صاف کرتی اور زہر سے محفوظ رکھتی ہے. معدے سے بلغم کو خارج کر دیتی اور بواسیر کے لئے مفید ہے. خشک انجیر کا استعمال اعصابی کمزوری کو دور کرتا ہے. حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہم پیلو کا پھل توڑ رہے تھے تو سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سیاہ توڑنا. پیلو کا پھل معدے کے لئے مقوی ہے اور ہاضمے کو درست کرتا ہے. بلغم خارج کرتا اور پشت کے درد کو ختم کرتا ہے.حضرت عائشہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تازہ کھجور کے ساتھ تربوز تناول فرماتے دیکھا .تربوز اور ککڑی دونوں ٹھنڈی تاثیر رکھتی ہیں. معدے کی گرمی کو دور کرتی ہیں. مثانہ کے درد کے لئے نافع ہیں.

حضرت امیر بن زید نے بیان کیا کہ اللہ کے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو میوؤں میں انگور اور خربوزہ مرغوب تھے. حضورصلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ کے پاس تشریف لے گئے انہوں نے کشمش پیش کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمائی اور ان کو دعا دی . حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ عرفہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں انار بھیجا گیا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں انار سونٹھ شہتوت صفرجل کھانے کی روایات بھی موجود ہیں. ان سب پھلوں میں بیش بہا طبی اور جسمانی فوائد ثابت ہیں. حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پھل تناول فرما کر ہمارے لئے ثواب کا ذریعہ بنا دیا .اگر ہم ان پھلوں کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر کھائیں تو جسمانی فوائد کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے ان میں ثواب بھی ہے. بے شک حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ہر سنت کی پیروی ہمارے لئے ذریعہ نجات اور باعث سعادت ہے.

رزق کی تنگی ہے تو اس اسمِ اعظم کا وظیفہ کریں دولت اتنی ملے گی کہ سنبھالنا مشکل ہوجائے گا انشااللہ ضرور فائدہ ہوگا

بہت سے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ انکے ہاتھ میں پیسہ نہیں ٹکتا ۔جو کماتے ہیں خرچ ہوجاتا ہے ۔گویا ایسے لوگوں کے رزق میں برکت نہیں پائی جاتی ۔اس مسئلہ میں۔جاری ہے ۔

مبتلا افراد روزانہ بعد نماز فجر اور عشاء کے گیارہ گیارہ سو مرتبہ یاغنی کا ورد کریں۔تو انشاء اللہ رزق میں برکت ہوگی اور پیسہ بھی ٹکنا شروع ہوجائے گا۔یہ مجرب وظیفہ ہے اور رزق میں بندش ختم کرنے بہترین علاج بھی۔جودکاندار اور تاجر دفتر کھولنے سے پہلے ستر مرتبہ یاغنی پڑھے گا۔جاری ہے ۔

تو انشاء اللہ کاروبار میں برکت ہوگی اور کبھی نقصان نہ ہوگا۔جمعرات کے دن یا جمعہ کی رات میں انیس ہزار مرتبہ اس اسم پاک کا ورد کرنا اور ہمیشہ اس عمل کو جاری رکھنا انسان کو غیب سے تونگر اور دولت والا بنا دیتا ہے ۔ یہ بڑا مجرب عمل ہے ۔جس شخص کی دکان نہ چلتی ہو یا آمدن بہت کم ہو یا دکان پہلے بہت چلتی تھی ،۔جاری ہے ۔

اب آمدن کم ہوگئی ہے تو اسے چاہیئے کہ صبح دوکان کھول کر سکون سے روزانہ ہزار مرتبہ یا غنی کا ورد کرے اور اس دوران کاروبار بھی کرتا رہے ۔ انشاء اللہ بہت جلد کاروبار میں ترقی ہوگی۔

آدھی رات کو اگر آپ کی آنکھ کھل جائے تو صرف ایک بار یہ پڑھ لے

آدھی رات کو اگر آپ کی آنکھ کھل جائے تو صرف ایک بار یہ پڑھ لے

نسان جلد مایوس ہوجاتاہے لیکن تمام دنیا وی مسائل کا حل اللہ تعالیٰ نے اپنی کلام پاک میں دے رکھا ہے ۔ اگر شادی شدہ جوڑے کو بیٹے کی پیدائش کی خواہش ہوتو وہ سورۃ یٰسین کا ورد کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے حق میں دعا مانگیں، قرآن مجید کا دل کہلانے والی یہ سورۃ مزید کن کن کاموں کیلئے پڑھی جاسکتی ہے ۔

حصول اولاد نرینہ:جس کے ہاں صرف لڑکیاں ہی پیا ہوتی ہوں اور وہ اولاد نرینہ کی خواہش رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے نماز کے بعد گیارہ مرتبہ یٰسین پڑھ کرباقی وظیفہ نیچے ویڈیو پر کلک کرکے دیکھیں شکریہ

آدھی رات کو اگر آپ کی آنکھ کھل جائے تو صرف ایک بار یہ پڑھ لے

نسان جلد مایوس ہوجاتاہے لیکن تمام دنیا وی مسائل کا حل اللہ تعالیٰ نے اپنی کلام پاک میں دے رکھا ہے ۔ اگر شادی شدہ جوڑے کو بیٹے کی پیدائش کی خواہش ہوتو وہ سورۃ یٰسین کا ورد کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے حق میں دعا مانگیں، قرآن مجید کا دل کہلانے والی یہ سورۃ مزید کن کن کاموں کیلئے پڑھی جاسکتی ہے ۔

حصول اولاد نرینہ:جس کے ہاں صرف لڑکیاں ہی پیا ہوتی ہوں اور وہ اولاد نرینہ کی خواہش رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے نماز کے بعد گیارہ مرتبہ یٰسین پڑھ کرباقی وظیفہ نیچے ویڈیو پر کلک کرکے دیکھیں شکریہ

وہ پھل جو نبی اکرمﷺ کو بہت پسند تھے، انتہائی ایمان افروز تحریر

سرکار دو عالم ‘آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہم سب کے لئے بہترین نمونہ ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قو ل‘ ہر فعل اور ہر عادت میں حکمت کا بحر بیکراں موجود ہے .آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عادات جن کا تعلق اگرچہ براہ راست شرعی احکامات سے نہیں لیکن ان کی اتباع ایک تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کمال محبت کااظہار ہونے کی وجہ سے مؤجب ثواب ہے

اور دوسرے دنیاوی فیوض وبرکات کے حصول کا ذریعہ بھی. یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا کی اتباع کا اہتمام فرماتے تھے. حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم مختلف طریقوں سے کھجور استعمال فرمایا کرتے تھے ‘کبھی کھجوریں ہی تناول فرمایا کرتے‘ کبھی ان کے ساتھ مکھن ملا مکھن ملاساتھ مکھن ملا کر استعمال فرماتے‘ کبھی ان کو دودھ میں ملا کر تناول فرماتے اورکبھی ککڑی خربوزے یا تربوز کے ساتھ ملا کرکھاتے تھے اور ساتھ ہی اس کی حکمت بیان فرماتے تھے کہ اس طرح کھجور کی گرمی کو ان مذکورہ چیزوں کی ٹھنڈک کے ذریعے معتدل کیا جا سکتا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچی کھجور تناول نہیں فرماتے تھےاللہ تعالیٰ نے ہر علاقے کے باشندوں کے مزاج کے موافق پھل پیدا فرمائے ہیں چنانچہ ان علاقائی پھلوں کا انسانی صحت میں بہت دخل ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے علاقے کے اعتبار سے کھجور کا باکثرت استعمال فرماتے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی کھجور کے لئے برکت کی دعا بھی فرمائی جس کے سبب وہاں ہمیشہ عمدہ اور بکثرت کھجور پیدا ہوتی ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عجوہ کھجور سب سے زیادہ پسند تھی اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا پھل قرار دیا. حضرت عامر بن سعد کی ایک روایت کے

مطابق جو شخص صبح کو سات عجوہ کھجور کھا لے گا اس دن اس پر کسی جادو یا زہر کا اثر نہیں ہوگا. حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں کھجور نہ ہواس گھر والے بھوکے ہیں. جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی نومولود بچہ پیش کیا جاتا تو اس کے منہ میں گھٹی کے طورپر کھجور چبا کرڈالا کرتے. اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نوموجود بچے کی ماں کے لئے بھی کھجور تجویز فرمایا کرتے تھے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے ساتھ مومن کو تشبیہ دی ہے کہ مومن کی طرح اس میں خیر ہی خیر ہے چنانچہ اس کے پتے تنا پھل حتیٰ کہ گٹھلی کا گودا بھی فائدہ مند ہے. حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم مختلف طریقوں سے کھجور استعمال فرمایا کرتے تھے ‘کبھی کھجوریں ہی تناول فرمایا کرتے‘ کبھی ان کے ساتھ مکھن ملا کر استعمال فرماتے‘ کبھی ان کو دودھ میں ملا کر تناول فرماتے اورکبھی ککڑی خربوزے یا تربوز کے ساتھ ملا کرکھاتے تھے اور ساتھ ہی اس کی حکمت بیان فرماتے تھے کہ اس طرح کھجور کی گرمی کو ان مذکورہ چیزوں کی ٹھنڈک کے ذریعے معتدل کیا جا سکتا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچی کھجور تناول نہیں فرماتے تھے

اطباء نے بھی کھجور کو بہترین میوہ شمار کیا ہے. جگر کے لئے مقوی ہے اور قوت کو بڑھاتی ہے‘ حلق کے جملہ امراض سے نجات دلاتی ہے جبکہ پھلوں میں سب سے زیادہ غذائیت کھجور میں ہوتی ہے. حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زیتون کھاؤ اور اس کا تیل لگاؤ یہ مبارک درخت سے نکلا ہے . حضرت ابوہریر ہؓ کی روایت کے مطابق اس میں ستر بیماریوں کے لئے شفاء ہے. زیتوں کا پانی جلی ہوئی جگہ پر آبلے نہیں پڑنے دیت مسوڑھوں کو مضبوط کرتا ہے زیتوں کے پتے بدن کے سرخ دانوں اور پھوڑے پھنسیوں کے لئے مفید ہیں .اس کا تیل جلد میں نرمی پیدا کرتا اور بالوں کی سفیدی روکتا ہے. حضرت ابوذرغفاری فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انجیر پیش کئے گئے .آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرا مؓ سے فرمایا کھاؤ ‘اگر میں یہ کہتا کہ جنت سے کوئی میوہ اتارا گیا ہے تووہ انجیر کے متعلق کہتا . انجیر مثانہ اور گردہ کو صاف کرتی اور زہر سے محفوظ رکھتی ہے. معدے سے بلغم کو خارج کر دیتی اور بواسیر کے لئے مفید ہے. خشک انجیر کا استعمال اعصابی کمزوری کو دور کرتا ہے. حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہم پیلو کا پھل توڑ رہے تھے تو سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سیاہ توڑنا.

پیلو کا پھل معدے کے لئے مقوی ہے اور ہاضمے کو درست کرتا ہے. بلغم خارج کرتا اور پشت کے درد کو ختم کرتا ہے.حضرت عائشہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تازہ کھجور کے ساتھ تربوز تناول فرماتے دیکھا .تربوز اور ککڑی دونوں ٹھنڈی تاثیر رکھتی ہیں. معدے کی گرمی کو دور کرتی ہیں. مثانہ کے درد کے لئے نافع ہیں. حضرت امیر بن زید نے بیان کیا کہ اللہ کے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو میوؤں میں انگور اور خربوزہ مرغوب تھے.

حضورصلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن عبادہ کے پاس تشریف لے گئے انہوں نے کشمش پیش کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمائی اور ان کو دعا دی . حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ عرفہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں انار بھیجا گیا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں انار سونٹھ شہتوت صفرجل کھانے کی روایات بھی موجود ہیں. ان سب پھلوں میں بیش بہا طبی اور جسمانی فوائد ثابت ہیں. حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پھل تناول فرما کر ہمارے لئے ثواب کا ذریعہ بنا دیا

.اگر ہم ان پھلوں کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر کھائیں تو جسمانی فوائد کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے ان میں ثواب بھی ہے. بے شک حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ہر سنت کی پیروی ہمارے لئے ذریعہ نجات اور باعث سعادت ہے.

قرآن حکیم کی وہ صورت جسے صبح روشنی نکلنے سے قبل پڑھیں تو جسم میں ایسی تبدیلی آئے گی کہ آپ خود دنگ رہ جائیں گے

دنیا میں انسان کو مختلف امراض سمیت کئی طرح کی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اپنے کلام مبارکہ یعنی قرآن مجید میں ان پریشانیوں کا حل رکھا ہے لیکن بدقسمتی سے ہم اس پر توجہ نہیں دیتے ، اگر کسی شخص کو بیماری کے سبب کسی جسمانی عضو کے بیکار ہونے.

کا ڈر ہو تو قرآن مجید کا دل کہلانے والی سورۃ یٰسین کو ہر روز صبح و شام تینمرتبہ پڑھ کر اس عضو پر دم کرے، اسی طرح تنہائی میں بیٹھ کر پڑھے تو دل خوشی محسوس کرے۔ سورج نکلنے سے پہلے سورۃ یٰسین پڑھے تو سستی و کاہلی دور و۔سورۃ یٰسین اس کے علاوہ درج ذیل پریشانیوں سے نجات کیلئے پڑھی جاسکتی ہے ۔بیماری سے نجات:روزنامہ امت کے مطابق اگر کوئی بہت بیمار ہو تو اس کے سرہانے 8 مرتبہ اس سورہ مبارکہ کو پڑھیں، حق تعالیٰ شفائے کاملہ عطا فرمائے گا۔ اگر کوئی شخص کسی خطرناک نوکری پر مقرر ہو تو وہ 2مرتبہ پڑھ کر اپنے کام پر جایا کرے، حق تعالیٰ نے چاہا تو بخیریت واپس آئے گا۔کسی بھی مشکل کام کی ابتدا کرتے وقت پڑھیں تو وہ کام بخیر انجام پذیر ہوگا۔اگر کسی شخص کو بیماری کے سبب کسی جسمانی عضو کے بیکار ہونے کا ڈر ہو تو اس سورہ پاک کو ہر روز صبح و شام تین مرتبہ پڑھ کر اس عضو پر دم کرے۔ حق تعالیٰ نے چاہا تو شفائے کاملہ عطا ہوگی۔اگر کسی بیماری کی حالت ایسی ہو کہ وہ مرض کے غلبے اور شدت کی وجہ سے خود نہ پڑھ سکتا ہو تو دوسرا شخص باوضو حالت میں بیمار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مفرد عدد کے مطابق پڑھے۔ رب تعالیٰ شفاءطافرمائے گا۔ہر روز نماز فجر کے بعد یا سلام کا بکثرت ورد کرنے سے دل میں سارا دن پاکیزہ خیالات پیدا ہوتے ہیں اور دل نیکی کے کامون کی طرف مائل رہتا ہے۔

یہ عمل طلوع آفتاب سے پہلے تک کرنا انتہائی زوداثر ہوتا ہے۔محتاجی دور:اس سورہ مبارک کو بکثرت پڑھنے سے لوگوں میں عزت و مرتبہ عطا ہوگا۔تنہائی میں بیٹھ کر پڑھے تو دل خوشی محسوس کرے۔ سورج نکلنے سے پہلے پڑھے تو سستی و کاہلی دور و۔نماز فجر کے بعد پڑھنے والا کبھی محتاج نہ ہو۔طالبعلم اسے اپنے ورد میں رکھے تو حافظہ تیز ہو۔اس سورہ پاک کے بارے میں بہت سی روایات کے مطابق اس میں اس اعظم ہے۔اس سورہ مبارک کو بکثرت پڑھنے والے کی عمر میں رب تعالیٰ درازی اور خیروبرکت عطا فرمات اہے۔مقدمات میں انصاف کے جلداور فوری حصول کے لئے اس سورہ مبارک کو بکثرت پڑھنا انتہائی کارگر ہے۔مستجاب الدعا:اگر کوئی شخص جمعرات کے دن نماز چاشت کے بعد500 بار پڑھے اور پھر رب تعالیٰ کے حضور جو بھی دعا مانگے گا، حق تعالیٰ اسے قبول ومنظورفرمائے گا۔جمعرات کو فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان 10 مرتبہ پڑھے گا تو خدا تعالیٰ کے حضور مقرب ہوگا۔اگر آٹھ یوم تک مسلسل 46 مرتبہ پڑھے تو جس نیت سے پڑھے گا، رب تعالیٰ اسے پورا فرمائے گا۔اس سورہ پاک کا پڑھنے والا مستجاب الدعوات ہوجاتا ہے۔ دعا کی مقبولیت کے لئے یہ اسم مبارک خوب تر ہے۔دلی مراد کا حصول:اگر کسی کے کان میں کسی بھی وجہ سے درد ہو تو روئی لے کر اس پر ایک ہزار مرتبہ یاسلام پڑھ کر دم کریں اور روئی کو کان میں رکھ لیں تو حق تعالیٰ نے چاہا تو شفا عطا ہوگی۔اگر کوئی نماز فجر کے بعد ہر روز11مرتبہ یہ سورہ پڑھنا اپنا معمول بنالے تو وہ جو بھی جائز دعارب تعالیٰ سے مانگے تو وہ قبولیت کا شرف حاصل کرلے گی۔ اس سورہ پاک کا بکثرت ذکر کرنے والا چشم خلائق میں عزیز و محترم ہوتا ہے۔ مشکلات اس کے رستے میں کبھی حائل نہیں ہوتیں۔اونچے مرتبے تک پہنچنے کے لئے اس سورہ مبارک کا ورد کرنا راستے کی تمام رکاوٹوں کو دور کرکے دلی مراد کو پورا کرنے کا سبب بنتا ہے

میں تمہیں طلاق دیتا ہوں

صبح کا وقت تھا اور میں اپنی بیوی کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔ آج میں نے تہیہ کیا تھا کہ اس کو جین کے بارے میں بتا کر رہوں گا۔ تین مہینے سے ایک لڑکی جین میری زندگی کا اہم حصہ بن چکی تھی اور میں ہر روز اس کے ساتھ وقت بتاتا تھا۔ میں جین کے ساتھ اتنا خوش تھا کہ میں نے سوچ لیا تھا کہ اپنی بیوی کو طلاق دیدوں گا۔ بہت دنوں سے مسلسل کوشش کر رہا تھا مگر اس کو بتا نہیں پا رہا تھا بس آج ضرور بتا دونگا میں نے فیصلہ کیا۔ میں بولا :بیگم۔۔۔بس میرا تمہارا ساتھ یہیں تک تھا ، میں اب کسی اور کو تہہ دل سے پسند کرتا ہوں اور ہم دونوں شادی کرنے جا رہے ہیں۔ میں تمہیں چند دن میں طلاق دے دوں طلاق دے دوں گا۔ میری بیوی آہستہ سے بولی کہ کیوں ؟۔۔

میں نے آگے سے کوئی جواب نہ دیا تو ایک دم غصے میں آگئی اور کھانے کا ڈونگا نیچے پھینک دیا اور اٹھ کر اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی۔میں نے سوچا کہ میں نے بلکل صحیح فیصلہ کیا ہے۔ میں جین کے پاس چلا گیا۔ شام کو میں نے گھر پر وکیل بھیجا جس نے میری بیوی کو بتایا کہ طلاق کے بعد اس گھر کی مالک وہ ہو گی اور میرے بزنس کے تیس فیصد شےئر بھی اس کے ہوں گے۔ میرے وکیل نے فون کر کے بتایا کہ آپ کی بیوی نے سب لینے سے انکار کر دیا ہے مجھے کچھ سمجھ نہ آئی ۔ رات کو میں گھر لوٹا تو دیکھا کہ میری بیوی کمپیوٹر ٹیبل پر بیٹھی کچھ لکھ رہی تھی۔ میں نے دھیان نہ دیا، اور جین کے بارے میں سوچتا ہوا سو گیا۔ صبح اٹھا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی دیکھا کہ میری بیوی ابھی تک ٹیبل پر بیٹھی کچھ لکھ رہی تھی۔ میں پاس گیا اور پوچھا کہ کیا کر رہی ہو۔ بولی کہ آپ مجھے طلاق دے دیں مگر میری دو شرطیں آپ کو ماننی پڑیں گی۔ میرا دل پگھل گیا، میں نے بولا اوکے پرومس۔۔۔اس نے بتایا کہ ایک تو آپ مجھے ایک مہینے کے بعد طلاق دو گے، تب تک ہم ایسے ہی رہیں گے کہ ہمارا بیٹا سمجھے کہ ہم میاں بیوی ہیں۔۔کیانکہ اس کے اگلے مہینے ایکزامز تھے۔ دوسرا آپ روز صبح مجھے کمرے سے اسی طرح اٹھا کر ناشتے کی میز پر لیکر جاؤ گے جیسے شادی کے پہلے دن لے کر آئے تھے۔پورا ایک مہینہ۔ میں نے سوچا کہ کتنی پاگل ہے میرے سے کوئی پیسے گھر، بزنس بھی نہیں قبول کر رہی، اس کی معصوم دو شرطوں سے کیا فرق پڑ جائے گاسو میں اس کی بات مان گیا۔

پہلی شرط ایک مہینے کے بعد طلاق اور دوسری روز اس کو اٹھا کر میز پر لجانا۔ اس کی پہلی شرط کافی ٹھیک تھی کیونکہ میرے بیٹے کے پیپرز ایک مہینے بعد تھے اور ہم دونوں اس کی بہتری چاہتے تھے۔میں اس دن جین کے پاس گیا اور اس کو ساری بات بتائی وہ بہت ہنسی کہ تمہاری بیگم سٹھیا گئی ہے بیچاری۔ مجھے تھوڑا غصہ آیا جین کی بے حسی پر۔ خیر مہینے کا پہلا دن آیا میں نے صبح اپنی بیوی کو گود میں اٹھایا۔عجیب لگ رہا تھا۔ مجھے ہنسی بھی آرہی تھی کہ میرا بیٹا آگیا وہ خوشی سے تالیاں بجانے لگا۔ ہم لوگ ہنس پڑے۔ میز پر بیوی کو چھوڑا، سب نے ناشتہ کیا اور بیٹا سکول چلا گیا، میں اپنے آفس اور بیگم اپنے دفتر۔ کچھ نہ بدلا میں اسی طرح شام کو جین کے ساتھ تھا۔ روز صبح اسی طرح بس ایک بار بیگم کو گود میں اٹھا کر ٹیبل پر چھوڑ دیتا اور اس سے میرا بیٹا بہت خوش ہوا کرتا تھا۔ بس ایک بات عجیب تھی کہ میری بیوی کا وزن روز روز کم ہوتا جا رہا تھا۔ ایک دن میں نے اٹھایا تو مجھے لگا جیسے اسے بخار ہو، میں نے پہلی دفعہ اس کی جھریاں دیکھیں اور پھر اس کی بالوں کی چاندنی،مجھے اپنے اوپر شدید غصہ آیا کہ میں نے اس کی اتنی فکر کیوں نہ کی جتنی کرنی چاہیے تھی۔ خیر پھر وہی روٹین۔ اگلے دن اس کو اٹھایا اور اس نے میرے گلے میں بازو ڈالے تو مجھے اس پر بہت پیار آیا۔میں اس کی مہک کو اپنے اندر جزب کر رہا تھا۔ پھر میرا بیٹا بھاگتا ہوا آیا، یس نے یہ روز کا ایک کھیل بنا لیا تھا ۔

صبح بھاگ کر آجاتا تھا اور کہتا تھا پاپا ماما کو اٹھاؤ نہ۔ پھر ناچتا رہتا تھا۔ میری ہر صبح پہلے کی صبح سے بہتر ہونے لگی تھی۔ آخری دن آن پہنچا۔۔۔میں نے اپنی بیوی کو اٹھایا اور ناشتے کی میز پر اتار دیا۔ اس نے کپڑے صحیح کیے اور ناشتہ کرنے لگی۔ میرا بیٹا اسی طرح ہنس کھیل رہا تھا اور وہ اسے ناشتہ کرا رہی تھی۔میرا دل کیا کہ ساری عمر ایسے ہی گزر جائے۔ میں اسی وقت اٹھا اور جین کے گھر نکل پڑا۔ جین مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ میں نے اس کو بتایا کہ سوری جین میں اپنی بیوی سے اب بھی بہت پیار کرتا ہوں اور میں اسے کبھی بھی طلاق نہیں دوں گا۔ جس دن میں نے اسے شادی کے پہلے دن اٹھایا تھا میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ آخری دم تک اس کا ساتھ دوں گا۔ یہ سن کر جین چلانے لگی اور زور زور سے رونے لگی۔ میں بھول گیا تھا کہ میری بیوی کیسی دکھتی تھی۔ہم میں دوری آگئی تھی مگر روز صبح اس کو اپنی گود میں اٹھا کر میں نے دوبارہ اسی پیار کو محسوس کیا تھا جو ہم دونوں میں پہلے تھا اور سب سے بڑھ کر میرے بیٹے کا ہنستا ہوا چہرہ میرے اندر سکون بھر دیتا تھا۔ میں اپنے گھر واپس چل پڑا کیونکہ آج اتوار تھا اور سب کی چھٹی تھی۔ میں نے سوچا کہ اپنی جان کو یہ اچھی خبر دیتا ہوں۔اندر گیا تو نیچے کوئی نا تھا، اوپر کمرے میں گیا تو دیکھا کہ میری بیوی مری ہوئی تھی۔ میں بچوں کی طرح رونے لگ گیا۔کچھ دن بعد معلوم ہوا کہ وہ سب کچھ جانتی تھی اس کو کینسر ہو گیا تھا اور وہ مجھ سے چھپاتی تھی۔ صرف ہمارے بیٹے کے لیے وہ چاہتی تھی کہ ہم آخری مہینہ ساتھ گزاریں تا کہ میرا بیٹا ہمیشہ خوش رہے اور یہ سمجھے کہ اس کا باپ یس کی ماں سے بہت پیار کرتا تھا۔

وہ صرف ہمارے بیٹے کی خوشی کی خاطر صبح گود میں اٹھانے کا بولتی تھی۔ آج میرا بیٹا بڑا ہو چکا ہے اور بے حد کامیاب ہے ، وہ یہی جانتا ہے کہ اس کے ماں باپ میں بہت محبت تھی۔اپنی بیوی کا یہ احسان میں کبھی نہیں چکا سکتا۔ وہ مجھے بہت یاد آتی ہے۔ مکان، گاڑی، کپڑے جوتے سب معمولی چیزیں ہیں، رشتوں کی قدروقیمت ان سب سے کہیں زیادہ ہے۔ مکان، پیسا صرف خوشی تب دیتے ہیں جب ان کو شےئر کرنے کے لیے گھر والے ساتھ ہوں۔ یہ بذات خود صرف ایک پر مسرت زندگی کا زریعہ ہیں۔ خوشیاں ان سے ملتی ہیں کیونکہ یہ ہماری زندگی کو آسان بناتے ہیں، لیکن صرف ان چیزوں کے ساتھ خوشی کو منسوب کرنا بیوقوفی کی انتہا ہے۔

پچھلےتمام گناہ معاف کرنے کیلئے صرف اور صرف ایک عمل

ایک روایت کے مطابق جب بندہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس کے جتنے گناہ ہیں سب بدن سے اتار کر ایک ڈھیر میں ڈال دو تاکہ جب تک یہ میرے حضور کھڑا رہے پاک اور ستھرا ہوکر کھڑا رہے۔بندہ نماز پڑھتا رہتا ہے اور گناہ ایک سمت ڈھیر میں جمع کردیئے جاتے ہیں۔ پھر جب وہ بندہ نماز پڑھ کر واپس جانے لگتا ہے تو فرشتے وہ گناہ پکڑ کر عرض کرتے ہیں، مالک یہ گناہ دوبارہ اس کے ساتھ ہی لگادیں؟ تو رب تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے: اب اترے تو اترے ہی رہنے دو، میرا بندہ ستھرا ہو کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔

اس روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ شخص واقعی کتنا بدنصیب ہے جس کو اپنے رب عزوجل کے حضور ایک سجدہ بھی نصیب نہ ہو۔آج اگر ہر مسلمان اپنی ذات کا موازنہ خود کرے تو ہم میں زیادہ تر افراد کا معمول یہ ہوتا ہے:٭ فجر کا وقت سوتے ہوئے گزار دیتے ہیں٭ ظہر اپنے کام کاج کی جگہ پر گزار دیتے ہیں٭ عصر سستی میں گزار دیتے ہیں٭ مغرب ہلے گلے میں اور٭ عشاء تھکن کی وجہ سے گزار دیتے ہیںیہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ بعض لوگ نماز نہ پڑھنے کے باوجود بھی ندامت کا اظہار نہیں کرتے اور اپنے ذہن میں یہ خیال رکھتے ہیںکہ ہم نماز نہیں پڑھتے، لیکن اگر وہ حقیقت سے آشنا ہو تو انہیں پتا چلے گا کہ وہ کیا نماز نہیں پڑھتے بلکہ رب انہیں سجدے کی توفیق ہی عطا نہیں کرتا۔قیامت کے دن سب سے پہلا سوال بھی نماز کا ہی ہوگا۔ اس لئے اگر آپ بھی اپنے پچھلے تمام گناہوں کیبہتر تو یہ ہے کہ انسان دوسروں کی ذات میں ہنر اور خوبیاں تلاش کرے اور عیب اپنی ذات میں دیکھے۔ یاد رکھو کہ دنیا میں اچھائیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی۔ جس طرح گلزار میں پھول بھی ہوتے ہیں اور خار بھی۔

جس کا دل میلا ہو اسے ہر چیز میلی نظر آتی ہے۔ جس کا دل روشن ہو اسے ہر چیز روشن نظر آتی ہے۔شیخ سعدیؒ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ بے عیب ذات صرف اللہ عزوجل ہی کی ہے۔پس دوسروں کی ذات میں عیب تلاش کرنے سے بہتر ہے کہ اپنی ذات میں موجود عیبوں پر نگاہ دوڑائی جائے اور ان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے