ہر دعا قبول ہو گی بس رات کوجب بھی آنکھ کھل جائے تویہ پڑھ لینا

دعا کی قبولیت کیلئے متعدد اوقات اور جگہیں ہیں، جن میں سے ہم کچھ یہاں بیان کرتے ہیں مصیبت آنے سے پہلے ہمیں کیا کرنا چاہیے عبداللہ بن عبید فرماتے ہیںکہ میں نے اللہ کے رسولۖ سے عر ض کیا ۔کہ میں کیا پڑھا کروں اپنی حفاظت کے لیے مصیبتوں کو ٹالنے کے لیے پڑیشانیوں سے بچنے کے لیے میں کیا پڑھوں نبی اکرم ۖ نے ان کو حل بتا رہے ہیں کیا پڑھنا ہے تم نے اپنی مصیبت پریشانی اور غم کو دور کرنے کے لیے اور اتنی چھوٹی چھوٹی دعائیں ہیں ہم یہ نہیں کرتے اگر ہم کسی بیماری میں

جائیں تو ہم ڈاکٹر کے کہنے پے بہت ساری میڈیسن کھاتے ہیں دل بھی نہیں ہے کرتا میڈیسن کھانے کو لیکن ہم کھاتے ہیں کیوں کے بیماری کو کنڑول کرنا ہے ۔لیکن اگر ہم وہی کریں مصیبت غم نہ آئے کسی آفت کو دور کرنا ہے تو کنڑول کے لیے ازکار ہے نہ پیسہ جاتا ہے لیکن وہ ہم سے نہیں ہے ہوتا۔عبداللہ بن عبید نے کہا اللہ کے رسول اپنی حفاظت کے لیے میں صبح اور شام کے معاملے میں کیا پڑھوں تو نبی اکرم ۖ فرماتے ہیں ہر صبح اور شام تین تین مرتبہ تم سورة اخلاص پڑھو پھر تین مرتبہ سورة فلک پڑھیں پھر فرمایا تین مرتبہ سورة الناس پڑھومطلب تینوں سورة ایک ساتھ پڑھیں ہر وقت پریشانی والی چیز سے اللہ پاک محفوظ رکھے گا صحابی فرما رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ۖ نے فرما اگر کوئی پریشانی مصیبت آجائے تو صبح شام تین تین مرتبہ سورة اخلاص سورة فلک اور سورة الناس کو تین تین بار پڑھا کرویہ تمہارے لیے کافی ہو جائے گا مصیبتوں کے لیے پریشانیوں کے لیے ۔

اگر آپ رات کو دوران نیند جاگ جائیں تو آپ ۖ نے فرمایا تو اس وقت دعا پڑھ کر اللہ سے جو بھی دعا کریں گے وہ پوری ہو گی انشا ء اللہ جو دعا پڑھنی ہے اگر بات اچھی لگے تو لازمی شیئر کریں شکریہ

نیک بیویاں

ایک شوہر نے اپنی بیوی کو اس کے بچوں کے سامنے بڑی بے دردی سے مارا جس سے بچے خوف زدہ ہوکر رونے لگ گئے۔ بچوں کا یہ حال دیکھ کر ماں رنجیدہ ہوگئی، جیسے ہی اس کے شوہر نے اس کے چہرے پر مارا تو روتے ہوئے کہنے لگی میں بچوں کی وجہ سے رورہی ہوں۔اور پھر اچانک کہا کہ میں جا کر تیری شکایت کروں گی۔ جس پر شوہر نے کہا تجھے کس نے کہہ دیا میں تجھے باہر جانے کی اجازت دوں گا؟بیوی نے جواب دیا، کیا تیرا خیال ہے تو نے دروازے اور کھڑکیوں سمیت سارے کے دروازے بند کردیے ہیں؟ کیا اسی لئے تو مجھے شکایت کرنے سے روک لےگا؟شوہر نے انتہائی تعجب کے ساتھ کہا کہ پھر تم کیا کروگی؟بیوی نے کہا میں رابطہ کروں گی۔

شوہر نے جواب دیا کہ تیرے سارے موبائل میرے پاس ہیں اب جو تو چاہے کر۔جیسے ہی بیوی حمام کی طرف لپکی، شوہر نے سمجھا شاید یہ حمام کی کھڑکی سے بھاگنے کی کوشش کرے گی، اسی لیے بھاگ کر جلدی سے حمام کے باہر کھڑکی کے پاس کھڑا ہوکر انتظار کرنے لگا، جب اس نے دیکھا کہ یہ عورت نکلنے کی بالکل کوشش نہیں کررہی ہے تو وہ واپس اندر آیا اور اور حمام کے دروازے کے پاس آکر کھڑا اس کے نکلنے کا انتظار کرنے لگا۔جب وہ حمام سے باہر نکلی تو چہرہ وضو کے پانی سے تر تھا اور لبوں پر بہت ہی پیاری سی مسکراہٹ سجارکھی تھی۔اس عورت نے کہا، میں تیری صرف اس سے شکایت کروں گی جس کے نام کی تو قسم اٹھاتا ہے اس سے مجھے تیری بند کھڑکیاں تیرے مقفل دروازے اور موبائلوں کی ضبطگی سمیت کوئی بھی چیز نہیں روک سکتی، اور اس کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے ہیں۔شوہر نے اپنا رخ بدلا اور کرسی پر بیٹھ کر خاموشی کے ساتھ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔اندر جاکر بیوی نے نماز اداکی اور خوب لمبا سجدہ کیا،شوہر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔جب وہ نماز سے فارغ ہوکر بارگاہِ ایزدی میں دعا کے لئے اپنے ہاتھوں کو اٹھانے لگی تو شوہر اس کی طرف لپکا اور ہاتھوں کو پکڑ لیا، اور کہا کہ سجدے میں میرے لیے کی گئی بددعائیں کافی نہیں ہیں؟عورت نے پرسوز لہجے میں کہا کہ تیرا خیال ہے کے میں اس سب کے بعد بھی جو تونے میرے ساتھ کیا ہے، اتنی جلدی اپنے ہاتھ نیچے کرلوں گی؟شوہر نے کہا کہ بخدا!یہ سب مجھ سے غصہ میں ہوا ہے میں نے قصداً نہیں کیا۔بیوی نے کہا اسی لئے میں تیرے لئے تھوڑی دعا پر اکتفا نہیں کرسکتی۔

بددعائیں تو میں شیطان کے لئے کررہی تھی جس نے تجھے غصہ دلایا، میں اتنی احمق نہیں ہوں کہ اپنے شوہر اور شریکِ حیات کے لئے بددعا کروں۔یہ سن کر شوہر کی آنکھوں سے آنسوؤں کی دھار لگ گئی اور اس نے بیوی کے ہاتھ کو بوسہ دیتے ہوئے کہا کہ میں آج آپ سے وعدہ کرتا ہوں کبھی بھی آپ کو برائی کے ارادے سے ٹچ تک نہیں کرونگا۔یہ ہی وہ نیک بیوی ہے جس کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول نے خیر خواہی کی تاکید کی تھی۔تم ان کے بن کر رہو وہ تمہاری بن کر رہیں گی۔اللہ تعالیٰ سب کو ایسی نیک بیویاں عطا فرمائے۔

تیسرے کلمے کے کرشمات

میں سفرکےلئےٹرین میں چڑھا اورایک جگہ بیٹھ گیا وہاں پرکافی لوگ بیٹھےتھے۔ میں تسبیح نکال کر پڑھنے بیٹھ گیا۔ ایک صاحب جو رحیم یارخان کے وکیل تھے انہوں نے کہا صوفی صاحب کیا تسبیح پڑھ رہے ہو،میں خاموش رہا۔ ان کا چہرہ ان کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ فارغ بیٹھے ہیں اورمزاق کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے پھرکہنے لگے کہ لگتا ہےعرش پر پہنچے ہوئے ہیں۔ میں پھر خاموش رہا کچھ نہ بولا میں جان بوجھ کر نہیں بول رہا تھا کہ زیادہ چھیڑے توکام چھیڑے۔ ساتھ ان کا کوئی شاگرد تھا اس نے بھی فقرہ کسا اس نے کہا لگتا ہے پہنچی ہوئی سرکار ہے دوسرے نے کہا نہیں اتنی بھی پہنچی ہوئی نہیں ہے ہم بھی آخروکیل ہے ہم سارا کچھ جانتے ہیں اچھا ٹھیک ہے کب تک خاموش رہتے ہیں۔ میں چپ کرکے تسبیح کرتا رہا پھروہ خاموش ہوگئے اورپھرآپس میں باتیں کرنے لگیں۔ انہوں نے مجھے وقفہ دیاجان بوجھ کر۔ میں خاموش بیٹھا پڑھتا رہا۔

پھر بولے کہ آپ بولے نہیں ہم نے اتنی دیر آپ کا انتظار کیا۔ میں نے کہا اب بولوں میں۔ میں نے کہا میں اصل میں ایک ایسا زکر کر رہا ہوں جس کے یہ فائدے ہیں،زکر نہیں بتایا۔ میں اصل میں تین تسبیحات مکمل کر رہا تھا اورتیسراکلمہ پڑھ رہا تھا۔ میں نے کہا ایک ایسا زکر کر رہاہوں جس کے یہ فائدے ہیں۔ جو اس کو سبحان اللہ 100 دفعہ پڑھ لے اور پڑھنے میں تین سے چار منٹ لگتے ہیں جنت میں اللہ 100 ایسے درخت لگادےجس کے نیچے عربی نسل کا سفید تیز رفتارگھوڑاایک مہینہ بھی درخت کے سائے کے نیچے دوڑتا رہے تو درخت کا سایہ ختم نہیں ہوگا ایسے اللہ 100 درخت لگائےگا۔ یہ بھی انداز نبوت ہے دعوت دینے کا۔ نفع پہلے بتایانفع کا سامان بعد میں بتایا۔ میں نے کہا اس کا اگلہ فائدہ یہ ہے کہ جو الحمدللہ اس کو پڑھےگا اللہ تعالی ساری کائنات کو ساتوں آسمان،ساتوں زمینیں ان ساری چیزوں کوجمع کرے تو یہ رائی کے زرے کے برابرقیامت کے دن جوترازو پڑا ہوگا جس میں نیکیاں اور بدیاں تولی جائیں گی اس ترازومیں اگر یہ زکر رکھ دیا جائے تو وہ ترازواتنابڑا ہوگاکہ یہ کائنات رائی کے دانےبرابر ہوگی میں وہ پڑھ رہا ہوں جس کو ایک دفع پڑھیں تو آدھا ترازو بھی جائے ایسے میں 100 دفعہ پڑھ رہا ہوں اور 100 دفعہ پڑھنے سے کیسے ترازوہوں گے۔ سبحان اللہ پڑھنے کا دوسرافائدہ یہ ہے کہ 100 دفعہ پڑھنے سے زمین وآسمان کا جتناخالی ہے سارانیکیوں سے پھرجاتاہے۔ پھر میں نے اللہ اکبر نہیں بتایا میں نے کہا میں ایسا وظیفہ پڑھ رہا ہوں جس کو چندلمحےچندمنٹ لگتے ہیں لیکن پڑھنےوالے کو وہ نورملتاہےکہ قیامت کے دن ساراجہاں اندھیرا میں ہوگااس کے پاس نورہوگا اوریہ تقسیم کرے گا۔

اوراس کے پڑھنے والے کو اللہ عرش کا سایہ دے گا۔ اور ساراجہان دھوپ میں ہوگا زمین تانبےکی ہوگی اور اللہ کا جلال ہوگا اور کوئی وارث نہیں ہوگا سوائے مدینےﷺ والے کے۔ اور یہ وہ زکرہےجس میں عرش کا سایہ نصیب ہوگا وہ بندے کہنے لگے کہ کمال ہے، ہمیں بھی بتائیں آپ کیا پڑھ رہے ہیں۔ میں نے کہا ۔۔۔۔۔۔ میں آپ کو کیوں بتائوں۔ میں کہا لہزا میں نے آپ کو بتا دیا ہے اب چپ کر کے مجھے پڑھنے دیں آگ تو میں نے لگادی۔ اب ان کے اندر بے چینی تھی کہ یہ کیا کر رہا ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ دعوت ایسے انداز میں دوکہ اس کو بات بھلی لگے۔ اب اصل میں میرے جی میں یہ تھا کہ اخبار تھک گئی ہے اب ان کو ایسا اللہ کا نام آجائے پڑھتے جائیں، پتہ نہیں حادثہ ہو مرجائیں یاگھرجاتے ہی ختم ہو جائیں یا زندگی کے ابھی کتنے دن سال باقی ہیں اور ہم اس دن سے رخصت ہو جائیں۔ اب میں چپ کر کے پڑھنے بیٹھ گیا۔ کوئی مولوی صاحب کہتا ہے کوئی صوفی صاحب کہتا ہے کوئی کہتا ہے باباجی ہمیں بھی بتائیں۔ تھے تو سارے فارغ اب وہ کہنے لگیں کہ اب بتائیں نہ یہ کیا بات ہوئی نفع والی چیز خود پڑھ رہے ہیں ہمیں نہیں بتارہےیہ کوئی فقیری ہوتی ہے۔ وہ مجھے غیرت دلانے لگے۔ میری غیرت کو چیلنج کرنے لگ گئے یہ کوئی مسلمان ہے۔ میں چپ کرکے پڑھتا رہا۔ ایک تو غصہ آگیاباقی بیچارے نارمل رہے جب دیکھا کہ آگ بھڑک اٹھی ہے اب اس میں ایک چٹکی ڈولوں گا تو بھانبڑمچ جائے گا۔ پھر میں نے انہیں بتایا کہ یہ تیسرا کلمہ ہے جس کے میں نے فائدے بتائے ہیں۔ ایک سبحان اللہ پڑھنے کے فائدے ایک الحمدللہ پڑھنے کے فائدے ایک اللہ اکبر پڑھنے کے فائدے۔ اور ابھی میں لاحول ولاقوۃالاباللہ العلی العظیم کے فائدے نہیں بتائے۔ پھر میں نے اس کے فائدے بتائے کہ عرش کے خزانوں سے ایک خزانہ ہے لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ اور اس کے 100 فائدے ہیں اور اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ دنیا کے سارے غم ختم ہو جاتے ہیں اور باقی 99 فائدے اللہ نے سنبھال کرآخرت کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔

ایک فائدہ یہ ہے کہ دنیا کے سارے غم فکریں دردیں سوز پریشانیاں مسائل مشکلات تکلیفیں جادو بندشیں اولاد کے مسئلے گھر کے مسئلے رزق کے مسئلے صحت کے مسئلے نوکری کے مسئلے تجارت کے مسئلے زندگی کی ناکامیاں مشکلات یہ سارے مسائل۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ اور باقی 99 جو فائدے ہیں ان کو آخرت کے لئے رکھے لیا ہے کیونکہ دنیا کی مشکل چھوٹی اس کے مسئلے تھوڑے دنیا تھوڑی اس کے غم تھوڑے دنیا ٹھوری اس کی خوشیاں تھوڑی۔ آخرت بڑی اس کی مشکلات بڑی آخرت بڑی اس کی خوشیاں بڑی۔ اب جب میں نے انہیں فائدے بتائے کہنے لگے کہ کمال ہے آپ نے تو بڑے اچھے انداز میں فائدے بتائیں ہیں۔

گھر کی خواتین خود پڑھیں

اکثر لوگوں کے زبان یہ گلہ و شکایترہتی ہے کہ ان ہاتھوں میں پیسے ٹکتے نہیں بلکہ خرچ ہو جاتے ہیں ۔ ایسے لوگ جن کےپیسوں میں یا رزق میں برکت نہیں تو پریشان نہ ہوں بلکہ اس مسئلے میں مبتلا افراد روزانہ نماز فجر اور عشا کی نماز کے بعد گیارہ ،گیارہ سو مرتبہ ’’یا غنی ‘‘ کا ورد کریں ۔

اللہ تعالی کے فضل کرم سے ان کے رزق میں بے پناہ اضافہ اور برکت آجائے گی ۔ یہ مجرب وظیفہ رزق اور بندش کے خاتمہ کیلئے نہایت بہترین ہے ، کوئی بھی دکاندار اور تاجر دفتر کھولنے سے پہلے ستر مرتبہ ’’یا غنی‘‘ پڑھے گا تو انشااللہ اللہ پاک کاروبار میں برکت اور رزق میں اضافہ ہو گا اور کبھی بھی کسی نقصان کا خوف نہیں رہے گا ۔ جمعرات اور جمعہ کی شب اس اسم مبارک ’’یا غنی ‘‘ کو انیس ہزار مرتبہ پڑھنے اور عمل کو جاری رکھنے سے انسان کو غیب سے دولت ملتی ہے ۔اوربہت جلد کاروبار میں ترقی ہوگی اور رزق حلال کہاں کہاں سے آئے گا کہ عقل دنگ رہ جائے گی ‎

اللہ تعالی کے فضل کرم سے ان کے رزق میں بے پناہ اضافہ اور برکت آجائے گی ۔ یہ مجرب وظیفہ رزق اور بندش کے خاتمہ کیلئے نہایت بہترین ہے ، کوئی بھی دکاندار اور تاجر دفتر کھولنے سے پہلے ستر مرتبہ ’’یا غنی‘‘ پڑھے گا تو انشااللہ اللہ پاک کاروبار میں برکت اور رزق میں اضافہ ہو گا اور کبھی بھی کسی نقصان کا خوف نہیں رہے گا ۔ جمعرات اور جمعہ کی شب اس اسم مبارک ’’یا غنی ‘‘ کو انیس ہزار مرتبہ پڑھنے اور عمل کو جاری رکھنے سے انسان کو غیب سے دولت ملتی ہے ۔اوربہت جلد کاروبار میں ترقی ہوگی اور رزق حلال کہاں کہاں سے آئے گا کہ عقل دنگ رہ جائے گی ‎

عبادات میں شیطانی وسوسوں سے بچنے کا طریقہ

پرانے زمانے میں ایک بادشاہ کے دربار میں چند درباری بادشاہ کے سامنے یہی بحث کر رہے تھے کہ عبادت کے دوران خصوصاً نماز میں شیطانی وسوسوں کی وجہ سے انسانی ذہن منتشر ہو جاتا ہے اور عبادت کا سارا اثر زائل ہو جاتا ہے۔لیکن بادشاہ اِس بات سے انکاری تھا اور اُس کا کہنا تھا کہ اگر انسان کے شعور میں اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت، جنت و دوزخ کی جزا اور سزا کی ذرا سی بھی اہمیت ہو تو وہ کبھی

بھی ایسے خیالات کو پیدا نہیں ہونے دے سکتا۔آخر بادشاہ نے اُن لوگوں کو سبق سکھانے کو سبق سکھانے اور عملی طور پر بات کو سمجھانے کے لیے ایک ترکیب سوچی اور اُن سب کو پانی کے بڑے بڑے پیالے تھما دئیے، اور محل سے ملحقہ بازار کا چکر لگانے کا حکم دیا۔ساتھ ہی ساتھ یہ تاکید بھی کی کہ ‘خبردار! اگر کسی کے پیالے میں سے ایک پانی کا قطرہ بھی چھلکا۔ ورنہ اُس کا سر اُدھر ہی قلم کر دیا جائے گا۔ اور تم میں سے جو بھی کامیابی سے یہ کام سر انجام دے گا اُسے بیش قیمت انعام سے نوازا جائے گا’۔حکم کے ملتے ہی بحث کرنے والے درباری اپنے اپنے پیالے کے ہمراہ بازار کا چکر لگانے کے لیے نکل پڑے

اور اُن کے ساتھ ساتھ بادشاہ کے حکم پر ایک ایک جلاد بھی ساتھ گیا، تاکہ اگر کسی کے پیالے میں سے ایک قطرہ بھی گرے تو وہ اُدھر ہی اُس کا کام تمام کرسکے۔لیکن اُن سب درباریوں کے لیے حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا، جب وہ سب اپنی منزل پر پانی کا ایک قطرہ گرائے بغیر بخیرو عافیت پہنچ گئے۔تب بادشاہ نے باری باری سے اُن سب درباریوں سے بازار اور اِردگرد کی چیزوں کے بارے میں پوچھا تو اُن سب کا یہی جواب تھا کہ

’حضور! سر قلم ہونے کا ڈر تھا اور انعام کو پانے کی چاہ تھی، بس اِسی لیے ہمارا کسی دوسری طرف دھیان گیا ہی نہیں’۔اس حکایت میں یہ سبق چھپا ہے کہ اگر ہمارے دل میں بھی خدا کا خوف، جہنم کا ڈر اور جنت کی چاہ ہو تو کچھ ناممکن نہیں کہ ہم بھی اپنی عبادات کو اردگرد کی سوچوں اور شیطانی خیالوں سے پاک نہ کر سکیں۔

بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنے کا اجر

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع والے سال بہت زیادہ بیمار ہو گیا تھا‘ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کیلئے تشریف لائے تو میں نے کہا‘ میری بیماری زیادہ ہو گئی ہے اور میں مالدار آدمی ہوں اور میرا کوئی وارث نہیں ہے‘ صرف ایک بیٹی ہے تو میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ نہیں میں نے کہا‘ آدھا مال صدقہ کر دوں؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں‘میں نے کہا کہ تہائی مال صدقہ کر دوں‘

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ ہاں تہائی مال صدقہ کر دو اور تہائی بھی بہت ہے‘ تم اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر جاؤ‘ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ان کو فقیر چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور تم جو بھی خرچہ اللہ کی رضا کیلئے کرو گے اس پر تمہیں اللہ کی طرف سے اجر ضرورملے گاحتیٰ کہ تم جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالوں گے اس پر بھی اجر ملے گا‘ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ اور مہاجرین تو آپ کے ساتھ مکہ سے واپس چلے جائیں گے‘ میں یہاں ہی مکہ میں رہ جاؤں گا اور میرا انتقال یہاں مکہ میں ہو جائے

گا اور چونکہ میں مکہ سے ہجرت کر کے گیا تھا تو میں اب یہ نہیں چاہتا کہ میرا یہاں انتقال ہو‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘نہیں تمہاری زندگی لمبی ہو گی (اور تمہارا اس مرض میں یہاں انتقال نہ ہو گا) اور تم جو بھی نیک عمل کرو گے اس سے تمہارا درجہ بھی بلند ہو گا اور تمہاری عزت میں بھی اضافہ ہوگا اور تمہارے ذریعے سے اسلام کا اور مسلمانوں کا بہت فائدہ ہو گا اور دوسروں کا بہت نقصان ہو گا چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ عراق کے فتح ہونے کا ذریعہ بنے۔(حیاۃ الصحابہ‘ جلد دو‘ صفحہ245)

جب حضورؐنے پہلوان کو شکست دی، دل میں اترجانے والا واقعہ

یہ بڑا ہی زبردست ، دلیر اور نامی گرامی پہلوان تھا ، اس کا ریکارڈ تھا کہ اسے کبھی کسی نے نہیں گرایا تھا.یہ پہلوان اضم نام کے ایک جنگل میں رہتا تھا جہاں یہ بکریاں چراتا تھا اور بڑا ہی مالدار تھا.ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے اس کی طرف جا نکلے .رکانہ نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کے پاس آکر کہنے لگا .اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، تو وہی ہے جو ہمارے (خداﺅں) لات و عزیٰ کی توہین اور تحقیر کرتا ہے اور اپنے ایک خدا کی بڑائی کرتا ہے؟ اگر میرا تجھ سے تعلق

رحمی نہ ہوتا تو آج میں تجھے مار ڈالتا.اور کہنے لگا کہ میرے ساتھ کشتی کر، تو اپنے خدا کو پکار. میں اپنے خداﺅں لات و عزیٰ کو پکارتا ہوں.دیکھیں تمہارے خدا میں کتنی طاقت ہے.حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ رکانہ اگر کشتی ہی کرنا ہے تو چل میں تیار ہوں.رکانہ یہ جواب سن کر پہلے تو بڑا حیران ہوا اور پھر بڑے تکبر کے ساتھ مقابلے میں کھڑ ا ہوگیا.حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی ہی جھپٹ میں اسے گرا لیا اور اس کے سینے پر بیٹھ گئے، رکانہ عمر میں پہلی مرتبہ گر کر بڑا شرمندہ ہوا اور حیران بھی ہوا‘ اور بولا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے سینے سے اٹھ کھڑے ہو .میرے خداﺅں لات و عزیٰ نے میری طرف دھیان نہیں دیا ، ایک بار اور موقع دو اور آﺅ دوسری مرتبہکشتی لڑیں. حضور صلی اللہ علیہ وسلم رکانہ کے سینے پر سے اٹھ گئے اور دوبارہ کشتی کے لئے رکانہ پہلوان بھی اٹھا .حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ بھی رکانہ کو پل بھر میں گرا لیا ، رکانہ نے کہا، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! معلوم ہوتا ہے آج میرے خدا مجھ سے ناراض ہیں اور تمہار خدا تمہاری مدد کررہا ہے.خیر ایک مرتبہ اور آﺅ، اس مرتبہ میرے خدا لات و عزیٰ میرے مدد ضرور کریں گے.حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے مرتبہ بھی کشتی کے لئے منظور کرلیا .اور تیسرے مرتبہ بھی اسے پچھاڑ دیا.اب تو رکانہ پہلوان بڑا ہی شرمندہ ہوا اور کہنے لگا .اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ان بکریوں میں سے جتنی چاہو بکری

اں لے لو ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ رکانہ مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں ، ہاں اگر تم مسلمان ہوجاﺅ تو جہنم کی آگ سے بچ جاﺅ گے.رکانہ نے جواب دیا . اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !میں مسلمان تو ہوجاﺅں مگر میرا نفس جھجکتا ہے کہ مدینہ اور گرد نواح کے لوگ کیا کہیں گے کہ اتنے بڑے پہلوان نے شکست کھائی اور مسلمان ہوگیا.حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تو تیرا مال تجھی کو مبارک ہو. یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے.حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) آپ کی تلاش میں تھے اور یہ معلوم کر کے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وادی اضم کی طرف تشریف لے گئے ہیں بہت فکر مند تھے کہ اس طرف رکانہ پہلوان رہتا ہے ،کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء نہ دے .حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس تشریف لاتے دیکھ کر آ پ(رض) دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا .یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ادھر اکیلے کیوں تشریف لے گئے تھے.جب کہ اس طرف رکانہ پہلوان رہتا ہے جو بڑا زور آور اور اسلام کا دشمن ہے.حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا جب میرا اللہ ہر وقت میرے ساتھ ہے پھر مجھے کسی رکانہ کی کیا پروا ، لو اس رکانہ کی پہلوانی کا قصہ سنو.چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا قصہ سنایا ، حضرت ابوبکر صدیق(رض) اور حضرت عمر فاروق(رض) سن سن کر بہت خوش ہوئے اور عرض کیا .حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ تو ایسا پہلوان تھا کہ آج تک اسے کسی نے گرا ہی نہیں تھا.اسے گرانا اللہ کے رسولۖ ہی کا کام ہے.

ایک عورت کا اپنے خاوند پر الزم

ایک عورت روتی ہوئی حضرت علیؓ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میرے خاوند نے میری اجازت کے بغیر ہی میری باندی سے تعلق قائم کر لیا ہے.حضرت علیؓ نے اس کے خاوند سے کہا کہ تم کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا: میں نے اس کی اجازت سے ہی اس کے ساتھ تعلق قائم کیا ہے. حضرت علیؓ نے اس عورت کی طرف دیکھا اور اس کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا اگر تو سچی ہے تو میں اس کو سنگ سار کروں گااور اگر تو جھوٹی ہے تو میں تجھے تہمت کی سزا میں اسی کوڑے لگاؤں اتنے میں کا وقت ہو گیا،

حضرت علیؓ اس عورت کو چھوڑ کر نماز پڑھنے لگے.عورت نے سوچا تو اسے اپنے خاوند کا سنگسار کیا جانا.یا اس کو کوڑے لگنا تکلیف دہ محسوس ہوا.چنانچہ وہ بھاگ گئی. جب حضرت علیؓ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آئے تو اس عورت کو نہ پایا اور آپؓ نے اس کے بارے میں پوچھا بھی نہیں۔

ایک عورت روتی ہوئی حضرت علیؓ کے پاس آئی اور کہنے لگی: میرے خاوند نے میری اجازت کے بغیر ہی میری باندی سے تعلق قائم کر لیا ہے.حضرت علیؓ نے اس کے خاوند سے کہا کہ تم کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا: میں نے اس کی اجازت سے ہی اس کے ساتھ تعلق قائم کیا ہے. حضرت علیؓ نے اس عورت کی طرف دیکھا اور اس کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا اگر تو سچی ہے تو میں اس کو سنگ سار کروں گااور اگر تو جھوٹی ہے تو میں تجھے تہمت کی سزا میں اسی کوڑے لگاؤں اتنے میں کا وقت ہو گیا،

حضرت علیؓ اس عورت کو چھوڑ کر نماز پڑھنے لگے.عورت نے سوچا تو اسے اپنے خاوند کا سنگسار کیا جانا.یا اس کو کوڑے لگنا تکلیف دہ محسوس ہوا.چنانچہ وہ بھاگ گئی. جب حضرت علیؓ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آئے تو اس عورت کو نہ پایا اور آپؓ نے اس کے بارے میں پوچھا بھی نہیں۔

جب میں نے اسلام قبول کیا تو لوگو ں نے مجھے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اب تم بھی کسی کی

اسلام قبول کیا تو لوگ طعنہ دیتے تھے کہ اب تم بھی کسی کی 4 میں سے ایک بیوی ہوگی تو میں ان سے کہتی تھی کہ۔۔۔145 نومسلم خاتون اس بات کا کیا جواب دیتی تھی؟ جان کر پاکستانی بھی خوش ہوجائیں گے۔ملائیکا کرینہ 30 سالہ جنوبی افریقی شہری ہیں جو 2011ءمیں متحدہ عرب امارات آئیں۔ رواں سال جنوری میں انہوں نے اسلام قبول کیا اور اب اپنے خاوند لوئی کرینو کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔

لوئی کرینو بھی اسلام قبول کرچکے ہیں۔ملائیکا نے اپنی زندگی میں آنے والے اس خوبصورت انقلاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 148میرا اس بات پر یقین ہے کہ خدا جسے چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ اس نے مجھے بھی قبول اسلام کی سعادت کیلئے چنا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد مجھ سے طرح طرح کے سوالات کئے گئے۔ کچھ لوگ مجھے طعنہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب میں بھی کسی کی چار بیویوں میں سے ایک ہوں گی، لیکن میں اکثر ان لوگوں کو یہ بتا کر حیران کردیتی ہوں کہ اسلام میں خواتین کو اس قدر حقوق دئیے گئے ہیں کہ جن کا کسی اور مذہب میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

میں انہیں یہ بھی بتاتی ہوں کہ مسلمان خواتین کیوں شرم و حیاءکے تقاضوں کے مطابق لباس پہنتی ہیں۔147ملائیکا کا قبول اسلام کے بعد کی زندگی کے بارے میں مزید کہنا تھا کہ 148اسلام قبول کرنے کے بعد خصوصاً رمضان کے مہینے میں میری مسرت غیر معمولی ہے۔ اس مقدس مہینے کے دوران میں نے قرآن مجید کی تلاوت میں تین گنا اضافہ کردیا ہے اور میں اسلامی تعلیم بھی پہلے کی نسبت بہت زیادہ حاصل کررہی ہوں۔ قرآن مجید کے مطالعے میں اضافہ کرنے کیلئے مجھے ایک بہت اچھا طریقہ بھی معلوم ہوا۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد قرآن مجید کے چار صفحات کی تلاوت کریں اور 30 دن تک اس عمل کو مسلسل جاری رکھیں۔ اس طرح آپ ایک ماہ میں باآسانی قرآن مجید مکمل کرسکتے ہیں۔

بیویوں سے پیار بڑھانے کے خصوصی نسخے

بیویوں سے پیار بڑھانے کے خصوصی نسخے ، اور وہ بھی مفتو مفت پهر دیر کس بات کی 1۔شریکِ حیات کے لیے زیبائش اِختیار کیجیے: اپنی شریکِ حیات کے لیے خُوبصورت لباس زیبِ تن کیجیے،خُوشبو لگائیے۔ آپ آخری بار اپنی بیوی کے لیے کب بنے سنورے تھے؟؟ جیسے مرد چاہتے ہیں کہ اُن کی بیویاں اُن کے لیے زیبائش اِختیار کریں،اسی طرح خواتین بھی یہ خواہش رکھتی ہیں کہ اُن کے شوہر بھی اُن کے لیے زیبائش اختیار کریں۔

یاد رکھیے کہ اللہ کے رسول ﷺ گھر لوٹتے وقت مسواک استعمال کرتے اور ہمیشہ اچھی خُوشبو پسند فرماتے۔ 2۔شریکِ حیات خوبصورت نام کا چناؤ: اپنی شریکِ حیات کے لیے خوبصورت نام کا اِستعمال کیجیے۔ اللہ کے رسُول ﷺ اپنی ازواج کو ایسے ناموں سے پُکارتے جو اُنہیں بے حد پسند تھے۔ اپنی شریکِ حیات کو محبوب ترین نام سے پُکارئیے، اور ایسے ناموں سے اجتناب کیجیے جن سے اُن کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔3۔ خوبیوں کی قدر کیجیے : اپنی شریکِ حیات سے مکھی جیسا برتاؤ مت کیجیے۔اپنی روزمرہ زندگی میں ھم مکھی کے بارے میں سوچتے بھی نہیں،یہاں تک کہ وہ ہمیں تنگ کرے۔ اسی طرح بعض اوقات عورت تمام دن اچھا کام کر کے بھی شوہر کی توجہ حاصل نہیں کر پاتی،یہاں تک کہ اُس کی کوئی غلطی شوہر کا دھیان کھینچ لیتی ہے۔ ایسا برتاؤ مت کیجیے،یہ غلط ہے۔

اُس کی خوبیوں کی قدر کیجیے اور انھی خوبیوں پر توجہ مرکوز کیجیے۔4۔ غلطیوں سے صرفِ نظر کیجیے: اگر آپ اپنی شریکِ حیات سے کوئی غلطی سرزد ہوتے دیکھیں تو درگزر کیجیے۔ یہی طریقہ نبی اکرم ﷺ نے اپنایا کہ جب آپ ﷺ نے ازواجِ مطہرات سے کچھ غیر موزوں ہوتے دیکھا تو آپ ﷺ نےخاموشی اختیار کی۔ اس اسلوب میں بہت کم مسلمان مرد ہی مہارت رکھتے ہیں۔5۔شریکِ حیات کو دیکھ کر مسکرائیے: ۔جب بھی اپنی شریکِ حیات کو دیکھیں تو دیکھ کر مسکرا دیجیے اور اکثر گلے لگائیے۔ مُسکرانا صدقہ ہے اور آپ کی شریکِ حیات اُمّتِ مسلمہ سے الگ نہیں ہے۔ تصور کیجیے کہ آپ کی شریکِ حیات آپ کو ہمیشہ مسکراتے ہوۓ دیکھے تو آپ کی زندگی کیسی گزرے گی۔

اُن احادیث کو یاد کیجیے کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے جانے سے پہلے اپنی زوجہ کو بوسہ دیتے جبکہ آپ ﷺ روزہ کی حالت میں ہوتے۔6۔ شکریہ ادا کیجیے: وہ تمام کام جو آپ کی شریکِ حیات آپ کے لیے کرتی ہیں،اُن سب کے لیے اُن کا شکریہ ادا کیجیے۔ بار بار شکریہ ادا کیجیے،مثال کے طور پر گھر پر رات کا کھانا۔ وہ آپ کے لیے کھانا بناتی ہے،گھر صاف کرتی ہےاور درجنوں دوسرے کام۔ اور بعض اوقات واحد ‘تعریف’ جس کی وہ مستحق قرار پاتی ہے وہ یہ کہ ‘آج سالن میں نمک کم تھا’۔ خدارا! ایسا مت کیجیے۔ اُس کے احسان مند رہیے۔7۔شریکِ حیات کو خوش رکھیے: اپنی شریکِ حیات سے کہیے کہ وہ آپ کو ایسی 10 باتوں سے متعلق آگاہ کرے جو آپ نے اُس کے لیے کیں اور وہ چیزیں اُس کی خوشی کا باعث بنیں۔ پھر آپ ان چیزوں کو اپنی شریکِ حیات کے لیے دہرائیے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ جاننا مشکل ہو کہ کیا چیز اسے خُوشی دے سکتی ہے۔

آپ اس بارے میں خود سے قیاس مت کیجیے، براہِ راست اپنی شریکِ حیات سے معلوم کیجیے اور ایسے لمحوں کو اپنی زندگی میں بار بار دھراتے رہیے۔8۔آرام کا خیال رکھیے: اپنی شریکِ حیات کی خواہشات کو کم مت جانیے۔ اسے آرام پہنچائیے۔ بعض اوقات شوہر اپنی بیویوں کی خواہشات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ھیں۔ ایسا مت کیجیے۔ نبیِ اکرم ﷺ نے اس واقعے میں ہمارے لیے مثال قائم کر دی کہ ‘حضرت صفیہ(رضی اللہُ عنھا)رو رھی تھیں،انھوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ آپ ﷺ نے انھیں ایک سست رفتار اونت پر سوار کروا دیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کے آنسو پونچھے، ان کو تسلی دی اور انہیں(نیا) اونٹ لا کر دیا’۔9۔مزاح کیجیے: اپنی شریکِ حیات سے مزاح کیجیے اور اس کا دل بہلائیے۔

دیکھیے کہ کیسے اللہ کے رسول ﷺ حضرت عائشہ(رضی اللہُ عنھا) کے ساتھ صحرا میں دوڑ لگاتے تھے۔ آپ نے اس طرح کی کوئی بات اپنی بیوی کے ساتھ آخری مرتبہ کب کی؟؟10- بہتر بننے کی کوشش کیجیے: ہمیشہ نبی اکرم ﷺ کے یہ الفاظ یاد رکھیے: ”تُم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنے والا ہے۔اور میں تم سب میں اپنے گھر والوں سے بہترین پیش آنے والا ہوں”۔ آپ بھی بھتر بننے کی کوشش کیجیے آخر میں بالخصوص اپنی ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے اللہ کے حضور دعا کرنا مت بھولیے۔ اللہ بہتر جاننے والا ہے۔