صرف ایک لونگ کی روزانہ استعمال سے کیاہوتا ہے۔؟

لونگ قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جو قدیم طریقہ علاج اور جدید ہیلتھ سائنس میں برابر اہمیت اختیار کئے ہوئے ہے ۔ بر صغیر میں چند عشروں قبل لونگ کو بطور ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے ہوئے اس کی باقاعدہ تشہیر کی جاتی تھی اور یہ سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے ۔ پرانے وقتوں میں مختلف طبی مسائل کے حل کے لیے لونگ کے استعمال کی اہمیت کو آج جدید میڈیکل سائنس کے زریعے ثابت کیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ زیبائشی مصنوعات بنانے والی کمپنیاں بھی لونگ کو اہم ترین جزوے کے طور پراہمیت دیتی ہیں۔ جسم کو سن کرنے والی دوا انجیکشن لگانے یا کسی سرجری کے لیے جسم پر لونگ والی جیل لگادینے سے وہ حصہ سن ہو جاتا ہے جس سے درد کا احساھ نہیں ہے ہوتا ۔دانتوں کی حفاظت اور تکالیف کا علاج ۔ دانتوں کی حفاظت کے لیے آج دنیا بھر میںیو جینوں کا استعمال کیا جارہا ہے اور یہ مرکب لونگ کے تیل میں پایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ لونگ کا تیل دانتوں کی بیماریوں کے علاج میں بھی بہت موثر سمجھا جاتا ہے ۔

یاداشت کی بہتری ۔ معروف طبی ماہر سر ہالڈ ر کی تحقیق کے مطابق لونگ کے تیل کا استعمال یاداشت کو بہتر بناتا ہے ۔زہریلی خوراک ۔ فوڈپوائزننگ کی وجہ سے ہونے والی تکالیف کے علاج کے لیے لونگ کا استعمال نہایت مفید ہے ۔لونگ کا تیل فوڈپوائزننگ کا سبب بننے والے بیکڑیا کا خاتمہ کرتا ہے ۔ سانس کی تکالیف ہرنیہ اور اسہال ۔لونگ میں شامل یوجینول ان تینوں اقسام کی بیماریوں کے لیے نہایت مفید ہے اس کے استعمال سے مزکورہ امراض کا شکار ہونے پر چند منٹ میں افاقہ ہو سکتا ہے ۔جسمانی قوت کے لیے قدرتی نعم البدل ۔ سپن میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق لونگ کے اندر فربہ مائل خلیے پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔انسولین کے نظام کی مضبوطی روزانہ چند گرام لونگ کا استعمال متعدد بیماریوں سے بچائو کا سبب ہے لونگ انسولین میں تحریک پیدا کرتے ہوئے کولیسٹرول اور گلوکوزکی سطح کو دس سے تیس فیصد تک کم کر دیتا ہے اس کے علاوہ لونگ کے استعمال سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے کینسر کے بچائواور کینسر کے پھلنے کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے ۔نزلہ جب موسم سرما میں نزلہ زکام اور کھانسی ہو جائے تو بعض میں شدت کا پانی بہتا ہے چھنکوں سے برا ہال ہوتا ہے کھانسی کر کے برا حال ہو جاتا ہے یا گلہ خراب ہو جاتا ہے تو لونگ لے کر تھورا سا نمک لگا کر چوسنا بڑا فائدہ مند ہے دمہ کے مریض کے لیے لونگ بہت مفید ہے لونگ کا باریک سفوف ایک گرام دودھ کے بنا چائے کا قہوہ بنا کر اس میں ملاکر استعمال کریں۔ جسم اور جوروں کا درد جسم اور جوروں کے درد کے لئے لونگ کا قہوہ بڑا فائدہ مند ہے لونگ کے تیل کو تلوں کے تیل میں ملاکرمالش کرنا بھی مفید ہے ۔

سردرد کے لیے لونگ کے چار سے پانچ دانے پیس کر نمک میں ملاکر ماتھے پر لیپ کریں۔دانت درد دانت اور داڑھ میں اگر درد ہو تو روغن لونگ روئی سے لگا کر متاثرہ مقام پر لگائیں۔کان درد ایک لونگ کا دانہ تلوں کے تیل میں ایک چمچہ گرم کرکے تین سے پانچ قطرے کان میں ڈالنے سے کان درد ختم ہو جاتا ہے ۔کثرت پیشاب جن لوگوں کو پیشاب زیادہ آتا ہو وہ لونگ کا سفوف چٹکی برا استعمال کریں ۔پرانے زخم اگر پرانے زخم ٹھیک نہ ہوتے ہوں تو ان کے لیے روغن لونگ اور ہلدی کامر ہم بنا کر لگائیں۔ اس تحریر کو دوسروں کے ساتھ شیئر ظرور کریں شکریہ زکام اور کھانسی

کبھی قرآن مجید کا کوئی معجزہ دیکھاہے؟

ایک مرتبہ کسی نے قاری عبدالباسط سے پوچھا، قاری صاحب! آپ اتنا مزے کا قرآن مجید پڑھتے ہیں، آپ نے بھی کبھی قرآن مجید کا کوئی معجزہ دیکھاہے ؟ وہ کہنے لگے، میں نے قرآن کے سینکڑوں معجزے آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ انہوں نے کہا ، کوئی ایک تو سنا دیجئے۔ تو یہ واقعہ انہوں نے خود سنایا۔قاری صاحب فرمانے لگے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب جمال عبدالناصر مصر کا صدر تھا۔ اس نے رشیا (روس) کا سرکاری دورہ کیا۔ وہاں پر کمیونسٹ حکومت تھی۔ اس وقت کمیونزم کا طوطی بولتا تھا۔ دنیا اس سرخ انقلاب سے گھبراتی تھی۔جمال عبدالناصر ماسکو پہنچا۔ اس نے وہاں جاکر

اپنے ملکی امور کے بارے میں کچھ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے بعد انہوں نے تھوڑا سا وقت تبادلہ خیالات کے لئے رکھا ہوا تھا۔ اس وقت وہ آپس میں گپیں مارنے کے لئے بیٹھ گئے۔ جب آپس میں گپیں مارنے لگے تو ان کیمونسٹوں نے کہا ،جمال عبدالناصر! تم کیا مسلمان بنے پھرتے ہو، تم ہماری سرخ کتاب کو سنبھالو، جو کیمونزم کا بنیادی ماخذ تھا، تم بھی کمیونسٹ بن جاؤ، ہم تمہارے ملک میں ٹیکنالوجی کو روشناس کرادیں گے، تمہارے ملک میں سائنسی ترقی بہت زیادہ ہو جائے گی اور تم دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہو جاؤ گے، اسلام کو چھوڑو اور کیمونزم اپنالو، جمال عبدالناصر نے انہیں اس کا جواب دیا تو سہی مگر دل کو تسلی نہ ہوئی۔ اتنے میں وقت ختم ہوگیا اور واپس آگیا۔ مگردل میں کسک باقی رہ گئی کہ نہیں مجھے اسلام کی حقانیت کو اور بھی زیادہ واضح کرنا چاہئے تھا، جتنا مجھ پر حق بنتا تھا میں اتنا نہیں کرسکا۔دو سال کے بعد جمال عبدالناصر کو ایک مرتبہ پھر رشیا جانے کا موقع ملا۔ قاری صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے صدر کی طرف سے لیٹر ملا کہ آپ کو تیاری کرنی ہے اور میرے ساتھ ماسکوجانا ہے۔ کہنے لگے کہ میں بڑا حیران ہوا کہ قاری عبدالباسط کی تو ضرورت پڑے سعودی عرب میں، عرب امارات میں، پاکستان میں جہاں مسلمان بستے ہیں۔ ماسکو اور رشیا جہاں خدا بے زار لوگ موجود ہیں، دین بے زار لوگ موجود ہیں وہاں قاری عبدالباسط کی کیا ضرورت پڑ گئی۔

خیر تیاری کی اور میں صدر صاحب کے ہمراہ وہاں پہنچا۔وہاں انہوں نے اپنی میٹنگ مکمل کی۔ اس کے بعد تھوڑا سا وقت تبادلہ خیالات کے لئے رکھا ہوا تھا۔ فرمانے لگے کہ اس مرتبہ جمال عبدالناصر نے ہمت سے کام لیا اور ان سے کہا کہ یہ میرے ساتھی ہیں جو آپ کے سامنے کچھ پڑھیں گے، آپ سنئے گا۔ وہ سمجھ نہ پائے کہ یہ کیا پڑھے گا۔ وہ پوچھنے لگے کہ یہ کیا پڑھے گا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ قرآن پڑھے گا۔ انہوں نے کہا ، اچھا پڑھے۔ فرمانے لگے کہ مجھے اشارہ ملا اور میں نے پڑھنا شروع کیا۔ سورہ طہٰ کا وہ رکوع پڑھنا شروع کردیا جسے سن کر کسی دور میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی ایمان لے آئے تھے۔فرماتے ہیں کہ میں نے جب دو رکوع تلاوت کرکے آنکھ کھولی تو میں نے قرآن کا معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ سامنے بیٹھے ہوئے کمیونسٹوں میں سے چار یا پانچ آدمی آنسوؤں سے رو رہے تھے۔ جمال عبدالناصر نے پوچھا ، جناب !آپ رو کیوں رہے ہیں؟ وہ کہنے لگے ہم تو کچھ نہیں سمجھے کہ آپ کے ساتھی نہ کیا پڑھا ہے مگر پتہ نہیں کہ اس کلام میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ ہمارے دل موم ہوگئے ، آنکھو ں سے آنسوؤں کی جھڑیاں لگ گئیں، اور ہم کچھ بتا نہیں سکتے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا۔۔۔؟ سبحان اللہ جو قرآن کو مانتے نہیں ، قرآن کو جانتے نہیں اگر وہ بھی قرآن سنتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں بھی تاثیر پیدا کردیا کرتے ہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے برطانوی شاہی خاندان کو لہسن کھانے کی اجازت نہیں کیونک

شاہی زندگی شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے معمور تو ہوتی ہے لیکن اس کے کچھ ایسے ادب آداب بھی ہوتے ہیں جو شاید عام لوگوں پر بہت گراں گزریں۔ اب برطانیہ کے شاہی خاندان میں نئی داخل ہونے والی شہزادی میگھن مارکل ہی کو دیکھ لیں جسے اب لہسن کھانے کی بھی اجازت نہیں۔ میل آن لائن کے مطابق میگھن مارکل شہزادہ ہیری سے

شادیسے پہلے تو اپنی مرضی سے جو چاہتی کھا سکتی تھیں تاہم شاہی خاندان کا حصہ بننے کے بعد اسے یہ آزادی حاصل نہیں رہی اور اس کے لہسن اور مچھلی سمیت دیگر کئی

اشیاءکھانے پر پابندی لگ چکی ہے۔لہسن ایک ایسی چیز ہے جو شاہی خاندان کے کھانوں میں قطعاً استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ملکہ کو سخت ناپسند ہے

۔ انہوں نے باورچی کو خاص ہدایت کر رکھی ہے کہ لہسن کو کچن سے ہی دور رکھا جائے۔ میگھن کو مچھلی اور دیگر چیزوں سے روکے جانے کی وجہ فوڈپوائزننگ کا خدشہ ہے اور لہسن کے برعکس یہ پابندی دوران سفر لاگو ہوتی ہے۔ملکہ برطانیہ لہسن کو اس لیے ناپسند کرتی ہیں کیونکہ اسے کھانے سے منہ سے بدبو آتی

ہے جو دوسروں کو سخت ناگوار گزرتی ہے۔خود شہزادی میگھن بھی لہسن کی وجہ سے ماضی میں ایک شخص سے قطع تعلقی کر چکی ہیں۔ یہ شخص فحش فلموں کا اداکار سائمن ریکس ہے۔ اس نے حال ہی میں بتایا ہے کہ ”میں اور میگھن ڈیٹ پر ملے تھے۔ ڈیٹ پر جانے سے پہلے میں نے لہسن والے نوڈلز کھا لیے تھے۔ جب ہم جانے لگے

تو میں نے میگھن کو الوداعی بوسہ دیا۔ اس دوران لہسن کی بدبو اسے اس قدر ناگوار گزری کہ اس کے بعد وہ کبھی مجھ سے نہیں ملی۔ میں سمجھتا ہوں کہ لہسن نے میری محبت کی کہانی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دی

تمام دردوں اور بیماریوں کے لیے شفا

ایک دفعہ رسول اللهﷺ تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضوان علیہم اجمعین بھی آپﷺ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللّه تعالیٰ نے مجھ پر بڑے بڑے احسانات کئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی پر نہیں کئے ۔پھر فرمایا میں بیٹھا ہوا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا اے محمدﷺ!الله تعالیٰ حکم دیتے ہیں

کہ میں نے آپﷺ کے پاس اپنی کتاب بھیجی اور اس کتاب میں ایک سورت ایسی بھیجی ہےکہ اگر وہ سورۃ تورات میں ہوتی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں سے کوئی شخص یہود نہ ہوتا ۔ اور اگر یہ سورہ انجیل میں ہوتی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت میں سے کوئی شخص نصرانی نہ ہوتا ۔اور اگر یہ سورۃ زبور میں ہوتی تو حضرت داؤد علیہ السلام کی امت میں کوئی

امت میں کوئی شخص مغ ( بت خانہ کا خادم ) نہ ہوتا ۔یہ سورۃ میں نے قرآن میں اس لیے اتاری ہے کہ آپ کے امتی اس سورہ کی تلاوت کی برکت سے قیامت کے روز دوزخ کے عذاب سے اور قیامت کی ہولناکیوں سے بچ جائیں ۔جبرائیل علیہ السلام نے مزید فرمایا اے محمد ﷺ!اس خدا کی قسم جس نے آپؐ کو تمام کائنات کے لئے برحق نبی بنا کر بھیجا ہے

اگر روئے زمین کے تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور تمام عالم کے درخت قلم بن جائیں اور سات آسمان اور سات زمینیں کاغذ بن جائیں پھر بھی ابتدائے عالم سے قیامت تک لکھتے رہنے کے باوجود اس سورۃ کی فضیلتیں نہیں لکھی جا سکیں گی۔یہ سورہ فاتحہ ہے۔

سورۃ فاتحہ تمام دردوں اور بیماریوں کے لیے شفا ہے ۔جو بیماری کسی علاج سے ٹھیک نہ ہوتی ہو تو سورہ فاتحہ کو صبح کے فرضوں اور سنتوں کے درمیان بسم اللہ شریف کے ساتھ اکتالیس بار پڑھے اور پھونک مارے اللّه تعالیٰ اسے اس سورۃ کی برکت سے شفا بخشیں گے

جو رزق تمہارے حصے میں ہے وہ ضرور مل کر رہے گا

مشہور مؤرخ ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ میں ایک سال حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں تھا تو میں نے خراسان ( اس دور میں خراسان‘ ایران اور افغانستان سمیت ارد گرد کے کئی ممالک کو کہا جاتا تھا) سے آئے ہوئے ایک شخص کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا ‘ وہ کہہ رہا تھا :’’ اے مکہ کے رہنے والو! اے حج کیلئے دور دراز سے آنے والو

! میری ایک تھیلی گم ہو گئی ہے جس میں ایک ہزار دینار تھے ۔ جو شخص بھی مجھے وہ واپس کر دے تو اللہ تعالیٰ اُسے بہترین جزادے اور جزادے اور جہنم سے آزادی عطا کرے‘‘( دینار سونے کا سکہ ہوتا تھا اور آج کل کے حساب سے اس کا وزن 4, 347گرام بنتا ہے ۔

اس طرح اندازہ کر لیں کہ ایک ہزار دینار ، اچھا خاصا سونے کا خزانہ تھا)یہ اعلان سنتے ہی مکہ مکرمہ کے ایک بوڑھے صاحب اٹھے اور انہوں نے اُس اعلان کرنے والے کو مخاطب کر کے کہا :’’ اے خراسانی بھائی ! ہمارے شہر کے حالات آج کل بہت ہی دگرگوں ہیں ۔ ہر طرف قحط سالی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔ مزدوری کے مواقع بھی نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ فقر و غربت کا دور دورہ ہے

۔ آپ کیلئے میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اُس شخص کیلئے جو آپ کا مال لوٹا دے‘ کچھ انعام کا اعلان کردو ۔ ممکن ہے کہ وہ مال کسی فقیر اور محتاج کے ہاتھ لگا ہو تو جب وہ انعام کا اعلان سنے گا تو آپ کا مال لا کر دے دے گا ۔ تاکہ اُسے بھی حلال طریقے سے کچھ دینار مل جائیں‘‘۔

خراسانی شخص نے پوچھا:’’ آپ کے خیال میں ایسے شخص کا انعام کتنا ہونا چاہیے؟‘‘۔مکہ مکرمہ کے رہائشی اُن بزرگ عمر شخص نے کہا :’’ ایک ہزار دینار میں سے کم از کم سو دینار تو ہونے ہی چاہئیں ‘‘۔لیکن خراسانی شخص اس پر راضی نہیں ہوا اور اُس نے کہا :’’ میں اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہوں ۔ آج مجھے مال نہ ملا تو کوئی بات نہیں ‘روزِ قیامت تو مل ہی جائے گا ‘‘۔ابن جریرطبری کہتے ہیں کہ میں یہ سارا مکالمہ سن رہا تھا اور میں سمجھ گیا کہ یہ مال کسی اور کو نہیں اسی بابا جی کو ملا ہے لیکن یہ بغیر کسی حلال انعام کے اُسے واپس نہیں کرنا چاہتا ہے ۔ شاید یہ بہت محتاج اور فقیر ہے

۔ میں نے اپنے شک کو یقین میں بدلنے کیلئے اور اصل صورت حال سمجھنے کیلئے اُس کا پیچھا کیا کہ یہ کہاں جاتا ہے؟وہ بابا جی اپنی جگہ سے اٹھے اور مکہ مکرمہ ایک پرانے محلہ کے کچے گھر میں داخل ہوئے ۔ ابن جریر طبری باہر کان لگا کر سن رہے تھے ۔ اندر گھر سے آواز آئی کہ بابا جی اپنی اہلیہ کو کہہ رہے تھے:’’ اے لبابہ ! دیناروں کا مالک مل چکا ہے اور اب ہمیں دینار واپس ہی کرنے پڑیں گے ۔ میں نے اُسے کچھ انعام دینے کا ہی کہا لیکن وہ تو اس سے بھی انکاری ہے‘‘۔

کئی دنوں سے فاقے کی ستائی ہوئی اہلیہ نے جواب دیا :’’ میں پچاس سال سے آپ کے ساتھ غربت بھری زندگی بسر کر رہی ہوں لیکن کبھی اپنی زبان پر حرفِ شکایت نہیں لائی ۔ لیکن اب تو کئی دنوں سے فاقہ ہے ۔ پھر ہم دونوں کی ہی بات نہیں ۔ گھر میں ہماری چار بیٹیاں ، آپ کی دو بہنیں اور آپ کی والدہ بھی ہیں ۔ انہی کا کچھ خیال کر لو ۔ یہ مال جیسا بھی ہے آج خرچ کر لو ۔ کل کو ممکن ہے کہ اللہ تمہیں مالدار کر دے تو یہ قرض چکا دینا ‘‘۔بابا جی نے اپنی لرزتی ہوئی آواز میں کہا:

’’ کیا میں ۸۶ برس کی عمر میں آکر اب حرام کھانا شروع کردوں‘ جبکہ میں نے پوری زندگی صبر وشکر میں گزاردی ہے ۔ اب تو یوں سمجھو کہ میں قبر میں پائوں لٹکائے بیٹھا ہوں ۔ مجھ سے یہ نہ ہو سکے گا۔‘‘ اس پر بیوی بھی خاموش ہو گئیابن جریر طبری کہتے ہیں میں یہ سب باتیں سن کر بہت حیران ہوا اور واپس حرم شریف آگیا ۔ اگلے دن جب سورج کچھ بلند ہوا تو وہ ہی کل والا خراسانی شخص اپنے گم شدہ مال کا اعلان کرنے لگا ۔ پھر وہ ہی بابا جی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا :’’اے خراسانی بھائی! میں نے کل بھی آپ کو ایک مفید مشورہ دیا تھا اگر آپ ہزار دینار میں سے سو دینار نہیں دے سکتے تو دس دینار ہی دے دو تاکہ اگر کسی غریب‘ فقیر ‘ محتاج کو آپ کا مال ملا ہے تو اُس کا بھی کچھ بھلا ہو جائے ‘‘۔

ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ اس طرح دوسرا دن بھی بیت گیا اور خراسانی شخص کو اُس کا مال نہیں مل سکا ۔ جب تیسرے دن کی صبح ہوئی تو پھر وہ آکر اپنے گم شدہ مال کا اعلان کرنے لگا ۔ اب پھر وہ ہی بابا جی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا :’’خراسانی بھائی! میں نے پرسوں آپ کو سو دینار انعام کا اعلان کرنے کا مشورہ دیا لیکن آپ نہیں مانے ۔ کل دس دینار کا مشورہ دیا

‘ اُس پر بھی آپ نے انکار کر دیا ۔ چلو! ایک دینار انعام کا ہی اعلان کر دو ، ممکن ہے کہ جس غریب کو مال ملا ہے ‘ اُس کے گھر میں کئی دن سے فاقہ ہو تو وہ ایک دینار سے اپنے اہل و عیال کیلئے کچھ کھانے کا ہی انتظام کر لے گا ‘‘۔

خراسانی شخص نے پھر بڑی ہی تنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک دینار بھی دینے کیلئے تیار نہیں ہوں ۔ اپنا مال لوں گا تو پورا لوں گا ورنہ روزِ قیامت ہی فیصلہ ہو گا ۔جب بابا جی نے یہ سنا تو اُن کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا اور اُس خراسانی شخص کا دامن اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا:’’میرے ساتھ آئو کہ میں تمہارا مال واپس کردوں ۔ اللہ کی قسم! جب سے یہ مال مجھے ملا ہے

‘ میں ایک پل بھی سکون کی نیند نہیں سو سکا ہوں‘‘۔ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ میں بھی چپکے سے ان کے پیچھے پیچھے چل دیا ۔ بابا جی اپنے گھر میں داخل ہوئے ۔ دینار لیے اور باہر نکل کر وہ سارے دینار اُس خراسانی شخص کو دیتے ہوئے کہا:’’اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دے اور اپنے فضل سے ہمیں رزق عطا فرمائے‘‘۔

مجھے اُن کے پیچھے گھر سے رونے اور سسکیوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی کہ سب کئی دن فاقے سے تھے ۔ اُس خراسانی شخص نے تسلی سے اپنے دینار گنے اور روانہ ہو گیا ۔ ابھی وہ تھوڑا ہی آگے گیا تھا کہ اچانک مڑا اور اُن بابا جی کی کنیت سے اُنہیں مخاطب کر کے کہنے لگا:’’اے ابو غیاث! میرے والد کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنی میراث میں تین ہزار دینار چھوڑے تھے

اور وصیت کی تھی کہ شرعی طریقے پر اس کا تیسرا حصہ یعنی ہزار دینار فقراء و مساکین پر صدقہ کر دئیے جائیں اور میں مکہ مکرمہ سے یہ مال اسی نیت سے لایا تھا کہ کسی فقیر اور محتاج کو دے کر اپنے لیے اور اپنے مرحوم والد کیلئے دعا کروائوں گا ۔ مجھے اس سفر میں آپ سے زیادہ سفید پوش کوئی نظر نہیں آیا ‘ اس لیے یہ مال رکھ لو اور اپنی ضروریات میں خرچ کرو‘

‘۔یہ سن کر ابو غیاث کی آنکھوں سے تشکر بھرے آنسو رواںہو گئے اور انہوں نے خراسانی شخص اور اس کے والد ِ مرحوم کو خوب دعائیں دیں ۔ پھر جب وہ خراسانی شخص وہاں سے جانے لگا میں بھی واپس ہونے کیلئے مڑا تو پیچھے انہی بابا جی ’’ابو غیاث‘‘ کی آواز سنائی دی :

’’ بیٹا ! رک جائو ۔ میں پہلے دن سے دیکھ رہا ہوں کہ تم میرا پیچھا کر رہے ہو اور پورے معاملے سے باخبر ہو ۔ میںنے اپنے شیخ احمد بن یونس یربوعیؒ سے

اور انہوں نے امام مالکؒ سے اور امام مالکؒ نے حضرت نافع ؒ سے سنا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتاتے تھے کہ جنابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کو فرمایا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی ہدیہ (تحفہ) بغیر مانگے اور بغیر نفس کے انتظار کے دے دےتو اُسے قبول کر لینا اور رد نہ کرنا‘‘۔پھر انہوں نے گھر کے نو افراد کیلئے سو ‘سو دینار الگ کیے اور پورا دسواں حصہ یعنی سو دینار مجھے عنایت کیے اور مجھے ساتھ ہی کہا کہ یہ حلال مال ہے ‘ اسے احتیاط سے خرچ کرنا ۔

ابن جریر طبری کہتے ہیں میں وہ ہی سو دینار دو سال تک خرچ کرتا رہا اور خوب علم حاصل کیا ۔اللہ کریم ہم سب کو اپنے لطف و احسان سے اس کا یقین عطا فرما دے کہ جو رزق ہمارے نصیب میں لکھا ہے‘ وہ ہمیں ضرور ملے گا چاہے وہ کہیں بھی ہو اور جو رزق ہمارے حصہ کا نہیں ہے‘ وہ ہمارے کام نہیں آئے گا

‘ خواہ ہمارے ہاتھ میں ہی کیوں نہ ہو۔ بس رزقِ حلال کے اہتمام اور حرام روزی سے بچنے کی یہی کنجی ہے ۔ باقی رزقِ حلال کیلئے محنت ‘ مسنون دعائوں اور مقبول وظائف بھی بندے کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کے ذرائع اور بہانے ہیں

دنیا میں 4 چلتے پھرتے جنتی

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے عمر ؓ اگر مجھے لوگوں کے سست ہوجانے کا ڈر نہ ہو تو میں تمہیں یہ بات کہوں کہ اس خبر کو جا کر گلی بازاروں میں بتا دو اور 4 اشخاص کے جنت میں جانے کی گواہی دے دو کہ انہیں جنت میں جانے سے کوئی شے نہیں روک سکتی۔ حضرت عمر ؓنے عرض کی کہ حضور کون کون؟ حضور اکرم ؐنے فرمایا

:-ایک وہ عورت جس نے اپنی تمام محبتیں اپنے شوہر پر نچھاور کردیں اور وہ اس حال میں مری کہ اس کا خاوند اس سے راضی تھا، جنت میں جانے سے اس کو کوئی شے نہیں روک سکتی۔ 2- دوسرا وہ شخص جس کے بچے زیادہ ہوں، ذرائع آمدنی تھوڑے ہوں۔

لیکن اس نے اپنے بچوں کے پیٹ میں کبھی حرام کا لقمہ نہیں جانے دیا ہو، قیامت کے دن اس کو بھی جنت میں جانے سے کوئی شے نہیں روک سکتی۔ 3- تیسرا وہ شخص جو اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ اور اس کے والدین اس پر خوش ہوں اور اس پر راضی ہوجائیں۔ 4- چوتھا وہ شخص جس نے ایسی سچی توبہ کی کہ گناہوں کی طرف پلٹنا اس کے لئے اتنا مشکل تھا

جس طرح جانور کے تھن سے نکلا ہوا دودھ واپس نہیں جاسکتا۔ ماں باپ کی خدمت کرنے والا، ماں باپ کو راضی کرنے والا واقعی خوش نصیب ہے اور وہ بدبخت ہیں جو اس شرف سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اپنے ماں باپ کا ادب و احترام کریں،۔ ماں کے پیروں تلے جنت ہے تو باپ اس جنت کی کنجی ہے۔ اپنی زندگی اور آخرت دونوں کو سنوارنا چاہتے ہیں تو ماں باپ کو ناراض نہ کریں اور انہیں ہمیشہ راضی رکھیں۔

ابن جوزی روایت کرتے ہیں کہ ھرات میں ایک سادات فیملی تھی

ابن جوزی روایت کرتے ہیں کہ ھرات میں ایک سادات فیملی تھی ۔خاتون جوانی میں بیوہ ہوگئیں ۔بچوں والی تھیں ۔تنگ دستی آئی توانہوں نے سمرقندکی طرف ہجرت کی ۔وہاں پہنچیں تولوگوں نے پوچھاکہ یہاں کوئی سردار،کوئی سخی ہے ؟؛لوگوں نے بتایاکہ یہاں دوسردارہیں ۔ایک مسلمان ہے اورایک آتش پرست ۔خاتون مسلمان سردارکے گھرگئیں

اورکہاکہ میں آل رسولﷺ ہوں ،پردیسن ہوں ،نہ کھانے کوکچھ ہے نہ ہی رہنے کاکوئی ٹھکانہ ہے ۔ سردارنے پوچھا:تمھارے پاس کوئی نسب نامہ ہے ؟ ’’خاتون نے کہا‘‘:بھائی میں ایک نادارپردیسن ہوں ،میں سندکہاں سے لاؤں ؟ ’’وہ کہنے لگا‘‘:یہاں توہردوسراآدمی کہتاہے کہ میں سید ہوں ،آل رسولﷺ

ہوں ،یہ جواب سن کروہ خاتون وہاں سے نکلیں اورمجوسی سردارکے پاس گئیں ۔وہاں اپناتعارف کرایااس نے فورا اپنی بیگم کوان کے ہمراہ بھیجاکہ جاؤان بچیوں کولے آؤ،رات سردہے ،خاتون اوران کی بچیوں کوکھاناکھلاکرمہمان خانے میں سونے کیلئے جگہ دے دی گئی ۔ اسی رات کومسلمان سردارنے خواب دیکھاکہ رسول ﷺ جنت میں سونے سے بنے ایک خوبصورت محل کے دروازے پرکھڑے ہیں

’’یہ عرض کرتاہے ‘‘:یارسول اللہ ﷺ !یہ محل کس کاہے ؟آپﷺ ٖفرماتے ہیں :ایک مسلمان کاہے ،یہ کہتاہے :مسلمان تومیں بھی ہوں ’’آپ فرماتے ہیں ‘‘:اپنے اسلام کی کوئی سندپیش کرو،وہ شخص کانپ جاتاہے ،آپ ﷺ فرماتے ہیں :’’میرے گھرکی بیٹی تیرے دروازے پرچل کرآئی اورتونے اس سے سادات ہونے کی سند مانگی ؟میری نظروں سے دورہوجا۔ جب اس کی آنکھ کھلی تووہ ننگے سراورننگے پاؤں

باہرنکل آیااورشورمچاناشروع کردیاکہ وہ پردیسن خاتون کہاں گئی ؟لوگوں نے بتایاکہ وہ آتش پرست سردارکے گھرچلی گئی ۔وہ اسی حالت میں بھاگابھاگاکیااوراس سردارکے دروازے کوزورزورسے کھٹکھٹانے لگ پڑا۔گھرکامالک باہرنکلااورپوچھا:کیاہوا؟وہ خاتون جواپنی بچیوں کے ہمراہ تمھارے گھرمیں ٹھہری ہوئی ہے ،مجھے دے دووہ میرے مہمان ہیں

۔ حضور!وہ میرے مہمان ہیں ،میں آپ کونہیں دے سکتا۔مجھ سے تین سودینارلے لواورانہیں میرامہمان بننے دو‘‘ مجوسی سردارکی آنکھوں میں آنسوبھرآئے ،کہنے لگا‘‘:بھائی میں نے بن دیکھے کاسوداکیاتھا،اب تودیکھ چکاہوں ،اب میں تمھیں کیسے

واپس کردوں ؟میں خواب دیکھاکہ جنت کے دروازے پراللہ کے نبی ﷺ کھڑے تھے ،تجھے کہاجارہاتھاکہ دورہوجا!اس کے بعد رسول خداﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اورفرمانے لگے کہ تومیری بیٹی کوکھانااورٹھکانہ دیا۔تواورتیراساراخاندان بخش دیئے گئے ہیں ۔سب کے لئے اللہ تعالی نے جنت کافیصلہ کردیاہے ۔آنکھ کھلتے ہی میں ایمان لاچکاہوں ،میراساراخاندان کلمہ پڑھ چکاہے ،ہم وہ دولت کبھی آپ کوواپس نہیں کرینگے ۔

ایک نوجوان لڑکی نے جب مسجد میں طالبعلم کے ساتھ رات گزاری

ہندوستان میں ایک نواب کی خوبرو لڑکی فسادات کے دوران ایک مسجد میں پناہ لینے داخل ہوئی تو دیکھا ایک نوجوان طالب علم درس و تدریس میں مشغول ہے- بغیر کوئی آہٹ کیے لڑکی چند ساعت خاموش کھڑی رہی اور پھر طالب علم کے قریب چلی گئی- اسلامی رنگ میں رنگے طالب علم نے جب ایک نوجوان لڑکی کو مسجد میں غیر شرعی حالت میں دیکھا تو اسے مسجد سے نکلنے کو کہا

جس سے لڑکی نے انکار کیا- طالب علم نے غصہ، منت و سماجت ہر حربہ آزمایا مگر لڑکی نے اللہ کا واسطہ دے کر کہا کہ بہر کی عزت کو خطرہ ہے اور اسے رات یہیں گزارنے دیا جائے۔ اس پر طالب علم نے کہا کہ ایک شرط پر تم

مسجد میں ٹھہر سکتی ہو کہ ایک کونے میں پوری رات خاموش بیٹھی رہو گی اور کسی صورت میرے ساتھ بات نہیں کرو گی-ادھر نوجوان طالب علم ہر تھوڑی دیر بعد اپنی ایک انگلی آگ پر رکھتا اور پھر وہ سسکیاں لے کر ہٹاتا۔ لڑکی رات بہر یہ تماشا دیکھتی رہی مگر کچھ کہنے سے قاصر تھی- خدا خدا کرکے صبح ہوئی- لڑکا اذان دینے اٹھا اور لڑکی سے کہا کہ وہ اب مسجد سے نکلے

کیونکہ نمازی آنے والے ہوں گے تاکہ کوئی بدگمانی نہ کرے- لڑکی نے كہا ٹھیک مگر مجھے ایک بات بتا دیں کہ رات بھر آپ وقفے وقفے سے اپنی انگلی آگ پر کیوں رکھتے تھے- طالب علم نے جواب دیا کہ رات میں نے نفس اور شیطان اور اللہ کے احکامات کے مابین شش و پنج میں گزاری- جب کبھی شیطان کا غلبہ ہوتا تو میری خواہش ابھرتی کہ اکیلی لڑکی ہے اپنی خواہش کی تکمیل کرلوں

مگر جب دوزخ کا عذاب سامنے پاتا تو اپنی انگلی کو آگ پر رکھ کر یہ آزمائش کرتا کہ کیا اس آگ کو میں سہہ پاؤں گا- مگر جلد ہی احساس ہوجاتا کہ ایک چھوٹی انگلی یہ تھوڑی سا آگ برداشت نہیں کرسکتی تو جہنم کی آگ میرے پورے جسم کو کیسے بھسم کرے گی.وقت گزرتا گیا – نواب زادی کیلیے امیر سے امیر شخصیات کے رشتے آنے لگے مگر وہ ہر رشتہ ٹھکراتی رہی۔

لڑکی کے والدین بہت پریشان تھے کہ آخر معاملہ کیا ہے- بالاخر لڑکی زبان پر مدعا لے آئی کہ اس کی شادی صرف مذکورہ طالب علم سے کی جائے ورنہ وہ کبھی شادی نہیں کرے گی- نتیجہ: ایک رات نفس کو قابو رکھ کر وہ غریب طالب علم محل میں چلا گیا اگر ہم پوری زندگی اللہ اور رسول کے طور طریقوں پر گزاریں تو خالق کائنات ہمیں جنت کے محلات میں کیا مقام دیں گے!

توہین

پولینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک غریب لڑکی رہتی تھی‘ اس کا نام مانیا سکلوڈو وسکا تھا‘ وہ ٹیوشن پڑھا کر گزر بسر کرتی تھی‘19 برس کی عمر میں وہ ایک امیر خاندان کی دس سال کی بچی کو پڑھاتی تھی‘ بچی کا بڑا بھائی اس میں دلچسپی لینے لگا‘ وہ بھی اس کی طرف مائل ہوگئی چنانچہ دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا

لیکن جب لڑکے کی ماں کو پتہ چلا تو اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا‘ اس نے مانیا کو کان سے پکڑا اور پورچ میں لا کھڑا کیا‘اس نے

آواز دے کر سارے نوکر جمع کئے اور چلا کر کہا ‘دیکھو یہ لڑکی جس کے پاس پہننے کیلئے صرف ایک فراک ہے‘ جس کے جوتوں کے تلوئوں میں سوراخ ہیں اور جسے 24 گھنٹے میں صرف ایک بار اچھا کھانا نصیب ہوتا ہے اور وہ بھی ہمارے گھر سے‘ یہ لڑکی میرے بیٹے کی بیوی بننا چاہتی ہے‘ یہ میری بہو کہلانے کی خواہش پال رہی ہے‘‘ تمام نوکروں نے قہقہہ لگایا اور خاتون دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی‘ مانیا کو

یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے اوپر تیزاب کی بالٹی الٹ دی ہو‘ وہ توہین کے شدید احساس میں گرفتار ہوگئی اور اس نے اسی پورچ میں کھڑے کھڑے فیصلہ کیا وہ زندگی میں اتنی عزت‘ اتنی شہرت کمائے گی کہ پورا پولینڈ اس کے نام سے پہچانا جائے گا۔یہ 18911ء تھا‘ وہ پولینڈ سے پیرس آئی‘ اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور فزکس پڑھنا شروع کردی

‘ وہ دن میں 20 گھنٹے پڑھتی تھی‘ اس کے پاس پیسہ دھیلا تھا نہیں جو کچھ جمع پونجی تھی وہ اسی میں گزر بسر کرتی تھی‘ وہ روز صرف ایک شلنگ خرچ کرتی تھی‘ اس کے کمرے میں بجلی‘ گیس اور کوئلوں کی انگیٹھی تک نہیں تھی‘ وہ برفیلے موسموں کی راتیں کپکپا کر گزارتی تھی‘ جب سردی

برداشت سے باہر ہو جاتی تھی تو وہ اپنے سارے کپڑے نکالتی تھی‘ آدھے بستر پر بچھاتی تھی اور آدھے اوپر اوڑھ کر لیٹ جاتی تھی‘ پھر بھی گزارہ نہ ہوتا تو وہ اپنی ساری کتابیں حتیٰ کہ اپنی کرسی تک اپنے اوپر گرا لیتی تھی‘ پورے پانچ برس اس نے ڈبل روٹی کے سوکھے ٹکڑوں اور مکھن کے سوا کچھ نہ کھایا‘نقاہت کا یہ عالم ہوتا تھا وہ بستر پر بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو جاتی تھی لیکن جب ہوش آتا تھا

تو وہ اپنی بے ہوشی کو نیند قرار دے کر خود کو تسلی دے لیتی تھی‘ وہ ایک روز کلاس میں بے ہوش ہوگئی‘ ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرنے کے بعد کہا‘ آپ کو دواء کی بجائے دودھ کے ایک گلاس کی ضرورت ہے‘ اس نے یونیورسٹی ہی میں پائری نام کے ایک سائنس دان سے

شادی کر لی تھی‘ وہ سائنس دان بھی اسی کی طرح مفلوک الحال تھا‘ شادی کے وقت دونوں کا کل اثاثہ دو سائیکل تھے‘ وہ غربت کے اسی عالم کے دوران پی ایچ ڈی تک پہنچ گئی‘ مانیا نے پی ایچ ڈی کیلئے بڑا دلچسپ موضوع چنا تھا‘ اس نے فیصلہ کیا وہ دنیا کو بتائے گی یورینیم سے روشنی کیوں نکلتی ہے‘ یہ ایک مشکل بلکہ ناممکن کام تھا لیکن وہ اس پر جت گئی

‘تجربات کے دوران اس نے ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا جو یورینیم کے مقابلے میں 20 لاکھ گنا روشنی پیدا کرتا ہے اور اس کی شعاعیں لکڑی‘ پتھر‘ تانبے اور لوہے غرض دنیا کی ہر چیز سے گزر جاتی ہیں‘ اس نے اس کا نام ریڈیم رکھا‘ یہ سائنس میں ایک بہت بڑا دھماکہ تھا‘ لوگوں نے ریڈیم کا ثبوت مانگا‘

مانیا اور پائری نے ایک خستہ حال احاطہ لیا جس کی چھت سلامت تھی اور نہ ہی فرش اور وہ چار برس تک اس احاطے میں لوہا پگھلاتے رہے‘ انہوں نے تن و تنہا 8 ٹن لوہا پگھلایا اور اس میں سے مٹر کے دانے کے برابر ریڈیم حاصل کی‘ یہ چار سال ان لوگوں نے گرمیاں ہوں یا سردیاں اپنے اپنے جسموں پر جھیلیں‘ بھٹی کے زہریلے دھوئیں نے مانیا کے پھیپھڑوں میں سوراخ کر دیئے

لیکن وہ کام میں جتی رہی‘اس نے ہار نہ مانی یہاں تک کہ پوری سائنس اس کے قدموں میں جھک گئی۔ یہ ریڈیم کینسر کے لاکھوں کروڑوں مریضوں کیلئے زندگی کا پیغام لے کر آئی‘ہم آج جسے شعائوں کا علاج کہتے ہیں یہ مانیا ہی کی ایجاد تھی‘اگر وہ لڑکی چار سال تک لوہا نہ پگھلاتی

تو آج کیسنر کے تمام مریض مر جاتے‘ یہ لڑکی دنیا کی واحد سائنس دان تھی جسے زندگی میں دوبار نوبل پرائز ملا‘ جس کی زندگی پر 30 فلمیں اور سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں اور جس کی وجہ سے آج سائنس کے طالب علم پولینڈ کا نام آنے پر سر سے ٹوپی اتار دیتے ہیں۔ جب دنیا نے مادام کیوری کو اس ایجاد کے بدلے اربوں ڈالر کی پیش کش کی تو اس نے پتہ ہے کیا کہا؟

اس نے کہا‘ میں یہ دریافت صرف اس کمپنی کو دوں گی جو پولینڈ کی ایک بوڑھی عورت کا مفت علاج کرے گی‘ جی ہاں! وہ امیر پولش عورت جس نے کبھی کیوری کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا تھا ‘ وہ اس وقت کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکی تھی اور وہ اس وقت بستر مرگ پر پڑی تھی.اس دنیا میں روزانہ کروڑوں‘ اربوں لوگوں کی توہین ہوتی ہے‘ کروڑوں‘ اربوں لوگ ایک دوسرے کی انا‘ عزت نفس

اور وقار کو قدموں میں روندتے ہیں لیکن توہین کا وہ احساس جو 3 پونڈ ماہانہ کی ایک ٹیوٹر کو مادام کیوری بنا دے وہ احساس اللہ تعالیٰ کسی کسی کو نصیب کرتا ہے‘ یہ احساس دنیا کی قیمتی ترین چیز ہے‘ جاؤ شکرانے کے دو نفل پڑھو اور اللہ کے بخشے اس لمحے کو کامیابی میں ڈھال دو‘ اسے زندگی بنا لو‘ یاد رکھو جب اللہ تعالیٰ کسی سے راضی ہوتا ہے

تو وہ اسے دولت سے نہیں نوازتا وہ اسے ادراک دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس ادراک سے نوازہ ہے‘ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مادام کیوری جیسا احساس بخشا ہے‘ اب یہ تم پر ہے تم اس سے کتنا فائدہ اٹھاتے ہو‘ تم بنیاد کے اس پتھر پر اونچی عمارت بناتے ہو یا پھر اسے رونے دھونے میں ضائع کر دیتے ہو‘‘

عالمہ سے شادی

ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﻮ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻤﮧ ﮬﻮﮞ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ – ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ہوﺍ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﺍﭼﮭﺎ ہوﺍ ﮐﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ کچھ ﺩﻧﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ہم ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ

۔جاری ہے ۔ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﯼ ﭘﺮ ﺳﺴﺮ ﻭ ﺳﺎﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻧﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﻟﻮ – ﻭﮦ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﮍﺍ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ہوا ﮐﮧ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﯿﻨﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺑﻨﮯ ﮔﺎ؟ ﺍﺱ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﺘﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ مدد ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ کچھ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﻭ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎ ﮬﻮﮞ۔

ﻣﻔﺘﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﺗﯽ ہے ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺱ مسئلہ ﮐﮯ ﺣﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﯾﺎ ہوﮞ ﻓﺘﻮﯼ ﻟﯿﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ – ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮬﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮑﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺟﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﮐﮧ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﯽ ﺭﻭ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﻟﮩﺬﺍ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﺭہا ہوﮞ

۔ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺭﮨﯿﮕﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮔﮭﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮬﻮﮞ ﺁﭖ ﻭﮨﺎﮞ ﺭہیں ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺩﮬﺮ ﺭہے گی – ﺑﯿﻮﯼ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﺳﭩﻤﭩﺎ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﯽ ﭼﻠﻮ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺮﻭ ﺩﻭﺳﺮﯼﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﮬﺮ ہی ﺭہوﻧﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮﻭﻧﮕﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﻣﺴﻠﻢ ﮬﮯ۔