سخت سے سخت مشکل میں مبتلا ہو درود تنجینا کو ایسے پڑھ لے مشکل حل ہو جائے گی

درود تنجینا سے مراد وہ درود شریف ہے جسے پڑھنے سے ہر مشکل مہم آسان ہو جاتی ہے۔ علامہ فاکہانی نے قمر منیر میں ایک بزرگ شیخ موسٰی کا واقعہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے بتایا کہ ہم ایک قافلے کے ساتھ ایک بحری جہاز میں سفر کر رہے تھے کہ جہاز طوفان کی زد میں آ گیا۔ یہ طوفان قہرِ خداوندی بن کر جہاز کو ہلانے لگا۔ ہم لوگ یقین کر بیٹھے کہ جہاز ڈوبنے والا ہے اور ہم مر جائیں گے کیونکہ ملاحوں نے بھی یہ سمجھ لیا تھا کہ اتنے تند و تیز طوفان سے کوئی قسمت والا جہاز ہی بچ سکتا ہے۔شیخ فرما مزید جاننے کے لیے نیچے ویڈیو پر کلک کریں

کہ سرکارِ دو عالم حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور مجھے حکم دیا کہ تم اور تمہارے ساتھی یہ درود شریف ہزار بار پڑھو۔ میں بیدار ہوا۔ اپنے دوستوں کو جمع کیا اور وضو کر کے درود شریف پڑھنا شروع کر دیا۔ ابھی تین سو بار ہی پڑھا تھا کہ طوفان کا زور کم ہونے لگا۔ آہستہ آہستہ طوفان رُک گیا اور تھوڑے ہی وقت میں آسمان صاف ہو گیا اور سمندر کی سطح پُر امن ہو گئی۔ اس درود پاک کی برکت سے تمام جہاز والوں کو نجات مل گئی۔اس درود پاک کا نام درود تنجی یا تنجینا رکھا گیا۔ جو شخص اس درود پاک کو ادب و احترام سے قبلہ رو ہو کر ہر روز تین سو بار پڑھے گا اللہ کے فضل سے اس کی سخت سےسخت مشکل حل ہو جائے گی۔شرح دلائل الخیرات کے مؤلف نے لکھا ہے کہ جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شوق ہو وہ خالص نیت سے یہ درود پڑھے

اور بعد نماز عشاء ایک ہزار بار پورا کرے اور بستر کو معطر کر کے باوضو ہی سو جائے انشاءاللہ 40 روز کے اندر اندر ہی زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نصیب ہو گی۔ اور اللہ کرم کرے تو ہو سکتا ہے ایک ہفتے کے اندر اندر ہی زیارت نصیب ہو جائے۔ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ جو شخص اس درود پاک کو صبح و شام دس دس بار پڑھے تو اللہ تعالٰی اس سے راضی ہو جائے گا اور اللہ کے قہر سے نجات ملے گی۔ اللہ اسے برائیوں سے محفوظ رکھے گا۔ اسکے غم مٹ جائیں گےاس درود پاک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ جو شخص بیماری سے تنگ آ کر طبیبوں اور ڈاکٹروں سے مایوس ہو گیا ہو اسے چاہیئے کہ اس درود پاک کو کثرت سے پڑھے انشاءاللہ بیماری کی تکلیف سے نجات ملے گی۔

صبح کے ٹائم ایک تسبیح پڑھ لیے سارا دن کام میں آسانیاں ہونگی

انسان جب صبح گھر سے دفتر یا کاروبار یا پھر کسی اور کام سے باہر نکلتا ہے تو شیطان بھی اپنے حواریوں سمیت اسکے ساتھ ہولیتا ہے اور اس کے لئے مصائب اور گناہ کی راہیں ہموار کرتا رہتا ہے۔

روحانی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی انسان باوضو ہوکر گھر سے باہر نکلے تو تیسرا کلمہ پڑھنا شروع کردے ۔شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ شریف اور درود خضری

پڑھ لے۔کم از کم گیارہ بار تو لازمی یہ کلمہ پاک پڑھنا وطیرہ بنا لے ،انسان ڈرائیونگ کرتے یا ٹرانسپورٹ میں سفر کے دوران بھی زیر لب یا دل میں تیسرے کلمہ کا ورد جاری رکھ سکتا ہے۔یہ عمل ایسا مجرب ہے جو انسان پر مشکلات ٹال دیتااور اسکے لئے آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔

بزرگان دین اس کلمہ کی تسبیح کرتے کرتے معرفت کی منازل طے کرگئے۔آج بھی تصوف کی راہ پر چلنے کی خواہش رکھنے والے اس کلمہ پاک کا ورد کرتے ہیں ۔جو لوگ براؤیں اور دشمنوں کی خطرناک چالوں سے بچنا چاہتے اور جن کے کاروبار میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہوں

وہ اس کلمہ کی تسبیح اپنا معمول بنا کر رکھیں ۔انشا ءاللہ رب العظیم حامی و ناصر ہوگا۔

نماز کے دوران شیطانی وسوسو سے بچنے کا آسان طریقہ

پرانے زمانے میں ایک بادشاہ کے دربار میں چند درباری بادشاہ کے سامنے یہی بحث کر رہے تھے کہ عبادت کے دوران خصوصاً نماز میں شیطانی وسوسوں کی وجہ سے انسانی ذہن منتشر ہو جاتا ہے اور عبادت کا سارا اثر زائل ہو جاتا ہے۔لیکن بادشاہ اِس بات سے انکاری تھا اور اُس کا کہنا تھا کہ اگر انسان کے شعور میں اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت، جنت و دوزخ کی جزا اور سزا کی ذرا سی بھی اہمیت ہو تو وہ کبھی بھی ایسے خیالات کو پیدا نہیں ہونے دے سکتا۔آخر بادشاہ نے اُن لوگوں کو سبق سکھانے کو سبق سکھانے اور عملی طور پر بات کو سمجھانے کے لیے ایک ترکیب سوچی اور اُن سب کو پانی کے بڑے بڑے پیالے تھما دئیے، اور محل سے ملحقہ بازار کا چکر لگانے کا حکم دیا۔

ساتھ ہی ساتھ یہ تاکید بھی کی کہ ‘خبردار! اگر کسی کے پیالے میں سے ایک پانی کا قطرہ بھی چھلکا۔ ورنہ اُس کا سر اُدھر ہی قلم کر دیا جائے گا۔ اور تم میں سے جو بھی کامیابی سے یہ کام سر انجام دے گا اُسے بیش قیمت انعام سے نوازا جائے گا’۔حکم کے ملتے ہی بحث کرنے والے درباری اپنے اپنے پیالے کے ہمراہ بازار کا چکر لگانے کے لیے نکل پڑے اور اُن کے ساتھ ساتھ بادشاہ کے حکم پر ایک ایک جلاد بھی ساتھ گیا، تاکہ اگر کسی کے پیالے میں سے ایک قطرہ بھی گرے تو وہ اُدھر ہی اُس کا کام تمام کرسکے۔لیکن اُن سب درباریوں کے لیے حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا،

جب وہ سب اپنی منزل پر پانی کا ایک قطرہ گرائے بغیر بخیرو عافیت پہنچ گئے۔تب بادشاہ نے باری باری سے اُن سب درباریوں سے بازار اور اِردگرد کی چیزوں کے بارے میں پوچھا تو اُن سب کا یہی جواب تھا کہ ’حضور! سر قلم ہونے کا ڈر تھا اور انعام کو پانے کی چاہ تھی، بس اِسی لیے ہمارا کسی دوسری طرف دھیان گیا ہی نہیں’۔اس حکایت میں یہ سبق چھپا ہے کہ اگر ہمارے دل میں بھی خدا کا خوف، جہنم کا ڈر اور جنت کی چاہ ہو تو کچھ ناممکن نہیں کہ ہم بھی اپنی عبادات کو اردگرد کی سوچوں اور شیطانی خیالوں سے پاک نہ کر سکیں۔

یہ پھٹکری کیا ہے؟ جسم کے غیر ضروری بالوں کے خاتمے کے لیے

عام طور پر پھٹکری پانی صاف کرنے کے لیے یا پھر شیو کروانے کے بعد چہرے پر رگڑ کر جراثیموں سے بچاؤ کے لیے استعمال کی جاتی ہے- لیکن شاید آپ کو اس بات کا ہرگز اندازہ نہیں ہے کہ پھٹکری کتنے جادوئی کمالات کی مالک ہے؟ پھٹکری کئی ایسے طبی مسائل کے حوالے سے آپ کی مددگار ثابت ہوسکتی ہے جن کے

آپ ایک طویل عرصے سے شکار چلے آرہے ہیں- پھٹکری مارکیٹ آپ کو باآسانی دستیاب ہوتی اور یہ پاؤڈر کی شکل میں بھی فروخت ہوتی ہے اور ٹکڑوں کی شکل میں بھی-کیل مہاسوں اور دانوں سے نجاتچہرے پر کیل مہاسے اور دانے خواتین کے لیے ایک بھیانک خواب کی مانند ہوتے ہیں- لیکن اگر پھٹکری کی مدد حاصل کی جائے تو ان مسائل سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے- پھٹکری کو پیس کر پانی میں شامل کرلیں اور اس پیسٹ کو متاثرہ جگہ پر لگائیں- 20 منٹ بعد چہرے کو دھو لیں اور یہ عمل روزانہ کریں- آپ کو حیرت انگیز نتائج دیں گے- تاہم یہ بھی یاد رکھیں ہر جلد ایک جیسی نہیں ہوتی اس لیے اگر پیسٹ لگانے کے بعد کسی قسم کی جلن یا خارش ہو تو فوراً دھو دیں اور دوبارہ اس ٹوٹکے کو استعمال نہ کریں-

ڈھلکی ہوئی جلد
بڑھتی عمر کے ساتھ ڈھلکتی جلد بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ میں اس میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے- لیکن یہ مسئلہ بھی پھٹکری کی مدد سے حل کیا جاسکتا ہے- پھٹکری کے پاؤڈر کو پانی میں شامل کر کے 30 منٹ تک چہرے پر لگائیں- اس سے نہ صرف آپ کی جلد میں دوبارہ سختی آجائے گی بلکہ چمکدار بھی ہوجائے گی- اس کے علاوہ آپ عرقِ گلاب اور انڈوں کی سفیدی بھی استعمال کرسکتے ہیں-جھریاں
پھٹکری جھریوں سے نجات کے لیے بھی بہترین قرار دی جاتی ہے- پھٹکری کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا گیلا کریں اور آہستہ آہستہ اپنے چہرے پر رگڑیں- یہ عمل کچھ دیر تک کرتے رہنا ہے- اس کے بعد عرقِ گلاب سے چہرے کو دھو لیں اور moisturizer کا استعمال کریں-

خشکی سے نجات
سر میں موجود خشکی ہماری زندگی کا ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے لیکن اس مسئلے سے بھی پھٹکری باآسانی نجات دلوا سکتی ہے- اپنے شیمپو میں ایک چٹکی پھٹکری اور نمک شامل کر لیں اور اب اس شیمپو سے سر دھوئیں- آپ خود اپنے بالوں میں ایک بہت بڑی تبدیلی محسوس کریں گے-جوؤں سے چھٹکارا
جوؤں بچوں کے سر میں ہوں یا پھر بڑوں کے عذاب بن جاتی ہیں- جوؤں سے نجات حاصل کرنے کے لیے پانی اور تیل پر مشتمل پھٹکری کا پیسٹ تیار کیجیے- اب اس مکسچر کو سر میں اچھی طرح لگا کر کچھ وقت کے لیے چھوڑ دیں- جلد ہی آپ کو جوؤں سے چھٹکارا مل جائے گا-پھٹی ایڑیاں
ہم اکثر اپنی پھٹی ایڑیوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں تاہم پھٹکری اس حوالے سے بھی اپنا جادوئی کمال دکھا سکتی ہے- پھٹکری کو اس وقت تک ایک خالی پیالے میں گرم کریں جب تک کہ وہ پگھل کر فوم نہ بن جائے- اب اس مکسچر کو ٹھنڈا کریں- اب اس میں ناریل کا تیل شامل کریں اور متاثرہ جگہوں پر لگائیں-بدبو بھگانے کے لیے
یقیناً یہ سب سے کے لیے نیا ہوگا لیکن یہ حقیقیت ہے کہ پھٹکری کی جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے اسے بدبو بھگانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے- پھٹکری کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا گیلا کریں اور اسے متاثر جگہوں پر نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں۔استعمال کریں- تاہم یہ عمل روزانہ نہیں بلکہ ایک دن چھوڑ کر کرنا ہے

آیت الکرسی کا وظیفہ خالی ہاتھ نہیں لوٹے گا انشاء اللہ

آیت الکرسی کا عالم بننے کے لےے متعلقہ شخص ایک وقت ایسا متعین کر ے جس کی پابندی کرسکے ۔ یہ عمل اکتالیس روز کا ہے۔ وقت معینہ پر با وضوہو کر بیٹھے اور پھر گیا رہ مرتبہ درود شریف پڑھے اور آیت الکرسی تین سو مرتبہ پڑھے اور پھر آخر میں درود شریف گیا رہ مرتبہ پڑھ کر اٹھ کھڑاہو ۔

اسی طرح روزانہ باوضو ہو کر یہ عمل دہراتا رہے ۔درود شریف اول بھی گیا رہ مرتبہ اور آخر میں بھی گیارہ مرتبہ پابندی سے پڑھے اور آیت الکرسی تین سو بار پڑھے ۔اس تعداد سے نہ کم ہو نہ زیادہ۔ اکتالیس دن کے مزید جاننے کے لیے نیچے ویڈیو پر کلک کریں

اسے پڑھ کر مریض پر صبح وشام دم بھی کردیا کرے اور پانی پر بھی دم کرکے دے اور کم ازکم گیارہ دن پانی پینے کی تاکید کرے ۔ان گیارہ دنوں میں دم کےے ہوئے پانی کے علاوہ پانی نہ پئےے ۔اس کی تاکید کردی جائے ۔ سورة فاتحہ کا عمل سورةفاتحہ کے لےے کسی وظیفہ کی ضرورت نہیں ہے ۔

ہم میں سے اکثر لوگ پیسہ کمانے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ اس دوڑ میں جیتنے کےلیے ہر جائز و ناجائز کام کر جاتے ہیں۔ ہم جھوٹ بولتے ہیں، بیواؤں کے سر سے چھت چھین لیتے ہیں۔ یتیموں کا حق کھا جاتے ہیں۔

دن رات کرپشن کرتے ہیں۔ پیسہ لوٹنے کے نئے نئے طریقے استعمال کرتے ہیں اور جب ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ بھئی آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ تو ہم بھی سردار صاحب کی طرح فخر سے بتاتے ہیں کہ ہم یہ سب کچھ اپنی اولاد کےلیے کر رہے ہیں۔

رات کو تم بھی اس اسٹیشن پر آئی تھیں

ایک عرب مسلمان لڑکی لندن میں زیرِ تعلیم تھی، ایک دن وہ اپنی سہیلی کے ساتھ کسی تقریب میں گئی ، کوشش کے باوجود وہ وہاں سے جلدی نہ نکل سکی، جب وہ اس فنکشن سے فارغ ہوکر نکلی تو رات کافی دیر ہوچکی تھی۔ اس کا گھر دور تھا، گھر جلدی پہنچنے کا ذریعہ زیرِ زمین چلنے والی ٹرین تھی، لیکن وہ ٹرین سے سفر کرنے سے کچھ خوف محسوس کر رہی تھی کیونکہ برطانیہ میں اکثر رات کے وقت ٹرینوں اور اسٹیشنوں پر بہت سے جرائم پیشہ اور نشہ میں دھت افراد ہوتے ہیں، آئے روز ٹی وی

اور اخبارات میں یہاں ہونے والی وارداتوں کا تذکرہ موجود ہوتا ہے،چونکہ اس لڑکی کو زیادہ دیر ہوچکی تھی اور بس کافی وقت لے سکتی تھی ، اس لئے اس نے بہت سے خدشات وخطرات کے باوجود ٹرین میں جانے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ بات پیشِ نظر رہے کہ یہ لڑکی دیندار نہیں تھی بلکہ بہت زیادہ آزاد خیال اور لبرل تھی ،جب وہ اسٹیشن پر پہنچی تو یہ دیکھ کر اس کے جسم میں خوف کی ایک سرد لہر دوڑ گئی کہ اسٹیشن بالکل سنسان ہے، صرف ایک شخص کھڑا ہے جو حلیہ سے ہی جرائم پیشہ لگتا تھا،وہ انتہائی خوفزدہ ہوگئی، پھر اس نے ہمت کی خود کو سنبھالا، قرآنی آیت کا ورد کرنا شروع کردیا، اسے جو کچھ زبانی یاد تھا جسے ایک عرصے سے وہ بھولی ہوئی تھی ، سب کچھ پڑھ ڈالا، اتنے میں ٹرین آئی اور وہ اس میں سوار ہوکر بخیریت اپنے گھر پہنچ گئی ،اگلے دن کا اخبار دیکھ کر وہ چونک اٹھی، اسی اسٹیشن پر اس کے روانہ ہونے کے تھوڑی دیربعد ایک نوجوان لڑکی کا قتل ہوا اور قاتل گرفتار بھی ہوگیا، وہ پولیس اسٹیشن گئی ، پولیس والوں کو بتایا کہ قتل سے کچھ دیر پہلے وہ اس اسٹیشن پر موجود تھی، میں قاتل کو پہچانتی ہوں ، اس سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں، جب وہ مجرم کے سیل کے سامنے پہنچی تو اس سے پوچھا:کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟

اس نے جواب دیا: ہاں پہچانتا ہوں، رات کو تم بھی اس اسٹیشن پر آئی تھیں،لڑکی نے پوچھا:پھر تم نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟وہ کہنے لگا: میں تمہیں کیسے نقصان پہنچاتا؟ ! تمہارے پیچھے تو دو انتہائی صحتمند اور قدآور باڈی گارڈ تھے یہ سن کر لڑکی حیران ہوگئی، اسے یقین ہوگیا کہ قرآن کی آیتوں کا ورد کرنے کی وجہ سے اللہ کی طرف سے اسکی حفاظت کی گئی۔ وہ وآپسی پر اللہ کے تشکر اور احسان مندی کے جذبات سے مغلوب تھی، اللہ کی مدد اور نصرت پر اسکا بھروسہ مزید بڑھ گیا تھا..”اگر ہم اپنے دل کی گہرائیوں سے اللہ کو پکاریں اور اللہ کی تائید ونصرت پر بھروسہ رکھیں تو ہم اللہ کی رحمت سے کبھی محروم نہیں رہیں گے۔

قسمت کا ستارہ

پرانے زمانے کی بات ہے کہ بغداد میں ایک سوداگر رہا کرتا تھا جو بہت ہی دولت مند تھا لیکن اپنی دولت لٹا کروہ اتنا غریب ہوگیا تھا کہ محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالنے پر مجبور ہوگیا ۔ اپنے پچھلے وقت کی عیش و عشرت والی زندگی کو یاد کرکے وہ اکثر غمزدہ ہوجایا کرتا تھا۔ ایک رات وہ بہت ہی اداس اور غمزدہ حالت میں سویا تو اس نے خواب دیکھا کہ ایک بزرگ اس سے کہہ رہے ہیں کہ تمہاری قسمت کا ستارہ مصر کے شہر قاہرہ میں جگمگا رہا ہے۔

وہاں جاﺅ اور اسے تلاش کرو دوسرے دن صبح جب وہ بیدار ہوا تو اسے خواب والے بزرگ کی بات یاد آئی ، اس نے فوراَ قاہرہ جانے کی تیاری کی اور قاہرہ کیلئے روانہ ہوگیا ۔ کئی ہفتوں کی تکلیف اور مشقت اٹھاکر وہ اس شہر میں پہنچ گیا رات ہوچکی تھی اور اس کے پاس کسی سرائے میں قیام کے لئے کوئی رقم موجود نہ تھی۔ لہٰذا وہ ایک مسجد میں گیا اور اس کے صحن میں ایک کونے میں جاکر سوگیا۔

اتفاق سے چوروں کا ایک گروہ مسجد کے صحن میں آیا اور چوری کے ارادے سے مسجد کے برابر والے مکان میں داخل ہوا ہی تھا کہ کسی آہٹ کی وجہ سے مکان میں رہنے والے افراد جاگ گئے اور مدد کے لئے پکارنے لگے۔ چوروں نے جب یہ چیخ و پکار سنی تو گھبراکر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ تھوڑی ہی دیر میں علاقے کا داروغہ اپنے سپاہیوں کے ہمراہ وہاں پہنچا ۔ جب یہ سپاہی مسجد کے صحن میں پہنچے تو یہ سوداگر انھیں صحن میں سویا ہوا نظر آیا لہٰذا سپاہیوں نے اسے پکڑلیا اور چور سمجھ کر اس کی خوب پٹائی کی اور اس کو قید خانے میں بند کردیا۔ تین چار دن کے بعد داروغہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس اجنبی کو پیش کریں۔ جب یہ سوداگرپیش کیا گیا تو داروغہ نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو ؟ سوداگر نے جواب دیا ، میں بغداد سے آیا ہوں ، داروغہ نے سوال کیا، تم بغداد سے قاہرہ کس لئے آئے ہو؟سوداگر نے جواب دیا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس میں ایک بزرگ مجھ سے کہہ رہے تھے ”تمہاری قسمت کا ستارہ قاہرہ میں جگمگا رہا ہے۔ وہاں جاﺅ اور اسے تلاش کرو“۔

میں اسی کی تلاش میں یہاں آیا تھا لیکن آپ کے سپاہیوں نے مجھے پکڑ لیا اور میری پٹائی کردی۔ داروغہ نے جب یہ داستان سنی تو بہت ہی ہنسا اور کہنے لگااے بے وقوف انسان میں نے بھی کئی مرتبہ خواب میں کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بغداد جاﺅ اور پتھریلی گلی کے فلاں مکان میں ایک صحن ہے جس کے آخر میں ایک باغ ہے جہاں پر ایک فوارہ ہے اس کے حوض کے نیچے بہت سا خزانہ دفن ہے۔ لہٰذا وہاں جاﺅ اور اسے کھود کر نکال لو۔ کیا میں بغداد گیا ؟ ایک تم بے وقوف ہو جو اتنی دور سے یہاں قاہرہ چلے آئے اور صرف ایک خواب دیکھ کر ۔داروغہ نے اس سوداگر کو کچھ رقم دی اور کہا یہ رقم لو اور اپنے گھر واپس جاﺅ۔قاہرہ کے داروغہ نے سوداگر کو جس مکان کے بارے میں بتایا تھا وہ دراصل اس سوداگر کا اپنا مکان تھا ۔ داروغہ کی ساری باتیں سن کر سوداگر سارے معاملے کی تہہ تک پہنچ چکا تھا وہ فوراَ واپس بغداد اپنے گھر پہنچا اس نے باغ میں فوارے کے نیچے کھودنا شروع کردیا ابھی تھوڑی ہی زمیں کھودی تھی کہ اسے وہاں سے ایک بہت ہی بڑا خزانہ مل گیا۔ اس طرح اس کا خواب حیرت انگیز طور پر سچ ثابت ہوگیا اور وہ دوبارہ پھر سے مالا مال ہوگیا۔

’’جب موت قریب آتی ہے تو ہاتھ کا انگوٹھا۔۔۔‘‘ یہ علامت ظاہر ہو جائے تو انسان کو استغفار شروع کر دینی چاہیے

یوں تو انسانی شخصیت کے بارے میں قیاس آرائی کرنے کے لیے لوگ مختلف طریقے اور انداز اختیار کرتے ہیں لیکن انسانی ہاتھ کسی بھی انسان کی شخصیت کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں اور پامسٹ ہاتھوں کی لکیروں سے کسی بھی شخص کی شخصیت کی گہرائی میں اتر کر اس کے راز افشا کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ انسانی انگوٹھا بھی حیران کن حد تک پامسٹری کے مشاہدات کامرکز رہا ہے،

انگوٹھے کی طوالت اور استقامت بیان کرتی ہے کہ ایسا انسان کن خصوصیات کا حامل ہے اور اسکے اندر کمزوری کیسے پیدا ہورہی،حتٰی کہ انگوٹھا موت کاآلارم بھی بجا دیتا ہے،

بجا دیتا ہے، انگوٹھے کا تعلق انسان کے دماغ سے جڑا ہے۔انسان کیا سوچتا ہے،اسکی فطرت کیسی ہے اس کا ویسے تو علم نہیں ہوتا مگر انگوٹھے کو پڑھنے والے کافی حد تک کسی بھی انسان کا دماغ پڑھلیتے ہیں، انگوٹھے میں اگر کچھ تبدیلیاں ہوں مثلاً ایک وقت پر جب ہاتھ پر انگوٹھا اپنی قوت کھو بیٹھتا ہے اور ہتھیلی پر گرجاتا ہے۔ یہ کس چیز کی علامت ہیں، اسے لازمی مدنظر رکھیں کیونکہ یہ انگوٹھا اسی وقت ہتھیلی پر گرتا ہے جب موت قریب آ جاتی ہے اور قوتیں جواب دیتی ہیں، دلائل کی طاقت نہیں رہتی اگرانگوٹھے میں لرزش اور نقاہت پید اہو رہی ہو تو موت قریب تر نہیں ہوتی، اس کا مطلب یہ ہے کہ قوتیں بیماری کی وجہ سے عارضی طور پر جواب دے رہی ہیں،

جسم اور دماغ میں دلائل کی قوت باقی ہے ، اس کا مطلب ہے کہ عارضی علامات آئی ہیں اور ختم ہو جائیں گی اور انسان بچ جائے گا۔ چھوٹے، بھدے اور موٹے انگوٹھے والے افراد میں خوانی خو موجود ہوتی ہے وہ اپنے کاموں کو حیوانی زور سے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایسے افراد کی عادت میں تحمل نہیں ہوتا، لمبے اور خوبصورت انگوٹھے والے ا فراد اچھی عادات کے حامل ہوتے ہیں اور ہمیشہ ذہانت سے کام لیتے ہیں اور مہذب ہوتے ہیں۔

بے وفا عورت

ایک روز حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا گُزر ایک قبرستان سے ہُوا تو وہاں ایک شخص ایک قبر کے پاس بیٹھا زار و قطار رو رہا تھا۔ آپ علیہ السّلام نے رونے کا سبب پوچھا تو کہنے لگا: یہ میری زوجہ کی قبر ہے،یہ میرے چچا کی بیٹی تھی،مجھے اس سے بہت زیادہ پیار تھا میں اس کی جُدائی برداشت نہیں کر سکتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے فرمایا: اگر چاہو تو میں اللّہ کے حُکم سے تمہاری بیوی کو زندہ کر دوں؟ اس نے بے قرار ہو کر کہا:ہاں! ایسا ضرور کر دیجیے۔

چنانچہ آپ علیہ السّلام نے قبر کے پاس کھڑے ہو کر کہا:اللّہ سبحان و تعالیٰ کے حُکم سے اُٹھ جا! قبر پھٹی اور اس میں سے ایک حبشی غلام باہر نِکلا جس پر آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو دیکھ کر بآوازِ بلند کہا:لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ عِیسیٰ رُوحُ اللّٰه۔ ”اس کا یہ کہنا تھا کہ: آگ بُجھ گئی،عذابِ اِلٰہی اس سے دُور ہو گیا۔ ”اس شخص نے کہا کہ: مُجھ سے غلطی ہو گئی میری بیوی کی قبر یہ نہیں بلکہ دوسری ہے۔ آپ علیہ السّلام وہاں تشریف لے گئے اور فرمایا: اللّہ عزوَجل کے حُکم سے اُٹھ جا! قبر پھٹی اور اس میں سے ایک حسِین و جمیل عورت باہر نِکل آئی۔ اس شخص نے دیکھتے ہی اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: اے رُوح اللّہ! یہی میری بیوی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر آگے تشریف لے گئے۔وہ اپنی بیوی سے مِل کر بہت خوش تھا۔کچھ دیر بعد اس پر نیند کا غلبہ ہُوا تو وہیں سو گیا اس کی بیوی اس کے قریب بیٹھی رہی۔اِتنے میں وہاں سے ایک شہزادے کا گُزر ہُوا،شہزادے نے اس عورت کو دیکھا تو اسے پسند آ گئی،عورت کو بھی شہزادہ پسند آ گیا اور وہ اپنے شوہر کو سوتا چھوڑ کر شہزادے کے ساتھ چلی گئی۔جب اس مرد کی آنکھ کُھلی تو اپنی بیوی کو نہ پا کر بہت پریشان ہُوا،ڈھونڈتے ڈھونڈتے شہزادے کے محل تک پہنچ گیا

۔وہاں اسے اپنی بیوی نظر آئی تو کہا: یہ میری بیوی ہے۔ شہزادے نے کہا: تم جھوٹ بولتے ہو یہ تو میری لونڈی ہے،یقین نہیں آتا تو اسی سے پوچھ لو۔ یہ سُن کر اس بے وفا عورت نے فوراً کہا:ہاں! میں شہزادے کی لونڈی ہوں،میں تو تمہیں جانتی تک نہیں،تم بے جا مجھ پر اِلزام لگا رہے ہو۔ یہ سُن کر وہ روتا ہُوا محل سے واپس آ گیا۔کچھ دِنوں بعد حضرت عیسیٰ علیہ السّلام سے ملاقات ہوئی تو عرض کی اے رُوح اللّہ علیہ السّلام! میری بیوی جسے آپ نے زندہ کِیا تھا اب شہزادے کے پاس ہے۔

شہزادہ اپنی لونڈی بتاتا ہے اور وہ بھی یہی کہہ رہی ہے کہ میں شہزادے کی لونڈی ہوں تمہاری بیوی نہیں،آپ ہمارا فیصلہ فرما دیجیے۔ چنانچہ آپ علیہ السّلام نے اس عورت سے فرمایا: کیا تُو وہی نہیں ہے جسے میں نے اللّہ عزوَجل کے حُکم سے زندہ کِیا تھا؟ عورت نے کہا: ” نہیں! میں وہ نہیں ہوں۔ آپ علیہ السّلام نے فرمایا:اچھا تو ہماری دی ہوئی چیز واپس کر دے۔ اِتنا فرمانا تھا کہ:وہ جھوٹی و بے وفا عورت مُردہ ہو کر زمین پر گِر پڑی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے فرمایا: جو شخص ایسے مرد کو دیکھنا چاہے جو کافر ہو کر مرا تھا پِھر اللّہ عزوَجل نے اسے زندہ کر کے ایمان کی دولت سے نوازا تو وہ اس حبشی غلام کو دیکھ لے اور جو ایسی عورت کو دیکھنا چاہے جو ایمان کی حالت میں مری پِھر اللّہ عزوَجل نے اسے زندہ کِیا اور وہ کُفر کی حالت میں مری تو وہ اس عورت کو دیکھ لے۔

ﻣﺮﺩ

کسی ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺁﻝ ﺍﻭﻻﺩ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺮ ﺳﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺗﮭﯿﮟ، ﮐﭽھ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﺎ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﺏ ﭘﻮﺭﮮ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺑﺎﻗﯽ ﺷﺎﮨﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻓﺮﺍﺩ ، ﮐﻨﯿﺰﯾﮟ ، ﻟﻮﻧﮉﯾﺎﮞ ﺳﺒﮭﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﯽ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﺍﺳﯽ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﺑﮭﮍﮎ ﺍﭨﮭﯽ۔

ﺁﮒ ﺑﺠﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺮﺩ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﺷﻮﺭ ﻣﭻ ﮔﯿﺎ ، ﺳﺒﮭﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﭼﻼﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ ” ﮐﺴﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺑﻼﺅ ، ﮐﺴﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺑﻼﺅ ۔ “ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﯿﺦ ﻭ ﭘﮑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﺗﮭﯽ ” ﮐﺴﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺑﻼﺅ ، ﮐﺴﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﺑﻼﺅ ۔ “ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺟﻮﮐﮧ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﭘﻼ ﺑﮍﮬﺎ تھا ، ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﺎ ﮨﻮﺳﮑﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻳﮏ ﻣﺮﺩ ﮨﯽ ﮨﮯ۔
ﯾﮩﯽ ﺣﺎﻝ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻏﻔﻠﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺒﮭﯽ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎﺗﮯ ﭘﮭﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﮭﻨﺠﮭﻮﮌ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ” ﺿﻤﯿﺮ ﮐﻮ ﺟﮕﺎﺅ ، ﺧﺪﺍﺭﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﺿﻤﯿﺮ ﮐﻮ ﺟﮕﺎﺅ ” ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﻳﮏ ﺿﻤﯿﺮ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽچھپا رکھا ہے۔سات باتیںایک شخص ایک عقلمند کے پیچھے سات سو میل’ سات باتیں دریافت کرنے کے واسطے گیا۔۔ جب وہاں پہنچا تو کہا !!!ًمیں اتنی دور سے سات باتیں دریافت کرنے آیا ہوں ۔۔”آسمان سےکون سی چیز زیادہ بھاری ہے ؟زمین سے کیا چیز وسیع ہے ؟پتھر سے کون سی چیز زیادہ سخت ہے ؟کون سی چیز آگ سے زیادہ جلانے والی ہے؟کون سے چیز زمہریر سے زیادہ سرد ہے ؟کون سی چیز سمندر سے زیادہ غنی ہے ؟یتیم سے زیادہ کون بدتر ہے ؟عقلمند نے جواب دیا !
!ًبے گناہ پر بہتان لگانا آسمانوں سے زیادہ بھاری ہے ۔۔
اور حق زمین سے زیادہ وسیع ہے اور کافر کا دل پتھر سے زیادہ سخت ہوتا ہے ۔۔حرص و حسد آگ سے زیادہ جلائے جانے والی ہیں اور رشتے داروں کے پاس حاجت لے جانا اور کامیاب نہ ہونا زمہریر سے زیادہ سرد ہے ۔۔قانع کا دل سمندر سے زیادہ غنی ہے اور چغل خور کی حالت یتیم سےبدتر ہوتی ہے